Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • گلگت بلتستان انتخابات،پیپلز پارٹی کی نمایاں کامیابی پر وزیراعظم کی مبارکباد

    گلگت بلتستان انتخابات،پیپلز پارٹی کی نمایاں کامیابی پر وزیراعظم کی مبارکباد

    وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمایاں کامیابی پر پارٹی قیادت اور کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے جمہوری عمل کے کامیاب انعقاد کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

    اپنے بیان میں وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے عوام کو پرامن انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے بھرپور سیاسی شعور کا مظاہرہ کیا اور جمہوری عمل میں فعال شرکت کرکے جمہوریت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں اکثریتی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، اس کامیابی پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کامیابی جمہوری عمل پر عوامی اعتماد کا اظہار ہے۔

    شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدواروں کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی امیدواروں نے سخت مقابلہ کیا اور بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی انتخابی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کارکنان اور قیادت کی محنت قابل تحسین ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پرامن، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات جمہوریت کا حسن ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا، جو قابل تعریف ہے۔انہوں نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان اداروں کی مؤثر حکمت عملی اور انتھک محنت کے باعث انتخابات پرامن ماحول میں مکمل ہوئے۔

  • راولاکوٹ میں معمولاتِ زندگی بحال، عوام نے احتجاجی کال مسترد کر دی

    راولاکوٹ میں معمولاتِ زندگی بحال، عوام نے احتجاجی کال مسترد کر دی

    راولاکوٹ: آزاد کشمیر کے دیگر شہروں کی طرح راولاکوٹ میں بھی معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق جاری ہیں اور تعلیمی، تجارتی و سماجی سرگرمیاں بلا تعطل رواں دواں ہیں۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ شام کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ شرپسند عناصر نے راولاکوٹ میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شرپسند عناصر کو منتشر کر دیا اور علاقے میں امن و سکون بحال کر دیا۔حکام کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ریاستی رٹ کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق راولاکوٹ کے باشعور عوام نے آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع کی طرح نام نہاد احتجاجی کال کو یکسر مسترد کرتے ہوئے معمول کی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ شہر میں کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور دیگر عوامی مقامات معمول کے مطابق کھلے رہے جبکہ شہریوں نے امن و استحکام کے حق میں اپنا کردار ادا کیا۔انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عوام کے تحفظ اور خطے میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

  • گلگت بلتستان انتخابات،نتائج کا سلسلہ جاری،پیپلز پارٹی 9 سیٹیں جیت کر پہلے نمبر پر

    گلگت بلتستان انتخابات،نتائج کا سلسلہ جاری،پیپلز پارٹی 9 سیٹیں جیت کر پہلے نمبر پر

    گلگت بلتستان اسمبلی کیلئے پولنگ کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک پاکستان پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ 9 نشستوں پر میدان مار لیا ہے۔

    گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کیلئے اتوار کو مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سے ہی ووٹرز کا رش رہا اور لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے لمبی قطاروں میں کھڑے رہے، پولنگ بغیر کسی وقفےکے شام 5 بجے تک جاری رہی، پولنگ کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔، اب تک 24 میں سے 18 نشستوں کے مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے9، آزاد امیدواروں نے5، مسلم لیگ (ن) نے 3 اور مجلس وحدت مسلمین نے ایک نشت حاصل کرلی۔

    گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ جی بی اے 1،4،5،7،9،10،11،12،19 پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی جبکہ جی بی اے20، 22 اور 18 پر ن لیگ اور جی بی اے 8 پر ایم ڈبلیو ایم جیتی اور جی بی اے 3،23،24,21 اور 6 پرآزادامیدوارکامیاب ہوئے۔

    حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 کے تمام 80 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10594 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پاکستان مسلم ليگ ن کے محمد شفیق الدین 6312 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے تمام 82 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار سید سہیل عباس7877 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ 7361 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 کے تمام 53 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7654 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 6597 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 5 نگر 2 کے تمام 32 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 2705 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے ریاض اکبر 2584 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ کے تمام 88 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 6360 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق 5381 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 کے تمام 70 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 10474 ووٹ لیکرجیت گئے، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 10118 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 کے تمام 54 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6314 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4 کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان 6582 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان 4667 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ کے تمام 51 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 5944 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان مسلم ليگن کے سید محسن رضوی 4589 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے12 شگر کے تمام 71 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 12944 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے راجہ محمد اعظم خان 8682 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 14 استور 2 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 35 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق 4300 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3865 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1426 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ولی الرحمان 996 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے عتیق اللہ 1302 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم ليگ (ن) کے محمد انور 1069 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 2244 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جے یو آئی ایف کے رحمت خالق 1128 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے تمام 34 پولنگ اسٹیشنز میں سے 33 کے نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے کفایت الرحمن 5527 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 5059 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 کے تمام 78 پولنگ اسٹیشنز غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ 9613 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 8210 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 کے تمام 69 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے عبدالجہاں 6917 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نذیر احمد 6758 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 کے تمام 60 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے آزاد امیدوار امان علی 9938 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ 6643 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 22 گھانچے 1 کے تمام 58 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 9308 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 8052 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 23 گھانچے 2 کے تمام 50 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 12117 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار عبد الحمید 4119 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے تمام 46 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

  • سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی،تونسہ کے قریب 2  ٹی ٹی پی دہشتگرد جہنم واصل

    سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی،تونسہ کے قریب 2 ٹی ٹی پی دہشتگرد جہنم واصل

    تونسہ: سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تونسہ اور گرد و نواح کے علاقوں کو ممکنہ دہشت گردی سے محفوظ بنا لیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ایک ہدفی آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دو دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

    سی ٹی ڈی پنجاب نے کوہ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جدید نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے ایک بڑی کارروائی انجام دی۔ دہشت گرد تونسہ، وہوا اور کوہ سلیمان کے آباد علاقوں میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جس کے پیش نظر ان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق رات بھر جاری خفیہ مانیٹرنگ، جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور زمینی نگرانی کے بعد تقریباً رات 12 بج کر 30 منٹ پر کالعدم ٹی ٹی پی کے مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہدفی ڈرون کارروائی قبائلی علاقہ تونسہ کے درہ واہوا سیکٹر میں کچی لکھانی کے قریب کی گئی۔ابتدائی زمینی جائزوں کے مطابق کارروائی انتہائی درست ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد موقع پر ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تنظیم کا ایک اہم کمانڈر بھی شامل بتایا جاتا ہے۔ کارروائی کے بعد باقی دہشت گرد اپنے زخمی ساتھی کو ساتھ لے کر قریبی دشوار گزار علاقوں کی جانب فرار ہو گئے۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ مختلف راستوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا، جس سے تونسہ، وہوا اور کوہ سلیمان کے علاقوں کو ممکنہ نقصان سے بچا لیا گیا۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور علاقے کے امن و استحکام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

  • چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    ڈیرہ غازی خان: پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع قبائلی علاقہ چتروٹہ ایک مرتبہ پھر سکیورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک تفصیلی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے چتروٹہ راہداری میں اپنی منظم موجودگی قائم کرتے ہوئے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے بھتہ وصولی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جسے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مستقل ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چٹتوٹہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے تونسہ میں واقع ایک انتہائی اہم جغرافیائی مقام ہے جہاں پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں واقع یہ علاقہ اپنی پیچیدہ جغرافیائی ساخت، برساتی ندی نالوں اور خفیہ گزرگاہوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چتروٹہ میں قائم بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) چوکی پنجاب کی سرحدی دفاعی لائن کا اہم حصہ ہے، تاہم مئی 2026 میں ٹی ٹی پی کے حملے میں اس چوکی کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیم کا مقصد علاقے میں ریاستی رٹ کو کمزور کرنا اور اپنی مستقل موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چتروٹہ اور اس کے اطراف کے علاقے کم آبادی والے اور مکمل طور پر قبائلی نوعیت کے حامل ہیں جہاں روایتی قبائلی نظام اب بھی غالب ہے۔ قیصرانی بلوچ قبیلہ مقامی وادیوں اور پہاڑی راستوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے جبکہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایسوٹ اور زمری پشتون قبائل اہم پہاڑی گزرگاہوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ شمال میں خیبر پختونخوا کے علاقے خوئی پیوار اور خوئی بہارا استرانہ پشتون قبیلے کے زیر اثر ہیں۔انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے انہی پہاڑی علاقوں میں خفیہ ٹھکانے اور آپریشنل اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ اسمگلنگ روٹس کی نگرانی اور بھتہ خوری کی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوزی سیکٹر میں تقریباً 18 سے 20 بھاری ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں۔ یہ مقام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان واقع مرکزی اسمگلنگ راستے سے محض 5 سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جس کے باعث دہشت گرد باآسانی نقل و حرکت کرنے والی گاڑیوں اور تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تنظیم نان کسٹم پیڈ (این سی پی) سامان، خصوصاً سگریٹ اور ایرانی تیل لے جانے والی گاڑیوں سے 15 ہزار سے 20 ہزار روپے فی گاڑی کے حساب سے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ رپورٹ میں اس عمل کو ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے آنے والا غیر قانونی سامان مختلف راستوں سے چتروٹہ پہنچتا ہے اور وہاں سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔اسمگلنگ کے اہم راستوں میں مکھتر، موسیٰ خیل، کارکانہ، ڈب بینی، چتروٹہ، درہ وہوا، درہ کورہ، گوزی، خوئی پیوار، بستی بزدار اور رامک سمیت متعدد مقامات شامل ہیں۔ بعض راستے براہ راست درہ وہوا اور درہ کورہ سے ہوتے ہوئے بستی گرو، بستی متھوان اور بستی باجھہ تک پہنچتے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چتروٹہ سے قریبی سکیورٹی تنصیبات کے درمیان فاصلہ نسبتاً زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل مشکل ہو سکتا ہے۔ بی ایم پی چتروٹہ سے تھانہ وہوا 25 کلومیٹر، بی ایم پی لکھانی 28 کلومیٹر، پولیس پکٹ جھنگی 43 کلومیٹر جبکہ جوائنٹ چیک پوسٹ ٹریمن 48 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق گوزی سیکٹر کا چتروٹہ سے صرف 5 سے 6 کلومیٹر کا فاصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی مختصر وقت میں علاقے میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے۔

    انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی چتروٹہ اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں مستقل آپریشنل نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کو مستقل بنیادوں پر اپنے مالیاتی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ رپورٹ میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

  • آزادکشمیرکی عوام نے  احتجاجی کال مستردکردی،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 72 گرفتار

    آزادکشمیرکی عوام نے احتجاجی کال مستردکردی،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 72 گرفتار

    مظفرآباد سمیت پورے آزادکشمیرمیں عوام اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہیں،کوئی دکان بھی بند نہیں ،تمام مارکیٹیں کھلی ہیں،بازاروں میں رش ہے، سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں دواں ہے،باشعورعوام نے آزاد کشمیرکا امن وامان خراب کرنے کی مذموم کوششوں کو مسترد کردیا.

    آزادکشمیر کے باشعورعوام کاکہنا تھاکہ پورے آزادکشمیرمیں حالات معمول کے مطابق چل رہے ہیں،آزادکشمیر میں بازارکھلے اور لوگوں اپنے معمولات زندگی میں مصروف ہیں،کوئی دکان بھی بند نہیں ،تمام مارکیٹیں کھلی ہیں،بازاروں میں رش ہے، لوگ خریدو فروخت کیلئے باہرنکلے ہوئے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں دواں ہے، بازاروں میں رونق اور ٹریفک کی روانی نے ثابت کر دیا کہ باشعورعوام نےآزادکشمیرکا امن وامان خراب کرنے کی مذموم کوششوں کو مسترد کردیا

    راولاکوٹ سمیت آزادکشمیر کے مختلف شہروں میں معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق جاری، بازار اور کاروباری مراکز کھلے ہیں،راولاکوٹ میں ٹریفک رواں دواں، تعلیمی، کاروباری اور سماجی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں،شہر بھر میں مرکزی بازاروں میں تجارتی او کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں، راولاکوٹ شہر میں بازاروں کی رونق اور شہری سرگرمیوں نے معمول کی زندگی کی عکاسی کر دی،راولاکوٹ کے عوام پر امن ماحول میں مطمئن اور معمول کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں

    آزاد جموں کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر نے عوامی ایکشن کمیٹی کی حقیقت سامنے رکھ دی
    شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ عوام ایکشن کمیٹی نے پہلے بھی دو تین بار امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی،ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنا چاہتی ہے، آزاد کشمیر کی عوام نے ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کو مسترد کر دیا ہے،ایکشن کمیٹی کا امن مخالف ایجنڈا ناکام عوام نے احتجاج کا بائیکاٹ کر دیا، آج پورے آزاد کشمیر میں کاروبار معمول کے مطابق کھلے ہیں،آزاد کشمیر کے عوام مکمل امن و امان کے ساتھ اپنے روزگار میں مصروف ہیں، شاہ غلام قادر نے کہا کہ شرپسند عناصر کے سامنے آزاد کشمیر پولیس نے امن و امان کو یقینی بنایا، آزاد کشمیر میں تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں،آزاد کشمیر میں انتخابات پُرامن اور جمہوری انداز میں مکمل ہوں گے

    دوسری جانب آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے سے تعلق رکھنے والے 72 افراد کو گرفتار کر لیا گیاہے ، ترجمان انسپیکٹر جنرل پولیس کے مطابق عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں،گرفتار افراد کے قبضے سے اسلحہ، مواصلاتی آلات اور مشتبہ دستاویزات برآمد ہوئی ہیں،ترجمان آئی جی پی کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کے بعض عناصر عوامی مسائل کے نام پر امن و امان خراب کر رہے ہیں۔

  • نیب کا کھڑاک، بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک 45 لاکھ ڈالر مالیت کے اکاؤنٹس منجمد

    نیب کا کھڑاک، بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک 45 لاکھ ڈالر مالیت کے اکاؤنٹس منجمد

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک ماریشس میں موجود 45 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے دو بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔

    نیب ذرائع کے مطابق ملزمان احمد علی ریاض اور مبشرہ علی ملک کے ماریشس میں واقع سلور بینک کے دو غیر ملکی اکاؤنٹس کو احتساب عدالت کراچی کی باقاعدہ اجازت اور منظوری کے بعد منجمد کیا گیا۔ یہ کارروائی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت عمل میں لائی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ بحرِیہ ٹاؤن نے مبینہ طور پر غیر قانونی حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورک کے ذریعے جرائم سے حاصل شدہ رقوم پاکستان سے بیرون ملک منتقل کیں۔ ابتدائی طور پر یہ رقم متحدہ عرب امارات منتقل کی گئی اور بعد ازاں منی لانڈرنگ کے ذریعے ماریشس پہنچائی گئی۔

    نیب کے مطابق پاکستان سے منتقل ہونے والی رقوم مشترکہ بینک اکاؤنٹس میں جمع کی گئیں، جن میں اس وقت تقریباً 45 لاکھ امریکی ڈالر موجود ہیں۔ اثاثہ جات کی بازیابی کے جاری عمل کے تحت ان رقوم کو قانونی طور پر منجمد کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ نیب نے وزارتِ خارجہ کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جبکہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مذکورہ رقوم کی ضبطی اور پاکستان واپسی کے لیے اقدامات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

    نیب حکام کے مطابق یہ کارروائی ادارے کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے اثاثوں کا دنیا بھر میں تعاقب کیا جائے گا اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والی رقوم کی بازیابی یقینی بنائی جائے گی۔نیب ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ غیر قانونی اثاثوں کی واپسی کے لیے متعلقہ بین الاقوامی اداروں اور حکام سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ منجمد رقوم کو جلد از جلد پاکستان منتقل کیا جا سکے۔

  • آپریشن بلیو سٹار کو 42 سال مکمل، سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر

    آپریشن بلیو سٹار کو 42 سال مکمل، سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر

    بھارت کے فوجی آپریشن ’’بلیو سٹار‘‘ کو 42 سال مکمل ہو گئے ہیں، تاہم سکھ برادری آج بھی اس واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف کی منتظر ہے۔ آپریشن بلیو سٹار کا آغاز یکم جون 1984 کو بھارتی فوج کی جانب سے امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمل (سری دربار صاحب) پر کارروائی سے ہوا تھا، جسے سکھ تاریخ کے سب سے المناک واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    اس فوجی آپریشن کے دوران گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں موجود ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ مختلف ذرائع اور سکھ تنظیموں کے مطابق کارروائی میں مردوں، خواتین، بزرگوں اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں مقیم سکھ برادری کو شدید صدمے سے دوچار کیا۔
    آپریشن بلیو سٹار کے خلاف برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور دیگر ممالک میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔ عالمی سطح پر سکھ برادری اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جبکہ متعدد ممالک میں بھارتی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

    اس دوران بھارتی فوج اور سرکاری اداروں سے وابستہ کئی سکھ افسران نے احتجاجاً اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں بھی اس کارروائی پر شدید تنقید کی گئی۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے آپریشن بلیو سٹار کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین غلطی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کارروائی نے سکھ برادری کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا۔معروف سکھ مورخ ہرجندر سنگھ دلگیر کے مطابق آپریشن بلیو سٹار ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کے اثرات آج بھی سکھ برادری محسوس کر رہی ہے۔ دوسری جانب سینئر بھارتی صحافی شیکھر گپتا نے اپنی تحریروں اور تجزیوں میں اس کارروائی کو بھارتی فوج کی ناقص منصوبہ بندی اور تاریخ کی بڑی عسکری ناکامیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

    آپریشن بلیو سٹار کے 42 سال گزرنے کے باوجود اس واقعے سے متعلق سوالات، تنازعات اور انصاف کے مطالبات آج بھی برقرار ہیں۔ دنیا بھر میں سکھ برادری ہر سال جون کے آغاز میں اس سانحے کی یاد مناتی ہے اور متاثرین کے لیے انصاف اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ دہراتی ہے۔

  • آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار

    آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار

    مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے متبادل ناموں سے کام کرنے والی تنظیموں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت فرسٹ شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صدر آزاد کشمیر کی منظوری کے بعد تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا۔حکومتی اعلامیے کے مطابق متعلقہ اداروں کے پاس ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ تنظیم امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے، ریاست میں انتشار پیدا کرنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے میں ملوث رہی ہے۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ تنظیم پر نفرت انگیزی کو فروغ دینے اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے الزامات بھی ہیں۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیم اور اس کے تمام متبادل ناموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔ اس حوالے سے آزاد کشمیر حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی تھی کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے یا امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی ہوگی۔حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم سڑکیں بند کرنے اور معمولاتِ زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

  • پنجگور میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک

    پنجگور میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک

    سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی پراکسی ’’فتنۃ الہندوستان‘‘ سے تعلق رکھنے والے 6 دہشت گرد ہلاک کر دیے جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 3 اور 4 جون کو پنجگور میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔آپریشن کے نتیجے میں فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 6 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان کے زیر استعمال ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دیگر بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔سکیورٹی فورسز عزمِ استحکام کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بلا تعطل کارروائیاں جاری رکھیں گی۔