Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر  کی امریکی تھنک ٹینکس، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی تھنک ٹینکس، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دورہ امریکا کے دوران واشنگٹن ڈی سی میں معروف امریکی تھنک ٹینکس، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان نے محفوظ اور پرامن دنیا کی خاطر بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں-

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکا کے سرکاری دورے کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واشنگٹن ڈی سی میں سینئر اسکالرز، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندہ اداروں کے ساتھ تفصیلی اور بے لاگ تبادلہ خیال کیا۔

    امریکا کے ممتاز تھنک ٹینکس اور اسٹریٹجک امور کے اداروں کے نمائندوں کے ساتھ اس ملاقات نے پاکستان کے اصولی موقف کو اہم علاقائی و عالمی امور پر اجاگر کرنے اور پاکستان کے اسٹریٹجک وژن کو بہتر طور پر سمجھانے کا موقع فراہم کیا۔

    آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم اور قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام کے فروغ میں ملک کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا، فیلڈ مارشل نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کی تفصیلات اور تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے نقطۂ نظر کی وضاحت کی۔

    فیلڈ مارشل نے بعض علاقائی عناصر کی جانب سے دہشت گردی کو ہائبرڈ وارفیئر کے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کے منفی کردار پر روشنی ڈالی،آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دہشت گردی کی خلاف عالمی جنگ کی صفِ اول میں رہا ہے اور اس نے ایک محفوظ اور پرامن دنیا کی خاطر بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی بے پناہ صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، اور کان کنی و معدنیات کے شعبوں میں جو اب تک پوری طرح بروئے کار نہیں لائی گئیں، انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں کو ان شعبوں میں تعاون کے مواقع دریافت کرنے کی دعوت دی تا کہ مشترکہ خوشحالی کے امکانات کو کھولا جا سکے۔

    آرمی چیف نے علاقائی و عالمی تنازعات پر پاکستان کے متوازن مؤقف کی تفصیلی وضاحت پیش کی اور مذاکرات، سفارت کاری، اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا فیلڈ مارشل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور فعال کردار ادا کرتا رہا ہے تاکہ علاقائی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور باہمی سلامتی کے فریم ورک کو فروغ ملے۔

    بات چیت کے دوران پاکستان–امریکا شراکت داری کا بھی جائزہ لیا گیا، آرمی چیف نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اشتراکِ عمل کو اجاگر کیا، خصوصاً انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی، اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں، انہوں نے زور دیا کہ باہمی احترام، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات، اور اقتصادی انحصار کی بنیاد پر ایک وسیع تر اور کثیرالجہتی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔

    شرکا نے آرمی چیف کے مؤقف کی وضاحت اور شفافیت کو سراہا اور پاکستان کی مستقل و اصولی پالیسیوں کی تعریف کی، اس مکالمے کو دوطرفہ اسٹریٹجک گفتگو کو فروغ دینے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا، یہ ملاقات پاکستان کی شفاف سفارت کاری، عالمی روابط، اور اصولی و فعال مکالمے کے ذریعے پرامن بقائے باہمی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

  • ایران کے’وعدہ صادق سوم’ کے 15ویں مرحلے میں تل ابیب و حائفہ پر حملے

    ایران کے’وعدہ صادق سوم’ کے 15ویں مرحلے میں تل ابیب و حائفہ پر حملے

    ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی جاری رکھتے ہوئے آپریشن ’وعدہ صادق سوم‘ کے تحت حملوں کی 15ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے۔

    ایران نے اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں میزائل اور ڈرون حملوں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس مرحلے میں بھرپور کارروائی کی ہے۔پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے بتایا کہ تازہ حملے اسرائیل کے فوجی مراکز اور عسکری صنعت سے منسلک تنصیبات پر کیے گئے، جن میں تل ابیب اور حائفہ کو ہدف بنایا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق، اس مرحلے میں 100 سے زائد جنگی اور خودکش ڈرونز داغے گئے، جن کا مقصد اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹمز کو نشانہ بنانا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، یہ کارروائیاں ایک بڑی عسکری حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت دشمن کے اہم فوجی و صنعتی اہداف پر مسلسل میزائل حملے کیے جا رہے ہیں۔ادھر، صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے کیونکہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی شہروں پر بمباری جاری ہے، جس کے باعث عام شہری بھی شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ایرانی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 224 شہری شہید ہو چکے ہیں۔

    امریکا نے جنگ میں ساتھ دیا تو آبنائے ہرمز بند کر دی جائے گی،ایران کی دھمکی

    ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    غزہ پر اسرائیلی حملے، خوراک کی تلاش میں امدادی مرکز کے باہر 81 فلسطینی شہید

    ایران پر جوہری ہتھیاروں کا الزام لگانے والا اسرائیل خود خفیہ نیوکلئیر پاور ہے

    امریکا کا ایران اسرائیل جنگ میں فوری مداخلت سے گریز، فیصلہ موخر کردیا

  • امریکا نے جنگ میں ساتھ دیا تو آبنائے ہرمز بند کر دی جائے گی،ایران کی دھمکی

    امریکا نے جنگ میں ساتھ دیا تو آبنائے ہرمز بند کر دی جائے گی،ایران کی دھمکی

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے جنگ میں اسرائیل کا ساتھ دیا تو وہ آبنائے ہرمز بند کر دے گا۔

    آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم ذریعہ ہے، جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس گزرتی ہے۔ روزانہ تقریباً 90 اور سالانہ 33 ہزار کے قریب بحری جہاز یہاں سے سفر کرتے ہیں۔ روزانہ 21 ملین بیرل سے زائد خام تیل اسی آبی گزرگاہ سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے دنیا بھر کو پہنچایا جاتا ہے، جن میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوریا، یورپ اور شمالی امریکا شامل ہیں۔

    یہ اہم سمندری گزرگاہ مشرق وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیاء، یورپ، امریکا اور دیگر علاقوں سے جوڑتی ہے۔ اس آبی پٹی کی چوڑائی تقریباً 33 کلومیٹر ہے، جس میں دو بڑی شپنگ لینز موجود ہیں جن کی چوڑائی تین، تین کلومیٹر ہے اور بڑے آئل ٹینکرز انہی راستوں سے گزرتے ہیں۔قطر، جو دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرتا ہے، بھی اسی آبی گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے۔

    آبنائے ہرمز کے ایک جانب خلیج فارس اور دوسری طرف خلیج عمان ہے۔ خلیج فارس میں ایران، عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، یو اے ای اور عمان واقع ہیں۔چین اپنی معیشت کی ضروریات کا نصف تیل اسی خطے سے منگواتا ہے، جاپان اپنی 95 فیصد جبکہ جنوبی کوریا 71 فیصد خام تیل اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔ ان ممالک کی برآمدات مثلاً گاڑیاں اور الیکٹرانکس بھی انہی راستوں سے خلیجی ممالک کو پہنچتی ہیں۔

    عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو ایران آبنائے ہرمز کو بطور ٹرمپ کارڈ استعمال کرے گا۔ ایران بارودی سرنگیں بچھانے، آبدوزوں، جنگی کشتیوں اور اینٹی شپ میزائلوں کی تعیناتی کر سکتا ہے، جس سے تیل کی ترسیل معطل ہو سکتی ہے اور قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز نہ صرف ایران کے لیے اسٹریٹجک چوک پوائنٹ ہے بلکہ یہ دنیا کی توانائی ترسیل کی شہ رگ بھی ہے، تاہم اس کی بندش خود ایران کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکہ میں پذیرائی، بھارت کا گھبراہٹ پر مبنی ردعمل

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکہ میں پذیرائی، بھارت کا گھبراہٹ پر مبنی ردعمل

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکہ میں موجودگی اور صدر ٹرمپ سے ملاقات پر بھارت سخت پریشان ہے.

    بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان دراصل عالمی سطح پر بھارتی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش ثابت ہوئی ہے،بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں آپریشن سندور کے دوران ’نپی تلی‘ اور ’غیر اشتعال انگیز‘ کارروائی کے دعوے کیے گئے ،آپریشن سندور کی ناکامی نے بھارت دعووں کو جھوٹ ثابت کیا، س کی تصدیق عالمی برادری نے بھی کی ،عالمی برادری اس حقیقت سے واقف ہے کہ بھارت نے جارحیت کا آغاز کیا، جبکہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق دفاعی کارروائی کی ،بھارت کی جانب سے پاکستانی افواج کو نقصان پہنچانے کے دعوے بھی حقائق کے منافی ہیں، عالمی ذرائع نے پاک فضائیہ کی برتری کو تسلیم کیا،پاک فضائیہ نے بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور دنیا نے دیکھا کہ بھارت کو فضائی محاذ پر منہ کی کھانا پڑی،مودی سرکار کی امن کی باتیں محض دکھاوا ثابت، حقیقت میں بھارت ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحانہ پالیسیوں کے لیے بدنام ہے،بھارتی وزارتِ خارجہ نےحالیہ بیان پاکستان اور امریکہ کے بہتر تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش ہے،مودی سرکار کی بین القوامی سطح پر اپنی ساکھ بچانے کی ہر تدبیر ناکامی سے دوچارہو چکی ہے،

  • پہلگام واقعہ بھارت کی سیکیورٹی ناکامی تھی”امر جیت سنگھ دولت

    پہلگام واقعہ بھارت کی سیکیورٹی ناکامی تھی”امر جیت سنگھ دولت

    پہلگام حملہ، بھارتی انٹیلیجنس کی ناکامی کا اعتراف، خطے کے استحکام میں پاکستان کا کردار اہم قرار

    سابق بھارتی انٹیلیجنس چیف نے پہلگام حملے کے حوالے سے انٹیلیجنس ناکامی کا اعتراف کر لیا، امرجیت سنگھ دولت کا کہنا تھا کہ "پہلگام واقعہ بھارت کی انٹیلیجنس اور سیکیورٹی ناکامی تھی”امر جیت سنگھ دولت کا کہنا تھا کہ پہلگام میں جو ہوا وہ بہت برا تھا، بھارت کے پاس پہلگام حملے کے کوئی شواہد نہیں تھے،اے ایس دولت نے مضحکہ خیز اعتراف کرتے ہوئے کہا کئی بار واقعات کےثبوت نہیں ملتے، پاکستان نےبھارت کے 6 جہاز مارگرائے، ایران اسرائیل جنگ بندی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار اہم ہو سکتا ہے،

    کشمیر اور بھارت میں ہونے والے ہر واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیا جاتا ہے،مودی سرکار نے اپنے دور حکومت میں پاکستان مخالف بیانیے پر بھارتی عوام کی ذہن سازی کر دی ہے

  • ٹرمپ کی ایران پر حملے کی منظوری،حتمی حکم باقی

    ٹرمپ کی ایران پر حملے کی منظوری،حتمی حکم باقی

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں حتمی حکم جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کی رات سینئر قومی سلامتی مشیروں کو اطلاع دی کہ انہوں نے ایران پر حملے کی منظوری دے دی ہے لیکن حتمی کارروائی کا فیصلہ فی الحال ملتوی کر دیا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کرتا ہے یا نہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، صدر کے فیصلے کے پیچھے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ہے، خاص طور پر فردو جوہری مرکز جو ایک پہاڑ کے اندر واقع ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق یہ ہدف تب ہی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جب انتہائی طاقتور بم استعمال کیا جائے۔جب بدھ کو میڈیا نے صدر ٹرمپ سے اس معاملے پر سوال کیا کہ کیا وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں؟ تو انہوں نے محتاط انداز میں جواب دیا "امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرے گا یا نہیں، ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہم حالات کو دیکھ رہے ہیں، ابھی کچھ طے نہیں پایا۔ ہم ایران پر حملہ بھی کر سکتے ہیں اور نہیں بھی کر سکتے۔”صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کو 60 دن کی مہلت دی تھی تاکہ وہ جوہری ہتھیار بنانے سے باز رہے، اور ایران کو کئی بار عالمی جوہری معاہدے کی پابندی کی تلقین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

    صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا امکان ابھی بھی موجود ہے اور مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا "کسی کو معلوم نہیں کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں، اگلا ہفتہ بہت اہم ہوگا۔ ‘اَن کنڈیشنل سرنڈر’ کا مطلب ہے کہ ایران کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بس بہت ہو گیا، ہم ہار مانتے ہیں، پھر ہم وہاں جا کر تمام جوہری ساز و سامان کو تباہ کر دیں گے۔”

    دوسری جانب، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا اور امریکی فوجی مداخلت کے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دے گا۔

    علاوہ ازیں ایران نے صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کے دعوے کی تردید کردی، اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ کوئی ایرانی عہدے دار کبھی وائٹ ہاؤس کے دروازے پر جاکر نہیں گڑ گڑایا،ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے جھوٹ سے زیادہ قابلِ نفرت چیز سپریم لیڈر کے قتل کی دھمکی ہے،ایران دباؤ میں امن قبول نہیں کرتا، خاص طور پر ایسے جنگ پسند شخص کے ساتھ جو خود کو اہم ثابت کر رہا ہو،قبل ازیں امریکی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران ٹرمپ کی ملاقات کی پیشکش جلد قبول کر لے گا۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میرے لیے باعثِ افتخار ہے،ٹرمپ

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میرے لیے باعثِ افتخار ہے،ٹرمپ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں مختصر مگر معنی خیز ملاقات کی۔ اس ملاقات میں علاقائی سلامتی، پاک بھارت کشیدگی اور دوطرفہ تعاون پر بات چیت ہوئی۔

    دورہ امریکہ کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر وائٹ ہاؤس پہنچے جہاں صدر ٹرمپ نے ان کے اعزاز میں خصوصی ظہرانے کا اہتمام کیا۔ ملاقات میں آئی ایس آئی چیف اور ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاک بھارت تنازع سے متعلق صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا، اور جنوبی ایشیا میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے مؤقف پر روشنی ڈالی۔ فریقین نے خطے میں استحکام اور تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

    ذرائع کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی فوجی سربراہ نے وائٹ ہاؤس میں براہ راست امریکی صدر سے ملاقات کی ہے، جو کہ پاکستان کی عسکری قیادت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ذرائع کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کسی بھی بھارتی وفد سے قبل وائٹ ہاؤس مدعو کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ پاکستان کو علاقائی استحکام کے ضامن کے طور پر دیکھتا ہے۔

    ملاقات کے اختتام پر فیلڈ مارشل عاصم منیر وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے۔ ماہرین کے مطابق، یہ دورہ نہ صرف دفاعی سفارت کاری کا اہم قدم ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو مزید تقویت دے گا۔

    میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ فیلڈ مارشل سے ملاقات قابلِ فخر موقع ہے، اور ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران دانشمندانہ کردار ادا کیا، کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فیلڈ مارشل کو جنگ سے گریز پر شکریہ ادا کرنے کے لیے ظہرانے میں مدعو کیا گیا تھا۔صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ملاقات کے دوران ایران اور اسرائیل کے حالیہ تنازع پر بھی گفتگو ہوئی، اور اس ضمن میں پاکستان کا ایران کے ساتھ گہرا تعلق زیرِ بحث آیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر بات چیت جاری ہے، اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی اس حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔ترجمان کے مطابق فیلڈ مارشل کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر کی اس ملاقات کو ایک بڑی سفارتی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    ادھر وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ جنرل عاصم نے پاک-بھارت کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان کی جانب سے مؤثر کردار ادا کیا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔

    سوشل میڈیا پر پاکستان سے متعلق امریکی جاسوسی کا دعویٰ جھوٹا قرار

    اسرائیل کا ایران کے مغرب میں بمباری کا نیا سلسلہ، تہران کے قریب میزائل مرکز تباہ

    لیبیا کشتی حادثہ 2025: ایف آئی اے نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا

    پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے بینکوں سے ایک ارب ڈالر کا تاریخی معاہدہ

    اربوں کی ٹیکس چوری: ایف بی آر نے متعدد شوگر ملز کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کر دیں

    پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے بینکوں سے ایک ارب ڈالر کا تاریخی معاہدہ

  • امریکی صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی آج ملاقات طے

    امریکی صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی آج ملاقات طے

    وائٹ ہاؤس اور پاکستان کے اعلیٰ سیکیورٹی زرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی ملاقات آج ہوگی۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی یہ ملاقات ظہرانے پر ہوگی، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ سے آرمی چیف کی ملاقات کیبنٹ روم میں ہوگی، اس ملاقات میں صحافیوں کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اگر میڈیا سے بات کریں یا سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں تو اس ملاقات کےحوالے سے کوئی تفصیل بتائیں گے۔

    عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کی کسی بھی اعلیٰ ترین شخصیت سے یہ پہلی ملاقات ہے اور یہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاک بھارت جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے اور زور دیا ہے کہ وہ اپنے دور صدارت میں مسئلہ کشمیر کو حل کرائیں۔

    ایک اعلیٰ ترین سکیورٹی ذرائع نے بھی تصدیق کردی ہے کہ یہ ملاقات آج امریکا میں ایسٹرن وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے یعنی پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے کے قریب ہوگی۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے واشنگٹن ڈی سی میں اوورسیز پاکستانیوں کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے واشنگٹن ڈی سی میں اوورسیز پاکستانیوں کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واشنگٹن ڈی سی میں اوورسیز پاکستانیوں سے ملاقات کی،آرمی چیف کا اوورسیز پاکستانیوں نے گرمجوشی سے استقبال کیا،اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے آرمی چیف سید عاصم منیر سے ملاقات کی،اوورسیز پاکستانیوں نے افواج پاکستان کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا،معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت پر اظہارِ فخر کیا گیا،

    آرمی چیف سید عاصم منیر نےاوورسیز پاکستانیوں کے کردار پر اظہارِ تحسین کیا،ترسیلات، سرمایہ کاری اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے پر شکریہ ادا کیا،اوورسیز پاکستانیوں نے تجاویز اور تجربات فیلڈ مارشل کے ساتھ شیئر کیے،فیلڈ مارشل نے تعاون اور روابط کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا،مل کر محفوظ، خوشحال اور مضبوط پاکستان کے عزم کا اظہارکیا گیا

  • پاکستان سمیت 21 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ جاری،اسرائیلی حملوں کی مذمت

    پاکستان سمیت 21 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ جاری،اسرائیلی حملوں کی مذمت

    اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے تناظر میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں اسرائیل کی فوجی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

    اعلامیے میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات 1949 کے جنیوا کنونشن سمیت اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے تحفظاتی اقدامات کے منافی ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان، سعودی عرب، ایران، ترکیہ، الجزائر، عمان، قطر، لیبیا، کویت، عراق، مصر، اردن، سوڈان، صومالیہ، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے 13 جون 2025 سے جاری حملے ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت فوری طور پر بند ہونی چاہیے تاکہ پورے خطے میں امن قائم ہو سکے۔مشرقِ وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں اور تباہی پھیلانے والے دیگر ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دیا جائے۔نیوی گیشن اور بین الاقوامی سمندری سلامتی کے اصولوں کا احترام کیا جائے۔خطے میں مسائل کے حل کے لیے عسکری اقدامات کی بجائے سفارتکاری، مذاکرات اور ہمسائیگی کے اصولوں پر عمل ضروری ہے۔

    اعلامیے کے آخر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف جامع جنگ بندی اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق مذاکرات ہی مشرق وسطیٰ کے مسائل کا دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں۔