Baaghi TV

Category: تعلیم

  • ہمارا نظام تعلیم اور اس کو درپیش مسائل   تحریر: جام محمد ماجد

    ہمارا نظام تعلیم اور اس کو درپیش مسائل تحریر: جام محمد ماجد

    حصول علم میں ہوتا ہے بہت جاں کا ضیاع
    منزلیں یونہی سر راہ ملا نہیں کرتیں

    یہ امر مسلمہ ہے کہ تعلیم کا بہتر نظام کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہونے کے ساتھ ساتھ کسی قوم کے بہتر کردار کا سر چشمہ ہوتا ہے اس حقیقت کے تحت ہر ملک وقوم کے افراد بہتر نظام تعلیم کے متقاضی ہوتے ہیں اس کے علاوہ یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ تعلیم ایک متحرک عمل ہے جو زمانے کے تغیرات اور تبدیلیوں کے تحت جاری و ساری رہتا ہے ۔ ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اپنے مروجہ نظام تعلیم کے حالات کا بخوبی اندازہ ہوسکے گا کہ ہم نے اپنے نظام تعلیم سے کیا حاصل کیا اور کہاں تک کامیابی حاصل ہوئی ۔
    ہمیں جب نیا اور آزاد پاکستان نصیب ہوا تو بد قسمتی سے ہمیں غلامانہ اور فرسودہ برطانوی نظام تعلیم ملا جو کہ ہماری روایات اور فلسفہ حیات سے کسی بھی طرح ہم آہنگ نہ تھا۔ اس ضمن میں پاکستان کی پہلی قومی تعلیمی کانفرنس نومبر 1948 کو کراچی میں منعقد ہوئی جس کا مقصد ہمارے نظام تعلیم میں نہ صرف بہتری لانا تھا بلکہ ایسا تعلیمی نظام مرتب کرنا تھا جو کہ اسلامی نظریہ حیات سے ہم آہنگ ہو اور جس کے تحت فرد کی شخصیت کی مکمل نشوونما کی جائے اور اسے معاشرے کا بہترین رکن بنایا جائے ۔
    لیکن افسوس صد افسوس کہ آج 71 سال گزرنے کے بعد بھی ہمارا نظام تعلیم اس قابل نہیں ہو سکا۔ ہم نے وہی غلامانہ روش اختیار کیے رکھی ہے اور انگریزی کو اپنا معیار تعلیم بنا رکھا ہے جبکہ انگریزی صرف اور صرف ایک زبان ہے۔
    اگر ہم اپنے نظام تعلیم کا تجزیہ کریں تو کیا ہم نے وہ عمومی مقاصد حاصل کیے جس کے تحت یہ نظام تعلیم مرتب کیا گیا تھا اور کیا تعلیم جو کہ بذات خود ایک متحرک عمل ہے کے تحت اس نظام میں تبدیلیاں کی گئیں ہیں؟ یقینا نہیں ••••
    اور جہاں تک بات ہے اس نظام کو درپیش مسائل کی تو وہ مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس میں قابل ذکر منصوبہ بندی کی کمی ۔ بجٹ کی کمی ۔ غیر تسلی بخش اور غیر متحرک نصاب ۔ پست معیار تعلیم ۔ بد عنوانی ۔ غیر تربیت یافتہ اساتذہ ۔ ناقص امتحانات کا نظام ۔ نفسیاتی مسائل ۔ نا مناسب نظم ونسق ہیں ۔
    میں اپنی بات کا اختتام علامہ اقبال کے اس شعر سے کرنا چاہوں گا
    اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
    ایک سازش ہےفقط دین وثروت کےخلاف
    @Majidjampti

  • خیبر پختونخوہ کے مثالی تعلیم سے ہم محروم . تحریر : محمد عرفات بدر

    خیبر پختونخوہ کے مثالی تعلیم سے ہم محروم . تحریر : محمد عرفات بدر

    بنیادی تعلیم ہر بچے کا حق ، اور اس بنیادی حق کو فرہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے حصول تعلیم کے زریعے ہی انسان اپنی منزل تک کے راستے اسان کر دیتا ، حصول تعلیم کے زریعے دنیا نے چاند پہ قدم رکھا ، بلکہ دنیا کے مختلف ممالک جیسا کہ امریکہ اور سعودی عرب چاند پہ کلوننگ کا منصوبہ بنا رہے ہیں کلوننگ کے حوالے سے سعودی ایجوکیٹ بھی کر رہے ہیں اس جدید تعلمی دور میں خیبر پختونخوہ کا آخری ضلع، ضلع کوہستان وہ تمام تر بنیادی تعلمی سہولتوں سے محروم ہے جو کہ ایک بچہ یا شہری اپنی ریاست پہ حق رکھتا ہے ، محکمہ تعلیم کا پوچھ تاش صرف شہر تک محدود ، اس محدود اینوسٹیگشن سے گاوں میں تعاینات محترم استاتذہ حضرات برپور فایدا اٹھاتے ہیں ، گاوں کا میٹرک پاس لڑکا جس کو ریڈینگ اتی ہو ۸ سے ۱۰ ہزار تک کی تنخواہ اس تک پنچا دی جاتی ہے اور وہ ایک قسم کا خود کو ہیڈ ماسٹر سمجھتا ہے سرکاری طور پہ تائنات استاد شہر میں ایک اعدد کوٹھی میں آ بستا ہے ، خدانخواستہ تگڑی اینوسٹیگیش ٹیم آ جاے تو اس کے اگے کے سہولت کار جانے سے پہلے فون کال پہ اطلاع فرہم کر دے گے کہ صاحب ہم تشریف فرما رہے ہیں اپ اپنی جگہ حاضرہو.

    سبحان اللہ، سکول کی عمارت اس کی تو بات ہی الگ ہے، عمارت کو تو ایسے کارآمد طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے کہ پوچھے ہی مت، پہلے تو سکول کی عمارت کھنڈر کا منظر پیش کرے گی ، بد قسمتی سے ایک عد کمرہ بچ بھی گیا ہو تو اس کے لون میں ، لمبے کانوں والی ایک بکری اور گاے اپنے بچھڑے کے ساتھ دھوپ تب رہی ہوگی اور اس نیک کام میں چوکیدار کا پورا پورا ہاتھ ہوگا، جوہی براے نام اینوسٹیگشن ٹیم کی کال اے گی چکیدار بھی مال معاوشی کو سایڈ کردے گا اور سکول کو صاف ستھر کر رکھے گا کیونکہ انے والے اینوسٹگیشن ٹیم میں ایک عدد ممبر ان کے اس نیک کام میں ملا ہوا نہیں ہوتا ، یہ سلسلہ کئی دہائوں سے چلا آ رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں.
    بچیوں کے سکول کا تو اللہ ہی حافظ ہے.

    @ArafatBadr6

  • میراتجربہ (پارٹ ون) . تحریر : ہما عظیم

    میراتجربہ (پارٹ ون) . تحریر : ہما عظیم

    پڑھاٸی سے فراغت کے بعد تھوڑا آرام کیا۔ ذہن تھوڑا فریش ہوا تو دماغ میں نوکری کا کیڑا کلبلایا۔ پاپا جی کو آگاہ کیا پہلے تو کہا گیا کیا کمی ہے تمہیں۔ ہم نے کہا جی بی کام کروایا ہے آپ نے زبردستی۔ ورنہ ہم تو ادب سے دلچسپی رکھتے تھے۔ اب جاب کرنے دیں تاکہ دو اوردو چارجوسیکھا ہے اسے استعمال کر سکیں۔ تھوڑے شش و پیج کے بعد اور پچیس تیس نصیحتوں کے ساتھ اجازت مل گٸی۔ گویا زندگی کا پروانہ مل گیا۔

    اب اگلہ مرحلہ ایک ایسی نوکری کی تلاش تھی جہاں ہم تمام نصیحتوں پرعملدرامد کے ساتھ پایہ تکمیل ہو سو اخبار چھاننے شروع کیٸے ڈگری اورکچھ شارٹ کورسز کے سرٹیفیکیٹ یعنی اپنےعمال نامے کی فاٸل لیٸے ڈرتے ڈرتے گھر سے نکلے۔

    اچھا پہلا انٹرویو دینے جاٶ جو وہ احساس ہوتا ہے جو آپکا اسکول کے پہلے دن کا ہوتا ہے۔ دل اس بچے جیسا ہوجاتا ہے جسے اس کے والدین پہلے دن اسکول والوں کے حوالے کر جاتے ہیں. وہ چاروں طرف اجنبی ماحول دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اچھا جی پہلے ہم اپنے آس پاس اسکولز، آفیسز، کمپنیزمیں انٹرویو دیا۔ وہاں جو کچھ دیکھنے سننے کو ملا وہ یہ تھا۔ حجاب کے ساتھ نوکری نہیں ملے گی۔ بچوں کی نظرمیں جازب نظرہونے کے لٸیے جدید تراش خراش کے کپڑوں کےساتھ میک اپ سے مزیّن چہرہ لانا ہوگا۔ اپنا میک اوورکریں۔ یہ برقعہ ساتھ ہوگا تو کام کیسے ہوگا بی بی.

    او میرے خدا

    میں پریشان کہ میں نے اپنی خدمات کاغزی کام کے سلسلے میں دینی ہے یا ماڈلنگ کرنی ہے۔ غرض ہرطرح کے لوگوں کو پایا کسی کی باتوں کے ڈرسے تو کسی کی نظروں سے ڈرسے ساری پراعتمادی کبھی تو آنسوٶں میں بہہ جاتی یا غصہ کی آگ میں جل جاتی۔
    اسی تگ ودو میں اپنے کوچنگ کے پروفیسرسے ملاقات ہوگٸی فرمانے لگے بیٹا نیا اسکول کھولا ہے اساتذہ کی ضرورت ہے مہربانی کرو کچھ ٹاٸم میرے اسکول کو دے دو۔تنخواہ ابھی ہزارہوگی آہستہ آہستہ بڑھا دیں گے.
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کوٸی فضول ڈیمانڈ نہیں عزت یہ ہے خود چل کرآفرآٸی اپنی عزت کو ترجیح دی نہ کہ کم تنخواہ کی فکر کی وہ تو بڑھ ہی جانی تھی پراٸیویٹ اسکول تو چلتے نہیں دوڑتے ہیں۔
    سو خوشی خوشی حامی بھری اور جب تک وہاں جاب کی خوش اورپرسکون رہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ سب کو اچھے لوگوں سے ملاۓ اوربرے لوگوں سے بچاۓ۔آمین

    @DimpleGirl_PTi

  • ہمارا تعلیمی نظام اور بچوں  کی تعلیم کے مسائل   تحریر:  چوہدری عطا محمد

    ہمارا تعلیمی نظام اور بچوں کی تعلیم کے مسائل تحریر: چوہدری عطا محمد

    ملک خدا داد اسلامی جہموریہ پاکستان میں عرصہ دراز سے تعلیمی شعبے میں صرف واجبی اور رسمی سرمایہ کاری نے ارض پاک میں ایک شدید تعلیمی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس معمولی سرمایہ کاری اور حکومتی توجہ اس شعبہ میں نہ دینے کی وجہ سے ارض پاک پاکستان کے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد سکولوں میں جانے سے محروم ہے ہم سمجھتے ہیں۔ تعلیم کسی بھی قوم کی معاشی، معاشرتی، شعوری، اور اخلاقی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کرتی  ہے۔ اگر آج ہم اقوام عا لم یعنی پوری دنیا کی بات کی جاۓ تو دنیا میں جتنی بھی ترقی یافتہ اقوام ہیں، تقریبا سب ہی میں تعلیم کی شرح 90سے 95 فیصد ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے پیارے وطن اسلامی جہموریہ پاکستان کی بات کریں تو مطالعہ کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر تقریباً دو کروڑ چھبیس لاکھ بچے سکول نہیں جا سکے اور حالیہ برسوں میں اس تعداد میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔ ارض پاک میں ان بچوں کے سکول نہ جانے کی سب سے بڑی وجہ سکولوں کی تعداد میں کمی تھی۔
    جدید ٹیکنالوجی اور پوری دنیا میں تعلیمی نظام میں جدید صلاحیتیں پیدا کرنے والے اس دور میں ارض پاک میں اتنے بچوں کو آئینی ذمہ داری کے باوجود تعلیمی سہولتوں سے محروم رکھنا کسی بھی ترقی یافتہ اور مہذب ریاست کو زیب نہیں دیتا ہےاگر ہم اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کی بات لریں تو اس کے مطابق پاکستان کو اپنی قومی پیداوار کا چار سے چھ فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ لیکن ہمارے حکمران صاحب اقتدار حلقے اس سے بہت ہی دور ہیں مجموعی قومی پیداوار کا بہت ہی کم حصہ تعلیم جیسے اہم شعبے پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ معمولی رقم نہ صرف ارض پاک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر مزید تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے ناکافی ہے بلکہ مجموعی طور پر دنیا کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے معیار تعلیم کے ساتھ چلنے کے عمل پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اور ہمارے بچے جدید ٹیکنالوجی کے نظام سے پیچھے رہ جاتے ہیں

    حکومتی سطع پر سر ماۓ میں کمی کے باعث نجی سرمایہ کاروں نے اس میدان میں قدم رکھا اور اپنے پنجے گاڑھنے شروع کر دئیے اس میں بہت سارے ایسے سرمایہ کار بھی شامل ہوگے جن کا تعلیم کے شعبے سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ انہوں نے اسے محض ایک کاروبار سمجھا اور ایک منافع بخش بزنس کے طور پر اس شعبہ کو لیا اپنی تما م تر توجہ بہتر تعلیمی سہولتیں مہیا کرنے کی بجائے صرف پیسہ بنانےاور زیادہ سے زیادہ منافع کما کر اپنے بینک بیلنس کو بڑھانے پر مرکوز رکھی۔ بہت سے تعلیمی ادارے داخلہ کھلنے اور تعلیمی سال کے مکمل ہونے کے ساتھ ہی نئی کلاسوں میں آنے والے طلباء کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ہر سال اشتہارات پر لاکھوں روپے خرچ کردیتے ہیں لیکن معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے اس قدر اخراجات تو دور کی بات ہے تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے پر توجہ ہی نہیں دیتے اس سرمایہ کاری سے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ تو ہوا جو دیکھنے میں ایک اچھی اقدام لگتا ہے مگر تعلیمی معیار کافی حد تک نیچے چلا گیا۔ اس خلا کو مذہبی مدرسوں نے بھی پر کرنے کی کوشش کی کیونکہ جو غریب طبقہ پرائیویٹ مہنگے تعلیم سسٹم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا انہوں نے اپنے بچوں کو مدارس تک ہی محدود کر دیا یہ مایوس کن صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس مسئلہ پر ہمارے حکمرانوں کو ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو ناخواندگی کے چنگل سے آزادی دلا سکیں ۔ اسی میں ارض پاک پاکستان کی ترقی کی بقا ہے۔اس امر میں سب سے ضروری بات اور زیادہ اہم بات شعبہ تعلیم کے بجٹ میں کھلے دل سے بڑا اضافہ ہے۔ ہمار حکمرانوں کو فوری طور پر اقوام متحدہ کے سفارش کردہ اعداد و شمار یعنی قومی پیداوار کا کم سے کم چار فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص کر دینا چاہیے اور اس میں ہر سال نئے آنے والے بجٹ کو بتدریج بڑھا کر چھ فیصد تک لے جانا چاہیے، چاہے اس کے لیے دیگر اخراجات میں کمی کرنی پڑے۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اچھی تعلیم کے بغیر کوئی قوم نہ تو ترقی کر سکتی اور نہ ہی اپنا دفاع کر سکتی۔یہاں یہ بات بھی کہتا چلوں سرکاری سکولوں میں بھی پرائیویٹ سکولوں کی طرح والدین کو ہر مہنے بلایا جاۓ اور والدین کو بچوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ یہ احساس دلایا جسکے کہ والدین کو ان سکولوں کی ملکیت کا احساس ہو اور وہ بھی ان سکولوں کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اور آخر میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کے ہر امیر گھرانے کا بچہ ہر غریب کے بچے سے تعلیمی لحاظ اور ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے لحاظ سے اتنا ہی آگے ہے جتنا کہ اقوام عالم میں کوئی بھی ترقی یافتہ ملک ہمارے ملک سے آگے ہے ۔

    @ChAttaMuhNatt

  • کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز ، طالب علم کے ساتھ زیادتی   تحریر : محمد دانش

    کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز ، طالب علم کے ساتھ زیادتی تحریر : محمد دانش

    ‎بی ایس پروگرام، انٹر کے بعد چار سال کا ہوتا ہے
    ‎اور ماسٹر ڈگری کے برابر ہوتا ہے۔ یونیورسٹی لیول پہ طالب علم اس پروگرام سے بے حد مستفید ہوتا ہے کیونکہ یونیورسٹی بآسانی ان تمام سہولیات کو مہیا کر سکتی ہے جو کہ اس پروگرام کے لئے ضروری ہیں  جیسا کہ مناسب لائبریری، جدید کمپیوٹر لیب اور بہت ساری لیبارٹریاں۔
    ‎کالج لیول پر اس پروگرام کا آغاز سٹوڈنٹس کے مستقبل کو تاریک بنانے کے مترادف ہے۔ کالج میں انٹر اور ڈگری لیول کی کلاسز ہوتی ہیں اور اساتذہ کی تعداد پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے وہ بہت مشکل سے ان کلاسز کو منظم کرتے ہیں اور بی ایس پروگرام کو منظم کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔لیکن اعلی حکام صورت حال کو جانے بغیر پالیسی بناتے ہیں اور اس کو لاگو کر دیتے ہیں وہ ادارہ جو انٹر کی کلاسز کو مشکل سے منظم کر رہا ہے وہ کیسے بی ایس پروگرام کو شروع کروا سکتا ہے
    ‎اگر بی ایس پروگرام کا آغاز کالج لیول پر کرنا ہے تو پہلے وہاں موجود پرنسپل اور متعلقہ استاد میٹنگ کے لئے بلانا چاہئے تاکہ اعلی حکام کو اصل حقائق کی خبر ہو۔
    ‎کیا صرف ایک لیبارٹری، لائبریری میں موجود چند کتابوں اور کلاس روم کی ناممکل سہولیات  سے بی ایس پروگرام کا آغاز کیا جا سکتا ہے؟؟
    ‎وہ طالب علم جو کالج بی ایس پروگرام میں داخلہ لیں گے  ان کے ساتھ یہ بہت زیادتی ہو گی کیونکہ نہ تو وہ یونیورسٹی کے طالب علموں سے مقابلہ کر پائیں گے اور نہ کوئی بہتر جاب حاصل کر پائیں گے۔ تو ایسی تعلیم اور سند لینے کا کیا فائدہ ہے جس سے نہ تو علم حاصل ہوا اور نہ ہی معاشرے میں کوئی بہتر روزگار۔
    ‎البتہ اس سب سے طالب علموں کے اندر مایوسی بڑھے گی اور ڈپریشن کی بیماری میں اضافہ ہوگا
    ‎لہٰذا طالب علموں کے بہتر مستقبل کے لئے کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز کرنے سے پہلے کالج میں ہر وہ سہولت مہیا کی جائے جو اس کے لئے ضروری ہے تاکہ طالب علموں کے مستقبل کو روشن تابناک بنایا جاسکے۔

    @iEngrDani

  • علم کا اجالا تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    علم کا اجالا تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    مرکزی کردار
    رشید۔۔۔۔۔ایک گاؤں کا ان پڑھ کسان
    بشیر۔۔۔۔۔رشید کا دوست جو تھوڑا پڑھا لکھا ہے اور گاؤں میں رہتا ہے اور دفتری کاموں کو جانتا ہے
    احمد۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہوتا ہے
    اسلم۔۔۔۔۔۔ایک گورنمنٹ کا ملازم پٹواری
    ظفر اقبال۔۔۔۔۔۔ اسسٹنٹ کمشنر

    آغاز میں ہوتا یوں ہے کہ رشید کسی سے زمین خریدتا ہے اور وہ اپنے دوست بشیر کے پاس جاتا اور کہتا ہے کہ وہ اس کا کام کروا دے۔۔۔۔۔

    رشید:- میاں بشیر کیا حال ہیں اور کدھر مصروف ہوتے ہو؟

    بشیر۔۔ الحمدللہ رب کا کرم ہے اور دفتروں کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔
    رشید:- یار بات یہ ہے کہ میں نے کچھ زمین خریدی ہے اور اسے اپنے نام کروانا چاہتا ہوں تم دفتروں کے معاملات جانتے ہو میں تو ان پڑھ جاہل ہوں۔

    بشیر:- اچھا بھائی کل تم تیار ہو کر آجانا ہم شہر چلے جائیں گے اور تمام معلومات لے کر آئیں گے اور بعد میں تمہارا کام کروا دوں گا۔
    (بشیر سرکاری لوگوں سے ملا ہوتا ہے اور پیسے لے کر سب کے کام کرواتا ہے اور وہ رشید کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے)

    بشیر:- اسلم بھائی (پٹواری) کیا حال ہیں اور یہ میرا دوست رشید ہے اس نے زمین نام کروانی ہے سرکاری فیس کے ساتھ جو بھی غیر سرکاری فیس ہے وہ بھی بتا دیں۔
    اسلم:- الحمدللہ۔
    زمین کی منتقلی کے لئے پچاس ہزار اور باقی پچاس ہزار غیر سرکاری فیس ہے۔ وہ بشیر کو علیحدہ کر کے بتاتا ہے کہ جس میں دس ہزار آپ کا ہے اور وہ بہت خوش ہوتا ہے۔
    بشیر:- اسلم بھائی آپ کا بہت شکریہ جو آپ نے مناسب ہدیہ لیا ہے باقی ہماری طرف سے فائنل سمجھیں اور وہ رشید کو آکر بتاتا ہے۔
    رشید:- بشیر بھائی مجھے کچھ پتہ نہیں جو سہی لگتا ہے وہ کر دیں۔
    (وہ شام کو گھر پہنچتے ہیں اور رشید اپنے گھر چلا جاتا ہے اور اسے احمد ملنے آتا ہے)
    احمد:- بھائی رشید کیا حال ہیں اور آج کل کیا چل رہا ہے؟
    رشید:- الحمدللہ بھائی جان۔۔۔۔۔ یار کچھ زمین خریدی ہے اور وہ کل منتقل کروانی ہے۔
    احمد:- بھائی سرکاری فیس کے علاوہ کوئی پیسے تو نہیں دیے؟

    رشید:- آپ کو تو پتہ ہے میں ان پڑھ ہوں بشیر کو ساتھ لے کر گیا تھا پچاس ہزار فیس کے ساتھ پچاس ہزار غیر سرکاری فیس دینی ہے۔
    احمد:- بھائی آج کل کوئی رشوت نہیں لیتا اور بشیر تو سب کچھ جانتا ہے، بھائی آج کل بہت سختی ہے۔
    رشید:- مجھے تو اس نے جو کہا میں نے تو اس کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔
    احمد:- میں کل تمہیں لے کر جاؤں گا اور تمہارا کام سرکاری فیس کے ساتھ کروا دوں گا۔
    رشید:- احمد بھائی آپ کی مہربانی ہوگی میں تو کچھ نہیں جانتا.
    (احمد اور رشید اگلے دن شہر جاتے ہیں اور احمد اس کا کام کرواتا ہے)
    (احمد اسسٹنٹ کمشنر ظفر اقبال کے پاس جاتا ہے اور کام کرواتا ہے)
    احمد:- ظفر اقبال صاحب یہ میرا دوست ہے اس نے زمین نام کروانی ہے اور سرکاری طور پر زمین نام کر دیں اور جو فیس ہے یہ ادا کر دیتا ہے۔
    ظفر اقبال:- جناب میں ان کا مسئلہ ابھی حل کروا دیتا ہوں۔

    (ظفر اقبال اپنے سیکرٹری کو بلاتا ہے اور اس کو کہتا ہے سرکاری طور پر اس کا مسئلہ حل کرو)
    احمد؛- رشید میاں مبارک ہو آپ کا کام ہو گیا اور ہمارے سب ادارے سرکاری فیس پر کام کرتے ہیں معاشرے کے چند لوگوں کی وجہ سے ادارے خراب ہو رہےہیں۔
    رشید:- احمد بھائی یہ سارا کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا۔
    احمد؛- بھائی یہ تو میرا فرض تھا جو میں نے پورا کر دیا۔

    رشید:- احمد بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ۔
    ( جب یہ بات بشیر کو پتہ چلتی ہے تو وہ رشید کے پاس آتا ہے)
    بشیر:- رشید یار مجھے پتہ چلتا ہے کہ احمد نے تیرا کام کروا دیا ہے اور میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں۔
    رشید:- یار کوئی بات نہیں تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا یہی کافی ہے اور بات یہ ہے کہ معاشرے کا ہر شخص برا نہیں ہوتا….

    معاشرے میں چند لوگ غلط ہوتے ہیں پورا معاشرہ کبھی بھی غلط نہیں ہوتا اور ہمیں ہمیشہ اچھے لوگوں کو دیکھ کر ان کی اچھائی بیان کرنی چاہیے نا کہ برے لوگوں کی خامیاں بیان کرتے زندگی گزار دیں۔
    @ibn_e_Adam424

  • بنیادی تعلیمی نظام  تحریر : ‏سیدہ بنت زینب

    بنیادی تعلیمی نظام تحریر : ‏سیدہ بنت زینب

    تعلیم کا حصول فرد، معاشرے اور ریاست کے ساتھ ساتھ اجتماعی ترقی کے لئے بھی اہم ہے. بنیادی تعلیم ایک ایسی بنیاد ہے جس پر تعلیم اور انسانی ترقی کی پوری عمارت کھڑی ہے. یہ بچے کو نئی دنیا کی بنیادی بصیرت فراہم کرتا ہے اور اسے زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے ضروری اوزار فراہم کرتا ہے. بدقسمتی سے، پاکستان میں پرائمری تعلیمی نظام انتہائی تاریک ہے۔ نجی تعلیمی نظام کی کاروباری کارپوریشنز والدین کا بے حد استحصال کرتے ہیں.
    ایک سروے کے مطابق کرونا کے دوران اب تک 10٪ بچے اسکول چھوڑ کر مختلف مزدوری کرنے لگے ہیں. اور باقی جو کسی بھی اسکول جا رہے ہیں وہ بھی معیاری تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے.
    پرائمری ایجوکیشن سسٹم کی خراب صورتحال کے لئے متعدد عوامل ذمہ دار ہیں جن میں بنیادی ڈھانچے کی کمی، اہل اساتذہ کی کمی، طلباء اساتذہ کا متناسب تناسب، لیبارٹریوں کی عدم موجودگی، اساتذہ کی غیر حاضری، تعلیم کی جدید تکنیک کا عدم استعمال اور ناقص اساتذہ اور والدین کی باہمی تعامل شامل ہیں.
    ملک کی بجٹ کی ترجیحات اس حقیقت سے عیاں ہیں کہ ہمارے پالیسی سازوں کے لئے تعلیم ترجیح نہیں ہے. اگر ہم ترقی یافتہ دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور اپنی ترجیحات کو درست بنانا ہوگا.
    ہنگامی بنیادوں پر ہمارے بنیادی تعلیمی نظام میں اصلاح کرنا ضروری ہے. پہلے، ہمارے بنیادی تعلیم کے نظام میں اصلاح اور جدید کاری کے لئے ہمارے بجٹ اور توانائیاں کا ایک بہت بڑا حصہ مختص کیا جانا چاہئے. دوم، ایک موثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے جو نہ صرف اساتذہ کی کارکردگی کی نگرانی کرے بلکہ نظم و ضبط اور احتساب کا عمل بھی کر سکے.
    ایمانداری کے ساتھ اٹھائے جانے پر اس طرح کے ضروری اقدامات نہ صرف بنیادی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ہمیں اپنے پرائمری نظام تعلیم میں بہتری لانے کی بھی ترغیب دیں گے. تعلیمی ترقیاتی نظام کی طرف ایک اقدام پر غور کرتے ہوئے، پاکستان ترقی یافتہ دنیا میں مقابلہ کرسکتا ہے اور انشاء اللہ اپنا پرچم دنیا کے ہر میدان میں سب سے سر بلند کر سکتا ہے.
    *پاکستان ذندہ باد⁦!*

  • ہمارا نظام تعلیم ہمارا دشمن تحریر:  سیدہ ام حبیبہ

    ہمارا نظام تعلیم ہمارا دشمن تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم تعلیم و تعلم کی اہمیت و افادیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں.کسی بھی ملک کا نظام تعلیم اور تدریسی مواد یہ طے کرتا ہے کہ اس ملک کے باشندوں کو کیا پڑھنا ہے اور کیوں پڑھنا ہے.
    کیا پڑھنا ہے اسکو کریکولم کہتے ہیں اور کیوں پڑھنا ہے اس کی بنیاد کسی بھی ملک کی نظریاتی اساس اور جغرافیائی خدوخال دیکھ کر طے کی جا سکتی ہے.
    وطن عزیز کا کریکولم بھی ماہرین تعلیم کی جانب سے نظریاتی بنیادوں اور جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ڈیزائن کیا گیا.واضح طور پہ طے کیا جاتا ہے کس عمر کے افراد کو انکی ذہنی استعداد کے مطابق کیا پڑھایا جائے.
    مگر قربان جائیے اپنے تعلیمی نظام کے کہ کریکولم کے تحت تیار شدہ نصاب سالوں پرانا اور نئی نسل کے رحجانات سے. اس قدر غیر مسابقت رکھتا ہے کہ طلباء کی دلچسپی اور آمادگی تقریبا ناممکن ہو جاتی ہے.
    رہی سہی دشمنی ہمارے نظام امتحان نے نکال لی.
    اس امتحانی نظام نے تعلیم کو صرف نمبر حاصل کرنے کی حد تک ضروری رکھا.باقی رہے نام اللہ کا.
    کسی بھی کہانی کے نصاب میں ہونے کے مقاصد کو یکسر نظر انداز کر کے اس کہانی کے اہم حصوں اور سوالات کا رٹا لگوایا جاتا ہے.تاکہ نمبر اچھے آئیں.
    اس میں قصور بلاشبہ میرٹ سسٹم کا ہے کہ جتنے زیادہ نمبر اتنے ذیادہ اچھی نوکری کے چانس.
    اس دوڑ میں ایسی نسل پروان چڑھی ہے جسکو تعلیم و تربیت کی بجائے رٹا و نوکری کی خوراک سے پالا گیا ہے.تدریسی مقاصد کے ساتھ ہی اخلاقی تربیت تو گھاس چر ہی رہی ہے ساتھ ایک ناقابل تلافی نقصان یہ ہو رہا ہے کہ سب کے سب نوکریوں کے منتظر بیٹھے ہیں.
    نوکریاں بھی سرکاری.
    اب ایک ڈی اے ای ڈپلومہ ہولڈر
    دبئی کسی کمپنی میں گیٹ کیپر ہے تو اس میں قصور کس کا ہے؟
    اگر کوئی ماسٹرز ڈگری لے کر مستری ہے تو کس کا قصور ہے؟
    سراسر ہمارا تعلیمی نظام جس میں ہنر مند بنانے کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ووکیشنل سنٹرز بنائے گئے لیکن انکا پریشان کن حال آئندہ کسی تحریر میں بیان کروں گی.
    قارئین اکرام کیا ہمیں شعبہ تعلیم میں ہماری نسلوں کے ساتھ ہمارے ساتھ کی گئی دشمنی کا حساب نہیں لینا چاہیے ہمیں تعلیمی انقلاب کے لیے کمر بستہ نہیں ہونا چاہیے.
    ہمیں اسوقت ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جس میں طلباء کے رحجانات و صلاحیتوں کے مطابق تدریس کے ساتھ انکو ہنر سکھایا جائے.وہ حصول تعلیم کے دوران ہی حصول رزق کے قابل ہو جائیں.
    سوٹ بوٹ پہنا کر روبوٹس بنانے کی بجائے جھاڑو پوچا کھانا بنانا سلائی دھلائی جیسے سب بنیادی امور سکھائے جائیں.
    اور جتنی سائنس کی تعلیم دی جائے اسکے پریکٹیکل کو لازمی بنایا جائے نہ کہ کاپیاں بنوا کر نمبر لگوا دیے جائیں.
    ہمارا کریکولم اور نصاب غلط نہیں ہمارا امتحانی اور تدریسی نظام نادرست ہے.

    امید ہے اس تحریر سے تحریک اٹھے گی
    ہمارا نام بھی انقلابیوں میں آئے گا

    @hsbuddy18

  • گہرے سمندر، صحرائے بنجر اور خطرناک جنگل کی سیر . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    گہرے سمندر، صحرائے بنجر اور خطرناک جنگل کی سیر . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی بہت مشکل ہے تو آپ کے ٹو جتنی غلط فہمی کا شکارہیں۔ کبھی ان بیچاروں سے حال احوال پوچھیں جو ریسرچ کے رولر کوسٹرسے گزرکرآئے ہوں۔ آپ کو یقیناً کافی اشتیاق ہوگا کہ یہ سفرکیسا ہوتا ہے۔ تو کچھ سیر ہم آپ کو اس گہرے سمندر، صحرائے بنجر اورخطرناک جنگل کی کراتے ہیں۔

    اس سفر کا آغاز پڑھائی لگاتار اور مسلسل پڑھائی سے ہوتا ہے۔ یہ عمل آپ کو تین چار دن تک کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ لیپ ٹاپ کی روشنی آنکھوں میں چبھنے لگے۔ اس بےشمار پڑھائی کے بعد آپ کا ٹاپک فائنل ہوجائے تو وہاں سے آپ کی خواری کی نہ رکنے والی اننگز کو آغاز ہوجاتا ہے۔
    بیس بیس اور کبھی اس سے زائذ صفحات کے آرٹیکلز پڑھ کر اس میں سے بس ایک لائن اٹھانی ہوسوچ سکتے ہیں کتنی اذیت ہوتی ہے؟ دنیا جہاں میں اگرکسی نے ریسرچ کے نام پرلطیفہ بھی لکھا ہو، اس تک پڑھنا لازم و ملزوم ہوتا ہے کہ کہیں اسکا لطیفہ ہم دوبارہ سے نہ لکھ دیں۔ اسکے بعد جب دن رات جاگ کر لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر آپ کی آنکھیں دکھنے لگیں، آپ کی کمر آپ کو احساس دلائے کہ آپ بچپن سے سیدھے بڑھاپے اور وہ بھی شدید علیل بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں۔ تب آپ کے دل میں بس ایک دعا ہوتی ہے کہ سپروائزر آپ کے بھاری بھرکم الفاط اور لکھنے کے انداز سے متاثر ہو جائیں۔

    لیکن جب آپ امیدوں کے پُلوں پر چل کر سپروائزر کے کمرے میں جائیں اور وہ بے نیازی سے پڑھ کر تیکھے چتنوں سے دیکھ کر یہ کہہ دیں کہ
    "کہاں سے کاپی کیا ہے؟ ”
    دل پرسیدھی، الٹی، تیز، زنگ آلود ہر طرح کی چھری پھرتی ہے۔ پُل ٹوٹ کر ڈھڑام سے گر جاتے ہیں اور پھر ہم لٹکے منہ کے ساتھ لٹکتے لٹکتے واپس آ جاتے ہیں۔ اور اگر کسی کو لگے کہ یہ مبالغہ آرائی ہے تو آپ ہم بیچاروں کی سوجی، کالے دائروں سے بھری آنکھیں دیکھ سکتے ہیں۔ جن میں بس غموں کے آنسو ہیں۔

    اگلا مرحلہ پھر ڈیٹا کلیکشن کا آتا ہے۔ اور آپ ریسرچ سٹوڈنٹ سے ایک دم فریادی بن جاتے ہیں۔ موبائل میں جتنے نمبر موجود ہوتے ہیں، سب کو منتوں بھرا میسج کرنا پڑتا ہے کہ خدارا سوالنامہ حل کر دو۔ اور یہ سن کر لوگ سمجھتے ہیں جیسے انکی جائیداد میں سے حصہ مانگ لیا ہو۔ یا پھر انکا امتحان لیا جا رہا ہو۔ ساتھ سیکالوجی کا نام پڑھ کر انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ہمارے دماغ کے خیالات کو جانچا جائے گا۔ ارے نہیں بھئی! بس چند سوالوں پر ٹِک لگانے سے آپکی شخصیت کا جائزہ نہیں لے سکتے ہم۔ اور اگر فرض کریں کہ لینے کی کوشش بھی کریں تو دو تین سو لوگوں کا لیں گے؟ نہیں ہم پاگل ہیں؟ ہاں، آپ سمجھتے ہیں تو الگ بات ہے، لیکن ہیں تو نہیں نا!
    اور پاکستانی قوم ماشاء اللہ اتنی بےغرض ہے کہ آپ اگر کسی راہ چلتے شخص سے گردہ مانگ لیں تو وہ کبھی انکار نہ کرے۔ لیکن questionnaires کا سن کا یوں انکار بھاگ کر آتا ہے جیسے فِل کرنے پر جنگ چھڑ جاتی۔ پر خیر خدا کے چند ( دو اڑھائی سو) رحمدل بندے اور بندیاںسوالنامہ حل کرتے ہیں۔ کچھ آدھا چھوڑ دیتے ہیں، کچھ ایسے خوبصورت ڈیزائن بنا کر واپس کرتے ہیں جیسے آرٹ گیلری میں رکھنا ہو۔خیر اس مرحلے کو پار کرتے ہی آپ ایسے جزیرے پر قدم رکھتے ہیں جہاں کی بولی ” ون، ٹو، تھری، ون، نہیں!فور فور۔۔ ہوتی ہے۔ ” ہر جگہ سے یہی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اس آئی لینڈ کا نام ڈیٹا انٹری ہوتا ہے۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھے، کھاتے ہوئے اور سوتے ہوئے بھی ” ون، ٹو، ون، ٹو ” چل رہا ہوتا ہے۔

    آگے کے مرحلے اس سے بھی زیادہ تلخ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے لیپ ٹاپ کو آگ لگا دیں، ڈگری چھوڑ دیں۔ بار بار ڈاکومنٹ سرخ ہو کر لوٹ آتا ہے جیسے سپروائزر کے پاس چیکنگ بجائے پولیس انسپکٹر کے پاس تفسیش کے لیے گیا ہو۔ یہ سفر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ آپ چلنے سے رینگنے اور پھر رینگنے سے خود کو گھسیٹنے پر آ جاتے ہیں۔ دماغ معافیاں مانگنے لگتا ہے، جسم دہائیاں دیتا ہے۔ زندگی واپس بلاتی ہے لیکن ہم دلدل ہم پھنس چکے ہوتے ہیں۔ گھر والے بھی کرایہ مانگنا شروع کر دیتے ہیں کہ بس کھانے اور سونے آنا ہے تو کرایہ دینا شروع کر دو۔ پھر جب viva کا دن آتا ہے۔ اس دن تو آپ حال نہ پوچھیں۔ گوگل اور کتابوں کے اندر سے سارا علم نچوڑ کر اپنے اندر منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جب ہم تفتیشی کمرے میں داخل ہونے لگتے ہیں تو جو ہمارے ساتھ ہوتا ہے،آپ سن کر غمِ دانش بھول جائیں گے۔ ہم اپنے چیرمئین کو دیکھ کر معصومیت سے کہتے ہیں
    ” میرا یہ بھرم تھا، میرے پاس تم ہو۔ ”
    اور وہ آگے سے کہہ دیں
    ” میں تم لوگوں کو نہیں جانتی! ”

    مطلب کیسے؟ سر ہم وہی ہیں جو آپکی راہ میں بھٹکتے رہے ہیں۔ انہی گلیوں میں پھرے ہیں ہم! آپ کیسے بھول سکتی ہیں؟
    لیکن یہ غم دل میں لیے ہم جب اندر جاتے ہیں تو علم کا سمندر ہمارے اندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے۔ ہم سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہیں کہ مارو سوالات کے راکٹ لانچر ہم تیار ہیں۔ وہ سامنے بیٹھے ٹیچرز خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بس یہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے اس ریسرچ سے کیا سیکھا؟ وہاں تو پھر سقراط اور اقبال کے جانشینوں کی طرح جواب دینے پڑتے ہیں۔
    لیکن جب گھر آ کر اس سوال پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو ہمیں خواری لگ رہی تھی، وہ تو ہماری تراش تھی۔ ہمیں جو رگڑا لگ رہا تھا، وہ تو ہمیں سنوارا جا رہا تھا۔ ہم نے اس ریسرچ سے صبر، محنت کے علاوہ ریسرچ کرنا اور ٹھیک انداز میں کرنا سیکھا۔ ہماری چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور انکی اصلاح کی ہلکی ہلکی خراشوں نے ہمیں ہیرہ بنایا۔ چار ماہ میں جتنا غصہ آتا تھا، اب اتنا ہی فخر ہوتا ہے کہ ہمارے استاد ہمیں بیکار کوئلے سے چمکدار ہیرہ بنا دیا ہے۔ یہ سب ہمارے اپنے فائدے کے لیے تھا۔ سونے کو پگھلانے اور بہترین شکل میں ڈھالنے کے لیے تپش دینی پڑتی ہے۔ پر جو جلنے سے انکار کر دے، وہ عام دھات ہی رہتا ہے اور جو جلنے پر آمادہ ہو جائے، وہ کندن بن جانا ہے۔ ہم اپنے اساتذہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں کندن بنایا۔ کامیابی کی سند پر یقیناً ہمارا نام ہو گا لیکن سند، ہمارے اساتذہ کے نام ہو گی۔

    ( وہ جو ہم نے بل گیٹس بننے کا سنہری موقع گنوایا ہے، وہ یقیناً ہمیں مستقبلِ قریب میں واپس ملنے والا ہے )

  • تعلیم اور معاشرہ .  تحریر : فہد ملک

    تعلیم اور معاشرہ . تحریر : فہد ملک

    وہ قومیں جو تعلیم کو حقیر سمجھتی ہیں وہ ایک نا ایک دن برباد ہو جاتی ہیں، یہ مثال ہمارے معاشرے پر پوری طرح سے فکس آتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے لکھاری بھی مغربی لکھاریوں کی زبان استعمال کرتے ہیں، چونکہ ہمارے پاس سوچ کی تو کمی ضرور ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ تنقید کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے یورپی تاریخ ادب کا ماڈل ہمارے ذہنوں میں اس قدر شامل کیا جاچکا یے کہ ہم اپنی تاریخی عمل کو بھی یورپی نقطہ نظر سے سمجھنے اور دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ایک قوم کو تاریخ کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟؟

    تاریخ کی ضرورت تب ہی محسوس ہوتی ہے جب مظلوم، لاچارکمزور، بےسہارا اور استحصال شدہ لوگوں کو ان کے اپنے جائزحقوق دلائے جائے۔
    ایلن مسلو کہتا ہے ” کہ ماضی نہ تو دریافت کیا جاتا ہے اور نہ ہی چپھا ہوا پایا جاتا ہے یہ مورخ ہیں جو اس کو تخلیق کرتے ہیں”

    اب اگر ملک پاکستان کی تاریخ کا ذکر کیا جائے۔ تو اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ماضی کی تشکیل نو کی جائے یہ اس لیے نہی کہ ماضی کو شاندار بنا کر اس پر فخر کیا جاسکے، بلکہ اس لیے کہ ہماری پسماندگی اور زوال کے اسباب کو سمجھا جا سکے ۔ اور یہ بھی زیر غور کیا جائے کہ کن وجوہات کی بنیاد پر ہمارا معاشرہ منجمد ہو کر رہ گیا ہے اس وقت ہمارے مسلم اقوام میں مذہبی اور سیاسی دونوں اختلاف موجود ہیں.

    جسکی وجہ سے ذہنی ثقافتی اورسماجی ترقی نہیں ہو رہی ہے۔ اس نے معاشروں اور معاشرے کے لوگوں کو اس قدر پسماندہ کردیا ہے کہ ان موجودہ دور کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ذہنی دلائل اور عقلی استدلال نہیں لا سکتا۔ اس لیے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آخر دنیا میں ہم مسلمانوں کی ہی عزت کیوں نہیں ہے؟ تو اس کا جواب ایک ہی ملتا ہے کہ دنیا میں ان قوموں کا احترام ہوتا ہے اور ان کی عزت کی جاتی ہے جو دنیا کے تہزیب و تمدن اور تقافت میں اضافہ کرتی ہیں اور اس میں حصہ لیتی ہیں۔ جو علم کی تخلیق کرتے ہیں اور اسکو زرخیز بناتی ہیں۔

    @Malik_Fahad333