مانسہرہ۔ 30 جولائی (اے پی پی) ضلع مانسہرہ کے نواحی علاقہ متہال کے مکینوں نے صوبائی حکومت، صوبائی وزیر تعلیم اور ڈی ای او مانسہرہ سے گرلز مڈل سکول متہال کو ہائی سکول کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ علاقہ مکینوں نے صحافیوں کو بتایا کہ علاقہ متہال کی بچیاں آ ج بھی دور دراز علاقوں میں پیدل سفر کر کے تعلیم حاصل کرنے جا رہی ہیں، ان بچیوں کو ان کی اپنی دہلیز پر تعلیم کی سہولیات کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور صوبائی وزیر تعلیم طالبات کی تعلیم پو خصوصی توجہ دے رہے ہیں، متہال کی بچیوں کیلئے گرلز مڈل سکول کو ہائی سکول کا درجہ دیکر اہلیان علاقہ کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا جائ
Category: تعلیم

ایبٹ آباد تعلیمی بورڈ آفس کے باہر احتجاج کرنے والے 60 طلباء کے خلاف تھانہ نواں شہر میں مقدمہ درج
ایبٹ آباد۔ 30 جولائی (اے پی پی) ایبٹ آباد تعلیمی بورڈ آفس کے باہر احتجاج کرنے والے 60 طلباء کے خلاف تھانہ نواں شہر میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، ملزمان کی شناخت کے بعد گرفتار کیا جائے گا۔ ایس ایچ او تھانہ نواں شہر کے مطابق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکشن کے زیراہتمام ایف اے/ ایف ایس سی کے نتائج کے خلاف طلباء نے احتجاج کے دوران مری روڈ ٹریفک کیلئے بلاک کر دیا تھا۔ احتجاج کرنے والے 60 طلباء کے خلاف تھانہ نواں شہر کی علت نمبر 440 میں زیر دفعہ 341/147/149 درج کر لیا گیا۔ ملزمان کو ویڈیو میں شناخت کے بعد انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

سرگودہا یونیورسٹی کے حق میں بینکنگ کورٹ کا بڑا فیصلہ،جانیے اس خبر میں
سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی)صدر مملکت عارف علوی نے بنکنگ محتسب کے فیصلہ کی توثیق کرتے ہوئے سرگودھا یونیورسٹی کے حق میں فیصلہ دیدیا۔تفصیل کے مطابق بنکنگ محتسب نے نومبر2018 ء میں سرگودھا یونیورسٹی میں قائم نجی بنک کی برانچ کو منافع کے شیئر کی رقم یونیورسٹی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا اور بنکنگ محتسب کے اس حکم پر نجی بنک نے صدر پاکستان سے اپیل کی جس پر صدر پاکستان نے بھی سرگودھا یونیورسٹی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے بنک کو منافع کے شیئر کی رقم فوری جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ یونیورسٹی آف سرگودھا نے کیمپس میں قائم نجی بنک کی برانچ کی طرف سے دی جانے والی منافع کی رقم کا کم شیئر دینے کی تین مختلف سرماریہ کاری کےمتعلق شکایت کی جس میں بتایا گیا کہ 2015ء میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چوہدری کے دور میں یونیورسٹی آف سرگودھا نے بنک میں 40کروڑ کی سرمایہ کاری کی جبکہ سب سے زیادہ منافع دینے والے بنک میں رقم کی سرمایہ کاری کی گئی جوکہ 10.5فیصد تھا اور اس پر بنک نے چار کروڑ 21لاکھ15ہزار 68روپے کی بجائے 3کروڑ8لاکھ 84 ہزار3 سو 84روپے منافع ادا کیا اس طرح 1کروڑ 12لاکھ 30ہزار 6سو 84روپے کم ادا کئے گئے۔اسی طرح 27کروڑ50لاکھ کی ایک اور سرمایہ کاری پر زیادہ منافع کی شرح کے شیئر میں بنک نے 2کروڑ62لاکھ پچاس ہزار منافع کی رقم کی بجائے2کروڑ11لاکھ 25ہزار کی ادائیگی کی اور یونیورسٹی خزانہ کواس مد میں 51لاکھ 25ہزار کا نقصان اٹھانا پڑا اسی طرح2015کے دوران تیسری 12کروڑ 50لاکھ کی سرمایہ کاری کی رقم پر 88لاکھ 99ہزار تین سو 15روپے کی بجائے 82لاکھ72ہزار 6سو 2 روپے ادا کئے گئے اور یونیورسٹی خزانہ کو مجموعی طور پر ایک کروڑ69لاکھ82ہزار3سو 97 روپے منافع کی کم ادائیگی کی گئی۔یونیورسٹی آف سرگودھا کی موجودہ انتظامیہ نے معاملہ کو فوری طور پر بنکنگ محتسب کے پاس اٹھایا جس پر بنکنگ محتسب نے سماعت کے بعد نجی بینک کو یونیورسٹی آف سرگودھا کے خزانہ میں ایک کروڑ69لاکھ82ہزار3سو 97 روپے کی رقم بطور منافع اکاؤنٹ میں ادائیگی کا حکم دیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2015کے دوران اُس وقت کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چوہدری ودیگر نے اُس وقت کی بنک انتظامیہ کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرکے یونیورسٹی خزانے کو نقصان پہنچایا جس کا انکشاف ہائر ایجوکیشن کمیشن کی آڈٹ رپورٹ میں کیا گیا۔یاد رہے کہ نیب لاہور نے کچھ روز قبل ہی یونیورسٹی کو پرائیویٹ سب کیمپس لاہور اور منڈی بہاؤالدین کیس میں ملزمان سے پلی بارگین کے بعد ریکوری کی مد میں 9کروڑ41لاکھ روپے کے چیک رجسٹرار کے حوالے کیے جو کہ یونیورسٹی خزانے میں جمع کرا دیئے گئے ہیں جس میں سے سب کیمپس لاہور اور منڈی بہاؤالدین کے طلبہ کو زائد فیسوں کی مد میں وصول کیے گئے 5کروڑ روپے سے زائد واپس کیے جائیں گے جبکہ دیگر ریکوریوں میں سابق پرائیویٹ سب کیمپسز گوجرانوالہ، فیصل آباد سے بھی 15لاکھ کی رقم شامل ہے جبکہ متذکرہ تین کیمپسز سے92لاکھ کی مزیدریکوری بھی متوقع ہے جو کہ سرگودھا یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ کی شبانہ روز کاوشوں کا نتیجہ ہے اور اس سے یونیورسٹی خزانے کو مجموعی طور پر کروڑوں کا فائدہ ہو گا جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کرپٹ عناصر کی بیخ کنی اور ان کیخلاف مسلسل جاری رکھ کر ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم کیے ہوئے ہے۔

اساتذہ کے تبادلوں پر یکم اگست تک پابندی عائد کردی گئی
پشاور:اب نئے تبادلے ای ٹرانسفر پالیستی کے تحت ہوں گے . محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے اساتذہ کے تبادلوں پر یکم اگست تک پابندی عائد کر دی۔
ذرائع کے مطابق مشیر تعلیم خیبرپختونخوا ضیاء اللہ خان بنگش نے کہا کہ نئی ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں اساتذہ کے تبادلوں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کے ٹرانسفر میرٹ پر ہوں گے، تبادلوں کے عمل میں شفافیت آئے گی۔
میںجیت گئی ، اور وہ ! ماہرہ خان نے کیا کہہ دیا کہ ہر کوئی حیران رہ گیا
ضیاء اللہ خان بنگش نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے یکم اگست 2019 کو ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت ایپ لانچ کی جائے گی۔یاد رہے دو ماہ قبل وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے محکمہ تعلیم کی ای ٹرانسفر پالیسی کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔
وزیراعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ خان بنگش نے کہا کہ ای ٹرانسفر پالیسی کے آن لائن نظام کی وجہ سے اساتذہ اوردفتری عملے بشمول طلباء کا قیمتی وقت بھی ضائع ہونے سے بچ سکے گا۔جس کی وجہ سے اساتذہ کی کارکردگی میں واضح فرق آئے گا۔

زرعی کالج جامعہ سرگودھا کے ماہرین کا شعبہ زراعت سے متعلق مختلف امور کی رہنمائی فراہم کرنے کیلئے لڈے والا کا دورہ
سرگودھا۔ 29 جولائی (اے پی پی) زرعی کالج جامعہ سرگودھا کے ماہرین نے آؤٹ ریچ پروگرام کے تحت کسانوں کو شعبہ زراعت سے متعلق مختلف امور کی رہنمائی فراہم کرنے کیلئے سرگودھا کے نواحی علاقہ چک نمبر 52شمالی لڈے والا کادورہ کیا۔دورہ میں کالج کے زرعی ماہرین نے کسانوں اور زمینداروں کو مختلف فصلوں،سبزیوں،پھلداراور سایہ دار درختوں کی باقاعدہ بوائی سے لے کر کٹائی تک فصلوں کی حفاظت اورمارکیٹنگ کے حوالے سے خصوصی مشورے دیے۔ کسانوں کو جانوروں کی افزائش،گوشت اوردودھ کی پیداوار میں اضافہ کیلئے جدید تحقیق کی روشنی میں مفید مشورے اور لائحہ عمل دیا۔زررعی ماہرین نے اس موقع پر باقاعدہ فصلوں میں جا کرپودوں اور زمینوں کا معائنہ کیا۔اس موقع پر پرنسپل زرعی کالج ڈاکٹر اعجاز رسول نورکانے کہا کہ ہمارے کالج کے اساتذہ اور زرعی ماہرین کسانوں کے بچوں کو زرعی تعلیم اور کسانوں کو کاشتکاری کے جدید علم و تحقیق کے بارے میں آگہی فراہم کرتے ہیں تا کہ ملکی زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور ہمارا محنتی کسان خوشحال ہو۔شعبہ توسیع زراعت کے چیئر مین ڈاکٹر اعجاز اشرف نے کہا کہ ہماری زرعی ماہرین کی ٹیم ہر اس علاقہ کا با قاعدہ دورہ کرتی ہے جہاں کے افراد زراعت اور لائیو سٹاک سے وابستہ ہیں۔اس میں ہمارے نہری اور بارانی علاقے شامل ہیں۔کسانوں کے نمائندہ مہر فاروق نے کاشتکاری کے جدید طریقہ کار کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے پر زرعی کالج کے وفد کا شکریہ ادا کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
فیصل آباد میں جشن آزادی کے موقع پر طلباء و طالبات کے درمیان تقریری مقابلوں کے انعقاد کی ہدایت
فیصل آباد (اے پی پی) محکمہ تعلیم حکومت پنجاب نے جشن آزادی کے موقع پر سکولوں کے طلباء و طالبات کے درمیان تقریری مقابلوں کے انعقاد کی ہدائت کی ہے جس میں تحریک پاکستان سے تکمیل پاکستان تک کے مراحل پر طلباء اظہار خیال کریں گے۔ اس موقع پر طلباء و طالبات کے درمیان مضمون نویسی کا مقابلہ بھی ہو گا جس کا مقصد طلباء کی ذ ہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی ہمشیرہ، محترمہ فاطمہ جناح ؒکی سالگرہ کل منائی جائے گی
فیصل آباد (اے پی پی) بابائے قوم، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی ہمشیرہ، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح جو 31جولائی 1893 ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں کی 126ویں سالگرہ کل31 جولائی بروزبدھ کو ملک بھر میں قومی جوش و جذبے اور انتہائی عقیدت و احترام سمیت بھر پور طریقے سے منائی جائے گی۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ، نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن، تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ اور دیگر تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز، کانفرنسز، مذاکروں، مباحثوں اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا جس میں مادر ملت کی تحریک پاکستان میں اپنے بھائی کے شانہ بشانہ جدو جہد سمیت ملک و قوم کیلئے ان کی گراں قدر خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ مادر ملت جنہیں شمع جمہوریت کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے نے برصغیر کی مسلم خواتین کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرنے سمیت انہیں مردوں کے شانہ بشانہ تکمیل پاکستان کی جدو جہد میں عملی طور پر شریک کیا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے عمر رسیدہ ہونے کے باوجود قوم کے پر زور اصرار پر وطن عزیز کی صدارت کے عہدہ کیلئے صدر ایوب خان کے مقابلے میں الیکشن لڑا لیکن انہیں خفیہ ہاتھوں نے شکست سے دوچار کر دیا۔محترمہ فاطمہ جناح نے 74برس کی عمر میں 9جولائی 1967ء میں وفات پائی۔ مادر ملت کے یوم ولادت اور سالگرہ کے موقع پر قرآن خوانی کی محافل کا بھی اہتمام کیا جائے گا جس میں شہدائے تحریک پاکستان سمیت وطن عزیز کی سلامتی، استحکام، خوشحالی، فلاح کیلئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔

تعلیمی اداروں میں ناچ گانا، اسمبلی میں حکومت نے کیا جواب دیا؟
پنجاب اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا ،دوسری جانب محکمہ تعلیم کے حکام نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کی محفلیں برداشت نہیں کی جائیں گی.
کلبھوشن یادیو،عالمی عدالت کا فیصلہ،پنجاب اسمبلی میں مبارکباد کی قرارداد جمع
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت ہوا، اپوزیشن اراکین نے منہگائی کیخلاف ایوان میں احتجاج کیا، اور پوائنٹ آف آرڈر پر بات کی اجازت نہ ملنے پراپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے دھرنا دیا، اس دوران شدید نعرے بازی کی گئی. اپوزیشن رکن خلیل طاہر سندھو نے منہ پر سیاہ کپڑا باندھ لیا ،دھرنے کے دوران فیاض الحسن چوہان نے کورم کی نشاندہی کر ڈالی ،پینل آف چیئرمین میاں شفیع نے کورم کی نشاندہی پر گنتی کروانے کااعلان کر دیا ،ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے سیٹ سنبھالتے ہی کورم مکمل کرنے کااعلان کر دیا .
جنوبی پنجاب صوبہ، مسلم لیگ ن نے کی اسمبلی میں مخالفت
پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کے معاملے پر اسمبلی میں سوال جواب ہوئے، ن لیگ کی کنول پرویز چودھری نے محکمے کے جواب پر عدم اعتماد کا اظہارکر دیا، کنول پرویز چودھری کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں ڈانس کروانا افسوسناک ہے،
تعلیمی اداروں میں اردو کیسے لائیں گے؟ وزیر تعلیم نے تفصیلات بتا دیں
پارلیمانی سیکرٹری تعلیم سبطین رضا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نجی وسرکاری تعلیمی اداروں میں پہلے ہی ناچ گانے پر پابندی ہے،تعلیمی اداروں میں مزید سختی کی جارہی ہے ،اگر کسی تعلیمی ادارے کی شکایت ہے تو رجسٹریشن منسوخ کردی جائے گی،غیر نصابی سرگرمیوں اور پڑھائی کے نام پر فحاشی نہیں چلے گی،خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں کو بھاری جرمانے کیے جائیں گے
واضح رہے کہ :پنجاب حکومت نے وزیر اعظم کے ویژں کو آگے بڑھاتے ہوئے یکساں نظام تعلیم اپنانے کے وعدے پر کام شروع کردیا ہے. اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے پرائمری سطح پر سرکاری اسکولز میں تعلیمی نصاب انگریزی میں نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے. پنجاب حکومت کے اعلان کے مطابق آئندہ تعلیمی سال 2020 سے انگریزی صرف بطور مضمون پڑھائی جائے گی ۔ حکومت پنجاب آئندہ سال سے تعلیمی نصاب اردو میں کردے گی ۔

تعلیمی اداروں میں اردو کیسے لائیں گے؟ وزیر تعلیم نے تفصیلات بتا دیں
پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے کہا ہے کہ 2020 تک پرائمری اسکولوں کو اردو پر لے جائیں گے.
اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2020 تک پرائمری اسکولوں کو اردو پر لے جائیں گے،پہلی سے پانچویں تک اردو انگلش کے ساتھ بطور زبان نصاب میں شامل کریں گے .
نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر
صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ جب تک بچہ اپنی زبان نہیں سیکھ سکتا تو بہتر معاشرہ تشکیل نہیں پا سکتا ،سب سے پہلے اردو کو لارہے ہیں پنجابی زبان کو لاگو نہیں کریں گے ،پہلا فیز ایکٹولرننگ مکمل کر چکے ہیں 2020ء کے بعد نئی کتب لائیں گے .
مراد راس نے مزید کہا کہ دوسرے مرحلے میں پہلی سے آٹھویں تک نصاب میں اردو زبان لائیں گے ،جو کتاب نصاب کے مطابق نہیں ہو گی وہ نکال دی جائے گی.
واضح رہے کہ :پنجاب حکومت نے وزیر اعظم کے ویژں کو آگے بڑھاتے ہوئے یکساں نظام تعلیم اپنانے کے وعدے پر کام شروع کردیا ہے. اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے پرائمری سطح پر سرکاری اسکولز میں تعلیمی نصاب انگریزی میں نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے. پنجاب حکومت کے اعلان کے مطابق آئندہ تعلیمی سال 2020 سے انگریزی صرف بطور مضمون پڑھائی جائے گی ۔ حکومت پنجاب آئندہ سال سے تعلیمی نصاب اردو میں کردے گی ۔

پنجاب حکومت نے اگلے سال سے پرائمری سکولوں میں ذریعہ تعلیم اردو کرنے کا اعلان کر دیا
پنجاب حکومت نے اگلے سال سے پرائمری سکولوں میں ذریعہ تعلیم اردو کرنے کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اور بچوں کا سارا وقت مضمون کو سمجھنے کے بجائے ترجمہ کرنے میں صرف ہو جاتا ہے ، اس وجہ سے بچے کچھ نیا سیکھ نہیں پاتے ، اگلے تعلیمی سال مارچ 2020 سے پنجاب کے پرائمری سکولوں میں ذریعہ تعلیم اردو کر دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے ہیڈ بلوکی بیراج کا دورہ کیا اور پانی کی آمد و اخراج کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
وزیراعلیٰ کو ہیڈ بلوکی بیراج کی بحالی و اپ گریڈیشن کے پروگرام کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور ہیڈ بلوکی اور پنجاب کے دیگر دریاؤں میں پانی کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ہیڈ بلوکی بیراج پر سیلاب کی صورتحال جانچنے کیلئے فضائی معائنہ بھی کیا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے سیلاب کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ۔ ہیڈ بلوکی سمیت دیگر دریاؤں کے بند اور پشتے وقت سے پہلے مضبوط بنائے گئے ہیں۔ دریاؤں میں پانی کی صورتحال پر 24 گھنٹے نظر رکھی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جہلم، چناب اور سندھ کے دریاؤں میں پانی کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے







