پاکستان کو موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران بیرونی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے تحت جولائی سے دسمبر کے دوران ملک کو قرض اور گرانٹس کی مد میں مجموعی طور پر 1272 ارب روپے موصول ہوئے، جبکہ آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والا قرض اس رقم میں شامل نہیں ہے۔
دستاویزات کے مطابق پاکستان نے ان چھ ماہ میں 1254 ارب روپے کا بیرونی قرض حاصل کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے، اضافی قرض کی رقم تقریباً 280 ارب روپے بنتی ہے۔ اسی عرصے میں پاکستان کو 17 ارب 67 کروڑ روپے کی بیرونی گرانٹس بھی ملیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 170 ارب روپے کی آئل فیسلیٹی فراہم کی گئی، جبکہ آئی ایم ایف سے ملنے والا قرض اس کے علاوہ ہے۔
Category: کاروبار

مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں نمایاں اضافہ

عالمی سطح پر سونے کی قیمت نے نئی تاریخ رقم کر دی
عالمی سطح پر سونے کی قیمت نے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
بدھ کے روز عالمی منڈی میں سونے کی فی اونس قیمت 4 ہزار 800 ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے محفوظ سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب اور امریکی ڈالر کی کمزوری نے سونے کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 4,821 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ کاروبار کے دوران یہ 4,843 ڈالر کی ریکارڈ سطح کو بھی چھو گئی،اسی طرح فروری میں ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1 فیصد اضافے کے بعد 4,813 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔
دوسری جانب مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں،ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 12ہزار 700روپے کے بڑے اضافے سے 5لاکھ 6ہزار 362روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 10ہزار 888روپے بڑھ کر 4لاکھ 34ہزار 123روپے کی سطح پر آگئی،اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 64 روپے کے اضافے سے 9ہزار 933 روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی، فی دس گرام چاندی کی قیمت 54روپے کے اضافے سے 8ہزار 515روپے کی سطح پر آگئی۔
ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک پر ممکنہ ٹیرف، گرین لینڈ پر کنٹرول کے سخت بیانات اور نیٹو اتحادیوں پر تنقید نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے،مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار امریکی ڈالر اور طویل مدتی بانڈز سے نکل کر سونے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ڈالر یورو اور سوئس فرانک کے مقابلے میں تین ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل تیسرے روز بھی مندی دیکھی گئی۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی-
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سونے کی فی اونس قیمت 4 ہزار 700 ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی ہے جو بلند ترین سطح ہے گزشتہ روز سونے کے فی اونس نرخ 4 ہزار 689 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے، قیمت میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہےعالمی مارکیٹ میں ایک سال کے دوران سونے کے نرخ میں تقریباً 70 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔
اسی طرح مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں بھی 4ہزار 300روپے کے بڑے اضافے سے نئی قیمت 4لاکھ 93ہزار 662روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 3ہزار 686روپے بڑھ کر 4لاکھ 23ہزار 235روپے کی سطح پر آگئی۔
ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 87 روپے کے اضافے سے 9ہزار 869 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کے نرخ 76روپے کے اضافے سے 8ہزار 461روپے کی سطح پر آ گئے۔
گزشتہ روز پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے نرخ میں 7500 روپے کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد فی تولہ قیمت 4 لاکھ 89 ہزار 362 روپے کی بلند سطح پر پہنچ گئی تھی،جبکہ فی تولہ چاندی کی قیمت 300 روپے کے اضافے سے 9ہزار 782 روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت 257روپے کے اضافے سے 8ہزار 386روپے کی سطح پر آگئی۔
واضح رہے کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی کے لیے امریکا کی جانب سے منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادل، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں مزید کمی کی بازگشت اور جیو پولیٹیکل حالات سے عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتیں وقفے وقفے سے تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔

پاکستان: دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کنندہ
بین الاقوامی جریدے گلف نیوز نے پاکستانی چاول کی عالمی سطح پر پذیرائی کو اجاگر کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ سال 2026 کے آغاز پر پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کنندہ ملک بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں پاکستانی چاول کی برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں باسمتی چاول کی برآمدات میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
دسمبر 2025 میں پاکستان نے 4 لاکھ 89 ہزار ٹن چاول عالمی منڈیوں میں برآمد کیے، جبکہ ویتنام کی برآمدات اس دوران 3 لاکھ 87 ہزار ٹن رہیں، جس سے پاکستان نے ویتنام کو پیچھے چھوڑ کر عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی۔
پاکستان سے سب سے زیادہ چاول متحدہ عرب امارات، چین، تنزانیہ، کینیا اور آئیوری کوسٹ کو برآمد کیے گئے۔
رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں اہم شعبوں کی برآمدات میں نمایاں کمی
ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں بڑے شعبوں کی برآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر غذائی اجناس کی برآمدات میں 40.29 فیصد کمی ہوئی اور اس دوران غذائی اجناس کی مجموعی برآمدات 2 ارب 36 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جب کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں یہ حجم تقریباً 4 ارب ڈالر تھا۔
دستاویز کے مطابق چاول کی برآمدات میں 49.90 فیصد، جبکہ سبزیوں کی برآمدات میں 36.80 فیصد کمی ہوئی۔
ٹیکسٹائل برآمدات میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور 0.90 فیصد اضافہ کے ساتھ پہلی ششماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 9 ارب 16 کروڑ ڈالر رہا۔ تاہم، پلاسٹک کے سامان کی برآمدات میں 43.66 فیصد کمی ہوئی۔
اسی دوران فارماسیوٹیکل مصنوعات کی برآمدات میں 28.67 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے سامان کی برآمدات میں 36.51 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات میں یہ کمی ملکی معیشت پر دباؤ ڈال سکتی ہے اور تجارتی خسارے میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔
رواں مالی سال کی پہلی ششماہی: ملکی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ
کراچی: رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے ملکی تجارت اور معیشت کو بڑا دھچکا پہنچا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف شعبوں کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے غذائی اجناس کی برآمدات میں 40.29 فیصد کمی ہوئی، جس کا حجم 2 ارب 36 کروڑ ڈالرز تک رہ گیا گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں غذائی اجناس کی برآمدات تقریباً 4 ارب ڈالرز تھیں اسی طرح چاول کی برآمدات میں 49.90 فیصد کمی، سبزیوں کی برآمدات میں 36.80 فیصد کمی، مقامی خشک میوہ جات کی برآمدات میں 63.78 فیصد کمی اور پلاسٹک کے سامان کی برآمدات میں 43.66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
فارماسوٹیکل مصنوعات کی برآمدات میں 28.67 فیصد کمی جبکہ ٹرانسپورٹ کے سامان کی برآمدات میں 36.51 فیصد کمی دیکھی گئی اس کے برعکس ٹیکسٹائل شعبہ اپنی برآمدات میں معمولی اضافہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور اس دوران ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 9 ارب 16 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گی تاہم مجموعی برآمدات میں کمی کے باعث معیشت پر دباؤ برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات عالمی طلب میں کمی، برآمدی لاگت میں اضافہ، لاجسٹک اور مارکیٹ رسائی کے مسائل، اور عالمی منڈیوں میں مسابقتی دباؤ ہیں،ماہرین نے اس رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

سولر پینل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
ملک میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافے کا رجحان سامنے آ گیا ہے۔
مقامی مارکیٹوں میں 585، 645 اور 720 واٹ کے حامل درآمدہ چینی سولر پینلز کی قیمتوں میں اوسطا پانچ ہزار روپے کا اضافہ ہو گیا ہےقیمتوں میں اضافے کے بعد 585 واٹ کے سولر پینل کی قیمت 16 سے 17 ہزار تک بڑھ کر 20 سے 21 ہزار، 645 واٹ ، کی قیمت 20 ہزار سے بڑھ کر 24 سے 25 ہزار جبکہ 720 واٹ کے پینل کی قیمت بڑھ کر 30 سے 35 ہزار روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔
عالمی سطح پر چاندی، تانبے کی قیمت میں اضافہ سولر کمپنیوں کی پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ بتائی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 5 ماہ میں فی واٹ سولر پینل کی قیمت 22 روپے سے بڑھ کر 33 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔

حکومتی اقدامات سے ٹیکس محصولات میں نمایاں اضافہ
حکومتی اقدامات سے ٹیکس محصولات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2025 میں وفاقی حکومت نے ٹیکس اور لیویز کی مد میں 13 ٹریلین روپے سے زائد رقم جمع کی۔ یہ وصولیاں ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 11.3 فیصد کے برابر ہیں۔
موجودہ رفتار جاری رہنے پر وفاقی ٹیکس وصولیاں جون 2028 تک جی ڈی پی کے 15 فیصد ہدف کو حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ مشیرِ خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو وفاق کی طرز پر ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
صوبائی حکومتیں مجموعی طور پر جی ڈی پی کے صرف 0.85 فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہیں، حالانکہ ان کے پاس خدمات، زراعت جیسے مؤثر ٹیکس ذرائع موجود ہیں۔ مشیرِ خزانہ نے زور دیا کہ وفاق اور صوبوں کو مل کر متوازن اصلاحات لانے چاہییں تاکہ ہر سطح پر ٹیکس وصولی مضبوط ہو۔
وفاقی حکومت کی جانب سے 13 ٹریلین روپے کی وصولی ایک حوصلہ افزا قدم ہے، جس سے ٹیکس اصلاحات کی مثبت سمت واضح ہوتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز زبردست تیزی،
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کے روز کاروباری ہفتے کے آخری دن تیزی کا رجحان رہا۔ کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھنے کو ملا اور ہنڈرڈ انڈیکس میں اضافہ ہوا۔
ابتدائی طور پر ہنڈرڈ انڈیکس 1,881 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 183,338 پر پہنچ گیا اور کچھ دیر بعد مجموعی طور پر 2,575 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے دوران مارکیٹ میں مزید تیزی آئی اور ہنڈرڈ انڈیکس 3,152 پوائنٹس اضافے کے بعد ایک لاکھ 84 ہزار 600 سے تجاوز کر گیا۔
آج ڈیڑھ گھنٹے میں اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس تقریباً 1.7 فیصد اوپر گیا، جس سے سرمایہ کاروں میں اعتماد میں اضافہ دیکھا گیا۔
وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر پر برقرار رہے گی، جبکہ ڈیزل کی قیمت بھی 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ قیمتیں آئندہ پندرہ روز کے لیے برقرار رہیں گی۔








