Baaghi TV

Category: تعلیم

  • کورونا ، حکومت اور تعلیم    تحریر :  صاحبزادہ برجیس احمد

    کورونا ، حکومت اور تعلیم تحریر : صاحبزادہ برجیس احمد

    کورونا وائرس نامی اس خطرناک جان لیوا عالمی وبا نے جہاں اقتصادی،معاشی اور سماجی مسائل پیدا کیئے ہیں وہیں اس وبا نے روزگار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے امور کو خاص طور پر تعلیمی شعبے کو زیادہ متاثر کیا ہے جو کہ ناقابل تلافی ہے
    اس وبا نے جہاں دیگر مسائل کو جنم دیا وہیں اس نے مملکت خداداد پاکستان میں شعبہ تعلیم کی خامیوں اور بےچیدہ کمزوریوں کو بھی پوری دنیا کے سامنے آشکارا کردیا
    پورے عالم کی کورونا سے بچاؤ کی روایات کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے بھی لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ کورونا سے بچاؤ میں قدرے بہتر ثابت ہوا لیکن اس لاک ڈاؤن سے طلباء وطالبات کے کیریئر career اور فیوچر future پر سنگین اثرات مرتب ہوئے کہیں پڑھائی آن لائن ہورہی تو کہیں پڑھائی کو سکول کالجوں میں طلباء کی تعداد کو نصف کرنے تک محدود رکھا گیا
    اگر بات کریں آن لائن تعلیم کی تو پاکستان میں آن لائن تعلیم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اس کی بڑی وجہ یا تو زیادہ تر لوگوں کے پاس سمارٹ فون / ڈیسک ٹاپ وغیرہ کی عدم دستیابی ہے یا پھر نیٹ ورک کے مسائل ہیں جس سےنا ہی اساتذہ اپنا لیکچر آگے پہنچاپاتے اور نہ ہی سٹوڈنٹ اس کو سن پاتے۔
    دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گھروں میں بیٹھے طلباء وطالبات دیگر شغلیات کے پاس رہ کر آن لائن تعلیم کی کلاسز میں دلچسپی نہ دینا ہے جبکہ ایک امر یہ بھی ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے یا پڑھنے والے طلباء وطالبات آن لائن تعلیم کے حصول اور استعمال سے بے خبر ہیں
    ان تمام وجوہات کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ پاکستان میں آن لائن تعلیم فلحال کیلئے سود مند نہیں ہے
    حکومت وقت کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ملک میں آن لائن کلاسز کا اجراء تو کیا لیکن اس کی خامیوں کو نہیں پرکھا جس سے یہ صورتحال بنی
    آئین پاکستان ہر شہری کو تعلیمی شعبے میں سہولیات کی ضمانت دیتا ہے اگر مختلف ناگزیر وجوہات سے تعلیمی شعبے کی بگڑی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس شعبے میں بہتری حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے

    ایک طرف کورونا کی صورتحال تو دوسری طرف خود کو مجبور کہنے والے طلباء جو کلاس روم میں بیٹھ کر پڑھنے کے بجائے سڑکوں پر نعرے بازی کررہے ہیں اور اسی کو اپنی حق کی جنگ کرار دے رہے ہیں
    اب سوال یہ بنتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
    تعلیمی نقصانات کا ذمہ دار کون ہوگا ؟
    حکومت کی ناقص پالیسیاں ؟ طلباء کی ہٹ دھرمی ؟ یا پھر کورونا وائرس ؟
    اب ایک اور صدمہ یہ ہے کہ کورونا وائرس پھر سے سر اٹھا رہا ہے ماہرین صحت کے مطابق یہ چوتھی لہر پہلی تین لہروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور ان تعلیمات معاملات میں ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی بندش کی طرف دیکھا جائے گا
    جس سے ” معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ” والی مثال ثابت ہوگی عالمی وبا کورونا وائرس نے نا صرف تعلیمی شعبے کو متاثر کیا بلکہ اس کے سنگین اثرات دفاتر ، کھیلوں کی جگہوں ، اور کاروباری مراکز پر بھی مرتب ہوئے جس سے پناہ خاندان بے روزگار ہوئے
    لیکن جو اثرات طلباء کی تعلیم پر پڑے وہ آنے والی کئی دہائیوں تک ہمارے ماتھے پر لگا نہ مٹھنے والا نشان ثابت ہوگا
    دن گزرنے کیساتھ ساتھ طلباء کی چینی اور بے سکونی کی کیفیت بڑھ رہی ہے یہاں تک کہ ان مسائل سے ڈپریشن کا شکار ہوکر کئی طلباء اپنے قیمتی جانوں کو ضائع کرچکے ہیں
    ہمیں معلوم نہیں کہ یہ معاملات کب درست سمت میں گامزن ہونگے
    بقول طلباء و والدین ” کورونا سے جو نقصان ہوا سو ہوا لیکن اب تو حکومت ان مسائل لی طرف توجہ دے ”
    اصل بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا جو نقصان تعلیم کا ہوا وہ تو ہوا لیکن اب حکومت کو خاطر خواہ پالیسی اختیار کرنی پڑے گی تاکہ ان نقصانات کا ازالہ ہوسکے
    اگر حکومت اور ماہرین تعلیم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج دیکھنے کیلئے ہم سب کو تیار رہنا پڑے گا۔

    ( )
    ( twitter.com@BarjeesAhmad )

  • علم  تحریر : عائشہ رسول

    علم تحریر : عائشہ رسول


    علم زندگی کا بہترین زاویہ ہے. جس سے انسان بنتا ہے اور انسانیت کی طرف سفر شروع کرتا ہے. علم ہو اور انسان تبدیل نہ ہو تو یہ علم نہیں علم کے ساتھ ظلم ہے.
    علم کی روشنی سے زہن اور فکر منور ہوتی ہے. جو علم زہن کو تاریک کرے وہ علم نہیں… وہ کسی کا یاد کروایا ہوا سبق ہوتا ہے.. . علم انسانی احساسات کو زندگی بخشتا اور شعور کی آبیاری کرتا ہے.جو علم انسان کو اندھے راستوں پہ لے جائے وہ خدا کا عطا کردہ علم نہیں. جو رزق حلال کھاتے ہیں وہ جانتے ہیں علم کیا ہے, عالم کیسا ہوتا ہے اور عالمیت کیا ہے جو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجالاتے ہیں وہ ان نعمتوں سے واقف ہیں.
    وہ علم سب سے بڑی نعمت ہے جس سے انسانیت کی تعمیرِنو ہوتی ہے.
    علم انسان کو زھنی بلندیوں تک لے جاتاہے مگر سن لو… وہ علم”علم” نھیں’جو زھنی پستیوں سے نکلنے نہ دے, جو خیالوں سے باندھ دے, جو بے غرض سوچ میں جکڑ دے… بلکہ علم تو وہ ہے…. جو فکرکو ھر لمحہ ایک نئی حیات بخش دے, جو روح کو سیراب کردے, جو زہن کو ضیابخش دے.
    علم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک علم والے اور علم کے مطابق عمل کرنے والے زندہ ہیں
    سب سے بڑا علم یہی ہے کہ موت یقینی ہے اور ایک دن ہمارے اعمال کا حساب ہوگا اور نامہ اعمال ہمارے
    ہاتھوں میں تھما دیے جائیں گے اور وہ "یوم حساب”ہوگا
    اور جو لوگ ہر یوم کو "یوم حساب” سمجھ کر گزارتے ہیں میں انکے علم کی قدر کرتی ہوں

    آؤ سب مل کراس علم سے دوستی, آشنائی اور شناسائی کر لیں
    ہماری دین, دنیا اور آخرت سب کے لیے یہ کامیاب ترین نسخہ ہے اور یہ وہ علم ہے جس علم سے نجات ہو گی
    اللہ ہمیں علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی توفیق عطا کرے… آمین…
    "وما علینا الا البلاغ المبین ”

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • تعیلم ترقی پذیر ملک کی ضامن ہے!! تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    تعیلم ترقی پذیر ملک کی ضامن ہے!! تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    تعلیم ہر شعبے زندگی میں ترقی پذیر ملک میں بہت بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعیلم ایک ملک کی ترقی میں ایک مثالی کردار کی طرح ادا کرتا ہے اگر کسی ملک کے عوام تعلیم یافتہ ہوں تو وہ باآسانی سے ترقی کی راہ میں گامزن ہوسکتی ہے۔

    تعلیم قومی ترقی کی محرک قوت ہے اور کیسی بھی ملک کی معیشت تعلیم پر بہت مضبوطی سے منحصر ہے اور یہ دونوں ایک ملک کی ترقی میں بہت بڑا کردار ادا کررہے ہیں۔. تعلیم کے ذریعہ قومیں تعمیر کی جاتی ہیں معیشت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ، اگر کسی ملک کے عوام تعلیم یافتہ ہوں تو وہ آسانی سے قومی معیشت کو ترقی دے سکتے ہیں کیونکہ تب وہ معاشی اصولوں اور قواعد کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں اور اگر وہ تعلیم یافتہ ہیں تو ان کے بارے میں آسانی سے سوچ سکتے ہیں۔.

    تعلیم لوگوں کو وہ مہارت فراہم کرتی ہے جن کی انہیں غربت سے نکالنے یا دوسرے لفظوں میں خوشحالی میں مدد کرنے کی ضرورت ہے۔. اگر کسی نے تعلیم حاصل کی ہے تو وہ بہتر ملازمت کے قابل ہے تو پھر مزدوری کا کام۔. وہ سرکاری ملازمت یا کوئی اور نجی کام کرنے کا اہل ہے اور وہ اپنی صلاحیتیں دکھا سکتا ہے جو کسی ملک کی ترقی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔. ایک تعلیم یافتہ اور ان پڑھ شخص کے مابین بہت فرق ہے ، ایک ان پڑھ اپنے خیالات اور صلاحیتوں کو کسی تعلیم یافتہ شخص سے بہتر نہیں دکھا سکتا۔. وہ ہمیشہ تعلیم یافتہ سے آگے ہوتا ہے۔. لہذا یہ وہ تعلیم ہے جو کسی شخص کو غربت سے خوشحالی کی طرف لے جاسکتی ہے۔.

    وہ ممالک جو تعلیم کی اہمیت کو جانتے ہیں ، لہذا وہ پہلے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔. نیز کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جن میں تمام طلبا یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔. لہذا وہ کسی ایسے شخص کو اسکالرشپ دیتے ہیں جو باصلاحیت ہے اور انہوں نے بلا معاوضہ تعلیم حاصل کی۔. وہ ممالک پہلے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو تعلیم سے زیادہ کسی ملک کی ترقی میں مدد فراہم کرے۔.

    لہذا تعلیم ایک ملک میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔. وہ زندگی کے ہر شعبے میں مدد کرتے ہیں۔. اس کے بعد ہمارے کنٹرول میں ہے کہ ہم اس چیز کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اس کے بعد یہ ہمیں ہر چیز کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔. ہم ان کو مثبت یا منفی استعمال کرسکتے ہیں۔. اگر ہم کسی ملک کی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے مثبت استعمال کرنا چاہئے۔.

    تعلیم ہمیں یہ چاہتی ہے کہ ملک میں کیا اور کیسے اور کتنی ایک چیز تیار ہوتی ہے۔. یہ اس چیز کے بارے میں تمام فوائد اور نقصانات کو ظاہر کرتا ہے۔. تعلیم ہمیں پہلے ایک چیز سکھانے میں مدد کرتی ہے اور پھر ہم اسے کسی ملک کی ترقی میں استعمال کرسکتے ہیں۔.

    لہذا تعلیم ایک ملک کی ترقی میں بہت بڑا اور بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔. اس کی وجہ سے ڈائیجینس کیریٹیوس کا کہنا ہے کہ "ہر ریاست کی بنیاد اس کے نوجوانوں کی تعلیم ہے”۔.

    ‎@JahantabSiddiqi

  • مزدور کی زندگی . تحریر : ام کاشف حسین

    مزدور کی زندگی . تحریر : ام کاشف حسین

    السلام علیکم دوستوں میرا نام کاشف حسین ہے میں ایک کسان کا بیٹا ہوں اور سرکاری ملازم ہوں ۔میری بہت خواہش تھی کہ مزدور کی زندگی پر لکھوں اور میرے الفاظ میں اتنی جان ہو کہ اسے دنیا پڑھے اور ہماری گورنمنٹ مزدور کو سہولیات دینے کے بارے میں غور کرے۔۔کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میرا کسی جگہ سے گزر ہوا جہاں ایک نوجوان جس کا ایک پاؤں مکمل مڑا ہوا ہے مزدوری کر رہا اور ہاتھ والی ریڑھی کے زریعے اینٹیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جارہا میں دیکھ کہ بہت پریشان ہوا کہ اس حالت میں یہ انسان مزدوری کر رہا اور سندھ کی گرمی میں پسینے سے شرابور ہوا پڑا۔خیر مجھ سے رہا نہ گیا اور اس بھائ سے پوچھنے لگا کہ بھائ آپکا پاؤں تو مکمل مڑا ہوا اور آپ اس حالت میں مزدوری کیسے کر لیتے آپکا پاؤں درد نہیں کرتا تو کہنے لگا نہیں درد کرتا تو پھر میں نے سوچا کہ اللہ پاک نے ان کو صلاحیت دے رکھی جو انسان کوشش کرتا محنت کر کے کمانے کی تو اللہ اسے ہمت عطا کر ہی دیتا۔پھر پوچھا بھائ آپکی دن کی مزدوری کتنی تو کہنے لگا چار سو روپے تو دل بہت دکھا یہ سن کے کہ کس قدر مشکل حالات میں مزدوری کر کے بھی یہ دن کے چار سو روپے کماتا۔اور ان چار سو روپے سے وہ اپنی بیوی بچوں کا پیٹ کیسے پالتا ہوگا۔کیسے اپنے بچوں کے لیے خوشیوں کا سامان خریدتا ہوگا۔جب کبھی گھر خالی ہاتھ جاتا ہوگا تو اپنے بیوی بچوں سے نظریں کیسے ملاتا ہوگا۔پھر سوچتا ہوں کہ اس کا اتنا ہی قصور تھا کہ یہ ان پڑھ رہا اور پھر جوان ہونے کے بعد اپنی زندگی گزارنے کے لیے اسے مزدوری کرنا پڑی ۔لیکن مزدوری کرتا تو کیا ہوا آخر کام تو اپنے ملک کے لیے کرتا۔جس طرح ایک پڑھے لکھے انسان کو نوکری ملتی جس میں لاکھ روپے تک تنخواہ ہوتی آفس میں اے سی لگے ہوتے دفتر ٹائم کے بعد گھر اجاتا اور ایک مزدور سارا دن پسینے میں شرابور ہو کر کام کرتا تو اور اسے دیہاڑ صرف چار سو روپے ملتی آخر کسی نے تو مزدور بننا تھا پھر یہ سزہ کم تھی کہ وہ ان پڑھ رہا اور مزدور بن گیا ۔کیا مزدور کی دیہاڑ اس پڑھے لکھے انسان کے برابر نہیں ہونی چاہیے جو آفس میں بیٹھ کر کام کرتا۔اچھا چلو مان لیتے کہ۔ اتنی نہیں ہونی چاہیے تو کیا اتنا فرق ہونا چاہیے ۔میری اس کالم کے زریعے گورنمنٹ آف پاکستان سے درخواست ہے کہ مزدور بہت قیمتی ہیں اس لیے مزدور کی دیہاڑ میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوا سکے اگر ایسا نہ ہوا تو کل مزدور کا بچہ مزدور ہی بنے گا۔شکریہ

    @kashu_uu

  • پاکستان کا تعلیمی معیار. تحریر: نعمان خان

    پاکستان کا تعلیمی معیار. تحریر: نعمان خان

    پاکستان کا تعلیمی معیار۔پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے۔جہاں ہونا تو ایک نظام تعلیم تھا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ اسے تباہ کیا گیا ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک اپنی قومی زبان میں تعلیم دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ۔سرکاری اسکولوں کا معیار 1988 سے پہلے بہترین تھا۔داخلہ بھی سخت امتحان کے بعد ملتا تھا لیکن اس کے بعد تو جیسے سرکاری اسکولوں پر عزاب مسلط ہو گیا۔تعلیم تباہ ہو گئی پھر اس کے بعد انگلش میڈیم کی بھرمار آگئی اور ایک کاروباری دوڑ شروع ہو گئی لیکن مقصد تعلیم بہت پیچھے رہ گیا۔اب تو یہ حال ہے کہ سرکاری اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی انگلش میڈیم میں پڑھتے ہیں بلکہ نظام تعلیم سے منسلک تمام ہی افسران کے بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی الگ الگ معیار ہیں۔بھاری فیس والے اور نارمل فیس والے اور سستی فیس والے۔معیار اساتذہ اور دیگر سہولیات ہیں۔سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے ذیادہ تر اساتذہ سیاسی بھرتیاں ہیں جس سے سرکاری تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔موجودہ حکومت کا منشور تھا ایک نظام تعلیم لیکن فلحال ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔33 سالہ بگاڑ ب ہرحال تین سال میں بہتر ممکن نہیں لیکن امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنا یہ وعدہ آئندہ نسل کی بہتری کے لئے ضرور پورا کریں گے انشاللہ ٹائٹل: پاکستان کا تعلیمی معیار Noman Khan @dtnoorkhan

  • تعلیمی نصاب . تحریر : ذیشان وحید بھٹی

    تعلیمی نصاب . تحریر : ذیشان وحید بھٹی

    یوں تو غلام اقوام معاشرے کی مختلف سطحوں پر ہونے والے استحصال کے نتیجے میں اندر ہی اندر بتدریج آزادی کے مختلف اسباق آپوں آپ پڑھتے رہتے ہیں اور جب آزادی کی جنگ چھڑتی ہے تو اس میں بنیادی اور مرکزی کردار بھی معاشرے کی وہی پرتیں ادا کرتی ہیں جو سب سے زیادہ دبی ہوئ اور کچلی ہوتی ہیں لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں قومی اور عوامی آزادی کی تحریکوں میں یہاں کے طالبہ نے جو کردار ادا کیا ہے وہ کم اہمیت کا حامل نہیں ہے کیوں کہ یہ طالبہ ہی ہے جو اپنی ذاتی،گروہی یا طبقاتی مفادات محدود ہونے کی وجہ سے اس طرح کی تحریکوں میں آگے آگے رہتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر ان کو والدین اور سماجی "مصلحین "کی طرف سے مختلف اقسام کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کے یہ پڑھنے سے زیادہ سیاست کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ کہ ماں باپ کا پیسہ ضائع کرتے ہیں اور یہ کہ ملکی حالات بھی خراب کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن لیکچر باز اکثر اس تلخ اور دراصل توئین آمیز حقیقت کو نظر انداز کر جاتے ہیں کہ” جسے وہ پڑھائی کہتے ہیں وہ دراصل بچوں کے عقل اور شعور کو سلانے اور ان کو گرد و پیش سے بیگانہ ہو کر اداب غلامی رٹا لگانے کا نام ہے” ہمارے ہاں یعنی تیسری دنیا میں جو دراصل مغربی سرمایہ دار سامراج کی جدید نوآبادیاتی غلامی کے شکنجے میں ہے

    (سامراج کا نیا روپ جس میں ملکوں کی دولت معاشی اور اقتصادی ہتھکنڈوں سے فوجی قبضے کے بغیر لوٹی جاتی ہے )یہاں تعلیم کم ہی اردگرد کے ٹھوس مطالعے کی بنیاد پر ہوتی ہے تمام مضامین گردو پیش سے بیگانہ کرنے کی حوصلہ افزائی اور اس طرح رہنمائی کرتے ہیں ۔ان مضامین کا مواد اکثر بوسیدہ اور متعلقہ مضمون کی عینک سے اس میدان میں اس معاشرے کے اپنے مسائل اور مشکلات اور ترقی کے امکانات پر غور کرنے کی ترغیب دینے کے بجائے مغرب پر انحصار کے رجحان کو تقویت پہنچاتا ہے۔یہ نئی یہ ایک اور طرح کی غلامی ہے جس میں دراصل پاکستان کا ملکی ڈھانچہ بھی جھکڑا ہوا ہے کشمیریوں کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اس کے علاوہ پاکستان کے غلام حکمرانوں کی غلامی میں بھی جھکڑے ہوئے ہیں جس کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ
    "کشمیری عوام غلاموں کے غلاموں کے غلام ہیں ”

    @zeeshanwaheed4

  • امید کی کرن:  تحریر.عمرخان

    امید کی کرن: تحریر.عمرخان

    آگ تو ناجانے کب کی بُجھ گئی تھی۔ اب صرف راکھ بچی تھی اور میں اپنی سوچوں میں ڈوبا خواہشوں اور امیدوں کی تکمیل کا سوچتے اُس راکھ کو گورے جا رہا تھاجو دھیرے دھیرے یخ ٹھنڈی ہوئے جا رہی تھی۔
    میری سوچیں میرے دماغ پہ حاوی ہوئے جا رہی تھیں،
    آخر یہ اُمیدوں اور خواہشوں کی تکمیل کیونکر ممکن نہیں؟ کیونکر وقت کہ ساتھ ہر اُمید ختم ہوئے جاتی ہے؟ کیونکر میں خواہشوں کو تکمیل نہیں دے پا رہا؟لگتا تھا کہ اب کامیابی ممکن ہی نہیں۔ اب تو ناکامی مقدر ہے۔ لیکن یہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ راکھ جو میری آنکھوں کے سامنے بلکل بُھج چکی تھی‚ اس میں ایک ہلکی سی روشنی منور ہوئے جاتی ہے۔ یہ روشنی !!یہ روشنی کیسی ہے؟ ایک عجیب کشمکش میں مبتلا میں ایک اور سوچ سوچنے ہر مجبور ہوا کہ جیسے اس بُجھی ہوئی راکھ میں سے اس چھوٹی سی چنگاری نے اُمید نہ کھوتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس مجھے دلایا تو میں انسان ہو کر نہ اُمید کیسے ہو سکتا ہوں ؟
    تب سمجھ آیا کہ انسان زندگی کہ کتنے ہی اندھیروں کا شکار کیوں نہ ہو ایک جگنو اُمید کا اسکے ہمدم ہوتا ہے جو ہر وقت اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اندھیرا زیادہ دیر نہیں ہے خواہ وہ جگنو چھوٹا ہی ہوتا ہے لیکن اس سے جڑی امیدیں بہت بڑی ہوتی ہیں.
    انسان زندگی میں کتنا ہی بے سکون اورنہ اُمید کیوں نہ ہو اسکی زندگی مکمل امیدوں اور کاوشوں ہر انحصار کرتی ہے.
    امیدیں ایک ایسی ڈور ہیں جو انسان کو زندگی کی روشنیوں سے باندھے رکھتی ہیں. زندگی کی خوبصورتی انہی چھوٹی اور بڑی امیدوں کی تکمیل پر ہے. جب زندگی میں اُمید کی کوئی کرن جاگتی ہے تو اسے پورا کرنا جوش اور ولولہ انسان کو اس کے خالق کے قریب کر دیتا ہے بس عقل انسانی اپنی امیدوں کو پہچاننے سے قاصر ہے.
    اس بُجھی راکھ میں ایک چھوٹی سی چنگاری نے آگ مکمل نہ بُجھنے کا احساس دلا کر مجھے اس قابل بنایا کہ اپنی خواہشوں کی تکمیل کےلئیے اپنی اُمید کی کرن کو کبھی مرنے نہیں دینا اور یہی زندگی کی بھاگ دوڑ ہے۔

    ‎@U4_Umer_

  • تحریر: محمداسعد لعل نصاب واحد کی ضرورت

    تحریر: محمداسعد لعل نصاب واحد کی ضرورت

    نصاب کے لغوی معنی راستہ ، رن وے ، گھوڑ دوڑ کے مقابلے کا راستہ ہے ۔جہان تک تعلیمی نصاب کا تعلق ہے اس کے مطابق ایسا نصاب جس کے تحت محتلف مدارج کے طلبہ اپنی تعلیمی صلاحیت کے مطابق مجوزہ راستے کو اپنا سکیں ۔
    نصاب کی ضرورت پیش کیوں آتی ہے ؟ نصاب کو کیساہونا چاہیے ؟ اور اس سے بڑھ کر کسی قوم کےلیے یکساں اور واحد نصاب کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے ۔ ان تمام سوالات کےجواب ہمیں مختلف نصاب سازوں کی تحریروں اور نصاب ساز اداروں کی دستاویز سے مل جاتے ہیں ۔ سب سے پہلےان دستاویز سے ہمیں نصاب سازی کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔ایک بہتر اور جدید نصاب کی بدولت ہمارا معاشرہ فلاح اور کامیابی کی طرف ایک قوم کی صورت میں بڑھ سکتاہے۔
    دوسرا سوال جو ہمارے ذہن میں پیدا ہوتا ہےکہ نصاب کو کیساہونا چاہیے ؟ اس کے لیےماہرین تعلیم کی ہر دورمیں خواہش رہی ہے کہ نصاب کوجدید سے جدید بنایا جائے تاکہ ہماراطالب علم جدیددنیا کی بدلتی ہوئی ضروریات کوپورا کر تے ہوئےجدید عالمی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکے۔جدید نصاب سازی کے دوران معلم، متعلم ،تعلیم کےعالمی سطح پر مثبت اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئےطلبا کے فطری میلان کا بھی خاص خیال رکھا جائے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا بہتر ین نصاب مرتب کیا جائے جس کی بدولت ہماری آنے والی نسلوں کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی ممکن ہو سکے۔
    اس بحث میں تیسرا سوال یہ کہکسی قوم کےلیے یکساں اور واحد نصاب کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے ۔ اگر ہم پاکستان کے نظام تعلیم کا جائزہ لین تو یہاں بھانت بھانت کی بولی بولی جاتی ہے ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنائے ہوئی ہے گویا پاکستان میں تعلیمی نظاموں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے یہ وجہ ہے کہ موجودہ خومت نے اس قوم کو اس گورکھ دھندے سے نکالنے کے لیے ایک قوم ایک نصاب کا نعرہ لگایا ہے اور اس کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے قومی نصاب کونسل کے زیر اہتمام مختلف تعلیمی نظاموں کے اکابرین کی کئی بیٹھکیں بلائیں گئیں جس میں مغربی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے مذہبی مدارس نے بھی بھر پور حصہ لیا اور اپنی اپنی سفارشات پیش کیں ۔ان سفارشات کو ایک قومی شکل دے کر پرائمری سطح تک کایکساں نصاب مرتب کیا گیا اور پھر اس بنیاد پر پرائمری سطح تک کی کتابیں چھاپی گئیں جوکہ موجودہ تعلیمی سال میں پڑھائی جارہی ہیں۔یکساں تعلیمی نصاب کی بدولت طبقائی نظام کا خاتمہ ہوگاجس سےطلبہ کی یکساں ذہنیت اور قومی سوچ ہونے کی وجہ سے برتری کا احساس ہوگا۔ اب مدارس کے طلبہ بھی اپنی تدریس کو یکساں اور جدیدنصاب کے تحت عصر حا ضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر قومی ترقی میں متحرک کردار ادا کر سکیں گے۔
    جبکہ دوسری طرف وہ ادارے جوغیر ملکی تعلیمی اداروں سے الحاق شدہ ہیں ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی ذہن سازی اس انداز میں کی جاتی تھی کہ آپ صرف حکمرانی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ۔ جبکہ موجودہ نصاب ِواحد کے ذریعے اس طبقاتی تفریق کا کسی حد تک خاتمہ ہوگا ۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماراقومی نصاب ایسا ہو جس سے پیدا کندگان کی تعداد میں اضافہ اور صارفین کی تعداد میں کمی آئے۔ ہماری افرادی قوت روایتی تعلیم حاصل کرنے کی بجائے جدید تکنیکی تعلیم حاصل کرے۔تاکہ یہ ہنر مند افرادی قوت ہماری ملکی ضرورت کو پورا کرنےکے ساتھ ساتھ سمندر پار باعزت روزگار حاصل کر کے ملکی زرِ مبادلہ میں اضافے کا سبب بن سکیں۔
    امید ہےہمارا یکساں تعلیمی نصاب قومی ضروریات اور کردار سازی میں بھر پور کردار ادا کرے گا۔شرط یہ ہے کہ نصاب سازی قومی اْمنگوں کے مطابق ہو۔
    @iamAsadLal

  • تعلیمی ادارے یا فحاشی کے اڈے ،تحریر: فروا نزیر

    تعلیمی ادارے یا فحاشی کے اڈے ،تحریر: فروا نزیر

    Twitter id: @InvisibleFari_

    بظاہر ہم ایک اسلامی ریاستِ مدینہ میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں اس ملک کو حاصل کرنے کا مقصد یہی تھا کہ ہم اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزاریں
    کیا ہم واقعی اسلامک تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار رہے ہیں…؟؟
    چلئیں ایک مثال سے واضح کرتے ہیں اس بات کو..
    گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے تہلکہ مچادیا جس میں ایک تعلیمی ادارے میں کچھ نازیبا گانے لگا کر لڑکیاں ناچ گانا کرتی دکھائی گئیں…
    اوّل تو اسے ایک فیسٹیول کا نام دیا گیا جس می یہ سب بہت عام ہے لیکن میرے نزدیک وہ فیسٹیول کم اور ناچ گانا زیادہ لگ رہا تھا
    دوسرا یہ کہ اگر ایک تعلیمی ادارے کی یہ سرگرمیاں اسطرح کی ہوں گی تو ہمارا معاشرہ اس سے کیا سیکھے گا..؟
    اس طرح کی تقریبات منعقد کرنے سے ہماری نوجوان نسل کیا سیکھے گی؟ اپنی اولاد کو کیا سکھائے گے؟ کیسے اچھی تربیت کریں گے..؟؟

    کہتے ہیں ایک پڑھی لکھی عورت پورا گھر سنوار سکتی ہے لیکن اگر یہی عورت تنگ لباس زیب تن کر کے یونیورسٹی میں جائے گی
    تمام لڑکوں کے سامنے اپنے جسم کی نمائش کریں گی تو کیا ہمارا معاشرہ اسلامی کہلائے گا..؟؟
    خاص طور پر ایک تعلیمی ادارے میں اس طرح کی فحاش قسم کی چیزیں بند کرنی چاہیے
    تعلیم حاصل کرنے کیلیے دوسری غیر نصانی سرگرمیاں بہت ضروری ہیں مگر یہ ناچ گانا ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ یہ ہمیں تباہی کی طرف گامزن کر رہا ہے…
    اس تمام واقع کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی اور پھر ٹویٹر پر کچھ ٹرینڈز کیے گئے اور اس معاملے کو دبا دیا گیا. کسی نیوز چینل نے اس پر کوئی کالم کوئی خبر میڈیا پر لانے کی کوشش نہیں کی..
    میرا مقصد کسی تعلیمی ادارے کا نام ظاہر کر کے اسکی ساخت کو خراب کرنا نہیں یے بلکہ مجھے اپنے ملک کے جوان نسل کے زوال کا اندیشہ ہے..

    مجھے ڈر ہے جو خواب ہمارے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے دیکھا، نوجوانوں کو شاہین کے نام سے پکارا گیا کہیں یہ سب خاک میں نہ مل جائے.
    ان تمام چیزوں کو بیان کرنے کاصرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے پاکستان کی جوان نسل کی اچھی تربیت کی جاأے
    ہماری تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری نسلیں تباہ اسی وقت ہوئی جب وہ غفلت میں پڑ گیئں..

    میں گورنمنٹ آف پاکستان سے اس پینل کے زریعے گزارش کرتی ہو کہ پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے.
    ہمارے وزیر تعلیم کو خاص طور پر سلیبس میں رد وبدل کے علاوہ ان چیزوں پر خاص طور پر دھیان دینا ہو گا

    اللہ پاک ہم سبکو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین ثمہ آمین

  • تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم. ملک منیب محمود

    تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم. ملک منیب محمود

    علم کی اہمیّت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے آج کے اس عہد میں تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنا کے زندگی کے لیے سانس کی آمدورفت۔ ایک بچہ کے لئے ماں کی گود سب سے پہلا مدرسہ ہوتا ہے ایک نومولود جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ بالکل معصوم اور فرشتے کی طرح گناہوں سے پاک ہوتا ہے تمام دنیاوی امور اور مسائل سے آزاد ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنی طفلانہ زندگی کا آغاز کرتا ہے ہر شے لا شعوری طور پر اس کے سامنے آئی ہے بچہ جب اپنی ماں کی گود سے اترتا ہے تو وہ اپنے گھر کی زمین پر قدم رکھتا ہے گویا اسے یہی احساس ہو جاتا ہے کہ اس کے اطراف کا ماحول کیا ہے کہ اپنے اطراف کے ماحول سے مانوس ہوتا چلا جاتا ہے اور ان چیزوں کو قبول کرتا ہے جو اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہیں۔

    سماجی نقطہ نظر سے ایک بچے کا سماج اس کا گھر ہوتا ہے اور بچہ اپنے اس ماحول کے تمام طور طریقوں سے مطابقت کرنا سیکھتا ہے یا والدین اسے سکھاتے ہیں اس میں مرکزی کردار ماں کا ہوتا ہے اس لئے کہ باپ تو تلاش معاش میں گھر سے باہر ہوتا ہے اگر ماں تعلیم یافتہ ہے تو سب سے پہلے بچے کو لکھنا پڑھنا سیکھاتی ہے لیکن ماں اگر ان پڑھ ہے تو وہ اس کی چنداں فکر نہیں کرتی لہذا بچہ اس سے آزاد اور کھیل کود میں مگن رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو اس میں وہ دلچسپی یار محبت مفقود ہوتی ہے جو تعلیم یافتہ ماحول سے آنے والے بچوں میں ہوتی ہے ۔

    ماں کی گود کے بعد اور اسکول میں داخلے سے پہلے ایک بچے کا جو مکتب ثانی ہوتا ہے وہ اس کا گھر اور آس پاس کا ماحول ہوتا ہے
    گھر کے باہر کا ماحول بھی بچے کو اتنا ہی متاثر کرتا ہے جتنا کے اندر کا عموما بچے گھر کے باہر نازیبا کلمات اور گالی گلوچ سیکھتے ہیں اور اس کا ردعمل کم یا زیادہ گرمیں بھی نظر آتا ہے بہن بھائی کی لڑائی میں ان کی زبان سے کلمات نہ چاہتے ہوئے بھی ادا ہوتے ہیں یہ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ بیرونی ماحول سے اپنے ہم عمر بچوں سے سننے والی باتیں وہ جلدی قبول کرتے ہیں مشترکہ خاندانوں میں بچے زیادہ نفساتی اور حساس ہوتے ہیں مشترکہ خاندانوں میں افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب توتو میں میں عام بات ہوتی ہے اور دو افراد کے بیچ ردعمل کو جب دیکھتے ہیں تو اس کا اثر قبول کر لیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اکثر بچے اپنے گھر کے باہر لڑائی جھگڑے میں پیش پیش رہتے ہیں اگر مشترکہ خاندانوں میں بچوں کے سامنے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائے تو بچے اسی رو میں بہنا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں آگے چل کر خاندان کے دوسرے افراد متاثر ہو سکتے ہیں تجربات اور مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ بچوں کا ذہن و دماغ ایک کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے بچپن میں جو باتیں یا عادتیں انہیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ان کے دماغ میں ثبت ہو جاتی ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ ان میں پختہ بھی ہو جاتی ہیں

    ہمیں اپنے معاشرے کو صحت مند بنانے کے لیے اس قول کو اہمیت دے کر ایک بچے کو آنے والے کل کا ایک بہترین انسان بنانا ہوگا تاکہ وہ ایک اچھا اور سمجھدار انسان بن سکے جس طرح ایک سمجھدار انسان ایک چھوٹے سے بچے سے بہت ساری باتیں سیکھتا ہے بعینہ ایک بچہ بھی اپنے بڑے بزرگوں سے بہت ساری نہیں بلکہ تمام باتیں سیکھتا اور قبول کرتا ہے
    بچے فطرتا نقال ہوتے ہیں اس لئے گھر کے افراد کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو بھی حرکات و سکنات ان سے سرزد ہوں گی بچہ اسے فورا قبول کرلے گا اس لئے بچوں کے سامنے لغویات اور فضولیات سے پرہیز کرنا والدین اور دیگر بڑوں کی اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم ان بچوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ان ایک صالح صاف ستھرے ماحول کی تشکیل کے لیے فضا سازگار کرتے ہیں

    بچے مستقبل کا سرمایہ ہیں اس لئے یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ ان کی پرورش کیلئے گھر کا ماحول خوشگوار اور صحت مند رکھیں کیوں کہ ایک بچہ اپنے گھر میں والدین کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد کے ساتھ بھی وقت گزرتا ہے ایک نیک اور سوال بچہ جب گھر کے باہر قدم رکھتا ہے تو سماج میں مختلف لوگوں سے اس کا واسطہ پڑتا ہے متعلقہ افراد بچے کی عادات و اطوار اور کردار و گفتار سے اندازہ کر لیتے ہیں کہ اس بچے کے گھر کا ماحول کس طرح کا ہے

    ماحول دینی ہو تو اس کا اثر بچے کے ذہن کو متاثر ضرور کرتا ہے ورنہ عموما نئی نسل اپنے مذہب اور دین سے کوسوں دور نظر آتی ہے اس کمی کے لئے بھی والے اور گھر کے افراد کی ذمہ دار ٹھہراۓ جائیں گے بچے قدرتی طور پر معصوم ہوتے ہیں اور ان کی اس معصومیت میں آنے والے کل کا مستقبل پوشیدہ ہوتا ہے بالخصوص ایک ماں کی گود میں بچے کی تقدیر بدلتی ہے جو کہ اس مصرعے کی عماز ہے
    تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم

    Written by” Malik Muneeb Mehmood”
    ملک منیب محمود