Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • پنجاب میں کرونا کے مزید نئے کیسز تعداد 30 ہزار تک پہنچ گئی

    پنجاب میں کرونا کے مزید نئے کیسز تعداد 30 ہزار تک پہنچ گئی

    پنجاب میں کرونا کے مزید نئے کیسز تعداد 30 ہزار تک پہنچ گئی

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 1639 نئے کیس، تعداد 29489 ہو گئی۔ لاہور میں 817، ننکانہ 18، قصور 19، شیخوپورہ 42، راولپنڈی 81،جہلم 46، گوجرانوالہ 50 اور سیالکوٹ میں 79 نئے کیس سامنے آئے۔

    ناروال 5، حافظ آباد 4، منڈی 2، ملتان 96، خانیوال 9، وہاڑی 5، فیصل آباد 128، چینوٹ 6، جھنگ 9، رحیم یار خان میں 42 نئے کیس سامنے آئے۔

    سرگودھا 41، خوشاب 1، بھکر 21، بہاولنگر 5، بہاولپور 27، لودھراں 1، ڈی جی خان 1، مظفر گڑھ 36،راجن پور 2، لیہ 8، ساہیوال 20، اوکاڑہ 12 پاکپتن میں 6 نئے کیس سامنے آئے۔

    کورونا وائرس سے 30 مزید اموات، کل تعداد 570 ہو چکی ہیں۔ اب تک 252469 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 7110 ہو چکی ہے۔عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں.کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فورا 1033 پر رابطہ کریں۔
    Daily Sitrep 02-06-2020

    پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ریکارڈ 4,131 کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 80,463 ہو گئی ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید 67 افراد زندگی کی بازی ہارگئے جس کے بعد ملک بھر میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 1,688 تک جا پہنچی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر کورونا کے 28 ہزار 923 مریض صحت یاب ہوگئے ہیں۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 131 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 29 ہزار 489، سندھ میں 31 ہزار 86، خیبر پختونخوا میں 10 ہزار 897، بلوچستان میں 4 ہزار 740، گلگت بلتستان میں 779، اسلام آباد میں 3 ہزار 188 جبکہ آزاد کشمیر میں 284 کیسز رپورٹ ہوئے
    ہاتھوں کی صفائی میں ہی سب کی بھلائی

  • کرونا وبا اور اسرائیلی ناکہ بندی، غزہ کے عوام پانی کی نعمت سے محروم

    کرونا وبا اور اسرائیلی ناکہ بندی، غزہ کے عوام پانی کی نعمت سے محروم

    غزہ:کرونا وبا اور اسرائیلی ناکہ بندی، غزہ کے عوام پانی کی نعمت سے محروم،اطلاعات کے مطابق فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2020ء کے دوران غزہ کے بعض علاقے ناقابل رہائش ہوجائیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی ریاست کے محاصرے اور کرونا کی وبا نے غزہ کے عوام کی مشکلات میں اور بھی اضافہ کردیا ہے۔ ان مشکلات میں ایک بڑا مسئلہ پینے کے صاف پانی کا ہے جس کی زیرزمین مقدار میں تیزی کے ساتھ کمی آ رہی ہے۔ کرونا کی وبا نے غزہ میں پانی کے بحران اور عوام کو درپیش مشکلات میں اور بھی اضافہ کردیا ہے۔

    غزہ کی پٹی کے دو ملین شہری اس وقت زندگی کے سنگین خطرے سے دوچار ہ یں۔ پانی جو زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے کی مسلسل بڑھتی قلت نے عوام کو ایک نئے خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران غزہ کی پٹی میں فراہمی آپ رسانی کا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ سمندر کے کھارے پانی کو فلٹر کرنے کے متعدد منصوبے جو غیرملکی اداروں اور دوسرے ممالک کے تعاون سے شروع کیے جانے تھے اسرائیل کی غزہ کی پٹی پرعاید کی گئی پابندیوں اور کرونا کی وبا سے تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔

    کرونا کی وبا کی وجہ سے یورپی ممالک کے امدادی کارکنوں اور معاونت کاروں کی غزہ میں رسائی ممکن نہیں رہی جس کے باعث پانی کی فراہمی سے متعلق منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔

    فلسطینی واٹر سپلائی اتھارٹی کے وائس چیئرمین انجینیر مازن البنا نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں پانی صاف کرنے کے عالمی منصوبے کرونا وبا کی نذر ہو چکےہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کی مدد سے شروع کردہ اسکیمیں کرونا کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔ پانی کی کئی اسکیموں میں جو کام ہوا ہے اسے دوبارہ نئے سرےسے شروع کیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں البنا کا کہنا کہ غزہ کی پٹی میں بجلی کی کمی نے بھی پانی کے مسئلے کو مزید گھمبیر کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں پانی ما بحران آج سے 14 سال قبل اس وقت گھمبیر ہونا شروع ہوا جب اسرائیل نے غزہ کی فضائی، بحری اور بری ناکہ بندی کرتے ہوئے غزہ کو ہرقسم کے تعمیراتی سامان کی ترسیل بند کردی تھی۔اس کے بعد اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پرمسلط کی گئی جنگوں نے پانی کی پائپ لائنوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کردیا تھا۔

    فلسطینی واٹر اتھارٹی کے وائس چیئرمین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اور فلسطینی اتھارٹی بھی اس حوالے سے لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے غزہ میں پانی کی اسکیمیں پوری کرانے کے لیے اسرائیل پر دبائو نہیں ڈالا اور فلسطینی اتھارٹی بھی اس حوالے سے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔

  • کرونا وائرس : حکومت کا ملازمین کو2 سال تک نصف تنخواہ دینے کا اعلان

    کرونا وائرس : حکومت کا ملازمین کو2 سال تک نصف تنخواہ دینے کا اعلان

    ریاض :کرونا وائرس : حکومت کا ملازمین کو2 سال تک نصف تنخواہ دینے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے پیش نظر دنیا بھر کی حکومتوں نے عوام، مزدوروں اور ملازمین کو ریلیف فراہم کرنے کے اعلانات کر رکھے ہیں اور اس ضمن میں متعدد ممالک کی حکومتوں نے ملازمین کو خصوصی ریلیف فراہم کرنے کے انتظامات بھی کیے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ جس طرح پاکستان میں مزدوروں کے لیے حکومت نے 12 ہزار روپے کا اعلان کیا تھا، اسی طرح سعودی عرب کی حکومت نے نجی اداروں کے تمام ملازمین کو آئندہ 2 سال تک نصف تنخواہ ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے ہی سعودی عرب کی وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت آئندہ 2 سال تک تمام طرح کے نجی ملازمین کو کورونا ریلیف فنڈ کے تحت ان کی تنخواہ کا نصف حصہ ادا کرے گی۔

    یہ سبسڈی ملازمین کو وزارت کے ادارے فروغ افرادی قوت کے تحت فراہم کی جائے گی اور اس میں 4 ہزار ریال سے 15 ہزار ریال تک کے تمام ملازمین شامل ہوں گے۔عرب ویب سائٹ عاجل کے مطابق وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی نے واضح کیا کہ مذکورہ ریلیف ملازمین کو کورونا ریلیف پروگرام کے تحت دیا جائے گا اور اس میں حکومت ملازمین کو ان کی نصف تنخواہ ادا کرے گا۔ یعنی جن ملازمین کی تنخواہ 4 ہزار ریال ہوگی حکومت انہیں آئندہ 2 سال تک ماہانہ 2 ہزار ریال ادا کرے گی اور 15 ہزار ریال تک تنخواہ وصول کرنے والے ملازمین کو 7 ہزار ریال تک اضافی فراہم کیے جائیں گے۔

    وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کی جانب سے یہ قدم کورونا کی وجہ سے صحت کے معاملات پر اخراجات بڑھ جانے کے باعث اٹھایا گیا ہے۔مذکورہ ریلیف پروگرام کے تحت حکومت نے خواتین اور معزور ملازمین کو اضافی 10 فیصد رقم ادا کرنے کا اعلان بھی کیا ہے مگر یہ اضافی رقم ریاض، جدہ، دمام اور الخبر شہر کے علاوہ دیگر شہروں میں ملازمتیں کرنے والی خواتین اور معزور افراد کی فراہم کی جائے گی۔

    علاوہ ازیں حکومت نے ایسے چھوٹے اور متوسط اداروں کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا ہے، جنہوں نے کورونا کی وبا کے دوران بھی ملازمین کی ملازمت ختم نہیں کی تھیں۔

  • آئسولیشن میں منائی گئی شادی کی سالگرہ یادگار ہے   یاسر نواز

    آئسولیشن میں منائی گئی شادی کی سالگرہ یادگار ہے یاسر نواز

    کورونا وائرس کا شکار پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار یاسر نواز اور نامور میزبان ندا یاسر نے شادی کی 18 ویں سالگرہ کراچی میں آئسولیشن میں اپنی رہائش گاہ اپنی رہائش گاہ پر منائی۔

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کا شکار پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار یاسر نواز اور نامور میزبان ندا یاسر نے شادی کی 18 ویں سالگرہ کراچی میں آئسولیشن میں اپنی رہائش گاہ اپنی رہائش گاہ پر منائی۔ اداکار یاسر نواز اور انکی اہلیہ اداکارہ ندا یاسر اور ان کی بیٹی کورونا ٹیسٹ پو زیٹیو آنے کے بعد تیرہ روز سے اپنے گھر میں آئسولیشن میں ہیں انہوں نے شادی کی 18ویں سالگرہ بھی کراچی میں اپنے گھر میں ہی کیک کاٹ کر منائی۔
    https://www.instagram.com/p/CA7vDgdgXEw/?igshid=130zeeblvao0w
    سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹا گرام پر اداکار یاسر نواز نے کیک کاٹتے ہوئے ویڈیو کلپ شئیر کیا اور اس موقع پر یاسر نواز کا کہنا تھا کہ پماری شادی کو آج 18 سال ہو گئے ہیں 2 جون 2020 ہے ہم 13 دن سے آئسولیشن میں ہیں اور آئسولیشن میں منائی گئی شادی کی یہ سالگرہ یادگار ہے اور یادگار اس لئے ہے کیونکہ ہم 13 دنوں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں اور بغیر لڑائی بغیر جھگڑے اور بغیر موڈ آف کئے یہ تیرہ دن ہم نے بہت اچھے گزارے اور ماشا ءاللہ مداحوں کی دعاؤں سے ہم دونوں کی طبیعت اب بہتر ہے،

    ندا یاسر نے کہا ویسے بھی یاسر جب بیمار ہوں تو بہت اچھے ہو جاتے ہیں اسی لئے یہ تیرہ دن بہت سکون سےگزرے ہیں

    ندا یاسر ،اپنے شوہر کے ہمرا کرونا کا شکار

    میری صحت سے متعلق غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں ندا یاسر

    اداکار نوید رضا کا کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری

    اداکارہ میرا کےکورونا ٹیسٹ کے نتائج سامنے آگئے

    پاکستان کی دو سینئیر اداکارائیں کورونا وائرس کا شکار

  • کورونا وائرس : سکینہ سمو کی اپنی صحت کے حوالے سے خبروں کی تردید

    کورونا وائرس : سکینہ سمو کی اپنی صحت کے حوالے سے خبروں کی تردید

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف لیجنڈری اداکارہ و ہدایتکارہ سکینہ سموکا کہنا ہے کہ وہ کسی سے بھی اپنی صحت سے متعلق کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ میری صحت کے بارے میں سوشل میدیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی گئی ہیں-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر یہ خبر زیر گردش ہیں کہ معروف اداکارہ سکینہ سمو اور اداکارہ روبینہ اشرف کورونا وائرس کاشکار ہوگئی ہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک فیس بُک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا ہوا تھا کہ کورونا کی وجہ سے سکینہ سمو انتقال کر گئی ہیں اس پوسٹ کے کیپشن میں انہوں نے اپنا ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی صحت کے حوالے سے زیر گردش افواہوں کی تردید کی ہے
    https://twitter.com/sakinasamo/status/1267919923868729344?s=19
    ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں سکینہ سمو نے صحافی کا نام لیے بغیر کہا کہ کل سے ایک نام نہاد صحافی مجھے سارا دن فون کالز کرتا رہا کیونکہ وہ مجھ سے میری صحت کے متعلق جاننا چاہتا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے اس صحافی کی کال لینے اور اس کو جواب دینے سے انکار کردیا کیونکہ میں اپنی صحت کے حوالے سے کسی سے بھی کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ہوں۔

    اداکارہ نے بتایا کہ بار بار فون کالز کرنے پر میں نے اُس صحافی کا فون نمبر واٹس ایپ پر بلاک کردیا اور یہ ہوا یعنی جب میں نے اُس صحافی کو جواب دینے سے انکار کردیا تو اُس نے میرے بارے میں یہ جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر پھیلا دی کہ انہیں کورونا ہے اور وہ کورونا کے باعث انتقال کرگئیں ہیں

    دوسری جانب اداکارہ روبینہ اشرف کےحوالے سے بھی یہ خبریں زیر گردش ہیں کہ اداکارہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئی ہیں جبکہ روبینہ اشرف کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    پاکستان کی دو سینئیر اداکارائیں کورونا وائرس کا شکار

  • مودی نے دنیا میں ہماری ناک کٹوا دی، بھارتی میڈیا مودی سرکار پر برس پڑا

    مودی نے دنیا میں ہماری ناک کٹوا دی، بھارتی میڈیا مودی سرکار پر برس پڑا

    مودی نے دنیا میں ہماری ناک کٹوا دی، بھارتی میڈیا مودی سرکار پر برس پڑا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے ہھیلنے والا خطرناک کرونا وائرس بھارت میں پھیل چکا ہے، کرونا کی وجہ سے بھارت میں طویل ترین لاک ڈاؤن نافذ ہے اور مودی سرکار کرونا کے حوالہ سے بالکل بے بس نظر آتی ہے، کرونا مریضوں کو ایک طرف مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا تو دوسری جانب بے روزگاری کا سیلاب آیا اور مودی سرکار نے کسی کی کوئی مدد نہیں کی

    بھارتی میڈیا نے بھی بھارتی وزیراعظم مودی پر اس ضمن میں تنقید کرنا شروع کر دی ہے ، بھارتی میڈیا نے کہا ہے کہ ایسے لگ رہا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا تقریباً دوسرا سب سے بڑا ملک بغیر حکمران کے چل رہا ہے۔ کیونکہ محض 4 گھنٹے میں لاک ڈاؤن کرنے والے چند لوگوں پرمشتمل حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کریں، ایک ایڈوائزری کے بعد دوسری ایڈوائزری آجاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ حکمران کے کردار میں ہیں ان کی عقلوں پر پتھر پڑ چکے ہیں- بی جے پی، مودی حکومت اس وباء پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے پاس تدابیر کرنے کے دعوے ہیں، انتظامات کے کھوکھلے دعوے ہیں، لیکن عوام کو دن بہ دن مشکلات سے ہو کر گزرنا پڑ رہا ہے۔

    بھارت میں کورونا کی وجہ سے لاگو کیا گیا لاک ڈاؤن دنیا میں سب سے طویل مدت کا لاک ڈاؤن ہے۔ گزشتہ 60 دنوں سے بھارت کا ہر شہری لاک ڈاؤن کی مشکلات کا شکار ہو رہا ہے۔ اس دوران بیروزگاری اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ صرف اپریل میں ہی 2 کروڑ سے زائد افراد بھارت میں بیروزگار ہوئے ہیں۔ مودی سرکار کے پاس مہاجر مزدوروں کا ڈیٹا نہیں ہے۔ حکومت کے پاس صرف اتنا ریکارڈ ہے کہ 28 لاکھ لوگوں کی مدد کی۔ جب کہ یہ کوئی نہیں بتا رہا ہے کہ وزیر اعظم کیئرس فنڈ سے مزدوروں کو کتنا پیسہ دیا گیا۔ دنیا بھر میں لیبرمحکمے ہیں اور ہر ملک کا محکمہ اپنے لوگوں کی نوکری اور بیروزگاری کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس ہفتے کتنے لوگوں کو نوکری ملی ہے، کتنے لوگ بے روزگار ہوئے ہیں لیکن بھارت کا محکمہ لیبرخود سے یہ نہیں بتاتا کہ کتنے لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔

    سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی کے تازہ سروے کے مطابق اپریل میں 12 کروڑ 20 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں، ان کی نوکری گئی ہے، ان کا کام چھن گیا ہے۔ 24 مئی تک 10 کروڑ 20 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ ان گھروں میں کتنی مایوسی ہوگی، گھر خاندان پر کتنا برا ذہنی دباؤ پڑ رہا ہوگا۔ جس ملک میں 22 کروڑ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوئے ہوں وہاں میڈیا کی خاموشی سینکڑوں سوال کھڑے کرتی ہے- مسئلہ یہ ہے کہ طویل عرصہ تک دوسرے علاقوں میں بھی کام ملنے کا امکان کم ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں نوکری گئی تو وہاں مل جائے گی۔ مگر ان سے نام نہاد حکمرانوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ حالات کیسے بھی ہوں موج لیڈروں کی رہے گی،

    بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ بھارت میں مزدوروں کو ان کے گھر لے جانے والی ٹرینیں بغیر نیوی گیشن کے چل رہی ہیں جس سے مزدوروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مودی حکومت کے پاس نہ کوئی وژن ہے نا کوئی پلان، صرف ایک کے بعد ایک قدم ہوا میں اٹھائے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ 11 سال میں ملک کی جی ڈی پی سب سے نچلی 4.2 فیصد پر پہنچ گئی ہے اور آخری سہ ماہی کی شرح 3.1 فیصد پہنچ گئی لیکن حکومت کچھ ٹھوس قدم اٹھانے کے بجائے اس کے لیے کورونا کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔

    ایسا گزشتہ 160 سال میں بھی نہیں ہوا جب ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ مودی سرکار کو چاہیے تھا کی کورونا بحران میں لاک ڈاؤن کو صحیح طور سے لاگو کرتے، لیکن حکومت کے پاس کوئی پلان دکھائی نہیں دے رہا ہے جس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ دو ماہ سے زیادہ وقت سے ملک لاک ڈاؤن ہے لیکن کورونا کا بحران کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں لگتا ہے کہ آنے والے حالات اور بھی خوفناک ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں خود اپنی حفاظت کریں مودی سرکار کے بھروسے بیٹھے رہنے سے حالات سدھرتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا نے چین اور نیپال کے ساتھ سرحدی تنازعات پر بھی مودی سرکار کو نشانہ بنایا ہے، میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ نیپال ہمارا سب سے بڑا دیرینہ حلیف رہ چکا ہے۔ نیپال نے ابھی حال ہی میں اپنا ایک نقشہ جاری کیا جس میں اس نے بھارت کا سرحدی علاقہ لیپو لیکھ، کالاپانی اور لمپیا دھورا کو اپناحصہ قرار دیا۔ حالانکہ نیپال نے قانونی درجہ دینے کے لیے اپنے دستور میں تبدیلی کے عمل کو ملتوی کردیا ہے، لیکن وہ اپنے اس موقف سے پیچھے بھی نہیں ہٹا ہے کہ مذکورہ علاقے اس کے حصے ہیں۔ نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے اس کے لیے نیپال کی کل جماعتی میٹنگ میں عام رضامندی حاصل کرنے کی بات کہی ہے۔ یعنی کہ اگرنیپال کی تمام پارٹیاں متفقہ طور پر نیپال حکومت کے موقف کی حمایت کردیتی ہیں تو نیپال مذکورہ علاقوں پر اپنے دعوے کو مزید مضبوطی کے ساتھ رکھے گا اور اس کے لیے وہ اپنے دستور میں تبدیلی بھی لائے گا۔

    نیپال اگر ایک جانب سے بھارت کا پڑوسی ہے تو دوسری جانب اس کی سرحدیں چین سے بھی ملتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہ ہمارا سب سے دیرینہ حلیف ہمارے قائدانہ رول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چین کے قائدانہ رول سے زیادہ متاثر ہوگیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہمیں اپنے عالمی قیادت کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ بھارت نیپال کے ساتھ سرحدی تنازعہ سلجھانے کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ یعنی کہ نیپال اپنے یہاں کی سیاسی پارٹیوں کی عام رضامندی حاصل کرتا ہے تو کرے، ہم اس سے اپنے ہی ملک کے حصے پر، اپنی ہی جانب سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ کیا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ایسا قائدانہ رول آپ کو کبھی دیکھنے کو ملا ہے؟ اگر ملا ہو تو ہمیں ضرور بتائیے گا۔

    بھارتی میڈیا نے چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 25 مئی کو مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر چین کی فوج تقریباً دس کلومیٹر تک بھارتی علاقے کے اندر تک گھس آئی اور اپنے بیرک بھی بنانے شروع کردیئے۔ بھارتی میڈیا سے تو یہ خبرغائب رہی لیکن غیرملکی سوشل میڈیا پر اس حوالہ سے جو خبریں آئیں اس سے معلوم ہوا کہ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان کچھ جھڑپیں بھی ہوئیں ہیں۔

    مشرقی لداخ کے ایل اے سی پر گزشتہ دو ماہ سے چین اور ہمارے ملک کے درمیان تناؤ قائم ہے۔ اس تنازعے کو سلجھانے کے لیے ہماری حکومت کئی اعلیٰ سطحی میٹنگ کرچکی ہے جس میں پردھان سیوک کے علاوہ راج ناتھ سنگھ، اجیت ڈووال، بین راوت اور تینوں افواج کے سربراہان شامل تھے۔ لیکن ابھی تک تنازعہ جوں کا توں برقرار ہے۔ چین نے دو سے ڈھائی ہزار فوجیں تعینات کر رکھی ہیں۔ چین لداخ کے ان علاقوں پر اپنا دعویٰ کرتا ہے جب کہ یہ ہماری سرحدوں کے اندر واقع ہیں۔ اگر ہمارے ساتھ چین کا یہ تنازعہ بڑھتا ہے تو یہ 2017 کے ڈوکلام تنازعے کے بعد کا سب سے بڑا تنازعہ ہوسکتا ہے۔ یعنی کہ ہمیں اپنی ہی سرحد کے اندر اپنے ہی علاقے کو اپنے ہی قبضے میں رکھنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑ رہا ہے۔

    بھارتی میڈیا نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے وزیراعظم کا قائدانہ کردار ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پرقائدانہ رول ادا کرنے کے دعویدار مودی کے اپنے ملک کے سرحدی علاقے کس قدر محفوظ ہیں۔

    بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کوئی بھی ملک بھارت کے ساتھ کھڑا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی دوستی کو ہمارے پردھان سیوک اپنے لیے ایک معراج سے کم تصور نہیں کرتے۔ لیکن شاید یہ بھول جاتے ہیں ٹرمپ امریکہ نہیں ہیں اور امریکہ ٹرمپ نہیں ہے۔ امریکہ کے ہی سرکاری ادارے کئی بار بھارت پر تنقیدیں کرتے ہیں اور مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ہم پر پابندی عائد کرنے کی بات کرتے ہیں۔ مسلم ممالک کی تنظیم اوآئی سی اعلانیہ طور پر مودی حکومت پر تنقید کرچکا ہے۔ اسلاموفوبیا کی وبا سے متاثر ہونے والے مودی بھکت دبئی، کویت ہی نہیں بلکہ کینیڈا تک میں بھارت کی ناک کٹوا رہے ہیں۔

  • پاکستانی سابق فرسٹ کلاس کرکٹرکرونا کے باعث چل بسے

    پاکستانی سابق فرسٹ کلاس کرکٹرکرونا کے باعث چل بسے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا دی ہے، کرونا وائرس کا پاکستان میں بھی پھیلاؤ جاری ہے، کرونا وائرس کا شکار پاکستان کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر ریاض شیخ انتقال کر گئے ہیں۔

    کورونا وائرس کے سبب شدید علالت کا شکار ہونے والے51 سالہ لیگ سپنر ریاض شیخ گزشتہ شب انتقال کر گئے تھے جن کی کورنگی قبرستان میں تدفین کر دی گئی ہے۔ 43 فرسٹ کلاس میچز کھیلنے والے ریاض شیخ ان دنوں معین خان کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

    ریاض شیخ کی وفات پر سابق ٹیسٹ کپتان معین خان، راشدلطیف، سرفراز احمد، جاوید میانداد، وسیم باری، ظہیرعباس، فیصل اقبال، توصیف احمد اور پروفیسر اعجاز فاروقی سمیت دیگر نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی ہے۔

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    ممبئی جیل میں کرونا کا پھیلاؤ، قیدیوں کے لواحقین نے کس سے مانگی مدد؟

    بدنامہ زمانہ کلب نے مسلمانوں کے لئے "حلال سیکس” متعارف کروا دیا

    لاک ڈاؤن میں سوشل میڈیا پر لڑکیوں کا "ریپ” کرنے کی منصوبہ بندی

    لندن پلٹ جوان نے کئے گھریلو ملازمہ سے جسمانی تعلقات قائم، ملازمہ میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    کرونا کے مریض صحتیاب ہونے کے بعد کب تک کریں جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پرہیز؟

    کرونا کا خوف،60 سالہ مریض کو 4 گھنٹے میں 3 ہسپتالوں میں کیا گیا ریفر،پھر ہوئی ایمبولینس میں موت

    کرونا کے بہانے بھارت میں مسلمان نشانہ،بیان دینے پر مودی نے ہندو تنظیم کے سربراہ کو جیل بھجوا دیا

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    واضح رہے کہ کرونا کے باعث سندھ کے صوبائی وزیر کی بھی آج موت ہے، کرونا سے صحیتاب ہونے والے رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی بھی جن کا تعلق جے یو آئی سے تھا وفات پا گئے ہیں

  • خون سفید ہو گیا ، باپ کی کرونا سے موت، بیوی بچے گھر چھوڑ کر بھاگ گئے

    خون سفید ہو گیا ، باپ کی کرونا سے موت، بیوی بچے گھر چھوڑ کر بھاگ گئے

    لاہور:خون سفید ہو گیا ، باپ کی کرونا سے موت، بیوی بچے گھر چھوڑ کر بھاگ گئے،اطلاعات کے مطابق تھانہ فیروزوالہ کی حدود محلہ صابر ٹاون ونڈالہ دیال شاہ کے رہائشی پروفیسر ظہیر احمد ظہیر کرونا وائرس کیوجہ سے اپنے گھر پر قرنطینہ تھے

    ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ پروفیسر صاحب گزشتہ روز رضائے الہی سے وفات پا گئے, موت کے بعد بے حسی کا عالم یہ ہوا کہ پروفیسر صاحب کے بیوی بچے اور اہل محلہ بھی گھروں کو تالے لگا کر غائب ہوگئے
    کسی شخص نے تھانہ فیروزوالہ پولیس کو اطلاع کی تو ایس ایچ او نے موقع پر پہنچ کر وقوعہ کی تصدیق کی,

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پروفیسر صاحب کی میت بے یار مدد گار پڑی ہوئی تھی, ایس ایچ او تھانہ فیروزوالہ سب انسپکٹر عامر محبوب نے علاقے کو سیل کر کے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ہسپتال اطلاع دی, اب انتظامیہ پروفیسر صاحب کی میت کو SOPs کے ساتھ دفن کریں گے.

    حیرت اور افسوس کا امر یہ ہے کہ ایک طرف لوگوں کیلیے کورونا صرف ڈرامہ اور سازش ہے, دوسری طرف اپنے ہی پیاروں کے ساتھ ایسا غیر انسانی رویہ اپنایا جارہاہے, کورونا کو سازش اور ڈالرز بٹورنے کا بہانہ کہہ کر جس حکومت و ضلعی انتظامیہ کو گالیاں دی جارہی ہیں, آخر کار وہی آگے بڑھ کر لوگوں کے پیاروں کی تدفین کررہے ہیں

  • پٹرول کی قلت نہیں افسوس اس بات پرہے کہ پاکستان سے اربوں ڈالرزکمانے والی کمپنیاں کہاں گئیں‌ ؟سمیرگلزار

    پٹرول کی قلت نہیں افسوس اس بات پرہے کہ پاکستان سے اربوں ڈالرزکمانے والی کمپنیاں کہاں گئیں‌ ؟سمیرگلزار

    کراچی :پٹرول کی قلت نہیں افسوس اس بات پرہے کہ پاکستان سے اربوں ڈالرزکمانے والی کمپنیاں کہاں گئیں‌ ؟سمیرگلزار،اطلاعات کے مطابق آل پاکستان پیٹرولیم ریٹیلرزایسو سی ایشن چیئرمین سمیر گلزار کا کہنا ہے کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اس وقت پٹرول کی کمی نہیں ہے ، کمی ہے تو اس چیز کی ہےکہ پاکستان سے سالانہ اربوں ڈالرزکمانےوالے نجی کمپنیاں مشکل وقت میں کیوں غائب ہیں

    باغی ٹی وی کے مطابق اپنے ویڈیوپیغام میں آل پاکستان پیٹرولیم ریٹیلرزایسو سی ایشن چیئرمین سمیر گلزارنے کہا ہےکہ پاکستان سے کمانے والی پرائیویٹ کمپنیاں اس وقت کہیں نظرنہیں آرہیں صرف ریاست پاکستان کا سرکاری ادارہ پاکستان اسٹیٹ آئل کارپوریشن اپنے ملک کی خدمت کےلیے موجود ہے اوراس کی خدمات پرفخربھی ہے، سمیرگلزارنےکہا کہ اس ادارے کے علاوہ باقی سب پرائیویٹ ادارے کہیں نظرنہیں آرہے

     

     

    آل پاکستان پیٹرولیم ریٹیلرزایسو سی ایشن چیئرمین سمیر گلزارنے کہا کہ ٹوٹل ، پارکو اورشیل جیسے ادارے جوسالانہ 400 سے 500 ملین ڈالرز کماکرملک سے باہرلے جاتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داری پورے نہیں کررہے ، ان کا کہنا تھا کہ وہ بالکل تعاون نہیں کررہے اوران کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات فراہم نہیں کی جارہیں ،

    آل پاکستان پیٹرولیم ریٹیلرزایسو سی ایشن چیئرمین سمیر گلزار کہتے ہیں کہ میں اہل پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ حکومت کے سامنے یہ چیز رکھیں اوران کوان اداروں کی اس حرکت سے آگاہ کریں‌، ان کا کہنا تھا کہ جو کمپنیاں پاکستان سے اربوں ڈالرز کما کرباہرلے جاتی ہیں اورمشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑی نہیں ہوتیں ان کو پاکستان میں کام کرنے کا کوئی حق نہیں

  • حکومت اور اس کے ادارے کرونا کے حوالے سے سچ نہیں بول رہے ،ڈاکٹرسعید الہٰی

    حکومت اور اس کے ادارے کرونا کے حوالے سے سچ نہیں بول رہے ،ڈاکٹرسعید الہٰی

    لاہور:حکومت اور اس کے ادارے کرونا کے حوالے سے سچ نہیں بول رہے ،ڈاکٹرسعید الہٰی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سابق چیئر مین اورمعروف سیاسی وسماجی کارکن ڈاکٹر سعید الہی نے کہا ہے کہ حکومت کورونا کے حوالے سے پہلے دن سے جھوٹ بول رہی ہے جبکہ محکمہ صحت میڈیا کے ذریعے عوام کوکمرہ کرنے کےلئے کچھ اور اپنے وزیر اعلی کو کچھ اور بتاتا رہاہے

    ٍڈاکٹرسعید الہٰی نے انکشاف کیا کہ جس کی وجہ سے لاہور سمیت پنجاب بھر میں کورونا کیسز بڑھ گئے ہیں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سعید الہی نے کہا کہ حکومت اور محکمہ صحت کی نااہلی کی وجہ سے آج صورتحال یہ ہے کہ لوگ کورونا کو ایک مذاق سمجھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نرسز اور دیگر ہیلتھ پروفیشنلز پر تشدد کے واقعات بڑھ گئے ہیں ،

    انہوں نے کہا کہ وی آئی پیز کی بجائے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے تحفظ کے لئے پولیس اور رینجرز تعینات کی جائے تاکہ تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکا جا سکے انہوں نے کہا میں پہلے دن سے کہ رہا ہوں کہ نیازی حکومت کورونا کے حوالے سے عوام کے ساتھ جھوٹ بول رہی ہے جس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ محکمہ صحت پنجاب عوام کو کچھ اور اعداد وشمار بتاتا رہا اور وزیر اعلی کو کچھ اور بتایا گیا مگر میڈیا نے یہ بھانڈا توڑ دیا ہے جس کے بعد اصل حقیقت کھل کر سامنے آگئ ہے ۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے آپ کو گھروں تک محدود رکھیں کورونا سے بچیں ماسک کا استعمال ضرور کریں کیونکہ حکومت انہیں صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے