Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم شہباز شریف کا شاہ سلمان اور محمد بن سلمان سے اظہارِ یکجہتی

    وزیراعظم شہباز شریف کا شاہ سلمان اور محمد بن سلمان سے اظہارِ یکجہتی

    باغی ٹی وی: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو میں دل کی گہرائیوں سے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور رواں برس حج کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی۔

    وزیراعظم نے پاکستانی حجاج کرام کے لیے شاندار انتظامات اور مہمان نوازی پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا، اور خاص طور پر خادم الحرمین شریفین اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت کو سراہا۔وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی مستقل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، خصوصاً ایران اسرائیل کشیدگی پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں تناؤ کے خاتمے اور پرامن حل کے لیے مذاکرات و سفارت کاری کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ رات کے حملوں کے تناظر میں تمام فریقین سے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی اپیل کی۔

    وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور ولی عہد محمد بن سلمان کو ان کی دانشمندانہ قیادت اور خطے میں قیامِ امن کے لیے کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب امت مسلمہ کا قائد اور عالمی امن کا ضامن بن کر ابھرا ہے۔

    جواباً سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کی یکجہتی اور حمایت کو سراہا، اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے بلاول بھٹو کی ملاقات، کامیاب سفارتی دوروں پر وفد کو خراج تحسین

    کراچی میں جمعہ سے آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    چین ایران سے تیل خرید سکتا ہے، یہ میرے لیے باعث فخر ہے، صدر ٹرمپ

    ایران، اسرائیل جنگ بندی کے بعد سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

  • جنوبی وزیرستان میں آپریشن،11 دہشتگردجہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

    جنوبی وزیرستان میں آپریشن،11 دہشتگردجہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

    سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کیخلاف جنوبی وزیرستان میں آپریشن کرتے ہوئے 11بھارتی اسپانسرڈ خوارج کو جہنم واصل کر دیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقے سرا روغہ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کامیاب آپریشن کیا،علاقے میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ فتنہ الخوارج کے کارندے موجود تھے، آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 11 بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج جہنم واصل جبکہ 7 دہشت گرد زخمی ہو گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو بہادر سپوت مادر وطن پر قربان ہو گئے، شہداء میں میجر سید معیز عباس شاہ (عمر 37 سال، ضلع چکوال کے رہائشی) اور لانس نائیک جبران اللہ (عمر 27 سال، ضلع بنوں کے رہائشی) شامل ہیں،میجر معیز شاہ شہید ایک دلیر اور نڈر افسر تھے، جنہوں نے ماضی میں بھی دہشت گردوں کے خلاف کئی کامیاب کارروائیوں کی قیادت کی۔ آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی چھپے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد کو تلاش کر کے ختم کیا جا سکے، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک کو بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے پاک کرنے کے عزم پر قائم ہیں اور ہمارے جوانوں کی ایسی لازوال قربانیاں ہمارے حوصلے اور عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں.

    وزیرِاعظم کا جنوبی وزیرستان آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین، شہداء کو زبردست خراج عقیدت
    اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جنوبی وزیرستان میں ہندوستان کے زیرِ سرپرستی سرگرم فتنے، الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے پر بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 11 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، جو کہ قابلِ فخر کارنامہ ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری افواج دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہر لمحہ تیار اور چوکس ہیں۔وزیرِ اعظم نے اس آپریشن کے دوران ارضِ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر سید معیز عباس شاہ اور لانس نائیک جبران اللہ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ان شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور ان کی جُرات و بہادری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔شہداء کے درجات کی بلندی اور اُن کے لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا "مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ پر فخر ہے۔”وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ "وطن عزیز کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کرکے دم لیں گے۔””ارضِ وطن کی حفاظت کے غیر متزلزل عزم میں، میں اور پوری قوم اپنی بہادر افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔”وزیرِ اعظم نے قومی یکجہتی اور عوامی اعتماد کو سیکیورٹی اداروں کی کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد اور ثابت قدم ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ، عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ، عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کے تمام مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں خارج کردی

    لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے،دو رکنی بنچ بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانتوں پر تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرے گا،لاہور ہائیکورٹ کے جج شہباز رضوی کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے فیصلہ سنایا

    عمران خان نے 9 مئی کےآٹھ مقدمات میں ضمانتوں کی درخواستوں کی جلد سماعت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،عمران خان نے اپنے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواستیں دائر کیں۔ درخواست میں بانی پی ٹی آئی نے موقف اختیار کیا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے سازش کے تحت ان مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔

  • ہنود و یہود کا گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب

    ہنود و یہود کا گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب

    ہنود و یہود کا گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب،ہنود و یہود کے گٹھ جوڑ نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے

    مودی حکومت اسرائیل کی پراکسی کے طور پر کام کر نے لگی،ہنود و یہود کے گٹھ جوڑ سے نہ صرف بھارت کی خارجہ پالیسی بلکہ خطے کے توازن پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں،اسرائیل خطے میں ایران کے اثر کو کم کرنے کے لیے کرد وں کو سپورٹ کر رہا ہے اور یہی نیٹ ورک بی ایل اے جیسے گروپوں تک رسائی دیتا ہے، کالعدم تنظیم بی ایل اے اور کُرد ہنود و یہود کی پراکسیز کے طور پر کام کر رہی ہیں شواہد اور ثبوتوں سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ "بی ایل اے کے سرکردہ سرغنہ بھارتی ایجنٹوں سے مالی معاونت اور ہدایات لیتے ہیں”بھارتی اکاؤنٹس سے پاکستان میں دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائیوں کی پیشگی اطلاع بطور بریکنگ نیوز دی جاتی ہے

    حال ہی میں کُرد اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بھی کھل کر سامنے آچکا ہے،کُرد فوجی کمانڈر جنرل یزدانپنا نے بیان دیا کہ "اسرائیل ہمارا دوست ہے اور ہم ایک مشترکہ دشمن ایران کے خلاف کھڑے ہیں”

    کُرد گروپ کا اسرائیل کے حق میں بیان، ایران کے خلاف پراکسی جنگ کی نئی جہت ہے ، جس طرح بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے میانوالی ائیر بیس اور جعفر ایکسریس پر حملے کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، اسی طرح کُرد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اسرائیل کو ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر حملے کا اشارہ دیا،اسرائیل نے ایران کے اندر جاسوسی کے لیے کُردوں کو استعمال کیا، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد، کئی سالوں سے عراقی کردستان میں موجود کچھ عسکری و سیاسی گروہوں کو مالی معاونت، ٹیکنالوجی اور عسکری تربیت فراہم کررہی ہے،اس تعاون کا مقصد ایران کے مغربی علاقوں میں خفیہ کارروائیوں کے لیے "اندرونی سپورٹ” مہیا کرنا تھا ایرانی سیکیورٹی اداروں نے 2022–2024 کے درمیان متعدد بار کُرد-اسرائیلی ایجنٹس کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا، بی ایل اے اور کُرد گروپوں کے ذریعے جاری پراکسی جنگ اب ہنود و یہود کی چالوں کا عکاس بنتی جا رہی ہے،بھارتی ایجنسیاں اسرائیلی ٹیکنالوجی کے ذریعے اندرون اور بیرون ملک جاسوسی کا نیٹ ورک چلا رہی ہیں،ہنود و یہود کا نیٹ ورک عالمی امن کے لئے سنگین خطرے کا باعث بنتا جا رہا ہے

  • امریکی عدالت میں عافیہ کیس،حکومت کا فریق بننے سے انکار

    امریکی عدالت میں عافیہ کیس،حکومت کا فریق بننے سے انکار

    اسلام آباد ہائی کورٹ،ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    حکومت نے امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کیس میں عدالتی معاونت اور فریق بننے سے انکار کر دیا،عدالت نے حکومت سے امریکہ میں کیس کا فریق نہ بننے کی وجوہات طلب کرلیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل عمران شفیق، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگرحکام عدالت میں پیش ہوئے۔،دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے امریکا میں اس کیس میں فریق نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، اس پر جسٹس سردار اعجاز نے سوال کیا کہ کس وجہ سے یہ فیصلہ کیاگیا، وجوہات کیا ہیں، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہی فیصلہ کیا گیا ہے،جسٹس سردار اعجاز نے کہا کہ حکومت یا اٹارنی جنرل کوئی فیصلہ کریں تواس کی وجوہات بھی ہوتی ہیں، بغیر وجوہات کے کوئی فیصلہ نہیں کیاجاتا، یہ آئینی عدالت ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کوئی عدالت آکر کہے فیصلہ یہ کیا ہےلیکن وجوہات نہ بتائے،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ 4 جولائی کی سماعت پر وجوہات سے آگاہ کیاجائے۔

  • وزیراعظم سے سعودی اور قطر کے سفیروں کی الگ الگ ملاقات

    وزیراعظم سے سعودی اور قطر کے سفیروں کی الگ الگ ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف نے برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور قطر کے سفیروں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں.

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلام آباد میں مملکتِ سعودی عرب کے سفیر نے ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا برادر ملک ہے اور پاکستان اس مشکل وقت میں سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا،وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام فریقین دانش مندی اور تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہو اور امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے سفیر سے ملاقات کی اور گزشتہ شب قطر پر ہونے والے حملوں پر امیر قطر اور برادر قطری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا،وزیراعظم نے قطری عوام اور پورے خطے کے تحفظ و سلامتی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتا ہے،
    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے حامی رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکنہ تعمیری کردار ادا کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے دعا کی کہ قطری بھائی بہنوں اور پورے خطے کو امن و امان نصیب ہو اور جلد حالات معمول پر آئیں۔

  • اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی ،ٹرمپ کا اعلان

    اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی ،ٹرمپ کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کے وقت سے قبل ہی اسرائیل نے تہران پر شدید حملے کیے، جبکہ ایران کے مختلف شہروں جیسے کرج اور راجائی میں بھی کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ عرب میڈیا کے مطابق ایران نے بھی اسرائیل پر اب تک چھ مرحلوں میں ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن میں سے آخری حملہ جنگ بندی کے وقت کے بعد کیا گیا۔

    ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں اب تک تین اسرائیلی ہلاک اور پانچ زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی پر اعلان کیا کہ اسرائیل اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے رابطہ کر کے انہیں جنگ بندی کے حوالے سے مطلع کیا اور بتایا کہ ایرانی فوجی طاقت کمزور ہو چکی ہے، اس لیے مزید جنگ کی ضرورت نہیں۔ امریکی ٹی وی رپورٹ کے مطابق قطری رہنماؤں نے ایران کو جنگ بندی کی تجاویز دی تھیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ اور قطری حکام کے درمیان رابطہ کر کے جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا۔صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل اور ایران دونوں نے امن کی بات کی ہے اور دنیا، خاص طور پر مشرق وسطیٰ، اس جنگ کی اصل فاتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو امن، محبت اور خوشحالی نصیب ہوگی، اور اگر یہ راستے سے ہٹ گئے تو بہت کچھ کھو دیں گے۔

    ایرانی ردعمل اور جنگ بندی کی حقیقت
    تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ابھی تک کوئی ‘معاہدہ’ یا جنگ بندی نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی افواج کی کارروائیاں صبح 4 بجے تک جاری رہیں اور ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشنز روکنے کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کی افواج ہر حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں اور دشمن کے حملوں کا جواب خون کے آخری قطرے تک دیا جائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے صبح 4 بجے تک اپنی جارحیت بند کر دی تو ایران کی جانب سے مزید کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

    ایرانی عہدیدار کی جانب سے جنگ بندی کی تصدیق
    تاہم بعد میں ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے، جو کہ امریکی صدر کے دعوے کی تائید ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر بیان جاری کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 6 گھنٹوں میں دونوں فریق اپنے جاری مشن مکمل کریں گے اور 12 گھنٹے بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی ایران سے شروع ہوگی اور 12 گھنٹے بعد اسرائیل بھی اسے نافذ کرے گا، جس کے بعد 24 گھنٹے کے اندر 12 روزہ جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو جائے گا۔

    خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، امریکی صدر اور نائب صدر نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بھی اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ ٹرمپ نے امیر قطر سے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے لیے تیار ہے اور ایران کو بھی قائل کرنے میں قطر کی مدد درکار ہے۔ بعد ازاں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبد الرحمان الثانی نے ایرانی حکام سے بات چیت کر کے انہیں امریکی جنگ بندی کی تجویز پر راضی کر لیا۔

    یہ تنازعہ جو "12 روزہ جنگ” کے نام سے جانا جا رہا تھا، اب بظاہر ختم ہونے کے قریب ہے۔ صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کو اس جنگ بندی پر مبارکباد دی اور کہا کہ اس سے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کو امن، خوشحالی اور استحکام کا موقع ملے گا۔

  • اسرائیلی جارحیت نے بھارت کو پاکستان کے خلاف خطرناک حکمت عملی اپنانے پر اُکسایا

    اسرائیلی جارحیت نے بھارت کو پاکستان کے خلاف خطرناک حکمت عملی اپنانے پر اُکسایا

    ایران پر اسرائیلی حملوں اور بعد ازاں امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی وار نے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بگاڑا ہے بلکہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کر دی ہے، جس سے بھارت جیسے ممالک کو بھی جرات ملی ہے کہ وہ اسرائیلی ماڈل کو اپنا کر پاکستان کے خلاف اسی طرز کی جارحیت کی منصوبہ بندی کریں۔

    ذرائع کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران پر بغیر وارننگ حملوں، اور اس میں امریکہ کو دھکیلنے کی حکمت عملی سے بھارت نے گہرے سبق لیے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے، اور دفاعی و انٹیلیجنس تعاون خفیہ سطح پر جاری ہے۔

    اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہو کر بھارت اب دہشت گردی کے خلاف پالیسی کی بجائے ٹارگٹڈ اسٹرائیکس پر مبنی پیشگی حملے کے نظریے کو اپنا رہا ہے۔ اس بات کے شواہد بھارت کے حالیہ اور مسلسل دفاعی خریداریوں میں بھی واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، جو کہ ایک منظم عسکری تیاری کا عندیہ دیتے ہیں۔

    ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پاکستان کو اس خطرے کو محض روایتی جارحیت یا سیاسی بیانات کے طور پر نہیں لینا چاہیے بلکہ یہ ایک نئی جنگی حکمت عملی کے ابتدائی مراحل ہو سکتے ہیں، جو ہندوتوا نظریے سے متاثر مودی، امیت شاہ اور اجیت ڈوول کی تکون پر مشتمل بھارتی حکومت کے عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت، جو خطے میں پراکسیز کی ماں اور دہشت گردی کا سرپرست ملک رہا ہے، فوجی، سفارتی، معلوماتی اور سیاسی محاذوں پر شکست کے بعد اب خطے میں ایک نئی محاذ آرائی کے لیے تیار ہو رہا ہے۔

    اگر بھارت نے خطے کو نئی جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی تو پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا کہ وہ اس غیر دانشمندانہ اور جارح حکومت کو واضح پیغام دے اور خطے کے امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں بھارت کی کسی بھی ممکنہ غیر اعلانیہ جارحیت کو نظر انداز کرنا پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان دفاعی، سفارتی اور سٹریٹجک سطح پر مکمل چوکنا رہے۔

    ایران کے میزائل حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی

    ایران کے میزائل حملے کے وقت ٹرمپ سچویشن روم میں موجود تھے

    ایران کے میزائل حملے سے قبل امریکا نے جنگی طیارے منتقل کردیے تھے

    سعودی عرب کی قطر میں امریکی اڈوں پر ایران کے حملے کی مذمت

  • توقع تھی ایران کا جوابی حملہ ہو گا،ٹرمپ مزید فوجی کاروائی نہیں چاہتے،ذرائع وائیٹ ہاؤس

    توقع تھی ایران کا جوابی حملہ ہو گا،ٹرمپ مزید فوجی کاروائی نہیں چاہتے،ذرائع وائیٹ ہاؤس

    واشنگٹن: امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کو توقع تھی کہ تہران امریکہ کے جوہری مقامات پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں فوری ردعمل دے گا، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ مزید فوجی مداخلت سے گریز کرنا چاہتے ہیں، ایک سینئر وائٹ ہاؤس اہلکار نے آج سی این این کو بتایا۔

    اہلکار نے کہا، "ہم جانتے تھے کہ وہ جوابی حملہ کریں گے۔ انہوں نے قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد بھی ایسا ہی ردعمل دیا تھا۔” انہوں نے ایران کے اس سابق کمانڈر کا حوالہ دیا جو 2020 میں امریکی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے سینئر اہلکار نے مزید کہا کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق پیر کو ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل اپنے اصل ہدف کو نہیں پہنچ سکے۔ قطر کے وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے ملک میں واقع امریکی فضائی اڈے پر ایک ایرانی میزائل حملے کو کامیابی سے روکا۔اہلکار نے کہا کہ صدر ٹرمپ اگر ضرورت پڑی تو امریکی فوجی مداخلت کو بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ صدر کے پیر کی دوپہر قومی سلامتی کے حکام سے بات چیت کا پروگرام تھا، اور اس ملاقات کے بعد ان کے رویے میں تبدیلی کے امکانات موجود ہیں۔

  • ایران کے قطر، بحرین، کویت اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

    ایران کے قطر، بحرین، کویت اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

    اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کی جانب سے اپنی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ایران نے قطر، بحرین، کویت اور عراق میں قائم امریکی تنصیبات کو میزائلوں کا نشانہ بنایا، جسے تہران کی جانب سے ایک جوابی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔تاحال ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان سے متعلق کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ایران نے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے 7 میزائل داغے، جن میں سے 6 قطر میں موجود امریکی اڈوں جبکہ ایک عراق میں قائم امریکی تنصیب کی جانب فائر کیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تمام میزائلوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے امریکی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کر دیا، واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایران نکے حملوں کے بعد دارالحکومت دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جب کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث قطر نے فضائی ٹریفک عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

    رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایران کی جانب سے قطر میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے 6 بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے۔ اس سے قبل بھی ایکسئیوس نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران ان اہداف پر میزائل داغنے کی تیاری کر رہا ہے۔برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق مغربی حکام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ دوحہ کے نواح میں واقع العدید (Al-Udeid) بیس کو ایک ’ قابلِ یقین خطرے’ کا سامنا ہے۔

    یہ بیس امریکی سینٹکام (CENTCOM) کا صدر دفتر ہے، اور برطانوی فوجی اہلکار بھی یہاں باری باری خدمات انجام دیتے ہیں، تاہم، حالیہ ہفتوں میں متعدد طیارے اس بیس سے منتقل کیے جا چکے ہیں، جیسا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے۔

    اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر قطر نے احتیاطی تدبیر کے طور پر ملک بھر میں فضائی ٹریفک عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق، یہ اقدام عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور صورتحال پر علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

    قطر میں امریکی سفارت خانے اور دیگر مغربی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ دوحہ میں دھماکوں کی آوازوں کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔یاد رہے کہ ایران نے یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں اپنی جوہری تنصیبات پر ممکنہ ردعمل کے تحت کی ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

    ایران کا ’بشارت فتح‘ آپریشن، امریکی اڈوں پر جوابی میزائل حملہ

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے اپنی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملے کے جواب میں قطر اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف ایک میزائل آپریشن لانچ کیا ہے، جسے ’بشارت فتح‘ کا نام دیا گیا ہے، جب کہ اس آپریشن میں ’یا ابا عبداللہ‘ کا کوڈ استعمال کیا گیا۔

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ اس آپریشن میں وہی تعداد میزائلوں کی استعمال کی گئی جو امریکا نے ایران پر بمباری کے دوران استعمال کیے تھے۔بیان کے مطابق ایرانی میزائل حملوں میں جس امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، وہ قطر میں شہری آبادی اور تنصیبات سے خاصے فاصلے پر واقع تھا تاکہ شہریوں کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

    ٹرمپ نے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کرلیا

    دوسری جانب امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حملے کے بعد اپنی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کو 45 منٹ کے اندر وائٹ ہاؤس پہنچنے کا حکم دیا ہے، اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فوری اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ حملہ نہ صرف ایک واضح پیغام ہے بلکہ خطے میں ایک بڑی جنگ کی جانب اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔

    قطر کی ایرانی حملے کی مذمت، خودمختاری کی خلاف ورزی قرار، جواب دینے کا انتباہ

    قطر نے اپنے ملک میں موجود امریکی فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    قطری حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دوحہ ایسے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے براہِ راست جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اپنے سرزمین پر کسی بھی جارحیت کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ایرانی حملے کے بعد قطر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور فضائی حدود پہلے ہی عارضی طور پر بند کی جا چکی ہیں۔

    ایرانی حملوں کے بعد یو اے ای نے بھی فضائی حدود بند کر دی

    قطر میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جس کے پیش نظر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے فلائٹ ریڈار کے ڈیٹا اور ایئر ٹریفک کنٹرول کی آڈیو کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود اس وقت بند ہے اور پروازوں کے راستے متاثر ہو چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فلائٹ آپریشن کی معطلی کے باعث کئی بین الاقوامی پروازیں متبادل راستوں کی جانب موڑ دی گئی ہیں، جب کہ مقامی ایئرلائنز کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    واٹس ایپ پر بھی کمائی کا موقع، جلد مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان

    قومی اسمبلی میں جمشید دستی کی انوکھی حرکت، ایوان کے فلور پر ناک رگڑتے رہے

    خطے کی کشیدگی: قطر نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی