مودی آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کشمیریوں کی نشل کشی کر رہا ہے ، عمران خان
باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کا آر ایس ایس سے متاثر نظریہ بالکل واضح ہے: پہلے مقبوضہ علاقے میں غیر قانونی الحاق کے ذریعہ کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم کیا ۔پھر کشمیر کے لوگوں کے ساتھ انسانوں سے کم تر یعنی غیر انسانی رویہ اپنا کر ان کا استحصال کیا جا رہا ہے .اس کے علاوہ ان کو قابض فوج کے ذریعے ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہے .
واضح رہے کہ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے فرصل علاقے میں عسکریت پسندوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔
Modi's RSS-inspired doctrine on IOJK very clear: First, deprive Kashmiris of their right of self determination by illegal annexation of an Occupied territory. Second, treat them as less than human by a three-pronged approach: one, trying to crush them with brute force incl using
پولیس ذرایع کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل محمد امین ریشی بلیٹ نمبر 329 علاقے میں ڈیوٹی پر تعینات تھاکہ اچانک عسکریت پسند نمودار ہوئے اور پولیس اہلکار پر گولیاں چلائی۔پولیس ترجمان کے مطابق پولیس اہلکار ناکہ پوائنٹ پر فرائض سرانجام دے رہا تھا جب عسکریت پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔
واقعے کے فورا بعد ہی عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
قبل ازیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بڈگام کے خان صاحب علاقے میں بھارتی فوج نے ہفتہ کی صبح 5 کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔
کورونا کے وار جاری ، ملک بھر میں ہلاکتوں اور مریضوں میںاضافہ
باغی ٹی وی : ہزار 590، پنجاب میں 14 ہزار 584 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 5 ہزار 847 اور بلوچستان میں 2 ہزار 544 افراد متاثر ہیں۔ اسلام آباد 947، گلگت بلتستان 527 اور آزاد کشمیر میں 112 افراد کورونا میں مبتلا ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے مزید ایک ہزار 352 کیس سامنے آئے ہیں۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود ملک کے مختلف شہروں میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی جاری ہے، انتظامیہ تمام تر کوششوں کے باوجود ایس او پیز میں عملدرآمد کروانے میں ناکام نظر آتی ہے
کورونا کے صوبہ خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 847، بلوچستان میں 2 ہزار 544، آزاد کشمیر میں 112 اور گلگت بلتستان میں 527 کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں جبکہ اسلام آباد میں کورونا متاثرین کی تعداد 947 تک جا پہنچی ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ 305 اموات ہوئی ہیں جب کہ سندھ میں 268، پنجاب میں 252، بلوچستان میں 36، اسلام آباد میں 07 اور گلگت بلتستان میں چار افراد نے دار فانی سے کوچ کیا تھا۔
آزاد کشمیر میں بھی کورونا وائرس کے سبب ایک فرد جان کی بازی ہار گیا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے 188 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 14 ہزار 878 ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر تین لاکھ 59 ہزار 264 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس کو سامنے آئے دو ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ ابتدا میں کیسز میں اضافے کی رفتار سست تھی لیکن اب اس میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں رپورٹ ہوا تھا جس کے ایک ماہ بعد یعنی 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
ملک میں کورونا وائرس سے پہلی موت 18 مارچ کو خیبرپختونخوا میں ہوئی تھی۔ اب تک ملک میں 834 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
سی ٹی ڈی پنجاب کی بہاولپور میں کارروائی۔ کارروائی میں چار دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ تین فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں امان اللہ، عبدالجبار، رحمان علی اور علیم شامل ہیں۔ ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم داعش سے ہے۔ دہشت گردوں کے تین ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ دہشت گردوں کے قبضے سے دستی بم، ایس ایم جی رائفلز اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ دہشت گردوں کا ہدف بہاولپور میں اقلیتی عبادت گاہ کو نشانہ تھا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خبر آ گئی ہے ،نواز شریف ،آصف زرداری سمیت اپوزیشن کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ،ایک طرف حکومت وبا کے خلاف برسرپیکار ہے دوسری جانب نیب نے اپنا کام تیزکر دیا ہے ،کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف ریفرنس کو اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے لئے استعمال کیا جائے گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کامران خان نے تو اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ اگر زرہ برابر بھی شک ہے تو دور کرلیں 2020 میں ہی 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں قومی تقاضوں کو سمونے کے لئے مطلوبہ ترامیم پارلیمنٹ سے منظور ہوں گی پی ایم ایل این پی پی پی. پی ٹی آئی مل کرمفاہمتی فارمولا بنائیں گے وہ اشارہ کر رہے ہین کہ نیب کا متحرک ہونا اسی لئے ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کرنے پر سابق وزیراعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی ، سابق صدر آصف علی زرداری کو 29 مئی کو طلب کر لیا، پاکستان کے سب سے اہم عہدوں پرفائز رہنے والی یہ سیاسی شخصیات ہیں، مختلف ممالک کی جانب سے ملنے والی گاڑیاں تھوڑی سی رقم ادا کرنے کے بعد وہاں سے لی گئیں، توشہ خانہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں مختلف ملکوں سے جو تحائف ملتے ہیں وہ رکھے جاتے ہیں جمع کئے جاتے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آصف زرداری کو لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی اور متحدہ عرب امارات کے سربراہ کی جانب سے گاڑیاں تحفے میں ملی تھیں جو توشہ خانے میں جمع کروانے کی بجائے ذاتی طور پر استعمال کی گئیں،صدر زرداری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ میں ان گاڑیوں کی قیمت کی 15 فیصد ادائیگی کے بعد یہ گاڑیاں استعمال کے لئے حاصل کی گئین اور رقم بھی جعلی اکاؤنٹس سے دی گئی، ان گاڑیوں کی ادائیگی جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے ملزم عبدالغنی مجید نے کی،عبدالغنی نے گاڑیوں کی ادائیگی کے لئے 2 کروڑ سے زائد کی جعلی اکاؤنٹس سے ٹرانزکشن کی جبکہ انور مجید نے سابق صدر کے اکاؤنٹس میں بھی رقم ٹرانسفر کی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ 2008 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کسی عوامی عہدے پر تعینات تھے اس کے باوجود یوسف رضا گیلانی نے توشہ خانے سے گاڑی دی، یہ بات سامنے نہیں آ سکی کہ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو کتنی گاڑیاں دیں اور وہ بد عنوانی کے مرتکب ہوئے، اب احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اس رپورٹ پر سابق وزیراعظم نواز شریف، گیلانی اور سابق صدر آصف زرداری کو عدالت مین پیش ہونے کا کہا ہے، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کو لندن کے علاقے پارک لین اٹارٹمنٹ کے مقدمے میں 11 سال قید کی سزا سنائی تھی،بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سزا کو معطل کر دیا تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں جبکہ نواز شریف کو اثاثے ظاہر نہ کرنے کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے انہیں عہدوں سے ہٹایا تھا،اگر کسی سربراہ مملکت یا چیف ایگزیکٹو کو کسی دوسرے سربراہ مملکت کی جانب سے 10 لاکھ تک کا تحفہ ملتا ہے تو وہ پاس رکھ سکتا ہے اور اگر اس تحفے کی زیادہ ہو تو اسے توشہ خانے میں جمع کروانا ہو گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ روز شہزاد اکبر نے بھی شہباز شریف کے خلاف پریس کانفرنس کر ڈالی،اور کہا گیا کہ شہباز شریف کی وطن واپسی ہو چکی ہے اب انکے خلاف جو ثبوت ہیں اس سے انکا سزا سے بچنا مشکل ہے، نیب نے شہباز شریف کے 10 سالہ اقتدار کی تحقیقات کی جس کے مطابق شریف خاندان کے اثاثوں میں اضافہ ہوا، اثاثوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ ٹی ٹیز ہیں، غریب ملازم جو کبھی کراچی نہیں گئے انکو کروڑوں پیسے بھیجے گئے،کبھی پاپڑ والے کبھی سیکرٹری کے اکاؤنٹ میں پیسے آئے، کالا دھن، ہنڈی کے ذریعے بھجوا کر ٹی ٹیز کے ذریعے واپس منگوایا جاتا تھا، میاں صاحب نے کئی کمپنیاں ملازمین کے نام پر بنوائیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ رمضان شوگر ملز کے ملازم کے اکاؤنٹ میں 48 کروڑ روپے منقتل ہوئے، ملازمین کے نام پر بنائی گئی کمپنیوں کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے منتقل ہوئے اور جو ملازم تھے جن کے نام پر کمپنیز بنائی گئیں انکی تنخواہ 18 سے 60 ہزار روپے تھی، اور شہباز شریف کی کمپنی کے فرنٹ نیٹ ورک تھے
ایک طرف آصف زرداری کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے بلایا دوسری جانب نیب نے بھی جعلی اکاؤنٹس کیس میں 16 مئی کو طلب کر لیا ہے،آصف زرداری کو نیب نے ہریشن کمپنی کے حوالہ سے طلب کیا ہے، ہریشن کمپنی نے سندھ میں واٹر سپلائی کا ٹھیکہ لیا اور سندھ میں واٹر سپلائی کا کام بھی نہیں کیا گیا، اس کمپنی کے اکاؤنٹس سے نوڈیرو ہاؤس کے اخراجات کی ادائیگی کی جاتی تھی، نیب نے گزشتہ ہفتے بھی آصف زرداری کو اس کمپنی کیس میں طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے،سابق صدر نے احتساب عدالت مین پیشی اور دیگر مصروفیات کی بنا پر 15 دن کا وقت مانگا تھا، آصف زرداری کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے لی گئی ضمانت 15 مئی کو ختم ہو رہی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آصف زرداری کے خلاف نوری آباد، ٹھٹھہ، دادو اور دیگر منصوبوں کی بھی انکوائری جاری ہے،جبکہ 4 ہفتے پہلے عدالت میں دائر کئے جا چکے ہیں، جعلی اکاؤنٹس کیس میں 22 انکوائریز چل رہی ہیں جن میں سے 5 مقدمات میں آصف زرداری نے ضمانت حاصل کر رکھی ہے، منی لانڈرنگ کیس،2105 مین پہلی بار سٹیٹ بینک کی جانب سے اس وقت اٹھایا گیا جب ایف آئی اے کی جانب سے مرکزی بینک کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ کی گئی،ایف آئی اے نے ان اکاؤنٹس میں مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی مشکوک اکاؤنٹس سامنے آئے جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا اور سپریم کورٹ نے تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی، جے آئی ٹی نے گزشتہ برس 24 اگست کو عدالت میں رپورٹ جمع کروائی جس میں 172 افراد کے نام سامنے آئے ،جے آئی ٹی نے آصف زرداری اور اومنی گروپ کو جعلی اکاؤنٹس سے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور انکے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں آصف زرداری، انکی ہمشیرہ فریال سے بھی تفتیش کی گئی ، بلاول نے بھی تحریری جواب بھجوایا، انور مجید، حسین لوائی حراست میں ہیں،مزید تفصیلات آ رہی ہیں وہ بھی دی جائیں گے اسکے لئے ضروری ہے کو چینل کو سبکرائیب کریں.
کابل:افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا،دہلی دہل گیا ،اطلاعات کےمطابق افغان طالبان نے ایک پیغام میں عیدالفطر کے بعد باقاعدہ ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے، اطلاعات ہیں کہ اعلان کے ساتھ ہی بھارت پرخوف کے سائے امڈ آئے ہیں
— Bilal Karimi(بلال کـریمي) (@BilalKarimi44) May 16, 2020
باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے معروف صحافی جان اچکزئی نے اہم پیغام ٹویٹ کے ذریعے شیئرکرتے ہوئے افغان طالبان کی طرف سے اس اعلان کو پیش کیا ہے ، یہ بھی بتایا گیا ہےکہ افغان طالبان نے یہ فیصلہ بھارت میں مسلمانوں پرہونے والے مظالم کی وجہ سے کیا ہے
باغی ٹی وی کے مطابق افغان طالبان نے یہ فیصلہ بھارت میں آر ایس ایس ، بی جے پی اورایسے ہی دیگردیشت گردتنظیموں کی طرف سے مسلمانوں اوردوسری اقلیتوں پربے تحاشا مظالم ڈھانےکی وجہ سے کیا ہے ، اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے قتل عام کا بدلہ بھی لینے کا اعلان کیا گیا ہے
Interesting! #India plans 2 engage Afghan Taliban but TB do not forget Delhi siding w/ occupations from #USSR to #US forces & their proxies.
اس اعلان میں یہ بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ افغان طالبان بھارت میں عید کےبعد باقاعدہ جہاد شروع کریں گے اورانتہا پسند ہندووں کی طرف سے ڈھائے جانے والے تمام مظالم کا حساب بھی چکائیں گے
دوسری طرف بھارت سے آمدہ اطلاعات میں کہا گیا ہےکہ اس اعلان کے بعد بھارت پرخوف کے سائے آمڈ آئے ہیں، بھارت فوج کے جرنیل اورحکومتی ذمہ داران سخت پریشان دکھائی دیتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ اس وقت بھارت میں ہرطرف خوف کی ایسی فضا قائم ہےکہ شاید کسی بھی وقت افغان طالبان کی طرف سے حملہ ہوجائے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وزیراعظم ہاؤس بھی پہنچ گیا، وزیراعظم ہاؤس کے چار ملازمین میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے
وزیراعظم ہاؤ س میں معمول کاکوروناٹیسٹ کیاگیا،جس کے بعد وزیراعظم ہاؤس کے 4 ملازمین میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد ملازمین کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے
ملازمین کے ٹیسٹ مثبت آنے پر وزیراعظم ہاؤس میں تمام احتیاطی اقدامات شروع کردیےگئے ہیں ،ایس اوپیزپرعمل کیاجارہاہے،
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کا بھی ایک بار کرونا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے جو منفی آیا تھا
کئی اراکین اسمبلی، سینٹر، صوبائی وزیر، گورنر سندھ، سپیکر قومی اسمبلی بھی کرونا کا شکار ہو گئے تھے جن میں سے کچھ صحتیاب ہو چکے ہیں
وفاقی حکومت نے عید پر ایک دو نہیں بلکہ کتنی چھٹیاں دینے کا فیصلہ کر لیا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیراسدعمر کی زیرصدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں عیدالفطر پر 9 چھٹیاں دینےپر اتفاق ہواہے، 23مئی سے 31مئی تک عیدالفطر کی چھٹیاں دینےپراتفاق کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر کی زیرصدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں عیدالفطر پر 9 چھٹیاں دینےپر اتفاق ہواہے، 23مئی سے 31مئی تک عیدالفطر کی چھٹیاں دینےپراتفاق کیا گیا ہے۔ چاروں صوبوں کےچیف سیکرٹریزنے 9چھٹیاں دینےکی تجویز پر اتفاق کیا اور عید کی چھٹیوں کاحتمی نوٹیفکیشن وفاقی حکومت جاری کرے گی۔پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وفاق کےفیصلےکے مطابق عید کی چھٹیاں دیں گے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ ہم نے لوگوں کو معاشی بدحالی اور کرونا وائرس سے بچانا ہے، ہوسکتا ہے مئی کے آخر اور جون میں کیسز اور اموات زیادہ ہوں، ایک رائے تھی چھ ہفتے سب بند کردیتے اگر چھ ہفتے لاک ڈاؤن موثر ہوتا تو دیگر ممالک میں وائرس ختم ہوچکا ہوتا، حکومت نے مستحقین میں سوارب روپے تقسیم کئے۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے ماہ شوال کے چاند کی پیش گوئی کردی ہے، 1441ہجری شوال کا چاند 22مئی 10 بج کر 40 منٹ پر پیدا ہونا شروع ہو گا، 29 رمضان یعنی 23 مئی کو چاند نظر آنے کے امکانات کم ہیں، 30 رمضان 24 مئی کو چاند نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر حصوں میں اس دوران مطلع جزوی طور پر ابر الود رہنے کا امکان ہے ،پہلی شوال 25مئی 2020 کو ہونے کا امکان ہے۔
شہر میں نماز عید کے تمام اجتماعات مساجد کی بجائے کھلے میدان میں ہی کروانے کی تجویز حکومت کو دی گئی ہے، تاہم عید کے اجتماعات کی پالیسی طے کرنے کے لئے کابینہ کمیٹی کے خصوصی اجلاس منعقد کیا جارہا ہے، اجلاس مین عید کے اجتماعات کے حوالے سے حکمت عملی طے کی جائے گی اور علماء اکرام کی جانب سے حکومت کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ نماز عید کے اجتماعات ہر صورت منعقد کیے جائیں گے اور اس میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف پاکستانی اداروں کی کامیاب کاروائیاں جاری ہیں،
کراچی سے را سلیپر سیل کا ایک اور اہم رکن گرفتار کرلیا گیا، ملزم کراچی ایئر پورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھا۔
ملزم کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا ہے ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا، ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے بھارت بھی جا چکا ہے، ملزم ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے۔ ملزم کیخلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، ملزم سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے،
ایف آئی اے کے مطابق اے ایس آئی مصور نقوی را سلیپرسیل کا اہم رکن ہے۔ ملزم کراچی ایئرپورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھا
ملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا تھا، محمود صدیقی کی ہدایت پر ملزم کو رقم فراہم کی جاتی تھی۔ ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے انڈیا بھی جا چکا ہے ملزم ایئرپورٹ پر ساتھیوں کی آمدورفت میں سہولت کاری بھی کرتا تھا
ایف آئی اے کے مطابق ملزم ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے ،کراچی پولیس کا ایک اے ایس آئی پہلے بھی گرفتار کیا جا چکا ہے ۔بھارتی خفیہ ایجنسی را کے 6 مبینہ ملزمان پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں ،گرفتار ملزمان سے جے آئی ٹی تحقیقات کر رہی ہے ۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ نے اہم کارروائی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیل کے اہم رکن آصف صدیقی کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم آصف صدیقی 17 گریڈ کا سرکاری ملازم تھا،
ملزم بھارتی خفیہ ادارے کے لئے کام کرتا تھا اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں اہم معلومات بھارت بھجواتا تھا، اس حوالہ سے ملزم نے کئی ای میلز کی ہیں، ملزم نے حساس مقامات کی تصاویر اور تفصیلات بذریعہ ای میل بھارت بھیجی ہیں.
ملزم آصف صدیقی اسلحے کی ترسیل میں بھی ملوث ہے، ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے،
واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ بیس اپریل کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اے ایس آئی گرفتارکر لیا گیا تھا،پولیس کے مطابق ایس آئی یو پولیس اور اداروں نے گلستان جوہر میں کاروائی کی،اے ایس آئی شہزاد پرویز شاہراہ فیصل تھانے میں تعینات تھا۔ ملزم شہزاد پرویز کو محمود صدیقی گروپ کی جانب سے بھاری رقم فراہم کی جارہی تھی ،گرفتار پولیس اہلکار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے
پولیس کے مطابق پولیس اہلکار ٹارگٹ کلرز کی ٹیم کا اہم رکن بتایا جاتا ہے ،ملزم اہلکار ایم کیوایم لندن سے وابستہ ہے،اے ایس آئی شہزاد پرویز گلستان جوہر کا رہائشی ہے،گرفتار اہلکار کے قبضے سے 2 دستی بم برآمد کئے گئے تھے
قبل ازیں یکم اپریل کو بھی شہر قائد کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے گرفتار ملزمان کی جانب سے انکشاف کے بعد کراچی یونیورسٹی کے ایک دفتر پر اداروں نے چھاپہ مارا اور ایک مشین گن، دو پستول اور گولیاں برآمد کر لی
اداروں نے چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر بھی برآمد کر لیا،ملک کے خلاف ذہن سازی کا لٹریچر بھی برآمد کیا گیا،ملزم ماجد نے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر میں اپنا آفس بنا رکھا تھا،گروہ کے سرغنہ شاہد متحدہ کی ہدایت پر آفس بنایا گیا تھا
کاروائی جے آئی ٹی میں انکشافات کے بعد کی گئی،ایف آئی اے نے ملزمان کے زیراستعمال آئی پی کی جانچ پڑتال کر لی ،ملزمان کو بھارت سے تخریب کاری کے لیے ہدایات ملتی تھی ،ای میل ریکارڈ اور ڈیٹا بھی تحویل میں لے لیا گیا ،ملزمان شاہد متحدہ عادل انصاری اور ماجد کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تلاشی لی گئی،
چھاپوں کے دوران ملک کی اہم تنصیبات کی تصاویر نقشے اور چیک بکس برآمد ہوئیں،ایس آئی یو پولیس اور ایف آئی اے نے کارروائیاں تیز کر دیں ،اورتحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا
کرونا از خود نوٹس کیس سماعت کے لئے مقرر، نیا بینچ تشکیل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس از خود نوٹس کیس،سپریم کورٹ نے سماعت کیلئے نیا بنچ تشکیل دے دیا
چیف جسٹس گلزار احمد بنچ کی سربراہی کریں گے،جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ کی عدم دستیابی پر نیا بنچ تشکیل دیا گیا،جسٹس مشیر عالم، جسٹس سردار طارق مسعود بنچ کا حصہ بن گئے،جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس قاضی امین بدستور بنچ کا حصہ ہو ں گے،
کورونا وائرس از خود نوٹس 18 مئی کوسماعت کیلئے مقررکر دیا گیا،اٹارنی جنرل، سیکرٹری صحت، چیف سیکرٹریز کو نوٹس جاری کر دییے گئے،
گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبوں کو متفقہ پالیسی بنانے کا حکم دیا تھا، عدالت نے این ڈی ایم اے سے بھی جواب طلب کیا تھا، عدالت نے حکومتی اقدامات پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے ارادے نیک ہوں گے،لیکن کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا،
دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد کی باتیں آج سچ ثابت ہو رہے ہیں، ہمارے ملک کا ایک حصہ ہم سے چلا گیا کچھ حصوں میں آگ لگی ہے،اگر ہم زکوٰۃ، صدقات اور فطرانہ کھا جائیں گے تو پھر کیا ہو گا، ہم کس طرف جا رہے ہیں
پاکستان میں کرونا مریضوں میں اضافہ،24 گھنٹوں میں مزید 31 اموات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ ہوا ہے. پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد 38 ہزار 799 ہو گئی ہے
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1581 کرونا کے نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 38 ہزار 799 ہو گئی ہے، چوبیس گھنٹوں میں 31 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 834 ہو گئی ہے
کرونا کے سب سے زیادہ مریض صوبہ سندھ میں ہے، پنجاب دوسرے نمبر پر ہے، سندھ میں 14 ہزار 916، پنجاب میں 14 ہزار 201، خیبر پختونخوا میں 5 ہزار 678، بلوچستان میں 2 ہزار 457، گلگت بلتستان میں 518، اسلام آباد میں 921 جبکہ آزاد کشمیر میں 108 مریض ہیں.
پاکستان میں اب تک 3 لاکھ 59 ہزار 264 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 14 ہزار 878 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 10 ہزار 880 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 31 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 834 ہوگئی۔ سب سے زیادہ اموات خیبر پختونخواہ میں ہوئی ہیں،سندھ میں 255، پنجاب میں 245، خیبر پختونخوا میں 291، گلگت بلتستان میں 4، بلوچستان میں 31 اور اسلام آباد میں 7 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب تک 462 ہسپتالوں میں قائم قرنطینہ مراکز مریضوں کا علاج جاری ہے، ان ہسپتالوں میں 7295 بیڈز کا بندوبست کیا گیا ہے.