Baaghi TV

Category: چترال

  • چترال:حالیہ برفباری کے باعث وادی کالاش کے تینوں ودیوں میں ٹریفک اور مواصلاتی نظام درہم برہم

    چترال:حالیہ برفباری کے باعث وادی کالاش کے تینوں ودیوں میں ٹریفک اور مواصلاتی نظام درہم برہم

    چترال ( فتح اللہ) چترال میں چار روز تک شدید برفباری ہوتی رہی جس کے باعث چترال میں مواصلات اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ، لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہے گئے ہیں ۔

    لوئر چترال وادی کالاش کے تینوں ودیوں میں تین فٹ تک برف پڑی ہے جس کی وجہ سے عوام شدید پریشانی سے دو چار ہیں ۔ خوارک کی کمی ، ہپستال تک رسائی ، بجلی کی فراہمی معطل ، سڑکوں کی بندش ، موبائل سروس کی بندش اور درجنوں مسائل کا شکار وادی کے عوام برفباری تھمنے کے بعد بھی بحالی کے کام شروع نہ کرنے پر پریشانی سے دو چار ہوگئے ہیں ۔ لوگ کئی گھنٹوں پیدل سفر کر کے آیون پہنچ رہے ہیں ۔

    پیدل سفر کرنے والے چترال پہنچ کر اپنی تنخواہیں وصول کر رہے ہیں اور یہاں سے خوراک کا بندوست کرتے ہوئے آیون سے وادی تک اشیاء خوردونوش اپنے کندھوں پر اٹھا کر گھروں میں پہنچ جاتے ہیں ۔

    وادی کالاش کے درجنوں افراد ڈسٹرکٹ ہسپتال میں داخل ہیں جو کہ ڈسچارج کرنے کے باجود گھروں کے لیے نہیں جا سکتے ہیں جس کے باعث غریب عوام ادھار لے کر اخراجات پورا کرنے پر مجبور ہیں ۔

    چترال سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں مقیم وادی کےافراد اپنے گھر والوں سے رابطے نہیں کر پاتے ہیں اور وادی کیلاش میں موجود لوگ اپنے پیاروں سے رابطے نہیں کر پا رہے ہیں جس کی وجہ شدید ذہنی تناؤ میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔

    چترال لوئر اور وادی میں محصور عوام نے ڈسٹرکٹ انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ بروقت روڈ پر سے برف ہٹانے کا کام شروع کرکے عوام کی مشکلات میں کمی لائے تاکہ عوام خوارک کی کمی کو پورا کر پائے اور مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے میں ان کے لیے آسانی ہو

    جو مریض ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر ہوٹلوں میں مقیم ہیں وہ بھی آسانی سے گھروں تک پہنچ جائیں اور اضافی اخراجات کی پریشانی سے نجات حاصل ہو ۔

  • بالائی علاقوں میں بارش و برفباری، 9 جاں بحق، سڑکیں بند،شہری گھروں محصور

    بالائی علاقوں میں بارش و برفباری، 9 جاں بحق، سڑکیں بند،شہری گھروں محصور

    چترال،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی )بالائی علاقوں میں بارش و برفباری، 9 جاں بحق، سڑکیں بند، تعلیمی و دفتری سرگرمیاں معطل ،چترال، دیر اور غذر متاثر،سیاحوں کو مشکلات کا سامنا

    ڈی جی ریسکیو 1122 کے مطابق مختلف اضلاع میں چھتیں گرنے کے باعث 9 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہو گئے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ ڈی جی رسیکیو 1122 کا مزید کہنا تھا کہ چھتیں گرنے سے متعدد مویشی بھی ہلاک ہو گئے ہیں، چھتیں گرنے کے واقعات پشاور، لوئر دیر اور باجوڑ میں پیش آئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں بارش اور برف باری سے راستے بند ہوگئے۔ آج چترال میں تعلیمی ادارے بند ہیں جب کہ دیر بالا میں دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    لوئردیر میں بارش سے رات گئے لینڈسلائیڈنگ ہوئی،پہاڑی تودہ مکان پر گرنے سے 3 افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا، لاشوں اور زخمی کو ملبے سے نکال لیا گیا۔

    پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں مکان کی چھت گرنے سے آٹھ ماہ کی بچی جاں بحق، خاتون سمیت تین بچے زخمی ہوگئے۔

    غذر میں بارش اور برف باری سے بالائی علاقوں کا زمینی رابط منقطع ہوگیا ہے جبکہ گلگت چترال بین الصوبائی شاہراہِ بھی ایک ہفتے سے بند ہے.
    گرم چشمہ روڈ بھی برف باری کی وجہ سے بند ہے،

    دیہی رابطہ سڑکیں بند ہونے کے باعث نظام زندگی معطل ہوگیا، کئی علاقوں چترال سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، برفباری سےمتاثرہ علاقوں میں سخت سردی کا راج ہے۔

    چترال میں بارش اور برفباری کی وجہ سےآج ہفتہ کوتعلیمی ادارے بند ہیں گ، اس کے علاوہ شدید بارش اور برفباری کے باعث ہفتے کو دیربالا کے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    چترال شہر میں جمعہ کی شب سے اب تک بارش اور وادی کیلاش میں دو فٹ سے زائد برف پڑچکی ہے ۔گرم چشمہ اور دیگر علاقوں میں بھی برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔لوگ گھروں میں محصور ہوچکے ہیں

    دیر بالا کے میدانی علاقوں میں تیز بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔شدید برفباری کے باعث لواری ٹنل اپروچ سڑک ٹریفک کے لیے بند ہے۔

    شدید بارش اور برفباری کے باعث آج ہفتے کو دیربالا کے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا نوٹیفیکشن جاری کیا گیاہے۔

    دیربالا کے وادی کمراٹ، ڈوگدرہ ،جاز بانڈہ ،وادی عشیری کیردرہ اور براول کے پہاڑوں پر برفباری سے ہر سو سفیدی ہی سفیدی ہے۔ دیربالا کے بالائی علاقوں میں دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔

    برفباری کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ بارش اور برفباری سے مختلف علاقوں کی بجلی معطل ہوگئی اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔انٹرنیٹ سروس معطل ہوچکی ہے

    ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری سے راستے بند ہونے سے سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔انتظامیہ نے آج رات مسافروں کو سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

  • چترال :برف باری,گرم چشمہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند،آبادی کاچترال سے زمینی رابطہ منقطع

    چترال :برف باری,گرم چشمہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند،آبادی کاچترال سے زمینی رابطہ منقطع

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)برف باری,گرم چشمہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند،آبادی کاچترال سے زمینی رابطہ منقطع

    چترال اور مضافات میں گذشتہ رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ چترال شہر میں دو سے تین انچ تک برف باری ہوئی ہے جبکہ لواری ٹنل روڈ پر دو فٹ تک برف ریکارڈ ہوچکی ہے۔ گرم چشمہ سڑک شدید برف باری کے باعث ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند ہے جس کی وجہ سے چالیس ہزار لوگوں کا چترال سے رابطہ منقطع ہے۔

    دو دن مسلسل بارش کے بعد ضلع اپر اور لویر چترال میں گذشتہ رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ برف باری کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ بازارسنسان ہوچکے ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہایت کم ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بغیر کسی خاص ضرورت کے سفر کرنے سے گریز کریں تاکہ برفانی یا مٹی کا تودہ گرنے کی وجہ سے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

    وادی کیلاش کی تینوں علاقوں بمبوریت، بیریر، رمبور اور شیخانندہ میں بھی برف باری کا سلسلہ جاری ہے جہاں دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔

    مڈگلشٹ میں دو فٹ سے زیادہ برف باری ہوئی ہے اور وہاں کا راستہ بھی جگہہ جگہہ برفانی تودے گرنے کی وجہ سے خراب ہوچکا ہے۔ چترال کے لوگ برف باری کے دوران خود کو سردی سے بچانے کیلیے لکڑی جلاکر آگ جلاتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

    چترال میں طویل خشک سالی کے بعد اس سیزن میں دوسری بار برف باری ہوئی ہے تاہم مقامی بزرگوں کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں پندرہ سال بعد برف باری ہوئی ہے۔ مقامی ماہرین کے مطابق جب نومبر، دسمبر یا جنوری میں برف باری ہوتی ہے تو وہ دیرپا ہوتی ہے اور کافی حد تک وہ جمی رہتی ہے جو موسم گرما میں پانی کا بڑا ذحیرہ ہوتا ہے مگر اس موسم میں برف جلدی پگھل جاتی ہے۔

    حالیہ برف باری سے ایک طرف اگر عوام خوش ہیں تو دوسری طرف زمیندار طبقہ بھی نہایت پرامید ہے کہ اس سے ان علاقوں میں کھیتوں کو سیراب کیا جائے گا جہاں نہری پانی دستیاب نہیں ہے اور لوگ بارش یا برف کے پانی سے اپنی فصلوں کو سیراب کرتے ہیں۔

    گرم چشمہ کے عمایدین کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ابھی تک سڑک سے برف ہٹانے کا کام شروع نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے پوری وادی کے لوگ محصور ہوچکے ہیں اور ان کو روزمرہ استعمال کی چیزیں، تازہ سبزی اور مرغی، گوشت وغیرہ بھی فراہم نہیں کئے جاسکتے۔

    برف باری کے دوران بچے لوگ بہت خوش ہوتے ہیں اور وہ برف کے گولے بنا کر ایک دوسرے پر پھینک کر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت چترال کے طول و عرض میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور درجہ حرارت بھی نقطہ انجماد سے نیچے گرا ہوا ہے۔

    مسافروں اور سیاحوں سے گذارش ہے کہ وہ لواری ٹنل سڑک پر سفر کرنے سے پہلے سڑک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سنو چین ضرور استعمال کریں تاکہ برفیلی سڑک پر سفر کے دوران پھسلنے سے بچ جائیں اور محفوظ طریقے سے سفر جاری رکھ س سکیں۔

    واضح رہے کہ برف باری کے دوران کثیر تعداد میں سیاح ان علاقوں میں آتے ہیں اور برف باری سے لطف اندوز ہوکر اس میں سیلفیاں اور تصاویر بناتے ہیں۔

  • دو روز سےمسلسل بارش کے بعد چترال کے طول و عرض میں رات سے برف باری کا سلسلہ جاری

    دو روز سےمسلسل بارش کے بعد چترال کے طول و عرض میں رات سے برف باری کا سلسلہ جاری

    چترال،باغی ٹی وی (نامہ نگار اخونزادہ گل حماد فاروقی) دو روزمسلسل بارش کے بعد چترال کے طول و عرض میں رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے ،لواری ٹنل روڈ پر دو فٹ سے زیادہ برف پڑ چکی ہے

    وادی کیلاش کے رمبور، بمبوریت بریر میں بھی ڈیڑھ فٹ سے زیادہ برف باری ہوئی ہے۔ برف باری کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوچکاہے، سڑکوں پر ٹریفک کم اور بازار میں رش نہ ہونے کے برابر ہے،برف باری کی وجہ سے کاروبار زندگی ٹھپ ہوکر رہ گیا۔

    برف باری کی وجہ سے لوگوں گھروں میں محصور ہوچکے ہیں، شدید برف باری کے باعث لواری سرنگ کا راستہ بند ہونے کا خدشہ ہے تاہم این ایچ اے حکام کا کہنا ہے کہ ان کی مشینری برف کو مسلسل صاف کررہی ہے، برف باری کے دوران لوگ لکڑی جلاکر خود کو گرم کرتے ہیں جس کی وجہ سے بازار میں چالیس کلوگرام لکڑی کی قیمت850 روپے ہوگئی ہے جو غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہے

    عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال کے لوگوں کو سستے نرح پر بجلی یا گیس فراہم کی جائے تاکہ جنگلات پر بوجھ کم پڑے اور موسمیاتی تبدیلی کی منفی اثرات سے چترال بچ سکے
    اس سال طویل خشک سالی کے بعد دوسری بار برف باری ہورہی ہے ،عام طورپرمارچ کے مہینے میں بہت کم برف پڑتی ہے۔

  • وادی رمبور ،کیلاش قبیلے کی معروف شخصیت دورم شاہ انتقال کرگئے

    وادی رمبور ،کیلاش قبیلے کی معروف شخصیت دورم شاہ انتقال کرگئے

    چترال (گل حماد فاروقی)وادی رمبور کیلاش قبیلے کی معروف شخصیت دورم شاہ انتقال کرگئے،کیلاش روایات کے مطابق کی تین دن تک رسومات ادا کی جائیں گی

    مرنے والے شخص کو روائتی ٹوپی پہنائی جاتی ہے۔ جسمیں 100روپے، پانچ سو اور ہزار ہزاراور 5000کے نوٹ لگائے جاتے ہیں اور خشک میوہ جات کے ڈبے رکھےجاتے ہیں؛ جبکہ میت کے قریب اس کے قریبی عزیز و رشتہ دار بیٹھتے ہیں اور باقی قبیلے کے افراد رقص کرتے اور روائتی نغمے گاتے ہیں

    چترال کے پہاڑوں کے دامن میں رہنے والے ہزاروں سالوں سے آباد کیلاش قبیلے کے لوگ اپنی مخصوص ثقافت، نرالے دستور، رسم و رواج اور نہایت دلچسپ تہواروں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ یہ شاید دنیا کی واحد قوم ہے جو اپنی میت کو بھی خوشی خوشی رخصت کرتے ہیں۔

    وادی کیلاش رمبور میں معروف شخصیت دورم شاہ کیلاش طویل علالت کے بعد انتقال کرگیے۔ آنجہانی دورم شاہ چترال لیویز یعنی بارڈر پولیس سے حوالدار ریٹائر ہوئے تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن بھی رہے ہیں ان کی عمر اسی سال بتائی جاتی ے جو گاؤں بلانگورو رومبور کا رہائشی تھا۔ وادی کیلاش کے تینوں وادیوں بمبوریت، بریر اور رمبور سے کیلاش قبیلے کے خواتین و حضرات ان کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کیلئے رمبور میں جمع ہوچکے ہیں۔

    کیلاش روایات کے مطابق مرد کے فوتگی پر تین دن تک رسومات ادا کی جاتی ہیں جبکہ خاتون کی فوتگی پر ایک یا دو دن۔ اس دوران کیلاش خواتین رقص کرتی ہِیں اور میت کے سرہانے گول دائرے میں رقص کرکے گھومتے ہویے مذہبی گیت گاتی ہیں مگر ان کا یہ رقص عام تہواروں میں ہونے والے رقص سے بالکل علیحدہ ہوتا ہے۔

    مرد حضرات ڈھولک بجاتے ہین اور مرد بھی رقص کرکے اس رسم شریک رہتے ہیں۔ میت کے گھر دس سے لیکر سو تک بکریاں، گائیں اور بیل ذبح کئے جاتے مگر یہ جانور مسلمانوں سے ذبح کروایا جاتے ہیں تاکہ وادی میں رہنے والے سب لوگ اس کا گوشت کھاکر اس ضیافت میں شرکت کرسکیں

    مرنے والے کی رشتہ دار تین کنستر یعنی ٹین دیسی گھی، پنیر اور دیسی روٹیاں لاتی ہیں جومہمانوں کو پیش کی جاتی ہیں۔ میت کے سرہانے ان کے قریبی رشتہ دار، بیٹی، بیوی، بہن بیٹھ کر روتی ہے جبکہ باقی لوگ اس کے چارپائی کے سرہانے ارد گرد گیت گاتے ہوئے رقص کرتے ہیں۔

    ان کی میت کو کیلاش مذہبی جگہہ جسٹکان میں رکھا جاتا ہے جہاں آگ جلاکر لوگوں کو سردی سے بچایاجاتا ہے۔ اس دوران میت کو ایک چار پائی میں ڈال کر جسٹہ کان میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ٹوپ میں پچاس، سو، پانچ سو، ہزار اور پانچ ہزار کے نوٹ بھی سجائے جاتے ہیں جسےعزت اور اکرام کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

    میت کے سرہانے تازہ اور خشک پھلوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ اور نسوار بھی رکھی جاتی ے۔ جبکہ آنے والے مہمانوں میں بھی نسوار تقسیم کی جاتی ہے۔ یہ رسم تین دن تک دن رات لگاتار بغیر کسی وقفے کے جاری رہتی ہے۔ آخری دن کیلاش قبیلے کے لوگ میت کو چارپائی میں ڈال کر قبرستان لے جاتے ہیں مگر اس دوران ہوائی فائرنگ بھی کرتے ہیں جسےمیت کے اعزاز میں ایک سلامی سمجھی جاتی ہے۔ میت کو قبرستان میں دفنا کر اس کے ساتھ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والا سامان بھی رکھا جاتا ہے جس میں پنیر، شہد، کپڑے اور شکاری بندوق بھی شامل ہے مگر آج کل بندوق نہیں رکھی جاتی۔ مرد کے موت پر اس کی بیوی کئی ماہ تک گھر کے اندر رہتی ہے اور سوگ مناتی ہےان کو الگ کرکے کھانا دیا جاتا ہے۔

    جو لوگ اس کے دفنانے میں شریک ہوکر قبرستان تک جاتے ہیں واپسی پر وہ ایک ندی کے کنارے بیٹھ کر ہاتھ دھوتے ہیں پھر اکر ضیافت کھاتے ہیں۔

    ماضی میں کیلاش لوگ اپنے مردوں کو ایک لکڑی کی صندوق میں ڈال کر کھلا چھوڑتے تھے مگر چند دن بعد گلنے سڑنے کے بعد اس کی تعفن سے پوری بستی کو نہایت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا اسی وجہ سے آج کل کیلاش لوگ اپنے مردوں کو دفناتے ہیں تاکہ اس کی بدبو کی وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔

    کیلاش عقیدے کے مطابق جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی پیدایش پراس کے گھر والے خوشی مناتے ہیں مگر جب وہ مر جاتا ہے تو اسے خوشی خوشی دوسرے دنیا میں رحصت کرنا چاہیے۔ اور جس میت پر جتنا زیادہ بکرے کاٹے جاتے ہیں اتنا ہی اسے نہایت معزز سمجھا جاتا ہے جبکہ کیلاش قبیلے کے رہنما قاضی میت کے سرہانے کھڑے ہوکر ان کی تعریف کرتے ہیں اور ان کی کارکردگی کو سراہتے ہیں جو عزت اور اکرام کی علامت سجھی جاتی ہے۔

    کیلاش لوگ اپنے میت پر زیادہ بکریاں کاٹنے کی وجہ سے اکثر مالی مشکلات کا بھی سامنا کرتے ہیں مگر ہزاروں سالوں سے جاری اس رسم کو انہوں نے اسی طرح اصلی حالت میں رکھا ہوا ہے ۔

    اس مخصوص اور نہایت دلچسپ رسم کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں سیاح بھی وادی کیلاش کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم راستوں کی خرابی کی وجہ سے اکثر سیاح وادی کیلاش میں جانے سے گریز کرتے ہیں تاکہ راستے میں سفری مشکلات سے دوچار نہ ہوں۔

  • چترال: مارخور کی تیسری  ہنٹنگ ٹرافی، امریکی شہری رابرٹ مائلز نے کشمیر مارخور کا شکار کر لیا

    چترال: مارخور کی تیسری ہنٹنگ ٹرافی، امریکی شہری رابرٹ مائلز نے کشمیر مارخور کا شکار کر لیا

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فارواقی کی رپورٹ) مارخور کی اس سیزن کے تیسری ہنٹنگ ٹرافی، امریکی شہری رابرٹ مائلز نے کشمیر مارخور کا کامیاب شکار کیا۔

    چترال میں امریکی شہری نے کشمیر مارخور کا کامیاب شکار کیا۔ مارخور ہنٹنگ ٹرافی کا اس سیزن کا یہ تیسرا شکار ہے۔ گہریت گول کمیونٹی ریزرو میں امریکی شہری رابرٹ مائلزہال نے مارخور کا شکار کیا،مارخور کی عمر آٹھ سال ہے جبکہ اس کی سینگوں کی لمبائی38 انچ ہے۔امریکی شہری نے ایک لاکھ پچیس ہزار امریکی ڈالر کے عوض یہ شکارکیا جس کا پاکستانی کرنسی میں تین کروڑ پچھتر لاکھ روپے بنتا ہے۔

    اس سے پہلے بھی ہنٹنگ ٹرافی کے تحت دو مرتبہ مارخور کا شکار ہوچکا ہے جبکہ اس سیزن کا یہ تیسرا شکار ہے ڈویژنل فارسٹ آفیسر وایلڈ لائف فاروق نبی کے مطابق امریکی شکاری نے شکار کا لائسنس پچھلے سال اکتوبر میں ہونے والی نیلامی میں ایم ایس ہنٹگ سفاری اسلام آباد کے ذریعے حاصل کیا تھا۔

    اس سے قبل 16 دسمبر 2023 کو رواں سیزن کا پہلا شکار ایک امریکی شکاری نے کیا تھا۔ امریکی شہری جیمز مل مین نے اس اجازت نامے کے لیے سب سے بڑی بولی دی تھی۔ اس کی مالیت دو لاکھ 32 ہزار امریکی ڈالر (ساڑھے چھ کروڑ روپے) تھی۔

    جبکہ اس سیزن کا دوسرا شکار روسی شکاری ڈینک موروزوے نے چترال میں کشمیر مارخور کا کیا تھا۔ روسی شکاری نے یہ پرمٹ ایک لاکھ 85 ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔

    ڈویژنل فارسٹ آفیسر وایلڈ لائف فاروق نبی کے مطابق ہنٹنگ ٹرافی سے ملنے والی رقم میں سے اسی فیصد مقامی لوگوں کو دی جاتی ہے جبکہ بیس فی صد سرکاری خزانے میں جمع کی جاتی ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ ہنٹنگ ٹرافی سے ملنے والی رقم سے ان پسماندہ علاقوں میں اکثر ترقیاتی اور بحال کاری کے کام کیا جاتا ہے جن میں پل، راستے وغیرہ شامل ہیں۔ ہنٹنگ ٹرافی کیلیے بین الاقوامی سطح پر بولی لگتی ہے جس میں کامیاب بولی دہندہ کو شکار کا لائسنس ملتا ہے جو شاہ شاہ، گہریت وغیرہ میں مارخور کا شکار کرتا ہے جبکہ چترال گول نیشنل پارک میں ہر قسم کے قانونی شکار پر بھی پابندی ہے ۔

    وہاں چوری چپے شکار تو ہوتا ہے مگر ہنٹنگ ٹرافی کے تحت وہاں شکار پر پابندی ہے۔ وہاں تین ہزار کے لگ بھگ مارخور بستے ہیں جن میں اکثر عمر رسیدہ مارخور گاوں کا رخ بھی کرتے ہیں اور اکثر آوارہ کتوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ چترال گول نیشنل پارک کے آس پاس بفر زون میں ان عمر رسیدہ مارخوروں کی شکار کی اجازت دی جایے جو بڑھاپے کی وجہ سے خود بخود مر جاتے ہیں۔

    اگر ان کمزور، لاغر اور عمر رسیدہ مارخوروں کی شکار کی اجازت مل جایے تو اس سے چترال کو کروڑوں روپے کی آمدنی ایے گی اور اس سے کافی سارے ترقیاتی کام بھی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

    پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز

    پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز 1999 سے ہوا۔ 1997 میں کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ اِن انڈینجرڈ سپیشیز سے متعلق زمبابوے میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کو مارخور کے غیرقانونی شکار کو روکنے کے لیے ہنٹنگ ٹرافی دینے کی اجازت دی گئی۔ ابتدا میں پاکستان کو سال میں چھ ٹرافیوں کی اجازت دی گئی جسے بعد میں بڑھا کر 12 کر دیا گیا۔

    فاروق نبی نے بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ اور کمیونٹی مینجڈ کنزرویشن کی بدولت چترال میں کشمیر مارخور کی تعداد جو 1999 میں چند سو تھی اب ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔

  • محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کی جانب سے امدادی سامان کے 40 ٹرک چترال پہنچ گئے

    محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کی جانب سے امدادی سامان کے 40 ٹرک چترال پہنچ گئے

    چترال(گل حماد فاروقی) محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کی جانب سے امدادی سامان کے 40 ٹرک چترال پہنچ گئے
    جو وعدہ کیا کرکے دکھایا ،میرے وعدے صرف اعلانات کے حد تک محدود نہیں تھے بلکہ میں عملی طور پر کام کرتا ہوں ان خیالات کا اظہار سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ایک عوامی اجتماع سے کیا جو طلحہ محمود فاونڈیشن کے چیئرمین بھی ہے۔

    سینیٹر محمد طلحہ محمود حلقہ این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کی نشست کیلیے انتحابات لڑ رہے تھے جس کی وجہ سے وہ اس فاونڈیشن سے عارضی طور پر علیحدہ ہوچکے تھے اور اس کا بیٹَا مصطفے بن طلحہ قائم مقام چیرمین مقرر ہویے تھے۔ ان کی ہدایت پر چترال کے غریب اور نادار لوگوں میں مفت راشت اور امدادی سامان سے بھرے ہویے چالیس ٹرک لواری ٹنل کے اندر ائے تھے مگر دیگر سیاسی محالفین نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی کہ یہ سیاسی رشوت کے طور پر استعمال ہوتا ہے جسے انتحابات ختم ہونے تک روکا گیا۔

    سینیٹر طلحہ محمود نے اعلان کیا تھا کہ انتحابات ختم ہوتے ہی میں خود ٹرک کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس امدادی سامان سے بھرے ہویے ٹرکوں کا قافلہ چترال میں داخل کروں گا اور آج اس نے کرکے دکھایا۔

    امدادی سامان سے بھرے ہویے ٹرکوں کا یہ قافلہ سید اباد میں کھڑا تھا جسے لانے کیلیے سینیٹر طلحہ محمود ایک جلوس کی شکل میں وہاں گیے۔ اس موقع پر میڈیا سے باتیں کرتے ہویے انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان ٹرکوں میں کوی گولی بارود یا غیر قانونی سامان نہیں تھا بلکہ غریبوں کیلیے امدادی سامان تھا مگر ان سیاستدانوں نے ان کی منہ سے نوالہ بھی چھیننے کی کوشش کی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں دروش پولیس نے بھِی تنگ کیا اور ضلعی انتظامیہ نے بھی بڑی مشکل سے ہمیں این او سی جاری کیا تاکہ ہم یہ راشن اور امدادی سامان غریبوں میں مفت تقسیم کرسکیں۔

    اس موقع پرانہوں نے واضح کیا کہ محمد طلحہ فاونڈیشن پچھلے 35سالوں سے انسانیت بلا ذات پات ، رنگ و نسل کے بے لوث خدمت کررہی ہے اور اس فاؤنڈیشن کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے چاہے وہ جمیعت علمائے اسلام ہو جس کی ٹکٹ پر میں نے قومی اسمبلی کی نشست پر انتحابات میں حصہ لیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم سب کو دعوت دیتے ہیں کہ آیے اور ہمارے ساتھ اس کار خیر میں ہاتھ بٹایے ہمارے دروازیں سب کیلیے کھلے ہیں۔ اس امدادی سامان کو تقسیم کرنے کیلیے نہایت ایماندار اور غیر متنازعہ لوگوں کو منتحب کیا جایے گا جو اسے مستحق لوگوں میں تقسیم کریں گے۔

    چالیس ٹرکوں کا یہ قافلہ جب چترال پہنچا تو وہاں کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔ اس موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہویے طلحہ محمود نے کہا کہ انتخابات سے پہلے جو وعدہ عوام کے ساتھ کیا تھا انتحابات میں کامیاب نہ ہونے کے باوجود میں نے جو وعدہ کیا تھا وہ کرکے دکھایا۔

    اب چترال بھر کے خواتین کیلیے خود روزگار سکیم کے تحت ڈھائی سو دستکاری مراکز کھولے جائیں گے جس سے لوگ خود کفیل ہوں گے اور خود ہی کمائی کرکے دوسروں کی محتاجی سے نجات پائیں گے۔

    اس موقع پر انہوں نے ان لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے اپنا قیمتی ووٹ ان کے حق میں استعمال کیا مگر اکثریت نے پی ٹی آئی کے حق میں ووٹ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے سر سے بوجھ ہلکا ہوگیا اب جو ریاستی کام ہے وہ منتحب نمائندوں کی ذمہ داری ہیں کہ یہاں پر سڑکیں، سکول، کالج، پل، ہسپتال تعمیر کرے البتہ میں اپنی فاونڈیشن کے تحت غریب اور مستحق لوگوں کے ساتھ مالی مدد کرسکتا ہوں اور ان میں مفت راشت اور ضرورت کا سامان تقسیم کرتاہوں۔

    واضح رہے کہ سینیٹر طلحہ محمود کی رہائش گاہ پر کثیر تعداد میں خواتین و حضرات آتے ہیں جن کے ساتھ وہ مالی مدد کرتے رہتے ہیں۔ انتخابات کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد بھی روزانہ سینکڑوں خواتین ان کے گھر آتی ہیں جن کو وہ نقد پیستے دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے گھر کیلیے ضرورت کا سامان خرید سکیں۔

  • چترال: بریک فیل ہونے سے گاڑی دریائے چترال کے کنارے جا گری، 9 افراد زخمی

    چترال: بریک فیل ہونے سے گاڑی دریائے چترال کے کنارے جا گری، 9 افراد زخمی

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی کی رپورٹ) لوئر چترال، دروش عشریت روڈپر ٹریفک حادثہ رونماہواہے ، میڈیا کوآرڈینیٹر ریسکیو1122 لوئر چترال کے مطابق ریسکیو1122 کو اطلاع ملنے پر ریسکیو1122 کی میڈیکل ٹیمیں عشیریت پہنچ کر حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 9 افراد کو ایمبولینسز میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے THQ ہسپتال دروش لوئر چترال منتقل کردیا،

    ابتدائی معلومات کے مطابق لوئر چترال دروش دمیل سے مقامی افراد عمرے سے آنے والے حاجیوں کا استقبال کے لئےعشریت گئے ہوئے تھے واپسی پر گاڑی کی بریک فیل ہونے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا،

    گاڑی حادثے کا شکار ہوکر دریائے چترال کے کنارے جاگری، ریسکیو1122 کی ٹیموں نے 9 زخمیوں کو THQ ہسپتال دروش منتقل کردیا ہے تاہم تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے.

  • لوئرچترال:دومون کے علاقے میں رسہ کشی اور سینگور میں فٹ بال ٹورنامنٹ اختتام پذیر

    لوئرچترال:دومون کے علاقے میں رسہ کشی اور سینگور میں فٹ بال ٹورنامنٹ اختتام پذیر

    لوئرچترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی)دومون کے علاقے میں رسہ کشی اور سینگور میں فٹ بال ٹورنامنٹ اختتام پذیر،سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کھلاڑیوں میں ٹرافی اور نقد انعام تقسیم کیے۔

    چترال کے علاقے دومون میں رسہ کشی کا ٹورنامنٹ اختتام پذیر ہوا۔ دومون اے اور دومون بی ٹیم کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا۔ رسہ کشی کا مقابلہ دومون کے میدان میں ہوا جہاں شدید سردی کے باوجود کھلاڑیوں کا خون گرم تھا۔ اس کھیل میں ہر ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ایک طرف جبکہ ان کے مد مقابل دوسری ٹیم کے گیارہ کھلاڑی دوسری طرف رسے کو کھینچتے ہیں۔ہر ٹیم کا اپنا اپنا کوچ ہوتا ہے جو ہاتھوں میں سرخ جھنڈے لہراتے ہوئے مخصوص آواز نکالتا ہے جس سے کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند ہوکر رسےکو مزید زور سے کھینچتے ہیں۔

    رسہ کشی کے فائنل میچ میں این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کے نامزد امیدوار سینیٹر محمد طلحہ محمود مہمان خصوصی تھے جبکہ ان کے ہمراہ پی کے ٹو سے نامزد امیدوار مفتی فیض محمد مقصود ، قاری جمال ناصر اور جماعت کے دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ ٹیم اے نے جارحانہ انداز میں رسےکو کھنیچتے ہوئے ٹیم بی کو شکست دیکر فائنل ٹرافی اپنے نام کرلی۔

    اختتامی تقریب کے موقع پر سینیٹر محمد طلحہ نے کھلاڑیوں میں ٹرافی، کپ اور ایک لاکھ روپے نقد انعام بھی تقسیم کیا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں تماشائی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود نے شرکاء سے اظہار خیال کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نےکہا کہ جن قوموں کے کھیل کے میدان خالی ہوتے ہیں ان کے ہسپتال مریضوں سے بھرے رہتے ہیں۔

    انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چترال کے کھلاڑیوں میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے مگر ابھی تک ان کے لیے ایک بھی عوامی اسٹیڈیم موجود نہیں ہیں جہاں یہ کھلاڑی اپنے قابلیت میں مزید نکھار پیدا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھ پر عوام نے اعتماد کرکے مجھے قومی اسمبلی کیلئے حلقہ این اے ون چترال سے منتخب کیا تو میں نہ صرف سرکاری فنڈ یہاں لاوں گا بلکہ محمد طلحہ محمود فاونڈیشن سے بھی کھلاڑیوں کیلیے کٹ، کھیل کا سامان لانے کے ساتھ ساتھ یہاں ہر علاقے میں کھیل کیلیے میدان تعمیر کریں گے تاکہ یہاں کے نوجوان ان میں کھیل کر اپنے مہارت میں مزید اضافہ کرے۔

    انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقے کو منشیات، بے راہ روی اور دیگر منفی سرگرمیوں سے بچانے کیلیے واحد ذریعہ ان کو کھیل کود اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ہے۔ انہوں نے اس ٹورنامنٹ کے آرگنائزر کمیٹی کیلیے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا بھِی اعلان کرکے کھلاڑیوں میں ٹرافی تقسیم کیے۔

    سینیٹر طلحہ محمود نے رسہ کشی کی کھیل کو نہایت پسند کیا جس میں ہر عمر کے لوگ حصہ لے رہے ہیں اور ان کی بہترین جسمانی ورزش ہوتی ہے۔ خاص کر ٹیم کوچ کے مخصوص آواز جو کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند کرکے کوشش کرتے ہیں کہ وہ مد مقابل ٹیم کو شکست دے۔

    نارتھ لینڈ فٹ بال اکیڈمی سینگور کے زیر اہتمام فٹ بال کا ایک ٹورنامنٹ منعقد ہوا جس میں کل چوبیس ٹیموں نے حصہ لیا۔ فائنل میچ میں جغور اکیڈمی فٹ بال کلب اور نارتھ لینڈ فٹ بال کلب میں زبردست مقابلہ ہوا۔ اس میچ کا فیصلہ پیلنٹی سے ہوا جس میں نارتھ لینڈ فٹ بال ٹیم نے فائنل ٹرافی اپنے نام کرلی۔ ۔ فٹ بال ٹورنامنٹ پچھلے ایک ہفتے سے جاری تھا جس میں سینگور سے لیکر جغور تک تمام علاقے کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

    فائنل میچ کے موقع پر سینیٹر طلحمہ محمود مہمان خصوصی تھے جنہوں نے کھلاڑیوں میں ٹرافی اور کپ تقسیم کیے۔ یہاں پر بھی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سینگر اور مضافات سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں لوگ بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ چترال کی ایک بیٹی فٹ بال کی قومی ٹیم کا حصہ ہے اور اس سے پہلے بھی کئی مرد کھلاڑی بھی قومی ٹیم میں اپنے قابلیت کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔

    اس موقع پر علاقے کے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ان کیلیے ایک کھیل کا میدان تعمیر کیا جایے کیونکہ یہ میدان انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کرائے پر لیا ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ میرا فاونڈیشن یعنی محمد طلحہ محمود فاونڈیشن تو آپ لوگوں کے ساتھ ہر قسم تعاون کرنے کو تیار ہے مگر جن لوگوں کو آپ نے ماضی میں ووٹ دیکر اسمبلیوں میں بھیجا تھا انہوں نے میرے خلاف انتظامیہ کو شکایت کرکے درخواست دی ہے کہ طلحہ محمود فاونڈیشن کے سینکڑوں ٹرک جو امدادی سامان سے بھرے ہیں وہ چترال کی طرف رواں دواں ہیں ان کو روکا جایے کیونکہ یہ ووٹ کیلیے رشوت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان ٹرکوں میں حسب معمول غریب، نادار اور بے بس لوگوں کیلیے کھانے پینے کی چیزِیں ہیں جو اس وقت مالی مشکلات سے دوچار ہیں اور میں طلحہ محمود فاونڈیشن کا حصہ بھی نہیں ہوں اس وقت قایم مقام چیرمین مصطفے بن طلحہ کے کہنے پر یہ امدادی سامان چترال کے غریب لوگوں کیلیے لایا جارہا ہے اور یہ فاونڈیشن صرف چترال میں نہیں بلکہ پورے ملک میں اور بیرون ممالک میں بھی کام کرتا ہے مگر اس پر صرف چترال میں پابندی ہے دوسرے جگہوں میں یہ امدادی سرگرمیاں زور و شور سے کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آٹھ فروری تک مجھ پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پابندیاں لگی ہیں ا سکے بعد میں آزاد ہوں اور دل کھول کر چترال کے لوگوں کا مدد کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے عوام پر واضح کیا کہ میں قانونی تقاضے پورے کرتے ہویے انتحابات تک محمد طلحہ محمود فاونڈیشن سے علیحدہ ہوا ہوں جس کا قایم مقام چییرمین مصطفے بن طلحہ کے ہدایت پر دو سو ٹرک امدادی سامان بے بھرے ٹرک منگوایے ہیں مگر میرے مخالف امیدواروں نے انتظامیہ کو درخِواست دی ہے کہ یہ اشیایے خوردونوش رشوت کے طور پر غریب لوگوں کو دی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ سامان لواری ٹنل سے اس پار سڑک پر کھڑے ہیں مگر الیکشن کے ختم ہونے کے بعد رات کو بارہ بج کر ایک منٹ پر میں خود ڈرایئونگ کرتے ہویے ان ٹرکوں کو چترال لاوں گا اور بلا امتیاز تمام غریب لوگوں میں وہ امدادی سامان تقسیم کیا جایے گا۔

    اس موقع پر علاقے کے لوگوں نے سینیٹر طلحمہ محمود کے حق میں نعرہ بازی بھی کرلی اور ان کی کامیابی کیلیے دعایں بھی کی۔

  • لوک رحمت  کالاش برادری کی تاریخ میں پہلی بار  بطور آزاد امیدوار میدان  میں ڈٹ گئے

    لوک رحمت کالاش برادری کی تاریخ میں پہلی بار بطور آزاد امیدوار میدان میں ڈٹ گئے

    عام انتخابات میں لوئر چترال اور اپر چترال سے درجنوں افراد نے صوبائی اور قومی اسمبلی کے لیے آزاد حیثیت سے حصہ لینے کے کاغذات جمع کروائے مگر اب میدان سے بھاگ گئے ہیں۔ تاہم لوک رحمت ڈٹے ہوئے ہیں.

    چترال میں صوبائی اسمبلی حلقہ پی کے 2 لوئر چترال ، پی کے 1 اور این اے ون چترال کے حلقے سے اس سال درجنوں سیاسی شخصیات نے عام انتخابات میں حصہ لیا ان میں سے کچھ پارٹی کی طرف سے اور زیادہ امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑانے کے خواہشمند تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ کئی پارٹی کے امیدوار ایک دوسرے کے حق میں دستبردار ہوگئے ۔ ان میں سب سے زیادہ آزاد امیدوارں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیا اور کسی اور امیدوار کو موقع دے کر خود عام انتخابات سے دستبردار ہوگئے ہیں ۔ اس تمام تر صورت حال میں سب سے دلچسپ امیدوار کالاش برادری کے آزاد امیدوار لوک رحمت ہی رہے جو کہ پاکستان اور بیرونی میڈیا پر زینت بنا اور سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر چھائے رہے ۔

    یاد رہے کہ لوک رحمت کا تعلق کالاش برادری سے اور کالاش برادری تعداد میں بہت کم ہے اس کے باجود بھی لوک رحمت میدان میں ڈاٹے ہوئے ہیں، وہ نہ جھکے اور نہ ہی ہمت ہارنے کا نام لے رہے بلکہ حوصلے بلند ہیں اور الیکشن میں کامیابی کے لیے پر عزم ہیں ۔ لوک رحمت کے مطابق وہ اپنے برادری کے نوجوانوں کو ہی نہیں بلکہ چترال کے نوجوانوں کو حوصلے دینے اور مایوسیوں سے نکلنے کے لیے میدان میں اترے ہیں ۔ معاشرے میں روایتی سیاستدانوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ نوجوان بغیر کسی خوف کے ملک کی باگ ڈور میں حصہ لیں کیوں کہ روایتی سیاستدانوں نے ملک پاکستان کے نوجوان نسل کو وہ مستقبل نہیں دیا ہے جس کا نوجوان نسل حق رکھتا ہے ۔

    لوک رحمت چاہتے ہیں کہ چترال کے نوجوان خوف سے باہر نکل کر ملکی سیاست میں حصہ لیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں کیونکہ کہ ملک کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار بہت نمایاں اور معنی خیز ثابت ہو سکتے ہیں ۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا