Baaghi TV

Category: تعلیم

  • پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا بلنڈر سامنے آگیا بارھویں جماعت کی ایجوکیشن کی کتاب میں پرانا نصاب پڑھایا جانے لگا۔

    پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا بلنڈر سامنے آگیا بارھویں جماعت کی ایجوکیشن کی کتاب میں پرانا نصاب پڑھایا جانے لگا۔

    شہباز اکمل جندران

    باغی انویسٹی گیشن سیل۔۔۔۔۔

    پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا بلنڈر سامنے آگیا بارھویں جماعت کی ایجوکیشن کی کتاب میں پرانا نصاب پڑھایا جانے لگا۔پنجاب سے ڈی سی او اور ای ڈی او ایجوکیشن کا عہدہ ختم ہوئے کئی سال بیت چکے ہیں۔لیکن پی سی ٹی بی کی ٹیکسٹ بک میں طلبا آج بھی ڈپٹی کمشنر کی بجائے ڈی سی او اور سی ای ایجوکیشن کی بجائے ای ڈی او ایجوکیشن کے متعلق پڑھ رہے ہیں۔

     

    پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں الٹی گنگا بہنے لگی۔بورڈ کی طرف سے شائع ہونے والی بارھویں جماعت کی علم التعلیم کی ٹیکسٹ بک میں صفحہ 92پرطالبعلم آج بھی برسوں پہلے ختم ہو جانے والے عہدے ڈی سی اوز اور ای ڈی اوز کے متعلق نہ صرف پڑھ رہے ہیں۔بلکہ جب امتحان میں ان سے سوال کیا جا تا ہے کہ وہ صوبے میں ضلعی سطح پر تعلیمی انتظامیہ کا ڈھانچہ بیان کریں تو وہ ضلع میں انتظامی سطح پر تعلیمی سربراہ کے طورپر2001میں ڈیوو لوشن پلان کے تحت قائم کئے جانے والے نظام میں شامل ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر اور ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر کا نام لیتے ہیں۔حالانکہ ڈ پٹی کمشنرز اور سی ای او گزشتہ کئی برسوں سے ضلعی سطح پرڈی سی اوز اور ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر وں کی جگہ لے چکے ہیں۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں ہر مضمون کے حوالے سے سبجیکٹ سپیشلسٹ موجود ہیں۔جو ہرسال اپنے متعلقہ سبجیکٹ کے حوالے سے نصاب میں شامل کتاب کو جدیدخطوط پر استوار کیا جاسکے۔اور ضروری ترامیم کی جاسکیں۔واضح رہے پی سی ٹی بی کے ان سبجیکٹ سپیشلسٹس کا ماہانہ پیکج دو سے تین لاکھ روپے ہے لیکن ان کی کارکردگی سوالیہ نشان کی زد میں ہے۔

    پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی اس انتظامی کمزوری کے باعث طلبا کو نہ صرف نقصان ہورہا ہے بلکہ وہ ضلعی سطح پر صوبے میں رائج تعلیمی نظام کو سمجھنے اور بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
    اس سلسلے میں پی سی ٹی بی کا موقف ہے کہ 2020-21کے کتاب علم التعلیم میں ڈسٹرکٹ کو آرڈینیشن کو ڈپٹی کمشنر سے اور ای ڈی او ایجوکیشن کو سی ای او ایجوکیشن سے ری پلیس کردیا جائیگا۔

  • سرگودہا یونیورسٹی پہلی مرتبہ دنیا کی بہترین جامعات میں شامل ہو گئی

    سرگودہا یونیورسٹی پہلی مرتبہ دنیا کی بہترین جامعات میں شامل ہو گئی

    سرگودھا (نمائندہ باغی ٹی وی ) سرگودھا یونیورسٹی پہلی مرتبہ دنیا کی بہترین جامعات میں شامل ہو گئی۔تفصیلات کیمطابق سرگودھا یونیورسٹی نے معیار تعلیم میں بہتری کیلئے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر یونیورسٹی کی اکیڈمک پروفائل کو بڑھایا ہے جس کی وجہ سے ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ2020ء میں سرگودھا یونیورسٹی نے جگہ بنالی ہے، اس رینکنگ میں جامعہ سرگودھا سمیت پاکستان کی14جامعات نے جگہ بنائی ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ میں دنیا بھر کے92سے زائد ممالک کی60ہزارجامعات میں سے معیار پر اترنے والی1400جامعات کو شامل کیا گیا اور سرگودھا یونیورسٹی دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں 1276ویں نمبر پر آئی ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ2020ء میں کسی بھی یونیورسٹی کی شمولیت 13 اہداف پر منحصر ہے جن میں تدریس، تحقیق،علم کی منتقلی اور بین الاقوامی تشخص کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ2020ء میں پاکستان کی 14جامعات نے کوالیفائی کیا جن میں قائد اعظم نے�دنیا کی 500بہترین جامعات میں جبکہ سرگودھا یونیورسٹی سمیت6دیگر جامعات نے1000+کی کیٹگری میں جگہ بنائی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال سرگودھا یونیورسٹی کیو ایس ایشیا یونیورسٹی رینکنگ میں جگہ بناتے ہوئے ایشیا کی500بہترین جامعات میں شامل ہوئی تھی۔2002ء میں قائم ہونیوالی سرگودھا نے موجودہ یونیورسٹی انتظامیہ کے متعارف کردہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر اکیڈمک پروفائل میں بہتری لائی اور تعلیمی میدان میں نئے رجحانات متعارف کراتے ہوئے کیو ایس رینکنگ اور ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ2020ء کے طے کردہ اہداف حاصل کرتے ہوئے فقید المثال کامیابیاں سمیٹی ہیں۔

  • اساتذہ کے تبادلوں کے لیے 61 دن  مختص

    اساتذہ کے تبادلوں کے لیے 61 دن مختص

    لاہور: تعلیمی معیار بہتر بنانے کی طرف رواں دواں پنجاب کا محکمہ تعلیم، ہر روز نئے فیصلے نئے احکامات مگر صورت حال جوں کی توں ، اطلاعات کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن نے اساتذہ کے تبادلوں کے حوالے سے نئی پالیسی جاری کردی ،ہر سال یکم جون سے 31 جولائی تک اساتذہ کے تبادلوں سے پابندی اٹھا لی جائے گی۔

    محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق نئی پالیسی کے مطابق ہر سال اساتذہ کے تبادلے کیے جائیں گے، ہر سال یکم جون سے 31 جولائی تک اساتذہ کے تبادلوں سے پابندی اٹھا لی جائے گی۔

    محکمہ سکول ایجوکیشن ذرائع کے مطابق اب پنجاب میں اساتذہ کے تبادلے آن لائن ہی ہونگے، محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق کنٹریکٹ اساتذہ بھی تبادلوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے، محکمہ سکول ایجوکیشن نے نئی پالیسی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

  • سرحد یونیورسٹی نے کمال کردکھایا ، کیا ہےکہ کمال ، جانیئے ضرور

    سرحد یونیورسٹی نے کمال کردکھایا ، کیا ہےکہ کمال ، جانیئے ضرور

    پشاور:پاکستان کی دیگر یونیوسٹیز کی طرح کے پی کی یونیورسٹیز نے بھی جدید مینجمنٹ کورسز کروانے شروع کردیئے اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور میں دو روزہ فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

    سرحد یونیورسٹیزذرائع کے مطابق دوروزہ پروگرام کا بنیادی مقصد یونیورسٹی اساتذہ کی پیشہ وارانہ مہارتوں میں اضافہ کرنا تھا۔ سرحد یونیورسٹی ہر سال اس قسم کے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ اس تربیتی پروگرام میں سرحد یونیورسٹی کے علاوہ صوبے کے دیگر یونیورسٹیوں کے ماہرینِ تعلیم اور پروفیسر صاحبان نے بھی شرکت کی۔

  • اسے کہتے ہیں تبدیلی : کے پی میں سرکاری سکول کی طالبات کوعبایا ، گاون یا چادر اوڑھ کر آنے کی  ہدایت

    اسے کہتے ہیں تبدیلی : کے پی میں سرکاری سکول کی طالبات کوعبایا ، گاون یا چادر اوڑھ کر آنے کی ہدایت

    ہری پور : کے پی گورنمنٹ نے اسلامی طرز معاشرت اپنانے کی طرف سفر شروع کردیا ہے، اطلاعات کےمطابق سرکاری سکولوں میں طالبات کوعبایا، گاون یا چادر اوڑھ کر سکول آنے کی ہدایات کردی گئیں ہیں،ای ڈی او ہری پورنے کے پی حکومت کے فیصلے پر سب سے پہلے عمل کرکے گڈ گورننس کا ثبوت بھی دے دیا ہے،

    حکمرانو! سن لو اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی نہ اپنائی تو قوم تمہارا دھماکہ کردے گی،کوتاہی برداشت نہیں، عبداللہ گل

    ہری پور سے ذرائع کےمطابق اس سلسلے میں ای ڈی او ہر ی پور نے وضاحت پیش کرتے ہوئےکہا ہےکہ طالبات کے پردے کا مقصد ان کا تحفظ کرنا ہے ، ای ڈی او نے کہا کہ اسلام کی اس طرز معاشرت میں بہتری ، خیر اور خاتون کی حفاظت کے راز چھپے ہوئے ہیں،
    ·
    ·
    ·

  • این سی ایچ ڈی ملک گیر ادارہ ، تعلیم ، صحت ، ہنگامی حالات میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں ، امیراللہ خاں مروت

    این سی ایچ ڈی ملک گیر ادارہ ، تعلیم ، صحت ، ہنگامی حالات میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں ، امیراللہ خاں مروت

    اسلام آباد: این سی ایچ ڈی ایسا قومی ادارہ ہے جس کی جڑیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے 145 اضلاع میں ہیں، ان خیالات کا اظہار چیئر مین این سی ایچ ڈی امیراللہ خان مروت نے اپنے پیغام میں کیا ، چئیرمین این سی ایچ ڈی نے بتایا کہ یہ ادارہ تعلیم، لٹریسی،رضا کارانہ سرگرمیوں، بنیادی صحت اور استعداد کار میں اضافے کے حوالے سے موثر اور بروقت اقدامات کی استعداد رکھتا ہے۔

    اس ادارے کی خدمات کے حوالےسے بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ 2005ء کے متاثرین زلزلہ اور 2012ء کے متاثرین سیلاب کی بحالی سمیت دیگر کئی شعبوں میں قومی خدمات کی وسیع تاریخ کا حامل ہے،آئندہ بھی یہ ادارہ ایسے ہی اپنے ہم وطنوں کی خدمت میں‌کوشاں رہے گا

    امیراللہ خان مروت کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت اور پیشہ وارانہ تربیت کے ذریعے انسانی وسائل کے شعبے کی ترقی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے توقع ظاہرکی کہ حکومت معاشرتی ترقی کے لئے این سی ایچ ڈی کے تجربے اور استعداد کار سے استفادہ کرے گی۔

  • سندھ امتحان بھی مرضی کے پھر بھی پانچویں اور آٹھویں کے 63 ہزار بچے فیل ہوگئے ، ذمہ دار کون ؟

    سندھ امتحان بھی مرضی کے پھر بھی پانچویں اور آٹھویں کے 63 ہزار بچے فیل ہوگئے ، ذمہ دار کون ؟

    کراچی:سندھ میں نظام تعلیم جس طرح مذاق بنا ہوا ہے اس کی تازہ مثال پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات میں فیل ہونے والے طالب علموں کی بڑی تعداد ہے ، حقائق اور تفصیلات کےمطابق سندھ میں مرضی کے امحتانی نظام اور مرضی کے امتحانی سینٹرز کے باوجود پھر بھی اگر 63 ہزار سے زائد طالب علم فیل ہوجاتے ہیں ہیں تو یہ بدقسمتی سے کم نہیں‌،

    محکمہ تعلیم سندھ کے امتحانات کے مرکزی نظام نے صوبے میں آٹھویں (مڈل کلاس )تک تعلیم کا پول کھول دیاہے۔ مرکزی امتحانی نظام کے تحت پانچویں سے آٹھویں جماعت تک کے تریسٹھ ہزارطلبہ فیل ہوگئے ۔

    صوبہ سندھ کے محکمہ تعلیم کی طرف سے قائم کئے گئے نئے مرکزی امتحانی نظام کی وجہ سے صوبے کے تعلیمی نظام کی قلعی کھل کر سامنے آگئی ہے۔

    صوبہ سندھ کی تاریخ میں پہلی بارمڈل امتحانات میں پانچویں سےآٹھویں جماعت تک 63 ہزاربچے فیل ہوگئے ہیں۔

    صوبہ بھرمیں چھ لاکھ بچوں نے امتحانات کےلئے رجسٹریشن کرائی ، پانچ لاکھ بچوں نے امتحانات میں شرکت کی جن میں سے 63 ہزار بچے کامیابی حاصل نہ کرسکے۔

    سندھ کے محکم تعلیم کے مطابق چار پرچوں کا صوبے بھر میں بیک وقت امتحان لیا گیا۔ سب سے زیادہ بچے حساب کے پرچوں میں فیل ہوئے۔

    واضح رہے کہ فیل ہونے والے تریسٹھ ہزاربچوں کا3اور4اگست کو دوبارہ امتحان لیاگیا۔ لیکن بارہ اضلاع نے دوبارہ لئے گئے امتحان کے نتائج ابھی تک محکمہ تعلیم کو نہیں بھیجے ہیں ۔

  • Untitled post 71856

    لاہور(شہباز اکمل جندران)

     

    بھارت میں معیار تعلیم روز بروز گرنے لگا۔بھارت کی ٹاپ یونیورسٹیاں انٹرنیشنل رینکنگ میں اوپر کی بجائے نیچے کا سفر کرنے لگیں۔کوئی بھی یونیورسٹی پہلی 300میں جگہ نہ بناسکی۔

     

    بھارت میں تعلیم کے معیار کی عکاسی کرتے ہوئے ، ایک بھی ہندوستانی یونیورسٹی ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2020 کی فہرست میں پہلی 300 یونیورسٹیوں میں شامل نہ ہوسکی ۔برطانیہ کی ٹائمز ہائیر ایجوکیشن (دی)کی مرتب کردہ رپورٹ نے بھارتی نظام تعلیم کی گراوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

     

    بھارت کی سب سے بہترین یونیورسٹی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز (آئی آئ ایس سی) بنگلور  50 درجے نیچے گر گئی ہے۔اور اس کی رینکنگ 251-300 کے گروپ سے نکل کر301-350  کے گروپ میں شامل ہوگئ ہے۔

    ۤۤائی آئ ایس سی کے علاوہ ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) کا معیار تعلیم بھی روبہ زوال ہے ، اس کے بعد آئی آئی ٹی اندور 351 سے 400 کی پوزیشن پر رہے۔

    ممبئی ، دہلی اور کھڑگ پور میں آئی آئی ٹی کو 401-500 رینکنگ بریکٹ میں رکھا گیا ہے۔  ہندوستانی اعلی تعلیم اپنی عالمی موجودگی میں بہتری لانے کے لئے کوششوں اور مرکزی حکومت کی طرف سےمتعدد جامعات کو شارٹ لسٹ کرنے کے باوجود کوئی بھی بھارتی یونیورسٹی عالمی معیارکی پہلی تین سو یونیورسٹیوں میں معام تلاش کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

    
    

     

     

     

     

    
    

     

     

     

     

    
    

     

     

     

    
    

     

    
    

     

     

     

    
    

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

     

    
    

     

     

    
    
    
    
  • قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    انتہاٸی پروقار ، دلفریب ، بلند حوصلہ ،جرأت مند ہستی ، جو نہ کبھی کسی کے آگے جھکے ، نا کبھی ہمت ہاری ، نہ کبھی حوصلہ کم ہوا ، جس بات پر ڈٹ گٸے اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے ،اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پروقار انسان ایسا بہادر ، قوی ، جرأت مند نکلا کہ مسلمانوں نے ان کی قیادت میں صرف چند ماہ میں ہی پاکستان جیسا عظیم ملک بنا لیا ۔
    کون جانتا تھا کہ 25 دسمبر 1876 کو پونجا جناح کے گھر پیدا ہونے والا بچہ ایک دن اپنا نام اتنا روشن کرے گا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے جیتی جاگتی زندہ مثال بن جاٸے گا ۔ لوگ غلامی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس عظیم انسان کی مثالیں دیں گے ۔ کون جانتا تھا کہ مظلوموں کو آزادی دلوانے والے اس عظیم لیڈر کو اپنا راہنما اور مشعل راہ سمجھیں گے ۔

    قاٸد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو ایک تاجر پونجا جناح کے گھر پیدا ہوٸے ۔ والدین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جس کے اثرات پھر پوری دنیا نے دیکھے ۔ والدین نے چھ سال کی عمر میں آپ کو مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ پراٸمری تعلیم کے لیے آپ کو گوگل داس پراٸمری سکول میں داخل کروایا گیا ۔ میٹرک کا امتحان آپ نے اعلی نمبروں کے ساتھ سندھ مدرسة السلام ہاٸی سکول سے پاس کیا ۔ 1892 میں آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا ۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گے اور بیرسٹر بن کر واپس آٸے ۔ پہلے آپ نے کراچی اور پھر ممبٸی میں وکالت کر کے بہت نام کمایا ۔ آپ کو سیاست سے بہت دلچسپی تھی ۔ شروع میں قاٸد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اس لیے آپ نے 1906 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ۔ کچھ مسلمان راہنماٶں نے آپ کومسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی اور آپ کو اس پر راضی بھی کر لیا بالآخر آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ 1913 میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ۔ مسلم لیگ پہلے صرف بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی لیکن آپ کی مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد لوگ اسے عام مسلمانوں یعنی اپنی جماعت سمجھنا شروع ہوگے ۔

    1929میں قاٸداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کٸیے جو درج ذیل ہیں :

    ہندوستان کا آئندہ دستور وفاقی نوعیت کا ہو گا۔

    تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔

    ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔

    مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی حاصل ہو۔

    ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔

    صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔

    ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔

    مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔

    سندھ کو بمبئی سے علاحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔

    صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔

    سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔

    آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔

    کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائی وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔

    ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

    یہ چودہ نکات تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حثیت رکھتے ہیں ۔ 1940 میں لاہور منٹو پارک ( موجودہ نام اقبال پارک ) میں ایک قرار داد پیش کی گٸی جسے قرارد داد پاکستان بھی کہا جاتا ہے اس قرار داد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا ۔ ہندوٶں اور انگریزوں کی طرف سے اس قرارداد کا بہت مذاق اڑایا گیا لیک مسلمان ارادے کے پکے اور ایمان کے سچے تھے انہوں نے قاٸد اعظم جیسے عظیم لیڈر کی راہنماٸی میں 14 اگست 1947 کو مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کر لیا ۔ اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ قاٸد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کی آباد کاری ، پاکستانی معیشیت اور اداروں کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی جس کی وجہ سے آپ بہت زیادہ علیل ہوگے ۔

    آپ کو ڈاکٹرز کے مشورے سے زیارت کے مقام پر بھیج دیا گیا تاکہ آپ کی صحت کچھ سنبھل سکے ۔ لیکن آپ کی صحت جواب دیتی جارہی تھی ۔ 10 ستمبر کو کرنل الہی بخش نے قاٸد اعظم کی صحت کے حوالے سے فاطمہ جناح کو جواب دے دیا ۔ اگلی صبح قاٸد اعظم کو کوٸٹہ سے کراچی اٸیرپورٹ لایا گیا ۔ وہاں سے ایک ایمبولینس میں آپ کا سٹریچر رکھا گیا ۔ ایمبولیس میں آپ کی بہن فاطمہ جناح بھی بیٹھ گٸی ۔ جب ایمبولینس مہاجروں کی ایک گنجان آباد بستی سے زرا آگے پہنچی تو ایمبولینس چلنا رک گٸی ۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ پیٹرول ختم ہوگیا ہے ۔ ایک گھنٹہ بعد دوسری ایمبولینس آٸی اور پھر قاٸد اعظم کو دوسری ایمبولینس کے ذریعے قاٸد اعظم گورنر ہاٶس پہنچایا گیا جہاں انہوں نے کلمہ پڑھتے ہوٸے اپنی جان خالق حقیقی کے حوالے کر دی ۔

    کیا ایمبولینس کا واقعی پیٹرول ختم ہوا تھا یا پھر یہ بھی ایک سازش تھی ۔ اگر پیٹرول واقعی ختم ہوا تھا تو کیا ایمبولینس روانہ کرتے وقت چیک نہ کیا گیا تھا ۔ کیا کوٸی اس قدر احمق بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے محسن کی حالت کو جانتا ہو پھر بھی ایسا کرے ۔ اور اگر یہ ایک سازش تھی تو قاٸد اعظم اور پاکستان کے ساتھ غداری تھی ۔ دونوں صورتوں میں کیا کبھی کسی نے اس سازش کے پیچھے چھپے چہرے تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ کیا کسی نے ان چہروں کو بے نقاب کر کے انہیں سزا دلوانے کی کوشش کی ۔ اگر نہیں تو کیا ہم ایک بے حس قوم نہیں ہیں جنہوں نے اپنے عظیم لیڈر کے احسانات کو بھلا دیا اور کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر کون لوگ تھے جو پاکستان سے دشمنی میں اس قدر آگے نکل گے کہ انہوں نے قاٸد اعظم کی جان کی پرواہ بھی نہ کی ؟

    کیا ہم میں سے کوٸی اس بہن کا درد محسوس کر سکتا ہے جس کے بھاٸی کو ڈاکٹرز جواب دے چکے ہوں اور اس ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا ہو جس میں ایک بہن کے سامنے اس کا بھاٸی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو ۔ جو کہتے ہیں پیٹرول ختم ہو گیا تھا ،ان کی عقل کو داد دیں یا پھر اپنی قوم کی بے حسی کو ۔ اگر پٹرول ختم ہوگیا تھا تو گنجان آبادی قریب تھی وہاں سے کسی گاڑی کا انتظام کیوں نہ ہوا ۔ اس آبادی سے کسی کی گاڑی سے کہیں سے بھی پٹرول مل سکتا تھا پھر ایک گھنٹے تک کیوں اس بہن کو اذیت میں رکھا گیا جس کے بھاٸی نے اپنی بہن کے ساتھ اپنی تمام تر زندگی اس وطن کے نام کر دی ۔ آخر کیوں کون سے وجوہات تھی کہ ہم نے باباٸے قوم اور مادر ملت کو اذیت دینے والوں کے گریبان نہیں پکڑے ۔ آخر کیوں ہم اتنے بے حس ہوگے کہ محسن پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ ان کی بہن کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا ۔ وہ بہن جو مادر ملت تھی کہتی ہیں زندگی میں جتنی بھی مشکلات آٸیں یہ ایک گھنٹہ ان سب مشکلات سے بھاری تھا ، تکلیف دہ تھا ۔ آخر کیوں اس بات کو جاننے کی کوشش نہیں کی گٸی کہ آخر کون تھا جس پر قاٸد اعظم کی سانسیں باعث تکلیف تھی ، آخر ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکنے میں کسی کا کیا فاٸدہ تھا ؟ ہمیں بحثیت قوم ان حقاٸق کو جاننا ہوگا ۔ ان کالی بھیڑوں کو ڈھونڈنا ہوگا جو تب سے لے کر آج تک وطن پاکستان اور اس سے جڑے ہر مخلص انسان کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔

  • استاد کے تشدد سے جانبحق طالبعلم کی پوسٹمارٹم رپورٹ میں حیران کن انکشافات نے ہلچل مچادی

    استاد کے تشدد سے جانبحق طالبعلم کی پوسٹمارٹم رپورٹ میں حیران کن انکشافات نے ہلچل مچادی

    لاہور : اصطلاحیں ہی بدل گئیں ، پہلے نعرہ تھا کہ مار نہیں پیار تو لاہور کے ایک ظالم استاد نے اس نعرے کو اپنے عمل سے ہی بدل دیا اور نیا نعرہ دیا کہ پیار نہیں مار ، لاہور گلشن راوی میں استاد کے تشدد سے طالبعلم ہلاکت کے کیس میں نیا موڑ آگیا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں حافظ حنین کےجسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں، طالبعلم کےاندرونی جسمانی اعضاء بھی صحیح سلامت پائے گئے۔

    صلاح الدین کی غلطی کی سزا، پنجاب پولیس اپنے آپ کو جہنمی دروغے سمجھ بیٹھی ، ظلم اتنا کہ زبان سے بیان کرنا مشکل

    ذرائع کے مطابق رپورٹ میں حیران کن طور پر حنین کے جسم پر تشدد کے کوئی نشانات نہیں ملے اور طالبعلم کا دل، دماغ اور گردے صحت مند پائے گئے ہیں، تاہم معدہ اور کڈنی کے نمونے پنجاب فرائنزک لیب کو بجھوا دیئےگئے ہیں تاکہ کوئی زہریلے مواد کے بارے پتہ چل سکے، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کوئی حتمی رائے نہیں دی گئی ، مزید پتہ تب چلے گا جب معدہ اور کڈنی کی رپورٹ بھی آجائے گی