باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان( نامہ نگار) ایف اے، ایف ایس سی رزلٹ‘ طلباء کنٹرولرڈیرہ تعلیمی بورڈ ظفراللہ خان کی پالیسیوں پران کے خلاف ہو گئے،طلباء کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف احتجاج،اس موقع پرایف اے / ایف ایس سی رزلٹ کے خلاف طلباء نے حق نواز پارک میں احتجاج کیا، طلباء نے احتجاجی نعروں پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، طلباء نے ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفر اللہ خان مروت کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق ایف اے،ایف ایس سی کے طلباء نے ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولرظفراللہ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی سلسلہ شروع کررکھاہے۔ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے طلباء کاکہناتھا کہ ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان نااہل ہیں جس کی پالیسیوں کی وجہ سے طلباء کامستقبل داؤپر لگ گیاہے۔انہوں نے کہاکہ ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان کافوری تبادلہ کیاجائے۔ اگر ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان کاتبادلہ نہ کیاگیاتو تمام سکولوں اوریونیورسٹیز کو بندکردیاجائے گا۔ اگرحکومت نے ہمارے مطالبات پورے نہ کیے تو احتجاج کا سلسلہ صوبے کے دوسرے شہروں تک وسیع کردیاجائے گا اورتمام سکولوں،کالجوں اور یونیوسٹیزکوبندکردیاجائے گا۔مظاہرے میں شریک طلباء نے کہاکہ کنٹرولرڈیرہ تعلیمی بورڈ ظفر اللہ تعلیمی بورڈ طلباء کے خلاف سازش کر رہے ہیں اوران کی سازش کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
Category: تعلیم

ٹھٹھہ: گھارو میں بھی اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر ہائیر سیکنڈری سکول میں تقریب منعقد کی گئی
باغی ٹی وی : ٹھٹھہ ( راجہ قریشی نامہ نگار) گھارو میں بھی اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر ہائیر سیکنڈری سکول میں تقریب منعقد کی گئی
تفصیلات کے مطابق ٹھٹہ ضلع کے شہر گھارو میں پانچ اکتوبر 2022ء کو دنیا بھر کی طرح اساتذہ کا عالمی دن کے طور پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے آرگنائزر سندھ کے تعلیمی رضا کار محمد علی خٹک سندھی تھے جبکہ ان کی رضا کار ٹیم کے ساتھی، محمد حنیف ہولانی ملاح، حماد اشرف راجپوت، سید ذوالفقار علی شاہ سمیع اللہ بابڑو، رشید جانوری ؤ دیگر نے بھی پروگرام کی آرگنآئزنگ میں اپنا کردار ادا کیا اس موقعہ پر مہمان خصوصی جناب خدا بخش بہرانی ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر چائلڈ پروٹیکشن انچارج گورنمنٹ دیگر مہمانانِ میں سندھ پیس ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے بانی جناب عبدالغفور ھیجب جاکھرو ساحل ویلفیئر ٹرسٹ کے اسد اللہ آرائیں، اسکول پرنسپل سر ہارون لوہار، نوجوان سماجی کارکنان یاسر جاکھرو، آصف جوکھیو، بلاول بابڑو، اسکول کے اساتذہ ایاز میرانی، سر حسنین شاہ ظمیر حسین کھوسہ، بابر علی مغل اور طالب علم عبد العزیز شیخ، و دیگر نے خطاب کیا، اور اساتذہ کرام کی عظمت پر گفتگو کرتے ہوئے موجود شرکاء اور طلباء کو استاد کی قدر اور عزت کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ان آئے ہوئے تمام مہمانوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہمیں اپنی جانب سے محترم اساتذہ کو تحفے تحائف بھی پیش کئے گئے اور اپنے دیگر ساتھیوں سمیت پروگرام میں شرکت بھی کی اور ہر سال کی طرح اس سال بھی پوری دنیا کی طرح اساتذہ کا دن منایا گیا جس کی تقریب مختلف تعلیمی اداروں میں جاکر اپنے معززین و محسن قابل احترام اساتذہ کرام کو عقیدت و احترام اور محبتوں کے پھول پیش کئے گئے اس بار ادبی و سماجی دوستوں کے ہمراہ مرکزی تقریب گورنمنٹ بوائز ہائی سیکنڈری اسکول گھارو میں منعقد کی گئی جس میں سول سوسائٹی، صحافیوں، اور دیگر معززین شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی.
ملک بھر کی طرح کندھ کوٹ میں بھی استاد کی خدمات کے اعتراف میں سلام ٹیچرز ڈے منایا گیا
باغی ٹی وی ،کندھ کوٹ (نامہ نگار)ملک بھر کی طرح کندھ کوٹ میں بھی استاد کی خدمات کے اعتراف میں سلام ٹیچرز ڈے منایا گیا مختلف اساتذہ تنظیموں اور سکولوں کے زیر اہتمام تقاریب کا اہتمام ،استاد ہی وہ شخص ہے جو ایک بچے کو مستقبل کا معمار بناتا ہے ،کسی بھی قوم کی ترقی اساتذہ کی مرہون منت ہے مقررین
تفصیل کے مطابق کندھ کوٹ استاد کی خدمات کے اعتراف میں سلام ٹیچرز ڈے شاندار طریقے سے منایا گیا اس کے حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا گیا اساتذہ یونین کے زیر اہتمام مقامی سکولوں میں بھی مختلف بڑی تقریباًت کا اہتمام کیا گیا مختلف سکولوں میں سلام ٹیچرز ڈے کے حوالے شاندار تقاریب ہوئیں مقررین کا اپنے خیالات میں کہنا تھا استاد قوم کے معمار ہیں کسی بھی قوم کی ترقی اپنے اساتذہ کی تعظیم و توقیر کے ساتھ ہے بغیر استاد کے معاشرہ جہالت کا مرکز بن جاتا ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کی منفی سوچ و عادات کا خاتمہ کرکے مثبت سوچ کو ارتقا دیں اس موقع پر طلبا نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی



پنڈی بھٹیاں:عدم ادائیگی بل سکول کی بجلی کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو پریشانی کاسامنا
باغی ٹی وی : پنڈی بھٹیاں:(شاھد کھرل) بل کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سکول کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو شدید پریشانی میں مبتلا، سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا چونا سی او ایجوکیشن جاوید اقبال بابر صاحب کو تمام تر صورتحال کے بارے علم ہونےکے باوجود آنکھیں بند کئیے ہوئے ہیں، تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول حسن پورہ، بجلی کا بل گزشتہ سات ماہ سے بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے میٹر کٹ گیا، والدین کے مطابق سابقہ ہیڈ مسٹریس میڈیم رضیہ نے مبینہ طور پر فنڈز خوردبرد کئیے فنڈز کا صیح استمال نہ کیا، جسکی وجہ سے بجلی کا میٹر کٹ گیا، سابقہ ریکارڈ کے مطابق سکول ہیڈ میڈیم رضیہ کی تعیناتی 1999 کو گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول حسن پورہ میں ہوئی مئی 2017 میں مبینہ 14 لاکھ کرپشن ثابت ہوئی، جوکہ چند ماہ تنخواہ میں سے باقاعدہ طور پر کٹوتی بھی ہوتی رہی، ستمبر 2017 میں سفارشات کی بنیاد پر دوبارا بطور ہیڈ سکول کا چارج سنبھالا، والدین کے مطابق گورنمنٹ کی طرف سے دیا جانا والا NSB فنڈز اور سکول سے اکھٹا کیا جانے والا FTF فنڈز بھی کرپشن کی نظر ہو گیا، گزشتہ سات ماہ سے سکول کا بل ادا نہیں کیا گیا، جسکی وجہ سے واپڈا والے بجلی کا میٹر اتار کر لے گئے، یہاں تک کہ صفائی کرنے والوں خواتین کی تین تین ماہ کی تنخواہیں بھی نہیں دی گئی، متعدد پرائیویٹ ٹیچرز کو تقریباً تین ماہ کی تنخواہیں بھی جاری نہیں کی جا سکتی، والدین کے مطابق ڈپٹی ڈی او زنانہ کی مبینہ ملی بھگت کے ساتھ سرکاری خزانے کو چونا لگایا جاتا رہا، والدین کا چیف سیکرٹری پنجاب اور کمیشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تر معمالات کی اعلی سطح پر انکوائری کروائی جائے، تاکہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے،

روجھان : گذشتہ 2 سال سے گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں نہ اساتذہ تعینات ہوئے اور نہ ہی کلاسز کا اجراء ،طالبات سراپاء احتجاج
باغی ٹی وی :روجھان (ضامن حسین بکھر) پڑھے گا پنجاب بڑھے گا پنجاب حکومت کے نعرے دھرے کے دھرے روجھان میں تعلیمی سہولیات کا فقدان حکومت کی عدم توجہ سے طالبات کا تعلیمی مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ روجھان میں سن رائز گرلز اکیڈمی روجھان کی طالبات نے روجھان میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں کلاسز کی تعلیمی سرگرمیاں جاری نہ ہونے اور تعلیمی سہولیات کی عدم فراہمی پر طالبات سراپاء احتجاج ۔
تفصیلات کے مطابق

روجھان میں عرصہ دو سالوں سے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں کلاسز کا اجراء نہ ہونے سٹاف کی عدم تعیناتی اور اسکول میں تعلیمی سہولیات کی عدم فراہمی پر آج سن رائز گرلز اکیڈمی روجھان میں پرنسپل اکیڈمی ہذا عبدالرسول مزاری کی قیادت میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں سٹاف ٹیچرس کی عدم تعیناتی کلاسز کی عدم آغاز پر طالبات نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ روجھان میں عرصہ دو سال سے صرف کاغزی طور پر اسکول کو چلایا جا رہا ہے یہاں پر بچیوں کو پڑھنے کے لئے کوئی سہولیات میسر نہیں ہے روجھان میں کوئی سرکاری تعلیمی ادارہ نہیں جو طالبات کو تعلیمی سہولت میسر کر سکے طالبات نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ روجھان کی طالبات کو گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے اور سٹاف ٹیچرس تک نہیں ہے طالبات کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہو رہا ہے کہ پڑھے لکھے پنجاب کا نعرہ لگانے والوں نے روجھان کی طالبات کو تعلیمی سہولیات سے کیوں محروم رکھا ہوا ہے اور روجھان کی طالبات کا تعلیمی مستقبل روشن ہونے کی بجائے تاریک ہو رہا ہے مگر مجال ہے کہ ایجوکیشن ذمہ داروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی طالبات کا کہنا تھا کہ ہایئر ایجوکیشن کی تعلیم روجھان میں اور امتحانی سنٹر بھی روجھان ہی میں قائم کیا جائے احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا تھا کہ روجھان ہی میں ہائیر ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جائے اور طالبات کا کہنا تھا کہ ہم کبھی عمرکوٹ کبھی مٹھن کوٹ اور کبھی راجن پور جا کر عتاب کا شکار ہوتی ہیں طالبات نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی، صوبائی وزیر تعلیم مراد راس سے روجھان میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں ٹیچرس کی تعیناتی کلاسز کا آغاز تعلیمی سرگرمیوں اور روجھان ہی میں امتحانی سنٹر قائم کیا جائے تاکہ ہم گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول کے ہوتے ہوئے تعلیم کے حصول کے دربدر جانا پڑتا ہے نہیں تو پڑھے گا پنجاب بڑھے گا پنجاب کا نعرہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا اس موقع پر پرنسپل اکیڈمی ہذا نے حکومت اور روجھان سیاسی قیادت کی توجہ تعلیمی نظام کے جانب مبذول کرائی طالبات نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر روجھان میں تعلیم کی عدم سہولیات کے بارے میں نعرے درج تھے ۔


ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام
باغی ٹی وی :ڈیرہ غازیخان(شہزادخان سے) گورنمنٹ ایسو سی ایٹ کالج (بوائز ) ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ۔ اس تربیتی نشست کی صدارت پرنسپل کالج ہذا پروفیسر محمد بخش بلوچ نے کی، مہمان خصوصی پاکستان تحریک انصاف کی ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ تھیں ،مہمان اعزاز ڈاکٹر کاشف فرمان چیئرمین،اور علی رضا خان پروازِ شاہین پروگرام تھے۔تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسن اختر ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ کی کالج کے لیے پیش کی جانے والی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا،ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ نے طلبہ سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ محنت کی عظمت کو اجا گر کیا جا ئے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرز کے پروگرام کو جاری رکھا جا ئے۔انہوں نے کالج کے اساتذہ اور طلبہ کو پروگرام میں بھرپور دلچسپی لینے پر دادِ تحسین پیش کی ۔ چونکہ یہ نشست طلبہ کی تربیت کے لیے رکھی گئی تھی لہٰذا دلچسپ اور معلومات سے بھرپور لیکچر دیا اور موضوعاتی گفتگو سے طلبہ کے علم میں اضافہ کیا یہ لیکچر خصوصی طور پر طلبہ کی دلچسپی کا مرکز رہا اور طلبہ نے اس سے بھرپور استفادہ کیا

چونیاں – پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے صرف نعرے ہی رہ گئے
باغی ٹی وی :چونیاں ( عدیل اشرف ،نامہ نگار) پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے صرف نعروں تک محدود۔تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بنیادی سہولیات کا ہونا ضروری ہے اور سہولیات فراہم کرنا ریاست کی اہم ذمہ داری ہوتی لیکن 1980 سے منظور شدہ چونیاں کے نواح مرکز الہ آباد کے گاؤں کوٹ صدردین کا گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول اہم بنیادی سہولیات سے محروم ہے، چاردیواری کے علاوہ عمارت کا سرے سے نام و نشان ہی نہیں 42 سال سے غریب بچے گرمی و سردی میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں سہولیات کی عدم دستیابی پر اکثر بچے سکول چھوڑ رہے ہیں۔بنا عمارت سکول حکومتی توجہ کا منتظر۔چار دہائیوں سے سکول کی عمارت نہ بننا سابقہ حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟؟ اہل علاقہ کے لوگوں کا موجودہ حکومت سے جلد نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق آج کے جدید دور میں جہاں پنجاب کے گاؤں دیہات لیول کے عام نجی سکولوں کی بھی شاندار عمارتیں موجود ہیں بچے اچھے ماحول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن اسی صوبے پنجاب کے سرکاری سکولوں کی حالت اس قدر خراب ہے کہ بچوں کو گرمیوں میں دھوپ اور شدید سردی میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہےچونیاں کے نواح الہ آباد مرکز میں موجود گورنمنٹ پرائمری سکول کوٹ صدردین عمارت جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے۔محکمہ تعلیم کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اسکول کے کمرے ہی موجود نہیں صرف چاردیواری ہی ہوئی اور کئی سالوں سے ننھے منھے طالب علم گرمیوں میں شدید دھوپ و گرمی اور سردیوں میں شدید سردی میں کھلے آسمان تلے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں بچوں کا کہنا ہے کہ ہمیں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے ہمیں اچھا تعلیم ماحول فراہم کیا جاہے ہمارے لیے کمرے بنائے جائیں اس اسکول میں تقریباً ایک سو کے قریب غریب طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کے پاس پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں ادا کرنے کی ہمت تک نہیں جبکہ ان مشکلوں کے باوجود اساتذہ بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ کئی بار محکمے کو آگاہ بھی کر چکے ہیں اور وہ خود بھی یہ سب جانتے ہیں مگراس کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہمیں بھی بنیادی سہولیت ملنی چاہیے۔اہل علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم غریب لوگ ہیں محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ بڑی مشکل سےپالتے ہیں ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں ادا کر کے بچوں کو بنیادی تعلیم دلوا سکیں ہمارے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے 42سال سے اسکول کی عمارت نہ بنانے کا ذمہ دار کون؟ سابقہ حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟گاؤں کے رہائشی چوہدری فیصل ،مہر عبدالقیوم،منشاء،عبدالعزیز،فاروق بابر،بابا اسحاق و دیگر نے وزیر اعظم پاکستان، وزیراعلی پنجاب اور وزیر تعلیم پنجاب سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لے کر اس اسکول کی عمارت تعمیر کروائی جائے تاکہ بچے موسم کی شدت سے محفوظ رہ کر اچھے ماحول میں اپنی تعلیم حاصل کر سکیں۔


چیف ایگزیکٹیو ایجوکیشن میاں شفقت حبیب کا حکم نہیں ماننا مختلف سکول کے ہیڈٹیچرز کو حکم
باغی ٹی وی شیخوپورہ( محمد طلال سے)چیف ایگزیکٹیو ایجوکیشن میاں شفقت حبیب کا حکم نہیں ماننا مختلف سکول کے ہیڈٹیچرز کو حکم ۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سکینڈری شیخوپورہ کا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کو تقسیم کرنے کی کوشش۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد سجاد اسلم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ جس جگہ پر بھی ان کی پوسٹنگ ہوئی ہے یہ متنازعہ شخصیت رہے ہیں شیخوپورہ کے سرکاری سکولز میں غیر قانونی طریقہ سے پرائیویٹ آکسن اکیڈمی کا سلیبس لاگو کرنا ہو یا دوسرے معاملات ہوں آکسن اکیڈمی سلیبس کے معاملہ پر ہیڈٹیجرز کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایجوکیشن میاں شفقت حبیب جنھوں نے اس سلیبس کو لاگو نہ کرنے کے احکامات حاری کیے تھے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم نے ہیڈٹیچرز کو سی ای او ایجوکیشن کا حکم نہ ماننے کہا۔ فاروق آباد میں اپنی ریٹائرڈ ٹیچر بہن کو مانیٹرنگ آفیسر گرلز ہائیرسیکینڈری سکول فاروق آباد لگا دیا۔ شرقپور شریف میں ایک کلرک کو فوکل پرسن لگادیا۔ جو اساتذہ کرام کے جائز وناجائز کام کروانے کے لیے بھی رشوت طلب کرتا ہے بات یہی نہیں رکی ایک ہی ہیڈ ٹیچر کو چار مختلف سکولوں کی ڈی ڈی او اور دو مختلف سکولوں کا اضافی چارج بھی دے دیا۔ انرولمنٹ کے معاملہ میں ان صاحب کی کارکردگی صفر ہے انرولمنٹ میں سکینڈری ونگ کی کارکردگی صرف سات فیصد رہی جو کہ انتہائی کم ہے۔ جبکہ دوسری ایلیمنٹری ونگز سیکینڈری ونگ سے بہت آگے ہیں۔ان کا اساتذہ کے ساتھ رویہ بھی ہتک آمیز ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری محمد سجاد اسلم ڈینگی کے فوکل پرسن مقرر ہیں مگر اس سلسلہ میں بھی ان کی کارکردگی صفر ہے انکی عدم دلچسپی کے باعث سکول ایجوکیشن ڈیپاڑٹمنٹ سے جواب طلبیاں معمول بن چکی ہیں۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن شیخوپورہ نے خود سکولوں کی چیکنگ کے دوران ڈینگی کے پھلاو کو روکنے کے خاطرخواہ اقدامات نہ کرنے پر 40اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کرکے ان کے خلاف پیڈاایکٹ کے تحت کاروائی کا آغاز کردیا ہے۔ جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم کے کاموں کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی بد نام ہو رہی ہے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے تنزلی کی طرف جارہی ہے۔ڈی ای او سیکینڈری گرلز سکولوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔کبھی بھی وقت پر کسی سکول نہیں پہنچتے اور نہ اپنے دفتر کو ٹائم دیتے ہیں۔اس سلسلہ میں جب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ سجاد اسلم صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ دستیاب نہیں تھے۔شہر کے سماجی حلقوں میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سکینڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی ای او سکینڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم کی غیر تسلی بخش کارکردگی کا نوٹس لیا جائے۔

شیخوپورہِ پرنسپل نے درجنوں طالبات کے مستقبل کو داؤپر لگا دیا
باغی ٹی وی: شیخوپورہ تحصیل مریدکے(محمد طلال سے) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کینال پارک کی پرنسپل نے درجنوں طالبات کے مستقبل کو داؤپر لگا دیا وزیراعلیٰ کا پڑھا لکھا پنجاب کا خواب چکنا چور کردیا سینکڑوں طالبات ٹیچرز کے ناروا سلوک کی وجہ سے گھر بیٹھ گئی ہیں طالبات اور والدین نے پرنسپل اور سٹاف کی سفاکیت کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی کی وزیراعلی ہمیں انصاف دو ہماری تعلیم میں حرج ہو رہا ہے جب میڈیا نمائندگان نے موصوفہ سے رابط کیا تو موقف دینے سے انکار کر دیا اساتذہ طالبعلم کے روحانی والدین ہوتےہیں لیکن جب عہدے کا خمار ہو تو وہی شیطانی روپ لے کر بچوں کے مستقبل کےساتھ کھلواڑ پر اتر آتے ہیں ایسا ہی کارنامہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کینال پارک کی بدزبان اور انسانیت سے عاری پرنسپل نے درجنوں طلبہ کے مستقبل کے ساتھ پسند اور نہ پسند کی بنیاد پر طلبہ کی نہم کلاس میں رجسٹریشن کروا کر درجنوں طلبہ کو سکول سے نکال کر ان کے خوابوں کو چکنا چور کردیا موجودہ پرنسپل کے ہوتے بچیوں کی تعداد 900 رہ گئی جبکہ پہلے 1400 کے قریب تھی وزیراعلیٰ کا پڑھا لکھا پنجاب اور انرولمنٹ ان گورنمنٹ سکولز کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں بااثرسیاسی پرنسپل کی گردن میں طاقت کا ایسا سریا پڑا ہے کہ نکالے گئے طلبہ کے والدین نے جب پرنسپل سے نکالنے کی وجہ پوچھی تو موصوفہ دھمکیوں پر اتر آئی سینکڑوں والدین اور طالبات نے پرنسپل کے رویہ اور بچوں کے مستقبل کے خوابوں کو تعبیر ملنے سے پہلے ہی روند دینے والی سفاک پرنسپل کے خلاف احتجاج کرتے ہوِئے وزیراعلی پنجاب وزیر تعلیم اور سیکرٹری سکولز پنجاب سے انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری نہم کلاس میں رجسٹریشن کروائی جائے اور ایسی پرنسپل جو تعلیم دشمن پالیسیاں اپنا رہی ہے اس کو فی الفور نوکری سے برطرف کیا جائے اور عہدے پر تعینات کرنے سے پہلے کردار سازی ضرور کی جائے

مرد استاد اور طالبات — ضیغم قدیر
اگر آپ کی بیٹی آپ کو کہتی ہے کہ وہ اپنے فون پہ اپنے کسی مرد ٹیچر سے روزانہ یا ہفتہ وار بات کر رہی ہے تو اس پر نگرانی شروع کریں اور اس مرد ٹیچر کو پہلی فرصت میں بلاک کروائیں.
ایک استاد کے لئے کسی طالب علم کو متاثر کرنا سب سے آسان کام ہوتا ہے اور اگر یہ کم عمر بچیاں ہوں تو بات بالکل حلوہ بن جاتی ہے موبائل فون آنے کے بعد سے انکے لئے نو عمر بچیاں آسان شکار بن چکی ہیں.
یہ لوگ آسان شکار کی تلاش میں کم عمر بچیوں سے روابط بنانے سے نہیں جھجکتے حالانکہ ان کی بیٹیوں کی عمریں بھی ان بچیوں جتنی ہی ہوتی ہیں.
اور مجھے شرم آتی ہے کہ ایسی بات کر رہا ہوں لیکن،
پاکستان میں مرد ٹیچرز کی ایک بڑی تعداد اپنی فی میل سٹوڈنٹس کو اپنے لئے ایک آسان شکار سمجھ کر انہیں پھنسانے کے چکر میں رہتے ہیں. اور ایسے کئی کیسز میں اپنے سامنے دیکھ چکا ہوں اسلامیات کا ٹیچر، اخلاقیات کا ٹیچر، بائیو کا، فزکس کا غرضیکہ سبجیکٹ کا نام لیں میں کردار بتا دوں کہ فلاں جگہ فلاں ٹیچر کو اپنی فیمیل سٹوڈنٹ سے غلط تعلقات بناتے ہوئے دیکھا ہے.
ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی حرکت پہ شرمندہ تک نہیں ہوتے ہیں اور پکڑے جانے پہ ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ قصور بچی کا ہے انکا نہیں اور انکے کولیگ کسی قسم کی کاروائی نہیں کرواتے کیونکہ بعد میں انکے پول بھی وہ شخص کھول سکتا ہے.
بے غیرتی کی اس کیٹیگری میں عمر کا بھی کوئی پیمانہ نہیں ستر سال کے مذہبی ٹیچر سے لیکر 20-30 سال کے لبرل نوجوان ٹیچر تک سب اس حمام میں ننگے نظر آتے ہیں.
اس لئے اپنی بچی کے منہ سے اگر آپ کسی مرد ٹیچر کی ضرورت سے زیادہ تعریف سن رہے ہیں، بچی ہر روز اور ہر وقت اسکی تعریف کرتی ہے اور اس کے آپکی بچی پہ احسانات بھی ہو رہے ہیں اور موبائل سے روابط بھی ہیں تو آسانی سے سمجھ جائیں کہ وہ ٹیچر کسی شکار کی تلاش میں ہو سکتا ہے.
ہمارے معاشرے کا یہ شرمناک پہلو جس دن دیکھا اس دن مجھے حد سے زیادہ افسوس ہوا مگر یہ ایک حقیقت ہے حتیٰ کہ کولیگ ٹیچر بھی جانتے ہیں کہ کس ٹھرکی کی آجکل کس سٹوڈنٹ پہ نظر ہے اور وہ اس کو آفس میں کب بلا رہا ہے.
ہمارے ہاں اس ٹاپک کو ٹابو سمجھا جاتا ہے اور مائیں بچیوں کو نہیں بتاتی کہ آپ سے کیسی حرکت بیہودہ ہوسکتی ہے اور کیسے اگلے شخص کو لمٹس میں رکھنا چاہیے مگر یہ باتیں بچیوں کو سمجھانا بہت ضروری ہیں اس سے پہلے کہ وہ کسی کا شکار بنیں.
اس تحریر کا مقصد سب ٹیچرز کو برا بھلا کہنا ہرگز نہیں، ہر مرد ٹیچر ایسا ہو ضروری نہیں، مگر میں نے چند ہی شریف مرد ٹیچر دیکھے ہیں مجارٹی کا سکینڈل ضرور دیکھ رکھا ہے اور یہ باتیں میرے ذاتی مشاہدے کی ہیں سو اس کی بنیاد پہ اپنا مؤقف بتا رہا ہوں۔ آپکا میری رائے سے یا میرا آپکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














