Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ڈسکہ: نہر اپر چناب میں نہاتے ہوئے دو نوجوان ڈوب گئے، ریسکیو آپریشن جاری

    ڈسکہ: نہر اپر چناب میں نہاتے ہوئے دو نوجوان ڈوب گئے، ریسکیو آپریشن جاری

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ڈسکہ میں تھانہ موترہ کے علاقے موترہ کے مقام پر نہر اپر چناب میں نہاتے ہوئے دو نوجوان ڈوب گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شدید گرمی کے باعث دونوں نوجوان نہانے کے لیے نہر پر آئے تھے اور موترہ پل کے قریب نہاتے ہوئے گہرے پانی میں چلے گئے۔

    ریسکیو 1122 نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کی زیر نگرانی فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ڈوبنے والے نوجوانوں کی شناخت 27 سالہ عطا اللہ اور 19 سالہ رضوان کے نام سے ہوئی ہے، جو کہ آلو مہار گاؤں کے رہائشی اور آپس میں ماموں بھانجا تھے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق پانی کا بہاؤ تیز ہونے کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات درپیش ہیں، تاہم ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے مسلسل کوششیں جاری ہیں تاکہ نوجوانوں کو تلاش کیا جا سکے۔ واقعہ کے باعث علاقے میں افسوس کی فضا قائم ہے۔

  • ہری پور میں سوشل میڈیا انفلوئنسر سے  مبینہ اجتماعی زیادتی،  مقدمہ درج

    ہری پور میں سوشل میڈیا انفلوئنسر سے مبینہ اجتماعی زیادتی، مقدمہ درج

    خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں ایک 26 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر کو نوکری کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، پولیس نے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    متاثرہ خاتون کی شکایت پر خانپور پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 34، 376، 392 اور 506 شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق واقعہ بدھ کی شام 8 بجے تحصیل خانپور میں پیش آیا۔ متاثرہ خاتون نے بیان دیا کہ ایک ملزم نے ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کے ذریعے رابطہ کیا اور خانپور کے ایک ہوٹل میں نوکری کی پیشکش کی۔

    انہوں نے بتایا کہ انٹرویو کے بہانے بس اسٹاپ بلایا گیا، جہاں پہنچنے پر ملزمان نے انہیں گاڑی میں زبردستی بٹھا کر چند میل دور لے جا کر اسلحے کے زور پر کپڑے اتارنے پر مجبور کیا۔ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ گاڑی ایک نامعلوم شخص چلا رہا تھا جبکہ دوسرا ملزم اگلی سیٹ پر موجود تھا، بعد ازاں دونوں نے متاثرہ خاتون کا ریپ کیا اور اس کا موبائل فون، تین ہزار روپے نقدی اور سونے کا لاکٹ لے کر سڑک کنارے چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

    لندن میں ایرانی سفارتخانے کے باہر تصادم، دو زخمی، آٹھ گرفتار

  • تنگوانی: بازار کاروکاری تنازع پر میدانِ جنگ بن گیا، متعدد زخمی، پولیس خاموش

    تنگوانی: بازار کاروکاری تنازع پر میدانِ جنگ بن گیا، متعدد زخمی، پولیس خاموش

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی شہر کا مصروف ترین بازار اس وقت میدانِ جنگ بن گیا جب پرانی کاروکاری کے تنازع پر بھلکانی اور بنگلانی قبائل کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ دونوں جانب سے لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، جس سے شہری خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق جھگڑا اچانک شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے بازار میں بدنظمی پھیل گئی۔ تصادم کے نتیجے میں دونوں فریقین کے پانچ افراد جن میں خادم حسین اور امتیاز حسین شامل ہیں شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال تنگوانی منتقل کیا گیا۔

    واقعے کے بعد بھی تنگوانی پولیس کی جانب سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جس پر شہریوں اور سماجی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بازار میں دن دیہاڑے لاٹھیوں کا کھیل اور پولیس کی خاموشی قابلِ مذمت ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فوری کارروائی کرے، مقدمات درج کرے، اور شہر میں امن و امان بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ مستقبل میں کوئی قبیلہ یا گروہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ کرے۔

  • ٹھٹھہ: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے ماں اور نوزائیدہ جاں بحق، ورثاء کا احتجاج

    ٹھٹھہ: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے ماں اور نوزائیدہ جاں بحق، ورثاء کا احتجاج

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں کی رپورٹ)سجاول سے تعلق رکھنے والی ماں اور نوزائیدہ کی زندگی ہسپتال کی دہلیز پر دفن، مبینہ غفلت پر عوام کا احتجاج، مرف کے ہسپتال نظام پر سوالیہ نشان

    گوٹھ ٹیمانی، بٹھورو روڈ سجاول کی رہائشی حاملہ خاتون یاسمین زوجہ اکرم ملاح کی زندگی سول ہسپتال مکلی میں ڈاکٹروں اور عملے کی مبینہ غفلت کی نذر ہو گئی جبکہ اس کا نوزائیدہ بچہ بھی ماں کے ساتھ ہی دم توڑ گیا۔ متاثرہ خاندان انصاف کے لیے دہائیاں دے رہا ہے جبکہ پورے علاقے میں محکمہ صحت کی مجرمانہ خاموشی پر شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یاسمین کو تکلیف کے باعث پہلے سجاول ہسپتال لایا گیا، جہاں سے اسے فوری طور پر ٹھٹھہ سول ہسپتال مکلی ریفر کر دیا گیا۔ وہاں گائنی وارڈ میں بروقت علاج نہ ہونے، مبینہ غیرذمہ دارانہ آپریشن اور عملے کی لاپروائی کے نتیجے میں نوزائیدہ بچہ پیدا ہوتے ہی دم توڑ گیا جبکہ خاتون کی حالت نازک ہو گئی۔

    زخموں سے چور خاتون کو کراچی ریفر تو کر دیا گیا لیکن 1122 ایمبولینس میں مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ راستے میں دم توڑ گئی۔ مزید بے حسی یہ کہ خاتون کی میت کو دوبارہ اسی ہسپتال لایا گیا جہاں سے اسے زندہ نکالا گیا تھا۔ سرکاری ایمبولینس کے ذریعے اس کی لاش واپس گوٹھ ٹیمانی پہنچائی گئی، جہاں کہرام مچ گیا۔

    مرحومہ کے شوہر اکرم ملاح نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
    "میری بیوی بالکل تندرست تھی، سرکاری ہسپتال کی لاپرواہی نے میرے گھر کا چراغ بجھا دیا۔ یہ صرف ایک ماں اور بچے کی موت نہیں، یہ انسانیت کا قتل ہے۔ ہمیں انصاف چاہیے!”ورثاء اور اہلِ علاقہ نے ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ:

    * مرف کے زیرانتظام سول ہسپتال مکلی میں ہونے والی غفلت کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے،
    * ذمہ دار ڈاکٹروں اور عملے کو فوری معطل کر کے مقدمہ درج کیا جائے،
    * سرکاری ہسپتالوں کو نجی این جی اوز کے حوالے کرنے کی پالیسی پر ازسرنو غور کیا جائے،
    * 1122 ایمبولینس سروس کی کارکردگی کا سخت آڈٹ کرایا جائے۔

    یاد رہے کہ جب سے سول ہسپتال مکلی کو مرف (NGO) کے حوالے کیا گیا ہے، ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک، علاج میں تاخیر اور اموات کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن تاحال حکومت سندھ اور محکمہ صحت کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک اور ماں اور بچہ جان سے جائیں گے تب نوٹس لیا جائے گا؟

    عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • علی پور: مبینہ پولیس مقابلے میں مطلوب ڈاکو ہلاک، لواحقین کا ماورائے عدالت قتل کا الزام

    علی پور: مبینہ پولیس مقابلے میں مطلوب ڈاکو ہلاک، لواحقین کا ماورائے عدالت قتل کا الزام

    اوچ شریف(باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) تھانہ صدر علی پور کی حدود میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران قتل، ڈکیتی اور راہزنی کے مقدمات میں مطلوب ڈاکو کالو عرف کالی ڈاہا ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا اور ہسپتال منتقل کرتے وقت دم توڑ گیا۔

    پولیس کے مطابق گزشتہ رات تھانہ سیت پور کی حدود میں ڈاکوؤں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے، لیکن تعاقب کے دوران تھانہ صدر علی پور میں دوبارہ مقابلہ ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کی فائرنگ کے جواب میں حفاظتی جوابی کارروائی کی گئی، جس میں کالو زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق کالو سکنہ سلطان پور کے خلاف تھانہ سیت پور اور خیرپور سادات میں درجن سے زائد مقدمات درج تھے۔

    دوسری جانب، ہلاک ہونے والے کے لواحقین نے پولیس پر ماورائے عدالت قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کالو کو گھر سے حراست میں لیا گیا اور مقابلے کا "ڈرامہ” رچایا گیا۔ مقامی سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • مظفرگڑھ: چائلڈ پورنوگرافی کے بڑے کیس میں ملزم گرفتار، متعدد بچوں سے زیادتی کا انکشاف

    مظفرگڑھ: چائلڈ پورنوگرافی کے بڑے کیس میں ملزم گرفتار، متعدد بچوں سے زیادتی کا انکشاف

    مظفرگڑھ: (باغی ٹی وی) مظفرگڑھ میں چائلڈ پورنوگرافی کا ایک سنگین کیس منظر عام پر آیا ہے، جہاں پولیس نے ملزم فرید گبول کو گرفتار کر لیا۔ تھانہ صدر پولیس کے مطابق ملزم نے موضع سردار آباد میں متعدد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ان کی نازیبا ویڈیوز بنائیں، جنہیں بلیک میلنگ اور سوشل میڈیا پر پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

    ایک متاثرہ بچے کی شکایت پر پولیس نے کارروائی شروع کی، جس نے ملزم کے خلاف نازیبا ویڈیوز سمیت دیگر ثبوت فراہم کیے۔ متاثرہ بچے نے انکشاف کیا کہ ملزم نے اسے اور دیگر بچوں کو مسلسل بلیک میل کیا۔ پولیس نے ملزم کے موبائل سے مزید ویڈیوز برآمد کیں، جن سے ایک اور متاثرہ بچے کی شناخت ہوئی، جسے قانونی کارروائی کے لیے تھانے طلب کیا گیا ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ملزم نے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔ مقدمہ تعزیرات پاکستان اور پیکا ایکٹ 2016 کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جبکہ کیس کی نگرانی کے لیے ڈی ایس پی سٹی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پولیس دیگر متاثرین سے رابطے کر رہی ہے تاکہ مزید انکشافات اور قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں دائرہ دین پناہ میں بھی چائلڈ پورنوگرافی کا ایک بین الاقوامی گینگ پکڑا گیا تھا، جو بچوں کی نازیبا ویڈیوز بناکر ڈارک ویب پر غیر ملکیوں کو فروخت کرتا تھا۔

  • تنگوانی میں ڈاکو راج، پولیس بے بس

    تنگوانی میں ڈاکو راج، پولیس بے بس

    تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی اور گرد و نواح میں ڈاکوؤں کا راج قائم ہو چکا ہے۔ ہائی وے اور لنک روڈز پر مسلح ڈاکو کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ پولیس کا کوئی وجود نظر نہیں آ رہا۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں لوٹ مار کی پانچ وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، لیکن پولیس تاحال خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

    پہلی واردات تنگوانی-کرمپور لنک روڈ پر دنگلہ ہوٹل کے قریب پیش آئی، جہاں کشمور کے رہائشی محمد سلیم گولو سے نقدی اور سامان لوٹ کر ڈاکو فرار ہو گئے۔

    دوسری واردات تھانہ شبیر آباد کی حدود میں علی دیرے کے مقام پر ہوئی جہاں دو سو میرانی کی ڈاٹسن کو روک کر ڈاکوؤں نے ڈرائیور کو یرغمال بنایا اور موبائل، نقد رقم اور قیمتی سامان چھین لیا۔

    تیسری واردات سردار ماڑی پور میں لولئی برادری کے ڈرائیور کو نشانہ بنایا گیا جہاں اس کی پک اپ، موبائل اور نقدی لوٹ لی گئی۔

    چوتھی واردات نئی بائی پاس کے قریب اوگا ہی لاڑو میں ہوئی جہاں ملان جیون گاؤں کے رہائشی صدیق ولد پہلوان گولو سے مال سے بھری ڈاٹسن، نقدی اور سامان چھین کر ڈاکو فرار ہو گئے۔

    پانچویں واردات بروہی موڑ کے پاس ہوئی جہاں عرض محمد جکرانی سے موٹرسائیکل، موبائل اور نقدی چھینی گئی۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس تھانہ شبیر آباد مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے، کسی واردات پر اب تک نہ کوئی کارروائی ہوئی اور نہ ہی ڈاکو گرفتار کیے گئے۔ ڈاکوؤں کے خوف سے دیہاتی اور شہری کاروباری سرگرمیاں ترک کر کے گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور علاقے میں پولیس رٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوکاڑہ: چنگ چی اور ٹریکٹر ٹرالی کے تصادم میں ایک نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    اوکاڑہ: چنگ چی اور ٹریکٹر ٹرالی کے تصادم میں ایک نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اوکاڑہ کے 6 چک غلہ گودام کے قریب ایک بھیانک حادثہ پیش آیا، جہاں چنگ چی رکشہ اور ٹریکٹر ٹرالی کے درمیان تصادم ہو گیا، جس کے نتیجے میں رکشہ میں سوار 16 سالہ نوجوان ولید جاں بحق ہو گیا جبکہ 13 سالہ زوالقرنین زخمی ہوا۔ دونوں متاثرین چک نمبر 9 فور ایل کے رہائشی بتائے گئے ہیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق ٹریکٹر ٹرالی نمبر ایس ایل ڈی 5208 کے ساتھ تصادم تیز رفتاری اور لاپروا ڈرائیونگ کی وجہ سے ہوا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو موٹر بائیک سروس اور ایمبولینس فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں، جہاں ریسکیو ٹیموں نے زخمی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور پھر اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    جاں بحق نوجوان کی نعش کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

  • اوچ شریف: جعلی دودھ کا زہریلا کھیل، فوڈ اتھارٹی کی خاموشی عوام کی زندگیوں پر بھاری

    اوچ شریف: جعلی دودھ کا زہریلا کھیل، فوڈ اتھارٹی کی خاموشی عوام کی زندگیوں پر بھاری

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان ) جعلی دودھ کا زہریلا کھیل، فوڈ اتھارٹی کی خاموشی عوام کی زندگیوں پر بھاری

    اوچ شریف میں ایک شرمناک اور خطرناک صورتِ حال روزمرہ کا معمول بن چکی ہے، جہاں خالص دودھ کے نام پر شہریوں کو کیمیکلز سے بھرپور زہریلا مشروب پلایا جا رہا ہے۔ زم زم ڈیری سمیت شہر کی متعدد دودھ فروش دکانیں غلیظ پانی، سنگاڑھا پاؤڈر، یوریا، سرف اور دیگر جان لیوا کیمیکلز سے تیار کردہ جعلی دودھ اور دہی سینکڑوں گھرانوں تک سپلائی کر رہی ہیں۔ سادہ لوح عوام خالص دودھ کی تلاش میں اپنی جیب خالی کر رہے ہیں اور اپنی صحت کو شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔ اس زہریلے دودھ کے استعمال سے ہیپاٹائٹس، معدے کے امراض، دل کی بیماریاں، بچوں کی قوتِ مدافعت میں کمی اور فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، لیکن فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ اس سنگین مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    فوڈ اتھارٹی جو عوام کی صحت کی نگہبان ہونی چاہیے، اس گھناؤنے کھیل میں مبینہ طور پر مافیا کی سرپرست بنی ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق فوڈ اتھارٹی کے کچھ اہلکار دودھ فروش مافیا سے ماہانہ نذرانے وصول کر کے اس غیر قانونی دھندے کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ عوامی شکایات کے باوجود کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس سے شہریوں میں شدید بے چینی اور غصہ پایا جا رہا ہے۔ خالص دودھ کی دوگنی قیمت پر یہ زہریلا مشروب فروخت کیا جا رہا ہے، بےضابطہ کہ نہ کوئی ریٹ لسٹ ہے، نہ معیار کی جانچ اور نہ ہی لیبارٹری رپورٹس۔ یہ سب کچھ انتظامیہ کی سرپرستی میں ہو رہا ہے، جو عوام کی جیب اور صحت پر ڈاکا ڈال رہا ہے۔

    شہری، وکلا، اساتذہ، ڈاکٹرز اور سماجی حلقوں نے اس خطرناک صورتِ حال پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ زم زم ڈیری سمیت تمام جعلی دودھ فروشوں کے خلاف مقدمات درج کرنے، فوڈ اتھارٹی کے کرپٹ اہلکاروں کو معطل کر کے انکوائری شروع کرنے، شہر بھر میں دودھ اور دہی کے لیبارٹری ٹیسٹ کر کے رپورٹس عوام کے سامنے پیش کرنے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کی مکمل تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اب خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ وہ صاف دودھ اور صحت مند زندگی کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں اور اس زہریلے کھیل کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • اوچ شریف: نابالغ سے جعلی نکاح کے ذریعے زیادتی، ہائی کورٹ کا سخت ایکشن،مقدمہ درج

    اوچ شریف: نابالغ سے جعلی نکاح کے ذریعے زیادتی، ہائی کورٹ کا سخت ایکشن،مقدمہ درج

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگار حبیب خان)نابالغ سے جعلی نکاح کے ذریعے زیادتی، ہائی کورٹ کا سخت ایکشن، مقدمہ درج

    اوچ شریف کی راؤ کالونی میں 14 سالہ عاصمہ بی بی کے ساتھ جعلی نکاح کے ذریعے زیادتی کے دل دہلا دینے والے واقعے پر بہاولپور ہائی کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا۔

    متاثرہ لڑکی کی والدہ سلمیٰ بی بی نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ ان کی بیٹی کو جنید سلیم، شاہد، محبوب، شہزاد اور مرکزی ملزم محمد زاہد نے اغوا کیا۔ بعد ازاں، قاضی محمد وسیم (نکاح خواں) اور دیگر گواہوں کی ملی بھگت سے ایک جعلی نکاح نامہ تیار کیا گیا تاکہ اس غیر قانونی فعل کو نکاح کا روپ دیا جا سکے۔

    عدالت عالیہ نے نادرا ریکارڈ کے مطابق متاثرہ لڑکی کی عمر 14 سے 15 سال قرار دی اور فیصلہ سنایا کہ نابالغ لڑکی نکاح کے معاہدے کی قانونی اہلیت نہیں رکھتی۔ عدالت نے ایس ایچ او تھانہ اوچ شریف کو ہدایت کی کہ محمد زاہد، قاضی محمد وسیم، نکاح رجسٹرار اور گواہوں کے خلاف اغوا، زیادتی، جعل سازی اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ سمیت فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔


    عدالتی احکامات پر فوری عمل کرتے ہوئے پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور سب انسپکٹر محمد اعتزاز احسن کو تفتیش سونپ دی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور مکمل چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ متاثرہ والدہ نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی فراہمی اور ملزمان کو سخت سزا دینے کی اپیل کی ہے تاکہ معاشرے میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

    اس واقعے نے مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے، اور رہائشیوں اور سماجی کارکنوں نے نابالغ بچیوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین اور ان کے نفاذ پر زور دیا ہے۔