مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں مبینہ طور پر مضرصحت گوشت کھانے سے3بچوں سمیت 7 افراد کی حالت غیر ہوگئی.متاثرہ خاندان کو ہمسایوں نے صدقے کاگوشت دیا تھا۔متاثرہ خاندان نے صدقے میں ملنے والا گوشت پکا کر کھایا تو خاندان کے3 بچوں سمیت 7 افراد کی حالت غیر ہوگئی۔ریسکیو 1122 کیمطابق متاثرہ افراد میں 3 بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جنہیں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال علی پور منتقل کردیاگیاہے.پولیس نےواقعے کی تحقیقات شروع کردیں.واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی علی پور میں مضرصحت دودھ پینے سے 2 بچے جاں بحق اور 4 افراد کی حالت غیر ہوگئی تھی.
Category: جرائم و حادثات
غیرقانونی نیلی بتی،ریوالونگ لائٹس اور رنگدار شیشوں کی حامل گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کاآغاز
فیصل آباد(اے پی پی)حکومتی ہدایات کی روشنی میں محرم الحرام کے ۱ٓغاز کے باعث فیصل آباد میں سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے غیرقانونی نیلی بتی،ریوالونگ لائٹس اور رنگدار شیشوں کی حامل گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کاآغاز کردیا گیاہے جبکہ درجنوں گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے دوران ان سے بھاری جرمانہ بھی وصول کیاگیاہے اور انہیں وارننگ دی گئی ہے کہ اگر دوبارہ مذکور ہ گاڑیوں پر رنگدار شیشے، غیر قانونی نیلی بتیاں، ریوالونگ لائٹس یا ہوٹرز نصب کئے گئے تو ان گاڑیوں کو سرکاری تحویل میں لے لیاجائیگا اور ان کی رجسٹریشن منسوخ کرنے سمیت بھاری جرمانوں سے بھی گریز نہیں کیاجائیگا۔ سٹی ٹریفک پولیس فیصل آباد کے ترجمان نے بتایاکہ محرم الحرام کے ۱ٓغاز کے باعث کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے ٹریفک رولز کی سختی سے پابندی کاحکم جاری کیا گیاہے جس کے تحت محرم الحرام کے حوالے سے سٹی ٹریفک پولیس نے غیرقانونی نیلی بتی،ریوالونگ لائیٹس اور رنگدار شیشوں کی حامل گاڑیوں کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اس حوالے سے تما م ٹریفک وارڈنز کو سخت ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ کارروائی اور کارکردگی کا جائزہ ٹریفک سرکلز کی سطح ُپر لیاجارہاہے۔انہوں نے تما م شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی گاڑیوں پر غیر قانونی نیلی بتی، ریوالونگ لائٹس اور رنگدار شیشوں کے استعمال سے گریز کر یں تاکہ وہ کسی بھی پریشانی یا قانونی کاروائی سے محفوظ رہ سکیں۔
ماتمی جلوسوں کے راستوں میں اینٹ، روڑا، پتھر وغیرہ جمع کرنے پر پابندی
فیصل آباد (اے پی پی)ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144کے تحت فیصل آباد ڈویژن سمیت پنجاب بھر کے تمام 36 اضلاع میں عشرہ محرم اور یوم عاشور کے تعزیہ، ذوالجناح، علم اور دیگر ماتمی جلوسوں کے راستوں میں آنے والی عمارات میں اینٹ، روڑا، پتھر وغیرہ جمع کرنے پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ عزاداری کے جلو سوں کے راستوں میں سریا، ڈنڈے، سوٹے وغیرہ بھی سٹاک نہیں کئے جا سکیں گے۔فیصل آباد ڈویژنل انتظامیہ کے ترجمان نے بتایاکہ محکمہ داخلہ کی جانب سے تمام اضلاع کے ڈی سیز و ڈی پی اوز کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں مذکورہ پابندی پر سختی سے عملدرآمد کروائیں اور اس ضمن میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
عشرہ محرم کے دوران خوف و ہراس،سنسنی خیزی اور افواہیں پھیلانے پر پابندی
فیصل آباد (اے پی پی)عشرہ محرم الحرام کے دورا ن امن و امان کی صورتحال قابو میں رکھنے کیلئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144کے تحت فیصل ۱ٓباد سمیت صوبہ کے تمام اضلاع میں خوف وہراس اور سنسنی خیز بے بنیاد اور حقائق کے منافی افواہیں پھیلانے،امن وامان میں خلل ڈالنے والے قابل اعتراض تحریروں پر مبنی بینرز، پمفلٹس، پوسٹرز، ہینڈ بلز کی اشاعت،لٹریچر کی تقسیم اور وال چاکنگ کرنے پر فوری طور پر سختی سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ فیصل آباد ڈویژنل انتظامیہ کے ترجمان نے بتایاکہ محکمہ داخلہ کے ان احکامات کے تحت کسی بھی ضلع کی ریونیو حدود میں محرم الحرام کے جلوسوں ومجالس کے علاوہ دیگر مقامات پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے،قابل اعتراض اور مذہبی منافرت پر مشتمل آڈیوو وڈیوکیسٹس کی ریکارڈنگ،فروخت اور چلانے، اشتعال انگیز تقاریر کرنے، نعرے لگانے اور آتشیں اسلحہ ودیگر ہتھیاروں کی نمائش و لیکرچلنے کی ممانعت ہوگی جبکہ محرم کے جلوسوں ومجالس وغیرہ دیکھنے کیلئے مکانوں ودکانوں اور دیگر عمارتوں کی چھتوں پر جمع ہونے اور محرم جلوسوں ومجالس کے راستوں پر ہر قسم کی تجاوزات کھڑی کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔انہوں نے بتایاکہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور بعدازاں کوئی عذر قابل قبول نہ ہوگا۔

غم ہی غم ، ماں باپ جانبحق ، بچیاں یتیم ہوگئیں
کراچی:مکان کی چھت کیا گری کہ ماں باپ کی جان لے گئی اور بچیاں یتیم ہوگئے، اطلاعات کے مطابق کھارادر میں پرانی عمارت کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ ان کی بچیاں زخمی ہیں۔ذرائع کے مطابق کھارادر باغیچہ مچھی میانی میں واقع دیوی بائی نامی پرانی عمارت کی رات گئے اچانک چھت گر گئی جس کے نتیجے میں سوئے ہوئے میاں بیوی جاں بحق اور ان کی دو بچیاں زخمی ہوگئی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمی بچیوں کو فوری طور پر طبی امدا کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے جب کہ امدادی ٹیموں کے رضاکاروں نے نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا ہے۔جاں بحق افراد کی شناخت 35 سالہ محمد اکرم اور نازیہ کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمیوں میں بچیاں دس سالہ ثانیہ اور آٹھ سالہ زینب شامل ہیں۔اسپتال میں زخمی بچی نے سانحہ کے متعلق بتایا کہ سوتے میں اچانک رات کو چھت اور الماری ان کے اوپر گرگئی۔ بچی کے مطابق ان کی امی بھی ساتھ ہی سو رہی تھیں۔
کھارادر سے اطلاعات کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی پہنچنے والے رضاکاروں اور پولیس اہلکاروں نے جب اہل محلہ کی مدد سے ملبے تلے دبے اکرم اور نازیہ کو نکالا تو ان کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔

"صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ
عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.
Muhammad Abdullah 
پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند
کسی بھی ملک میں پولیس کا محکمہ صرف اور صرف اس لیے بنایا جاتا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کو تحفظ دیا جا سکے ۔ لوگوں کا جان و مال چوروں ، ڈاکوٶں اور لٹیروں سے محفوظ رکھا جا سکے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے پولیس کا محکمہ ایک ایسا محکمہ ہے جہاں انسان سب سے زیادہ بے تحفظ ہے ۔ خاص طور پر پنجاب پولیس کی صورتحال بہت ہی زیادہ خراب ہے ۔ پنجاب پولیس نا صرف عوام میں اپنا اعتماد بری طرح کھو چکی ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے بیشمار نفرت بھی ڈال چکی ہے ۔ پنجاب پولیس کی وجہ سے جہاں پنجاب کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں وہیں پنجاب پولیس کے جوان بھی انتہاٸی لاچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں جہاں نا تو پنجاب پولیس کے جوانوں کے پاس نوکری کا مکمل تحفظ موجود ہے اور نا ہی ان کے پاس کوٸی ذاتی طاقت ۔ پنجاب پولیس میں زیادہ تر سیاسی اثر ورسوخ ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اگر کوٸی مجرم طاقت ور ہے تو وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس پر دباٶ ڈال کر لوگوں کا جینا حرام کیے رکھتا ہے ۔ اگر کوٸی شریف اور ایمان دار پولیس والا ایسے مجرم پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو یا تو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا پھر نوکری سے ۔ بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسے پولیس والے کا تبادلہ کہیں دور دراز ایسے علاقوں میں کر دیا جاتا ہے جہاں دوسرے پولیس والے اس سے سبق سیکھ سکیں کہ انہیں صرف اور صرف سیاسی نماٸندوں کی ہی خدمت کرنی ہے ۔ لیکن انہی پولیس والوں کے نزدیک ایک عام انسان جس کے پاس نا دولت ہے ، نا سیاسی اثر و رسوخ ، نا عدالتوں میں چکر کاٹنے کا وقت اور نا ہی مقدمہ لڑنے کے لیے مہنگا وکیل کرنے کے لیے پیسہ تو یہی پولیس والے عام عوام کا جینا حرام کر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک عام شہری بغیر جرم کے شامل تفتیش کر دیا جاتا ہے اور وہ بیچارہ پھر دوران تفتیش ہی خالق حقیقی سے جا ملتا ہے ۔ ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس مظلوم پر کسی سیاسی شخصیت نے مقدمہ کروایا ہوتا ہے یا پھر کسی نے اپنی خاندانی دشمنی نکالنے کے لیے پولیس کو بھاری رقم دی ہوتی ہے ۔ دوسری اہم وجہ یہ کہ جب یہی پولیس والے بھرتی ہوتے ہیں تو انہیں نوکری کے حصول کے لیے بھاری رشوت دینی پڑتی ہے
اور جب انہیں نوکری مل جاتی ہے تو یہ پولیس والے اپنی رشوت کے پیسے لوگوں سے وصول کرنے کے چکروں میں عام پبلک کے خون پسینے کی کماٸی کا ایک ایک سو روپیہ تک اپنی جیبوں میں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں ۔
پنجاب پولیس میں آج تک مقدمہ سے لے کر تفتیش تک وہی سسٹم چلا آرہا ہے جو انگریزوں نے برصغیر میں راٸج کیا تھا ۔ انگیریزوں کا پولیس بنانے کا مقصد تو یہی تھا کہ وہ یہاں کے مظلوم اور غلام لوگوں پر اپنا اثر و رسوخ بٹھاٸے رکھیں ، لوگوں پر بلاوجہ ظلم و تشدد کرتے رہیں تا کہ کوٸی آزادی کا نام نا لے ۔ انگریزوں کو گے تقریبا ایک صدی ہونے کو ہے مگر ہمارا پولیس کا نظام آج بھی وہی کا وہی ہے جو آج سے ایک صدی پہلے تھا ۔ ہمارے ہاں پولیس کا آج بھی یہی مقصد ہے کہ عام عوام پر سیاسی لوگوں اور امیر کبیر چوروں ڈاکوٶں کا خوف جماٸے رکھا جاٸے تاکہ یہ لوگ کبھی بھی کسی سیاسی نماٸیندے کے سامنے حق بات نا کر سکیں ۔ بعض اوقات تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ چور ، ڈاکو اور بھتہ لینے والے خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی لوٹ مار سے ملنے والی چیزوں میں سے پولیس والوں کو بھی حصہ دیتے ہیں ۔
کوٸی بھی محکمہ مکمل طور پر برا نہیں ہوتا نا ہی اس محکمے کے سبھی لوگ برے ہوتے ہیں جہاں پولیس والوں میں بہت سے درندے نظر آتے ہیں وہیں چند ایک پولیس والے عوام کی خاطر جانیں بھی لٹا دیتے ہیں ۔ بہت سے پولیس والے اسی عوام کی خاطر اپنی بیوی کو بیوہ ، بچوں کو یتیم ، ماں باپ اور چھوٹے بہن بھاٸیوں کو بے سہارا چھوڑ کر شہادت پا لیتے ہیں ۔ لیکن ایسے اچھے پولیس والوں کو بھی ہمارے پاکستانی بھاٸی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور ان کے جذبے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔
پنجاب پولیس میں جب تک نٸی اصلاحات نہیں آٸیں گی تب تک یہ محکمہ کبھی بھی درست نہیں ہو سکتا۔ اس محکمے کو عوام دوست بنانے کے لیے حکومت کو اس محکمے میں نٸی اصلاحات کرنی چاہیے جو کہ امید تھی کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خاں اپنی حکومت بناتے ہی کر دیں گے مگر اس سلسلے میں ابھی تک کوٸی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب پولیس سے سیاسی اثر و رسوخ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جاٸے ۔تا کہ پولیس کسی دباٶ میں آٸے بغیر عوام کی جان و مال کو تحفظ دے اور عوام کی زندگیاں آسان بناٸے ۔
۔ دوسری بات جو بہت ضروری ہے کہ ایک پولیس والے کو اس کی نوکری کا تحفظ دیا جاٸے ، جان کا تحفظ دیا جاٸے ۔ یہ نا ہو کہ اگر کوٸی پولیس والا کسی سیاسی شخصیت کے دباٶ میں آنے سے انکار کرے تو سیاسی شخصیت یا تو اسے نوکری سے فارغ کر دے یا پھر اس پولیس والے کو جان سے ہاتھ دھونا پڑیں۔ تیسری اور اہم بات یہ کہ پولیس کے محکمے سے رشوت کا خاتمہ کیا جاٸے تاکہ کوٸی بھی جوان رشوت دے کر نوکری حاصل نا کرے ۔ اس سے امید ہے کہ یہ پولیس والے عوام کو لوٹنا بند کر دیں گے ۔ پولیس کو عوام دوست بنانے کے لیے پولیس کی اعلی سطح پر اخلاقی تربیت کی جاٸے اور انصاف کے حوالے سے اسلامی تعلیمات سیکھنا لازمی قرار دیا جاٸے ۔ اس کے علاوہ تفتیشی عمل میں جو غیر انسانی رویہ اپنایا جاتا ہے اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاٸے ۔ مقدمہ درج کرنے کے عمل میں آسانیاں فراہم کی جاٸیں تاکہ کوٸی بھی مظلوم بلاجھجک انصاف کے حصول کے لیے پولیس کے پاس آسکے ۔ روایتی تھانہ کلچر ختم کیا جاٸے اور پولیس کو عوام کے دروازے پر انصاف کے فراہمی کے لیے جانا چاہیے ۔ جو پولیس والے چوروں ، ڈاکوٶں اور بھتہ خوروں کے ساتھ مل کر عوام کا جینا حرام کیے ہوٸے ہیں انہیں سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تاکہ باقی پولیس والے ان لوگوں سے عبرت حاصل کر کے اپنا قبلہ درست کر لیں۔
اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو امن کا گہوارا بناٸے اور ہماری پولیس کو انسانیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین
ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نےمظفرگڑھ میں مضرصحت دودھ پینےسے 2بچوں کی ہلاکت کانوٹس لے لیا
مظفرگڑھ میں مضر صحت دودھ پینے سے دو بچوں کی ہلاکت کا معاملہ،ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) محمد عثمان نے واقعہ کا نوٹس لےلیا۔ابتدائی تحقیقات کیلئے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو ہسپتال پہنچنے کےاحکامات جاری کردیئے۔ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نےٹیم کو واقعہ سےمتعلق ابتدائی رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت دی۔ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئےہسپتال میں ڈاکٹرز ،مریضوں اور اہلخانہ سے مکمل معلومات حاصل کرکے اصل حقائق کا تعین کیا جائے گا اورمتعلقہ دکان سے دودھ کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوائے جائیں گے۔ابتدائی تحقیقات کے بعد حقائق کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

تیز رفتاری خطرہ جان ، تیز رفتار مزدہ نے ٹکر مار نوجوان کو ماردیا
لاہور: تیزرفتاری خطرہ جان ، اور پھر ایسے ہی ہوا کلمہ چوک فلائی اوور پر افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جہاں تیز رفتار مزدے نے موٹر سائیکل سوار کو کچل ڈالا۔نوجوان موقع پر ہی دم توڑگیا
پولیس حکام کے مطابق کلمہ چوک فلائی اوور پر تیز رفتار مزدے نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا، حادثے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور نعش قبضہ میں لے کر ضروری کارروائی کیلئے مردہ خانے منتقل کردی۔ پولیس نے ٹکر مارنے والے مزدے کے ڈرائیور کو حراست میں لےلیا۔

تھانوں میں ملزمان پر جانوروں کی طرح تشدد، اسمبلی میں قرارداد جمع
پنجاب کے تھانوں میں ملزمان کو بہمانہ تشدد کا نشانہ بنانے پر پابندی لگانے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قرارداد مسلم لیگ (ن) کے رکن ملک ظہیر اقبال کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب میں دوران حراست ملزمان کی ہلاکتوں کے واقعات میںمسلسل اضافہ ہو رہا ہے ،ایک سال کے دوران پنجاب میں 7شہری پولیس تھانوں میں دوران حراست ہلاک ہو چکے ہیں ،پنجاب پولیس نے اپنی نجی ٹارچر سیل بھی بنائے ہیں،نجی ٹارچر سیل میں ملزمان پر بہمانہ تشدد کیا جاتا ہے.
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پولیس تھانوں میں ملزمان کو جانوروں کی طرح تشدد کا نشانہ بنانے پر پابندی لگائی جائے ،پولیس تھانوں میں ملزمان سے تفتیش کا طریقہ بھی تبدیل کیا جائے ،ملزمان سے تفتیش متعلقہ پولیس اسٹیشن کے سینئر زافسران کی موجودگی میں کی جائے ،پولیس اسٹیشن میں گالم گلوچ اور تضحیک آمیز انداز میں گفتگو پر مکمل پابندی لگائی جائے ،پنجاب کے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کی تربیتی ورکشاپ منعقد کی جائیں .
پنجاب میں پولیس نہ بدل سکی، دوران تفتیش پولیس کی جانب سے ملزمان پر تشدد کیا جاتا ہے جس سے ان کی موت ہو جاتی ہے، آئی جی پنجاب انکوائری کا حکم دیتے ہیں لیکن انکوائری کی رپورٹ نہیں آتی،
پنجاب میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران پولیس حراست میں 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، تھانہ اکبری گیٹ سے ملزم کی پھندہ لگی لاش ملی تھی ، ٹارچرسیل میں گجرپورہ پولیس تشدد سےایک ملزم ہلاک ہوا ،شمالی چھاؤنی میں بھی پولیس کےمبینہ تشدد سےایک ملزم ہلاک ہوا ،
اے ٹی ایم کارڈ چوری کرنے والا صلاح الدین بھی دوران تفتیش جاں بحق ہوا،صلاح الدین کے والد کی درخواست پر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے.
آئی جی پنجاب کی جانب سے صوبے کے تمام 722پولیس اسٹیشنز کی حوالات میں چوبیس گھنٹوں کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا حکم دیا گیا تھا اس کے باوجود ملزمان پر تشدد کے واقعات سامنے آ رہے ہیں.
معاون خصوصی اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت تھانے کے کلچر کو تبدیل کرنے کے لئے تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔ تھانہ کلچر کو بہتر بنانے کے لئے قانون میں سقم ختم کئے جا رہے ہیں۔ انوسٹی گیشن شفاف بنانے کے لئے انوسٹی گیشن کے کمروں میں کیمرا لگائے جائیں گے۔ پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے پنجاب حکومت تمام وسائل فراہم کرے گی۔





