قرآن پاک میں جہاں علم کا ذکر آیا ہے وہیں قلم کا بھی آیا ہے کیونکہ علم سکھانے کا ذریعہ”قلم” ہے اسلیے قلم ہمارے لیے حرمت کا باعث ہے لیکن دکھ تب ہوتا ہے جب میں قلم کی بے حرمتی ہوتی ہوئی دیکھتی ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے
بچے اپنی پنسلز اور مارکرز کو پھینک رہے ہوتے ہیں ہمارے ہاتھ سے اگر سلیبس کی کتاب گِر جاتی تھی تو وہ ہم اٹھا کر چومتے تھے کہ یہ کتاب کی بے ادبی ہے ہم سے یہ زمین پہ گِر گئی، ہم نے اپنے استادوں کو بھی ایسے کرتے دیکھا تھا کہ اور وہ کہتے تھے کہ بیٹا اگر کتاب کی عزت کرو گے تو ہی علم آئے گا،ہمارے استاد سے پڑھانے کے دوران کتاب زمین پہ کبھی گِر جاتی تو وہ بسم اللہ پڑھ کر اٹھاتے تھے اسے چومتے تھے آنکھوں سے لگاتے تھے اور پھر استغفرُللہ پڑھتے تھے اسکے بعد دوبارہ ایک دفعہ بسم اللہ اور دور شریف پڑھ کے ہمیں پڑھانا شروع کرتے تھے اور آج کل بچے جیسے ہی بال پوائنٹ ختم ہو رہا ہے،مارکرزکی انک ختم ہو رہی ہے یا پین خراب ہو رہے ہیں تو ڈائریکٹ اسے ڈسٹ بین میں یعنی گند والی ٹوکری میں پھینک رہے ہوتے ہیں
اکثر بچے تو نشانہ فکس کرتے ہیں ڈسٹ بین کا پھر ایک ساتھ استعمال شدہ پنسلز کوڑے دان میں پھینک کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں جیسے انہوں نے بال پین ختم کرکے کوئی عظیم۔ کارنامہ سر انجام دیا ہو
ایک دن سورہ علق پڑھتے
ہوئے مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ ہم قلم کی بے حرمتی کرتے ہیں تب سے میں نے اپنی استعمال شدہ بال پین ڈسٹ بین میں نہیں ڈالتی تھی اور اپنی سہیلیوں کو بھی منع کرتی تھی تاکہ میرا نام قلم کی بے ادبی کرنے والوں میں نہ آئے
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ قلم کی بےادبی کرنے سے بچیں اور آپکے بچے بھی قلم کا ادب کریں تو اسکے لیے آپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ قلم ہمارے لیے اسلیے بھی مقدس ہے کہ ہم اس کے ذریعے علم سیکھتے ہیں
اسے اِدھر اُدھر نہ پٹخیں استعمال کرنے کے بعد آرام سے قلم کو اسکی جگہ ہر رکھ دیں
جب ہمارا بال پین یا مارکرز ختم ہوں تو انہیں ایک باکس میں اکھٹا کریں اور جب وہ بھر جائے تو جو بندہ ری سائیلنگ کےلئے چیزیں لینے آتا ہے اسے دیں یا کسی ایسی شاپ پہ دے آئیں جہاں ریسائیکلنگ کا کام ہوتا ہے۔قلم کو گند میں نہ ڈالیں اور اس کا ادب کریں
Category: تعلیم

قلم کا ادب حُسنِ قدرت

تعلیم اور شعور تحریر: فرمان اللہ
ہم ہمیشہ تعلیم یافتہ معاشرے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر شعور کو اجاگر نہ کیا جائے تو وہ تعلیم یافتہ معاشرہ بھی کبھی کامیابی کی منزلوں کو چھو نہیں سکتا۔ آجکل ہم سب اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دینے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور ہم اپنی اس کوشش اور مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن بدقسمتی کے ساتھ شعور اجاگر نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے ہم ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
شعور ہمارے اندر احساس کو جنم دیتا ہے اور احساس کے بغیر کوئی بھی انسان بہترین انسان نہیں بن سکتا، اگر ہم بہترین انسان نہیں بن پائیں تو ہماری تعلیم کس کام کی؟ کیا کریں اُس تعلیم کا اُن ڈگریوں کا؟
میں نے بہت سارے ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھا ہے جن میں احساس نام کی کوئی چیز پائی نہیں جاتی اور ایسے لوگ معاشرے کے مستقبل کے لیے سب سے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں شعور اور احساس کے حوالے سے بچوں کی تربیت نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شعور اور احساس کی شدید کمی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی بنائیں تاکہ مستقبل میں ہماری آنے والی نسل ایک بہترین معاشرہ ترتیب دے سکیں۔
Twitter Account
@ForIkPakistan
مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے تحریر: زاہد کبدانی
تعلیم کے دائرہ کار میں ، اسکولی طلباء کے لئے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے ، یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسکول کی دنیا میں داخلے سے قبل اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے دنیا کی تعلیم میں داخل ہوں تو وہ اس کی عادت ڈالیں اور وہ صرف اسے روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں طلباء کے لئے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے ، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ طلباء میں بہت سے منفی اثرات پائے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر ، ابتدائی اسکول کے بچے جنہوں نے طلباء میں اسلام کو اکسایا اور اس کے بعد اچھی سمت سگریٹ پی۔ طلباء جدید دور کے منفی اثرات سے بچیں گے۔ اسلام زندگی کا ایک طریقہ ہے ، اگر ہم میں اور ہماری زندگیوں میں کوئی مذہب نہیں ہے تو پھر زندگی بے چین ہو جائے گی ، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی ہدایت نامہ موجود نہیں ہے ، دین میں ہر چیز کا اہتمام قرآن اور احادیث میں کیا گیا ہے ، جس سے شروع ہوتا ہے۔ دل کا ارادہ ، عبادت ، سلوک ، تعلیم ، خرید و فروخت یا معیشت ، معاشرتی۔ جیسا کہ آیت نمبر 255 میں بیان کیا گیا ہے ،
سور بقرہ۔ طلباء کو اسلامی تعلیم کے فوائد میں متعدد چیزیں شامل ہیں:
پہلے ، بچوں کے روحانی معاملات میں ، اگر بچوں نے ٹی کے دی ڈپو سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے ، تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے ، مثال کے طور پر باجماعت نماز پڑھنا ، والدین یا اساتذہ سے مصافحہ کرنا ، یقینا درخواست دینے میں ، طالب علم واقعتاً ماحول سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہے ، خاندانی ماحول بنیادی چیز ہے جو والدین ہیں ، والدین کو لازمی ہے کہ وہ بچوں کو روزمرہ کی زندگی میں عمل درآمد کرنے کے لئے ہدایت کریں اور ان کی مدد کریں ، اس کے بعد طلباء کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے بعد والدین کو بھی اپنے بچوں کے تعلقات کی نگرانی کرنی ہوتی ہے ، کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کرنا ضروری ہے ، اس کی روحانی گہرائی جتنی زیادہ ہوگی وہ جدید دور میں ہونے والے نقصان سے بچ جائے گا ، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا۔
دوسرا ، سلوک یا اخلاقیات کے لحاظ سے ، اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے ، مثال کے طور پر والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار ، شائستہ ، سب کے ساتھ شائستہ ، ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مدد کرنا ، اس موقع پر ، طلباء کو آزمائے جانے کی ضرورت ہے والدین اور اساتذہ کے طرز عمل یا اخلاق سے ، اسلامی مذہب اور اچھے اخلاقی سلوک کے علم کے ساتھ ، طلباء کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ سیکولہ ایس ڈی ٹربائک دی ڈپوک طلباء کو اسلامی تعلیم مہیا کررہے ہیں اور خاندانی ماحول ، والدین ، تعلقات ، اساتذہ کی مدد سے ، جو اس کے بعد زندگی میں لاگو ہوتے ہیں ، مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کریں گے جو طلباء کو جدید معاشرے میں دوچار کرچکے ہیں۔
نوکریاں کیسے حاصل کریں . تحریر : نعمان سرور
پرانے وقتوں میں یا آج سے 20 سال قبل ایک رواج تھا کے جب بھی کوئی شخص تھوڑا بہت پڑھ لیتا تھا تو اس کی نظر سرکاری نوکری پر ہوتی تھی چونکہ ان دنوں تعلیم کم ہوتی تھی وسائل کم ہوتے تھے تو لوگوں کو پڑھ کر نوکری مل جاتی تھی یا جو لوگ سرکاری نوکری حاصل نہیں کر پاتے تھے وہ فوج میں تو چلے ہی جاتے تھے۔
دورگزرتا گیا تعلیم عام ہونے کے ساتھ کمرشل ہوگئی اور پاکستان نے گریجویٹس کے ڈھیر لگا دئیے نوکریاں کم ہونے لگیں اور بیروزگاری بڑھنے لگی لوگ پی ایچ ڈی کر کے بھی معمولی تنخواہ پر کام کرنے پرمجبور ہوگئے، پھر ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا لیکن ہماری نوجوان نسل نے اس کو سمجھنے میں دیرکی آہستہ آہستہ لوگوں کو پتہ چلتا گیا اور لوگ اس نئی ٹیکنالوجی کو اپناتے گئے اس میں ایسے کئی ہنر شامل ہوگئے جو نوجوان سیکھ کر گھر بیٹھے نوکری حاصل کرنے لگے.
نئی سکلز جو نوجوان سیکھ سکتے ہیں ان میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ یہ بذات خود ایک وسیع فیلڈ ہے اس میں کسی بھی چیز میں مہارت حاصل کر لیں، وڈیو ایڈیٹنگ سیکھ لیں، کانٹینٹ رائٹنگ سیکھ لیں، ویب سائٹ بنانا، موبائل ایپ بنانا، آرٹیفشل انٹیلیجنس، ایکسل مینیجمنٹ، کاپی رائٹنگ، بلاگنگ، یوٹیوب چینل شروع کرسکتے ہیں ایسی کوئی 25 سے زیادہ سکلز ہیں جو آپ سیکھ کر آن لائن لاکھوں کما سکتے ہیں اور سیکھنے کے لئے کئی ایسی ویب سائٹس ہیں جو آپ کو مفت سکھا دیتی ہیں یوٹیوب سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے آپ اس سے سیکھ سکتے ہیں غرض کے اتنے ہنرایسے ہیں کے جن میں بس آپ کو سیکھنے کے بعد چند گھنٹے کام کرنے کے لاکھوں ملتے ہیں بات ساری آپ کی محنت اورمخلص پن کی ہے آپ جیسے جیسے محنت کرتے جائیں گے ترقی کرتے جائیں ان میں آپ کو کسی کی منت نہیں کرنی کوئی سفارش نہیں کروانی کوئی رشوت نہیں دینی،آپ خود اپنے بزنس کے مالک ہونگے اپنی مرضی کے گھنٹوں میں کام کرسکتے ہیں، اب نوکری صرف اس شخص کے لئے نہیں ہے جو کام کرنا ہی نہیں چاہتا ورنہ اگر کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو پوری دنیا مین کام موجود ہے بس آپ کو اپنی سوچ تبدیل کرنی ہے آپ کو اپنی سوچ سرکاری نوکری سے نکال کر محنت کی طرف لے کر آنی ہے جب آپ یہ کر لیں گے تو نوکریاں آپ کا راستہ دیکھ رہی ہیں۔
آن لائن کام کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کے آپ کو وسائل کی ضرورت نہیں ہے آپ کے پاس ایک اچھا لیپ ٹاپ ہونا چاہیے اور انٹرنیٹ تو آجکل ہرکسی کے پاس ہے بس اس سے فائدہ اٹھائیں اورکام شروع کریں حکومتوں سے گلا کرنا چھوڑ دیں اپنی سی وی لے کر مقامی نمائندوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑدیں، سرکاری اداروں میں ایک نوکری پر ہزاروں درخواستیں دے کر اپنے ذہن کو ایک عجیب کیفیت میں مبتلہ کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا اللہ تعالی اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو قوم اپنے حالات خود نہ بدلنا چاہے۔
پاکستان ایک ترقی پزید ملک ہے جو قرضوں میں جکڑا ہوا ہے صرف آئی ٹی کی صنعت اورنوجوانوں کو ہنر مند بنانے سے ہم اربوں ڈالر کما سکتے ہیں، اس سلسلے میں حکومت نے نوجوانوں کے لئے مفت ہنر سکھانے کا پروگرام شروع کیا ہے جس سے لاکھوں نوجوان فائدہ حاصل کرچکے ہیں ضرورت اس بات کی ہے ملکی سطح پرایک ایسا فورم بنایا جائے جہاں نوجوان اپنے آئیڈیاز لے کر آئیں اور سرمایہ کار ان پر میں سے بہترین آئیڈیازکو سپانسر کریں ایسے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گا۔
پاکستان نے سال 2020-2021 میں تقریبا 2 ارب ڈالر تک اس صنعت سے کمائے ہیں اگر حکومتی وسائل اور نوجوان اس میں دلچسپی لینا شروع کردیں تو یہ صنعت اگلے 5 سال میں آسانی سے 10 ارب ڈالر تک جاسکتی ہے لیکن اس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا حکومت نے ایک اور بہترین کام کیا ہے کہ آئی ٹی پر کوئی بھی ٹیکس نہیں لگایا گیا اس سے اس میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ حال ہی میں پاکستان حکومت ایمازون کو پاکستان میں لانے میں کامیاب ہوگئی ہے اب اگلی باری پے پال جیسی سروس کی ہے اگر حکومت اسی طرح نوجوانوں کی مدد کرتی رہے تو وہ وقت دور نہیں جب یہ صنعت پاکستان کے قرضے اتارنے میں مدد کرے گی۔
آخر میں نوجوان نسل کو پیغام ہے ہمت کریں میدان میں آئیں اللہ تعالی مدد فرمائے گا۔
اللہ ہم سب کا حامہ و ناصر ہو : آمین@nomysahir

تعلیم کا فقدان عدنان علی
ہم اپنی آنے والی نسل کو کیسے باور کروائیں کہ علم سے ہی ہماری زندگی روشن ہوگی۔۔۔
کچھ عرصے تک میں یہی سوچ رکھتا تھا کہ علم حاصل کرنا کوئی کامیابی کی کنجی نہیں ہے لیکن پھر احساس ہوا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ کالج یونیورسٹیاں کیوں بھری ہوئی ہیں؟؟
ہر ماں باپ چاہتاہے کہ ہمارے بچے تعلیم سے آراستہ ہوں۔۔۔
ہمارے بچوں کی سوچ ہے کہ اگر ہم کالج یا یونیورسٹی نہ جائیں گے تو ہمارے گھر والے ہمیں کہی مزدوری پر ڈال دیں گے اس لیے وہ چلے تو جاتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی جوانی کو انجواے کرنے کی سوچ میں رہتے ہیں
اور تعلیم سے دوری کی بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری نسل سمجھتی ہے کہ خیر ہے کچھ نہیں ہوتا ہم کوئی نہ کوئی سفارش کروا لیں گے ۔ سفارش سے کسی نہ کسی جگہ سیٹ ہو جائیں گے
تعلیم کا مقصد ہے انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنا، ذہن و شعور میں ایک مثبت تبدیلی لانا، قومی کردار کی روح پھونکنا، انسانی اقدار کے دریچے کھولنا، تعصب اور تنگ نظری کو ختم کر کے اخلاقی قدروں کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو تہذیب و تمدن کے بلند و بالا مقام تک پہنچانا ہے۔تعلیم کے لئے خود سے جنگ کرنی پڑے گی اپنے مستقبل کو سنوارنے کے شوق پیدا کرنا پڑے گا ۔
ہمارے استاد ہوا کرتے تھے بہت ہی پیارے جو ہمیں کہا کرتے تھے کہ زندگی میں انجواے بھی کرو لیکن اپنے مقصد کو اگنور نہ کرو اگر آپ آج کچھ نہیں کریں گے تو کل کو آپکے سامنے آئے گا اور آج اکثر ان کی باتیں یاد آتی ہیں کہ وہ سنجیدہ تھے کہ ہمیں اپنے علم کی روشنی سے روشن کر دینے کو لیکن ہم تب نادان تھے جو جوانی کو زندگی کے خوبصورت ترین دن سمجھ کر ضائع کرتے رہے
تعلیم کو پوری دنیا میں وہ واحد ہتھیار سمجھا جاتا ہے جو ایک غیر مہذب معاشرے کو مہذب معاشرے میں بدل سکتا ہےلہذا خود بھی اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ باور ضرور کروائیں کہ تعلیم کا
ہماری زندگی میں کیا کردار ہے
ہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔
@_Ryder007
کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات تحریر: زاہد کبدانی
کورونا وائرس نے پاکستان کا نظام تعلیم اور امتحانات کا نظام درہم برہم کردیا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام 20،2020 مارچ کو تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے تھے ، کیونکہ کسی ملک کے نظام کی وجہ سے ، اس ملک سے سائنس دان ، ڈاکٹر اور انجینئر جتنے زیادہ آتے ہیں۔ COVID-19 کے وسیع پیمانے پر ، اور افراد کو گھر سے خود کو الگ تھلگ کرنے کی تاکید کی گئی۔ لاک ڈاؤن کا معیشت پر منفی اثر پڑا ، لیکن اس نے تمام تعلیمی سرگرمیاں بھی بند کردیں ، جس سے پوری دنیا میں طلباء کی تعلیم اورعلم میں ایک بہت بڑا فرق پڑ گیا۔ کسی بھی ملک کی ترقی سے شدید متاثر ہوئے ہیں اس کا انحصار اس کے نظام تعلیم پر ہے۔ کورونا وائرس کی بہتر تعلیم جس طلباء نے جس نے سارا سال محنت کی اور وہ طالب علم جنہوں نے اپنا وقت ضائع کیا اور اپنے والدین کا پیسہ ضائع کیا۔ دونوں قسم کے طلبہ کو فروغ دیا۔ اس مقداری مطالعے کا مقصد پاکستان میں اعلی سطح کے طلبا کی تعلیم پر COVID-19 کے اثر و رسوخ کا تعین کرنا تھا۔ انٹرمیڈیٹ ، انڈرگریجویٹ ، گریجویٹ ، اور پوسٹ گریجویٹ لیول میں داخلہ لینے والے لرن کو پانچ نکاتی لیکرٹ اسکیل سوالنامہ دیا گیا تھا۔ سروے میں کل 74 افراد نے جواب دیا۔ ایس پی ایس ایس
ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لئے 23 استعمال کیا گیا تھا۔ اعداد و شمار نے اشارہ کیا کہ طلبا کو آن لائن کلاسوں کے دوران کلیدی موضوعات کو سمجھنے میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شاگردوں کے پاس انٹرنیٹ کنیکشن کی کمی تھی اور ان کو آن لائن پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے بارے میں کوئی پیشگی ہدایت نہیں تھی۔ جب ایک ہی وقت میں آن لائن تعلیم کی بات آتی ہے تو اساتذہ اور طلبہ دونوں ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس بات کا بھی پتہ چلا کہ اساتذہ کے باوجود طلبہ کو مطلوبہ اوزار اور آراء دیتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے پہلے سمارٹ نصاب دیا اور پھر بعد میں اعلان کیا کہ صرف تین مضامین کے کاغذات ہوں گے لازمی مضامین نہیں لئے گئے ، حالانکہ پاکستان اور اسلام کے بارے میں جاننا زیادہ ضروری ہے۔ پاکستان میں باقی سب کچھ چل رہا تھا لیکن صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند کیے گئے؟ اب اساتذہ اور طلبہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سخت محنت کریں اور پچھلی تعلیم میں کسی قسم کی کوتاہیوں کا مقابلہ کریں۔@Z_Kubdani

سندھ کا تعلیمی معیار تحریر: ایمن زاھد حسین
پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے۔اور یہاں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام پر اگر نظر ڈالیں تو میں سمجھتاہوں تعلیم کو طبقاطی نظام میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ امیر حکمرانوں کے بچے ملک سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ھین اور جو غریب حکمران ہیں انکے بچے پرائوٹ ہائے فائے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رھے ہیں ۔پاکستان کے چاروں صوبوں میں تعلیمی نصاب الگ الگ ہیں اور ہر ایک صوبے میں ایک نظام تعلیم کا ہننا چاہیے تھا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ اسے ہر لحاظ سے تباہ کیا جارہا ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک اپنی قومی زبان میں تعلیم دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں اور یہاں اسکول انتظامیہ سے لیکر والدین تک اپنے بچوں کو نہ مادری زبان پر عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں اور نا ہی قومی زبان پر پڑھنے بولنے لکھنے میں عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کا معیار 1999 سے پہلے بہترین تھا۔ جہاں بچہ یا طالب علم کی تربیت اپنے والدین،خاندان،معاشرے سے لیکر اسکول استاد تک کے سامنے ہوتی تھی اور داخلہ بھی سخت امتحان کے بعد ملتا تھا لیکن اس کے بعد تو جیسے سرکاری اسکولوں پر عزاب مسلط ہو گیا۔تعلیم تباہ ہو گئی پھر اس کے بعد پرائوٹ اسکولوں کا آغاز ھوگیا۔ انگلش میڈیم کی بھرمار آگئی اور ایک کاروباری دوڑ شروع ہو گئی لیکن مقصد تعلیم بہت پیچھے رہ گیا۔اب تو یہ حال ہے کہ سرکاری اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی انگلش میڈیم میں پڑھتے ہیں بلکہ نظام تعلیم سے منسلک تمام ہی افسران کے بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی الگ الگ معیار ہیں۔بھاری فیس والے اور نارمل فیس والے اور سستی فیس والے۔معیار اساتذہ اور دیگر سہولیات ہیں۔سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے ذیادہ تر اساتذہ سیاسی بھرتیاں ہیں جس سے سرکاری تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ 2011 کے بعد سندھ میں میرٹ سے بھرتی ہونے والے اساتذہ سے تعلیم 15% بہتر ہوئی 2014 -2015 میں میرٹ پر نئے اساتذہ بھرتے ہوئے جس سے سندھ میں تعلیم انقلاب پرباہ ہوا ۔پر افسوس کی بات یہ کہ سندھ حکومت کی طرف سے طرح طرح کے قوانین بننا پر ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ میں مختلف قسم کی پریشانیاں لاحق ہورہی ہیں۔پہلے تو اسکولوں کی خستہ حالت سے والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بیجتے ۔دوسرا یہ کہ اسکولوں میں بنیادی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ پریشانیوں میں مبتلا ہیں ۔ جہاں بچے کم ہیں وہاں اساتذہ میسر نہیں اور جہاں اساتذہ ہیں وہاں بچے نہیں ۔ بہت سے ایسے گاؤں ہیں جو کئی سالوں سے بند پڑے ہیں۔ اس لیے میری سندھ حکومت سے عاجزانہ گذارش ہے کہ محکمہ تعلیم کا نظام بہتر بنانے کیلئے اوپر دیے گئے مسائل کو فوری حل کرکہ جئے بھٹو کی جگہ ” ہر گھر میں بچہ حاصل کریگا تعلیم کا نعرہ لگائیں کیونکہ تعلیم ہے تو قومیں ترقی کرتی ہیں،صرف نعرے سے کچھ نہیں ہوگا۔
@ummeAeman

ہمارا نظام تعلیم اور اس کو درپیش مسائل تحریر: جام محمد ماجد
حصول علم میں ہوتا ہے بہت جاں کا ضیاع
منزلیں یونہی سر راہ ملا نہیں کرتیںیہ امر مسلمہ ہے کہ تعلیم کا بہتر نظام کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہونے کے ساتھ ساتھ کسی قوم کے بہتر کردار کا سر چشمہ ہوتا ہے اس حقیقت کے تحت ہر ملک وقوم کے افراد بہتر نظام تعلیم کے متقاضی ہوتے ہیں اس کے علاوہ یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ تعلیم ایک متحرک عمل ہے جو زمانے کے تغیرات اور تبدیلیوں کے تحت جاری و ساری رہتا ہے ۔ ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اپنے مروجہ نظام تعلیم کے حالات کا بخوبی اندازہ ہوسکے گا کہ ہم نے اپنے نظام تعلیم سے کیا حاصل کیا اور کہاں تک کامیابی حاصل ہوئی ۔
ہمیں جب نیا اور آزاد پاکستان نصیب ہوا تو بد قسمتی سے ہمیں غلامانہ اور فرسودہ برطانوی نظام تعلیم ملا جو کہ ہماری روایات اور فلسفہ حیات سے کسی بھی طرح ہم آہنگ نہ تھا۔ اس ضمن میں پاکستان کی پہلی قومی تعلیمی کانفرنس نومبر 1948 کو کراچی میں منعقد ہوئی جس کا مقصد ہمارے نظام تعلیم میں نہ صرف بہتری لانا تھا بلکہ ایسا تعلیمی نظام مرتب کرنا تھا جو کہ اسلامی نظریہ حیات سے ہم آہنگ ہو اور جس کے تحت فرد کی شخصیت کی مکمل نشوونما کی جائے اور اسے معاشرے کا بہترین رکن بنایا جائے ۔
لیکن افسوس صد افسوس کہ آج 71 سال گزرنے کے بعد بھی ہمارا نظام تعلیم اس قابل نہیں ہو سکا۔ ہم نے وہی غلامانہ روش اختیار کیے رکھی ہے اور انگریزی کو اپنا معیار تعلیم بنا رکھا ہے جبکہ انگریزی صرف اور صرف ایک زبان ہے۔
اگر ہم اپنے نظام تعلیم کا تجزیہ کریں تو کیا ہم نے وہ عمومی مقاصد حاصل کیے جس کے تحت یہ نظام تعلیم مرتب کیا گیا تھا اور کیا تعلیم جو کہ بذات خود ایک متحرک عمل ہے کے تحت اس نظام میں تبدیلیاں کی گئیں ہیں؟ یقینا نہیں ••••
اور جہاں تک بات ہے اس نظام کو درپیش مسائل کی تو وہ مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس میں قابل ذکر منصوبہ بندی کی کمی ۔ بجٹ کی کمی ۔ غیر تسلی بخش اور غیر متحرک نصاب ۔ پست معیار تعلیم ۔ بد عنوانی ۔ غیر تربیت یافتہ اساتذہ ۔ ناقص امتحانات کا نظام ۔ نفسیاتی مسائل ۔ نا مناسب نظم ونسق ہیں ۔
میں اپنی بات کا اختتام علامہ اقبال کے اس شعر سے کرنا چاہوں گا
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
ایک سازش ہےفقط دین وثروت کےخلاف
@Majidjampti
خیبر پختونخوہ کے مثالی تعلیم سے ہم محروم . تحریر : محمد عرفات بدر
بنیادی تعلیم ہر بچے کا حق ، اور اس بنیادی حق کو فرہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے حصول تعلیم کے زریعے ہی انسان اپنی منزل تک کے راستے اسان کر دیتا ، حصول تعلیم کے زریعے دنیا نے چاند پہ قدم رکھا ، بلکہ دنیا کے مختلف ممالک جیسا کہ امریکہ اور سعودی عرب چاند پہ کلوننگ کا منصوبہ بنا رہے ہیں کلوننگ کے حوالے سے سعودی ایجوکیٹ بھی کر رہے ہیں اس جدید تعلمی دور میں خیبر پختونخوہ کا آخری ضلع، ضلع کوہستان وہ تمام تر بنیادی تعلمی سہولتوں سے محروم ہے جو کہ ایک بچہ یا شہری اپنی ریاست پہ حق رکھتا ہے ، محکمہ تعلیم کا پوچھ تاش صرف شہر تک محدود ، اس محدود اینوسٹیگشن سے گاوں میں تعاینات محترم استاتذہ حضرات برپور فایدا اٹھاتے ہیں ، گاوں کا میٹرک پاس لڑکا جس کو ریڈینگ اتی ہو ۸ سے ۱۰ ہزار تک کی تنخواہ اس تک پنچا دی جاتی ہے اور وہ ایک قسم کا خود کو ہیڈ ماسٹر سمجھتا ہے سرکاری طور پہ تائنات استاد شہر میں ایک اعدد کوٹھی میں آ بستا ہے ، خدانخواستہ تگڑی اینوسٹیگیش ٹیم آ جاے تو اس کے اگے کے سہولت کار جانے سے پہلے فون کال پہ اطلاع فرہم کر دے گے کہ صاحب ہم تشریف فرما رہے ہیں اپ اپنی جگہ حاضرہو.
سبحان اللہ، سکول کی عمارت اس کی تو بات ہی الگ ہے، عمارت کو تو ایسے کارآمد طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے کہ پوچھے ہی مت، پہلے تو سکول کی عمارت کھنڈر کا منظر پیش کرے گی ، بد قسمتی سے ایک عد کمرہ بچ بھی گیا ہو تو اس کے لون میں ، لمبے کانوں والی ایک بکری اور گاے اپنے بچھڑے کے ساتھ دھوپ تب رہی ہوگی اور اس نیک کام میں چوکیدار کا پورا پورا ہاتھ ہوگا، جوہی براے نام اینوسٹیگشن ٹیم کی کال اے گی چکیدار بھی مال معاوشی کو سایڈ کردے گا اور سکول کو صاف ستھر کر رکھے گا کیونکہ انے والے اینوسٹگیشن ٹیم میں ایک عدد ممبر ان کے اس نیک کام میں ملا ہوا نہیں ہوتا ، یہ سلسلہ کئی دہائوں سے چلا آ رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں.
بچیوں کے سکول کا تو اللہ ہی حافظ ہے.@ArafatBadr6

میراتجربہ (پارٹ ون) . تحریر : ہما عظیم
پڑھاٸی سے فراغت کے بعد تھوڑا آرام کیا۔ ذہن تھوڑا فریش ہوا تو دماغ میں نوکری کا کیڑا کلبلایا۔ پاپا جی کو آگاہ کیا پہلے تو کہا گیا کیا کمی ہے تمہیں۔ ہم نے کہا جی بی کام کروایا ہے آپ نے زبردستی۔ ورنہ ہم تو ادب سے دلچسپی رکھتے تھے۔ اب جاب کرنے دیں تاکہ دو اوردو چارجوسیکھا ہے اسے استعمال کر سکیں۔ تھوڑے شش و پیج کے بعد اور پچیس تیس نصیحتوں کے ساتھ اجازت مل گٸی۔ گویا زندگی کا پروانہ مل گیا۔
اب اگلہ مرحلہ ایک ایسی نوکری کی تلاش تھی جہاں ہم تمام نصیحتوں پرعملدرامد کے ساتھ پایہ تکمیل ہو سو اخبار چھاننے شروع کیٸے ڈگری اورکچھ شارٹ کورسز کے سرٹیفیکیٹ یعنی اپنےعمال نامے کی فاٸل لیٸے ڈرتے ڈرتے گھر سے نکلے۔
اچھا پہلا انٹرویو دینے جاٶ جو وہ احساس ہوتا ہے جو آپکا اسکول کے پہلے دن کا ہوتا ہے۔ دل اس بچے جیسا ہوجاتا ہے جسے اس کے والدین پہلے دن اسکول والوں کے حوالے کر جاتے ہیں. وہ چاروں طرف اجنبی ماحول دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اچھا جی پہلے ہم اپنے آس پاس اسکولز، آفیسز، کمپنیزمیں انٹرویو دیا۔ وہاں جو کچھ دیکھنے سننے کو ملا وہ یہ تھا۔ حجاب کے ساتھ نوکری نہیں ملے گی۔ بچوں کی نظرمیں جازب نظرہونے کے لٸیے جدید تراش خراش کے کپڑوں کےساتھ میک اپ سے مزیّن چہرہ لانا ہوگا۔ اپنا میک اوورکریں۔ یہ برقعہ ساتھ ہوگا تو کام کیسے ہوگا بی بی.
او میرے خدا
میں پریشان کہ میں نے اپنی خدمات کاغزی کام کے سلسلے میں دینی ہے یا ماڈلنگ کرنی ہے۔ غرض ہرطرح کے لوگوں کو پایا کسی کی باتوں کے ڈرسے تو کسی کی نظروں سے ڈرسے ساری پراعتمادی کبھی تو آنسوٶں میں بہہ جاتی یا غصہ کی آگ میں جل جاتی۔
اسی تگ ودو میں اپنے کوچنگ کے پروفیسرسے ملاقات ہوگٸی فرمانے لگے بیٹا نیا اسکول کھولا ہے اساتذہ کی ضرورت ہے مہربانی کرو کچھ ٹاٸم میرے اسکول کو دے دو۔تنخواہ ابھی ہزارہوگی آہستہ آہستہ بڑھا دیں گے.
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کوٸی فضول ڈیمانڈ نہیں عزت یہ ہے خود چل کرآفرآٸی اپنی عزت کو ترجیح دی نہ کہ کم تنخواہ کی فکر کی وہ تو بڑھ ہی جانی تھی پراٸیویٹ اسکول تو چلتے نہیں دوڑتے ہیں۔
سو خوشی خوشی حامی بھری اور جب تک وہاں جاب کی خوش اورپرسکون رہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ سب کو اچھے لوگوں سے ملاۓ اوربرے لوگوں سے بچاۓ۔آمین@DimpleGirl_PTi









