فیصل آباد(نمائندہ باغی ٹی وی)ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے ہدایت کی ہے کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیراہتمام میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لئے 25 اگست کو ہونے والے انٹری ٹیسٹ کے حوالے سے سابقہ تجربات کو مدنظر رکھ کر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کویقینی بنایا جائے تاکہ طالب علم پر سکون ماحول میں ٹیسٹ دے سکیں۔انہوں نے یہ بات انٹری ٹیسٹ کے انعقاد کے ضروری انتظامات کاجائزہ لینے سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ایس ایس پی آپریشنز سید علی رضا،ایڈیشنل کمشنر محبوب احمد،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ہیڈ کوارٹرز) قیصر عباس رند،اسسٹنٹ کمشنر جنرل مصور خاں نیازی،ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئرز جی سی یونیورسٹی ڈاکٹر ندیم سہیل،کنٹرولر امتحانات گورنمنٹ کالج وومن یونیورسٹی رضوانہ تنویر،چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن سردار نصیر احمد،کوآرڈینیٹر یو ایچ ایس محمد رمضان،زرعی یونیورسٹی کے نمائندہ آفیسر اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ متعلقہ افسران انٹری ٹیسٹ کے تینوں مراکز کا مشترکہ وزٹ کرکے ضروری انتظامات کاجائزہ لیں اور طالب علموں کی سہولت کے لئے ہرممکن اقدامات ہونے چاہیں۔انہوں نے سنٹرز پر پینے کا پانی،میڈیکل کیمپس،ایمرجنسی سروسز کی موجودگی،مناسب جگہوں پر گاڑیوں کی پارکنگ،بہتر ٹریفک مینجمنٹ اور امیدواروں کے ساتھ آنے والے والدین/رشتہ داروں کے لئے باسہولت انتظار گاہوں اور دیگر اقدامات کو فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ انٹری ٹیسٹ کے تینوں امتحانی مراکز پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔اس ضمن میں پلان ترتیب دیا جارہا ہے۔اجلاس کے دوران یونیورسٹیز کی طرف سے ضروری انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جبکہ کوآرڈینیٹر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے بتایا کہ انٹری ٹیسٹ کے لئے زرعی یونیورسٹی،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اولڈ کیمپس دھوبی گھاٹ اورگورنمنٹ کالج وومن یونیورسٹی مدینہ ٹاؤن میں مجموعی طور پر 8075طلباء وطالبات شرکت کریں گے جن میں 5228طالبات اور2847طلباء شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی اورجی سی وومن یونیورسٹی میں طالبات اور جی سی یونیورسٹی اولڈ کیمپس میں طلباء وطالبات دونوں کے لئے سنٹرز بنائے گئے ہیں
۔۔۔///۔۔۔
Category: تعلیم
-
انٹری ٹیسٹ کیلئے سیکورٹی کے خصوصی انتظام کرنے کی ہدایت
-

3ہزار سے زائد اساتذہ معطل، 150 برطرف ، ہنگامی حالت کا اعلان
کوئٹہ : بلوچستان میں تعلیمی حالت ناگفتہ ہونے کی وجہ سے حکومت بلوچستان نے اہم فیصلے لے لیے ، اطلاعات کے مطابق رواں سال کے پہلے ماہ سے اب تک صوبے بھر میں 3 ہزار سے زائد اساتذہ کو معطل جبکہ 150 ٹیچرز کو ان کی سروسز سے برطرف کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق معطل کیے گئے ہر استاد کے معاملے میں تحقیقات کا حکم دے دیا گیا جبکہ انہیں پہلے ہی اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔ معطل اساتذہ کے معاملات کی تحقیقات کرنے کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے 114 اساتذہ کو معطل کیا گیا۔
یاد رہے کہ ان تمام اساتذہ کو طویل عرصے سے غیرحاضر رہنے اور متعدد مرتبہ انتباہ کے باوجود اسکول نہ آنے پر معطلی کا سامنا کرنا پڑا، جن اضلاع سے اساتذہ کو معطل کیا گیا، ان میں کوئٹہ، تربت، قلعہ عبداللہ، پشین، ڈیرہ بگٹی اور صوبے کے دیگر علاقے شامل ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان حکومت نے صوبے میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور اسکول سے باہر بچوں کے داخلے کے لیے محکمہ تعلیم میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔حکومت بلوچستان نے ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تعلیم کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی
-

نجی کالج کا مفت تعلیم کا فیصلہ
اسپائر گروپ آف کالجز کا ایک اور شاندار اقدام
تفصلات کے مطابق پروفیسر اظہر منیر بھٹی (پرنسپل اسپائر کالج پتوکی) پروفیسر فیصل محمود ( پرنسپل اسپائر کالج الہ آباد) کی ڈی پی او قصور سے خصوصی ملاقات کی اورشہداء ا کے بچوں کی تعلیم بلکل فری دینے کا اعلان کیا نیز حاضر سروس اور ریٹائرڈ پولیس والوں کے بچوں کو فیس میں سے ٪50 ڈسکاؤنٹ کا بھی اعلان پروفیسر اظہر منیر بھٹی صاحب نے ڈی پی او قصور کو پولیس کے بچوں کی خصوصی نگہداشت کی یقین دہانی کروائی قوم کی خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے اسپائر گروپ آف کالجز کا ایک بہت بڑا قدم ہے -

سرگودھا بورڈ، جماعت نہم کے سالانہ امتحا ن کے نتائج کا اعلان،کامیابی کا تناسب47.8فیصد رہا
سرگودھا۔ 19 اگست (اے پی پی) بورڈ آف انٹر میڈ یٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے جماعت نہم کے سالانہ امتحا ن 2019کے نتیجے کا اعلان کردیا۔ کنٹرولر امتحانات پروفیسر اکرم تارڑ نے جماعت نہم کے نتیجے کااعلان کیاہے۔ کنٹرولر امتحانات کے مطابق جماعت نہم کے سالانہ امتحان 2019میں مجموعی طور پر 100691امیدواروں نے حصہ لیا۔ جن میں سے 48164امیدوار کامیاب ہوئے اور یوں مجموعی طور پرکامیابی کا تناسب 47.8فیصد رہا۔ جماعت نہم کے لیے کل 285امتحانی مراکز قائم کئے گئے۔ امتحان میں 36423فی میل اور 48973میل امیدواروں نے حصہ لیا۔ کنٹرولر امتحانات نے بتایا کہ امیدوار بورڈ کی ویب سائٹ کے علاوہ اپنا رولنمبر موبائل فون سے 800290پر ایس ایم ایس کرکے معلوم کرسکتے ہیں۔ سیکر ٹر ی تعلیمی بورڑ پروفیسر سرفراز گجر نے کمپیوٹر کابٹن دبا کر جماعت نہم کے نتیجہ آن لائن کیا۔تقریب میں کنٹر ولر امتحانات پروفیسر اکرم تارڑ سمیت متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
-

چھٹیاں ختم،تعلیمی ادارے کھل گئے ،خاضری معمول سے کم
سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )سرگودہا میں موسم گرما کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد تمام تعلیمی ادارے کھل گئے
آج سے تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل معمول کے مطابق شروع ہو جائے گا تمام تعلیمی اداروں کے ساتھ تعلیمی دفاتر میں بھی کام شروع ہو گیا ہے
آج تمام تعلیمی اداروں میں حاضری معمول سے کم رہی جبکہ گرمی کے شدت بھی برقرار ہے کاروباری مراکز آج بھی زیادہ تر بند ہیں گرمیوں اور عید کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد آج پہلا دن ہے تاہم ابھی تک لوگ شہر سے باہر اور آبائی علاقوں میں ہیں تاجر خضرات کا کہنا ہے کہ سوموار سے معمولات زندگی اپنے معمول پر آئیں گے -
دہم کے امتحانات میں ضلع مظفرگڑھ کا نام روشن کرنے والوں کے اعزاز میان تقریب
دہم کلاس کے امتحانات میں صوبہ بھر میں ضلع کا نام روشن کرنے والے طلباء وطالبات کے اعزاز میں مظفرگڑھ میں تقریب کا انعقاد کیا گیا،بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباءوطالبات میں ایوارڈ،انعامات اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے گئے.دسویں کلاس میں صوبہ بھر میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گورنمنٹ ہائی سکول خورشید آباد میں طلباءوطالبات اور اساتذہ کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا،تقریب میں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور سمیت ممبران اسمبلی،اساتذہ اور طلباءوطالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی.اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور ودیگر کا کہنا تھا کہ ضلع بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کے بہترین نتائج حاصل ہوئے.ان کا کہنا تھا کہ دسویں کلاس میں ضلع مظفرگڑھ نے صوبہ پنجاب میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور امتحانات میں ضلع کا نتیجہ شاندار 91.43 فیصد رہا.اس موقع پر ممبران اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر نے امتحانات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباءوطالبات اور اساتذہ میں ایوارڈ اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے.
-
فیصل آباد، ماحولیاتی تحفظ کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی
فیصل آباد ( ) ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے لئے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا شدت سے احساس کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں تاکہ موسمیاتی تغیر کے مسائل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔ انہوں نے یہ بات پی ایچ اے کے زیر اہتمام گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول پیپلزکالونی کے بالمقابل گرین بیلٹ میں پلانٹ فار پاکستان مہم کے تحت پودا لگاتے ہوئے کہی۔ چیئرمین پی ایچ اے / ایم پی اے لطیف نذر نے بھی مہم کے سلسلے میں پودا لگایا جبکہ ڈی جی پی ایچ اے محمد آصف چوہدری‘ ایڈیشنل کمشنرز رائے واجد علی‘ محبوب احمد‘ اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) ڈاکٹر انعم ساجد ملک‘ ڈائریکٹر پبلک سکولز چوہدری محمد اشرف و دیگر افسران نے بھی شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔ ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ مہذب اور ترقی یافتہ قومیں ماحولیاتی تحفظ پر گہری توجہ دے رہی ہیں اس سلسلے میں پاکستانی قوم کو بھی پیچھے نہیں رہنا چاہئے اور اپنی دھرتی سے پیار کرتے ہوئے ماحول کو خوشگوار اور صاف ستھرا رکھیں اور سرسبز و شادابی کے لئے زیادہ سے زیادہ پودے لگا کر ان کی آبیاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہم میں شامل ہونے کا مقصد عام شہریوں کو پودے لگانے کی ترغیب دینا ہے تاکہ وسیع پیمانے پر پودے لگا کر خوشگوار‘ صحت مند اور آلودگی سے پاک ماحول ممکن ہو سکے۔ ڈویژنل کمشنر نے بتایا کہ موسم برسات کی رواں شجرکاری مہم کے دوران 10 لاکھ پودے لگائے جارہے ہیں جبکہ مختلف محکموں کے زیر اہتمام بھر پور انداز میں شجرکاری مہم جاری ہے۔ چیئرمین پی ایچ اے / ایم پی اے لطیف نذر نے کہا کہ پودے معاشرتی زندگی کا اہم حصہ ہیں جن کی بقاء کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ اے کے زیر اہتمام رواں سیزن میں کم ازکم 60 ہزار پودے لگانے کا ہدف مقرر ہے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا کہ اپنے حصے کا پودا لگا کر وزیر اعظم عمران خان کی پلانٹ فار پاکستان مہم میں شریک ہوں۔ ڈی جی پی ایچ اے نے بتایا کہ ڈویژنل کمشنر کی ہدایت پر شہر کے چاروں ٹاؤنز میں گزشتہ روز اڑھائی ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔
-

ٹرک ڈرائیور کی بیٹی نے پنجاب یونیورسٹی میں ٹاپ کر دیا
چکوال کی تحصیل تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والی نوشابہ نے پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں بی ایس سی کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے اور ثابت کردیا کہ دنیا میں محنت،شوق اور مستقل مزاجی کا کوئی نمل بدل نہیں اور اگر کوئی شخص ان خصوصیات کو اپنی شخصیت میں ڈھال لے تو کامیابی اس کے قدم ضرور چومتی ہے، نوشابہ نے پنجاب یونیورسٹی سے الحاق شدہ وی آئی پی گرلز ڈگری کالج سے بی ایس سی کی تعلیم حاصل کی اور اول پوزیشن حاصل کی،
تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی نے بروز منگل بی اے اور بی ایس سی کے نتائج کا اعلان کیا اور ٹاپ کرنے والی لڑکی نوشابہ نے 800 میں سے 714 نمبر حاصل کیے جو کہ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ کے بی ایس سی میں حاسل کیے جانے والے سب سے زیادہ نمبر ہیں -

سرگودھا یونیورسٹی میں کیریئر ڈویلپمنٹ سنٹر کے زیر اہتمام سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت تربیتی نشستوں کا اہتمام
سرگودھا۔ یکم اگست (اے پی پی) سرگودھا یونیورسٹی میں کیریئر ڈویلپمنٹ سنٹر کے زیر اہتمام سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، ایک ماہ تک جاری رہنے والی عملی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد طلبہ کی اُن عملی میدان میں مفید ثابت ہونے والی مہارتوں کو نکھارنا ہے۔ سرگودھا یونیورسٹی میں سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جو طلبہ کی صلاحیتوں اور مہارتوں میں نکھار پیدا کرنے کا باعث بن رہاہے۔سیشنز میں 10سے زائد نمونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طلبہ کو انتظامی صلا حیتوں کو نکھارنے،انگریزی زبان سیکھنے، فری لانسسنگ کی تربیت، اعتماد سازی اور استعداد کار میں اضافہ کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلا سیشن ”موثر ابلاغ“ کے موضوع پر منعقد کیا گیا۔ جس میں امریکی نژاد ماہر علی عمیر نے طلبہ کو بتایا کہ وہ کس طرح موثر گفتگو کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔ سیشن میں طلبہ کو بولنے، تجزیاتی تحریر لکھنے اور بات کو سمجھنے کے لیے رہنمائی فراہم کی گئی۔ دوسرا سیشن پریزنٹیشن بنانے کی مہارتوں کے اطلاق سے متعلق ہوا جس میں طلبہ کو مائیکرو سافٹ آفس کے ٹولز بشمول ایم ایس ورڈ، ایگزل اور پاور پوائنٹ کی تربیت دی گئی، اس سیشن کی نگرانی راؤ نوید اقبال نے کی۔ ای کامرس کے سیشن میں پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے آئے محمد افضل نے طلبہ کو بتایا کہ وہ کس طرح اپنے بزنس آئیڈیاز کے عملی اطلاق سے باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ڈیجیٹل مارکیٹنگ سیشن میں پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے آئے ماہر فیصل نے طلبہ کو فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی، ایڈیٹنگ اور مواد کو اپ لوڈ کرنے کی تربیت فراہم کی۔کاروباری مہارتوں کے سیشن میں بلال سلیم نے طلبہ میں خود اعتمادی بڑھانے، فی البدیح بولنے کی تربیت فراہم کی اور انہیں بتایا کہ وہ اپنے نئے بزنس آئیڈیاز کا اطلاق کیسے کریں، طلبہ کو فری لانسنگ کی تربیت فراہم کرنے کے لیے بھی خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈکے ماہر عبدالمعید نے طلبہ کو فری لانسنگ کے پلیٹ فارمز، طلبہ کی مہارتوں کے مطابق فری لانسنگ پورٹل بنانے کی تربیت دی۔ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ فری لانسنگ کے ذریعے باعزت روزگار کو اپنائیں۔ طلبہ کی کیریئر کونسلنگ کے لیے منعقدہ سیشن میں مریم گل نے طلبہ کو سکالرشپس، انٹرن شپس اور جی آر ای ٹیسٹ کے بارے میں رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ وہ کس طرح بہتر ملازمت اور سکالرشپس حاصل کر سکتے ہیں۔ طلبہ کو جاب انٹرویو کی تیاری کے لیے بھی مفید مشورے دیئے گئے۔ ان سیشنز میں طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ تربیتی نشستوں کو حصہ بننے والے طلبہ میں سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے گئے۔انچارج کیریئر ڈویلپمنٹ سنٹر ڈاکٹر حماد حسن مرزا نے کہا کہ ہمارا مقصد طلبہ کو وہ تربیت اور مہارتیں فراہم کرنا ہے جو تعلیمی دورانیہ میں نہیں دی جا سکتیں۔ ہم نے ان طلبہ کا انتخاب کیا ہے جو آخری میقات میں ہیں اور مارکیٹ میں جانے کے لیے تیار ہیں تا کہ انہیں اس قابل بنایا جا سکے کہ وہ عملی میدان میں کامیابیاں سمیٹ کر ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔
-
جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کی کتاب کی تقریب رونمائی
فیصل آباد( نمائندہ باغی ٹی وی ) پاکستان کی تقسیم اور بنگلہ دیش بننے کا کوئی ایک طبقہ ‘ لیڈر یا ادارہ ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عالمی حالات’ محرومی کا مسلسل احساس ‘مشرقی پاکستان کی لیڈر شپ کاعوامی مؤقف سے دور رہنا اور مطالبات کو نظر انداز کرنا’سیاسی’ معاشی و معاشرتی صورتحال اور دیگر بہت سے عوامل تقسیم کی وجہ بنے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے معروف تاریخ دان اور جی سی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے انچارج ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کی کتاب ”مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندی : ناکام قیادت کا تحقیقی مطالعہ ” کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جی سی ویمن یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی ڈائریکٹر ایڈوانس سٹڈیز ڈاکٹر صوفیہ انور نے کہا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ہی قیادت کی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی طبقے میں احساس محرومی ‘ معاشی وسائل کی تقسیم میں عدم مساوات’ سیاسی’ معاشی اور پاور سٹرکچر سے کسی بھی طبقے کی عدم شمولیت معاشروں اور قوموں کیلئے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ماضی کے تلخ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کیلئے بہتر منصوبہ بندی کرنا ہی زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔ ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نے کہا کہ پاکستان کی تقسیم اور مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندی کا غیرجانبدارانہ انداز میں مطالعہ اور تحقیق کرنے کی ضرورت تھی۔ اس کتاب میں1947سے لے کر 1971تک کے حالات کا تحقیقی انداز میں غیرجانبدارانہ جائزہ لے کر صورتحال کو پیش کیا گیا ہے۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ قائداعظم پورا بنگال اور سکھوں سمیت پورا پاکستان لینا چاہتے تھے۔جہاں دو دوردراز کے دوجغرافیائی خطوں پر مشتمل ایک آزاد ملک (پاکستان ) کا بننا ایک تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا وہیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی دنیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کہ کسی بھی ملک کی اکثریتی آبادی نے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی الگ شناخت بنائی ۔ ہمیشہ اقلیت میں ہونے والے علیحدگی کی بات کرتے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک صرف 70کی دہائی میں ہی شروع نہیں ہوئی۔ اس کی چنگاریاں 1947سے ہی پھوٹتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ قومی زبان کے ایشو سے تو ایک زمانہ آگاہ ہے۔ قائد اعظم نے اردو کو قومی زبان قرار بھی سی لئے دیا تھا کہ اردو پاکستان کے کسی صوبے یا علاقے کی زبان نہیں ہے۔ اگست 1947کی تاریخی ہجرت’ 1948 میں وسائل کی تقسیم’ 1949 میں آئین کے بنانے پر اختلاف’ عوامی مسلم لیگ اور یوتھ لیگ کا قیام اور متعدد دیگر عوامل علیحدگی پسندی کے چشمے سے پھوٹتی ہوئی چنگاریاں ہی تو تھیں۔ 1971کی جنگ کے حالات و نقصانات کے حوالے سے بھی دونوں طرف مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے۔ مشرقی پاکستان کی تقسیم کے عوامل اور حالات کا دو نہیں چار( پاکستان’ بنگلہ دیش’ انڈیا اور عالمی صورتحال) تناظر میں جائزہ لینے کی ضرورت تھی اور اس کتاب میں ایسا ہی کیا گیا ہے۔ جی سی یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے سینئر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر محمد آصف نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کی اس کتاب کا سب سے اہم پہلو کو مجھے لگا وہ یہ ہے کہ پوری کتاب میں ڈاکٹر رضوان خود کہیں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے عام تاریخ دانوں کی طرح بیانیہ انداز میں صورتحال پیش کرنے کی بجائے غیرجانبدارانہ انداز میں حقائق پیش کئے ہیںاور یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ انہوں نے جس خوبی کے ساتھ حقائق کو غیرجانبدار رہتے ہوئے پیش کیا ہے وہ ان کا ہی خاصہ ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسماء آفتاب نے کہا کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اس سے کسی رعائت کی امید رکھنا ہی عبث ہے مگر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے تناظر میں پاکستان کی اس وقت کی لیڈر شپ کا کردار بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہے۔ ضرورت تھی کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالے سے غیرجانبدارانہ بیانیہ کے ساتھ کام کرکے حقائق سامنے لائے جاتے۔ ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نے اس ضروت کو بری حد تک پورا کیا ہے اور تاریخ کے قارئین کو نئے زاوئیے سے حقائق کا جائزہ لینے کا موقع دیا ہے۔تقریب کے دوران جی سی یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے لیکچرار حسن سانول نے بھی اظہار خیال کیا اور ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کو اس تاریخ کتاب کی تشکیل پر خراج تحسین پیش کیا۔