حکومت ہمیشہ کی طرح بیک فٹ پر کیوں؟ مبشر لقمان نے کس کو کھری کھری سنا دیں؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے، پہلے ہمیں امید تھی کہ اپریل کے آخر تک کچھ کمی آ جائے گی اور خاتمہ ہو سکتا ہے، لیکن پراپر لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا،محدود لاک ڈاؤن کیا گیا یہ حکومت کا فیصلہ تھا، اب مکہ، مدینہ بند،تمام زیارتیں بند اور ہم نے اپنی مسجدیں کھول دیں جو پہلے بند تھیں،اور تراویح و نمازوں کے لئے ایک پورا وفد ہے جو صدر پاکستان سے ملتا ہے اور صدر پاکستان نے فیصلہ کر دیا کہ مساجد کھلیں گی،صدر پاکستان کو وہ لوگ کیوں ملے سمجھ نہیں آتی، مذہبی امور کے وفاقی وزیر موجود ہیں،انکو ملنا چاہئے تھا ، لیکن وہ صدر پاکستان سے ملے اور 20 نکاتی ایجنڈہ طے کر لیا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وائرس نے پھیلنا ہے اس کا ذمہ دار کون ہو گا، تمام علما دین سے میرا سوال ہے کہ سب کو پتہ ہے کہ وبا جان لیوا ہے اور کسی کی بھی جان لے سکتی ہے، اب جب جان بوجھ کو جو وبا کے منہ میں جائے گا اور کسی کی موت ہو جاتی ہے تو وہ خود کشی کے مترادف ہوا، خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ جائز ہے؟ میرے خیال میں تو یہ جائز نہیں، کیونکہ یہ شہادت کے زمرے میں نہیں آئے گا، مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان کہتے ہیں کہ ہم گھر میں پڑھیں گے، بھائی گھر میں کیوں ، جذبہ شہادت سے سرشار ہوں اور آئیں مسجد میں، آپ گھر میں ہوں گے، آپ کے بچے گھر میں ہوں گے لیکن دوسروں کے بچوں کو آپ مسجد لانا چاہتے ہیں انکی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ وائرس ہاتھ، بالوں کہیں بھی کسی جگہ سے بھی پھیلتا ہے، 14 دن میں وائرس کو قابو کیا جا سکتا ہے الگ رہ کر لیکن اگر 14 دن میں آمدورفت جاری رہی تو یہ مزید پھیلے گا،ہم نے تبلیغی جماعت اور زائرین کو دیکھا ہے.کہ وہ ایک دوسرے کو ملے اور کس طرح وائرس پھیلا، مصافحے بھی ہوتے رہے، سماجی فاصلے کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور پھر وائرس پھیل گیا ،یہ حکومتی نااہلی بھی تھی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ صدر مملکت جو ڈاکٹر ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ عارف علوی کس چیز کے ڈاکٹر ہیں، میں میڈیکل ڈاکٹر سے اس بات کی توقع نہیں کر سکتا،علما کے ساتھ بیٹھ کر انہوں نے جو طے کیا کہ ایک صف میں 5 لوگ ہوں گے، 5 لوگ کیا یہ وائرس تعداد میں آتا ہے، یہ تو دو لوگوں میں بھی ہو جاتا ہے اور آگے پھیلتا جاتا ہے، پانچ ہوں یا پچاس فرق نہیں پڑتا، اصل مسئلہ دو لوگوں کا ہے، ان سے وائرس پھیل سکتا ہے، مسجد کے اندر بلانے کا کوئی تک نہیں بنتا تھا ان حالات میں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مسجد کا قالین اس سے وائرس پھیل سکتا ہے، مسجد میں جو ٹوپیاں پہنتے ہیں اس سے بھی وائرس پھیل سکتا ہے،آپ جن نلکوں سے وضو کرتے ہیں ان سے بھی وائرس پھیلتا ہے، یہ وائرس کہیں سے بھی پھیل سکتا ہے ،اور کسی بھی جگہ ایک ایک دن تک زندہ رہ سکتا ہے وہ دروازہ ہو، جائے نماز ہو، چادریں ہوں، ٹوپی ہو، وضو کے نلکے ہوں، آپ مسجد میں بھی نقصان پہنچا رہے ہیں اور اگر وائرس ہوتا ہے تو آپ مسجد سے گھر لے آتے ہیں،گھر آ کر اورلوگ ہین ان معصوم جانوں کا ذمہ دار کون ہے جو آپ کے گھر میں ہیں منیب الرحمان یا عارف علوی، اس کا جواب دینا پڑے گا، پوری دنیا کہ رہی ہے کہ ہم نے اسکا لاک ڈاؤن کرنا ہے،خانہ کعبہ میں طواف بند ہو گیا، اس سے زیادہ مبارک جگہ تو ہمارے لئے کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی جب انکو بند کر دیا گیا تو ہمارے لئے کیا مسئلہ ہے، دوسرا تراویح نفلی نماز ہے، یہ فرائض میں نہیں ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار جماعت کے ساتھ تراویح پڑھی،نبی کریم نے تہجد کے ساتھ پڑھے ہیں،نماز تراویح کے جو نوافل ہین یہ تہجدکے ساتھ لنک ہوتے ہیں، یہ اسطرح تو ہوتی ہی نہین جس طرح عشا کے ساتھ پڑھتے ہیں یہ کس جگہ لکھا ہوا ہے مجھے بھی بتایا جائے تا کہ علم ہو،خواہ مخواہ میں الگ سے ایک ایشو بنا دیا گیا، ہماری مساجد، عبادتگاہوں سے وائرس پھیلے یہ ہم افورٹ نہیں کر سکتے،جن لوگوں نے آپ کو صدقے دینے ہیں رمضان میں زکوۃ وغیرہ دینی ہے وہ دے کر ہی رہیں گے، آپ کے اکاؤنٹس میں ڈلوا دیں گے، اس پر سوچیں .
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل میں نے عامر لیاقت کی ایک ٹویٹ پڑھی جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی ایک مسجد اور مدرسے میں دس لوگوں کو کرونا ہو گیا ہے اس مسجد اور مدرسے کو سیل کر دیا گیا ہے،اس طرح سے آپ مساجد کو سیل کروانا چاہتے ہیں، اگر کوئی مر گیا تو پھر اس کا کون ذمہ دار ہو گا، اس میسج کو اتنا عام کریں کہ مفتی منیب الرحمان اور ڈاکٹر عارف علوی تک یہ میسج ضرور پہنچے اور وہ اسکو سنیں.
اسلام آباد:وزیر اعظم اور آرمی چیف کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ،اطلاعات کےمطابق آج وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ انٹر سروسز انٹیلی جنس( آئی ایس آئی) کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔
وزیراعظم آفس اعلامیے کے مطابق دورے کے موقع پر وزیر اعظم اور آرمی چیف کے علاوہ ، وفاقی وزراء اور مشیران بھی موجود تھے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیر اعظم کا استقبال کیا اور انہیں داخلی اور خارجی محاذوں پر درپیش چیلینجز کے ساتھ کورونا کے اثرات پر بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے اعلیٰ ریاستی ایجنسی آئی ایس آئی کی خدمات اور قربانیوں کو بھی سراہا۔
اسلام آباد :کورونا ریلیف فنڈ: عطیات کی وصولی کیلئے ‘احساس ٹیلی تھون’کپتان واقعی کپتان ثابت ہوا ،اطلاعات کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظر لگنے والی پابندیوں سے متاثر افراد کی مدد کے لیے قائم کیے گئے فنڈ میں عطیات وصول کرنے کے لیے ملکی تاریخ کی بڑی ٹیلی تھون ‘احساس ٹیلی تھون’ جاری ہے۔ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی سمیت نجی ٹی وی چینلز پر بیک وقت نشر ہورہی اس ٹیلی تھون کا مقصد ضرورت مندوں کے لیے امداد اکٹھا کرنا ہے۔
اس احساس ٹیلی تھون میں وزیراعظم عمران خان خود شریک شرکت ہیں جبکہ ان کے علاوہ ملک کے معروف صحافی حامد میر، کامران شاہد، منصور ملک، کاشف عباسی، ندیم ملک، محمد مالک اور سمیع ابراہیم بھی موجود ہیں۔ٹیلی تھون کے دوران ملک بھر کے مختلف اداروں کے سربراہان، معروف شخصیات و عوام نے اپنی حیثیت سے فنڈ کے لیے رقم عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔اس موقع پر ٹیلی تھون میں عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حالات پہلے کبھی نہیں آئے اور اس وائرس کے اثرات ابھی آئے نہیں ہیں بلکہ یہ آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ اس طرح کے حالات کبھی آئے نہیں تو لہٰذا ملک کا ردعمل بھی ایسا ہونا چاہیے جو پہلے کبھی نہیں ہوا ہو، اسی سلسلے میں ملک کا سب سے بڑا ریلیف پروگرام دیا۔
Prime Minister @ImranKhanPTI will be holding Pakistan’s largest Telethon, today at 4:00pm.
Please Join the telethon and donate generously to help your countrymen in need.
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس اور دیگر وائرسز میں جو فرق ہے وہ یہ کہ اس وائرس کے پھیلاؤ کی شرح ‘غیرمعمولی’ لہٰذا لوگ سماجی فاصلے کو اپنائیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی حکومت خود سے کورونا وائرس کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی، اس وبا کو شکست دینے کے لیے ہر ایک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔دوران گفتگو وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غیر معینہ مدت تک کا لاک ڈاؤن کوئی آپشن نہیں ہے اور لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ صرف ایلیٹ کلاس کے لیے نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کے لیے ہونا چاہیے۔انہوں نے لاک ڈاؤن میں توسیع سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ کہ ہمیں اس کے ساتھ رہنا ہوگا ہر ملک کو اس کے حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت نے درمیانی راستہ نکالتے ہوئے رمضان المبارک میں اجتماعی عبادات سے متعلق علما کے ساتھ 20 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا کیونکہ لوگوں نے رمضان میں اجتماعات پر اصرار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اجتماعی عبادات کے لیے طریقہ کار (ایس او پیز) جاری کی ہیں جن پر عملدرآمد کی ذمہ داری علما کی ہوگی۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اسمارٹ لاک ڈاؤن میں بھی لوگوں نےذمے داری کامظاہرہ نہ کیا تو ہم کارروائی کریں گے جبکہ اگر علما نے باجماعت نماز سے متعلق جو ضمانت دی ہے وہ پوری نہیں کی تو ہم مساجد بند کردیں گے۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا میں نے اپنے کیریئر میں آخری 3 سال کرکٹ صرف شوکت خانم ہسپتال کے لیے ہی کھیلی ہے اور مجھے اس دوران جو بھی تحائف ملتے تھے وہ میں ہسپتال کے فنڈ میں عطیہ کردیتا تھا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے خوف ہے کہ لاک ڈاؤن کے اثرات معاشرے پر آئیں گے خاص طور ہمارے کمزور طبقے پر اثر پڑے گا، اس وائرس کی وجہ سے ہمارا کمزور طبقہ قربانیاں دے رہا ہے اور جو لوگ جنہوں نے پاکستان کی وجہ سے پیسہ بنایا ہے امید ہے وہ تعاون کریں گے۔احساس ٹیلی تھون کے دوران گفتگو کے دوران احساس کیش پروگرام سے متعلق انہوں نے کہا کہ حکومت کے احساس کیش پروگرام میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے اور پورا نظام کمپیوٹرائزڈ ہے، اس پروگرام جیسا شفاف پروگرام ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کا پتہ لگانے کے لیے حکومت انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی ) کی جانب سے فراہم کیا گیا سسٹم استعمال کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نظام اصل میں دہشت گردوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اب ہم اسے کورونا سے نمٹنےکے لیے استعمال کررہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ٹریکنگ اور ٹیسٹنگ ہی کاروبار کو دوبارہ کھولنے کا واحد طریقہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خود اعتمادی آپ کو گھبراہٹ سے روکنا ہے، یہ سندھ میں گبھراہٹ میں جو لاک ڈاؤن کیا گیا یہ خوف کے اندر کیا گیا، جب خود اعتمادی ہوتی ہے تو آپ کے اندر ٹھہراؤ آجاتا ہے۔
براہ راست ٹیلی تھون میں وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت میں آنے کے بعد کے 20 ماہ سب سے مشکل ترین وقت تھا اور معیشت سمیت دیگر مسائل تھے۔اسی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مہاتیر محمد اور طیب اردوان کو مسلم دنیا کا اہم ترین لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں نے اپنے معاشرے بدلے، جب مہاتیر محمد آئے تو انہیں بھی دیوالیہ معیشت اور وہی سب مسائل ملے جو مجھے دیکھنے پڑے لیکن اب دیکھیں وہاں اسٹیٹس کو بحال ہوگیا۔
ٹیلی تھون کے دوران صحافی کامران شاہد کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آپ نے حریف میڈیا چینلز کو بلا لیا، پوری دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے تو آپ اپوزیشن کو بھی اپنے ساتھ ملا لیں، ہوسکتا ہے وہ آپ کو اربوں روپے دے دیں اور شہباز شریف اور آصف زرداری کو گلے لگا لیں؟ تو اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ اس میں ایک خطرہ ہے کہ ان کو ساتھ لیا تو میری عطیاب ہی کم نہ ہوجائیں۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا ریلیف فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
اس حوالے سے انہوں نے اکاؤنٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے قابل ٹیکس عطیات نیشنل بینک آف پاکستان کی کراچی میں واقع مرکزی شاخ میں موجود اکاؤنٹ نمبر ‘4162786786’ پر بھجوائے جاسکتے ہیں۔واضح رہے کہ اس فنڈ کے قیام کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو کورونا وائرس کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔اس حوالے سے یکم اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔
عمران خان نے فنڈ کے قیام کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سب اس فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ان لوگوں کی دیکھ بھال ممکن ہوسکے جنہیں لاک ڈاؤن نے افلاس کے کنارے لاکھڑا کیا۔
خانہ کعبہ میں تراویح پر پابندی ، یہاں کیوں نہیں،خدارا ہمیں یورپ جیسی صورتحال کی طرف نہ لے جائیں، ڈاکٹروں نے بڑی اپیل کر دی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا ہے سعودی عرب اور ترکی کی حکومتوں جیسے فیصلے کرنا ہوں گے ، خدارا حکومت اور علما اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں، کرونا کا کوئی علاج نہیں، صرف احتیاط کی جا سکتی ہے،
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر اشرف نظامی کا کہنا تھا کہ دنیا اور پاکستان کے اندر حالات پر حکومت کےفیصلے درست نہیں، حکومتی اکابرین کے اپنے فیصلے ایک دوسرے سے ملتے نہیں ،ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ایسے فیصلے نہ کریں ،ہم نے حکومت کو کہا تھا کہ ایسے فیصلے نہ کریں کہ سڑکوں پر علاج کرنا پڑے ،وزیر صحت نے خود کہا کے آئندہ 48 گھنٹے اہم ہیں ،اتنے دن گزر جانے کے باوجود 20 ہزار تک ٹیسنگ نہیں کرسکتے ،حکومت ایسے فیصلے نہ کرے کہ ہم حالات کنٹرول نہ کرسکیں ،یورپ اور امریکہ کے حالات پاکستان میں پیدا نہ کرے ،ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں، جو فیصلے مسلم ممالک نے کیے ہمیں وہ کرنے ہوں گے ،حکومت کوئی ایسے فیصلے نہ کرے کہ ہم اسے سنبھال نہ سکے
پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کیسز کی تعداد لاکھوں میں ہے،ہمارے پاس ٹیسٹنگ کی صلاحیت نہیں ہے ،لاک ڈاون پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی، حکومت کو مذہبی اجتماعات پر پابندی لگانا ہوگی ،کورونا وائرس کا کوئی علاج نہیں ہے، ہمیں احتیاط کرنا ہوگی ،کوئی سائنسی بنیاد پر ایسی بات نہیں آئی کہ اسکا کوئی علاج ہو ،ہم معاشی تجربہ کار نہیں مگر یہ ضرور جانتے ہیں کہ جان ہے تو جہاں ہے
پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی کا مزید کہنا تھا کہ 6 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر لینے کا کہا تھا ،حکومت کے پاس احتیاطی تدابیر کا بہت وقت تھا ،حکومت پنجاب کو ہم نے متعدد پروپزل دیے جو انھوں نے نہ مانے ،حکومت نے بغیر علامات والوں کے دیکھا ہی نہیں ،ہمارا قبلہ اول خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ہے، جب وہاں پر پابندی ہوسکتی ہے تو یہاں کیوں نہیں ،تراویح کے معاملے پر حکومت کو نظرثانی کرے، 6 فٹ کے فاصلے سے تراویح کروانا ممکن نہیں لاکھوں میں کیسز ہونے کی بات کوئی مبالغہ نہیں، ریاضی کرکے پتا کیا جاسکتا ہے.
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنماؤن کا مزید کہنا تھا کہ کرونا سے محتاط رہنا ہزار درجے بہتر ہے، تراویح اور نماز مسجد کے اندر نہیں ہونی چاہئے.چیف جسٹس پاکستان سے بھی درخواست ہے کہ مسئلے کا نوٹس لیں ہمیں ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہییں جس سے پچھتانا پڑے ہم نے ٹھوس فیصلےنہ کئے تو امریکااور یورپ جیسا حال ہو گا ،خدارا ہمیں یورپ جیسی صورتحال کی طرف نہ لے جائیں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، مریضوں کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے
پاکستان میں مریضوں کی تعداد 10 ہزار 513 جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 224 ہو گئی ہے،کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 742 نئے کیسز سامنے آئے ہیں،
پنجاب میں سب سے زیادہ 4590، سندھ میں 3373، خیبر پختونخوا میں 1453، بلوچستان میں 552، گلگت بلتستان میں 290، اسلام آباد میں 204 جبکہ آزاد کشمیر میں 51 مریض ہیں،پاکستان میں اب تک ایک لاکھ 24 ہزار 549 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6 ہزار 700 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 2337 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 44 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 15 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 224 ہوگئی۔ سندھ میں 69، پنجاب میں 58، خیبر پختونخوا میں 83، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 8 اور اسلام آباد میں 3 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں.
لاہور:کیا خطرہ ٹل چکا،50 کروڑ سے زائد افراد کی زندگیوں کو خطرات ہیں ، مبشرلقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ،باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان کے سنیرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان نے دنیا کی تازہ ترین صورت حال پر تازہ ترین اعدادوشمار کے ساتھ حالات پر سے پردہ اٹھایا ہے، وہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں وباء کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں سماج اور معیشت دونوں کو شدید چیلنجز درپیش ہیں۔ وبائی بحران اس وقت انسانیت کے لیے ایک ایسی کٹھن آزمائش ہے جس پر قابو پانا ناگزیر ہو چکا ہے اور مزید تاخیر کی صورت میں بھیانک نتائج بھگتنا ہوں گے۔
تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہتے ہیں عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ وباء سے دنیا بھر میں 50 کروڑ سے زیادہ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وبا کے منفی اثرات سب سے زیادہ غریب ملکوں پر محسوس ہوں گے۔ساتھ ہی وباء سے دنیا بھر میں بھوک میں دگنے اضافے کا خدشہ ہے ۔
تجزیہ نگار مبشرلقمان نےکہا کہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے بھی خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے افراد جو پہلے ہی غربت اور بھوک کا شکار ہیں ان کے لیے موجودہ صورتحال تباہ کن ثابت ہوگی۔اس وقت عالمی سطح پر خوراک کی کمی یا عدم دستیابی کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد دوگنی ہوکر تقریباً ساڑھے 26 کروڑ ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں وباء سے متاثرہ افراد کی تعداد 25 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 1 لاکھ 77 ہزار سے زائد ہو گئیں ہیں ۔وباء نے مختلف ممالک اور خطوں کو سنگین طور پر متاثر کیا ہے اور امریکہ سمیت ترقی یافتہ مغربی ممالک میں نظام کی کمزوری اور آپسی سیاسی اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔
تجزیہ نگار مبشرلقمان نےکہتے ہیںکہ مستقبل میں یورپی یونین کی اتحاد و یکجہتی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔یورپی ممالک اب تک وبا کے سامنے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے سے قاصر ہیں اور نہ ہی انسداد وبا سے متعلق ایک دوسرے کی امداد و تعاون دیکھنے میں آیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ صرف اپنے شہریوں کا تحفظ ہی ہر ملک کی اولین ترجیح ہے۔ امریکہ میں ہلاکتوں اور متاثرہ مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافے کے بعد دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید محاز آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا ہےکہ وباء سےجانی و مالی نقصان کے ساتھ سیاسی رنجشیں بھی بڑھنے لگیں۔ امریکا اور چین کی جانب سے الزام تراشیوں کے بعد ایک امریکی ریاست چین کے خلاف کھل کر میدان میں آگئی ہے ۔ ریاست میسوری نے چین اور اس کی کمیونسٹ پارٹی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ چینی حکومت نے وباء سے نمٹنے کیلئے مناسب اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے یہ وبا پوری دنیا میں پھیل گئی جس کی وجہ سے ریاست میسوری کی معیشت کو 10 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔
تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہتے ہیں کہ قانونی ماہرین گومگو کیفیت کا شکار ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا ایک ریاست کس طرح کسی ملک کے خلاف قانونی مقدمہ دائر کر سکتی ہے اور یہ کس حد تک کارآمد ثابت ہو سکتی ہے اور اس مقدمے پر سماعت کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟
انہوں نے دنیا میں وائرس کی وجہ سے زندگیوں کو خطرات کے پیش نظر عالمی ادارے کی رپورٹ کا بھی ذکرکیا ، وہ کہتے ہیںکہ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے ایک بار پھر کہہ دیا ہے کہ وباء کے لیبارٹری میں تیار ہونے کے شواہد نہیں ملے ۔ اور اس بات کہ امکانات زیادہ ہیں کہ وائرس کا آغاز جانوروں سے ہوا۔ تاہم یہ علم نہیں کہ یہ کس جانور سے انسان میں کیسے منتقل ہوا۔
تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہتے ہیں کہ حالت یہ ہو چکی ہے کہ امریکہ نے خام تیل کی قیمت ایک ڈالر سے بھی کم ہونے کے بعد صدر ڈونلڈٹرمپ نے عندیہ دے دیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے تیل درآمدات روکنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنےاسٹرٹیجک ذخائرمیں75ملین بیرل تیل کا اضافہ کردیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں تاریخی گراوٹ کا مزید فائدہ اٹھایا جائے گا۔ اس سے قبل امریکی آئل مارکیٹ کریش کر گئی تھی اور ویسٹ ٹیکساس خام تیل کی قیمت تاریخ میں پہلی مرتبہ منفی زون میں چلی گئی ہے۔بلومبرگ کے مطابق انیس سو چھیالیس کے بعد سے یہ ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ کمی ہے۔ ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں مستقل رہائش کے خواہشمندوں کو گرین کارڈز کے اجرا پر پابندی کااعلان کردیا ہے۔
اس وقت دنیا کی مضبوط ترین معیشت رکھنے والے ملک امریکہ میں بے روزگاری اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور عوام لاک ڈاؤن کے باوجود حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جب سے وباء پھوٹی ہے امریکا میں دوکروڑ سے زیادہ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔
امریکی میڈیا ادارے مسلسل صدر ٹرمپ کے زیرعتاب ہیں جبکہ امریکی صدر نے چین کے ساتھ ساتھ اپنی توپوں کا رخ ڈبلیو ایچ او کی جانب کر دیا ہے اور عالمی ادارے کی امداد بھی معطل کر دی ہے۔ امریکی میڈیا ملک میں وباء کے تیز رفتار پھیلاو کو صدر ٹرمپ کی بدترین ناکامی اور ٹرمپ انتظامیہ کی نااہلی قرار دے رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ ترقی پزیر ممالک میں بھی وبا کے باعث قیادتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور متفقہ موقف اپنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس صورتحال میں کہا جا سکتا ہے کہ وبائی صورتحال نے عالمگیر سطح پر صحت عامہ اور سلامتی سے متعلق نظام کو بری طرح بے نقاب کیا ہے اور موجود نقائص اور شدید خامیاں کھل کر سامنے آئی ہیں۔
عالمگیر وبا کے سدباب کے لیے اگر چند اقدامات بارے بات کی جائے تو اس وقت عالمی سطح پر "لاک ڈاون” کے خاتمے یا نرمی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کے خیال میں نرمی کا فوری فیصلہ مناسب نہیں ہے۔ اس حوالے سے چین کا شہر ووہان لاک ڈاون کا ایک کامیاب ماڈل ہے کیونکہ یہاں 76 روز تک مسلسل لاک ڈاون کے بعد انسداد وبا کی بہتر صورتحال اور مثبت پیش رفت کے بعد ہی شہر کو دوبارہ کھولا گیا ۔
لاک ڈاون کے دوران عوام کی آمد ورفت معطل ہو جاتی ہے اور سماجی فاصلے اختیار کرنے سے وبا کا پھیلاو موئثر طور پر روکا جا سکتا ہے۔ووہان میں لاک ڈاون کے دوران ایک مربوط نظام کے تحت یومیہ اشیائے ضروریہ اور طبی ساز وسامان پہنچایا گیا جبکہ انسداد وبا کے لیے نگرانی ،آئیسولیشن ،نگہداشت اور علاج معالجے کا ایک قابل تقلید طریقہ کار وضع کیا گیا۔لیکن لاک ڈاون کا فارمولہ تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے جب عوام حکومت کا بھرپور ساتھ دے۔اکثر یورپی ممالک میں پولیس کی جانب سے باشعور عوام کو تفریحی مقامات پر یہ باور کروانا پڑا کہ لاک ڈاون کا مطلب تفریحی مقامات کا رخ کرنا ہرگز نہیں ہے۔
تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کا کہنا ہےکہ اسی طرح عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دینے سے بھی حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔پاکستان سمیت اکثر ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک کے شہری بھی ماسک کے استعمال سے کتراتے ہیں۔ جو قطعاً مناسب نہیں ہے۔ اس حوالے سے تو ماہرین بارہا کہہ چکے ہیں کہ ماسک کا استعمال ایک فرد کو وباء کے خطرے سے بچانے میں کافی حد تک مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ وبائی صورتحال کے تحت عائد پابندیاں اٹھانے کے بعد بھی بازاروں ،تجارتی مراکز ،پبلک ٹرانسپورٹ، طبی و تعلیمی مراکز سمیت ایسے تمام اداروں میں ماسک کی پابندی کو لازمی قرار دیا جائے جہاں عوام کی آمد ورفت زیادہ ہوتی ہے۔
تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کا کہنا ہےکہ انسداد وبا کے حوالے سے متاثرہ افراد کی فوری تشخیص اور آئیسولیشن انتہائی اہم ہے لیکن اکثر ممالک میں ٹیسٹنگ کٹس کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے اور متاثرہ فرد سے دیگر افراد تک وباء کی منتقلی تیزی سے جاری رہتی ہے۔ یہاں ملک کے بائیو ٹیک اور تحقیقی اداروں کا کردرا انتہائی اہم ہے اور عوامی رویے بھی ۔ جان بوجھ کر علامتی معلومات چھپانے کا رحجان بھی اکثر دیکھا گیا ہے جس کی حوصلہ شکنی لازم ہے ۔
جب ہم چین کے کامیاب ماڈل کو سمجھںے کی کوشش کرتے ہیں تو انسداد وبا کی کوششوں میں ایک اہم پہلو ” ہیلتھ ڈیٹا بنک” بھی رہا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہر ایک شخص کی جسمانی صحت سے متعلق معلومات کو یکجا کیا گیا مثلاً اُس کی سفری معلومات ، رہائشگاہ کا پتہ ، یومیہ ٹمپریچر،علامات اور دیگر معلومات وغیرہ ۔اس بنیاد پر فوری عملی اقدامات کیے گئے اور قیمتی جانیں بچائی گئیں۔پاکستان میں رضا کاروں کی مدد سے یہ اعداد و شمار ترتیب دیے جا سکتے ہیں ،ووٹر لسٹیں بھی موجود ہیں اور عوامی نمائندے اپنے اپنے حلقوں میں موئثر طور پر ڈیٹا بنک کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ،روبوٹس ،ڈرون اور دیگر جدید معیارات اپنائے گئے جسے سے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔ اس ضمن میں متعدد ممالک کے طبی اور تکنیکی ماہرین کے درمیان مسلسل تبادلہ اور تعاون لازم ہے تاکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علاج معالجے سے متعلق معلومات کے تبادلے سے وباء کا راستہ روکا جا سکے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ اکثر پاکستانی جامعات میں طلباء کی جانب سے تحقیقی کاوشیں سامنے آ رہی ہیں۔
تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہتے ہیں کہ وبا کی سنگین صورتحال میں عوامی شمولیت ، فتح کی بنیاد ہے۔پاکستان جیسے گنجان آباد ملک میں عوام کو "آئیسولیشن” کے نظریے کی حقیقی اہمیت کو سمجھنا ہو گا۔ حکومت رہنماء ہدایات جاری کر سکتی ہے لیکن عمل درآمد عوام کی ذمہ داری ہے۔اس بات کا ادراک لازم ہے کہ ایک متاثرہ فرد کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب ہو سکتا ہے ۔ ایسا ہرگز مت سوچیں کہ میرے گھر سے باہر نکلنے سے کیا ہو جائے گا۔لازمی نہیں کہ آپ وباء سے متاثر ہوں مگر یہ اندیشہ ضرور ہو سکتا ہے باہر آپ وباء کا شکار ہو جائیں لہذا اپنی سلامتی اور اپنے پیاروں کے تحفظ کے لیے کچھ عرصہ خود پر جبر کرتے ہوئے ” آئیسولیشن” میں رہنے کی پالیسی اپنائیں تاکہ جس طرح چینی عوام نے نظم وضبط سے ایک قلیل مدت میں وباء کو شکست دی بالکل اسی طرح پاکستان سے بھی خوف کی یہ پرچھائیں ہمیشہ کے لیے دور ہو جائیں۔
وبا، سلیم صافی اور مولویوں کا مسئلہ کیا ہے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک اہم مسئلہ ہے ،کئی دن سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اس پر آپ کی کیا رائے ہے، پاکستان میں مولوی حضرات کیوں بضد ہیں کہ باجماعت نماز اور تراویح پڑھنی ہے ایسے موقع پر جب وبا بری طرح پھیلی ہوئی ہے دنیا اس کے آگے گھٹنے ٹیک چکی ہے.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ روزنامہ جنگ 22 اپریل کا اس میں میرے بڑے ہی پیارے دوست ہیں سلیم صافی کا ان کا اس پر ایک بھر پور کالم آیا ہے ، سلیم صافی سے ہم نے گفتگو بھی کی، ان کے کالم میں کئی چیزوں سے ایگری کرتا ہوں،اور کچھ چیزیں ، اصل میں سلیم صافی سے آپ اختلاف رائے رکھ سکتے ہیں،وہ شائستہ انسان ہیں اور وہ مہذب زبان استعمال کرتے ہیں،صافی صاحب لوگوں کی عزت ضرور رکھتے ہیں بھلے انکی رائے سے اختلاف کیا جائے، مجھے پتہ ہے کہ میرے پی ٹی آئی کے دوست اس سے ضرور اختلاف کریں گے میں سب کچھ جانتے ہوئے کہہ رہا ہوں
سلیم صافی کا کالم پڑھنا ضروری ہے، انکے کالم کا عنوان ہے وبا اور اہل مذہب، اسکا خلاصہ بہت ہی اہم ہے وہ کہتے ہیں کہ بحران لیڈر بناتے ہیں یا گراتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن، سراج الحق، مولانا طارق جمیل اور مفتی تقی عثمانی اور پیر نقیب الرحمٰن جیسے لوگوں نے کورونا کی وبا کی آزمائش میں اپنے قد بلند کئے۔ مولانا فضل الرحمٰن اُن سیاستدانوں کی صف میں شامل ہیں جن کا حق تبدیلی کی خاطر مارا گیا۔ پھر اُس حکومت نے اُن کے خلاف ہر حد پار کردی۔
مولانا چاہتے تو کورونا کے مسئلے کو حکومت کے خلاف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر سکتے تھے لیکن کورونا کی وبا سامنے آتے ہی انہوں نے انتہائی جراتمندانہ اور مدبرانہ موقف اپنا کر لوگوں کو وہی کچھ کرنے کا کہا جو ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں۔
انہوں نے مساجد میں اجتماعات کی پابندی کے حکومتی اقدام کی مزاحمت نہیں کی اور حکومت کی طرف دستِ تعاون بھی دراز کیا۔ اسی طرح سراج الحق صاحب نے بھی پہلے دن سے یہی جراتمندانہ اور سوشل ڈسٹینسنگ پر زور دینے والا موقف اپنایا۔ جماعت کے وسائل بھی حکومت کو آفر کیے فخر کے ساتھ اپنے ڈاکٹر بیٹے کو کورونا کے مریضوں کی خدمت پر مامور کرکے دوسروں کے لئے اعلیٰ مثال قائم کی۔
اسی طرح مفتی تقی عثمانی صاحب نے جو پہلا فتویٰ جاری کیا، وہ نہایت متوازن تھا۔ مولانا طارق جمیل صاحب نے بھی یہ قابلِ ستائش قدم اٹھایا کہ لوگوں کو سوشل ڈسٹینسنگ کی تلقین کی اور میرے ٹی وی پروگرام میں یعنی سلیم صافی کے پروگرام میں اس موقف کی صراحت کے ساتھ وضاحت کی کہ انسانی جان کا تحفظ ہر عبادت سےمقدم ہے۔
اسی طرح عیدگاہ شریف کے سجادہ نشین پیر نقیب الرحمٰن صاحب نے بھی پہلے دن سے جو کوششیں کیں، اس کا محور انسانی جانوں کا تحفظ ہی رہا۔ وبا کا پہلا کیس سامنے آتے ہی میں لکھتا اور بولتا رہا کہ حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تمام دینی جماعتوں کے سربراہوں، علمائے کرام اور مشائخ کو جمع کرکے کورونا کے تناظر میں ایک متفقہ فتویٰ سامنے لانا چاہئے لیکن افسوس کہ حکومت اس طرف متوجہ نہ ہوئی۔
جو برائے نام لاک ڈائون ہوا اس میں پاکستان کے اندر جو شخص سب سے زیادہ کنفیوژن کا شکار رہے، وہ حکمراں ہی تھے۔ اوپر سے کسر یوں پوری کردی گئی کہ گزشتہ ہفتے لاک ڈائون میں نرمی کردی اور بعض شعبوں کو کھول دیا۔ یوں مفتی منیب الرحمٰن صاحب کو جواز ہاتھ آگیا اور انہوں نے بجا طور پر یہ سوال اٹھانا شروع کردیا کہ فلاں فلاں کاروبار کھل سکتے ہیں تو مساجد کیوں نہیں کھل سکتیں۔
دوسری طرف حکومتی اجلاس اور فیصلے سے قبل 14اپریل کو کراچی میں تمام علما کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے مساجد کے حوالے سے لاک ڈائون ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یوں حکومت ہوش میں آئی اور صدر عارف علوی کے ذریعے علمائے کرام کا اجلاس بلایا گیا جس میں بیس نکاتی معاہدے پر دستخط ہوئے۔
گویا حکومت دبائو کے آگے جھک گئی اور فیس سیونگ کے طور پر یہ بیس نکاتی ناقابلِ عمل منصوبہ بنایا گیا۔ ناقابلِ عمل میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ دیہات تو کیا بڑے شہروں کی مساجد میں بھی اس معاہدے پر عمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں مسجد کی طرف ضعیف العمر لوگ زیادہ لپکتے ہیں۔
میں عالم نہیں ہوںلیکن علمائے کرام اور دینی حلقوں یا جماعتوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بہت ہوا، یوں کسی حد تک مذہبی حلقوں کا مزاج شناس ضرور ہوں۔ یوں مساجد میں باجماعت تراویح پر اصرار کرنے والے لوگوں سے بصد ادب و احترام چند سوالات کا جواب جاننا چاہتا ہوں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ مساجد سب محترم ہیں لیکن مسجدالحرام اور مسجدِ نبویﷺ کا مقام تو کسی اور مسجد کو حاصل نہیں۔ اگر وہاں انسانی جان کی حرمت کی وجہ سے امسال عام لوگوں کے لئے تراویح کی نماز تو کیا فرض نمازوں میں بھی شمولیت ممنوع ہے تو ہمارے ہاں اس پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ جب پچاس سال سے زائد عمر یا پھر بیمار افراد کو گھر پر تراویح پڑھنے کا وہی ثواب ملے گا جو مسجد میں آنے والوں کو تو پھر باقی لوگوں کو مسجد میں لانے پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ تراویح نفلی عبادت ہے جبکہ پانچ وقتہ نماز فرض ہے۔ فرض نمازوں کو باجماعت ادا کرنے کا حکم قرآن میں ”وارکعو مع الراکعین“ کی شکل میں دیاگیا ہے جبکہ باجماعت تراویح کے بارے میں قرآن میں ایسا کوئی حکم نہیں آیا۔ اب جب کورونا کی وبا کی خاطر دینی تعلیمات ہی کی روشنی میں فرض نمازیں دو ہفتے گھروں پر ادا کرنے پر علمائے کرام نے بھی اعتراض نہیں کیا تو پھر نفلی عبادت کے لئے باجماعت ادائیگی پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟
چوتھا سوال یہ ہے کہ علمائے کرام اور حکومت کے اس معاہدے کے باوجود علما کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے میرے ساتھ ٹی وی انٹرویو میں اعلان کیا کہ وہ تراویح گھر پر ہی پڑھیں گے۔ اب اگر علما کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ اگر گھر میں تراویح پڑھ سکتے ہیں اور کسی عالمِ نے ان کے اس فیصلے کے خلاف کوئی فتویٰ نہیں دیا تو پھر دیگر علما دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر مسجد ہی میں باجماعت تراویح پر اصرار کیوں کرتے ہیں؟
پانچواں سوال یہ ہے کہ ڈاکٹروں کی رائے اور ماہرین کے مشورے کے مطابق اگر حکومتی حکم کے مطابق مساجد میں باجماعت تراویح سے گریز کیا جاتا تو اگر لوگوں کو باجماعت تراویح سے محروم رکھنا گناہ کے زمرے میں آتا بھی تو اس کی ذمہ داری کسی امام مسجد یا عالم کے کاندھوں پر نہ ہوتی۔
قیامت کے روز وہ اللہ کے سامنے یہ عذر پیش کر سکتے ہیں کہ یا اللہ حکومتِ وقت نے پابندی لگائی تھی اور انسانی جانوں کو خطرہ تھا جس کو آپ کے احکامات کے مطابق کعبے سے زیادہ تقدس حاصل تھا۔
اس لئے ہم نے باجماعت تراویح کا احترام نہیں کیا لیکن اب اگر خدانخواستہ کسی بھی مسجد میں اجتماع کی وجہ سے کسی بھی انسانی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا تو قیامت کے روز حکومت کے ساتھ ساتھ وہ مذہبی رہنما بھی ذمہ دار ہوں گے جنہوں نے باجماعت تراویح پر اصرار کیا۔ اب میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مفت میں یہ لوگ اتنی بڑی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لینے کے لئے کیوں بےتاب ہیں؟
آخری سوال صرف محترم مفتی منیب الرحمٰن صاحب سے کہ چونکہ ان کی کمیٹی ریاست نے قائم کی ہے اس لئے شرعی لحاظ سے اس کے فیصلے کو تسلیم کرنا لازم ہے اور مفتی پوپلزئی صاحب کی شہادتیں کتنی قوی کیوں نہ ہوں۔ ان کا اقدام ریاست سے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ریاست نے انہیں یہ مینڈیٹ نہیں دیا۔ میں ہر سال مفتی منیب الرحمٰن کے فیصلے کے مطابق روزہ رکھتا ہوں اور عید مناتا ہوں حالانکہ مردان اور نوشہرہ میں مقیم میرے بیشتر رشتہ دار پوپلزئی صاحب کی تقلید کرتے ہیں چونکہ مفتی صاحب کو یہ منصب ریاست نے سونپا ہے اس لئے مجھے اگر ان سے اختلاف بھی ہو تب بھی میں رویتِ ہلال کے معاملے میں ان کی تقلید کرتا ہوں۔
اب جبکہ ریاست نے اٹھارہ اپریل کو فیصلہ کرنا تھا تو مفتی صاحب نے چودہ اپریل کو مساجد کا لاک ڈائون ختم کرنے کا اعلان کرکے ریاست کو چیلنج کیا۔ اب کیا اس معاملے میں مفتی منیب الرحمٰن، مفتی پوپلزئی کے نقشِ قدم پر نہیں گئے اور مسجد کو کھولنے کے معاملے میں جب انہوں نے ریاست سے بغاوت کرلی تو کیا پھر شہاب الدین پوپلزئی وغیرہ کے پاس بھی اب مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی سے بغاوت کا حق حاصل نہیں ہو جاتا؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم پوائنٹس ہیں، سلیم صافی نے کوشش کی وہ کھل کر نہیں بولے وہ شریف انسان ہیں، میں انکو ہمیشہ کہتا ہوں کہ آپ عمر میں چھوٹے اور درجے میں بڑے ہیں،جنتی ادب سے وہ الگے کو بے نقاب کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انکو ذوئے کلام دیا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سلیم صافی صاحب آپ نے کبھی غور کیا کہ رویت ہلال کمیٹی سال میں ایک مہینے میں اختلاف کی وجہ بن جاتی ہے لیکن باقی مہینوں میں نہیں بنتی ،مذاق اڑوا دیا ہے انہوں نے تین تین دن میں عید ہوتی ہے ،جب ملک میں ایک دن عید ہوئی تھی تو لوگ بڑے خوش تھے کہ مولوی ایک ہو گئے، لوگوں نے جشن منایا،یہان پر یہ بحث چل رہی ہوتی ہے کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ عید کیوں نہ کریں فلاں کے ساتھ کیوں نہ کریں ، اب سعودیہ کے ساتھ کر لیں جب انہوں نے اجتماعات کو بند کیا تو آپ اب بند کیوں نہیں کرتے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سلیم صافی صاحب اب رمضان آیا ہے رمضان میں ان لوگوں کو صدقات، زکوۃ ملنی ہوتی ہے،خیرات کی رقم آتی ہے کتنی رقم آتی ہے 80 لاکھ مدارس میں طلبا ہیں، 30 لاکھ تو وہ ہیں جن کو وفاق المدارس اعتراف کرتا ہے کہ انکو ڈگری دی جاتی ہیں، 30 لاکھ کا لگا لیتے ہیں،30 لاکھ کا لگائیں اور کم سے کم کھانا اگر 30 روپے کا وقت لگاتے ہیں اور دن میں تین کی بجائے دو وقت کے کھانے کا بھی حساب کرتے ہیں تو 9 کروڑ تو ایک دن کا ہو گیا، سال میں ڈالروں میں چلتا ہے، تین وقت کا کھانا کرنا ہے،تنخواہیں ہیں، بجلی گیس کے بل ہیں، گاڑیاں ، لینڈ کروزرز ہیں، یہ سب ہو جائے تو پتہ ہے کتنے بلین ڈالر پر گیم جاتی ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کو پتہ ہے کہ انہوں نے جو صدر مملکت کے ساتھ گیم کی ہے کہ 50، 60 سال سے عمر کا کوئی فرد مسجد نہیں جائے گا، ان میں سے کوئی بھی اس عمر سے کم نہیں ہے،جو معاہدہ کر کے آئے ہیں، اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے آپ کے اور ہمارے بچوں کو آگے لائیں گے بالکل ان جہادی تنظیموں کی طرح جہان ان کے اپنے بچے آگے جہاد کے لئے نہیں جاتے، کوئی کدھر پڑھ رہا ہے کوئی کدھر بہت کم لوگ ہیں یہاں پر میں سراج الحق کی عزت کرتا ہوں،کہ انکا بیٹا ڈاکٹر ہے اورانہوں نے وبا سے لڑنے کے لئے اسے بھیج دیا ہے، سلام ہے ان کو.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں مولانا فضل الرحمان صاحب کی ابھی کچھ دن پہلے ان کے صاحبزادے سے ملاقات ہوئی اسدن سے واقعی میں ان کی قدر کرنا شروع ہوا جب میں ان کے بیٹے سے ملا تو وہ باقاعدہ عالم دین کی طرف انکا سفر گامزن ہے، یعنی جو وہ فیل کرتے ہیں وہ اپنی اولاد کی طرف منتقل کر رہے ہیں،یہی ایک دین کی محبت کافی ہے کہ اگر آپ اپنی اولاد کو اسکے لئے وقف کر دیتے ہیں یہ ایک سیریس کمٹمنٹ ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے مذاق بنا لیا ہے،11 مہینے چاند دیکھنے پر لڑائی نہیں ہونی ایک مہینے میں دو بار ہونی ہے اگر اس مہینے میں یہ چپ رہتے ہیں تو یہ بلین ڈالرز کون اکٹھے کرے گا،یہ زکوہ میں کوئی شوکت خانم،. انمول الخدمت، گھرکی ہسپتال میں چلی جائے گی اور انکو یہ برداشت نہیں،اب آپ کو سمجھ آئی صافی صاحب
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مفتی صاجب 20 سال سے رویت ہلال کمیٹی کے یہی سربراہ ہیں اور یہ کون سی جاب ہے ہر مراعات لینی ہیں میں مفتی پوپلزئی سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ مسلمان ہیں اور جو انکے عینی شاہد ہیں وہ بھی مسلمان ہیں، جب ڈیڑھ ڈیڑھ سو رویت آتی ہیں تو پھر پورے ملک میں چار منٹ کا فرق ہے بنتا نہیں کہ انکی ہر شہادت کو رد کریں ایسا بھی ہو چکا ہے کہ کے پی کی رویت ہلال کمیٹی پوپلزئی صاحب سے ایگری کر چکی ہے لیکن مرکزی کمیٹی نے ایگری نہیں کیا یہ مذاق ہے،یہ دوسروں کے بچوں کو مساجد میں لانا چاہتے ہین وہان سماجی فاصلہ نہیں ہو سکتا، ان میں سے اگر ایک بھی موت ہوئی تو ذمہ دار یہ خود ہوں گے، یہاں ایف آئی آر نہین کٹنی کیونکہ صدر محترم ان سے مل چکے ہیں ،اللہ کے حضور ایف آئی آر کٹے گی، جنہوں نے ریاست کے سامنے اس معاملے پر سیاست کرنے کی کوشش نہیں کی وہ قابل احترام ہیں
وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے کورونا وائرس سے متعلق عالمی سطح پر پیدا ہونیوالی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔
وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گفتگو میں کورونا وائرس کے معاملے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکا میں کورونا وبا سے ہونے والی اموات پر اظہار افسوس بھی کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو پاکستان میں کورونا پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ہمیں وبائی صورتحال کیساتھ ساتھ دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ ہم نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے ساتھ ساتھ غربا کو بھی بھوک سے بچانا ہے۔
دونوں لیڈروں نے کورونا وائرس کی عالمی صورتحال اور درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا جبکہ اس کے عالمی معیشت پر اثرات اور تدارک کے حوالے سے بھی بات کی۔ دونوں رہنمائوں نے علاقائی امور اور باہمی تعلقات مضبوط بنانے اور پاک امریکا تعلقات کے فروغ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔
وزیراعظم کے قرضوں میں سہولت کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کو مالی مشکلات میں قابو پانے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت متاثرہ افراد کی مدد کے لیے 8 ارب ڈالر کے پیکج کو استعمال کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر فورمز پر حمایت کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشکور ہیں۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کورونا صورتحال میں امریکی اقدامات کی حمایت کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے ٹیسٹوں کے لیے جدید مشینیں بھجوانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو وینٹی لیٹر دینے کیساتھ ساتھ معاشی اور وبا کے خلاف اقدامات میں تعاون جاری رکھیں گے۔ عمران خان نے امریکی صدر کی پیشکش کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف اور دیگر فورمز پر امریکی حمایت پرشکریہ ادا کیا ،وزیراعظم عمران خان نے پرامن اور پائیدار افغانستان کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا،وزیراعظم عمران خان نے انٹراافغان مذاکرات کی اہمیت پر روشنی ڈالی ،امریکی صدر نے وزیراعظم عمران خان کے ٹیلی فون پر شکریہ ادا کیا ، صدر ٹرمپ نے کورونا سے لڑنے کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کو سراہا .
آرمی چیف کانیشنل کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ، کرونا کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا عزم
باغی ٹی وی :آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج این سی او سی کا دورہ کیا۔
جہاں ان کا استقبال لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان خان ، کمانڈر آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ اینڈ نیشنل کوآرڈینیٹر این سی او سی نے کیا۔میجر جنرل آصف محمود گورایا ڈی جی آپریشنز اور پلاننگ این سی او سی نے آرمی چیف کو کو رونا وئرس کے متعلق آپریشنز سے تفصیل سے بریف کیا گیا
جس میں کوویڈ 19 سے متعلق کثیر شعبہ جات کی صورتحال ، این سی سی کے فیصلوں پر عمل درآمد ، پاکستان میں اس بیماری کے پھیلنے کے ممکنہ امکانات اور وبائی امراض کے خلاف سول انتظامیہ کو مدد فراہم کیے جانے کی کوششیں اور اقدام شامل ہیں۔
آرمی چیف کو ٹیسٹ ، ٹریس اور قرنطینہ (ٹی ٹی کیو) کے لئے قومی حکمت عملی کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جس کا مقصد بیماریوں کے پھیلاؤ کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ ٹارگڈد لاک ڈاؤن کو قابل بنایا جاسکے اور ہر سطح پر ریسرچ ریسورسز کو بہتر بنانے کی ضرورت ہو۔
آرمی چیف نے وسائل اور وقت کی رکاوٹوں کے باوجود کرونا وائرس کے انسدادی کاوشوں اور اس پر عمل درآمد کے لئے این سی او سی کی قابل ذکر کاوشوں کو سراہا۔
این سی او سی کے سول ملٹری اجزاء کی تعریف کرتے ہوئے ، آرمی چیف نے صحت کے بحران ، معاشی سلائڈ اور نفسیاتی سماجی اثرات کی سہ جہتی نظم و نسق ، مصدقہ رسک تشخیص کی ضرورت پر زور دیا۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج کو دیگر قومی اداروں کے ساتھ مل کر ان مشکل وقتوں میں خصوصا رمضان کے دوران قوم کو راحت پہنچانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ آ گئی ہے
نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا ہے، اس حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کر دیا گیا ہے
وزیراعظم عمران خان سے 15 اپریل کو ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے ملاقات کی تھی جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ یا تھا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کا ٹیسٹ کروایا گیا تھا
قبل ازیں حکومت سندھ نے فیصل ایدھی کی فیملی کا کرونا ٹیسٹ کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ نے اس ضمن میں سول اسپتال کراچی کو ہدایات دی ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے اہم قدم اٹھا لیا ،کرونا ریلیف فنڈ کے لئے وزیراعظم عمران خان کو مختلف شخصیات چیک دے رہی ہیں پہلے وزیراعظم خود چیک وصول کرتے تھے اور اس موقع پر تصویر بھی بنتی تھی لیکن گزشتہ روز اس میں تبدیلی آئی ہے، گزشتہ روز کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں وزیراعظم عمران خان نے چیک خود وصول نہیں کیا بلکہ چیک دینے والوں نے چیک کو وزیراعظم کے سامنے ٹیبل پر رکھا ، وزیراعظم نے چیک کو ہاتھ نہیں لگایا
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ہردوسرے دن پورےپی ایم ہاؤس کوڈس انفیکٹ کیاجاتا ہے،وزیراعظم کاآفس روزانہ ڈس انفیکٹ کیاجاتا ہے،وزیراعظم آفس میں اجلاس ہوتےہیں اس لیےڈس انفیکٹ ہوناضروری ہے
فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم اوران کی فیملی کاپہلےکوروناٹیسٹ ہوچکاتھاجومنفی آیا،فیصل ایدھی کی وجہ سےپی ایم ہاؤس میں کون کون متاثرہوادیگرافرادکابھی ٹیسٹ ہونا چاہیے،فیصل ایدھی کی وزیراعظم سےزیادہ بات چیت نہیں ہوئی انہوں نےوزیراعظم کوچیک دیا،کابینہ اجلاس میں طبی ماہرین کہتےہیں کہ ماسک پہن لیں،دیگرلوگوں کےٹیسٹ کی ضرورت ہوئی توکرائےجائیں گے،سماجی فاصلہ اورایس او پی پرعمل ہوناچاہیے،کابینہ اجلاس میں ماسک ٹیبل پر پڑا ہوتا ہے مگرکوئی نہیں پہنتا