پاکستان میں 24 گھنٹوں میں کرونا کے 533 نئے مریض، اموات کتنی ہو گئیں؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، 24 گھنٹوں میں مزید 17 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی تعداد 209 ہوگئی۔
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکی جانب سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 533 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں مریضوں کی تعداد 4328، سندھ میں 3053، خیبر پختونخوا میں 1345، بلوچستان میں 495، گلگت بلتستان میں 283، اسلام آباد میں 194 جبکہ آزاد کشمیر میں 51 مریض ہیں
ملک بھر میں اب تک ایک لاکھ 18 ہزار 20 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5637 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 2156 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 44 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 209 ہوگئی۔ سندھ میں 66، پنجاب میں 51، خیبر پختونخوا میں 80، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 6 اور اسلام آباد میں 3 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں.
فیصل ایدھی میں کرونا کی تشخیص کے بعد وزیراعظم نے کونسی احتیاط شروع کر دی؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے اہم قدم اٹھا لیا
کرونا ریلیف فنڈ کے لئے وزیراعظم عمران خان کو مختلف شخصیات چیک دے رہی ہیں پہلے وزیراعظم خود چیک وصول کرتے تھے اور اس موقع پر تصویر بھی بنتی تھی لیکن آج اس میں تبدیلی آئی ہے، آج جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں وزیراعظم عمران خان نے چیک خود وصول نہیں کیا بلکہ چیک دینے والوں نے چیک کو وزیراعظم کے سامنے ٹیبل پر رکھا ، وزیراعظم نے چیک کو ہاتھ نہیں لگایا
وزیراعظم عمران خان سے چیف ایگزیکٹو آئی ایف ایف سی او پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ لیاقت علی چوہان نے منگل کو یہاں ملاقات کی۔ وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق چیف ایگزیکٹو ایف ایف سی او پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ نے وزیراعظم کو وزیراعظم کے کورونا ریلیف فنڈ کے لئے 2 کروڑ روپے کا چیک پیش کیا
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے بیسٹ وے سیمنٹ کے ڈائریکٹر فنانس عرفان اے شیخ نے منگل کو ملاقات کی۔ وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق عرفان اے شیخ نے وزیراعظم عمران خان کو 20 کروڑ 50 لاکھ روپے کا چیک وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کےلئے پیش کیا۔ اس رقم میں سے 10 کروڑ روپے بیسٹ وے فاونڈیشن کی جانب سے،10 کروڑ یونائیٹڈ بینک جبکہ 50 لاکھ عرفان شیخ نے اپنے اور اپنے خاندان کی جانب سے ریلیف فنڈ کےلئے عطیہ کئے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے مشکل حالات میں کمزور اور مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالہ سے بیسٹ وے فاونڈیشن، یونائیٹڈ بینک اور عرفان شیخ کے جذبے کو سراہا۔
واضح رہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، فیصل ایدھی نے چند روز قبل وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی
ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ حکومت ایدھی فاؤنڈیشن کی بھرپور سرپرستی اور مدد کرے گی۔ملاقات کے اختتام پر فیصل ایدھی نے عمران خان کو ایک کروڑ روپے کا فنڈ کرونا ریلیف فنڈ کے لئے دیا تھا
کرونا سے بچاؤ کے لئے سماجی فاصلے ،ماسک اور گلوز پہننے کی طبی عملہ سمیت حکومت بھی احتیاط بتا رہی ہے لیکن وزیراعظم عمران خان نے جب فیصل ایدھی سے چیک وصول کیا تو انہوں نے گلوز نہیں پہن رکھے تھے نہ ہی فیصل ایدھی نے پہن رکھے تھے، اب فیصل ایدھی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے
فیصل ایدھی میں کرونا کی تشخیص کے بعد وزیراعظم عمران خان کو بھی کرونا کا ٹیسٹ کروانا پڑے گا کیونکہ ماہرین کے مطابق کرونا وائرس چیک دینے،کرنسی نوٹ سے بھی منتقل ہو سکتا ہے،
وزیراعظم عمران خان نے کرونا ریلیف فنڈ قائم کر رکھا ہے جس میں اہم شخصیات کرونا ریلیف فنڈ میں وزیراعظم عمران خان کو چیک دے رہی ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان نے کبھی بھی کسی سے چیک وصول کرتے وقت گلوز نہیں پہنے، چند روز قبل وزیراعظم عمران خان سے مولانا طارق جمیل نے ملاقات کی تھی تو اسوقت ہاتھ نہیں ملایا گیا تھا تا ہم اب چیک کی وصولی کے وقت احتیاط نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے
لاہور: گریٹ گیم ۔ دنیا کس طرف جارہی ہے :اصلی کہانی تو مئی کے بعد شروع ہو گی ،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے معروف صحافی ،سنیئرتجزیہ نگارمبشرلمقان نے دنیا کی بدلتی ہوئی لمحہ بہ لمحہ تازہ صورت حال پرجس طرح نظررکھی ہوئی ہے یہ بھی مطالعہ کے شوقین افراد کا ایک نشہ ہے جب تک وہ حالات حاضرہ کے علوم کا کچھ نہ کچھ مطالعہ نہ کرلے اسے سکون نہیں ملتا ،وہ اکثروبیشترعالمی امورپراپنی رائے دیتے رہتے ہیں ،
باغی ٹی وی کےمطابق سنیرصحافی نے کرونا کی وجہ سے دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کے ایک پہلوپرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کی وجہ سے تیل کی کھپت کم ہو جانے اور پروڈکشن بڑھنے کی وجہ سے دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت منفی سطح تک گرچکی ہے ۔۔ یعنی تیل کی قدر ٹائلٹ پیپر سے بھی کم ہو گئی ۔
ان کا کہنا ہےکہ پچھلے مہینے سے جاری اس تاریخی کمی کے نتیجے میں آئل ریفائنری اور ریٹیل انڈسٹری میں عالمی سطح پر 50 ملین ملازمتیں ختم ہونے کا خطرہ بڑھ گیاہے ۔۔۔قیمت میں کمی کے اثرات تیل کی اور توانائی کےدیگر شعبوں کو بھی بری طرح متاثر کرے گی ۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ دنیا بھی جانتی ہے کہ تیل کی منڈی کریش کر گئی ہے۔ جس کے نتیجہ میں تیل ساز کمپنیوں کو کرائے پر ٹینکرز لے کر اضافی تیل کو ذخیرہ کرنا پڑ رہا ہےامریکہ کی تیل کمپنیوں کے مروجہ معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مطابق تیل کی قیمت منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے
مبشرلقمان کہتے ہیںکہ امریکی تیل ساز کمپنیوں کے معیار ڈبلیو ٹی آئی کے تحت رواں برس جون کے لیے خریدے جانے والے خام تیل کی قیمت بھی بہت کم ہے اور پیر کے روز عالمی منڈی میں اس کا کاروبار 20 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔ جبکہ یورپ اور دیگر دنیا کے لیے تیل کی قیمت کا تعین کرنے والے خام تیل کی کمپنی برینٹ کروڈ کے تیل کی قیمت میں بھی 8.9 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور اس کی عالمی منڈی میں خرید و فروخت 26 ڈالر فی بیرل سے کم رہی۔
سنیئر صحافی کہتے ہیں کہ اسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کیونکہ تیل کی تجارت اس کی مستقبل کی قیمت سے حساب سے کی جاتی ہے اور مئی تک کے کیے گئے معاہدہ منگل کو ختم ہو رہے ہیں۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ تیل کی کمپنیاں ان معاہدوں کے تحت خریدے گئے تیل کو متعلقہ ممالک کے حوالے کرنا چاہتی ہیں تاکہ انھیں اس کو ذخیرہ کرنے کے لیے اضافی اخراجات برداشت نہ کرنا پڑیں۔ لیکن صورتحال بگڑ رہی ۔۔کیونکہ کسی بھی ملک کے پاس تیل کو ضروت سے زیادہ زخیرہ کرنے کے انتظامات نہیں ۔۔۔ ۔۔تیل تو دھڑا دھڑ آرہاہے ۔۔۔لیکن ملکوں میں لاک ڈائون کی وجہ سے استعمال نہیں ہو رہا۔۔ ۔ امریکہ اور کینیڈا میں تیل نکالنے والی کمپنیاں اپنا کام بند کررہی ہیں ۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر تیل کی صنعت کواس وقت تیل کی گرتی ہوئی مانگ اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان اس کی پیداوار کو کم کرنے پر شدید اختلافات سامنے آرہے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ آپ کو یادہ ہوگا کہ اپریل کے شروع میں میں اوپیک ممبران ممالک جن میں سعودی عرب سر فہرست ہیں اور اس کے اتحادیوں نے عالمی پیداوار میں 10 فیصد تک کمی کرنے کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔یہ معاہدہ تیل کی پیداوار میں اب تک کی سب سے بڑی کٹوتی تھی جس پر اتفاق کیا گیا تھا۔
سنیئرصحافی کہتے ہیں کہ تیل کی پیداوار میں کی جانے والی کٹوتی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ اس سے صنعت پر کچھ فرق پڑتا۔اور عالمی منڈی کو یہ احساس ہور ہاہے کہ موجودہ شرائط کے ساتھ اوپیک ممالک کا معاہدہ تیل کی منڈیوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔تیل برآمد کرنے والے اوپیک ممالک اور اس کے اتحادیوں جیسا کہ روس پہلے ہی تیل کی پیداوار کو ریکارڈ حد تک کم کرنے پر اتفاق کر چکے ہیں۔امریکہ سمیت دیگر ممالک نے تیل کی پیداوار کو کم کرنے کے فیصلے کاروباری بنیادوں پر کیے ہیں۔ مگر عالمی سطح پر اب بھی خام تیل کی سپلائی دنیا کی ضرورت سے زیادہ ہے۔ اور مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ہم اس تیل کو استعمال میں لا سکتے ہیں یا نہیں بلکہ ایک بڑا مسئلہ اس کے ذخیرہ کرنے کابنتا جارہاہے
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اصل میں اضافی تیل کو اس وقت تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جب تک دنیا سے وبا کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی نہ ہو جائے اور تیل کی مصنوعات کی اضافی ڈیمانڈ نہ پیدا ہو جائے۔دنیا میں زمین اور سمندر میں تیل کے ذخائر تیزی سے بھر رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو تیل کی قیمت اس سے بھی زیادہ نیچے آنے کا امکان ہے۔
مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تبدیلی کا دارمدار تیل کی مانگ پر منحصر ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ صحت کا بحران کے بعد کیا حالات سامنے آتے ہیں۔اس تشویش میں بدستور اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ امریکہ میں مارچ سے آغاز سے تیل کے ذخائر میں پہلے ہی 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ان ممالک میں انگولا ۔۔ نائجیریا اور عراق شامل ہیں ۔ جبکہ سعودی عرب محفوظ دکھائی دیتاہے کیونکہ اس نے دنیا کے بڑے تیل کے امپورٹر ملک چین کے ساتھ بڑی ڈیل کی ہیں ۔۔امریکی شیل انڈسٹری ، نارتھ سی آف شور سیکٹر اور کینیڈا کے تیل و گیس کے شعبوں کا دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے ۔۔ یہاں اصل کہانی یہ ہے کہ ایک غیر مستحکم مارکیٹ میں بچے گا کون ۔وہی جو اس صورتحال میں انوسٹ کرنے کی طاقت یا صلاحیت رکھتا ہوگا۔۔۔ اور جو تیل کی مارکیٹ میں منفی ماحول میں بھی پیسا خرچے گا وہی فاتح قرار دیا جائے گا۔۔۔ توانائی کی صنعت میں اگلے چھ ماہ میں جو کچھ ہوگا اس سے دنیا بہت بدل جائے گی ۔۔۔ ایک بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ان کا مطالعے میں یہ چیز آئی ہے کہ تیل کی منڈی میں گریٹ گیم شروع ہوچکی ہے۔۔۔۔اور کہا جارہاہے ۔۔ اس صورتحال میں سعودی عرب ، روس اور چین بھرپور فائدہ اُٹھا سکتے ہییں ۔جبکہ دوسری طرف تیل کی کم قیمتوں اور زیادہ پروڈکشن سے وہی ملک یا پھر کمپنیا ں فائدہ اُٹھا سکتی ہیں جن کے پاس تیل کو زیادہ سے زیادہ زخیرہ کرنے کی گنجائش یا پھر صلاحیت موجودہے ۔ یعنی موجودہ مارکیٹ کی صورتحال میں سب سے زیادہ جیتنے والے اسٹوریج گنجائش کے مالک ہیں۔ ساحل اور سمندر کے کنارے۔ پچھلے مہینے توانائی کی منڈی میں ذخیرہ کرنے کی سب سے زیادہ کوشش کی گئی ہے۔
سنیئرصحافی کا کہنا ہےکہ سمندر کے کنارے ، تاجر فلوٹنگ اسٹوریج کو بک کتے نظر آتے ہیں ۔ کے لئے گھوم رہے ہیں ، اور سپرٹینکروں کے لئے چارٹر کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ ذخیرہ کرنے کے اخراجات بہت بڑھ رہے ۔ اس حوالے سے چین سبقت لے جا سکتاہے ۔۔۔ کیونکہ چین میں نہ صرف آئل ریفائنری موجود ہیں ۔۔۔۔ بلکہ چین میں یہ صلاحیت بھی موجودہے کہ وہ دنوں میں تیل زخیرہ کرنے کے یونٹ بنا سکے ۔۔ وہ ملک جو دو دن میں ہسپتال بنا سکتاہے
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ان حالات میں چھوٹی کمپنیاں دیوالیہ ہوسکتی ہیں ۔۔۔ ۔اور اصل لڑائی بڑے کھلاڑیوں کے درمیان ہے ۔ امریکہ جیسے ممالک کی کوشش ہوگی کہ مارکیٹ میں حصص سعودی عرب ، چین یا پھر روس جیسے ممالک کے پاس نہ جائیں ۔۔۔ اور ممکن ہے کہ پرائیویٹ کمپنیوں کو ریاستیں خرید نا شروع کرسکیں ۔۔۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتاہے ۔۔
ایک طرف تمام ممالک وبا سے اپنے اپنے ممالک میں جنگ لڑنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف ۔۔۔اب تیل کی جنگ بھی چھڑ چکی ہے ۔۔۔ لیکن یہ جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف ہے ۔۔۔۔۔ دیکھتے ہیں ۔۔ کون جیتتا ہے اور کون ہارتاہے ۔۔۔اور کون بھوکلاہٹ میں غلط فیصلے کرتاہے ۔۔ اصل کہانی تو مئی کے مہینے کے بعد شروع ہوگی ۔۔
اسلام آباد:رمضان المبارک میں وائرس پھیلا تو مساجد کو بند کرنا پڑے گا،جبپولیس عوام کے ساتھ الجھتی ہے تومجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے ،اطلاعات کےمطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو زبردستی مساجد میں جانے سے نہیں روک سکتے لیکن اگر رمضان المبارک میں کورونا وائرس پھیلا تو مساجد کو بند کرنا پڑے گا۔
کورونا وائرس کے حوالے سے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جن ممالک میں روزانہ دن میں پانچ، پانچ سو لوگ مر رہے ہیں اور امریکا میں روزانہ 2ہزار سے زائد لوگ مر رہے ہیں وہاں اب لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ملکوں میں بحث چل رہی ہے کہ ایک طرف عوام کو کورونا سے بچانے کے لیے لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے اور دوسری جانب اس لاک ڈاؤن کے معاشرے پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور انہوں نے کہا کہ اب ان ملکوں میں بھی بحث بحث چل رہی ہے کہ لاک ڈاؤن میں کتنی نرمی کی جائے تاکہ لوگوں کو بھی کورونا سے بچایا جا سکے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جن ملکوں میں دن میں 500، 600 لوگ مر رہے ہیں، انہوں نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، کئی چیزیں کھول دی ہیں، آسانیاں پیدا کی ہیں تاکہ لوگ باہر نکل سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے 192لوگ فوت ہو چکے ہیں لیکن اس کا امریکا سے موازنہ کر لیں جہاں 40ہزار لوگ کورونا کی وجہ سے مرچکے ہیں جبکہ اٹلی اسپین میں بھی 20، 20ہزار لوگ مر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ ملک لاک ڈاؤن میں نرمی کا سوچ رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں لاک ڈاؤن غیرمعینہ مدت تک نہیں چل سکتا کیونکہ کسی کو بھی نہیں پتہ کہ اس پر قابو پانے میں کتنا وقت لگے گا۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت کسی کو بھی نہیں پتہ کہ ایک یا دو مہینے کے بعد کیا ہو گا اور یہ بھی نہیں پتہ کہ اگر بالفرض آج یہ کیسز کم بھی ہو گئے تو ان کے ایک مہینے بعد دوبارہ بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے اس لیے دنیا کی تمام اقوام لاک ڈاؤن کر کے عوام کو بچانے کے ساتھ ساتھ ملک چلانے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے مساجد بند نہ کرنے کے فیصلے کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں، جب پولیس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈنڈوں سے مار رہی تھی تو مجھے یہ دیکھ کر کافی تکلیف ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ رمضان عبادت کا وقت ہے، ہماری قوم مساجد میں جانا چاہتی ہے تو کیا ہم ان لوگوں کو زبردستی کہیں کہ آپ مساجد میں نہ جائیں اور کیا پولیس مساجد میں جانے والوں کو جیلوں میں ڈالے گی؟، ایک آزاد معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ لوگ خود فیصلہ کرتے ہیں کہ ملک کے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کی جنگ پورا ملک لڑ رہا ہے، یہ امیر غریب یا طاقتور کمزور کسی کو بھی ہو سکتا ہے لہٰذا ضروری یہ ہے کہ لوگ خود اس جنگ میں شرکت کریں اور یہ تب جیتی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے علما سے ملاقاتیں اور مشاورت کی، صدر مملکت عارف علوی نے علنما کے ساتھ بیٹھ کر 20نکات پر اتفاق کیا جن پر عمل کر کے ہی اب لوگ مساجد میں جا سکیں گے۔
وزیراعظم نے رمضان میں تمام پاکستانیوں سے گھروں میں بیٹھ کر عبادت کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے باقی مسلمان ممالک میں بھی عوام کو گھروں میں عبادت کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے لیکن اگر مسجد میں جانا ہے تو طے شدہ شرائط پر پورا عمل کرنا ہو گا اور اگر رمضان میں وائرس پھیلتا ہے تو ہمیں ایکشن لیتے ہوئے مساجد کو بند کرنا ہو گا۔
عمران خان نے کہا کہ مغرب، یورپ، امریکا اور دیگر ممالک کو معیشت کو ٹھیک کرنے کا مسئلہ درپیش ہے اور ہمارا مسئلہ ہے کہ ہماری معیشت جس مشکل وقت میں پھنس گئی ہے تو ہمیں اپنے لوگوں کو غربت اور بھوک سے بچانا ہے۔
انہوں نے مزید کہ اپنے ملک کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم مسلسل آپس میں مشاورت کررہے ہیں کہ کس طرح سے ہم اپنے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ٹائیگر فورس میں شامل افراد رضاکارانہ بنیادوں پر کام کریں گے اور ان کو کسی بھی قسم کی تنخواہ یا رقم ادا نہیں کی جائے گی جبکہ یہ افراد غریب لوگوں تک پہنچ کر انہیں راشن وغیرہ فراہم کریں گے۔
اسلام آباد:پاکستان کی تاریخ کے بڑے سکینڈل کوعوام کے سامنے لانے کا اعلان ،بڑے بڑے بُرج ہل جائیں گے ،اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ نے توانائی کے شعبے میں گھپلوں سے متعلق انکوائری رپورٹ سامنے لانے کی منظوری دیدی۔
اجلاس میں ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری رہائشگاہ سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت وقت سے پہلے ریٹائر ہونے والے ملازمین 6 ماہ سے زیادہ سرکاری رہائش استعمال نہیں کر سکیں گے۔ وفاقی کابینہ نے توانائی کے شعبے میں گھپلوں سے متعلق انکوائری رپورٹ سامنے لانے کی منظوری بھی دیدی۔
مسابقتی کمیشن کی تشکیل نو
اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کو بتایا جائے کہ کس کس نے کیسے ملک کو لوٹااوریہ بھی بتادیا جائے کہ اپنے ہوں یا بیگانے سب کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہی پڑے گا
پاورسیکٹر انکوائری رپورٹ کے مندرجات ایکسپریس نیوز نے حاصل کرلیے جس کے مطابق 13سال میں قومی خزانے کو 4ہزار802ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں سبسڈی اور گردشی قرضے کی وجوہات بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں گردشی قرضے اور بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئےہنگامی اقدامات کرنے اور آئندہ 5سال تک نیاپاورپلانٹ لگانے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا سبسڈی اور گردشی قرضے میں صوبوں کوشامل کیا جائے، زیرتعمیرپاورپلانٹس پرنظرثانی کی جائے اور 25سال والے پلانٹس سے بجلی خریداری بند کی جائے، نیز کے الیکٹرک کو 1600میگاواٹ کے نئے پاورپلانٹ لگانے سے روکا جائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر آئی پی پیز کے پے بیک کا دورانیہ 2سے4سال کے درمیان رہا، 16آئی پی پیز نے 50ارب80کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی اور 415ارب روپے سے زائد کا منافع حاصل کیا۔
دنیا والو…اب کشمیریوں کی تکالیف کا اندازہ ہو گیا ہو گا. وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں یہ غیرانسانی سیاسی و عسکری کرفیوگزشتہ 8 ماہ سے زائد عرصے سے بغیرکسی طبی،مالی،مواصلاتی اورغذائی امدادکے جاری ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ نسل پرست نظریے ہندوتوا کی پیروکار مودی سرکارنے یقینی بنایا ہےکہ اس ناکہ بندی کے دوران اہل کشمیر بنیادی اشیائے ضروریہ سے بھی یکسرمحروم رہیں۔
تمام ترطبی، مالی، مواصلاتی اور غذائی امداد کی فراہمی کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں میں وباء کے دوران بندشوں کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں. غالباً اقوام عالم اب مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کی تکالیف کااندازہ لگا سکتی ہیں جنہیں بدترین جبر کا سامنا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تمام ترطبی، مالی، مواصلاتی اور غذائی امداد کی فراہمی کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں میں وباء کے دوران بندشوں کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں. غالباً اقوام عالم اب مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام کی تکالیف کااندازہ لگا سکتی ہیں جنہیں بدترین جبر کا سامنا ہے۔
وزیراعظم کے معاونین کے خلاف درخواست، سپریم کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیروں اور معاونین خصوصی کے خلاف درخواست واپس کر دی گئی
سپریم کورٹ نے درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی، سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست پر اعتراض عائد کیا گیا ہے کہ درخواست گزار نے متعلقہ فورم کا استعمال نہیں کیا،درخواست میں عوامی مفادسے متعلق وصاحت نہیں کی گئی،
واضح رہے کہ 15 اپریل کو سپریم کورٹ میں و زیر اعظم کے مشیروں اور معاونین خصوصی کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی،آئینی درخواست ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے سپریم کورٹ میں دائر کی تھی،درخواست میں ملک امین اسلم خان ،عبدالرزاق داؤد اورحفیظ شیخ کو فریق بنایا گیا ہے،عشرت حسین ،ڈاکٹر ظہیرالدین بابر اعوان سمیت 14 معاونین خصوصی بھی فریق بنائے گئے ہیں
درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ 5مشیروں اور 14 غیر منتخب معاونین خصوصی کی تقرریاں غیر آئینی قرار دی جائیں.
اضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ برس لاہور ہائیکورٹ میں بھی ایک درخواست دائر ہوئی تھی درخواست میں درخواست گزارکی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ غیرمنتخب نمائندوں کو کابینہ کاحصہ بنایاگیا،عدالت وفاقی کابینہ میں شامل مشیروں کوکام سے روکے،وکیل درخواستگزار نے کہاکہ وفاقی کابینہ کے بغیروزیراعظم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت وزیراعظم کواختیارات کے استعمال سے روکے،
درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت،ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ سمیت 4 اراکین کابینہ کو فریق بنایا گیا ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست میں نئی وفاقی کابینہ کے اراکین کی تقرری پر اعتراضات اٹھائے گئے ایسا شخص وفاقی وزیر کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا جو قومی اسمبلی کا ممبر نہ ہو، آئین کی رو سے صرف عوام کا منتخب کردہ نمایندہ ہی وفاقی وزیر کے اختیارات استعمال کر سکتا ہے، وزیر اعظم عمران خان کی موجودہ کابینہ غیر آئینی ہے کیونکہ اس میں غیر منتخب لوگوں کو وزیر بنایا گیا ہے، عدالت کابینہ کو کالعدم قرار دے اور وزیر اعظم اور کابینہ کو کام کرنے سے روکے
لآٹا،چینی بحران رپورٹ، چیئرمین نیب نے بھی تحقیقات کی منظوری دے دی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں چینی آٹا بحران سیکنڈل میں تحقیقات کی منظوری دے دی گئی ہے
چیئرمین نیب کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ چینی ، آٹے کی سمگلنگ،اور قیمتوں میں اضافے پر بھی تحقیقات ہوں گی ،نیب نے اربوں روپے کی ڈکیتی ، سمگلنگ کے حوالہ سے تحقیقات کی منظوری دی ہے.
نیب کی جانب سے جاری اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے گندم اور چینی اسکینڈل کی تحقیقات کی منظوری دے دی ہے، گندم اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مبینہ سمگلنگ اور سبسڈی سمیت تمام پہلوں پر غور کیا جائے گا،
گزشتہ روز نیب کی جانب سے موقف سامنے آیا تھا کہ آٹا چینی بحران رپورٹ پر نیب خاموش نہیں رہے گا،نیب ایگزیکٹو بورڈ نے آٹا اور چینی سکینڈل پر انکوائری کمیشن کی 25 اپریل کو رپورٹ آنے سے قبل ہی باضابطہ انکوائری کی منظوری دیدی ہے
قبل ازیں چینی بحران سے متعلق رپورٹ آنے پر شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی بحران سے متعلق ڈی جی ایف آئی اے کو تفصیلی جواب جمع کرادیا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے 45 صفحات پر مشتمل جواب میں شوگر ملز مالکان پر لگائے جانے والے الزامات کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے ایف آئی اے کو جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہےکہ ایف آئی اے کی رپورٹ من گھڑت اور یکطرفہ تھی، تحقیقات میں شوگر ملز ایسوسی ایشن کا موقف شامل نہیں تھا۔ چینی کے حوالے سے جو اقدامات کیے وہ سب قانونی تھے، اس لیے فرانزک رپورٹ بھی تسلیم نہیں کریں گے اور اگر ایف آئی اے سے انصاف نہ ملا توعدالت سے رجوع کریں گے.
واضح رہے کہ چینی بحران پر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 6 گروپوں نے مل کر ایک مافیا کی شکل اختیار کر رکھی ہے اور یہ چینی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے،انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 6 گروپوں کے پاس چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 فیصد حصہ ہے اوریہ آپس میں ہاتھ ملا کر مارکیٹ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ چینی کی پیداوار پر چند لوگوں کا کنٹرول اور ان میں سے بھی زیادہ تر سیاسی بیک گراؤنڈ والے لوگ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پالیسی اور انتظامی معاملات پر کس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
جہانگیر ترین کے گروپ کی 6 شوگر ملز چینی کی مجموعی ملکی پیداوار کا 19 اعشاریہ 97 فیصد پیدا کرتی ہیں۔ مخدوم خسرو بختیار کے رشتہ دار مخدوم عمر شہریار کے ” آر وائی کے” گروپ کی 6 شوگر ملز ہیں اور یہ 12 اعشاریہ 24 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔ المعز گروپ کی 5 شوگر ملز 6 اعشاریہ 80 فیصد اور تاندلیانوالہ گروپ کی 3 شوگر ملز 4 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔
سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی کے اومنی گروپ کی 10 شوگر ملز ہیں اور وہ 1 اعشاریہ 66 فیصد چینی پیدا کرتے ہیں، شریف فیملی کی 9 شوگر ملز 4 اعشاریہ 54 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں،مذکورہ بالا 6 گروپوں کی 38 شوگر ملز چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 اعشاریہ 10 فیصد پیدا کرتی ہیں جبکہ باقی 51 شوگر ملز 49 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سماجی کارکن فیصل ایدھی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا
فیص ایدھی نے کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا، فیصل ایدھی نے 3 روز قبل وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے کرونا ریلیف فنڈ میں وزیراعظم کو چیک دیا تھا
فیصل ایدھی اسوقت اسلام آباد میں موجود ہیں اور انکا اسلام آباد میں ہی ٹیسٹ کیا گیا تھا، کرونا کا ٹیسٹ مثبت آنے پر فیصل ایدھی قرنطینہ میں چلے گئے.فیصل ایدھی گزشتہ 6 روز سے اسلام آباد میں ہیں
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فیصل ایدھی کورونا کے مریضوں کے ساتھ رابطے میں تھے ،فیصل ایدھی کا ٹیسٹ اسلام آباد کے اسپتال میں کرایاگیا
پاکستان میں کرونا کے مریضوں اور ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مریضوں کی تعداد 9216 جبکہ ہلاکتیں 192 ہو گئیں
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے دیئے گئے تازہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 796 کرونا کے نئے مریض سامنے آئے،
کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض پنجاب میں ہیں، پنجاب میں مریضوں کی تعداد 4195، سندھ میں 2764، خیبر پختونخوا میں 1276، بلوچستان میں 465، گلگت بلتستان میں 281، اسلام آباد میں 185 جبکہ آزاد کشمیر میں 50 مریض ہیں،ملک بھر میں اب تک ایک لاکھ 11 ہزار 806 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5347 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 2066 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 52 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 16 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 192 ہوگئی۔ سندھ میں 61، پنجاب میں 45، خیبر پختونخواہ میں 74، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 6 اور اسلام آباد میں 3 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں
کرونا وائرس، پاکستان میں اموات 192، مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مریضوں اور ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مریضوں کی تعداد 9216 جبکہ ہلاکتیں 192 ہو گئیں
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے دیئے گئے تازہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 796 کرونا کے نئے مریض سامنے آئے،
کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض پنجاب میں ہیں، پنجاب میں مریضوں کی تعداد 4195، سندھ میں 2764، خیبر پختونخوا میں 1276، بلوچستان میں 465، گلگت بلتستان میں 281، اسلام آباد میں 185 جبکہ آزاد کشمیر میں 50 مریض ہیں،ملک بھر میں اب تک ایک لاکھ 11 ہزار 806 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5347 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 2066 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 52 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 16 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 192 ہوگئی۔ سندھ میں 61، پنجاب میں 45، خیبر پختونخواہ میں 74، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 6 اور اسلام آباد میں 3 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں.