Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسرائیل کا ایران پر تازہ حملہ، تہران سمیت 7 صوبوں میں فضائی دفاعی نظام فعال

    اسرائیل کا ایران پر تازہ حملہ، تہران سمیت 7 صوبوں میں فضائی دفاعی نظام فعال

    مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیل نے ایران پر تازہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں، جس کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران سمیت 7 مختلف صوبوں میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی ایران کے شہر خرم آباد میں زیر زمین میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں زمین سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل موجود تھے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے میڈیا کو بتایا کہ "یہ ایک اہم تنصیب تھی، جسے ایرانی حکومت خود بھی ماضی میں ویڈیو میں ظاہر کر چکی ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حملے میں کروز میزائلوں، لانچ شافٹوں اور ذخیرہ کرنے والی سرنگوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جب کہ اس نوعیت کے درجنوں دیگر مقامات کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

    قبل ازیں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ جمعہ کی صبح شروع ہونے والے فضائی حملوں میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری سمیت 20 سے زائد اعلیٰ کمانڈرز کو شہید کر دیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں کے بعد تہران کے علاوہ ہرمزگان، کرمانشاہ، لرستان، قم، مشرقی آذربائیجان، خوزستان، تبریز اور اصفہان میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے تاکہ دشمن کے اہداف کا فوری جواب دیا جا سکے۔

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مختلف شہروں میں اسرائیلی حملوں کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جب کہ دارالحکومت تہران اور بندرعباس میں حملوں کے نتیجے میں ہنگامی صورت حال نافذ ہے۔اسرائیل کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ایران پر حملوں کی نئی اور شدید لہر شروع کر دی گئی ہے، جس کے دوران ہرمزگان، کرمانشاہ، مغربی آذربائیجان، لرستان اور خوزستان میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایرانی فضائیہ نے جنوبی ایران کے شہر دیزفل میں اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی نے ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی ڈرون ہے جو ایران میں گرایا گیا۔ پریس ٹی وی کے مطابق ڈرون دیزفل کے مقام پر گرایا گیا، جو کہ ایران کے جنوبی حصے میں واقع ہے۔اس سے قبل ایرانی حکام نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک گھنٹے کے دوران اسرائیل کے 10 طیارے مار گرائے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوجی ترجمان کا تہران پر بڑے حملے کا دعویٰ، 40 اہداف نشانہ بنائے گئے

    اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ تہران پر دو گھنٹے تک ستر سے زائد طیارے پرواز کرتے رہے اور چالیس اہم اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔یہ کارروائی ایران کے اندر اب تک کی سب سے بڑی فضائی کارروائی قرار دی گئی ہے، جس میں متعدد فوجی اور اسٹریٹجک تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس حملے کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

    اسرائیل نے یمن میں بھی کارروائی کا آغاز کر دیا، حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل نے ایران کے ساتھ ساتھ یمن میں بھی عسکری کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے یمن میں حوثی رہنماؤں پر حملے کیے ہیں۔رپورٹس کے مطابق تازہ اسرائیلی حملوں میں حوثی ملیشیا کے ملٹری چیف محمد الغماری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں سے متعلق تاحال کسی قسم کی سرکاری تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یمنی ذرائع اور حوثی گروپ کی جانب سے بھی اس حوالے سے خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

    ایران کا اسرائیل پر ایک اور حملہ، حیفا کی آئل ریفائنری اور بندرگاہ پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش

    ایران پر اسرائیلی حملوں کو امریکی صدر کی حمایت حاصل ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ

    ایرانی حملوں کے خوف سے دیوارِ گریہ سنسان، اسرائیلی قیادت زیرِ زمین پناہ گاہوں میں منتقل

    ایف-35 طیارہ گرانے اورخاتون پائلٹ گرفتار ی کی اسرائیل نے تردید کر دی

  • ایران کا اسرائیل پر ایک اور حملہ، حیفا کی آئل ریفائنری اور بندرگاہ پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش

    ایران کا اسرائیل پر ایک اور حملہ، حیفا کی آئل ریفائنری اور بندرگاہ پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش

    مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر سنگین، ایران نے اسرائیل پر بھرپور میزائل حملہ کر دیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق،ایران نے اسرائیل پر 100 بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائلوں سے نیا حملہ کیا ہے۔ جن میں حیفہ کے معاشی مراکز بھی نشانہ ہیں۔ درجنوں بیلسٹک اور ہائبرڈ ڈرون میزائل اسرائیل کی جانب داغے گئے جن میں سے کئی تل ابیب اور دیگر شہروں میں آ کر گرے۔

    رپورٹس کے مطابق حیفہ شہر میں کلسٹر میزائلوں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں وہاں واقع آئل ریفائنری میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ تل ابیب میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ کئی عمارتوں میں آگ لگنے کے بعد دھوئیں کے گہرے بادل بلند ہوتے دکھائی دیے۔

    اسرائیلی فوج نے فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

    اسرائیل کا ایران پر تازہ حملہ، تہران سمیت 7 صوبوں میں فضائی دفاعی نظام فعال

    ایران کا اسرائیل پر ایک اور حملہ، حیفا کی آئل ریفائنری اور بندرگاہ پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش

    ایف-35 طیارہ گرانے اورخاتون پائلٹ گرفتار ی کی اسرائیل نے تردید کر دی

  • ایرانی میزائل حملوں میں چار اسرائیلی ہلاک،اسرائیلی فوجیوں سمیت 90 زخمی

    ایرانی میزائل حملوں میں چار اسرائیلی ہلاک،اسرائیلی فوجیوں سمیت 90 زخمی

    ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران نے اپنے دعوے کے مطابق "وعدہ صادق سوم” آپریشن کے تحت اسرائیل پر بھرپور میزائل حملے کیے ہیں۔ ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک 4 اسرائیلی ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    گزشتہ روز اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں پر شدید فضائی حملے کیے گئے تھے، جس کے جواب میں ایران نے بھی سخت کارروائی کی۔ ایرانی فوج نے 200 سے زائد بیلسٹک میزائل اسرائیل کے مختلف اہداف پر داغے، جن میں تل ابیب، حیفہ اور دیگر اہم شہروں کے فوجی اڈے، جوہری تحقیقی مراکز اور دفاعی صنعتی ادارے شامل تھے۔تل ابیب کے جنوب میں ایرانی میزائل حملے میں تین اسرائیلی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جس کی اسرائیلی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے تل ابیب کے سات مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ساحلی شہر حیفہ اور دیگر شہروں میں ایئر الرٹس بجنے شروع ہو گئے۔

    ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر جنرل وحیدی نے اعلان کیا کہ "وعدہ صادق سوم” آپریشن جاری رہے گا جب تک کہ اسرائیل پر حملے نہ روک دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل حملوں کا ہدف صہیونی حکومت کے اہم فضائی اڈے اور دفاعی صنعتی مراکز ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک جدید اسرائیلی ایف-35 جنگی طیارہ بھی مار گرایا ہے۔ مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فضائی دفاعی یونٹ نے مغربی فضائی حدود میں اسرائیلی ایف-35 طیارے کو نشانہ بنایا، جس کا پائلٹ گرنے سے قبل کامیابی سے باہر نکلا مگر ایرانی کمانڈوز نے اسے گرفتار کرلیا۔

    اس سے قبل، اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے مختلف شہروں پر حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں 9 ایرانی سائنسدانوں اور عسکری قیادت سمیت 80 سے زائد افراد شہید ہو گئے تھے۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں وعدہ صادق سوم کے تحت بھرپور کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

  • پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ

    پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے آج شام اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، اسرائیل کی بلا اشتعال اور بلاجواز جارحیت پر، حکومت ایران اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔

    انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی، جو اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں، اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے.

    حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر صدر پیزشکیان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے اسرائیل کی اشتعال انگیزی اور مہم جوئی کو علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

    انہوں نے اسرائیل کی جانب سے بہادر فلسطینیوں کے خلاف ظالمانہ نسل کشی کی بلا روک ٹوک کارروائیوں کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے جارحانہ رویے اور اس کے غیر قانونی اقدامات کے خاتمے کے لیے فوری اور قابل اعتبار اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس تناظر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    صدر پیزشکیان نے اس مشکل وقت بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے ساتھ پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو اسرائیل کے ساتھ بحران پر ایران کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل جل کر کام کریں۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  • اقوام متحدہ میں ایران کا اسرائیل پر ریاستی دہشتگردی کا الزام، پاکستان کا شکریہ

    اقوام متحدہ میں ایران کا اسرائیل پر ریاستی دہشتگردی کا الزام، پاکستان کا شکریہ

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے پیش نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کھلی ریاستی دہشتگردی ہے، اور ہم پاکستان سمیت دیگر ممالک کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

    ایرانی مندوب نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں، ان حملوں میں امریکہ کی مدد بھی شامل تھی، اسرائیل نے ایران میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے عالمی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں چلنے والی نطنز تنصیبات پر بھی حملے کیے، جن سے تابکاری پھیلنے کے خدشات لاحق ہیں۔ ان حملوں میں 78 ایرانی شہری شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جب کہ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی مندوب نے سلامتی کونسل میں پاکستان، چین، الجزائر اور روسی فیڈریشن کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے اسرائیلی جارحیت پر غور کے لیے اجلاس کے انعقاد میں کردار ادا کیا۔اس موقع پر پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنا دفاع کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور ایٹمی معاملے کا پرامن حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

    اسرائیل کا ایران پر حملہ دفاعی اقدام ہے،سلامتی کونسل میں امریکا کا بیان

    امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ اپنے دفاع کے لیے ناگزیر تھا۔امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے امریکی شہریوں، تنصیبات یا دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔بیان میں کہا گیا کہ امریکا اس امر کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    امریکی نمائندے نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت کے لیے یہ وقت مذاکرات کا ہے اور یہ دانشمندی ہوگی کہ وہ بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔امریکا نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیلی حملوں کی پیشگی اطلاع امریکا کو دی گئی تھی، تاہم امریکا ان حملوں میں شریک نہیں تھا۔

    ادھر امریکی مستقل مندوب ڈوروتھی شیا نے کہا کہ ایران پر حملہ اسرائیل کا یکطرفہ فیصلہ تھا تاہم امریکا کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی تنصیبات پر حملہ کیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔روسی مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل پورے خطے کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں سنگین کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔

    واضح رہے کہ آج علی الصبح (13 جون) اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جن میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری، پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، 4 اعلیٰ فوجی افسران اور 6 جوہری سائنسدان شہید ہوئے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 78 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں ’وعدہ صادق 3‘ کے تحت اسرائیل کے مختلف علاقوں پر میزائل داغے، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں دھماکوں اور دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    نیتن یاہو اور ٹرمپ کا رابطہ، بنکر میں ہنگامی اجلاس

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس کے بعد نیتن یاہو نے بنکر میں اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر دفاع اور عسکری قیادت نے موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا۔

    نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام کے پاس اب اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا بہترین موقع ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران نے شہری علاقوں پر میزائل داغ کر سرخ لکیر عبور کی ہے، اور اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

    اسلام آباد، پنجاب، کے پی اور مری میں بارش ، موسم خوشگوار

    اوور سیز پاکستانیوں کے موبائل رجسٹریشن مسئلہ حل ہو گیا

    اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، اسرائیلی حملے کو کھلی جارحیت قرار دیا

    ایران کا دو اسرائیلی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ، ایک پائلٹ کی تلاش جاری

  • ایران کی جوابی کاروائی،اسرائیل پر 100 میزائل داغ دیئے

    ایران کی جوابی کاروائی،اسرائیل پر 100 میزائل داغ دیئے

    تل ابیب: اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر براہ راست میزائل حملے کیے ہیں، جنہیں روکنے کے لیے اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام فوری طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق ایران کی جانب سے متعدد بیلسٹک اور کروز میزائل داغے گئے ہیں، جن کا ہدف اسرائیل کے اہم دفاعی اور شہری مراکز تھے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم نے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔اسرائیلی فوج نے شہریوں کو تا حکمِ ثانی گھروں میں رہنے، بنکروں یا قریبی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ حالات کشیدہ ہیں اور صورتحال کے پیشِ نظر عوام کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنا چاہیے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے 100 سے زائد میزائل فائر کیے گئے، جن میں بیلسٹک اور کروز میزائل شامل ہیں۔ ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجنا شروع ہو گئے ہیں، خاص طور پر تل ابیب، حیفہ، بیرشیبہ، اشدود، اور یروشلم جیسے بڑے شہروں میں شہریوں نے ایمرجنسی شیلٹرز کی طرف رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

    ایرانی میزائل حملوں کے بعد تل ابیب میں دھماکیوں کی آوازیں
    ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس کی جانب سے اسرائیل پر جوابی کارروائی جمعہ کی شام مقامی وقت کے مطابق شروع ہو گئی ہے، جس کی تصدیق ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے "ارنا” نے کی ہے۔اس دوران، تل ابیب، اسرائیل میں بڑے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس کی اطلاع امریکی ٹی وی نیٹ ورک سی این این کے زمینی ٹیم نے دی ہے۔اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے گئے ہیں۔ اسرائیل کی دفاعی افواج نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ دفاعی نظام میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہیں اور وہ ان کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اسرائیل پر 100 میزائل حملوں کے بعد مزید مزید ایرانی میزائل فائر،تل ابیب،یروشلم میں دھماکوں کی آوازیں
    اسرائیلی ڈیفنس فورسز ے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائلوں کی ایک اور زوردار لہر فائر کی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق "یہ حملہ تاحال جاری ہے۔ اسرائیل پر درجنوں اضافی میزائل داغے جا چکے ہیں۔”یہ نیا حملہ اُس ابتدائی حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے دوران جمعہ کی شب تل ابیب اور یروشلم کے علاقوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور تل ابیب سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق،”اب سے کچھ دیر پہلے مختلف اقسام کے سیکڑوں بیلسٹک میزائل مقبوضہ علاقوں کی طرف داغ کر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملے کے خلاف فیصلہ کن ردعمل کی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔”یہ ایرانی حملہ اسرائیلی فضائیہ کے اس حملے کے بعد کیا گیا ہے جس میں صبح کے وقت ایران کے جوہری اور عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔تل ابیب میں لی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ راکٹس اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام "آئرن ڈوم” کو عبور کرتے ہوئے شہری علاقوں تک پہنچ گئے، جس کے بعد شہر کی عمارتوں کے درمیان دھواں اور آگ کے مناظر نمایاں تھے۔

    سی این این کے زمینی رپورٹرز نے تصدیق کی ہے کہ "یروشلم اور تل ابیب دونوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔”

    ایران کےمیزائل تل ابیب میں گرے،اسرائیل کی تصدیق
    اسرائیلی پولیس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں میں سے کچھ تل ابیب ڈسٹرکٹ کے ایک رہائشی علاقے میں گرے ہیں، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔پولیس ترجمان کے مطابق، "کچھ دیر قبل اسرائیلی پولیس کو تل ابیب ڈسٹرکٹ کے ایک رہائشی علاقے میں میزائل گرنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ اس وقت تک کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، البتہ املاک کو نقصان ضرور پہنچا ہے۔”ترجمان نے مزید بتایا کہ پولیس اہلکار اور بم ڈسپوزل ماہرین موقع پر پہنچ چکے ہیں اور متاثرہ مقامات کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بم ڈسپوزل یونٹس علاقے میں موجود باقی ماندہ بارودی مواد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔

    دو اسرائیلی جنگی طیارے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد مار گرائے ،ایران
    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ کم از کم دو اسرائیلی جنگی طیارے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد مار گرائے گئے ہیں۔ یہ کارروائی جمعہ کی شام ایران کے فضائی دفاعی نظام نے انجام دی، جب اسرائیلی فضائیہ کے طیارے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشتبہ طور پر حملے کی نیت سے داخل ہوئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے بروقت ردعمل دیتے ہوئے دونوں طیاروں کو نشانہ بنایا اور کامیابی سے تباہ کر دیا۔ایرانی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ واقعے کے بعد متعلقہ علاقے میں سیکیورٹی اور فوجی ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے، جب کہ ملبے کی تلاش اور شواہد اکٹھا کرنے کا عمل جاری ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے،

    اسرائیل کو مارو اور بھاگوطرز کے حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی ، ایرانی سپریم لیڈر
    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مارو اور بھاگوطرز کے حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی ،حملے اسرائیل نے شروع کیے، جنگ کا آغاز بھی اسی نے کیا، صیہونی حکومت نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے اور اس کے نتائج بہت ہی برے ہوں گے، ایرانی قوم قیمتی شہدا کا خون رائیگاں نہیں جانے دے گی،ہماری مسلح افواج تیار ہیں، ملک کے حکام اور عوام کے تمام ارکان مسلح افواج کے پیچھے ہیں، آج ہر کوئی یہ محسوس کرتا ہے کہ ہمیں صہیونی دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنی چاہیے، ہمیں طاقت سے کام کرنا چاہیے، اور ہم طاقت سے جواب دیں گے، ہم ان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے،اسرائیلیوں پر زندگی بلاشبہ تلخ ہو جائے گی، یہ مت سوچیں کہ انہوں نے یہ کیا اور بس، نہیں یہ جنگ انہوں نے شروع کی، اب ان کو بھاگنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہماری مسلح افواج اس دشمن پر سخت ضربیں لگائے گی،ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق ایران کی مسلح افواج اللہ کے حکم سے صیہونی حکومت کو شکست دے گی، قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہوگی۔

    ترجمان اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اب تک ایران میں 200 اہداف کو نشانہ بنایا ہے، اسرائیل بغیر اتحادیوں کی مدد کے ایران کے کسی بھی ممکنہ جواب کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،

    ایران پر اسرائیلی میزائل حملو ں کی تیسری لہر،ایران کے جوابی میزائل حملوں سے اسرائیل میں عمارتیں لرز اٹھیں، سابق اسرائیلی سفیر کا انکشاف
    ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی تیسری لہر شروع کر دی،ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل داغ دیئے،تہران کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں کے بعد پورے ملک میں خوف و ہراس کی فضا چھا گئی ہے۔ سابق اسرائیلی سفیر برائے امریکہ، مائیکل اورن نے تصدیق کی ہے کہ ان کا گھر بھی ان حملوں کے جھٹکوں سے لرز اٹھا، اور وہ اپنی فیملی کے ہمراہ محفوظ کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔سی این این کی اینکر بریانا کیلر سے بات کرتے ہوئے مائیکل اورن نے کہا ،”چند لمحے قبل ہماری عمارت میں معمولی نہیں بلکہ واضح جھٹکے محسوس کیے گئے۔”مائیکل اورن نے مزید کہا کہ ان کے موبائل فون پر پہلے ہی انتباہی پیغامات موصول ہو چکے تھے، جن میں حملے کی متوقع نوعیت، وقت اور محفوظ مقام کی ہدایات دی گئی تھیں۔”ہمیں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ کب اور کہاں جانا ہے۔ اور جیسا کہ بتایا گیا تھا، ویسا ہی ہوا۔”انہوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام "آئرن ڈوم” کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ اگر ایران نے 100 راکٹس فائر کیے اور ان میں سے صرف پانچ سے سات نشانے پر لگے، تو یہ دفاعی نظام کی کامیابی ہے۔”اگر ایران نے ہم پر 100 میزائل فائر کیے اور ان میں سے صرف پانچ سے سات نشانے پر لگے، تو یہ نارمل بات ہے۔”

    ایرانی حملہ، سات اسرائیلی زخمی،اسرائیلی وزارت دفاع کے قریب آگ،فوجی مراکز کو نشانہ بنایا،ایران
    ایران کے اسرائیل پر تازہ بیلسٹک میزائل حملوں کے باعث دارالحکومت تل ابیب میں وزارت دفاع کے قریب آگ لگ گئی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل کے وسطی علاقے میں 7 مقامات پر ایرانی میزائل گرے۔جمعہ کی رات شمال مغربی ایران کے شہر تبریز پر اسرائیلی میزائلوں کو مار گرایا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کے فضائی دفاعی نظام نے اسرائیلی میزائلوں کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، جس سے علاقے میں بڑے پیمانے پر نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔دوسری جانب، پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے اسرائیل میں "درجنوں اہداف” کو نشانہ بنایا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان اہداف میں فوجی مراکز اور فضائی اڈے شامل تھے۔ آپریشن کا نام "True Promise 3” رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔ایرانی حملوں کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے کچھ مقامات پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں تل ابیب اور اس سے متصل شہر رامت گان کا علاقہ بھی شامل ہے۔اسرائیلی ایمرجنسی سروس ماگن ڈیوڈ آدوم کے سربراہ ایلی بن کے مطابق، ایرانی حملے میں سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں کچھ کی حالت معمولی ہے جبکہ دیگر کو درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ایرانی میزائل گرنے والے مقامات سے دور رہیں،اسرائیلی پولیس کی عوام کو وارننگ
    تل ابیب: اسرائیلی پولیس نے ملک بھر میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اُن مقامات کے قریب نہ جائیں جہاں ایرانی بیلسٹک میزائل گرے ہیں۔پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "مضبوط تربیت یافتہ اور خصوصی اسرائیلی پولیس یونٹس، جن میں ٹیکٹیکل ٹیمیں، ہنگامی ردعمل اسکواڈز اور رضاکار شامل ہیں، پورے ملک میں مکمل طور پر تعینات ہیں۔ یہ ٹیمیں کسی بھی مقام پر تیزی سے پہنچ کر علاقے کو محفوظ بنائیں گی، بم ڈسپوزل ماہرین کو ممکنہ خطرات کو ناکارہ بنانے میں مدد فراہم کریں گی، اور ضرورت کے مطابق امدادی کارروائیاں انجام دیں گی۔”بیان میں شہریوں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی میزائل یا اس کے ملبے کو نہ چھوئیں۔اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ "ہم تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ میزائل گرنے والے مقامات پر ہرگز جمع نہ ہوں تاکہ کسی بھی قسم کے نقصان یا جانی خطرے سے بچا جا سکے۔”

    ایران نے ریڈ لائن عبور کر لی،بھاری قیمت چکانی پڑے گی،اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی
    یروشلم: اسرائیلی وزیردفاع یواف گیلنٹ نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں پر کہا ہے کہ ایران نے شہری آبادی کو نشانہ بنا کر انتہائی خطرناک قدم اٹھایا ہے، اور اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے ریڈ لائن عبور کر لی،اسرائیلی وزیردفاع نے اپنے بیان میں کہا "ایران نے نہ صرف اسرائیل کی خودمختاری پر حملہ کیا ہے بلکہ شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ ہم اس جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیں گے۔”

    امریکی فوج ایران کے میزائل و ڈرون حملوں کو روکنے میں اسرائیل کی مدد کر رہی ،سی این این
    ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا ہے کہ امریکی فوج ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی روکنے میں اسرائیلی دفاعی نظام کی مدد کر رہی ہے۔اہلکار کے مطابق امریکہ نے اس سے قبل بھی ایرانی حملوں کے دوران اسرائیل کی مدد کی تھی، جس میں امریکی بحریہ اور فضائیہ کے وسائل استعمال کیے گئے تاکہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ کیا جا سکے۔

    ہماری لڑائی ایرانی عوام سے نہیں، بلکہ ایرانی حکومت سے ہے،اسرائیلی وزیراعظم
    ادھر جمعہ کی شب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے براہِ راست ویڈیو خطاب میں اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور اپنی آواز بلند کریں۔نیتن یاہو نے کہا، "ہماری لڑائی ایرانی عوام سے نہیں، بلکہ ایرانی حکومت سے ہے۔ آپ حق پر ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔”انہوں نے مزید کہا، "ابھی اور بہت کچھ آنے والا ہے۔ ایرانی حکومت کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ اس پر کیا وار ہوا ہے اور کیا ہونے والا ہے۔ یہ پہلے کبھی اتنی کمزور نہیں ہوئی تھی۔”نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز اسرائیل نے ایران کی سب سے اہم یورینیم افزودگی کی سہولت، بیلسٹک میزائلوں کے بڑے ذخیرے، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور سینئر ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا ہے۔

  • اسرائیلی حملے میں جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، تصدیق ہو گئی

    اسرائیلی حملے میں جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، تصدیق ہو گئی

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ایران کی نطنز میں واقع جوہری تنصیب کو اپنے حالیہ فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے، تاہم حملے کے نتیجے میں تابکاری کی سطح میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوا اور ایٹمی تنصیبات کو کوئی بنیادی نقصان نہیں پہنچا۔

    آئی اے ای اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارہ ایران کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور نطنز پر ہونے والے حملے کے حوالے سے ایرانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ادارے کے مطابق ایرانی حکام نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حملے میں بوشہر میں قائم جوہری پاور پلانٹ، فردو اور اصفہان کی جوہری سائٹس محفوظ رہیں اور ان مقامات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نطنز جوہری تنصیب پر حملے کے باوجود کسی قسم کی ایٹمی آلودگی پیدا نہیں ہوئی اور صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے آج ایران کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کرتے ہوئے فضائی حملے کیے، جن میں ایرانی جوہری و فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، ایرانی مسلح افواج کے چیف جنرل محمد حسین باقری، اور کم از کم چھ جوہری سائنسدان شہید ہو گئے۔یہ حملے اسرائیل کی جانب سے ایک "پری ایمپٹیو اسٹرائیک” قرار دیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد ایران کی مبینہ جوہری صلاحیت کو محدود کرنا اور اس کے فوجی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا ہے۔

    اس واقعے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ عالمی برادری خاص طور پر اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین نے اس اقدام کو ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے جو پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔آئی اے ای اے نے اپنے بیان کے آخر میں کہا ہے کہ وہ ایران میں موجود اپنے ماہرین کے ذریعے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ تابکاری خطرے سے متعلق بروقت معلومات فراہم کی جائیں گی۔

  • اسرائیلی حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں،پاکستان

    اسرائیلی حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں،پاکستان

    پاکستان نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیلی حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں، ایران کو اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، پاکستان ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، اسرائیلی اشتعال انگیز کارروائیاں علاقائی و عالمی امن و سلامتی کےلیے سنگین خطرہ ہیں، عالمی برادری اور اقوام متحدہ فوری طور پر یہ جارحیت رکوائیں، عالمی قوانین کی حفاظت اور حملہ آور کو جوابدہ بنانے کی ذمہ داری اقوام متحدہ پر عائد ہوتی ہے۔

    شہباز شریف کا اسرائیل کی ایران پر حملے کی شدید مذمت

    اسرائیل کے ایران پر بلا اشتعال حملے کی مذمت کرتا ہوں، وزیراعظم شہباز شریف
    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر غیرمعمولی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ بلاوجہ اور غیرذمہ دارانہ عمل ہے جو خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔شہباز شریف نے ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں جانوں کے نقصان پر انہیں گہرا دکھ ہوا ہے۔انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات کریں جو خطے اور عالمی سطح پر امن کو لاحق خطرات کو روک سکیں اور کسی مزید کشیدگی کو روکیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے ایران پر باقاعدہ جنگی حملوں کا آغاز کرتے ہوئے درجنوں جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، معروف جوہری سائنسدان فرید عباسی اور محمد مہدی سمیت اعلیٰ فوجی قیادت شہید ہوگئی ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری شہید ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی حملے میں ختم الانبیا ہیڈکوارٹر کے کمانڈر جنرل غلام علی راشد بھی شہید ہو گئے، جبکہایرانی سپریم لیڈرکے مشیرعلی شمخانی اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ہیں،

  • اسرائیل کا ایران پر حملہ،جوہری،فوجی اہداف نشانہ،آرمی چیف،پاسداران انقلاب سربراہ شہید

    اسرائیل کا ایران پر حملہ،جوہری،فوجی اہداف نشانہ،آرمی چیف،پاسداران انقلاب سربراہ شہید

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے جب اسرائیل نے ایران پر باقاعدہ جنگی حملوں کا آغاز کرتے ہوئے درجنوں جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، معروف جوہری سائنسدان فرید عباسی اور محمد مہدی سمیت اعلیٰ فوجی قیادت شہید ہوگئی ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری شہید ہوگئے ہیں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ نے جمعہ کی صبح ایران بھر میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں دارالحکومت تہران کے شمالی، مغربی اور وسطی علاقوں میں شدید دھماکے سنے گئے۔ مختلف مقامات سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جبکہ ایرانی میڈیا نے حملوں کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔اسرائیل نے ایران پر میزائل حملے کئے، بعد ازاں جنگی طیاروں سے بھی حملے کئے،

    اسرائیلی وزیر دفاع نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ "یہ ایران کے خلاف پیشگی دفاعی حملہ ہے، جس کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔” اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق، حملے میں ایران کے جوہری افزودگی مراکز، بیلسٹک میزائل تنصیبات، اور فوجی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ” کے مطابق، حملے میں ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت کی رہائش گاہیں، چھ بڑے فوجی اڈے، اور پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹرز شامل تھے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملے میں ختم الانبیا ہیڈکوارٹر کے کمانڈر جنرل غلام علی راشد بھی شہید ہو گئے، جبکہایرانی سپریم لیڈرکے مشیرعلی شمخانی اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ہیں، اسرائئلی حملوں میں 100 سے زائد بچے اور خواتین سمیت زخمی ہیں،ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران کے شہری علاقوں پر بھی حملے کیے گئے، جن میں متعدد عام شہری، بشمول خواتین اور بچے، جاں بحق ہوئے۔ امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا ہے جبکہ ایران کی فضائی حدود تاحکمِ ثانی بند کر دی گئی ہیں۔

    ایرانی حکومت نے ملک بھر کے فضائی دفاعی نظام کو الرٹ کر دیا ہے۔ اصفہان، قم، مشہد، اور تبریز سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں۔ ایرانی فوج کی جانب سے جوابی کارروائی کے امکانات کے پیشِ نظر اسرائیل میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قوم سے خطاب میں کہا کہ "ہم ایرانی عوام سے نہیں، ایرانی آمریت سے لڑ رہے ہیں۔ ہمارا ہدف ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا ہے۔”ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوہری بم بنانے کا خاطر خواہ مواد موجود ہے، اور اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تہران ایٹمی طاقت نہ بن سکے۔ "یہ حملے ہمارے قومی دفاع اور عالمی امن کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھے۔”

    ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وضاحت کی ہے کہ امریکہ ان حملوں میں براہِ راست شامل نہیں، اور ان کا مقصد صرف اپنی فوج کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ "اسرائیل نے ہمیں مطلع کیا کہ یہ حملہ ان کی سلامتی کے لیے ضروری تھا۔”

    یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان بلواسطہ جوہری مذاکرات دو روز بعد ہونے تھے۔ ماہرین کے مطابق، ان حملوں کے نتیجے میں خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور ایران کی جانب سے جوابی بیلسٹک حملوں کا قوی امکان ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ "اگر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ نہ ہوا تو اسرائیل کی جانب سے حملے خارج از امکان نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم ایران کو جوہری طاقت بنتے نہیں دیکھ سکتے، اور مذاکرات کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایران اس پروگرام کو مکمل طور پر ترک کرے۔ ایران نیوکلیئر بم نہیں بنا سکتا، امید ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا، اسرائیل کے منصوبوں کا پہلے سے علم تھا، امریکی فوج نے اس آپریشن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، امید ہے ایران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کےلیے امریکا سے مذاکرات جاری رکھے گا۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چند گھنٹوں میں ایران کی طرف سے 100 سے زائد ڈرونز اسرائیل کی جانب آئے۔

    اسرائیل اور ایران زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں،اقوام متحدہ
    سربراہ اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور ایران سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرق وسطیٰ میں تازہ کشیدگی کے پیش نظر اسرائیل اور ایران دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ گوتریس نے مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی کی شدید مذمت کی ہے،انتونیو گوتریس نے خاص طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں پر تشویش ہے جو کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری ایٹمی مذاکرات کے دوران کیے گئے،بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹری جنرل دونوں فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہر قیمت پر شدید تصادم سے گریز کریں، خطہ مزید تنازع کا متحمل نہیں ہو سکتا،انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر بھی زور دیا ہے۔

    ایران پر اسرائیلی حملہ،سعودی عرب کی مذمت
    سعودی عرب نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی حملہ خودمختاری، حفاظت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے،

    ایران پر حملوں میں 200 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا،اسرائیلی فوج
    اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران پر حملوں میں 200 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا،اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگلے چند گھنٹے ہمارے لیے مشکل ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے 5 مرحلوں میں ایران کے 8 مقامات پر حملے کیے اور ان حملوں میں دارالحکومت تہران اور اطراف کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے تہران کے جنوب میں اصفہان،جنوب مغرب میں اراک شہر پر حملے کیے جبکہ اسرائیلی فوج نے کرمان شاہ شہر کو بھی نشانہ بنایا،عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے نطنز میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ تبریز اور احواز میں بھی حملے کیے گئے۔

    ایران کے ساتھ جنگ دو ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔اسرائیلی سیکیورٹی حکام
    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ڈیڑھ سال میں ایرانی پراکسیز کا صفایا کر دیا، اب خود سانپ کے سر کی باری ہے،ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد انہوں نے کہا کہ پراکسیز کو ختم کرنے کے بعد اب ایران کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے،اسرائیلی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ دو ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔

    یمنی حوثیوں کا اسرائیل پر بڑے حملے کا اعلان
    یمنی حوثیوں نے اسرائیل پر بڑے حملے کا اعلان کردیا،یحییٰ ساری کا کہنا ہے کہ ایران خود کو اکیلا نہ سمجھے ،آپ ہمارے اور ہم آپ کے بھائی ہیں، ہم بغیر کسی شک کے اپنے بھائی ایران کے ساتھ کھڑے ہیں،

    پاکستان ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔اسحاق ڈار
    پاکستان کے نائب وزیراعظم ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر اسرائیل کے بلاجواز حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جو کہ ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ گھناونا اقدام بین الاقوامی قانون کی بنیادوں اور انسانیت کے ضمیر کو ہلا دینے والا ہے۔ اس کارروائی سے نہ صرف علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچا ہے بلکہ عالمی سلامتی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اس ظالمانہ کارروائی کی سخت مذمت کرتا ہے۔

    ایران کے قائم مقام چیف آف اسٹاف اور کمانڈر انچیف کا انتخاب
    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے قائم مقام چیف آف اسٹاف اور کمانڈر انچیف کا انتخاب کرلیا .ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے حکم پر جنرل احمد واحدی کو پاسداران انقلاب گارڈز کا قائم مقام کمانڈر انچیف مقرر کر دیا گیا جبکہ جنرل حبیب اللّٰہ سیاری کو عارضی طور پر ایرانی فوج کا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے۔

    اسرائیلی حملوں میں ایران کے چھ جوہری سائنسدان شہید
    ایران کے چھ جوہری سائنسدان اسرائیل کے حملوں میں جاں بحق ہو گئے، ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق مرنے والوں میں فریدون عباسی شامل ہیں جو ایران کے اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سابق سربراہ تھے، اور محمد مہدی تہرانچی، جو ایک فزکسٹ کے ساتھ ساتھ اسلامی آزاد یونیورسٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں، جمعہ کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی ان حملوں میں متعدد فوجی کمانڈرز اور سائنسدانوں کے مارے جانے کی تصدیق کی۔

    امارات ایئرلائنز نے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے لیے پروازیں منسوخ کر دیں
    متحدہ عرب امارات کی مشہور ایئر لائن، امارات نے عراق، اردن، لبنان اور ایران کے لیے آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر صبح سویرے حملے کے جواب میں ڈرون حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔امارات نے کہا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کو ان ممالک کے لیے تمام پروازیں منسوخ رہیں گی۔ متاثرہ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی پروازوں کی تبدیلی کے لیے اپنے ٹریول ایجنٹس یا قریبی امارات دفاتر سے رابطہ کریں۔

    ایران میں پاکستانی زائرین اور شہریوں کے لئے ہیلپ لائن قائم کردی گئی ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ تہران میں کرائسز مینجمنٹ یونٹ 24گھنٹے کھلا رہے گا،تہران میں پاکستانی سفارتخانے کوہدایات جاری کردی گئی ہیں ، پاکستانی شہری اور زائرین مدد کے لئے (0098)-2166941388 ہیلپ لائن پر رابطہ کریں ،

    وطن کے دفاع میں نہ پہلے کبھی ہچکچاہٹ کی اور نہ آئندہ کریں گے، ایرانی صدر
    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ چھیڑنا شیر سے کھیلنے کے مترادف ہے، جوہری معاملے پر سفارتی عمل کے باوجود حملہ ایرانی طاقت سے خوف کی علامت ہے،ایران نے گزشتہ200سال میں کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا، وطن کے دفاع میں نہ پہلے کبھی ہچکچاہٹ کی اور نہ آئندہ کریں گے، ایران پر حملہ اور کمانڈرز کا قتل ثبوت ہے کہ اسرائیلی حکومت دہشت گرد ہے،

    ایران کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ
    ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا، ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی مشن نےاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران میں فوجی، جوہری اور شہری اہداف کو نشانہ بنایا، جو کھلی جارحیت ہے،

  • امریکی صدر ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکس

    امریکی صدر ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکس

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کر دی۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان بھارت جنگ رُکوانے کی بات دُہراتے ہوئے پاکستان بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش بھی کی ہے۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے جوہری جنگ تجارت سے رُکوائی ، کوئی یہ نہیں کر سکتا، میں نے بھارت پاکستان سے کہا کہ کشمیر پر دشمنی بہت عرصے ہوگئی ، وہ سب کچھ حل کرا سکتے ہیں ، وہ ثالث بنیں گے، انہوں نے بھارت پاکستان کے درمیان جنگ رکوائی، دونوں ممالک کے حکمران عظیم ہیں، میں نے ان سے بات کی، میں نے ان سے تجارت پر بات کی، میں نے کہا ہم تجارت نہیں کریں گے پہلے جنگ روکو، انہوں نے بات سمجھی اور جنگ روک دی، اب ہم ان سے تجارتی معاہدوں پر بات کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے امید ظاہر کی تھی کہ صدر ٹرمپ اپنے دور میں مسئلہ کشمیر کو حل کرسکیں گے،ٹیمی بروس نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے ایسے لوگوں کو میز پر لا بٹھایا اور بات چیت ممکن بنائی جن کے بارے میں لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ایسا ممکن ہوگا۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کےدرمیان جنگ بندی کی بات ایک درجن بار دہراچکے ہیں،ہر بار یہ بات سن کر مودی سرکارسیخ پا ہوجاتی ہے اور ساتھ ہی بھارتی حزب اختلاف کانگریس کو مودی جی کا مذاق اڑانےکا پھر موقع ملا گیا ہے۔10 مئی کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔