Baaghi TV

Category: تعلیم

  • 4 اگست بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس، طلباء کی امیدیں اور مطالبات : تحریر عبدالعظیم

    4 اگست بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس، طلباء کی امیدیں اور مطالبات : تحریر عبدالعظیم

    کورونا کے سنگین حالات کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے وفاقی وزیر تعلیم کو بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس بلا کے تعلیمی اداروں کے بارے حتمی فیصلے کرنے کے احکامات جاری کیے۔
    ایسے میں پاکستان بھر کے نوی اور گیارویں کے بیس لاکھ سے زائد طلباء میں اُمید کی ایک کرن جاگی ہے، یقیناً یہ اجلاس طلباء پاکستان کی آخری اُمید ہے، اس سے پہلے بھی 28 جولائی کو شفقت محمود نے اپنی سربراہی میں بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس بلانے کا اعلان تو کیا مگر وہ اس اعلان پر پورا نہیں اُتر سکے اور کانفرینس سے پہلے لندن تشریف لے گئے یوں ایک بار پھر طلباء کو مایوس کیا گیا۔
    پاکستان بھر میں جس طرح کورونا کے حالات اب چل رہے ہیں یقیناً یہ حالات مئی 2020 سے بہت زیادہ سنگین ہیں، کورونا کی چوتھی لہر (ڈیلٹا ویرینٹ) کی سنگینی کے بارے میں عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بہت مرتبہ خبردار کیا ہے، اس کی سنگینی کا ثبوت یہ ہے کہ نئی تحقیق کے مطابق یہ وائرس اُن لوگوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو ویکسین لگوا چکے ہیں اور اس وائرس میں مبتلا ایک شخص پانچ لوگوں کو شدید بیمار کر سکتا ہے۔ مئی 2020 کا حوالہ دینے کا مقصد صرف اتنا ہے جب مئی میں پاکستان میں کورونا پھیل رہا تھا تب حکومت پاکستان نے ملک بھر کے نوی سے باروی تک کے تمام تر پرچے منسوخ کیے تھے اور جو تھوڑے بہت پیپرز ہوئے تھے ملک بھر میں اُن کو بھی منسوخ تصوّر کر کے طلباء کو اگلی کلاس میں ترقی دی تھی ساتھ ہی انٹر بورڈ کمیٹی چیئرمین (IBCC) کے تیارکردہ فارمولہ کے تحت اُن تمام بچوں کے رزلٹ بنائے گئے تھے۔ یقیناً کورونا کے پیش نظر یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا جس سے بچوں کو لاحق جانی خطرات ٹل گئے، اُن کا تعلیمی سال بھی ضائع نہیں ہوا اور اُن کا رزلٹ بھی متاثر ہونے سے بچا۔ مگر اس بار حکومت کی طلباء کے ساتھ سلوک قابل افسوس اور نا قابلِ برداشت ہے وہ اس لئے کہ اس بار پورے سال میں کورونا کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو صرف تین سے چار مہینوں کے لئے کھولا گیا اور اُن مہینوں میں متبادل کلاسز کا انعقاد کیا گیا جو کہ پورے سال میں صرف پچاس سے پچپن دِن بچوں کو کلاسز میں پڑھایا گیا، جس سے بچوں کا تعلیمی سال شدید متاثر ہوا اور وہ مقررہ وقت میں اپنا کورس مکمل کرنے سے قاصر رہے اس بات کا اقرار شفقت محمود بہت بار کر چکے ہیں کہ طلباء کا یہ مطالبہ درست ہے کہ اُن کو کورس مکمل نہیں کروایا جا سکا، اس کے باوجود حکومت نے طلباء کو کیا ریلیف دیا؟ کچھ بھی نہیں، یہ سب اپنی جگہ، دوسری طرف اس وقت پورا مُلک کورونا کی لپیٹ میں ہے، سندھ میں مکمل لوک ڈاؤن اور دوسرے صوبوں میں اسمارٹ لوک ڈاؤن نافذ ہے، ہر قسم کی ممکنہ پابندیاں لگائی جا چکی ہیں ایسے میں نوی اور گیارویں کے بیس لاکھ سے زائد طلباء کو امتحان دینے پر مجبور کرنا طلباء کی جانی اور تعلیمی بربادی سے کم نہیں، وہ کیسے؟ جیسے 2 جون 2021 کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے دو ٹوک اعلان کیا اس بار کسی بچے کو امتحان کے بغیر کوئی گریڈ نہیں دیا جائے گا، اور بیسوں مرتبہ یہ بات شفقت محمود کی طرف سے دہرائی گئی ہے بچوں کی صحت اولین ترجیح ہے، اب نوی اور گیارویں کے بچے اُن سے کسی گریڈ کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہ تمام بچے اس بات پر اسرار کر رہے ہیں کہ اگر حکومت ہماری صحت کو لیکے سنجیدہ ہے تو ہمیں بغیر کسی گریڈ کے اگلی کلاس میں ترقی دی جائے اور اگلی کلاس میں جب ہم امتحان دیں گے اُس کے نتائج کی بنیاد پر ہمارے اس سال کے مارکس لگائے جائیں جو کہ پچھلے سال بھی نوی اور گیارویں والوں کے ساتھ حکومت نے ایسا کیا تھا، اس سے شفقت محمود کی اس بات کی بھی تائید ہوگی کہ حکومت نے اس سال امتحان کے بغیر کسی بچے کو گریڈ نہیں دیا ساتھ ہی لاکھوں بچوں کو کورونا کے اس وبا سے کافی حد تک محفوظ کیا جا سکتا ہے، اس فیصلہ سے پاکستان بھر کے نوی اور گیارویں کے لاکھوں بچوں کا اگلا تعلیمی سال بھی وقت پر شروع ہوگا اور اگلے تعلیمی سال میں اس طرح کے نا خوشگوار واقعوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کورونا کے بڑھتے کیسز کو مد نظر رکھتے ہوئے نوی اور گیارویں کے جو چند پیپرز ہوئے ہیں اُنکو اور جو ہو رہے ہیں اُن کو منسوخ تصوّر کرنا یقیناً ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔ پیپرز کو مزید ملتوی کر کے طلباء کا اگلا تعلیمی سال بھی متاثر کرنا یہ کوئی موزوں فیصلہ نہیں ہوگا اور یقیناً اس سے طلباء کا بہت زیادہ نقصان ہوگا، ساتھ ہی وزراء تعلیم کو اپنے اجلاس میں دسویں اور باروی کے وہ تمام طلباء جو اس سال بغیر پڑھایئے کے امتحان دینے پر مجبور ہوئے اور اپنے امتحانات دے چکے ہیں اُن کو خصوصی رعایت دے کے طلباء کے ساتھ ہمدردی کا ثبوت دینا چاہئے، اب وہ وزراء پر منحصر ہے کہ وہ طلباء کو رعایت کس شکل میں دیتے ہیں، متاثرہ تعلیمی سال کو مدنظر رکھتے ہوئے آیا حکومت اُنکو کچھ فیصد اضافی مارکس دینے کا اعلان کرتی ہے یا پھر اس سال کسی بھی سٹوڈنٹ کو فیل نہ کرنے پر غور کرتی ہے۔ طلباء کے بہترین مفاد میں فیصلے کرنے میں نہ تو ملک و قوم کا کوئی نقصان ہے نا ہی حکومت کو کوئی حرج۔ اب دیکھنا یہ ہے چار اگست کو وزراء تعلیم کس رخ بیٹھتے ہیں، اگر قوم کے بچوں کے بہترین مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں تو ہم اس کی مکمل حمایت کریں گے اور کھل کر حکومت کو داد دیں گے، حکومت کو بھی چائیے قوم کے معماروں کے ساتھ انصاف کے تمام تر تقاضے پورے کر کے اُن کو ایک مثبت انداز میں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے اجنڈے میں اپنے ساتھ شریک کرے بجائے اس کے کہ معصوم طلباء کے مفادات کو نظراداز کر کے اُن کو اشتعال دلائیں۔ شُکریہ
    Twitter account @Azeem_GB

  • ایک قوم، ایک نصاب تحریر : ایم ابراہیم

    ایک قوم، ایک نصاب تحریر : ایم ابراہیم

    2 اگست کو دو سے ڈھائی سال کی محنت کے بعد "سنگل نیشنل کریکولم” کا صوبہ پنجاب سے آغاز کر دیا گیا. ابتدائی طور پر یہ پہلی سے پانچویں کلاس کے لیے اور اس کا آغاز صوبہ پنجاب سے ہوا ہے بعد میں بتدریج ساری کلاسز اور اس کا دائرہ کار پورے ملک میں بڑھایا جائے گا. اس طرح صوبہ پنجاب پہلا صوبہ جس نے یکساں قومی نصاب کا اجرا کیا ہے، یقیناً وزیر تعلیم مراد راس صاحب، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ مبارکباد کے مستحق ہیں.
    یکساں نصاب تعلیم وزیراعظم عمران خان کا ذاتی طور پر بھی ایک خواب تھا اور پاکستان تحریک انصاف کا 2018 کے الیکشن کے منشور کا پہلا ایجنڈا تھا جو اب اپنی تکمیل کو پہنچا. یکساں قومی نصاب، تعلیم کے شعبہ میں انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے. اب پورے ملک میں ایک ہی یکساں نصاب پڑھایا جائے گا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور دینی مدارس میں بھی اسی نصاب کو پڑھایا جائے گا. اب سرکاری، پرائیویٹ اور مدارس کا فرق ختم ہو جائے گا. وزیراعظم عمران خان کی یہ ایک دیرینہ خواہش تھی کہ دینی مدارس کے طلباء بھی ڈاکٹر اور انجینئر بنیں اور باقی طلباء کی طرح عملی زندگی میں برابر کے مواقع حاصل کر سکیں جو کہ اب ممکن ہو سکے گا. پہلے سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب کو کمزور اور پرائیویٹ اداروں کے نصاب کو معیاری سمجھا جاتا تھا، اب جب سب اداروں میں ایک ہی نصاب ہو گا تو یہ فرق ختم ہو جائے گا اور یکسانیت پیدا ہو گی جو کہ بہت اچھی بات ہے.
    یکساں تعلیمی نصاب کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ایلیٹ پرائیویٹ، سرکاری اور دینی مدارس کا تصور ختم ہو اور تمام طلباء ایک ہی قسم کی تعلیم حاصل کریں تا کہ عملی زندگی میں یکساں مواقع حاصل کر سکیں. پہلے سرکاری سکولوں کے طلباء اور والدین کسی حد تک احساسِ کمتری کا بھی شکار تھے کہ پرائیویٹ سکولوں میں تو کوئی بہت ہی معیاری اور ہم سے اچھی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، اب یکساں قومی نصاب سے یہ سب باتیں دم توڑ جائیں گی اور پوری قوم میں یکسانیت کی فضا قائم ہو گی. اس نصاب سے قوم پر بھی خوشگوار اثر ہو گا. جب تمام صوبوں کے طلباء ایک ہی نصاب پڑھیں گے تو بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا جو کہ قومی ترقی کے لئے انتہائی ضرورت ہے.
    یکساں قومی نصاب پاکستان میں یکساں نظام تعلیم کی طرف پہلا قدم ہے. اس سے آگے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں تعلیمی سہولیات اور دیگر خصوصیات کی بھی یکسانیت پر توجہ دی جانے کی ضرورت ہے تا کہ تعلیمی معیار بلند ہو اور” یکساں نظام تعلیم” کا حصول ممکن ہو. یکساں سہولیات کی فراہمی اس تصور کو ختم کرے گی کہ سرکاری سکولوں میں غریب اور مڈل کلاس فیملی کے بچے بڑھتے ہیں جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں ایلیٹ اور اَپر کلاس فیملی کے بچے پڑھتے ہیں. گو کہ سرکاری سکولوں میں پچھلے چند سالوں سے کافی بہتری آئی ہے لیکن ابھی بھی "کوالٹی ایجوکیشن” فراہم کرنے اور سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کافی ضرورت ہے. کوالٹی ایجوکیشن اور معیار تعلیم کی بہتری کے لیے جہاں تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے لیے سہولیات کی فراہمی ضروری ہے وہاں ماہر اور قابل اساتذہ کی بھی ضرورت ہے. اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کے موجودہ صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس صاحب اساتذہ کو صرف پڑھانے پر توجہ دینے کے قائل ہیں اور وہ اساتذہ سے پڑھانے کے علاوہ کی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کر رہے ہیں جو کے خوش آئند بات ہے. ایسے ہی اقدامات سے ہمارے نظام تعلیم میں بہتری آ سکتی ہے.

    @ibrahimianPAK

  • ‏امتحانات ہیں اس بار پیچیدہ  تحریر:- مدثر حسین

    ‏امتحانات ہیں اس بار پیچیدہ تحریر:- مدثر حسین

    کرونا کے باعث جہاں دنیا بھر میں تمام نجی و سرکاری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، وہیں تعلیمی میدان میں بھی طلبہ کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے. کرونا کی صورتحال ملک کے سبھی علاقوں میں ایک جیسی نہیں ہے. گنجان آبادی والے علاقوں میں کرونا کے وار انتہائی تیز اور متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے.
    2020 کے امتحانات میں میٹرک کے طلباء کو پروموٹ کیا گیا. جماعت دہم کے طلباء کو جماعت نہم میں حاصل کردہ نمبروں کی مناسبت سے نمبرز دے کر پاس کر دیا گیا جبکہ جماعت نہم کو دہم میں پروموٹ کر دیا گیا. امسال بھی شروع میں ایسی ہی پیشن گوئیاں گردش کرتی رہیں.
    حکومت پاکستان نے طلباء کی پریشانیوں کا ادراک کرتے ہوئے نصاب کو مختصر کیا، بعد ازاں مزید مختصر کیا گیا. سکول و کالج کے دوبارہ کھلنے پہ بچوں سے جو ٹیسٹ لئے گئے اس میں یہ بات سامنے آئی کہ طلباء کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اور امتحانات کے حوالے سے خاصی پیچیدہ صورتحال نظر آ رہی ہے. اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے، وزیر تعلیم کی سربراہی میں کئی اجلاس ہوئے. جن میں ہفتے میں تین دن کلاس لگانے کے آرڈرز دئے گئے.
    کرونا کی بدلتی صورتحال کے باعث کئی دفعہ سکول و کالج بند کرنا پڑے جس سے طلباء کی کارکردگی پہ حد درجہ اثر پڑا.
    اپریل مئی میں ہونے والے اجلاسوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ صرف سائنسی مضامین کے امتحانات لئے جائیں گے اور ایک مضمون میں سے حاصل کردہ نمبر دوسرے مضامین کے بھی لگائے جائیں گے مثلا جماعت دہم کے طالب علم کے فزکس میں سے حاصل کردہ نمبر ہی اسکی جماعت نہم کی فزکس کے حاصل کردہ نمبرز کے برابر ہوں گے. اور اس کے ساتھ اردو یا انگلش کے بھی اتنے ہی نمبرز لگائے جائیں گے.
    اس وقت راولپنڈی بورڈ میٹرک کے امتحانات جاری ہیں، بہت سارے تعلیمی اداروں کے سربراہان (پرنسپلز) امتحانات کے نتائج کے حوالے سے کافی پریشان نظر آ رہے ہیں تاہم بعد اداروں میں طلباء کو نقل فراہم کرنے کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں. پرچہ شروع ہونے سے 15 منٹ قبل طلباء کو معروضی پرچہ کے جوابات بزریعہ واٹس ایپ اپلیکیشن بھیج دئیے جاتے ہیں. امتحانی مراکز کا عملہ اس عمل میں پیش پیش ہے. ظاہری طور پہ طلباء کی مدد کے لئے کی جانے والی یہ کوشش حقیقت میں ایک جرم ہے. پرچہ آؤٹ ہونے پہ گورنمنٹ کی طرف سے پرچہ کینسل بھی کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے طلباء کو دوبارہ امتحانات دینے پڑیں گے.

    ‎@MudassirAdlaka

  • تعلیم کی ضرورت و اہمیت  تحریر: اعجاز حسین

    تعلیم کی ضرورت و اہمیت تحریر: اعجاز حسین

    آج کے اس تیز ترین دور میں تعلیم بہت زیادہ ضرورت و اہمیت کی حامل ہے۔زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    حالانکہ آج کمپیوٹر اور ایٹمی ترقی کا دور ہے۔ساٸنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے ۔مگر سکولوں میں بنیادی عصری علوم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجٸینٸرنگ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف علوم حاصل کرنا جدید دور کا تقاضا ہے۔
    جدید علوم تو ضروری ہیں ہی ساتھ ہی دینی علوم کی تعلم بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔اس کیساتھ ساتھ انسان کو اخلاقی تعلیم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اسی تعلیم کیوجہ سے زندگی میں اللہ کی اطاعت،عبادت ،محبت،خلوص،ایثار،خدمت خلق ،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اخلاقی تعلیم کیوجہ سے ہی ایک مثالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
    تعلیم کے حصول کیلیے قابل اساتذہ کا میسرہونا لازم ہے۔جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد کرتے ہیں۔استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر مبّرا ہو گیا،بلکہ استاد وہ ہے جو طلبہ کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے۔انہیں شعور اور ادراک سے مالامال کرتا ہے۔علم و آگہی نیز فکر و تدّبر پیدا کرتا ہے۔
    اگر موجودہ حالات کو دیکھا جاۓ تو شعبہ تدریس کو بھی آلودہ کر دیا گیا ہے۔
    محکمہ تعلیم،سکول انتظامیہ ،معاشرہ بھی بس چار کتابوں تک محدود ہو گیا ہے۔کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھا۔آج ڈگری،نمبر اور مارک شیٹ پر ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست ٹولہ قابض رہا ہے۔
    جن کے نزدیک اس عظیم شعبے کی کوٸی اہمیت نہیں رہی۔بدقسمتی اس بات کی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوتے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کیلیے ہمارے تعلیمی نظام کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کر رکھا ہے جسکی وجہ سے تعلیمی نظام درہم برہم ہے۔
    مگر پھر بھی جسطرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی جدید تعلیم سے کبھی دور نہیں رہے۔ بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں، زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں ۔آج یورپ تک کی جامعات میں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابیں نصاب میں شامل ہیں۔
    جہاں پوری دنیا کرونا کی وبا سے متاثر ہوٸی ہے وہیں تعلیمی نظام بھی بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔اس مشکل وقت میں حکومت ،تعلیمی اداروں اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عاٸد ہوتی ہے کہ وہ باہمی تعاون سے تعلیمی نظام کو دوبارہ بحال کریں۔
    تعلیم ہی ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔
    حضرت معاذبن جبلؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا” علم سیکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کیلیے علم سیکھنا خشّیت، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا عبادت، اسکا پڑھنا پڑھانا تسبیح، اسکی جستجو جہاد ، ناواقف کو سکھانا صدقہ اور اسکی اہلیت رکھنے والوں کو بتانا ثواب کا ذریعہ ہے۔نیز علم تنہاٸی کا ساتھی، دین کا راہنما، خوشحالی و تنگدستی میں مددگار، دوستوں کے نزدیک وزیر، اور جنت کی راہ کا مینارِ ہدایت ہے۔
    علم ہی کے ذریعے اللہ کی اطاعت و عبادت کیجاتی ہے۔ اسکی حمدوثنا ہوتی ہے،اسی سے پرہیزگاری ہوتی ہے، اسی سے صلہ رحمی کیجاتی ہے، اسی سے حلال اور حرام میں فرق جانا جاتا ہے۔
    تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیرہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے۔یہ انسان کا حق ہے جو کوٸی اس سے چھین نہیں سکتا۔انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہاٸی کیلیے فدیہ کی رقم مقرر کی گٸی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دٸیے گٸے۔ لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ،انہیں حکم ہوا کہ دس ،دس بچوں کو لکھنا ،پڑھنا سکھادیں تو چھوڑ دیے جاٸیں گے۔چنانچہ سیّدنا زید بن ثابتؓ نے جو کاتب وحی تھے ۔اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔
    اسی بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیم کی اہمیت کیا ہے۔اور اسکا حصول کتنا ضروری ہے۔
    تعلیم نام ہے کسی قوم کی روحانی اور تہذیبی قدروں کو نٸی نسل تک پہنچانے کا، کہ وہ انکی زندگی کا جز بن جاۓ۔ جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوۓ وہ غلام بنا لٸے گٸے یا پھر جب انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔
    قرآن مجید میں لگ بھگ پانچ سو مقامات پر حصول تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    ” جو شخص طلبِ علم کے راستے پر چلا،اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیا“۔
    اسوقت ہمارے مروّجہ روایتی طریقہ تدریس میں بچوں کیلیے کوٸی کشش باقی نہیں رہی۔بچے سکول، کالج اور جامعات میں جانے سے کتراتے ہیں۔لگ بھگ 70 فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے بھی کچھ فیصد بچے پراٸمری سطح کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ روایتی طریقہ تدریس میں کوٸی تبدیلی نہیں کی گٸی اور دوسری وجہ مہنگاٸی کی شرح میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو چاٸلڈ لیبر کے طور پر کام میں مشغول کروا دیتے ہیں۔
    اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی دلچسپی کے لیے دیگر پروگراموں کو ترتیب دے کر ان میں دلچسپی کا سامان پیدا کیاجاۓ۔

    @Ra_jo5

  • 18 ماہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء حکومتی مدد اور چین کے ویزا کے منتظر – تحریر :یاسر اقبال خان

    18 ماہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء حکومتی مدد اور چین کے ویزا کے منتظر – تحریر :یاسر اقبال خان

    جب سے کورونا وبا آیا ہے دنیا کے ہر حصے میں موجود طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں بہت متاثر ہوئی ہے۔ کورونا وبا کے شروع میں تو سب ممالک نے سٹوڈنٹ ویزا بند کیا تھا لیکن جب سے ویکسینیشن کا عمل شروع ہوا ہے، برطانیہ، امریکا اور دوسرے مغربی ممالک نے طلباء کیلئے ویزا پالیسی آسان کردی ہے- طلباء کو نہ صرف ویزا مل رہا بلکہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ بیرونی ممالک میں سیاحت سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں جتنے بھی پاکستانی زیرتعلیم طلباء تھے ان کو ویزے مل گئے ہیں وہ سب اپنے یونیورسٹیز جاچکے ہیں یا جا رہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں چین میں زیر تعلیم طلباء آج بھی پاکستان میں پھنسے ہیں۔ جن کو 18 مہینوں سے چین کا ویزا نہیں مل رہا اور ویزا کے منتظر ہیں یہ طلباء مطالبہ کر رہے ہیں کہ مغربی ممالک کی طرح ہمیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے چین کا ویزا جاری کیا جائے اور پاکستانی حکومت ہماری ذمہ داری لے اور چین کے ساتھ بات کرے تاکہ ہم پر کورونا وبا کی وجہ سے لگی یہ سفری پابندیاں نرم کی جائے۔

    جب دسمبر 2019 میں ووہان میں کوویڈ 19 وبائی بیماری پھیل گئی، چین میں حکام کا پہلا ردعمل شہر کو سیل کرنا تھا۔ جیسے جیسے وائرس پھیلتا گیا تو ہر طرف سفری پابندیاں لگا دی گئی تاکہ وائرس کو چین میں پھیلنے سے روکا جائے۔ چین سے غیر ملکی شہریوں میں گھر جانے والوں میں 196 ممالک کے نصف ملین سے زائد بین الاقوامی طلباء شامل تھے جن میں پاکستانی طلباء بھی کثیر تعداد میں تھے جو پاکستان آئے اور پھر پاکستان میں ہی پھنس کر رہ گئے۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ اب چین نے کورونا وبا پر کنٹرول حاصل کیا ہے اور چین نے تقریبا 40 فیصد سے زیادہ آبادی کی ویکسینیشن مکمل کی ہے تو مغربی ممالک کی طرح چین بھی پاکستانی طلباء کے لئے ویزا پالیسی میں نرمی کرے۔ 18 مہینے ہمارے تعلیم کے ضائع ہو چکے ہیں ہم شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہے۔

    چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء اکثر وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنے کمپین و ہیشٹیگ ‎#TakeUsBackToChina میں ٹویٹر پر اپنے ٹویٹس میں ٹیگ کرتے نظر اتے ہیں کہ ان کیلئے پاکستانی حکومت چینی حکومت سے بات کرے۔ طلباء نے اس سوشل میڈیا مہم کے ساتھ یو این، چینی پریذیڈنٹ ژی جنگ پنگ کو مدد کیلئے اور توجہ حاصل کرنے کیلئے ان کے اوپن لیٹرز بھی لکھے گئے ہیں جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئے۔ پاکستان میں پھنسے ان طلباء میں بعض ایسے ہیں جو چین میں کورونا وبا پھوٹ پڑنے پر پاکستان آئے تھے اور بعض ایسے ہیں جن کو 2020 اور 2021 میں چین کے مختلف یونیورسٹیز میں داخلہ ملا ہے۔
    پاکستانی طلباء چین میں انڈر گریجویٹ، ماسٹر اور پی ایچ ڈی ڈگریوں میں رجسٹرڈ ہیں ان طلباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کو آن لائن کلاسز میں بہت سارے مسائل کا سامنا ہے، کچھ تو پسماندہ علاقوں سے ہیں جہاں انٹرنیٹ سروس ہی نہیں کہ آن لائن کلاسز لے سکے جو میڈیکل ڈاکٹری کی ڈگری پڑھ رہے ہیں آن لائن کلاسز میں ان کیلئے کلینکل کام کرنا ممکن نہیں اور ماسٹر و پی ایچ ڈی طلباء آن لائن کلاسز میں لیب کے بغیر ریسرچ نہیں کر سکتے۔ جن طلباء کو 2020 اور 2021 میں داخلے ملے ہیں ان میں سے کچھ کو تو یونیورسٹیوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اپ آن لائن کلاسز کے بجائے لمبا انتظار کرے اور جب تک سفری پابندیاں نرم نہیں ہوتے تو اس وقت تک اپ پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ کے ساتھ وزیر داخلہ شیخ رشید نے 3 جون 2021 کو ملاقات میں پاکستانی طلباء کا معاملہ اٹھایا تھا اور چینی سفیر نے یہ معاملہ جلد حل کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن اس بارے میں پاکستانی میڈیا میں زیادہ تفصیل نہیں ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ہوسٹ عدل شاہزیب نے وزیر تعلیم شفقت محمود کے ساتھ پاکستانی طلباء کا مسئلہ اٹھایا تھا جس پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ چینی سفیر کے ساتھ پاکستانی طلباء کا مسئلہ اٹھاؤں گا اور میں سمجھتا ہوں چین میں حالات کافی اچھے ہوگئے ہیں، پاکستانی طلباء کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • چائلڈ لیبر ایک لعنت:  تحریر  محمد جاوید

    چائلڈ لیبر ایک لعنت: تحریر محمد جاوید

    پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سنگین مسئلہ ہے خاص کر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے جہاں لوگوں کے حقوق کا کوئی پرسان حال نہیں تو وہاں ، بچوں کے حقوق کی تو بات ہی کوئی نہیں کرتا ۔
    یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریبا 3.3 ملین بچے چائلڈ لیبر ہیں۔ یہ بچے مختلف انڈسٹریز میں کچھ ہوٹلوں اور ورکشابوں میں کام کرتے ہیں۔
    چائلڈ لیبر کے پیچھے اکثر بچوں کے گهريلویں حالات ہوتے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر پڑھنے کی عمر میں یہ بچے محنت مشقت والا کام کرتے
    پاکستان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں بچوں کی مزدوری کے استعمال کی سب سے اہم وجہ غربت ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اسے والدین کا اپنے بچوں کو کام پر بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ہے تاکہ وہ خاندانی آمدنی میں اضافہ کرسکیں۔ روز بروز بڑھتی مہنگائی معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔
    مہنگائی کے بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کے غریب خاندانوں کا اپنا پیٹ پالنا ہی مشکل ہو جاتا اوراسکی وجہ سے چايلڈ لیبر میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ معصوم بچے اس کم عمری میں اپنے خاندان کا پیٹ پلنے میں اپنی زندگی اور مستقبل داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔
    پاکستان میں نظام تعلیم کا فقدان ہے جس کی وجہ سے بچے تعلیم حاصل کرنا اور اسکول جانے کے بجائے ملازمت پر چلے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی کمی ، سہولیات کا فقدان اور والدین کے اندر شعور نہ ہونے سے وہ اپنے بچوں کو اسکول بیجنے کے بجائے فیکٹریوں میں ملازمت کے لئے بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے جن کی زیادہ تر عمر یں 5-16 سال کی ہے۔ ان بڑی تعداد میں بچوں کا اسکول میں نہیں ہونا ایک بہت بڑا المیہ ہے پاليسی سازوں کو اس بارے میں سوچنا چائے تاکہ ان معصوم بچوں کا مستقبل محفوظ کیا جاسکے۔
    اکثر کام کرتے ہوۓ بچوں کو جسمانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ بچے ہمیشہ کے لئے معذور بن جاتے ہیں
    چائلڈ لیبر کے نتائج در حقیقت بہت پرشان کن ہیں اس کی وجہ سے اکثر ان کی دماغی استحصال ہو جاتی ہے اور کند ذہن بن جاتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو خوشگوار بچپن نہیں ملتا جس کی وجہ سے سیکھنے کھلینے اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے سے محروم ہو جاتے اور ان شخصیت پہ برا اثر پڑتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ چائلڈ لیبر تیار کرنے اور بچوں پر برے اثرات پیدا کرنے میں منفی کردار ادا کرتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ ان چائلڈ لیبر کو مناسب اجرت نہیں دیتا اور وہ پیسے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دوسرے جرایم میں ملوث پاے جاتے جیسے کہ چوری کرنے اور چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔
    حکومت کو چائلڈ لیبر کے سماجی مسئلے پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا کوئی مخصوص ادرہ بنائے جو صرف اور صرف بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں۔
    چائلڈ لیبر سے بچنے کے لیے قانون سازی کیا جاے ۔ کچھ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے ملک کی کامیابی کے لیے اپنے اثاثوں کو بچانے اور اچھی طرح ترقی کرنے کے لیے چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان بھی بہت جلد ان میں سے ایک ہوگا اور یہ اقدامات اٹھا لے گا۔
    حکومت کو چائے کہ چائلڈ لیبر پہ پابندی لگایا جائے اس سلسلے میں قانون سازی کیا جائے تکہ ان معصوم جانوں کے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکے۔

    @I_MJawed

  • تعلیم کی کمی، غربت ایک وجہ  تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    تعلیم کی کمی، غربت ایک وجہ تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ایک درخت کی طرح ، غربت کی بھی بہت سی جڑیں ہیں۔ لیکن عالمی غربت کی بہت سی وجوہات میں سے ایک عنصر کھڑا ہے” تعلیم”

    تعلیم کا شعبہ کسی بھی ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے مگر بدقسمتی سے ، پاکستان میں تعلیم کے شعبے کی حالت بہت خستہ ہے۔غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں بھی اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتے جس کے باعث ان کے بچوں کو بھی غربت میں زندگی گزارنی پڑتی ہے

    ہمارے ملک میں معیاری تعلیم کی کمی 21 ویں صدی کے چیلنجوں سے نمٹنے سے قاصر ہے غربت کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کے لئے معیاری تعلیم کے متحمل نہیں ہیں۔. اس کے علاوہ ، حکومت کی غفلت صورتحال کو مزید مایوس کررہی ہے۔

    اگرچہ تعلیم کے فروغ کے لئے مختلف حکومتوں کے مختلف اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، لیکن خواندگی کی شرح دہائی کے دوران 56٪ پر ہے۔. کم سرمایہ کاری کی وجہ سے ، سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے ناقص کلاس رومز ، پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات ، بجلی کی کمی ہے۔

    نجی شعبہ اس سلسلے میں قابل ستائش کام کر رہا ہے۔. لیکن اس شعبے کا مقصد کمانے والی رقم ، تعلیم ناقص کی رسائ سے بالاتر ہے۔ پاکستان میں یونیسکو کے ذریعہ دی جانے والی بنیادی تکمیل کی شرح خواتین میں 33.8٪ اور مردوں میں 47٪ ہے ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے 6 ویں سب سے بڑے ملک میں لوگ بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں

    حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ اگر ہم غربت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو غریب لوگوں کو پڑھنے کی سہولتيں دیں انہیں تعیلم دلاٶں کیونکہ تعلیم کو اکثر ایک عظیم مساوات کے طور پر جانا جاتا ہے اس سے ملازمتوں ، وسائل اور مہارتوں کا دروازہ کھل سکتا ہے جس کی وجہ سے ایک کنبہ کو نہ صرف زندہ رہنے کی ضرورت ہے بلکہ ترقی کی منازل طے کرنا ہے۔

    ‎@JahantabSiddiqi

  • ہم پڑھے لکھے بے کار تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    ہم پڑھے لکھے بے کار تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم ہم نے پڑھے لکھے جاہل کی اصطلاح تو بہت بار سنی اور سمجھتے بھی ہیں.
    مگر یہ پڑھے لکھے بے کار کیا بلا ہے
    ہم اگر آج سے دس بیس سال پیچھے چلے جائیں تو خال خال گریجوایٹ ہوا کرتے تھے.ہر گھر سے کوئی ایک کالج یا یونیورسٹی جانے والا ہوتا تھا.
    مگر اب پرائیویٹ اداروں کی بھرمار نے نقشہ بدلا پڑھے لکھے اور بلخصوص کالج اور یونیورسٹی جانے والوں کی "تعداد” میں نمایاں اضافہ ہوا.
    اور اب ہر گھر میں گریجویٹ ملتا ہے.
    ان اعدادوشمار پہ خوشی تو ہوتی ہے مگر ایک دکھ کی کیفیت طاری رہتی ہے
    کہ تعداد تو بڑھ گئی معیار نہ رہا
    ڈگریاں تو آگئیں ہنر نہ رہا
    ہمارے کمزور اور بے ہنر ہاتھوں کی کرامت ہے کہ ہم سے رہبری چھن گئی ہے
    آج چودہ سولہ سال پڑھنے لکھنے کے بعد بھی ہم بے ہنر رہ جاتے ہیں.
    ہم اپنے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے بھی محتاج اور سراپا احتجاج بنے رہتے ہیں

    کرونا وباء نے جہاں تعلیمی ادارے بند کروائے وہیں تعلیمی معیار کی قلعی کھول کے رکھ دی کہ ہزار پڑھے لکھوں نے مل کے وہ نہ کمایا جو ایک ہنر مند نے کما لیا.
    فری لانسنگ اور ای کامرس میں ہنر کی ضرورت اور اہمیت نے ہمیں جھنجوڑ کے رکھ دیا
    کمانے کے لیے ایسی راہیں کھولیں جن پہ ڈگریوں والے ڈگمگا گرے اور ہنر والے بازی لے گئے
    ڈگری کے حصول کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ڈگری پروگرامز وقت کا ضیاع ہیں اور ہمارے جوان یونیورسٹیوں سے محض کاغذ کا ٹکڑا حاصل کر. کے نکلتے ہیں.
    آزاد چائے والا کے فلسفے کو سو بٹہ سو نمبر دیتے ہوئے تائید کروں گی کہ ڈگری سے بہتر ہنر ہے
    اب ہنر کو محض ویلڈنگ سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے تو جو کام آپ اپنی عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کرتے ہیں اسکا مقابلہ کوئی ڈگری نہیں کر سکتی.
    ہمارے تعلیمی نظام کے تمام نقائص میں سب سے بڑا نقص پریکٹیکل کی کمی ہے.چین اور جاپان کے سکول سسٹم سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے
    جہاں طلباء حصول علم کے ساتھ گھرداری بھی سیکھتے ہیں .
    ہم پڑھ لکھ کر بے کار ہیں کیونکہ ہم نے صرف پڑھا ہے اس کو کہیں استعمال میں لانے کے لیے ہمارے پاس گراؤنڈ ہی نہیں تھا نہ ہی پریکٹس.
    علم اور ہنر کو جب تک لازم و ملزوم کر کے تعلیمی نظام کو ازسرنو تعمیر نہیں کیا جاتا ہم
    پڑھے لکھے بے کار پیدا کرتے رہیں گے.جو گلے شکوے اور شکایات کے ساتھ ٹائر جلایا کریں گے.
    عمل سے زندگی بنتی ہے ….

    @hsbuddy18

  • اسلام میں حضرات صحابہ کرام کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    اسلام میں حضرات صحابہ کرام کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    اسلام جب وجود میں آیا تو اللّه تبارک و تعالی نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہ السلام کو دنیا میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کیلئے بھیجا اور انکی اس دعوت و تبلیغ کے لیے کچھ مخصوص لوگ چنے،
    اسی طرح جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اور آپکو جب نبوت سے نوازا گیا تو آپﷺ کے اس مشن کیلئے جو لوگ چنے رب العزت نے وہ حضرات صحابہؓ کی جماعت تھی اور صحابہ کرامؓ کی تعداد کم و بیش چونتیس ہزار بتائی گئی ہے بعض روایات میں یہ وہ جماعت تھی جن کی تربیت براہ راست میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔۔
    صحابہ کرام رضوان اللّه تعالی علیہم اجمعین میں بھی ہر صحابیؓ کو الگ الگ درجہ حاصل ہے جس میں عشرہ مبشرہ دس خوش نصیب صحابی رسولؑ بھی موجود ہیں جنہیں دنیا میں ہی جنّت کی بشارت سنا دی گئی تھی جن کے نام یہ ہیں
    ابو بکر
    عمر
    عثمان
    علی
    طلحہ بن عبید اللہ
    الزبیر بن العوام
    عبدالرحمن بن عوف
    سعد بن ابی وقاص
    سعید بن زید
    ابو عبیدۃ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ

    یہاں عوام الناس کچھ غلط فہمیوں کا شکار بھی رہی ہے کہ اگر یہ صحابہ کرامؓ جنتی ہیں تو کیا باقی جنتی نہیں ہے؟
    تو یہاں یہ بات بتانا چاہوں گا صحابہ کرامؓ میں بھی ہر صحابیؓ کو اپنا الگ مقام حاصل ہے لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں حضور اکرمﷺ کے سارے صحابہ کرامؓ جنتی اور معیار حق ہیں۔
    انبیاء علیہ السلام کے بعد
    صحابہ کرامؓ میں سب سے افضل مرتبہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام اور حضورﷺ کی پیروی میں گزاری اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے آپؓ نے حضورﷺ کی موجودگی میں انکے کہنے پر امامت بھی کروائی اسی طرح حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ جن کی شان یہ تھی کہ رب العزت نے انہیں حضورﷺ کی دعا کے مانگنے پر ساتھی چنا اور حدیث کی متعدد روایات میں محمد عربیؐ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔۔
    اسی طرح حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کی شان دیکھیں جنہیں دو نور والا لقب حاصل ہے آپؓ کے نکاح میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں تھیں ایک بیٹی جب فوت ہوئی آپﷺ نے دوسری بیٹی نکاح میں دی اور جب دوسری بھی فوت ہوگی تو آپؐ نے فرمایا اگر میری اور بیٹیاں بھی ہوتی تو وہ بھی عثمانؓ کے نکاح میں دیتا حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن سے اللہ پاک بھی حیا کرتے ہیں اور قیامت کے روز آپؓ کی شہادت
    کی گواہی قرآن مجید دے گا۔۔
    حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ جنکو حیدر کرار کا لقب حاصل ہے
    آپؓ کی شجاعت اور بہادری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں آپؓ وہ صحابی ہیں جنہوں نے فتح خیبر کے موقع پر خبیر کا دروازہ اکیلے کھولا جو اس وقت بیس سے تیس لوگ بھی مل کر نہیں کھول سکتے تھے آپؓ کے نکاح میں خاتون جنت اور لخت جگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا تھی۔
    اسی طرح پھر سیدنا امیر معاویہؓ جنہوں نے شام و روم کو فتح کیا آپؓ کو کاتب وحی کا لقب حاصل ہے آپؓ زہین اور باوقار شخصیت کے مالک تھے اور رشتے میں پوری امت مسلمہ کے ماموں لگتے ہیں آپ کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ جب فتح مکہ ہوا تو حضور اکرم صلی وسلم نے فرمایا جس نے ابو سفیان کے ہاں پناہ لی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا،
    یہ تاریخ کا ادنا سا حصہ صرف بتایا ہے بلکے ادنا سے بھی ادنا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگی پر خدا کی قسم ہزاروں کتب بھی لکھی جائے کم ہے اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے ہمیں سیدھی راہ پر چلنے اور حضرات صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین

    @SyedUmair95

  • سندھ کا فرسودہ تعلیمی نظام  تحریر: ام سلمیٰ

    سندھ کا فرسودہ تعلیمی نظام تحریر: ام سلمیٰ

    ہزاروں کی تعداد میں موجود سندھ کے سرکاری اسکول جن کا کوئی پرسان حال نہں ، سندھ کے سرکاری اسکو لوں کی کر کردگی مایوس کن نظر آتی ہے ، جس کی ایک اہم وجہ تدریسی عملے کی عدم موجودگی بھی ہے اور اساتذہ کا تعليمی معیار بھی جدید دور کے مطابق نہں ہے.

    تعلیم کسی بھی فرد کے معاشرے کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے اور ایک اچھے معاشرے کا سبب بھی تعلیم کا معیار ہے ۔ کئی دہائیوں سے اگرچہ بنیادی طور پر سندھ میں تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور بوسیدہ سرکاری اداروں کی وجہ سے سندھ کا نظام تعلیم ایک مایوس کن حالت سے گزر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی 1970 کی دہائی سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے ، لیکن انہوں نے صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے کئی سالوں سے کوئی خاص توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں نظام تعلیم کی بہتری میں بہت رکاوٹیں ہیں.

    ہزاروں کی تعداد سندھ کے سرکاری اسکول ایک مایوس کن کر گردگی دیکھا تے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے والدین بچوں کو پرائیویٹ اسکول بھیجنے پے مجبور ہوجاتے ہیں ، زیادہ تر اسکول جس میں تدریسی عملے کی عدم دستیابی اور بیت الخلا کی عدم دستیابی ، پینے کے پانی کا نہ ہونا اور بجلی جیسی مناسب بنیادی سہولیات کا فقدان ہونا ہے ، اور کھیل کے میدانوں یا لیبارٹریوں کی تو بات ہی نہ کریں کیوں کے وہ تو بلکل میسر نہں سرکاری اسکول میں جب کے اسکول بُنیادی درس گاہ ہے بچوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے.

    سندھ میں تقریبا لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا تناسب لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سندھ کے قبائلی اور دیہی علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے میں صنفی فرق انتہائی واضح ہے۔ تاہم ہر سال اربوں روپے تعلیم کے شعبے کے لئے مختص کیے جاتے ہیں ، لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں استعمال ہوتا ہے۔

    مزید یہ کہ پرائیویٹ اسکول مافیا ہر سال اربوں روپے پیدا کررہا ہے لیکن بچوں کے لئے معیاری تعلیم اور مناسب تعلیمی ماحول مہیا نہیں کررہا ہے۔ سندھ میں نجی اسکولوں کی بہت ساری عمارتیں 600 سے 700 فٹ سے زیادہ کی جگہوں پر واقع ہیں ، جہاں بچوں کے پاس کھیلوں کے میدان اور لیبارٹری نہیں ہیں۔جو کے بچوں کی بُنیادی ضرورت ہے.

    نظام تعلیم میں بہتری لانے کے لئے ، حکومت سندھ نے اسکول کے عملے کی موجودگی کی جانچ پڑتال کے لئے بائیو میٹرک تصدیقی نظام متعارف کرایا لیکن ہر کام توجہ مانگتا ہے نظام لگانا اور پھر اس کی مسلسل جانچ پڑتال کرتے رہنا کسی بھی کام میں بہتری لانے کا صحیح طریقہ ہے ،سندھ سرکار اس میں ناکام رہی۔ نظام کو چلانے کے لئے ، مانیٹرنگ آفیسرز کو بڑی تنخواہوں پر مقرر کیا گیا، حالانکہ ان کی ذمہ داری صرف اساتذہ کی دستیابی کی تصدیق تک محدود ہے اور سب مانیٹرنگ افسران کو صورتحال کی اطلاع دینا لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نظر نہں آتا انتظامی سطح پر ، کوئی بھی خالی عہدوں ، غیر معیاری تدریسی طریقہ کار اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو خراب کرنے جیسے مسائلِ پر توجہ نہں دیتا اور نہ ہی ان مسائل کو ختم کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کرتا ہے۔ در حقیقت ، بایومیٹرک سسٹم کو شامل کرنے سے تعلیم کے معیار میں بہتری نہیں آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ، ہزاروں اساتذہ استعفی دے چکے ہیں۔ اور ان کی جگہ کوئی نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں ، اسکول بند کردیئے گئے ہیں۔ان مسائل کا فوری حل نہں نکالا گیا جس کی وجہ سے اسکول میں تدریسی عملہ نہ ہونے کے برابر ہے.

    اس کے علاوہ ، سرکاری اسکولوں کے ناقص معیار کی وجہ سے ، والدین جو کے خود بھی انہی اسکول کے عملے سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ سرکاری اسکول اساتذہ بھی شامل ہیں انہوں نے اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرایا ہے۔

    اس کے علاوہ ، سرکاری اسکولوں میں اوسطا ایک کلاس روم میں 200 طلبہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں معیاری تعلیم کیسے دی جاسکتی ہے؟ وفاقی تعلیم کا اصول صرف 25 طلباء فی استاد ہیں۔ اس کے علاوہ کلاس رومز اور اساتذہ کی بھی کمی ہے۔ بہت سارے اسکولوں میں ، ایک ہی استاد مختلف گریڈ میں طلبا کی دیکھ بھال کرتا ہے اور سات سے آٹھ مضامین پڑھاتا ہے۔ تعلیم کے معیار کو متاثر کرنے والی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اسکول مینجمنٹ کمیٹیاں دیانتداری و احساس کے ساتھ اپنے کردار اور ذمہ داریوں کو نہں نبھاتی ہیں۔

    سندھ میں نظام تعلیم کو ٹھیک کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کی طویل مدت انتھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کو تعلیمی اصلاحات کو ترجیح بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ایک یکساں نظام تعلیم ہو۔ ضلعی اور صوبائی سطح پر محکمہ تعلیم مضبوط بنانا ہوگا۔ اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو اسکول اور والدین فاصلے کو ختم کرنے پر توجہ دینی ہوگی اور اسکول کے فنڈز کو دیانتداری سے استعمال کرنا ہوگا تاکہ بچوں کی اسکول میں جو بنیادی ضرورت کی کمی ہے اس کو ان فنڈز کے صحیح استعمال سے میسر کیا جا سکے۔ بدعنوانی کیلئے صفر رواداری ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں سے اقربا پروری کا بھی خاتمہ کیا جانا چاہئے اور تعلیم کے شعبے میں سیاسی مداخلت کو بھی روکا جانا چاہئے۔

    سب سے بڑھ کر اساتذہ کی کے تعلیمی معیار پر توجہ دینی ہوگی اِنکی صلاحیتوں کو بڑھانا اور مناسب تربیت دے کر تدریسی طریقہ کار کو بہتر بنانا ہوگا تبھی سندھ کے تعلیمی نظام میں جنگی بنیادوں پر بہتری آسکے گی.

    @umesalma_