سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے میں 4 بھارتی فوجی ہلاک، 2 زخمی،کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف نکل آئے ،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں مجاہدین کے ایک حملے میں بھارتی پیراملٹری فورسز کے4اہلکار ہلاک اور2 زخمی ہوگئے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حملہ آوروں نے سوپور کے علاقے نور باغ میں احد بابا کراسنگ کے نزدیک واقع چیک پوسٹ پر سینٹرل ریزرو پولیس فورس اورپولیس کی ایک مشترکہ پارٹی پر فائرنگ کی جس سے 4اہلکار ہلاک اوردوشدید زخمی ہوگئے۔واقعے کے فوراً بعد بھارتی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔
جموں و کشمیرکی تاریخ میں پہلی بار بھارت شہید کشمیریوں کو خفیہ طور پر دفنانے لگا ہے۔شوپیان میں جمعہ کو شہید کیے گئے دو مقامی مجاہدین کی لاشوں کو ان کے لواحقین کے سپرد نہیں کیاگیا۔
جموں وکشمیر پولیس کے مطابق شوپیان کے رہنے والے دو کشمیریوں کی لاشیں سرینگر کے ہسپتال میں کورونا کی جانچ کے بعد شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ پہنچائی گئیں جہاں ان کی تدفین عمل میں لائی گئی۔یہ قدم وادی میں کووڈ 19 کے پھیلاؤکے پیش نظرکیاگیاہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بارہمولہ سے وابستہ کوروناوائرس کا70 سالہ بزرگ مریض ہسپتال میں انتقال کرگیاجس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کورونا سے اموات پانچ ہو گئی ہیں۔کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 346تک پہنچ گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کورونا ریڈ زون علاقوں کی تعدادبڑھ کو 80ہوگئی ہے۔
دوسری جانب بھارتی پنچاب کے ضلع پٹھانکوٹ کے مختلف قرنطینہ مراکز میں قرنطینہ کی مدت مکمل ہونے کے باوجودگھروں کو واپس نہ بھیجنے پر لگ بھک بارہ سو کشمیری محنت کشوں نے مقبوضہ علاقے میں اپنے گھروں کو واپسی کیلئے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
حریت تنظیموں اور حریت رہنماؤں نے بھارتی فوج کے محاصرے اور تلاشی کی بڑھتی کارروائیوں پرتشویش اوروبا کے پیش نظر جیلوں میں غیرقانونی طور پر نظر بند کشمیریوںکی رہائی کامطالبہ کیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل جب ہم وبا کے بارے میں کہتے ہیں کہ کچھ کالا نہیں بلکہ ساری دال ہی کالی ہے،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کئی باتیں سامنے آئیں گی اب خود امریکہ نے اس بات کا اعتراف کر لیا کہ اس وبا کے بارے میں ہم جانتے تھے، دنیا بھر میں 21 لاکھ افراد کو متاثر کرنے والی وبا کے بارے میں بظاہر امریکی خفیہ اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں،کہ کیا اسے لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے یا نہیں، ذرائع تو کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں کہ امریکی تو اسوقت بھی وبا واقف تھے جب چائنیز خود اس سے واقف نہیں تھے
میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ خفیہ ادارے چائنہ سے شروع ہونے والی وبا کے بارے میں نومبر 2109 سے ہی واقف تھے اور انہوں نے سب سے پہلے امریکہ کو ہی آگاہ کیا امریکن حکومت نے فوجی اتحادی نیٹو سمیت سب کو آگاہ کر دیا تھا، امریکی خفیہ ادارے جانتے تھے کہ چائنہ میں خوفناک وبا پھیل رہی ہے، کتنی عجیب بات ہے کہ چائنیز کو بھی دسمبر کے درمیان تک پتہ نہیں چلا کہ کیا ہے یہ اور امریکہ کو نومبر میں پتہ چل گیا تھا کہ وبا چین میں پھیلنے والی ہے
امریکہ کے خفیہ اداروں نے اس وبا کے بارے میں رپورٹ میں بتایا تھا کہ چائنہ سے وبا پھیل سکتی ہے،امریکی فوج کو وبا کے پھیلاؤ سے خبر دار کیا گیا تھا،اور بتایا گیا تھا کہ چائنہ سے شروع ہونے والی وبا قریبی ممالک میں پہنچ کر پھیل سکتی ہے،امریکہ چائنیز عوام سے بھی پہلے وبا کے بارے میں باخبر تھا تو وہ کیوں خاموش تھے،ٹرمپ جس کو پہلے ہی وبا کے بارے میں بتا دیا گیا تھا اسکا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ نے عوام سے جان بوجھ کر حقائق چھپائے، اور چائنہ میں وبا پھیلنے کے بعد ٹرمپ کو ایسے لگ رہا تھا کہ کچھ ہوا نہیں لیکن بعد میں جب وبا نے یورپ اور امریکہ میں پنجے گاڑے تو ٹرمپ بوکھلاہٹ میں چینی وائرس کہتے رہے،وبا کے بارے میں ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت پر بڑی تنقید کی کہ بتانے میں دیر کر دی اور اب عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ بھی بند کر دی، ٹرمپ کے جواب میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ وقت آئے گا کہ ہم دیکھ سکیں گے کہ وبا کیسے پھیلی اور اسے کیسے تباہی ہوئی، لیکن ابھی یہ وقت نہیں ہے، یہ ایسا وقت نہیں کہ عالمی ادارہ صحت کے وسائل کم کر دیئے جائیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کو دھوکا دیا یا امریکا سمجھتا رہا کہ یہ وبا صرف چائنہ تک ہی محدود رہے گی اور اسرائیل جو ہر بات پر سب سے پہلے رد عمل تھا وہ خاموش ہے،اور امریکہ کی ادارے کو وبا پھیلنے کا پتہ تھا تو عالمی ادارہ صحت سے حقائق کیوں چھپائے گئے، نیٹو کے اداروں کے تو خبردار کر دیا گیا لیکن عالمی ادارہ صحت کو نہیں بتایا گیا یہ بہت سارے سوالات ہین جن کے جوابات جلد سامنے آئیں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب سے وبا شروع ہوئی ہے نئے نئے الزامات سامنے آ رہے ہیں، چائنہ نے پہلے امریکہ پر الزام لگایا پھر امریکہ نے چین پر الزام لگا دیا کہ ووہان میں قائم لیب سے وبا پھیلی، ہمیں نہ تو چین سے اور نہ ہی امریکہ سے تسلی بخش جواب ملتا ہے،چائنہ کی طرف سے پہلے کہا گیا کہ یہ انفکیشن سی فوڈ سے پھیلا پھر کہا گیا کہ چمگادڑوں سے، کبھی سانپوں، پنگولین کا کہا گیا،اور غیر یقینی صورتحال پیدا کی گئی، دوسری جانب چاینہ کے فارن منسڑی نے یہ بھی دعویٰ کر دیا کہ ورلڈ آرگنائزنگ فورم نے یہ کہا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ وبا چین کے ووہان کی لیب سے پھیلی ہو،اور کہا کہ وبا کا سورس ویٹ مارکیٹ ہی ہے لیکن زیادہ تر ویٹ مارکیٹ سے وبا پھیلنے کے دعوے کو مسترد کیا جا چکا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے ڈیفنس سیکرٹری نے کہا کہ زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وبا قدرتی ہے لیکن حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا،لیکن ساتھ ہی چائنہ پر الزام عائد کر دیا کہ چین کی باتوں پر یقین کرنا مشکل ہے، اب وبا کیسے پھیلی ہے یہ گتھی سلجھانا مشکل ہے ،لیکن ایک بات طے ہے کہ اسکے بارے میں چائنہ، امریکہ اور اسرائیل کچھ نہ کچھ تو ضرور جانتے ہوں گے،اور پھر یوں کہیں کہ یہ ایک ایسا پزل ہے جس کے پیچھے تو لوگ ہیں بہت سارے لیکن کوئی اس کو مکمل نہیں ہونے دیا رہا،اور پوری دنیا کو غیر یقینی صورتحال میں رکھا جا رہا ہے ، کوئی معصوم نہیں نہ ہی انفارمیشن کو روکنے والا نہ غلط انفارمیشن دینے والا، یہ سب اپنے اپنے مفادات کو پال رہے ہیں،
کچھ دن پہلے بتایا تھا کہ انسانی تاریخ تو ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں دشمن کو زیر کرنے کے لئے بائیو لوجیکل کا استعمال کیا گیا اور امریکہ، روس ،یوکے، جرمنی ،جاپان نے ہتھیاروں کی تیاری پر کھربوبں خرچ کر دیئے، پھر چائنہ بھی بڑی طاقت بن کر ابھر رہا ہے،وہ کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں،سابق امریکی صدر جارج بش، باراک اوباما بھی وبا کے پھیلنے پر بات کرتے نظر آئے، بل گیٹس نے صرف وبا کی روک تھام کی بات کی بلکہ اس کے لئے فنڈنگ بھی کی اور اب بھی ویکسین کی تیاری میں سب سے آگے نظر آتے ہیں،
یہ وبا قدرتی ہے یہ بنائی گئی ہے اس گتھی کو سلجھاتے سلجھاتے کئی برس لگ جائیں گے،یہ بھی ممکن ہے کہ اس دوران کوئی اور ایسا واقعہ ہو جائے کہ ہم اس وبا کو بھول جائیں، لیکن اس وقت سب سے اہم یہ ہے کہ اس وبا کو کیسے روکا جائے،جیسے جیسے تھیوریز سامنے آتی رہیں گے ہم سامنے لاتے رہیں گے، آج جو میں نے بتایا یہ اسرائیلی میڈیا نے ریلیز کیا ہے.
سعودی عرب سمیت دنیا بھرمیں مساجد،دینی مدارس بند،پاکستان پہلا ملک جہاں مساجد ، مدارس اوردیگرمذہبی مقامات عبادت کے لیے کھول دیئے گئے ،باغی ٹی وی کےمطابق سعودی عرب ، سمیت دنیا بھرمیں اس وقت کرونا وائرس کی وجہ سے مساجد ،دینی مدارس اوردیگرمذہبی مقامات بند ہیں لیکن پاکستان کے ایمان نے یہ گوارا نہ کیا اوراہم اعلان کردیا
باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان میں شروع دن سے وزیراعظم پاکستان مساجد ،دینی مدارس اوردیگرمذہبی مقامات کو بند کرنے کے مخالف تھے ، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کئی مرتبہ اپنی تقریروں میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کرونا وائرس سے احتیاط برتنے کی نصیحت کرتے ہیں ، اورخود بھی ان مساجد ، مدارس کو بند کرنے کے حامی نہیں ہیں
باغی ٹی وی کے مطابق یہی وجہ ہےکہ وزیراعظم اس حوالے بے چین تھے اورانہوں نے علمائے کرام سے اس حوالے سے مشاورت کرنے کا اعلان کیا تھا ، آج انہوں نے صدرمملکت کی ذمہ داری لگائی کہ وہ علما کرام سے مشاورت کرکے کوئی حل نکالیں
باغی ٹی وی کےمطابق آج حکومت پاکستان نے علما کی مشاورت سے پاکستان کی مساجد،دینی مدارس اوردیگرمذہبی مقامات کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ، ادھر ذرائع کےمطابق پاکستان اس حوالے سے واحد ملک ہے جہاں یہ کام ہوا ، جبکہ اس کے برعکس دنیا بھرمیں ابھی تک مساجد ، مدارس ، چرچ ، معبد ، گوردوارے اورمندر عبادات کے لیے غیر معیّنہ مدت کے لیے بند ہیں
باغی ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے علاوہ مراکش ، لیبیا ،کویت،قطر،اردن،ترکی،تیونس،ملائشیا،عراق،تاجکستان،الجزائر،افغانستان،مصر،بحرین،عرب امارات،فلسطین،مالدیپ،گھانا،،امریکہ،کینیڈا،برطانیہ ،جرمنی ،اٹلی ،فرانس،آسٹریلیا،جنوبی افریقہ اورسنگاپورسمیت دنیا بھرمیں تمام مذاہب کی تمام عبادت گاہیں بند ہیں
یہ بات بھی یاد رہے کہ دنیا بھر کے تمام مذہبی سکالرز نے ان مذہبی عبادت گاہوں کو بندکرنے کے فیصلے کی حمایت کی تھی ، سوائے پاکستان میں عثمانی برادران کے جن میں مفتی تقی عثمانی اورمفتی رفیع عثمانی نے اس کی حمایت نہیں کی تھی ،عثمانی برادران کہتے ہیں کہ اللہ رب العزت ہمیں ہربیماری سے محفوظ رکھیں گے بس اللہ پربھروسہ کرکے ان عبادت گاہوں کو کھول دیا جائے
یہاں یہ بات بھی قابل غورہے کہ پہلے مفتی تقی عثمانی نے حکومتی فیصلے کی حمایت کی کہ کچھ عرصہ کے لیے مساجد اورمدارس کو بند کردیا جائے لیکن جلد ہی وہ اپنے ہی فیصلے کے خلاف ہوگئے ، حتی کہ کراچی میں جب ایک خاتون پولیس اہلکاروں کو ایک مسجد میں مارا پیٹا گیا تو مفتی تقی عثمانی نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس خاتون کو اس عہدے سے ہٹا دیا جائے ،
یہ بات بھی قابل ذکر ہےکہ مفتی تقی عثمانی ہرموقع پرفتوی جاری کرنے میں پہل کرتے ہیں لیکن یہاں انہوں نے درمیانی راستہ اختیارکیا اورکوئی فتویٰ جاری نہیں کیا اورلال مسجد میں جمعہ کا خطبہ بھی دیا ، یہی وجہ ہے کہ حکومتی رٹ کو مکمل طورپرچیلنج کردیا گیا اورکھڈے لائن لگا دیا گیا ، یہاں تک کہ ایک مسجد میںتو ایک گن مین اے کے 47 جسے کلاشنکوف کا نام دیا جاتا ہے تمام پابندیوں کو پامال کرتے ہوئے تھامے ہوئے تھا ،اوریہ تاثر اچھا نہیں جاتا
ادھر بعض ذرائع کا کہنا ہےکہ یہ چند لوگ جس طرح پورے معاشرے کو داغدار کرتے ہیں کسی اسلامی معاشرے کےلیے سود مند نہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسی ریاست میں رہتے ہیں جہاں حکومت کا قانون نہیں بلکہ ان کی مانی جاتی ہے جو طاقت ور ہوتے ہیں
Imagine, one single person in this gathering has the potential to infect all. And the infected will further infect hundreds and perhaps thousands.
We all know the disastrous consequences, but we are unfortunate to be citizens of a spineless state which cannot enforce its writ!
لاہور:اہلیان وطن کے لئے حکومت پاکستان کا ایک احسن قدم ،کرونا سے بچنا ہو تو یہ کام ضرور کریں ،باغی ٹی وی کےمطابق حکومت پاکسستان نے اپنی عوام کو کرونا وائرس سے بچانے اوراس کے متعلق ہر وقت باخبررکھنے کے لیے ایک جدید اپلیکیشن تیار کی ہے جس کو جوکرے گا انسٹال وہ رہے گا فائدے میں
دوسری طرف حکومت پاکستان کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ تمام شہری جن کو پاس انڈرائیڈ فون کی سہولت حاصل ہے وہ براہ کرم یہ اپلیکیشن ضرور انسٹال کریں ، اسی حوالے سے حکومت کی طرف سے تمام شہریوں کو یہ ہدایات جاری کردی گئی ہیں
تمام دوست نیچی دیئے گئے لنک سے ایپلیکیشن ڈاؤنلوڈ کر لیں۔
اس میں شامل ہیں:
1. حقیقی اور لائیو ڈیٹا
2. آپ کے علاقے کا ڈیٹا
3. اگر آپ کوئی کیس رپورٹ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ۔
4. آپ جب بھی گھر سے باہر نکلیں تو اپنا ڈیٹا اور لوکیشن آن کر لیں اگر کوئی مریض یا ایسا شخص جس کو وائرس ہو سکتا ہے، آپ کے 300 میٹر کے اندر اندر ہو گا تو آپ کا موبائل سگنل دے گا۔
5. اس کے اندر بوٹ کے ڈریعے چیٹ کا نظام موجود ہے، جو آپ کے سوالات کا فوری جواب دے گا۔
5. حفظان صحت کے اصولوں پر مبنی ہدایت نامہ اور طریقہ کار۔
اسلام آباد:دنیا کرونا سے مررہی ہے ، بھارتی خفیہ ایجنسیاں غیرملکی سیاستدانوں کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکارکررہی ہیں،ذرائع کےمطابق ایک انتہائی حساس سرکاری دستاویز کے مطابق بھارت کی خفیہ ایجنسیوں ریسرچ اینڈ انیلیسس ونگ (را) اور انٹلی جنس بیورو (آئی بی) کے لئے کام کرنے والے بھارتی ایجنٹوں نے کینیڈا کے سیاست دانوں پر اثر انداز ہونے کے لئے خفیہ طور پر پیسہ اور جھوٹی معلومات استعمال کرنے اور زبردست لابینگ کے ذریعے پاکستان اور اس کے شہریوں کو غلط طور پر "دہشت گردی” سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
ذرائع کےمطابق کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گلوبل نیوز نے ایک رپورٹ میں کہاہے کہ دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ کینیڈا کے سیکیورٹی عہدیداروں کو شبہ ہے کہ بھارت کی دو اہم انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک بھارتی شہری کو کینیڈا میں سیاستدانوں کو بھارتی مفادات کی حمایت پر راضی کرنے کے لیے کہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ را اور آئی بی 2009 سے اس آپریشن میں مصروف ہیں۔کینیڈا کے ایک سرکاری عہدیدار نے کہا جب کوئی ملک دوسرے ملک کے جمہوری نظام میں مداخلت جیسا غیر مستحکم کرنے والا رویہ اختیار کرتا ہے،تو اس ملک کی حکومت کو تشویش لاحق ہوتی ہے۔
رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ کینیڈا کے انٹلی جنس حکام کو بھارتی ایجنسیوں پر شک ہے کہ وہ اس مقصد کے لئے ایک بے نام بھارتی اخبار کے چیف ایڈیٹر کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ایڈیٹر کی اہلیہ اور بچے کینیڈا کے شہری ہیں اور جب اس نے کینیڈا منتقل ہونے کے لئے درخواست دی تو اس کے خلاف خفیہ طورپر تحقیقات کا آغاز کیاگیا۔ بھارت کے ملوث ہونے کی
تفصیلات پہلے کینیڈا کی ایک وفاقی عدالت میں سامنے آئیں جہاں کینیڈا کے حکام نے مذکورہ ایڈیٹر پر جاسوسی کا الزام لگایا ہے ۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ملزم بھارتی شہری نے چھ سال کی مدت میں دو درجن سے زیادہ بار بھارتی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کی۔ایک امیگریشن عہدیدار کی طرف سے انہیں بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ”آپ نے بتایا کہ آپ کو بھارتی حکومت نے را کے ذریعے کینیڈا کے حکومتی نمائندوں اور اداروں پر خفیہ طور پر اثرانداز ہونے کا کام سونپا تھا۔آپ نے بتایا کہ آپ کو کینیڈین سیاستدانوں کی نشاندہی کرنے اور بھارت پر اثرانداز ہونے والے امور میں ان کی حمایت حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔آپ نے بتایا کہ را کی ہدایات میں یہ بھی شامل تھا کہ آپ سیاست دانوں کو مالی مدد اور پروپیگنڈا کا سامان فراہم کریں تاکہ ان پراثرانداز ہوا جائے“۔
30 مئی 2018ء کو لکھے گئے خط کے مطابق ان کے کاموں میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ کینیڈا کے سیاست دانوں کواس بات پر قائل کریں کہ دہشت گردی کی حمایت کے لئے کینیڈا سے فنڈز پاکستان بھیجے جارہے ہیں ۔کم سے کم 12 لاکھ کینیڈین بھاتی نژاد ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ کینیڈا میں مقیم ہزاروں سکھوں کو خالصتان تحریک اور بھارت سے آزادی کی حمایت کرنے کا شک کیا ہے۔کینیڈا کی عدالت میں را کے خلاف لگائے جانے والے الزامات خاص طور پر بھارت کے لئے شرمناک ہیں کیونکہ دسمبر 2019 ء میں ایک جرمن عدالت نے ایک بھارتی جوڑے کو اس وقت سزا سنائی جب انہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے لئے کشمیری اور سکھ آزادی پسند گروپوں کی جاسوسی کا اعتراف کیا تھا۔
عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ اس جوڑے نے جن کا نام منموہن ایس اور ان کی اہلیہ کنول جیت کے ہے ، معلومات کے حصول کے لئے 7 ہزار یورو وصول کئے تھے۔من موہن ایس کو جاسوسی کے الزام میں 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ ان کی اہلیہ کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا۔فرینکفرٹ کی عدالت کو بتایا گیا تھا کہ 51 سالہ منموہن ایس کو’ را‘ نے 2015 میں بھرتی کیا اور اسے کہاگیا تھا کہ وہ کشمیری آزادی پسند گروپوں کی جاسوسی کرے۔ایک عدالتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے کولون اور فرینکفرٹ میں سکھوں کے گرجاگھروں کے اندرونی معاملات کے علاوہ سکھ برادری کی طرف سے ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی بھی اطلاعات دی تھیں۔
انہوں نے جولائی 2017 سے ایک بھارتی انٹیلی جنس افسر کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتیں کیں اور ان کو فراہم کردہ معلومات کے لئے ماہانہ 200 ڈالر دیئے گئے۔دسمبر 2019 میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ’را‘ کے ذریعے یورپ بھر میں جعلی ویب سائٹس اور تھنک ٹینکس کا عالمی نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد یورپ میں فیصلہ سازی کو بھارت کے حق میں متاثر کرنا اور پاکستان کی مخالفت کرنا ہے۔برسلز میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم یورپی یونین ڈس انفو لیب کی ایک رپورٹ کے مطابق 265 سائٹوں کا مربوط نیٹ ورک 65 ممالک میں کام کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں ایسے گروپوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو یورپ میں پاکستان مخالف لابنگ کے لئے ذمہ دار ہیں۔یورپی یونین ڈس انفو لیب کے ایگزیکٹو ایڈیٹر Alexandre Alaphilippe نے کہاکہ جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس سے زیادہ جعلی این جی اوز کے ساتھ ان کا گٹھ جوڑ تشویشناک ہے کیوں کہ یہ کسی بھی مقصد کو آن لائن اور نچلی سطح پر مدد فراہم کرتی ہیں اور یہیں سے غلط معلومات کا آغاز ہوتا ہے۔
شکاگو:شکاگومیں غیرمسلم انتظامیہ نےعوام الناس کو کوکرونا سے بچانے کے لیے تعلیمات نبویﷺدینا شروع کردیں ،باغی ٹی وی کےمطابق شکاگومیں انتظامیہ نے بڑے چوکوں ، چوراہوں پر بڑے بڑے بل بورڈ نصب کئے ہیں جن پرکرونا سے بچنے کے لیے تعلیمات نبوی ﷺکی روشنی میں رہنمائی کی گئی ہے
باغی ٹی وی کےمطابق شکاگومیں ایک بڑے مین چوک پرہسپتال کے سامنے ایک بہت بڑا بل بورڈ نصب ہے جس پرلکھا ہے کرونا سے بچنے کے لیے جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پرعمل کریں اس سے بیماریوں سے نجات مل جائے گی
باغی ٹی وی کےمطابق یہ بل بورڈ لکھنے اورنصب کرنے والے مسلمان نہیں بلکہ غیرمسلم انگریز انتظامیہ ہے جس نے بڑے مطالعے کے بعد اس چیز پراتفاق کیا ہے کہ اگرکرونا سے بچا جاسکتا ہے تو وہ تعلیمات نبوی ﷺ پرعمل کرنے سے بچا جاسکتا ہے
اس میں جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خراج تحسین پش کرنے کے ساتھ تین بنیادی نقاط کی طرف اشارہ کرکے بتایا گیا ہے کہ نبی اکرم نےحکم فرمایا کہ اپنے ہاتھوں کو دھوئیں تو آج دنیا اس بات پر متفق ہے کہ دنیا بھرکے طبی ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ اگرکرونا سے بچنا ہے تو ہاتھوں کو ضرور دھونا پڑے گا
دوسرا اہم نقطہ بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہےکہ جس علاقے میں یہ وبا پھیلی ہے اس علاقے سے دوسرے علاقوں کی طرف نہ جائیں تاکہ صحت مند لوگ بیمار لوگوں کی وجہ سے بیمار نہ ہوجائیں
تیسرا اہم نقطہ جو بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو علاقے میں یہ وبا پھیلی ہے تو صحت مند لوگ اس علاقے کا سفر نہ کریں اورمتاثرہ علاقے سے دوررہیں ،
یاد رہے کہ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے پیش نظردنیا بھر کے طبی ماہرین نبی اکرم ﷺ کی ساڑھے چودہ سوسال قبل بیان کی گئی ہدایات ہی کو تو اپنانے کا کہہ رہے ہیں اوریہی واحد حل ہے اس بیماری سے بچنے کا
تیسرا جو نقطہ بیان کیا گیا ہے کہ اگرغیرمسلم مسلمانوں کے رسولﷺ کی بات پر اس قدر یقین رکھتے ہیں کہ ان کو یقین ہے کہ اس سے انسانیت بچ جائے گی توپھراس رسول کو ماننے والے خود بے یقینی کی کیفیت میں کیوں مبتلا ہیں
کرونا وائرس،15 سے 20 تک کا وقت مشکل،وزیراعظم نے مزید کیا کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی صورتحال بہتر ہے، 15 سے 20 مئی تک مشکل ہوگی، ہسپتالوں پر پریشر بڑھے گا، آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کو نرم کرنے کا فیصلہ کیا،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے حالات بدل رہے ہیں، دنیا بھر میں کورونا وائرس سے تبدیلی آگئی ہے، ایسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں جو پہلے نہ تھے، اللہ کا شکر ہے بڑے نقصان سے بچ گئے ہیں، پہلے یہ اندازہ تھا کہ 25 اپریل تک 50 ہزار مریض ہوں گے، آج تخمینہ لگا رہے ہیں 25 اپریل تک 12 سے 15 ہزار مریض ہوں گے، ہمارے ہسپتالوں میں سہولتیں موجود ہیں، اس ماہ ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی تمام تیاری مکمل ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا مئی تک ہم کورونا سے لڑنے کیلئے مزید تیاری کرلیں گے، اندازہ ہے 15 سے 20 مئی تک کیس بڑھیں گے اور ہسپتالوں پر دباؤ بڑھے گا، اس وقت کورونا وائرس سے متعلق پاکستان میں حالات بہتر ہیں، 13 مارچ تک 8 لاکھ لوگوں کی ایئرپورٹ پر سکریننگ کی گئی، چین سے پاکستانی طلبا کی وطن واپسی کا دباؤ تھا، بر وقت اقدامات سے ایک بھی کورونا کیس چین سے نہیں آیا، ووہان سے پاکستانی طلبا کو واپس نہ لانے کا فیصلہ صحیح تھا۔
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 2روز پہلے سنا کہ کراچی میں کورونا سے زیادہ اموات ہورہی ہیں،ایسی خبروں سے لوگوں میں خوف پھیلے گا،کہا گیا کہ حکومت کورونا سے اموات کو چھپا رہی ہے، اموات چھپانے سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہے، انتہائی نگہداشت کے لیے وسائل موجود ہیں، لوگ بھوک سے سڑکوں پر آجائیں گے تو لاک ڈاوَن کا مقصد ختم ہوجائیگا،کنسٹرکشن انڈسٹری میں لوگوں کو شرکت کا کہا تا کہ لوگ بھوک سے بچیں،جتنا جلد لاک ڈاوَن کامیاب ہوگا اتنا ہی بہتر ہوگا، لاک ڈاوَن کا فیصلہ کرتے وقت غریب لوگ ذہن میں تھے،احساس پروگرام شفاف اور میرٹ کے مطابق ہے،احساس پروگرام ملکی تاریخ کا بہترین منصوبہ ہے
وزیراعظم نے مزید کہا لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے وقت سب سے پہلے غریب لوگ ذہن میں تھے، ہم نے فیصلہ کیا کہ آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن میں نرمی کریں گے۔ انہوں نے کہا صدر مملکت نے علما سے ملاقات کی، اس میں کافی چیزیں طے ہوئیں،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزی کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی، آرڈیننس کے ذریعے سمگلرز کیخلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی، گندم سمگل اور مصنوعی مہنگائی کرنیوالوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ لوگوں نے پیسہ بنانے کیلئے ذخیرہ اندوزی کرنی ہے، ذخیرہ اندوزی پرآرڈیننس بن گیا ہے اب بہت سختی ہوگی ، جو ناجائز پیسہ بنانےکی کوشش کریں ان کوپکڑاجائے گا، ایسانہیں ہوگا کہ چھوٹوں کوپکڑاجائے گا ، بڑوں پربھی ہاتھ ڈالیں گے۔ اسمگلنگ سےمتعلق بھی آرڈیننس آنے والا ہے، ذخیرہ اندوزی ، اسمگلرزکوبتادوں 2آرڈیننس بن گئے بہت سختی ہوگی۔
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ درخواست کرتا ہوں کرونا پر سیاست بند کی جائے، مشاورت سے فیصلے ہونے کے بعد دوسری جماعت کے لیڈر کچھ اوربیان دیتےہیں،ہمیں احساس ہےکہ لاک ڈاؤن سےبیرون ممالک مقیم پاکستانی متاثر ہوئے ، ہمارے اسپتالوں میں سہولتیں موجود ہیں، اس ماہ ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی، تمام تیاری مکمل ہے، مئی تک ہم کورونا سے لڑنے کیلئے مزید تیاری کرلیں گے،کچی آبادیوں میں لوگ جڑ کر رہتے ہیں،صاف پانی تک نہیں ملتا، مئی کے مہینے تک ہم کورونا سے لڑنے کے لئے مزید تیاری کرلیں گے
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اختیارات ہیں، امریکا سمیت دیگر ممالک میں مزدور رجسٹرڈ ہیں، لاک ڈاؤن ڈنڈے سے مینٹین نہیں ہوگا، شہری خود سمجھیں، جب کورونا پھیلتا ہے تو ان کی بیماری، لاک ڈاؤن سے قوم متاثر ہوتے ہیں، اینکرز،علما و دیگر عوام کو بتائیں کہ لاک ڈاؤن سب کی بھلائی کیلئے ہے، پولیس لوگوں کو ڈنڈے مارنے کی بجائے سمجھائے.
رمضان میں تراویح ، صدر مملکت نے علماء کرام کے ساتھ اجلاس میں بڑا اعلان کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے علما کرام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبوں میں وڈیو کانفرنس کے ذریعے شریک علماء کا مشکور ہوں،
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم موقع ہے، اس وقت ملک کی موجودہ کورونا کی صورتحال سے سب آگاہ ہیں،
اس سال رمضان میں ایک پالیسی بنائی جانی ضروری ہے ،موجودہ صورت حال میں قوم میں اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے، اگر تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے علماء کرام اپنی رائے دیں تو وہ بہت زیادہ ضروری ہے ، اتفاق رائے سے رمضان المبارک کیلئے احتیاطی تدابیر کا لائحہ عمل طے ہوگیا ہے، ضروری تھا کہ ملک بھر سے علماء کے مشورے آجائیں،
ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں 20 نکات پر اتفاق رائے ہوگیا ہے، اب یہ ذمے داری صرف آئمہ یا حکومت کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ہے، مساجد اور امام بارگاہوں میں دریاں یا قالین نہیں بچھائے جائیں گے،صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی،سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر نماز تراویح پڑھنے سے اجتناب کریں ،موجودہ صورتحال میں گھر میں اعتکاف کریں تو بہتر ہو گا، امام مسجد اور نمازی ماسک پہن کا مساجد میں آئیں،
صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ نماز سے پہلے اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے، ہر نمازی کے مابین کم ازکم 6 فٹ کا فاصلہ رکھا جائے اس ضمن میں نشان لگائے جائیں، نمازی مصافحہ اور بغلگیر ہونے سے گریز کریں.
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ کوروناسے بچاوَ کےلیے احتیاطی تدابیر اختیا ر کرنے ہوں گے،کورونا سے نجات اور گناہوں کی مغفرت کےلیے اللہ سے دعا کریں،امید ہے مساجد میں کوروناسے بچاوَ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیا ر کی جائیں گی ، میں مشکور ہوں پچھلی محفل میں اچھی باتیں ہوئی تھیں، ہم علماء کرام کے ساتھ مشورہ کرنا چاہتے ہیں، حکومت اقدامات کر رہی ہے، رمضان کے مہینے میں قوم کو ایک میسج جانا چاہئے
امریکہ کی جانب سے بھارت کو ہارپون میزائلوں کی فروخت پر پاکستان کا اظہار تشویش
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکہ کی جانب سے بھارت کو ہارپون میزائلوں کی فروخت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو حساس ہتھیاروں کی فروخت سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ 15 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے امریکہ بھارت کو میزائل دے گا.
پاکستان کے ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی برادری کو کئی بار بھارتی جارحانہ عزائم سے آگاہ کیا، میزائل فراہمی خطے کی سلامتی کی مخدوش صورت حال مزید خراب کرسکتی ہے۔بھارت کرونا کی عالمی جنگ کی آڑ میں کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے، پاکستان کشیدگی بڑھانے کا نہیں ہر ممکن صبروتحمل کا حامی ہے، بھارت کو میزائل کی فراہمی ایشیا کی صورتحال خراب کر سکتی ہے،
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری بھارت کی اشتعال انگیزیوں کا نوٹس لے، بھارت نے ایل اوسی پر 2017 میں 1300 خلاف ورزیاں کرچکا ہے، بھارت نے 2018 میں 2350بار فائر بندی کی خلاف ورزیاں کیں، بھارت 2019 میں 3351، رواں سال ابتک 765بارخلاف ورزیاں کرچکا ہے، پاک فوج کسی بھی خطرے سے نمٹنے اور مادروطن کے دفاع کے لیے تیار ہیں، بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں غاصبانہ اقدامات کا خاتمہ یقینی بنانا ہوگا،
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی پر بھارتی الزامات کا متعلقہ ادارے جائزہ لے رہے ہیں، پاکستان دوطرفہ اور عالمی معاہدوں کا احترام کرتا ہے، عام شہریوں کو ہدف نہیں بناتا۔
کرونا وائرس، پاکستان میں 24 گھنٹوں میں 8 مزید اموات، مریضوں میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 7481 ہو گئی ہے، گزشتہ 24 گھنٹے میں8 نئی اموات ہوئیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 143 ہو گئی ہے
کرونا کے مریضوں میں سے آزاد کشمیر میں 48، بلوچستان میں 335، گلگت میں 250، اسلام آباد میں 163، خیبر پختونخواہ میں 1077، پنجاب میں 3391، سندھ میں 2217 مریض ہیں.
کرونا وائرس سے 143 اموات ہو چکی ہیں جن میں سے سندھ میں 44، پنجاب میں 37، کے پی میں 50، اسلام آباد میں 1، بلوچستان میں5، گلگت میں3 ہلاکتیں ہوئی ہیں، 41 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے،ل پاکستان میں اب تک 92 ہزار سے زائد ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں، کرونا کے لوکل ٹرانسمیشن مریضوں کی تعداد 62 فیصد ہے
1881 مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں، کچھ مریضوں کو قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے
پنجاب میں کرونا کی سپیڈ جاری ہے، پنجاب میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں اب تک 52 ہزار 478 افراد کے کورونا ٹیسٹ ہوئے ہیں جن میں سے مثبت کیسز کی تعداد 3 ہزار 391 ہے۔
پنجاب میں کورونا وائرس سے37 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ صوبے میں672 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں، کورونا سے متاثر 14 افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ کرونا کے مریضوں میں سے 1352 تبلیغی جماعت،701 زائرین اور 91 قیدی ہیں،پنجاب کے 32 اضلاع میں کرونا پھیل چکا ہے، سب سے زیادہ مریض لاہور اور دوسرے نمبر پر گجرات میں ہیں