سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی) سرگودہا ضلعی انتظامیہ نے 137 ہاؤسنگ اسکیموں کو غیر قانونی قرار دے دیا جس میں سعد رفیق کے قریبی عزیز کی 5 ہاؤسنگ سکیمیوں کے علاوہ سابق ایم پی اے اصغر حیات کی سٹی فارم ہاؤسنگ سکیم بھی شامل ہے ان غیر قانونی سکیموں نے کروڑوں روپےعوام کو گھر دینے کا جھانسہ دے کر بٹور رکھے ہیں اور سستی زمینیں خرید کر مہنگے داموں فروخت کی ہیں جس سے پراپرٹی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا اور پلاٹ لینا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے
Category: کاروبار

فنانس بل میں نان فائلرز کو غیر منقولہ جائیداد، گاڑی کی خرید پر کوئی چھوٹ نہیں دی گئی‘
فنانس بل میں نان فائلرز کو غیر منقولہ جائیداد، گاڑی کی خرید پر کوئی چھوٹ نہیں دی گئی‘
تفصیلات کے مطابق .فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہےکہ نان فائلرز کو نئے فنانس بل میں غیر منقولہ جائیداد اور گاڑی کی خرید پر کوئی چھوٹ نہیں دی گئی، حقیقت یہ ہے کہ نئے فنانس بل میں نان فائلرز کی قانونی حیثیت کو ہی ختم کردیا گیا ہے۔
ترجمان ایف بی آر کے مطابق تمام افراد کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت اپنی ٹیکس ایبل انکم کےگوشوارے جمع کرانے ہوتے ہیں، کسی بھی بڑی مالی ٹرانزیکشن پر گوشوارے داخل نہ کرنےکی صورت میں مکمل طریقہ کار دسویں شیڈول کے تحت وضع کیا گیا ہے۔
مشیر خزانہ حفیظ شیخ وفاقی بجٹ پیش نہیں کر سکیں گے
مشیر خزانہ حفیظ شیخ وفاقی بجٹ پیش نہیں کر سکیں گے
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق قانونی پیچیدگی کے باعث مشیر خزانہ حفیظ شیخ وفاقی بجٹ پیش نہیں کر سکیں گے، انکی جگہ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر مالی سال 2019-2020کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔
وزیر مملکت برائے ریونیوحماد اظہر نے یہ بات اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں خود بتائی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشیر کے بجٹ پیش کرنے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ قانونی طور پر مشیر بجٹ پیش کرسکتا ہے تاہم اسے چھ ماہ میں رکن پارلیمنٹ منتخب کرانا ہوگا۔
وزارت خزانہ کا چارج اس وقت وزیر اعظم عمران خان کے پاس ہے۔ وزیر اعظم کسی دوسرے وزیر کو بجٹ پیش کرنے کے لئے نامزد کر سکتے ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے بجٹ کی منطوری دے دی
بجٹ 2019-20 میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ کی منظوری دے دی.وزیرمملکت برائے ریونیوحماد اظہر بجٹ پیش کریں گے،ذرائع
مالی سال 2019-20کا بجٹ آج شام کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،وفاقی بجٹ کے حجم کا تخمینہ لگ بھگ 6 ہزار 800 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ بجٹ کا خسارہ 3 ہزار ارب روپے سے زائد ہوگا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 925 ارب روپے مختص کرنےاورٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 5 سو 50 ارب روپے رکھنے کی تجویزہے۔
ذرائع کے مطابق دفاع کیلئے 12سو50ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے تاہم دفاعی بجٹ رواں مالی سال کے دفاعی اخراجات سے کم ہوگا۔
قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2500 ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ 12سو50ارب روپے لگایا گیا ہے۔۔

تنخواہ دار طبقے پر نیا بجٹ بھاری پڑے گا،
تنخواہ دار طبقے پر نیا بجٹ بھاری پڑے گا،
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق موجودہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے ٹیکسوں میں اضافے کی تجویزپیش کی گئی ہے، نئے ٹیکس سلیب کے مطابق صرف سالانہ 4 لاکھ روپے آمدنی والا ہی بچ پائے گا۔
تفصیلات کے مطابق سالانہ 5 لاکھ روپے تنخواہ پر 1 ہزار روپے ٹیکس، سالانہ 6 لاکھ روپے تنخواہ پر 3 ہزار روپے، سالانہ 7 لاکھ روپے تنخواہ پر 6 ہزار روپے، سالانہ 8 لاکھ تنخواہ پر 10 ہزار روپے، سالانہ 12 لاکھ روپے تنخواہ پر 32500 روپے جبکہ سالانہ 30 لاکھ تنخواہ پر2 لاکھ 18 ہزار روپے اور سالانہ 40 لاکھ تنخواہ پر3 لاکھ 66 ہزار روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا جس میں 77 ہزار روپے اضافی بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 12 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ وصول کرنے افراد اس وقت پورے سال میں صرف اور صرف 2 ہزار روپے ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مشکل کی اس گھڑی میں سرکار آمدنی میں اضافے کے لئے ٹیکس سلیب میں تبدیلیاں کر رہی ہے، اس اقدام سے 90 ارب روپے کا اضافی ٹیکس وصول ہونے کا امکان ہے۔اس طرح تنخواہ دار طبقہ بھی نئے ٹیکس کے لیے تیار رہے.
بجٹ سے پہلے ہی ڈالر اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کو وجہ بنا کر بلڈنگ میٹریل بھی مہنگا ہو گیا
بجٹ کی آمد سے قبل ڈالر اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کو وجہ بنا کر بلڈنگ میٹریل بھی مہنگا ہو گیا
تفصیلات کے مطابق بجٹ کی آمد سے قبل ڈالر اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کو وجہ بنا کر بلڈنگ میٹریل بھی مہنگا ہو گیا ہے۔سرکاری پراجیکٹس سمیت گھرکی تعمیر کا تخمینہ لاگت بڑھ جانے سے شہری حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ،اینٹیں ،ریت ،بجری ،سریا ، سیمنٹ کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ہے،تفصیلات کے مطابق ڈالر،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کے باعث اوپن مارکیٹ میں بلڈنگ میٹریل کی قیمتوں میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوگیا ہے جس سے سرکاری پراجیکٹس سمیت عام گھروں کا تخمینہ لاگت بھی بڑھ گیا ہے۔واضح رہے باغی ٹی وی پہلے ہی رپورٹس دے چکا ہے کہ موجودہ بجٹ سے عوام الناس کے لیےمشکلات بڑھنےکا اندیشہ ہے.
نیا بجٹ،اقتصادی بحران سے نمٹنے کیلئے عوام پر بوجھ ڈالنے کا پلان بنالیا گیا،
نیا بجٹ،اقتصادی بحران سے نمٹنے کیلئے عوام پر بوجھ ڈالنے کا پلان بنالیا گیا،
رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے مقرر کیا جا رہا ہے۔ رواں سال کے مقابلے میں 1400 ارب روپے زیادہ ٹیکس آمدن کیلئے بجلی، گیس، پٹرول، تمباکو، چینی، مشروبات، ٹریکٹر اور کھاد پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں رواں سال کی نسبت 1400 ارب روپے زیادہ ٹیکس آمدن متوقع ہے، مہنگائی اور معاشی ترقی کی شرح سے 520 ارب روپے کا ٹیکس ملے گا، سیلز ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد اضافہ سے 90 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے، پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس بڑھانے سے 60 ارب روپے، برآمدی شعبے پر سیلز ٹیکس ساڑھے 7 فیصد کرنے سے 45 ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع ہے۔
وفاقی بجٹ میں خوردنی تیل اور گھی پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 18 فیصد، ٹریکٹر پر سیلز ٹیکس 5 فیصد سے 18 فیصد کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیل مصنوعات، مصالحہ جات، ٹوتھ پیسٹ، کیچ اپ سمیت ڈبے میں پیک اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز ہے۔ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے 20 ارب کا اضافی سیلز ٹیکس ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ہوٹلوں اور شادی ہالز سے سیلز ٹیکس چوری روکنے کیلئے خصوصی اقدامات ہوں گے۔رروز مرہ کےاستعمال کی اشیاء پر مزید ٹیکس لگانے سے عام اور غریب آدمی کے متاثر ہونے کا امکان بڑھ گیا.روز مرہ کے استعمال کی اشیاء میں بجلی گیس ، خوردنی تیل، اسٹیل مصنوعات، مصالحہ جات، ٹوتھ پیسٹ، کیچ اپ وغیرہ شامل ہیں..
آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ 6800 ارب روپے کے لگ بھگ محاصل کے حجم پر مشتمل ہوگا
آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ 6800 ارب روپے کے لگ بھگ محاصل کے حجم پر مشتمل ہوگا.رپورٹ
باغی ٹی وی رپورٹ اور تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ منگل کو آئندہ مالی سال کیلئے 6800 ارب روپے کے لگ بھگ محاصل کے حجم پر مشتمل وفاقی بجٹ اور فنانس بل کے مسودے کی منظوری دیگی، جس کے بعد منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے جبکہ اس سے قبل آج( پیر) اقتصادی جائزہ رپورٹ جاری کی جائے گی تاہم معاشی ترقی، زراعت، صنعت، مینوفیکچرنگ، خدمات سمیت اہم اہداف حاصل نہ ہوسکے۔
تفصیلات کے مطابق بجٹ 2019-20ء ، مجموعی حجم 6800 ارب روپے متوقع، ٹیکس وصولیاں 5550 ارب، دفاع کیلئے 1250 ارب سے زائد، ترقیاتی منصوبوں کیلئے 925 ارب، مالی خسارے کا ہدف 3000 ارب جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 2500 ارب روپے مختص کرنے کی تجاویز، 1400 ارب کے ٹیکس اقدامات، سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پنشن میں دس فیصد اضافہ متوقع، وفاقی کابینہ منگل کو بجٹ اہداف کی منظوری دے گی۔ اس سے قبل آج (پیر)وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال19 2018-ء کی اقتصادی کارکردگی پر مشتمل اقتصادی سروے جاری کیا جائے گا۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے ممکنہ حد تک کفایت شعاری اور پسماندہ طبقوں کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کردی ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی اور کمزور طبقوں کی معاونت پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔واضح رہےکہ عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بجٹ سے پہلے ہی مہنگائی بڑھ چکی ہے اور بجٹ کے بعد کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں ملنے والا عام آدمی کے مسائل کم ہونے نہیں دکھائی دے رہے.
عید کی چھٹیوں کے بعد ڈالر کی ایک بار پھر اونچی اڑان
عید کی چھٹیوں کے بعد ڈالر نے ایک بار پھر اونچی اڑان پکڑ لی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عید کی چھٹیوں کے بعد ڈالر کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے. اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 151 روپے تک ہو گئی ہے. تین روپے کا ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے.جنکہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 2.40 روپے مہنگا ہوا. عید تعطیلات سے پہلے ڈالر انٹربینک میں 148 روپے 60 پیسے پر بند ہوا تھا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 3 روپے مہنگا ہوا اور 151 کے ریٹ پر ہی فروخت ہوا۔عید کی چھٹیوں کے بعد کاروباری ہفتے کے شروع پر اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھنے میں آئی اور409 پوائنٹس کی کمی سے انڈیکس 35 ہزار 95 پوائنٹس کی سطح پر آگیا .عید کی چھٹیوں کے بعد آج سے کاروباری مراکز کھلے ہیں.
واضح رہے کہ آج پیر کی صبح وزیر اعظم عمران خان نے قوم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں اثاثے ڈیکلیئرکرنے کی ایمنسٹی سکیم میں سب حصہ لیں،ٹیکس دیئے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کرسکتے،انہوںنے کہا کہ عظیم قوم بننے کےلئے ہمیں خود کو تبدیل کرنا پڑےگا،وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو اپنے پیر کرکھڑا کرنے اورغربت سے نکالنے کا موقع دیں، قوم میں جذبہ آگیا تو ہم ہر سال 10ہزار ارب روپے اکٹھا کرسکتے ہیں .








