Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سانحہ سوات پر پوری قوم اشکبار تھی،وزیراعظم

    سانحہ سوات پر پوری قوم اشکبار تھی،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے اعلیٰ سطح کی تیاریوں پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ پی ٹی اے کے ساتھ مل کر ایس ایم ایس اور فون پیغامات کے ذریعے موسمیاتی وارننگ اور آفات کے خطرات باقاعدگی سے جاری کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے، بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے یا ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں، اپنے وسائل سے دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر مقامات پر غیر متنازعہ آبی ذخائر کی صلاحیت تعمیر کریں گے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے این ڈی ایم اے کے تحت نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر میں بہترین سہولیات دستیاب ہیں، 2022ء میں تباہ کن سیلاب کے بعد یہ آپریشن سینٹر قائم کیا گیا، اس سیلاب کے دوران ملک کا وسیع علاقہ زیر آب آ گیا اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، لاکھوں گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے، 2022ء کے سیلاب کے بعد ادارے کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کثیر المقاصد اہم قومی ادارہ ہے اور اس کے صوبوں کے ساتھ مربوط روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارہ میں ارلی وارننگ سسٹم اور صوبوں کو بروقت آگاہی کا نظام موجود ہے اور اس کے پاس حفاظتی جدید آلات موجود ہیں جو ریسکیو اور ریلیف کیلئے بہت مددگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی اور کلاؤڈ برسٹ سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہے، پاکستان کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر منصوبہ بندی اور وزیر موسمیات کو ہدف دیاکہ وہ پاکستان میں زراعت اور ہاؤسنگ سمیت دیگر شعبوں اور ریزیلیئنٹ انفراسٹرکچر کیلئے قرضوں پر نہیں بلکہ گرانٹس اور پبلک پرائیویٹ سرمایہ کاری کیلئے مذاکرات کریں، ہماری معیشت اور سماجی و معاشی سٹرکچر کیلئے یہ بہترین پلیٹ فارم ہے، حکومت اس ادارے اور اس کی صلاحیتوں میں بہتری اور صوبوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ ادارہ بالخصوص دوست ممالک سمیت دیگر ممالک کو بروقت آگاہی اور معلومات فراہم کر رہا ہے، ترکیہ میں تباہ کن زلزلہ کے بعد اس ادارے نے وہاں منظم ریسکیو آپریشن کیلئے انتھک محنت کی، اسی طرح میانمار سمیت دیگر مقامات پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ غیر متوقع ہیٹ ویو کے باعث گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، اس تناظر میں ہمیں اعلیٰ سطح کی تیاریوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسوس ہے، پوری قوم اس واقعہ پر اشکبار تھی، ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر اس معاملہ کا دیانتداری سے جائزہ لینا چاہئے، این ڈی ایم اے اس معاملہ کی رپورٹ بنا کر پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں حالیہ بارشوں میں تقریباً 50 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے صوبائی حکومتوں اور پی ڈی ایم اے سے مل کر مربوط حکمت عملی وضع کرنی چاہئے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا دشمن پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے فیصلے سے اس کو پسپائی ہوئی ہے، عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر نہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے الگ ہو سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے ناپاک اور خطرناک عزائم ہیں، حکومت نے سندھ طاس معاہدہ کے خلاف بھارتی اقدامات سے نمٹنے کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا، اپنے وسائل سے دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر مقامات پر غیر متنازعہ آبی ذخائر کی صلاحیت تعمیر کریں گے، چاروں صوبوں کے درمیان 1991ء کے آبی معاہدہ کے تحت یہ آبی ذخائر تعمیر کئے جائیں گے، اس میں این ڈی ایم اے کا اہم کردار ہے، این ڈی ایم اے کے پاس ڈرون سمیت دیگر جدید آلات کی موجودگی خوش آئند ہے۔ اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے مون سون کی تازہ ترین صورتحال اور دیگر امورپربریفنگ بھی دی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اﷲ تارڑ، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر اور این ڈی ایم اے کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • وزیر اعظم کا ایرانی سفارتخارنے کا دورہ، اظہار تعزیت

    وزیر اعظم کا ایرانی سفارتخارنے کا دورہ، اظہار تعزیت

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کا دورہ کیا اور ایرانی سفارت خانے کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ اسرائیلی جارحیت کے دوران شہید اور زخمی ہونے والے ایرانیوں کی یاد میں کھولی گئی تعزیتی کتاب پر اپنے تاثرات درج کئے ۔

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر اعظم کے مشیر طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔سفارت خانے آمد پر پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور سفارت کے سینئر ارکان نے نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم نے اس مشکل وقت میں ایران کے ساتھ پاکستان کی ہمدردی اور یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی قوم کی استقامت اور حوصلے کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شہید ہونے والوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

    ایران کو پاکستان کی مسلسل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے، وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر عزت مآب آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس،ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کی منظوری

    جوڈیشل کمیشن اجلاس،ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کی منظوری

    جوڈیشل کمیشن نے پشاور، بلوچستان، سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔

    چار ہائی کورٹس کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چیئرمین جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں سندھ، بلوچستان، پشاور اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کی تقرری کے لیے ہر ہائی کورٹ کے سینئر ترین تین ججز کے ناموں پر غور کیا گیا،جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے جسٹس عتیق شاہ کے نام کی منظوری دی ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے جسٹس سرفراز ڈوگرکے نام کی منظوری دی گئی،جوڈیشل کمیشن نے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے جسٹس روزی خان اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے سینیئر ترین جج جسٹس جنید غفار کے نام کی منظوری دی۔

    جوڈیشل کمیشن نے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی تقرری سے وزیراعظم کو آگاہ کر دیا ہے۔ سیکرٹری جوڈیشل کمیشن نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو مراسلہ لکھ دیا ہے،مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم آرٹیکل 175 اے کی ذیلی شق 8 کے تحت ججز کے تقرر کی کارروائی مکمل کریں۔

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے13مستقل اراکین ہیں تاہم ہائی کورٹ کےچیف جسٹس کے لیے کمیشن کے ممبران کی تعداد 16 ہوتی ہے جب کہ کم ازکم 9 ممبران کی اکثریت سے چیف جسٹس کا تقرر ہوتا ہے،جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان، سپریم کورٹ کے 4 ججز، اٹارنی جنرل، 2 حکومتی اراکین اور 2 اپوزیشن اراکین شریک ہوئے۔ ہر صوبے کے چیف جسٹس کے لیے صوبائی وزیر قانون، ہائی کورٹ بار نمائندہ اور سابق جج شریک ہوا،جوڈیشل کمیشن میں پاکستان بار کی نمائندگی احسن بھون نے کی اور اسپیکر قومی اسمبلی کی نامزد روشن خورشید بھروچہ بھی شریک ہوئیں۔

  • پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے جولائی 2025 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔ پاکستان سلامتی کونسل کی آٹھویں مدت (2025–26) کے دوران صدر منتخب ہوا۔

    محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قانون اور کثیرالجہتی اصولوں کے لیے پُرعزم ہے۔ عالمی تنازعات اور انسانی بحرانوں کے تناظر میں پاکستان کی قیادت ایک اہم موقع پر سامنے آئی ہے، پاکستان سلامتی کونسل کو مؤثر، بامعنی اور سفارت پر مبنی فیصلوں کی طرف لے جانے کا عزم رکھتا ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان تعاون پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت بھی پاکستان کرے گا،امن و سلامتی، تنازعات کے حل اور کثیرالجہتی عالمی نظام پر اہم دستخطی تقریبات پاکستان کی زیرصدارت ہوں گی۔ فلسطین کے مسئلے پر سہ ماہی کھلے مباحثے کی صدارت بھی پاکستان کرے گا،پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ متوازن اور مؤثر نتائج کے لیے تعاون کا خواہاں ہے۔

  • جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں؟ اسرائیلی طرز پر بھارت کے فوجی عزائم بے نقاب

    جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں؟ اسرائیلی طرز پر بھارت کے فوجی عزائم بے نقاب

    بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، ایک خاموش ڈرون حملے سے جنوبی ایشیا میں جنگ چھڑ سکتی ہے

    بھارت کی جانب سے جدید اور مہلک ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر خریداری اور ایران پر حالیہ اسرائیلی حملے جیسے ماڈل کو اپنانے کی رپورٹس سے خطے کے امن و استحکام پر سوالیہ نشان لگ گیاہے۔خبررساں ادارے کے مطابق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اپنی دفاعی پالیسی میں جارحانہ تبدیلی لا رہا ہے اور اسرائیلی ماڈل کو ایک مؤثر حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہا ہے جس کے تحت حملے کا جواز پیدا کر کے کارروائی کی جاتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے اسرائیل ، فرانس اور روس سمیت مختلف ممالک سے اربوں ڈالر کا جنگی ساز و سامان خریدا ، جن میں فرانس سے 9 ارب ڈالر کے 36 رافیل طیاروں کی خریداری ، روس سے 5.4 ارب ڈالر کا S-400 دفاعی نظام کا معاہدہ ، اسرائیل سے بارک 8-میزائل سسٹم ، ہیرن و ہیرپ ڈرونز ، نائٹ وژن اور دیگر دفاعی آلات شامل ہیں۔حالیہ اسرائیل ایران کشیدگی کے دوران بھارت نے اسرائیلی کارروائی کو سراہا جس کے بعد خطے میں بھارت کی نیت اور عزائم پر عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی یہ تیاری ممکنہ طور پر کسی بڑی علاقائی چال یا کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ”موساد” اور ”را” کے درمیان انٹیلی جنس تعاون بھی اسرائیلی ماڈل کو اپنانے کی حکمت عملی کا حصہ نظر آ رہا ہے۔2019ء کے پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے اسرائیل سے متاثر ہو کر پیشگی حملے کی حکمت عملی اپنائی۔ بالاکوٹ میں فضائی حملہ اور بعدازاں 2025ء میں آپریشن سندور جیسی بزدلانہ جارحیت اسی پالیسی کا حصہ ہیں اور بھارت اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے آگے بھی اسرائیل کی مدد سے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارادہ رکھتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خدشات میں بھارت کی اسرائیل سے جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور AWACS اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا حصول نمایاں ہیں۔ بھارت کی پیشگی حملے کی پالیسی اور اسرائیلی ماڈل کی تقلید خطے بالخصوص جنوبی ایشیاء کے امن کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان 2015ء سے 2025ء کے دوران دفاعی شراکت داری میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالرز کے دفاعی معاہدے طے پائے جن میں جدید ہتھیاروں کی خریداری ، مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ شامل ہیں۔ اس شراکت داری کا مرکز فوجی صلاحیتوں میں اضافہ اور مشترکہ مذموم عزائم کا تحفظ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے اسرائیل کے ساتھ کئی اہم دفاعی منصوبوں پر کام کیاہے جن میں بارک-8 طویل فاصلے کے فضائی دفاعی میزائل ، اسپائیڈر ایئر ڈیفنس ، اسپائیک اینٹی ٹینک میزائل ، ہیرون UAVs اور ہاروپ ڈرونز کا حصول شامل ہیں۔ فضائی صلاحیت کے اضافے کے لیے بھی بھارت نے اسرائیلی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا۔ EL/W-2090 ریڈار سے لیس فالکن AWACS طیاروں کی خریداری سے بھارت ممکنہ فضائی خطرات کا جواب دینے کی تیاری میں مصروف ہے ۔ بھارت کی کئی دفاعی کمپنیاں جیسے HAL ، بھارت فورج ، ٹاٹا اور اڈانی گروپ نے اسرائیلی اداروں کے ساتھ مل کر ڈرون ، توپ خانے ، گائیڈڈ گولہ بارود اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کی مشترکہ پیداوار شروع کی ہوئی ہے۔ اس سے بھارت کی دفاعی خودانحصاری میں مزید اِضافہ ہو رہا ہے ۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ میزائل اور فضائی دفاع کے میدان میں بھارت نے روسی S-400 نظام خریدا ، جبکہ اسرائیلی بارک-8 کو مقامی سطح پر تیار کیا گیا۔ دونوں نظام بری اور بحری پلیٹ فارمز پر نصب کیے گئے۔ اسرائیل سے ملنے والے ہتھیار جیسے ڈربی ، پائیتھن میزائل اور اسپائس بم بھارت نے کنٹرول لائن پر بھی استعمال کیے۔ڈرون ٹیکنالوجی میں بھارت نے اسرائیل سے ہیرون ، سرچر Mk-II اور ہاروپ جیسے ڈرون حاصل کیے۔بھارت کی دفاعی پالیسی صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہی۔ فرانس سے رافیل لڑاکا طیارے ، روس سے S-400 سسٹمز اور امریکہ سے MQ-9B ڈرونز اور میزائل سسٹمز حاصل کر کے بھارت نے کئی محاذوں پر دفاعی تیاری کو بہتر کیا۔ اسرائیلی ، روسی اور فرانسیسی ٹیکنالوجی کا امتزاج بھارتی فوج کو جدید ہتھیاروں سے مسلسل لیس کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سائبر وارفئیر ، ڈرون حملے اور چہرے کی شناخت جیسے جدید آلات بھارت نے اسرائیل سے سیکھ کر اپنی حکمت عملی میں شامل کیے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان بھی بھارت کی بدلتی حکمت عملی کے جواب میں اپنی تیاریاں تیز کر رہا ہے ، خاص طور پر سائبر کمانڈ اور ڈرون ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن پر توجہ دی جا رہی ہے اور دفاعی شعبے کی ٹیکنالوجی کو بڑھانا وقت کا تقاضا ہے ۔ یہ ساری پیش رفت جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہی ہے۔ مستقبل کی جنگ روایتی طرز پر نہیں بلکہ غیر اعلانیہ، ٹیکنالوجی پر مبنی اور ممکنہ طور پر ایک خاموش ڈرون حملے سے شروع ہو سکتی ہے۔ پاکستان امن کو ترجیح دیتا ہے، مگر کسی بھی جارحیت کا سخت، مربوط اور فیصلہ کن جواب دینے کے عزم پر قائم ہے۔

    پاکستان کے سکیورٹی ادارے بھارت کے ہر قدم پر نظر رکھے ہوئے ہیں اورانہوں نے واضح کیا ہے کہ وطن عزیز کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور قومی سلامتی پر کسی بھی قیمت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔

  • پیپلز پارٹی کو حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت میں شمولیت کی دعوت نہیں ملی،شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی کو حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت میں شمولیت کی دعوت نہیں ملی،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت کا حصہ بننے پر غور نہیں کر رہی
    پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا شرجیل میمن کا کہناتھا کہ سندھ بھر کے تمام اضلاع میں بہترین سڑکیں بنائی گئی ہیں، اس بجٹ میں بھی سڑکوں‌پر فوکس کیا گیا ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے سکھر حیدر آباد موٹروے کے لئے معمولی رقم رکھی گئی ہے جو اسکو شروع کرنے میں بھی ناکافی ہے،پولیس کے لئے بھی بجٹ میں کافی رقم رکھی گئی ہے، سندھ حکومت عوام کو ریلیف دے رہے ہیں، سندھ حکومت نے تعلیم، صحت، پانی کے منصوبوں کو اہمیت دی، لاکھوں افراد کو سندھ حکومت نے سولر پلیٹس دیئے،

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ پی پی حکومت کا حصہ بننے پر غور نہیں کر رہے، نہ حکومت کی دعوت آئی ہے نہ ہم نے حامی بھری ہے، انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بڑے بڑے میڈیا کے ادارے بنا تصدیق کی خبر چلا رہے ہیں، ابھی حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی کو وفاقی حکومت میں شامل ہونے کی کوئی دعوت نہیں دی گئی، اگر مستقبل میں کوئی دعوت آئی تو پھر پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی،بلاول بھٹو نے پاکستان کی ترجمانی کی اور بھارتی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے امن کا پیغام دنیا تک پہنچایا، پانی عوام کے لئے آکسیجن ،اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، بانی پی ٹی آئی کو چاہئے کہ منفی سیاست چھوڑیں، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھے، ہم نے انرجی پر فوکس رکھا، ہمارے تمام محکمے کام کر رہے ہیں،

  • فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان، بھارتی پراکسیزکی دہشتگردی کےناقابل تردیدشواہد

    فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان، بھارتی پراکسیزکی دہشتگردی کےناقابل تردیدشواہد

    بھارت ریاستی سرپرستی میں اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے

    شمالی وزیرستان اور بنوں گیریژن میں سیکیورٹی فورسز پرحملہ بھارت اورفتنہ الخوارج کےناپاک گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، پاکستان نے متعدد بار بھارتی ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کو شواہد کے ساتھ بے نقاب کیاہے ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے متعدد بار پریس کانفرنس میں بھارتی دہشتگردی کے ناقابل تردیدشواہد پیش کیے ،29 اپریل 2025 کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج کے افسران پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں”25 اپریل کو جہلم کے قریب سیکیورٹی فورسز نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا،,
    مشتبہ شخص کےقبضے سے ایک دیسی ساختہ بم (IED)، ڈرون، متعدد موبائل فونز اور 10 لاکھ روپے نقد برآمد کیے گئے, گرفتار شخص نے بھارت میں تربیت حاصل کی، فرانزک تجزیے سے بھارتی آرمی افسران سے رابطوں کے شواہد ملے,میجر سندیپ اور کئی بھارتی افسران کی ہدایت پر پنجاب اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بم نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی, جعفر ایکسپریس سانحے میں بھی فتنۂ الہندوستان کے مہرے اپنے بھارتی ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں رہے,

    را سے منسلک بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایک منظم انداز میں پاکستان میں دہشتگردی, فتنہ الخوراج اور فتنہ الہندستان کے بیانیے کو پروموٹ کرتے ہیں، بھارتی حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو بھی بلوچستان سے گرفتار کیا تھا،کلبوشن نے بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں اور دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا، بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے ہتھیار ڈالنے والے دہشتگردوں کے بیانات سے بھی بھارتی دہشتگردی کے واضح ثبوت ملے ،بھارت کادہشت گردانہ چہرہ عالمی سطح پر بھی بےنقاب ہو چکا ہے، کینیڈا میں مقیم خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل اسی ایجنڈے کی کڑی ہے،اقوام عالم کو بھارتی پراکسیز فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی دہشتگردی اور انسانی جرائم کا سخت نوٹس لینا چاہیے،بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کا کسی مذہب اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں،پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی اور ناقابل تردید شواہد سے واضح ہے کہ بھارتی جنگجو پالیسیز خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہیں

  • پاکستان میں جارحیت کا جواز ڈھونڈنے کے لیے مودی حکومت کی نئی سازش

    پاکستان میں جارحیت کا جواز ڈھونڈنے کے لیے مودی حکومت کی نئی سازش

    بھارت اندرونی انتشار، انتخابی کشیدگی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث شدید عالمی دباؤ کا شکارہے،

    اندرونی بدامنی سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی سرکار نے ایک بار پھر پاکستان مخالف مہم چلا دی،فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے بھارت دنیا کو گمراہ اور پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی سازش میں مصروف ہے ،بھارتی انٹیلی جنس ذرائع نےالزام لگایا کہ مودی سرکار کا انوکھا دعویٰ، پاکستان "دہشتگرد لانچ پیڈز” دوبارہ تعمیر کر رہا ہے، لائن آف کنٹرول کے جنگلاتی علاقوں میں چھوٹے، جدید کیمپس تعمیر کیے جا رہے ہیں، این ڈی ٹی وی کے مطابق پاک فوج، آئی ایس آئی اور حکومت مل کر "آپریشن سندور” میں تباہ کیے گئے دہشتگرد انفراسٹرکچر کو فعال کر رہے ہیں، این ڈی ٹی وی کے دعوے کے مطابق؛ "نئے کیمپس سیٹلائٹ اور ڈرون سے بچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں” پاکستان عالمی بینک و ایشیائی بینک کی امداد دہشتگرد کیمپس کی تعمیر نو میں استعمال کر رہا ہے، بہاولپور میں جیش محمد، لشکرطیبہ، حزب المجاہدین کمانڈرز اور آئی ایس آئی کا اجلاس، دہشتگردوں کی تنظیم نو اور بھرتی کی منصوبہ بندی کی گئی

    این ڈی ٹی وی کا پراپیگنڈہ ریاستی حمایت یافتہ اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کی مذموم سازش ہے،مودی سرکار جھوٹے بیانیے اور الزامات کے ذریعے پاکستان کے خلاف جنگی فضا پیدا کر رہی ہے،مودی سرکار ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کا فرضی خطرہ دکھا کر فوجی جارحیت کا جواز پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے،پاکستان مخالف بیانیہ دراصل بھارت کا ہندوتوا ایجنڈا ہے جو جنگی جنون سے جڑا ہوا ہے،جنگ کا ماحول تیار کرنے کے لیے بی جے پی میڈیا، فوج اور خفیہ اداروں کو پہلے بھی ہتھیار بنا چکی ہے،بی جے پی کا نام نہاد ترقی یافتہ بھارت سیٹلائٹ، ڈرون اور نگرانی کے باوجود پہلگام حملے کے واضح ثبوت پیش کرنے سے قاصر کیوں ہے؟انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے "دہشتگردی” کا بیانیہ استعمال کرنا مودی سرکار کا پرانا حربہ ہے

  • فیلڈ مارشل سے ایرانی آرمی چیف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان کے عوام کا شکریہ

    فیلڈ مارشل سے ایرانی آرمی چیف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان کے عوام کا شکریہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی آرمی چیف میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

    ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس بات چیت کے دوران ایرانی آرمی چیف نے اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت اور حملوں کے خلاف پاکستان کے جرات مندانہ اور واضح موقف کو بھرپور طریقے سے سراہا۔میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے پاکستان کی عوام اور سیکیورٹی فورسز کو ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک دوسرے کے مضبوط شراکت دار ہیں۔

    اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی دو طرفہ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔دونوں عسکری سربراہان نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔

    تجزیہ کاروں کی جانب سے اس ٹیلیفونک رابطے کو ایران اور پاکستان کے مابین عسکری اور دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا دھاندلی، سیاست، فاٹا انضمام اور فلسطین پر دو ٹوک مؤقف

    ترک صدر طیب اردوان کی خیبرپختونخوا حملے کی مذمت

    پاکستان سے مفرور 2 ملزمان اسپین میں گرفتار

    پشاور،حملے کی کوشش ناکام، خودکش حملہ آور اور ہینڈلر ہلاک

  • آرمی چیف کا کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ

    آرمی چیف کا کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ

    چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہیں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اپنے دورے کے دوران آرمی چیف نے بنوں گیریژن حملے میں شہید ہونے والے جوانوں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) بنوں میں زخمی اہلکاروں کی عیادت بھی کی۔آرمی چیف نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے حوصلے، قربانی اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہلکار بھارت کی پشت پناہی سے چلنے والے فتنے “الخوارج” کے خلاف مثالی بہادری سے لڑ رہے ہیں۔

    انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے تمام سہولت کاروں، مددگاروں اور مجرموں کا بلاامتیاز پیچھا کیا جائے گا اور ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ہر بے گناہ پاکستانی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اور ملک کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

    آرمی چیف نے خیبرپختونخوا پولیس اور دیگر سول اداروں کی ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بڑھانے پر زور دیا اور متعلقہ حکومتی اداروں سے کہا کہ وہ اس حوالے سے اپنی ترجیحات طے کریں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاک فوج ان اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے اپنا ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

    آرمی چیف کے کور ہیڈکوارٹر پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا۔

    اربن فلڈنگ کا الرٹ، سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان متاثر ہونے کا خدشہ

    وفاقی وزرا کی تنخواہوں کے نظام میں تبدیلی، تنخواہ ارکانِ اسمبلی کے برابر مقرر

    گوجرانوالہ: بیٹیوں کے قتل کیس میں والدین ہی قاتل نکلے

    کراچی میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار، انتظامیہ کی نااہلی سے سڑکیں زیرِ آب

    Ask ChatGPT