Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،ایرانی جوہری تنصیبات پرحملے اقوام متحدہ کے چارٹرکے منافی قرار

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،ایرانی جوہری تنصیبات پرحملے اقوام متحدہ کے چارٹرکے منافی قرار

    قومی سلامتی کمیٹی نے ایرانی جوہری تنصیبات پرحملے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹرکے منافی قرار دے دیا۔

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں امریکا کے ایران پر حملے سے پیدا صورتحال پر غور کیا گیا اور اسرائیل ایران جنگ کے خطے پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت سے پیدا علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور کمیٹی نے اسرائیل کے جارحیت کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی،کمیٹی نے ایران امریکا تعمیری مذاکرات کے ساتھ اسرائیل کی فوجی کارروائی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں نے کشیدگی کو بڑھایا اور اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں نے وسیع تر تصادم کے خطرے کو ہوا دی، اسرائیلی کاررائیوں نے مذاکرات اور سفارتکاری کے مواقع کو کم کیا، قومی سلامتی کمیٹی نے عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حق دفاع حاصل ہے۔

    قومی سلامتی کمیٹی نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد مزید کشیدگی پر اظہار تشویش کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پرحملے اے ای آئی اے کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں، ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کےچارٹرکے منافی ہیں،قومی سلامتی کمیٹی نے اپنے اجلاس میں پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا،قومی سلامتی کمیٹی نے جانی نقصان پرایران کی حکومت اور عوام سے اظہارتعزیت کیا اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ پاکستان کےقریبی رابطوں کا اعادہ کیا،کمیٹی نے علاقائی امن واستحکام کے فروغ کےلیےکوشش جاری رکھنے کی اپنی رضا مندی کی توثیق کی اور تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات، سفارتکاری کے ذریعے جنگ کا حل نکالنے پر زور دیا،کمیٹی نے بین الاقوامی انسانی حقوق اورقوانین کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔

  • اسرائیل کا تہران پر بڑا حملہ

    اسرائیل کا تہران پر بڑا حملہ

    پیر کے روز اسرائیل نے تہران کے مرکز میں شدید فضائی حملے کیے، جس کا اعلان اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے کیا۔ ایرانی سرکاری ذرائع اور عینی شاہدین نے بتایا کہ تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کے بعد بھاری دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ تہران کے شمالی حصے میں واقع جوردن اسٹریٹ، جو ایک گنجان آباد اور متمول علاقہ ہے، کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایک رہائشی نے سی این این کو بتایا کہ کم از کم آٹھ مختلف دھماکوں کے دھوئیں کے بادل دیکھے گئے اور حملہ ایک بڑے تجارتی مرکز پر ہوا۔

    ایرانی شہریوں نے کہا کہ یہ اب تک کا سب سے شدید اور خوفناک دھماکوں کا سلسلہ تھا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق شمالی تہران میں فضائی حملے کے فوراً بعد سیاہ دھوئیں کے گھنے بادل دیکھے گئے۔وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے کہا، "ہم تہران کے قلب میں رجیم کے اہداف کو بے مثال قوت کے ساتھ نشانہ بنا رہے ہیں۔ جو بھی اسرائیل کی سرزمین پر حملہ کرے گا، اسے شدید سزا دی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے حملے جاری رہیں گے جب تک کہ دشمن کی طرف سے کوئی خطرہ ختم نہ ہو۔

    اقوام متحدہ کی ایٹمی نگرانی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گراسی نے بتایا ہے کہ امریکہ کی بمباری سے ایران کے فورڈو نیوکلیئر سائٹ کو "انتہائی سنگین نقصان” پہنچا ہے۔ فورڈو سائٹ ایک پہاڑ کے اندر واقع ہے جہاں حساس سنٹری فیوجز نصب ہیں۔ گراسی نے کہا کہ حملے کی شدت اور سنٹری فیوجز کی حساسیت کی وجہ سے وہاں "بہت زیادہ نقصان” متوقع ہے، لیکن مکمل اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں۔امریکہ نے چھ B-2 بمبار طیاروں سے 12 بھاری "بنکر بسٹر” بم داغے، ہر بم کا وزن تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ تھا۔

    دوسری جانب ایرانی میزائل حملوں کی ایک نئی لہر کے بعد جنوبی اسرائیل میں کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اسرائیل کی بجلی کمپنی کے مطابق تقریباً 8,000 گھروں کو بجلی کی سہولت سے محروم ہونا پڑا، لیکن انہیں تین گھنٹوں کے اندر بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کمپنی کے عملے نے زخمیوں یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی ہے اور نقصان کی مرمت کے لیے کام جاری ہے۔شمالی اسرائیل میں ہوا میں میزائل داغے جانے کی اطلاع کے بعد ایئر الرٹس بجا دیے گئے۔ اسرائیلی فوج نے عوام کو ہدایت کی کہ وہ حفاظتی پناہ گاہوں میں رہیں جب تک کہ مزید اطلاع نہ دی جائے۔ کئی شہروں میں، بشمول حیفا، لوگوں نے حفاظتی پناہ گاہوں میں داخل ہو کر اپنی جان بچائی۔

    ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت انتباہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے۔ ایران کے مرکزی کمانڈ کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری نے کہا ہے کہ "ہم طاقتور اور ہدف بنائے گئے آپریشن کریں گے جو شدید اور ناقابلِ معافی نتائج دیں گے۔” انہوں نے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "تم جنگ شروع کر سکتے ہو، لیکن ہم اسے ختم کریں گے۔”

    اس کشیدگی کی وجہ سے عالمی تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ سرمایہ کار خوف زدہ ہیں کہ ایران خلیج فارس کے اہم سمندری راستے "اسٹریٹ آف ہرمز” کو بند کر سکتا ہے۔ یہ راستہ عالمی تیل کی تجارت کا ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل خام تیل گزر جاتا ہے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ہے،چین، جو ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے، نے کشیدگی میں کمی کے لیے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے تاکہ عالمی معیشت کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ چین نے کہا کہ خلیج فارس اور اس کے آس پاس کے پانیوں کی سلامتی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے تہران کی ایوین جیل سمیت متعدد سیکیورٹی مراکز پر بمباری
    اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور اُن کی ہدایت پر تہران کے قلب میں ایرانی حکومت اور انقلابی گارڈز کے مختلف اہم اہداف پر انتہائی شدید اور بے مثال بمباری کی ہے۔اسرائیلی وزیر خارجہ نے ایک عبرانی زبان کے پیغام میں کہا "ہم نے تہران میں ایرانی حکومت کے دباؤ کے اداروں اور انقلابی نظام کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جن میں فورس کا ہیڈکوارٹر،ایوین جیل (جہاں سیاسی قیدی اور حکومت مخالف افراد قید ہیں)،فلسطین اسکوائر میں نصب ‘اسرائیل کی تباہی کا گھڑیال’پاسداران انقلاب کے داخلی سیکیورٹی ہیڈکوارٹرز،انقلابی نظریاتی مہم کا مرکز،دیگر کئی اہم سرکاری و انقلابی دفاتر و تنصیبات شامل ہیں،اسرائیلی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ "ایران کی جانب سے ہمارے شہری علاقوں پر ہر قسم کی فائرنگ کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا۔ ہم اپنے شہریوں کے دفاع اور دشمن کی مکمل شکست تک جنگی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔”

    ابھی تک ایران کی جانب سے اسرائیلی دعوے پر کوئی باقاعدہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی سوشل میڈیا پر مختلف علاقوں میں دھماکوں اور ہنگامی صورتحال کی خبریں زیر گردش ہیں۔ تہران میں سائرن کی آوازیں اور ایمرجنسی ردعمل بھی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

  • وزیراعظم کا ڈیجیٹل پیمنٹس کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت

    وزیراعظم کا ڈیجیٹل پیمنٹس کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کا مرکزی موضوع ملک میں کیش لیس اکانومی (Cashless Economy) کے فروغ کے حوالے سے اقدامات تھے۔ اجلاس میں وزیراعظم نے ڈیجیٹل پیمنٹس انوویشن اینڈ ایڈوپشن کمیٹی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کمیٹی اور گورنمنٹ پیمنٹس کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ ملک میں ادائیگیوں کے جدید اور آسان نظام کو فروغ دیا جا سکے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کیش لیس نظام سے نہ صرف مالی معاملات میں شفافیت آئے گی بلکہ یہ عوام اور کاروباری افراد کے لیے بھی سہولیات فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیش کی بجائے ڈیجیٹل لین دین کو سستا، آسان اور عام آدمی کی پہنچ میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔اجلاس میں وزیراعظم نے راسٹ (RAAST) ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو وفاق سمیت تمام صوبوں میں نافذ کرنے کی ہدایت کی تاکہ تمام سرکاری اور نجی مالی لین دین ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہوں اور ملک میں مالی شفافیت اور آسانی کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک کیش لیس نظام کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ یہ نظام معیشت کی بہتری اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان میں بھی ایک مضبوط، محفوظ اور موثر ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام قائم کیا جائے گا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت راسٹ سسٹم سے تقریباً 4 کروڑ صارفین مستفید ہو رہے ہیں اور ان کی تعداد بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات جاری ہیں۔ وفاقی حکومت کے تمام مالی لین دین اس نظام کے ذریعے کیے جا رہے ہیں اور اس کو تمام صوبوں میں بھی وسعت دی جا رہی ہے۔فنٹیک (Fintech) کو بھی اس نظام کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا ہے جو کہ ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ساتھ ہی پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے جو ملک میں کیش لیس اکانومی کے نفاذ پر کام کر رہی ہے۔ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کمیٹی کو وفاقی وزارت آئی ٹی کی قیادت میں کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ کیش لیس پاکستان اسٹیئرنگ کمیٹی وزارت آئی سیکریٹریٹ میں قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، وزارت آئی ٹی نے سمارٹ اسلام آباد پائلٹ منصوبے کے تحت اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا کیش لیس شہر بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، گورنر سٹیٹ بینک، چئیرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔وزیراعظم نے سرکاری اور نجی شعبوں کے مابین مالی لین دین کو کیش لیس بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ ملک کی معیشت میں شفافیت اور جدیدیت کو فروغ دیا جا سکے۔

  • جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا، مذمت کرتے ہیں ،بلاول

    جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا، مذمت کرتے ہیں ،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا،ہم ایران پر حملے کی مذمت کرتے ہیں ،ایران کے سیاستدانوں اور سائنسدانوں پر اٹیک کیا گیا ، ایران کے نیوکلیئر سائیٹس پر حملہ کیا ،ہم اس حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارے خطے میں بھی نیتن یاہو کی ایک سستی کاپی موجود ہے۔ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے اِس سستی کاپی کو جنگ کے میدان میں، سفارتکاری کے میدان میں اور بیانیہ کے میدان میں ہرا دیا.بھارت سندھ طاس معاہدہ سے انکاری ہو گا تو ہم جنگ کر کے سارا پانی واپس لیں گے،2019 میں اُس وقت کے وزیراعظم نے کہا کہ میں کیا کروں، آپ کیا چاہتے ہو، کیا میں بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑ دوں، ریکارڈنگ دیکھ لیں، میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اِس دفعہ جب حملہ ہوا تو پاکستان ڈرا نہیں، جُھکا نہیں، ہم نے جنگ کی،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پہلے وہ لبنان پھر یمن اور اب ایران آگئے، اگر ہم نہ بولے تو وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں ہوگا ،جس شخص کے بارے میں ہمیں پتہ نہیں کیا کیا سُننے پر مجبور کیا گیا، اُسی شخص ہمارے فیلڈ مارشل عاصم مُنیر صاحب کو ٹرمپ نے خود کھانے پر بلایا،کیا کسی ہاری ہوئی فوج کو اِس طرح کی دعوت دی جاتی ہے، نہیں جناب اسپیکر!یہ اُس شخص کو مبارکباد دینے کی دعوت تھی،اگر بھارت سندھ طاس معاہدے کو نہیں مانتے، ڈیمز اور نہریں بنائیں گے تو پھر پاکستان جنگ کرے گا، ہم 6 کے 6 دریائوں کا پانی اپنے عوام کو دلوائیں گے،

    بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی رکن اقبال آفریدی کی بولنے کی کوشش،سپیکر نے پی ٹی آئی رکن اقبال آفریدی کو بولنے سے روک دیا۔

    چاہتے تھے تنخواہوں، پنشن میں مزید اضافہ کیا جائے،پیپلز پارٹی وفاقی بجٹ کی حمایت کرے گی،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی بجٹ کی حمایت کرے گی، حکومت کی پالیسی سے مہنگائی میں کمی آئی ہے۔ ہماری حکومتی کی پالیسیاں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ رہی ہیں اس شعبہ میں غیر معمولی سرمایاکاری کی ضرورت ہے،کسان جائیں توکہاں جائیں،ہر مسئلہ کا حل ڈیم بنانا بھی نہیں ،جہاں بنتا ہے بنائیں لیکن متنازعہ نہیں، زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے، پیپلز پارٹی چاہتی تھی کہ تنخواہوں اور پنشن میں مزید اضافہ ہو،بجٹ صرف اعدادوشمار کا نام نہیں پیپلز پارٹی کو سولر ٹیکس پر شدید اعتراض تھا،جب پیپلزپارٹی کی حکومت آئی اور آصف علی زرداری صدرِ مملکت بنے، تو وہ پاکستان جو گندم، چینی اور چاول درآمد کرتا تھا، صرف ایک سال میں ہم نے وہی گندم، چینی اور چاول برآمد کرنا شروع کر دیے۔یہ عوام کے بارے میں نہیں سوچتے،پی ٹی آئی کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ’’ہمارا قیدی‘‘ رہا کریں ،ہم وزیراعظم، وزیر خزانہ اور اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہیں، انہوں نے ہم سے بات کی اور ہمارے اعتراضات دور کیے۔

  • وقت آگیا ہے سیکیورٹی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ،پاکستان

    وقت آگیا ہے سیکیورٹی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ،پاکستان

    اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا،سیکیورٹی کونسل کا اجلاس ایران کی درخواست پر بلایاگیا.

    پاکستان ، چین اور روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد کا مسودہ پیش کردیا،قراردادمیں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی جائے،ایران،عراق،کویت کوسلامتی کونسل کےاجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے،

    سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نےسلامتی کونسل اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ صرف اور صرف امن قائم ہو،میری اپیل پر توجہ نہیں دی گئی اور ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکا نے حملہ کردیا، اب ہم ادلے کے بدلے کے چکر میں گھرتے جا رہے ہیں، ایران کے جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات ہونے چاہئیں،ہمیں ایک قابل اعتبار حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے،تمام ممالک صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، امن کو موقع دینے کے بجائے ایران پر حملہ کردیاگیا،ایران کواین پی ٹی معاہدہ کااحترام کرنا چاہیے

    پاکستانی مندوب عاصم افتخار نےسلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، ایران کی بھر پور حمایت کرتے ہیں، سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے پر شکر گزار ہیں،سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے پر شکر گزار ہیں، عالمی امن وسلامتی کیلئے پاکستانی قیادت متحرک رہی ہے،تمام مسائل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہونے چاہئیں،مزید حملوں کے خطے میں بہت منفی اثرات مرتب ہونگے، 13جون سے لیکر اب تک ایران پر تمام حملوں کی مذمت کرتے ہیں،تمام فریقوں کوعالمی قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے،وقت آگیا ہے سیکیورٹی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرے

    ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران میں معصوم شہریوں اور سول املاک کو نشانہ بنایا گیا، امریکی حملے سے قیام امن کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا، اسرائیل کے جھوٹے موقف پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کیا گیا، اسرائیل نے این ٹی پی میں شمولیت سے انکار کیا، ایران نے ہمیشہ سفارتی کوششوں کی حمایت کی، ہم نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کیے،اسرائیل اور امریکا نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، امریکا اور اسرائیل کے الزامات بے بنیاد ہیں، امریکا کی سیاسی تاریخ پر ایک اور سیاہ دھبہ لگ گیا ہے، نیتن یاہو امریکا کی خارجہ پالیسی کو ہائی جیک کرنے میں کامیاب رہا، امریکی حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا،جنگی مجرم نیتن یاہوامریکا کوجنگ میں دھکیلنے میں کامیاب ہوا ہے،ایران کوبین الاقوامی قانون امریکی حملے کیخلاف دفاع کاحق دیتا ہے،ایران کے خلاف تمام امریکی الزامات بے بنیاد ہیں،ایران کوامریکی جارحیت کے خلاف دفاع کاحق حاصل ہے،ایران کے جواب کی نوعیت اوروقت کافیصلہ ہماری مسلح افواج کریں گی،

  • روس، چین اور پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش

    روس، چین اور پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش

    روس، چین اور پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد کا مسودہ پیش کر دیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اقدام سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے قبل کیا گیا ہے، تاہم فی الحال واضح نہیں کہ اس مسودے پر ووٹنگ کب ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک نے مسودہ سلامتی کونسل کے دیگر ارکان میں تقسیم کر دیا ہے اور پیر کی شام تک ان سے تجاویز و تبصرے طلب کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ سلامتی کونسل میں کسی قرارداد کی منظوری کے لیے کم از کم 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، بشرطیکہ مستقل رکن ممالک یعنی امریکا، برطانیہ، فرانس، روس یا چین میں سے کوئی بھی ویٹو کا استعمال نہ کرے. واضح رہے کہ یہ پیشرفت ایران کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، جو امریکی حملوں کے ردعمل میں بلایا گیا ہے۔

    برٹش ایئرویز کا قطر اور یو اے ای کے لیے پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ

    تہران میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج، صدر مسعود پزشکیان کی شرکت

    فردو جوہری مرکز، زیرزمین نقصان کا اندازہ ممکن نہیں: آئی اے ای اے

    ملیر جیل سے فرار ہونے والے 225 قیدیوں میں سے 48 اب بھی مفرور

    خواجہ آصف کا امریکی پالیسی پر تضاد کا اعتراف، ٹرمپ کی حمایت پر وضاحت

  • پاکستان کی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت

    پاکستان کی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت

    پاکستان نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، یہ حملے اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت کے تسلسل میں کیے گئے ہیں جن پر پاکستان کو نہایت گہری تشویش ہے خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ انتہائی سنگین ہے، یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہیں اور ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے،

    ترجمان نے خطے میں جاری غیر معمولی کشیدگی اور تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ صورتحال یونہی بڑھتی رہی تو اس کے نہایت تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے، جو صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گےشہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے، اور تمام فریقین فوری طور پر جنگ بندی کریں، تمام اقوام کو بین الاقوامی قانون، خصوصاً بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے، خطے میں بحران کا حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

  • اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    ایران نے چابہار کے قریب بڑی انٹیلی جنس کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ 141 ایجنٹس گرفتار کر لیے ہیں، جن میں 121 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔

    اس پیش رفت نے بھارت کے مبینہ خفیہ کردار کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے مطابق یہ افراد ایران کے حساس علاقوں میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ دورانِ تفتیش ان کے قبضے سے خفیہ دستاویزات، انکرپٹڈ کمیونیکیشن ڈیوائسز، سیٹلائٹ فونز اور حساس ساز و سامان برآمد ہوا ہے، جو ان کے جاسوسی نیٹ ورک کا واضح ثبوت فراہم کرتا ہے۔

    بھارتی تعلق اور علیحدگی پسند روابط
    تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار شدگان کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچستان یوتھ کنکشن (BYC) جیسے علیحدگی پسند گروپوں سے بھی ہے۔ ان روابط سے ایران اور پاکستان دونوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کا سراغ ملا ہے۔ایرانی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار بھارتی شہری اسرائیلی موساد کے براہِ راست احکامات پر کام کر رہے تھے۔ اس خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے ایران کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور تجارتی مفادات کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

    خفیہ منصوبہ "پروجیکٹ گڈون-عشا”
    ایرانی حکام نے "پروجیکٹ گڈون-عشا” کے نام سے موسوم خفیہ منصوبے کی سلائیڈز برآمد کی ہیں، جن کے مطابق بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کی مشترکہ منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس منصوبے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ (RAW) کے براہِ راست ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن میں منی لانڈرنگ، اسلحے کی ترسیل اور ڈیجیٹل پروپیگنڈہ شامل ہیں۔

    مالی معاونت اور شیل کمپنیاں
    ایرانی رپورٹس کے مطابق بھارت ایران کے ساتھ بظاہر تجارتی شراکت داری کا دکھاوا کر رہا تھا، جب کہ ممبئی میں رجسٹرڈ شیل کمپنیوں کے ذریعے ایران مخالف گروہوں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔ بھارتی شہری راجیش سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے 32 لاکھ ڈالر ایسے عناصر کو منتقل کیے، جو ایران اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ایرانی تجزیہ کاروں کا ردعمل
    ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت درحقیقت مغربی اور صیہونی ایجنڈے کو فروغ دے رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے ساتھ شراکت دار بن چکا ہے۔ وہ اسٹریٹجک خودمختاری کے پردے میں طویل مدتی سازشوں کا حصہ ہے، جس میں انسانی حقوق کی آڑ میں تخریب کاری، باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی اور پروپیگنڈہ مہمات شامل ہیں۔

    یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں بھارت کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے اور تہران، اسلام آباد سمیت پورے خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کی اسرائیلی جارحیت کی مذمت، ایران سے یکجہتی کا اظہار

    اقوام متحدہ میں پاکستان کی اسرائیلی جارحیت کی مذمت، ایران سے یکجہتی کا اظہار

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، جس سے پورے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

    پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ عاصم افتخار نے کہا کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پاکستان ایران کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی سے خطے کے عوام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔اس تنازع کو روکنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اولین ذمہ داری ہے، اسرائیل کی جارحیت بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، اس پر حملے عالمی قوانین کے منافی ہیں۔ نیوکلیئر تنصیبات پر حملے باعث تشویش ہیں، یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر، آئی اے ای اے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔

    پاکستان کے مندوب نے مطالبہ کیا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) ان حملوں کی قانونی حیثیت پر وضاحت پیش کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کو اپنے بورڈ آف گورنرز اور سلامتی کونسل کو ان حملوں پر اپنی قانونی پوزیشن سے آگاہ کرنا چاہیے اور یہ بھی بتایا جائے کہ ایسے حملوں پر کیا بین الاقوامی سیف گارڈز موجود ہیں۔

    انہوں نے زور دیا کہ عالمی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    بھارت نے سندھو پر میلی نظر ڈالی تو جنگ ہوگی، بلاول بھٹو کی وارننگ

    اسرائیل کی حیفہ پورٹ کو بڑا دھچکا، بڑی شپنگ کمپنی کا سفر معطل کرنے کا اعلان

    اسرائیل کی حیفہ پورٹ کو بڑا دھچکا، بڑی شپنگ کمپنی کا سفر معطل کرنے کا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر نئی پابندیاں، ہانگ کانگ کے دو ادارے بھی شامل

    ایران کا اسرائیل پر نیا میزائل حملہ، 1 ہلاک، 23 زخمی

  • شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ  کا رابطہ، علاقائی امن اور باہمی تعاون پر گفتگو

    شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی امن اور باہمی تعاون پر گفتگو

    وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات، جنوبی ایشیا کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جراتمندانہ قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران امن کے قیام کے لیے سیکریٹری روبیو کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بامقصد مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔

    ٹیلیفونک رابطے میں مشرق وسطیٰ میں موجودہ حالات پر بھی بات چیت کی گئی، وزیراعظم نے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان مسئلے کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور خاص طور پر بی ایل اے، ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کیا۔

    انہوں نے امریکی صدر اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات کو سراہتے ہوئے دوطرفہ مذاکرات کو تعمیری شراکت داری میں بدلنے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے امریکی صدر اور سیکریٹری روبیو کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

    سیکریٹری روبیو نے پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی اور بھارت کے ساتھ سیزفائر پر عملدرآمد کو سراہا۔ ایران-اسرائیل تنازعے کے تناظر میں، انہوں نے پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے امن کے لیے کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ مل کر علاقائی استحکام اور امن کے لیے کام کرے گا۔