Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • شمالی وزیرستان میں دہشتگرد حملہ، 13 جوان شہید، 14 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان میں دہشتگرد حملہ، 13 جوان شہید، 14 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان کے ی علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ایک بزدلانہ دہشتگرد حملہ کیا گیا، جس کی منصوبہ بندی اور سرپرستی بھارت جیسے دہشتگرد ریاست نے کی، جبکہ اس پر عمل درآمد اس کے آلہ کار گروہ فتنہ الخوارج نے کیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشتگردوں نے ایک بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم فورسز کے اگلے دستے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس ناپاک منصوبے کو ناکام بنایا۔ اسی دوران ایک اور دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو زبردستی فورسز کی گاڑی سے ٹکرا دیا گیا، جس کے نتیجے میں 13 جوان جام شہادت نوش کر گئے۔اس افسوسناک واقعے میں تین شہری، جن میں دو بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، شدید زخمی ہوئے۔حملے میں صوبیدار زاہد اقبال (45 سال، ضلع کرک)،حوالدار سہراب خان (39 سال، ضلع نصیرآباد)،حوالدار میاں یوسف (41 سال، ضلع بونیر)،نائیک خطاب شاہ (34 سال، ضلع لوئر دیر)،لانس نائیک اسماعیل (32 سال، ضلع نصیرآباد)،سپاہی روحیل (30 سال، ضلع میرپور خاص)،سپاہی محمد رمضان (33 سال، ضلع ڈیرہ غازی خان)،سپاہی نواب (30 سال، ضلع کوئٹہ)،سپاہی زبیر احمد (24 سال، ضلع نصیرآباد)،سپاہی محمد سخی (31 سال، ضلع ڈیرہ غازی خان)،سپاہی ہاشم عباسی (20 سال، ضلع ایبٹ آباد)،سپاہی مدثر اعجاز (25 سال، ضلع لیّہ)،سپاہی منظر علی (23 سال، ضلع مردان)شہید ہوئے

    واقعے کے فوری بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن کیا گیا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 خوارج دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ حکام کے مطابق علاقے میں آپریشن تاحال جاری ہے اور اس حملے میں ملوث تمام عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    پاک فوج اور قوم دہشتگردی کے خلاف یک جان اور مضبوط موقف پر قائم ہیں۔ ترجمان افواج پاکستان کے مطابق "ہمارے سپاہیوں اور معصوم شہریوں کی قربانیاں ہمارے قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں کہ ہم اپنی سرزمین سے بھارت کی پشت پناہی میں پلنے والی دہشتگردی کو ہر قیمت پر ختم کریں گے۔”قوم ایک بار پھر اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے وطن کی حفاظت میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر تاریخ رقم کی۔

  • پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گیا،بلوم برگ

    پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گیا،بلوم برگ

    غیر ملکی جریدے بلوم برگ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں گزشتہ 12 ماہ میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گیا،عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے کریڈٹ آؤٹ لک میں بہتری سے ڈیفالٹ رسک میں کمی ہوئی ہے، معاشی استحکام اور اصلاحات کے باعث ڈیفالٹ رسک میں کمی ہوئی ہے، پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں کمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا مظہر ہے۔

    اس حوالے سے وزارتِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ بلوم برگ انٹیلی جنس کے مطابق پاکستان نے خودمختار ڈیفالٹ رسک میں سب سے زیادہ بہتری دکھائی ہے،پاکستان نے عالمی درجہ بندی میں ڈیفالٹ رسک میں کمی کے لحاظ سے پہلا نمبر حاصل کیا ہے، گزشتہ 12 مہینوں میں ملک کا ڈیفالٹ رسک سب سے زیادہ کم ہوا، ڈیفالٹ کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد پر آ گیا،یہ کمی تمام بڑی ابھرتی معیشتوں میں سب سے نمایاں ہے، پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں اس تیزی سے کمی عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے باعث ہے۔

    پاکستان اپنے مضبوط معاشی مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن ہے ،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی معیشت میں استحکام کے حوالے سے بلوم برگ کی رپورٹ پر اظہار اطمینان کیا اور کہا کہ رپورٹ میں مختلف شعبوں میں اہم ادارہ جاتی اصلاحات ، عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ کامیاب معاہدے اور بروقت قرض کی ادائیگی کا اعتراف کیا گیا ہے جو کہ یقینی طور پر حکومتی معاشی صورتحال میں بہتری کا ثبوت ہے ،پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے، بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، پچھلے 12 مہینوں میں معیشت میں سب سے زیادہ بہتری دکھائی،پاکستان اپنے مضبوط معاشی مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن ہے ،بہتر معاشی اشاریوں میں حکومت کی معاشی ٹیم کی دن رات کی محنت اور لگن شامل ہے

  • پاکستان ہر حال میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرے گا،فیلڈ مارشل

    پاکستان ہر حال میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرے گا،فیلڈ مارشل

    آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے123ویں مڈشپ مین اور 31ویں شارٹ سروس کمیشن (SSC) کورس کی کمیشننگ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میری ٹائم واریئرز‘ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کرنا میرے لیے اعزاز ہے، آج کی پریڈ میں کیڈیٹس کا مثالی ٹرن آؤٹ اور پرجوش انداز پاکستان نیول اکیڈمی کے اعلیٰ معیار کا مظہر ہے۔ کامیاب کیڈیٹس کے پُر اعتماد انداز میں ہماری قوم کی امیدیں اور توقعات سمٹ آئی ہیں،ایوارڈ جیتنے والے کیڈٹس اپنی شاندار کامیابیوں پر خصوصی تعریف کے مستحق ہیں،میں دوست ممالک ترکی، بحرین، عراق، فلسطین اور جبوتی کے کیڈٹس کو تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاس آؤٹ ہونے والے مڈ شپ مین اور کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاک بحریہ کا حصہ بننے جا رہے ہیں، جس کی پہچان اعلی عسکری اخلاقیات، غیر معمولی مہارت اور بے مثال پیشہ ورانہ روایات ہیں،میں آپ کو تلقین کرتا ہوں کہ اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں، بحری جنگ کا میدان تیزی سے تبدیل ہو رہا ہےاور ہمیں اس سے ہم آہنگ ہونا ہوگا، پاکستان کے لیے ایک مضبوط اور موثر میری ٹائم فورس برقرار رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے، ہمارا دشمن (بھارت) متکبرانہ اور جارحانہ رویے کا مسلسل مظاہرہ کر رہا ہے، بھارت اپنی فوجی طاقت، قوم پرستی، اور جعلی اسٹریٹجک اہمیت سے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے، گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بہانے دو بار پاکستان پر بلاوجہ حملے کئیے دونوں مواقع پر، پاکستان کے بھرپور اور مؤثر جواب سے پورے خطہ ایک بڑے تنازعے سے بچا لیا گیا،بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود، پاکستان نے صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو ترجیح دی،آج پاکستان خطے میں ” نیٹ ریجنل سٹیبلائزر” کے طور پر جانا جاتا ہے، اگر دشمن یہ سمجھے کہ آئندہ پاکستان اپنی خودمختاری پر حملے کو برداشت کرے گا، تو یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہوگی،ہم اپنی قومی طاقت میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، اور اگر کوئی دشمن یہ سمجھے کہ پاکستان کمزور ہے یا جواب نہیں دے گا، تو وہ سخت غلطی پر ہے، اگر کوئی دشمن ہماری خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے، تو اس کے نتائج کی ذمہ داری اسی پر ہوگی، اور وہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے،پاکستان ہر حال میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرے گا، اور اس میں کسی قسم کی جھجک نہیں دکھائے گا،

    آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر سورہ بقرہ کی آیت 249 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ فرماتا ہے ! "کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ تھوڑی سی تعداد نے اللہ کے حکم سے بڑی تعداد کو شکست دی۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” (سورۃ البقرہ، آیت 249)ہمارا قومی جذبہ آزمائشوں کے دوران اور بھی مضبوط ہوا ہے ، آج ہم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پُرعزم ہیں،

  • پاسپورٹ انڈیکس 2025: پاکستانی پاسپورٹ ٹاپ 100 میں شامل

    پاسپورٹ انڈیکس 2025: پاکستانی پاسپورٹ ٹاپ 100 میں شامل

    ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی جانب سے سال 2025 کی پاسپورٹ رینکنگ جاری کر دی گئی ہے، جس میں ایک خوش آئند پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ مسلسل بہتری کی جانب گامزن رہنے کے بعد بالآخر دنیا کے ٹاپ 100 پاسپورٹس میں شامل ہو گیا ہے۔ اس اہم پیشرفت کے تحت پاکستانی شہری اب 32 ممالک میں بغیر ویزہ سفر کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔

    ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، مصطفیٰ جمال قاضی نے اس کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی حکومت پاکستان، وزارت داخلہ، اور تمام متعلقہ اداروں کی انتھک محنت اور اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور سیکریٹری داخلہ کے خصوصی تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی رہنمائی سے پاسپورٹ نظام میں تاریخی تبدیلیاں ممکن ہو سکیں۔

    ڈی جی پاسپورٹس نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ میں جدید سیکیورٹی فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ اسے عالمی معیار کے مطابق محفوظ اور معتبر بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ای-پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو جلد ہی تمام بڑے ایئرپورٹس پر ای گیٹس کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے امیگریشن کا عمل نہایت تیز اور مؤثر ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ دفاتر میں آنے والے شہریوں کو جدید سہولیات اور ٹیکنالوجی کے تحت تیزی سے خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ عوام کو قطاروں اور تاخیر کے مسائل سے نجات ملے۔ مزید یہ کہ دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کے حوالے سے "بیگ لاک” یعنی بلاک یا روک کی شرح مکمل طور پر صفر ہو چکی ہے۔

    مصطفیٰ جمال قاضی نے بتایا کہ اورسیز پاکستانیوں کے لیے آن لائن پاسپورٹ سروسز بھی مہیا کر دی گئی ہیں، جس سے وہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی اپنے پاسپورٹ کی تجدید یا حصول ممکن بنا سکتے ہیں۔ ڈی جی پاسپورٹس نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاسپورٹ کے اجرا اور فیس ادائیگی کو مزید آسان بنانے کے لیے "پاسپورٹ آسان فیس ایپ” متعارف کرا دی گئی ہے، جس کے ذریعے شہری چند سیکنڈز میں فیس ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے مستقبل کی ایک اور بڑی سہولت کا عندیہ دیتے ہوئے بتایا کہ جلد ہی شہری گھر بیٹھے موبائل ایپ کے ذریعے پاسپورٹ حاصل کرنے کی سہولت سے بھی مستفید ہو سکیں گے۔

    ڈی جی پاسپورٹس نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت داخلہ کے مکمل تعاون سے پاسپورٹ رینکنگ میں بہتری کا سفر اسی طرح جاری رہے گا اور پاکستانی شہریوں کو مزید بین الاقوامی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔

  • اسرائیلی حملے میں شہید ایرانی اعلیٰ حکام،فوجی کمانڈرز،سائنسدانوں کی نماز جنازہ ادا

    اسرائیلی حملے میں شہید ایرانی اعلیٰ حکام،فوجی کمانڈرز،سائنسدانوں کی نماز جنازہ ادا

    اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے تہران میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز، نیوکلیئر سائنسدانوں اور شہریوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس میں ہزاروں شہری شریک ہوئے

    تہران میں آج ایک عظیم الشان جنازے کا اہتمام کیا گیا جہاں ہزاروں افراد نے ملک کے 60 افراد کو خراج عقیدت پیش کیا، جن میں اعلیٰ فوجی افسران اور نیوکلیئر سائنسدان شامل تھے، جو اس مہینے کے شروع میں اسرائیل کے ساتھ ایران کے 12 روزہ تصادم میں شہید ہوئے۔ایرانی سرکاری میڈیا ادارے نے اس موقع پر حب الوطنی کے نغمات چلائے جبکہ جنازے کی ویڈیو میں سوگوار افراد کو ایران کے سرخ، سفید اور سبز پرچم میں لپٹے تابوتوں کو ہاتھ لگاتے دیکھا جا سکتا تھا۔صدر مسعود پزشکیان بھی اس موقع پر موجود تھے، جن کے ہمراہ سیکورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔

    جنازے کے مرکزی اسٹیج پر شہید ہونے والے اعلیٰ فوجی کمانڈرز کی تصاویر لگائی گئی تھیں جن میں بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی اور جنرل محمد باقری کی تصاویر نمایاں تھیں۔کچھ شرکاء کے ہاتھوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی تھیں اور لوگوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی، جیسا کہ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا۔

    حسین سلامی اسلامی انقلاب کی گارڈ کور کے سربراہ تھے اور ایران کے سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔محمد باقری ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف تھے، جن کی قیادت میں ایرانی فوج تقریباً 500,000 فعال جوانوں پر مشتمل ہے، جیسا کہ برطانیہ کے انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کا اندازہ ہے۔

    اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ سلامی، باقری اور کئی نیوکلیئر سائنسدانوں کے قتل اس کی ان حملوں کی بڑی کامیابیاں تھیں جو اس نے ایران کے خلاف کی تھیں۔گزشتہ ہفتوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز، سائنسدانوں اور عام شہریوں کی شہادت پر تہران میں سوگواروں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جہاں ایک سرکاری جنازے کا انعقاد کیا گیا۔ ایران کے دیگر شہروں میں بھی ایسے ہی جنازے منعقد کیے جائیں گے۔

    امریکی ثالثی میں طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ، جس کے بعد دونوں ممالک نے 12 روز کے میزائل حملے تبادلہ کیے، اب بھی برقرار ہے۔ لیکن نیوکلیئر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں میں خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ اگر انہیں ایران کے یورینیم افزودگی پر مزید رپورٹس میں خطرہ نظر آیا تو وہ ایران کے نیوکلیئر مقامات پر دوبارہ بمباری کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل میں، حماس کے ہاتھوں اغوا کیے گئے افراد کے اہل خانہ تل ابیب میں احتجاج کریں گے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کریں۔ وہ اسے “تاریخی موقع” قرار دے رہے ہیں تاکہ جنگ ختم ہو اور اغوا شدگان کو واپس لایا جا سکے۔ غزہ میں کم از کم 50 افراد اغوا ہیں، جن میں سے 20 کی زندگی کی اطلاعات موصول ہیں۔

  • جنرل ساحر شمشاد مرزا کا آسٹریلیا کا دورہ، دفاعی و سلامتی تعاون پر اہم ملاقاتیں

    جنرل ساحر شمشاد مرزا کا آسٹریلیا کا دورہ، دفاعی و سلامتی تعاون پر اہم ملاقاتیں

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے آسٹریلیا کے سرکاری دورے کے دوران سالانہ دفاعی و سلامتی مذاکرات کے 14ویں اجلاس میں شرکت کی اور آسٹریلیا کی اعلیٰ سویلین و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ساحر شمشاد مرزا نے دورے کے دوران آسٹریلوی قیادت سے جن شخصیات سے ملاقات کی ان میں ڈیفنس فورسز کے سربراہ ایڈمرل ڈیوڈ جانسٹن،ڈائریکٹر جنرل آفس آف نیشنل انٹیلیجنس اینڈریو شیئرر، آسٹریلوی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سائمن اسٹیورٹ اور خارجہ امور و تجارت کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی سفیر جیما ہگنس شامل ہیں.

    ملاقاتوں میں،عالمی و علاقائی سلامتی کے چیلنجز،دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کے مواقع،باہمی افہام و تفہیم کو مستحکم کرنے پر اتفاق اور دفاعی تبادلوں اور سیکیورٹی ڈائیلاگ کے فروغ پر زور دیا گیا.جنرل ساحر شمشاد مرزا نے آسٹریلین ڈیفنس کالج میں ایک لیکچر بھی دیا، جس میں انہوں نے پاکستان کی سلامتی کی پالیسی اور علاقائی امن و استحکام میں پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالی۔

    انہوں نے آسٹریلوی بحری جہاز ہمس ایڈیلیڈ کا دورہ بھی کیا جہاں سی ڈی ایف دفتر آمد پر تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق دورہ آسٹریلیا پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دفاعی روابط کو مزید وسعت دینے کی ایک اہم کاوش قرار دیا جا رہا ہے۔

    کراچی پولیس کا محرم الحرام سیکیورٹی پلان جاری، 20 ہزار سے زائد اہلکار تعینات

    دریائے سوات میں حادثات ، ٹورزم اتھارٹی کی خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ

    سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کی پاکستانی مؤقف کی تائید

    سوات کا سیلابی ریلہ مالاکنڈ میں داخل، متعدد علاقوں میں تباہی

    جنیوا ،کشمیری کمیونٹی کا مودی حکومت کے خلاف شدید احتجاج

    محرم الحرام، ملک بھر میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات

  • مخصوص نشستیں، پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    مخصوص نشستیں، پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی کیونکہ وہ پارلیمانی پارٹی نہیں

    سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو نہیں مل سکتی،مخصوص نشستیں PTI کو دینے کا منصور علی شاہ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ سنادیا، نظرثانی اپیلیں منظورکر لی گئیں،7-5کے تناسب سے فیصلہ سنایاگیا،سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بحال کردیا.

    مخصوص نشستیں ن لیگ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کو ملیں گی،7 ججز نے اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ سنایا جن میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اخترافغان، جسٹس شاہد بلال، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس عامرفاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل ہیں.فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے بینچ سے علیحدگی اختیار کی جبکہ جسٹس عائشہ ملک،جسٹس عقیل عباسی نے ابتدائی سماعت میں ہی ریویو درخواستیں خارج کر دی تھیں،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد علی مظہر نے مشروط نظر ثانی منظور کی جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے 39 نشستوں کی حد تک اپنے رائے برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی نے اقلیتی فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن ریکارڑ دیکھ کر طے کرے کس کی کتنی مخصوص نشستیں بنتی ہیں۔

    سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواستوں پر آج 17ویں سماعت تھی، سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل کورٹ نے 12 جولائی 2024 کو 8 ججز کی اکثریت سے نشستیں پی ٹی آئی کو دیں،سپریم کورٹ میں جولائی 2024 میں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور اگست میں الیکشن کمیشن نے نظر ثانی درخواستیں دائر کیں۔ سپریم کورٹ کے 13 رکنی آئینی بینچ میں 6 مئی کو نظرثانی درخواستیں مقرر کیں،آئینی بینچ سے جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی 6 مئی کو درخواستیں مسترد کر کے الگ ہوئے جبکہ 17ویں سماعت پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے کیس سننے سے معذرت کی،الیکشن کمیشن، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اپنی تحریری معروضات بھی جمع کرائیں،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے فیصل صدیقی، حامد خان نے دلائل دیے اور پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجا پیش ہوئے۔

    فیصلہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے، آئین کی غلط تشریح کی گئی،بیرسٹر گوہر
    پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے نظرثانی کیس کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے،جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور بہت ناانصافی ہوئی ہے، لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کیلئے قاضی فائز عیسیٰ کا سایہ آج بھی سپریم کورٹ میں موجود ہے، فیصلہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہے، آئین کی غلط تشریح کی گئی ہے، یہ نشستیں پی ٹی آئی کی تھیں، اس فیصلے کے بعد کے پی میں 3 سیٹیں جیتنے والی جماعت کو 11 نشستیں ملیں گی، وقت بتائے گا یہ فیصلہ غلط ہے، امید ہے 26 ویں ترمیم ایک دن ختم ہوگی اور اس کے بعد جو سپریم کورٹ بنے گی وہ ضرور کہے گی یہ فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے، اب نظرثانی فیصلے کے بعد کسی اورعدالت میں نہیں جاسکتے، ہم فیصلے کے خلاف اسمبلی اورعوامی سطح پراحتجاج کریں گے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں اسی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کا مخصوص نشستوں کا آئینی استحقاق تسلیم کیا تھا، یہ وہ وقت تھا جب عدالت نےآئین کی روشنی میں فیصلہ دیا تھا، یہ نظرثانی کیس مہینوں عدالتوں میں چلتا رہا، پی ٹی آئی نے ہرقانونی دروازہ کھٹکھٹایا، ہر دلیل پیش کی، ہرآئینی نکتہ اٹھایا، پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کو مالِ غنیمت کی طرح مسترد شدہ جماعتوں میں بانٹا گیا، یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے، پاکستان آج مکمل طور پربے آئین، بے انصاف اور ریاستی استبداد کا نمونہ بن چکا ہے، آج ایک بار پھرپی ٹی آئی کے آئینی حق پرڈاکا ڈالا گیا، آج کے فیصلے نے انصاف کی روح کو کچلا،عوام کے ووٹ،نمائندگی اوراعتماد روند ڈالا۔

  • جھوٹے الزامات، مودی سرکار کی پاکستان دشمن مہم بے نقاب

    جھوٹے الزامات، مودی سرکار کی پاکستان دشمن مہم بے نقاب

    مودی سرکار کا اندرونی انتشار اور سیکیورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری ہے

    ٹھوس ثبوت اور شواہد کی عدم موجودگی کے باوجود پاکستان پر الزام تراشی جاری ہے،بھارت میں پہلگام فالس فلیگ کی بنیاد پرگرفتاریوں کا سلسلہ تاحال تھم نہ سکا،فالس فلیگ آپریشنز اور الزام تراشیاں مودی کا سیاسی ہتھیار ہے،بے بنیاد الزامات اور بغیر کسی ثبوت کے آئے روز مودی کے زیرِ سرپرستی پولیس کے ہاتھوں نہتی عوام نشانے پرہے،حالیہ آپریشن سندور میں ہوئی ہزیمت چھپانے کے لیے مودی سرکار کی جانب سےبے گناہ شہریوں کی بلا ثبوت گرفتاریاں کی جا رہی ہیں

    25 جون کو بھارتی نیول ہیڈکوارٹرز کے کلرک کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان کے لیے جاسوسی میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا گیا،بھارتی میڈیا "این ڈی ٹی وی” کے مطابق "کلرک وشال یادو کی گرفتاری کے بعد انٹیلیجنس ونگ نے وجوہات ظاہر کرنے سے گریز کیا” گرفتار کلرک کا تعلق ہریانہ سے ہے، نیوی ہیڈکوارٹر میں اپر ڈویژن کلرک کے طور پر تعینات تھا، ویشال یادو کی گرفتاری کے باوجود اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ مبینہ طور پر فراہم کردہ معلومات کی نوعیت کیا تھی، سنگین الزامات کے باوجود شواہد اور تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں، وشال یادو نے مبینہ طور پر آپریشن سندور کے دوران حساس معلومات شیئر کیں،

    اس سے قبل مودی سرکار نے بی جے پی کی حامی یوٹیوبر پر پاکستان کے لیے جاسوسی کا بے بنیاد الزام عائد کیاتھا،بغیر شواہد پاکستان پر الزام تراشی، بھارتی سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ ناکامی کا ثبوت ہے،مودی راج میں فالس فلیگ، الزام تراشی، اور میڈیا ٹرائل بھارتی ریاستی پالیسی بن چکی ہے،بی جے پی حکومت کی طے شدہ منصوبے کے تحت پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی ناکام کوششیں

  • مخصوص نشستیں ،نظر ثانی کیس،سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا

    مخصوص نشستیں ،نظر ثانی کیس،سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا

    مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی کیس سننے والا سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا۔

    سپریم کورٹ میں جاری مخصوص نشستیں کی نظر ثانی کیس کی سماعت کے آغاز میں جسٹس صلاح الدین پنہور نےکیس سننے سے معذرت کرلی جس پر کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا،سماعت کے آغاز میں جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد لازم ہے، ضروری ہے کسی فریق کا بینچ پر اعتراض نا ہو،جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ حامد خان نے بینچ میں کچھ ججز کی شمولیت پر اعتراض کیا، جن ججز کی 26 ویں ترمیم کےبعد بینچ میں شمولیت پراعتراض ہوا میں بھی ان میں شامل ہوں، میں ان وجوہات کی بنا پر بینچ میں مزید نہیں بیٹھ سکتا، میں اپنا مختصر فیصلہ پڑھنا چاہتا ہوں۔

    جسٹس صلاح الدین نے وکیل حامد خان سے کہا کہ آپ کا اعتراض ہمارے اس بینچ میں بیٹھنے سے تھا، ذاتی طور پر تو آپ کا میرا ساتھ 2010 سے رہا ہے، آپ کےدلائل سے میں ذاتی طور پر رنجیدہ ہوا مگریہاں میری ذات کا معاملہ نہیں ہے،جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ ججز پر جانبداری کا الزام لگاجس سے تکلیف ہوئی، عوام میں یہ تاثرجانا کہ جج جانبدار ہے، درست نہیں ہے۔

    اس موقع پر وکیل حامد خان نے کہا کہ میں آپ کے اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں، اس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ خیرمقدم کرنے کا معاملہ نہیں ہے، ہم اسی کیس میں سنی اتحادکونسل کے دوسرے وکیل کو سن رہے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب آپ کے کنڈکٹ کی وجہ سے ہوا ہے، ہم نے آپ کا لحاظ کرتے ہوئے آپ کو موقع دیا، آپ اس کیس میں دلائل دینے کے حقدار نہیں تھے،بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 منٹ کا وقفہ کردیا۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا سول سروسز اکیڈمی کے  افسران سے خطاب

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا سول سروسز اکیڈمی کے افسران سے خطاب

    فیلڈ مارشل، چیف آف آرمی اسٹاف سید عاصم منیر، نے سول سروسز اکیڈمی کے 52ویں عام تربیتی پروگرام (CTP) کے پروبیشنری افسران کے ساتھ آرمی آڈیٹوریم میں ایک سیشن میں ملاقات کی۔

    سول سروسز اکیڈمی کے یہ پروبیشنری افسران پاکستان آرمی کی مختلف یونٹوں کے ساتھ پرامن مقامات اور کشمیر، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے آپریشنل علاقوں میں منسلک رہے۔ اس دوران انہیں تینوں مسلح افواج کے مختلف شعبوں میں قیمتی تجربات حاصل ہوئے۔چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ یہ ملاقات ایک وسیع تر قومی مہم کا حصہ تھی جس کا مقصد پاکستان کی سول و عسکری قیادت کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور تفہیم کو فروغ دینا ہے۔

    اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی سلامتی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز، اور پاکستان آرمی کے علاقائی امن اور قومی استحکام میں کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ادارہ جاتی ہم آہنگی، باہمی احترام اور قومی مفادات کے لیے متحدہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔چیف آف آرمی اسٹاف نے ایک موثر، شفاف اور خدمت گزار سول بیوروکریسی کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور نوجوان افسران سے ملک کے لیے اعلیٰ اخلاقیات، پیشہ ورانہ مہارت اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

    پروبیشنری افسران نے سینئر عسکری قیادت سے ملاقات کے موقع پر پاکستان آرمی کی حکمت عملی، آپریشنل تیاری اور قومی ترقی میں اس کے متنوع کردار کو سمجھنے کا موقع ملنے پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔ملاقات کے اختتام پر ایک سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں تعمیری مکالمے، مشترکہ ذمہ داری اور پاکستان کی ترقی کے لیے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کیا گیا۔