Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم  کی یو اے ای کے صدر  سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے کے دوران یو اے ای کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان سے اہم ملاقات کی۔

    ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بھائی چارے، اعتماد اور مشترکہ اقدار پر مبنی تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اہم شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے تعمیری کردار پر شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں یو اے ای کے مثبت کردار کو سراہا۔

    ملاقات میں دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت اور مختلف سطحوں پر جاری رابطوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم نے یو اے ای کے صدر کو جلد پاکستان کے دورے کی دعوت کا اعادہ بھی کیا۔

    ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک تھے۔

    بھارت نے پاک سرحد کے جنوبی حصے میں فضائی مشق کیلئے ایک روزہ فضائی حدود مخصوص کر دی

    اڈیالہ جیل میں قیدی سے بدفعلی اور قتل، 4 مجرموں کو دو، دو بار سزائے موت کا حکم

    احمد آباد طیارہ حادثہ: وزیراعظم، نواز شریف، بلاول بھٹو سمیت سیاسی رہنماؤں کا اظہار افسوس

  • ایئر انڈیا کی احمد آباد سے لندن جانے والی پرواز کو حادثہ،242 افراد ہلاک

    ایئر انڈیا کی احمد آباد سے لندن جانے والی پرواز کو حادثہ،242 افراد ہلاک

    احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI171 آج دوپہر روانگی کے چند منٹ بعد حادثے کا شکار ہو گئی۔

    اطلاعات کے مطابق طیارے میں 242 مسافر سوار تھے، جن میں سے متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔حادثے کے فوری بعد ہوائی اڈے پر دھوئیں کے گہرے بادل دیکھے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔یہ حادثہ پرواز کے صرف چند منٹ بعد پیش آیا۔ طیارہ دوپہر 1:17 پر روانہ ہوا تھا۔رپورٹس کے مطابق طیارہ 825 فٹ کی بلندی سے نیچے گر کر تباہ ہوا۔ہوائی اڈے کو جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ امدادی کارروائیاں بغیر رکاوٹ جاری رہ سکیں ،ایئر انڈیا نے ایک بیان میں کہا:”فلائٹ AI171، جو احمد آباد سے لندن جا رہی تھی، آج حادثے کا شکار ہو گئی اس وقت ہم تفصیلات جمع کر رہے ہیں اور جلد مزید معلومات فراہم کریں گے۔”

    ہندوستان کے وزیر برائے شہری ہوابازی رام موہن نائیڈو نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
    "احمد آباد میں طیارہ حادثے کی خبر سن کر شدید صدمے اور دکھ میں ہوں۔ ہم ہائی الرٹ پر ہیں۔ میں خود صورت حال کی نگرانی کر رہا ہوں اور تمام ہوابازی اور ہنگامی اداروں کو فوری اور مربوط کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں متحرک ہو چکی ہیں، اور طبی امداد فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ میری دعائیں تمام متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”

    واقعے کے بعد ایئرپورٹ پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں، اور سکیورٹی اہلکار صورتحال پر مکمل کنٹرول کے لیے تعینات ہیں۔

    ایئر انڈیا کے چیئرمین نے جہاز کے حادثے کی تصدیق کی، دکھ و افسوس کا اظہار
    ایئر انڈیا کے چیئرمین این چندر شیکرن نے احمد آباد ایئرپورٹ کے نزدیک جہاز کے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا، "بہت افسوس کے ساتھ میں تصدیق کرتا ہوں کہ ایئر انڈیا کی فلائٹ 171، جو احمد آباد سے لندن گیٹ وِک جا رہی تھی، آج ایک المناک حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔ ہماری تمام تر ہمدردیاں اور دلی تعزیت ان تمام افراد کے خاندانوں اور پیاروں کے ساتھ ہیں جو اس افسوسناک واقعے سے متاثر ہوئے ہیں۔”چیئرمین نے مزید کہا، "اس وقت ہمارا بنیادی توجہ متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کی مدد پر ہے۔ ہم موقع پر موجود ایمرجنسی ٹیموں کی ہر ممکن معاونت کر رہے ہیں اور متاثرین کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے میں کوشاں ہیں۔ مزید معلومات موصول ہوتے ہی ہم آپ کو اپڈیٹ کریں گے۔ ایک ایمرجنسی سینٹر قائم کر دیا گیا ہے اور معلومات حاصل کرنے والے خاندانوں کے لیے سپورٹ ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔”

    بوئنگ 787 ،رجسٹریشن VT-ANB تباہ ہوا،پائلٹ کا 8200 گھنٹے کا تجربہ،2پائلٹ،10 کیبن کریو،230 ،مسافر سوار تھے
    ایئر انڈیا کی پرواز نمبر AI-171، جو احمد آباد سے لندن جا رہی تھی، کے حادثے کے حوالے سے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔حادثہ احمد آباد ایئرپورٹ کی رن وے 23 سے پرواز کے فوراً بعد پیش آیا۔ بوئنگ 787 طیارہ جس کی رجسٹریشن VT-ANB ہے، اڑان بھرنے کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہوا۔ جہاز پر کل 242 افراد سوار تھے جن میں 2 پائلٹس، 10 کیبن عملہ، اور 230 مسافر شامل تھے۔کپتان سمیٹ سبھروال، جن کے پاس 8,200 گھنٹے کا تجربہ ہے، اور فرسٹ آفیسر کلائیو کنڈار (1,100 گھنٹے کا تجربہ) جہاز کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ پرواز کا آغاز 13:39 بجے ہوا، اور چند لمحوں بعد ہی میڈے کال جاری کی گئی۔ بدقسمتی سے، اس کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرول سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ڈی جی سی اے نے تصدیق کی ہے کہ ابھی تک حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو اور بازیابی کے کام بھی جاری ہیں۔

    تباہ بھارتی طیارے میں 53 برطانوی،7 پرتگالی، ایک کینڈین اور 169 بھارتی شہری تھے سوار
    ایئر انڈیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آج احمد آباد سے لندن جانے والی پرواز AI171 حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔یہ پرواز، جو بوئنگ 787-8 طیارہ تھا، احمد آباد سے دوپہر 1:38 بجے روانہ ہوئی تھی۔ اس میں کل 242 مسافر اور عملہ موجود تھے جن میں سے 169 ہندوستانی، 53 برطانوی، 1 کینیڈیئن اور 7 پرتگالی شہری شامل ہیں۔حادثے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔مزید معلومات کے لیے ایئر انڈیا نے مسافروں اور ان کے اہل خانہ کے لیے خصوصی ہیلپ لائن نمبر 1800 5691 444 جاری کیا ہے۔

    طیارہ حادثہ ،بھارتی ریلوے کا احمد آباد تک خصوصی ٹرینیں چلانے کا اعلان
    انڈین ریلویز نے احمد آباد میں پھنسے ہوئے مسافروں کی سہولت کے لیے خصوصی وندے بھارت ٹرینیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق فی الحال ٹرینوں کی تعداد طے نہیں کی گئی ہے لیکن ضرورت کے مطابق جتنی بھی ٹرینیں درکار ہوں گی، انہیں چلایا جائے گا تاکہ مسافروں کو آسانی فراہم کی جا سکے۔دوسری جانب، احمد آباد ہوائی اڈے پر حالیہ ہوائی حادثے کے بعد ملک بھر میں افسوس کا سماں ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس واقعے پر گہری دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں الفاظ سے باہر دکھ محسوس کر رہا ہوں”۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ حادثے کی جگہ پر فوری طور پر آفت ریسپانس فورسز پہنچا دی گئی ہیں تاکہ متاثرین کی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپندر پٹیل، وزیر داخلہ ہارش سنگھوی اور احمد آباد کے پولیس کمشنر سے رابطہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔امیت شاہ جلد ہی احمد آباد کے لیے روانہ ہو رہے ہیں تاکہ خود موقع پر جا کر حالات کا جائزہ لے سکیں اور متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کر سکیں۔انڈین ریلویز کی جانب سے خصوصی وندے بھارت ٹرینوں کا یہ اقدام مسافروں کی سہولت اور جلد بازیابی کے لیے اٹھایا گیا ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

    گجرات کے احمد آباد میں آج گر کر تباہ ہونے والے ایئر انڈیا کے طیارے میں مبینہ طور پر گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی سوار تھے۔ طیارہ ڈاکٹروں کے ہوسٹل کی عمارت پر گرا ہے،110 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے

    ایئر انڈیا طیارہ حادثے پر بھارتی اداکاروں کا اظہار افسوس
    ایئرانڈیا طیارہ حادثے کے بعد بولی وڈ کے مشہور فنکاروں نے اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس المناک واقعے پر صدمے اور تعزیت کا اظہار کیا۔اداکار اکشے کمار نے لکھا، "ایئر انڈیا کے کریش کی خبر سن کر صدمہ ہوا، بس دعا گو ہوں۔”سنی دیول نے کہا، "احمد آباد میں طیارہ حادثے کی خبر سن کر دل دہل گیا۔ دعا ہے کہ بچ جانے والے مل جائیں اور ان کا علاج ہو۔ سونُو سود نے اپنی دعا کا پیغام دیا، "احمد آباد میں لندن جانے والے ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے کے لیے دعائیں۔”رندھپ ہُوڑا نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "احمد آباد میں ہونے والے اس المناک حادثے کی خبر سن کر دل ٹوٹ گیا۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے دعائیں۔”ریتیش دیس موکھ نے لکھا، "احمد آباد میں اس دلخراش حادثے کی خبر سن کر افسردہ ہوں۔ میری دعائیں تمام متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔”پرینیتی چوپڑا نے کہا، "ایئر انڈیا کے اس حادثے میں متاثرہ خاندانوں کے دکھ کا اندازہ نہیں لگا سکتی۔ دعا ہے اللہ انہیں صبر دے۔”جانوی کپور نے بھی اپنی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "احمد آباد میں ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے کی خبر سن کر جھٹکا لگا۔ تمام مسافروں، عملے اور اہل خانہ کے لیے دعاگو ہوں۔”

    ابتدائی طور پر ایسا لگتا ہے کہ طیارے کے دونوں انجنوں کو پرندوں کے ٹکراؤ سے نقصان پہنچا، ماہرین
    ماہرین نے این ڈی ٹی وی کو بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر پرندے کے ٹکرانے سے طیارہ ٹیک آف کے لیے درکار رفتار حاصل نہ کر سکا، جو حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔سابق سینئر پائلٹ کیپٹن سوربھ بھاٹناگر نے کہا، "ابتدائی طور پر ایسا لگتا ہے کہ طیارے کے دونوں انجنوں کو پرندوں کے ٹکراؤ سے نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے وہ طاقت پیدا نہیں کر سکے۔ ٹیک آف بالکل درست تھا، لیکن جیسے ہی گیئرز کو اوپر کرنا تھا، طیارہ نیچے آنے لگا، جو صرف اس وقت ہوتا ہے جب انجن فیل ہو جائیں یا طیارہ لفٹ پیدا نہ کر سکے۔ ظاہر ہے، تحقیقات سے اصل وجہ سامنے آئے گی۔”انہوں نے مزید کہا، "ویڈیو فوٹیج سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیک آف معمول کے مطابق ہوا، اور طیارہ ایک کنٹرول انداز میں نیچے آیا۔ پائلٹ نے ‘مے ڈے’ کال دی تھی، جو ایک ہنگامی صورت حال کی علامت ہے۔”

    طیارہ گرنے سے ہاسٹل میں موجود 5 طلبا کی موت کی تصدیق،متعدد زخمی
    ایئر انڈیا کا طیارہ جہاں گرا وہاں میڈیکل ہاسٹل تھا، طیارہ گرنے سے پانچ طلبہ کی موت ہوئی ہے جبکہ متعدد زخمی ہیں، اس حادثے میں پانچ طلبہ جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے چار انڈر گریجویٹ اور ایک پوسٹ گریجویٹ طالب علم تھا، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    بی جے میڈیکل کالج کے ایک طالب علم کی ماں، رمیلہ، نے بتایا کہ ان کا بیٹا حادثے کے وقت ہاسٹل میں تھا اور وہ دوپہر کے وقفے میں تھا۔ طیارہ حادثہ پیش آیا تو اس نے اپنی جان بچانے کے لیے عمارت کی دوسری منزل سے کودنا پڑا۔رمیلہ نے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "میرا بیٹا دوپہر کے وقفے میں ہاسٹل گیا تھا اور اسی وقت طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔ میرا بیٹا محفوظ ہے اور میں نے اس سے بات کی ہے۔ وہ دوسری منزل سے کود گیا تھا، اس لیے اسے کچھ زخم آئے ہیں۔”رمیلہ خود احمد آباد کے سول ہسپتال پہنچ چکی ہیں جہاں وہ اپنے بیٹے کی حالت دیکھ رہی ہیں۔

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البنیز نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "احمد آباد میں مسافر طیارے کے حادثے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ اس سانحے میں متاثرہ افراد کے ساتھ ہمارے دل ہیں۔ ہماری حکومت باقاعدگی سے صورتحال کی رپورٹ حاصل کر رہی ہے اور ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔”

    ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بھی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حادثے میں بہت سے افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ "ہم اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

    طیارہ حادثہ،تحقیقات کا آغاز، قیاس آرائیاں بھی جاری
    ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے جمعرات کو کہا کہ اس نے احمد آباد طیارہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہے، تحقیقات کے حصے کے طور پر فلائٹ ڈیٹا، وائس ریکارڈنگ اور گواہوں کے بیانات اکٹھا کر رہے ہیں۔ یہ حالیہ برسوں میں ہندوستان میں سب سے سنگین طیارہ حادثات میں سے ایک ہے، احمد آباد ہوائی جہاز کے حادثے کی وجوہات کے بارے میں کئی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں، جن میں انجن کی خرابی سے لے کر فلائٹ کنٹرول میں خرابی تک کے قیاس لگائے جا رہے ہیں۔ تاہم حکام نے سرکاری نتائج سامنے آنے تک تحمل سے کام لینے پر زور دیا ہے۔ اس حادثے نے ایوی ایشن کمیونٹی میں ہلچل مچا دی ہے اور ہوائی جہاز کی حفاظت اور دیکھ بھال کے پروٹوکول کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔

    بھارتی طیارہ حادثہ،صدر مرکزی مسلم لیگ کا گہرے دکھ و افسوس کا اظہار
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے بھارتی طیارے کے حادثے پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طیارہ حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے،خالد مسعود سندھو نے ایئرانڈیا کی پرواز کے حادثے پر ردعمل میں کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم بھارتی عوام اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں،ہر انسانی جان قیمتی ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب، قوم یا ملک سے تعلق رکھتی ہو ،خالد مسعود سندھو نے حادثے میں زخمی افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی .

  • ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کا بے رحم قاتل ، ہمدردی کے قابل نہیں،سپریم کورٹ

    ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کا بے رحم قاتل ، ہمدردی کے قابل نہیں،سپریم کورٹ

    نور مقدم قتل کیس کا سپریم کورٹ سے 13 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کا بے رحم قاتل ہے، ہمدردی کے قابل نہیں،دونوں لوئر کورٹس کا فیصلہ متفقہ طور پر درست قرار دیا جاتا ہے،ملزم کی جانب سے نور مقدم پر جسمانی تشدد کی ویڈیو ثبوت کے طور پر پیش کی گئی،سی سی ٹی وی فوٹیج، DVR اور ہارڈ ڈسک قابلِ قبول شہادت ہیں، ویڈیو ریکارڈنگ میں کوئی ترمیم ثابت نہیں ہوئی، ملزم کی شناخت صحیح نکلی،ڈی این اے رپورٹ سے زیادتی کی تصدیق ہوئی، آلہ قتل پر مقتولہ کا خون موجود ہے، ملزم نور مقدم کی موجودگی کی کوئی وضاحت نہ دے سکا،

    سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ سائلنٹ وِٹنس تھیوری کے مطابق بغیر چشم دید گواہ گواہ کے ویڈیو ثبوت قابل قبول ہیں مستند فوٹیج خود اپنے حق میں ثبوت بن سکتی ہے ریکارڈ شدہ ویڈیو یا تصاویر بطور شہادت پیش کی جا سکتی ہیں قابل اعتماد نظام سے لی گئی فوٹیج خود بخود شہادت بن سکتی ہے بینک ڈکیتی کیس میں ویڈیو فوٹیج بغیر گواہ کے قبول کی جا چکی ہے،کئی امریکی عدالتوں میں سائلنٹ وِٹنس اصول کو وسیع پیمانے پر تسلیم کر لیا گیا، ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کا بے رحم قاتل ہے، ہمدردی کے قابل نہیں دونوں ماتحت عدلیہ کے فیصلے متفقہ طور پر درست قرار دیئے جاتے ہیں ملزم کی جانب سے نور مقدم پر جسمانی تشدد کی ویڈیو ثبوت کے طور پر پیش کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج ، DVR اور ہارڈ ڈسک قابلِ قبول شہادت ہیں ویڈیو ریکارڈنگ میں کوئی ترمیم ثابت نہیں ہوئی ، ملزم کی شناخت صحیح نکلی ڈی این اے رپورٹ سے زیادتی کی تصدیق ہوئی ، آلہ قتل پر مقتولہ کا خون موجود ہے ملزم نور مقدم کی گھر میں موجودگی کی کوئی وضاحت نہیں دے سکا ڈیجیٹل شواہد اب بنیادی شہادت تصور کیے جاتے ہیں اگر CCTV فوٹیج مقررہ معیار پر پوری اترے تو تصدیق کی ضرورت نہیں،

    سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی قتل میں سزائے موت برقرار رکھی، زیادتی کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ ظاہر جعفر کی نور مقدم کو اغوا کرنے کے الزام کی سزا ختم کی جاتی ہے نور مقدم کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے پر ظاہر جعفر کی سزا برقرار ہے شریک ملزمان محمد افتخار اور محمد جان کی سزا برقرار ہے عدالت شریک ملزمان سے نرمی برتتے ہوئے سزائیں کم کرتی ہے جتنی قید کاٹ لی اس کے بعد اب رہا کر دیا جائے جسٹس علی باقر نجفی فیصلے کے حوالے اپنا اضافی نوٹ دینگے "

  • بنیان مَّرْصُوْص کی کاری ضرب کھانے کے بعد مودی حواس باختہ، جنگی جنون میں اضافہ

    بنیان مَّرْصُوْص کی کاری ضرب کھانے کے بعد مودی حواس باختہ، جنگی جنون میں اضافہ

    معرکہ بنیان مَّرْصُوْص کی کاری ضرب کھانے کے بعد مودی حواس باختہ، جنگی جنون میں اضافہ،مودی اب بھی خطے میں اجارہ داری کے خوابوں میں مگن ہے

    بھارتی فضائیہ کی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے مودی کا بہت بڑی رقم خرچ کرنے کا منصوبہ منظر عام پر آ گیا، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت 10 ہزار کروڑ روپوں سے I-STAR(انٹیلیجنس، سرویلنس، ٹارگٹ ایکوزیشن اینڈ ریکونیسسنس) پروجیکٹ کے 3 جہاز خریدے گا،بزنس ٹوڈے کے مطابق بھارت کے I-STAR پروجیکٹ کا ہدف ہندوستان کی فضائی صلاحیتوں کو بڑھانا اور خطے میں اجارہ داری قائم کرنا ہے، اس بھارتی پروجیکٹ میں 10,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے، یہ طیارے مقامی سینسر اور الیکٹرانک سسٹم سے لیس ہوں گے،یہ طیارے دشمن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر دشمن کی پوزیشنوں کا پتہ لگانے، ٹریک کرنے اور ان کو نشانہ بنانے کے قابل ہوں گے، یہ جدید طیارے درست حملوں کے لیے اہم ریئل ٹائم انٹیلی جنس بھی فراہم کریں گے،

    اس منصوبے کا مقصد بھارت کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا، ڈیٹرنس کو تقویت دینا، اور خطے میں تیزی سے فوجی ردعمل کو قابل بنانا ہے،بھارت ہمیشہ سے پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے حصول میں مشغول رہا، مگرمیدان جنگ میں منہ کی کھانی پڑی، بھارتی جنگی تیاریوں کے جواب میں پاکستان بھی دشمن کو سرپرائز دینے کیلئے تیار ہے،

  • پاکستان کا بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات پر سخت ردعمل، جھوٹا بیانیہ قرار دے دیا

    پاکستان کا بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات پر سخت ردعمل، جھوٹا بیانیہ قرار دے دیا

    پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور گمراہ کن قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سفارتکاروں کو دنیا میں امن اور ہم آہنگی کے فروغ کا پیغام دینا چاہیے، نہ کہ اشتعال انگیز بیانات سے ماحول کو خراب کیا جائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف جھوٹا اور گمراہ کن بیانیہ اختیار کر کے اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گردی کی سرپرستی کو چھپا نہیں سکتا۔ اس کے علاوہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی ظلم و جبر کو بھی عالمی برادری سے نہیں چھپا سکتا۔

    دفتر خارجہ نے بھارت کو حالیہ اشتعال انگیز اقدامات کا جواز تلاش کرنے سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن، بات چیت اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے لیکن اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مکمل صلاحیت اور عزم بھی رکھتا ہے۔مزید کہا گیا کہ بھارت کا بیانیہ اس کی ناکام فوجی مہم جوئی اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم شراکت دارہے، جنرل مائیکل ایرک کوریلا

    عمران خان کی رہائی نظر نہیں آ رہی،علیمہ خان پارٹی قیادت سے مایوس

    اجتماعی زیادتی کے ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا خدشہ ،درخواست دائر

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم شراکت دارہے، جنرل مائیکل ایرک کوریلا

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم شراکت دارہے، جنرل مائیکل ایرک کوریلا

    امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں امریکی سینٹکام کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے دیے گئے بیان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دیا ہے۔

    جنرل مائیکل ایرک کوریلا کا کہنا ہے کہ داعش خراساں اس وقت عالمی سطح پر سب سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں شمار ہوتی ہے، پاکستان ایک غیر معمولی انسدادِ دہشت گردی شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے،پاکستان سے قریبی انٹیلی جنس تعاون سے داعش خراساں کے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کیا گیا، ان گرفتاریوں میں تنظیم کے کم از کم پانچ انتہائی مطلوب رہنما بھی شامل ہیں، پاکستانی حکام نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے امریکا کو کئی اہم کامیابیاں دلائیں، ایبے گیٹ بم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ جعفر کی گرفتاری اور اس کی حوالگی بھی اس میں شامل ہے، اس گرفتاری کے فوراً بعد آرمی چیف عاصم منیر نے ذاتی طور پر رابطہ کر کے اطلاع دی، پاکستان مؤثر انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے ذریعے داعش خراساں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    جنرل کوریلا کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ دہشت گرد گروہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدی پٹی میں سرگرم ہے، پاکستان کی شراکت داری انسدادِ دہشت گردی کے عالمی تناظر میں انتہائی اہم اور مؤثر ثابت ہو رہی ہے، 2024ء کے آغاز سے اب تک پاکستان کے مغربی علاقوں میں ایک ہزار سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے ہیں، ان حملوں میں تقریباً 700 سیکیورٹی اہلکار اور شہری جاں بحق اور 2500 زخمی ہوئے ہیں، پاکستان انسدادِ دہشت گردی کی فعال جنگ لڑ رہا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ داعش خراسان کمزور ہو چکی اور اس کی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے، ہمیں پاکستان اور بھارت دنوں کے ساتھ تعلقات رکھنا ہوں گے، میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ اگر بھارت سے تعلق ہو تو پاکستان سے نہیں ہو سکتا۔

  • جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کر سکتا،بلاول

    جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کر سکتا،بلاول

    پاکستان کے پارلیمانی وفد کے سربراہ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکا کو بھارت کو مذاکرات کے لیے کان سے پکڑ کر بھی لانا پڑا تو وہ لائیں گے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے دہشتگردوں کو پیسے دے کر اپنے ہاں دہشتگردی کروائی ہے، بھارت دہشت گردوں کی فنڈنگ کر کے پاکستان میں کارروائیاں کرواتا ہے، پاکستان پر بھارت نے الزام لگائے تو دنیا بھارت کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی، بھارت کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے، پاکستان سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کر سکتا، بھارت قانونی طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا، پاکستان کا مؤقف واضح ہے پاکستان کا پانی روکنا اعلان جنگ ہے، پاکستان کو دھمکی دینا بھی یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہے، پوری دنیا کو معلوم ہے کہ بھارت نے سکھ کارکنوں کو قتل کیا ہے۔

    بلاول کا مزید کہنا تھا کہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے، بھارت بھی جانتا ہے کہ پاکستان کا پہلگام حملے سے کوئی تعلق نہیں، بھارتی وزیر خارجہ صرف جنگ کی باتیں کرتے ہیں،بھارت کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے، بھارت سکھوں کے خلاف منظم مہم چلا رہا ہے، اسی بھارتی رویے کے سبب پاکستان پر اس کے الزمات کو دنیا نے کوئی اہمیت نہیں دی، بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بیرون ملک دہشت گردی ختم کرے، پاکستان دہشت گردی، کشمیر اور پانی سمیت ہر مسئلہ بات چیت سے حل کرنا چاہتا ہے، بھارت کا مؤقف جھوٹ پر مبنی ہے، پاکستان کا مؤقف امن کا پیغام ہے، جنگ نے بتا دیا پاکستان چھوٹا ملک ہونے کے باوجود ہر میدان میں بھارت کو ہرانے کی صلاحیت رکھتا ہے، فتح کے بعد عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دینا ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے، امریکی محکمۂ خارجہ کے کل کے بیانات کا خیرمقدم کرتے ہیں، بھارت کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی، بھارتی بیانات صدر ٹرمپ کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں، پاکستان نے بارہا دہشت گردی کے ثبوت مانگے لیکن بھارت کوئی شواہد نہ دے سکا، ٹرمپ نے کئی بار واضح کیا ہے کہ کشمیر پر مذاکرات ہونے چاہئیں، پاکستانی میڈیا ہمارے دورے کے دوران فعال نظر آیا، جنگ میں بھی پاکستانی میڈیا کا کردار مثبت تھا۔

  • پاکستان اور آذربائیجان کا دفاعی معاہدہ،40جے ایف-17 تھنڈر کی ڈیل سائن

    پاکستان اور آذربائیجان کا دفاعی معاہدہ،40جے ایف-17 تھنڈر کی ڈیل سائن

    پاکستان نے آذربائیجان کو 40 جے ایف 17 فائٹر جیٹس کی سب سے بڑی دفاعی برآمدی ڈیل سائن کرلی

    پاکستان حکومت نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر اعلان کیا ہے کہ اس نے آذربائیجان کے ساتھ 40 جے ایف-17 تھنڈر فائٹر جیٹس کی فروخت کے لیے 4.6 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے ساتھ 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا پیکج بھی شامل ہے۔ یہ تاریخی معاہدہ پاکستان کی اب تک کی سب سے بڑی دفاعی برآمدی ڈیل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پچھلے ایک دہائی سے بڑھتی ہوئی قریبی اسٹریٹجک شراکت داری کی مضبوط علامت ہے۔

    آذربائیجان نے 2020 کے ناگورنو-کاراباخ تنازعہ سے حاصل کردہ تجربات کی روشنی میں اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے جے ایف-17 تھنڈر کے بلاک III ورژن کو منتخب کیا ہے۔ اس جدید نسل کے لڑاکا طیارے کی خریداری سے آذربائیجان نہ صرف روسی طیاروں پر اپنی روایتی انحصار کو کم کرے گا بلکہ جنوبی کوکیشس میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بھی مضبوط بنائے گا۔ یہ اقدام باکو کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد دفاعی شراکت داریوں کی تنوع، دفاعی اثر و رسوخ میں اضافہ اور خطے میں اپنی بالا دستی کو مستحکم کرنا ہے۔

    جے ایف-17 تھنڈر منصوبہ پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس (PAC) اور چائنا کی چنگدو ایئرکرافٹ کارپوریشن (CAC) کے اشتراک سے 1990 کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا۔ 2003 میں اس کا پہلا پرواز کا تجربہ کامیاب رہا اور 2007 میں اسے پاکستان ایئر فورس میں شامل کیا گیا۔ اب تک پاکستان کے پاس 150 سے زائد یونٹس ہیں جنہیں مسلسل اپ گریڈ کیا جاتا رہا ہے۔جے ایف-17 بلاک III جدید AESA ریڈار، جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز، مکمل ڈیجیٹل گلاس کاکپٹ، ہولو گرافک ہیڈ-اپ ڈسپلے، اور ہیلمنٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے سمیت جدید ترین خصوصیات سے لیس ہے۔ اس کا ہتھیاروں کا نظام PL-15 BVR میزائل، لیزر گائیڈڈ بم، اینٹی ریڈیشن میزائلز اور اسٹریٹجک کروز میزائلز سمیت مختلف قسم کے ہتھیاروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک مکمل ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جو جدید نیٹ ورک سینٹرک جنگ کے لیے موزوں ہے۔

    جے ایف-17 پروگرام پاکستان کو عالمی اسلحہ مارکیٹ میں ایک معتبر کھلاڑی کے طور پر سامنے لے آیا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو مغربی یا روسی مہنگے لڑاکا طیاروں کا متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ پہلے سے ہی جے ایف-17 نائجیریا، میانمار، اور عراق کو برآمد ہو چکا ہے۔ ہر فروخت کے ساتھ تربیت، لاجسٹکس اور دیکھ بھال کی مکمل سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ آذربائیجان کی یہ ڈیل سائز اور اثرات کے لحاظ سے بے مثال ہے اور پاکستان کو جنوبی ایشیا سے باہر ایک اہم اسلحہ سپلائر کے طور پر مستحکم کرتی ہے۔

    پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات سیاسی مفادات کی گہری ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ پاکستان نے ناگورنو-کاراباخ تنازعہ میں آذربائیجان کی حمایت کرتے ہوئے آرمینیا کو تسلیم نہیں کیا، جبکہ آذربائیجان نے جموں و کشمیر میں پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دورے، مشترکہ فوجی مشقیں، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے۔ معاہدے کا 2 ارب ڈالر کا سرمایہ کاری پیکج مشترکہ صنعتی منصوبوں، انفراسٹرکچر تعاون اور دفاعی پیداوار کی مقامی سطح پر توسیع کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔

    آذربائیجان کی اس خریداری کا وقت خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث انتہائی اہم ہے۔ جدید اور آزمودہ لڑاکا طیارے کی خریداری سے باکو اپنی آپریشنل صلاحیت اور سفارتی موقف کو مضبوط کرے گا۔ اسلام آباد کے لیے یہ ڈیل دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا میں پاکستان کی سافٹ پاور بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔یہ معاہدہ آئندہ چند سالوں میں مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا، جس میں آذربائیجانی پائلٹس اور تکنیکی عملے کی تربیت جاری ہے۔ ممکنہ طور پر مستقبل میں آذربائیجان میں اس کے جے ایف-17 طیاروں کی مقامی اسمبلی یا کو-پروڈکشن کے پروگرام بھی شروع کیے جا سکتے ہیں، جو دونوں ملکوں کے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

    پاکستان-آذربائیجان جے ایف-17 معاہدہ عالمی دفاعی منظرنامے میں ایک نئے دور کی شروعات ہے، جہاں ابھرتی ہوئی معیشتیں نئی دفاعی شراکت داریاں قائم کر رہی ہیں اور اپنی خود کفالت کے ذریعے خطے میں طاقت کا توازن بدل رہی ہیں۔ یہ معاہدہ نہ صرف فضائی طاقت کے توازن کو بدلتا ہے بلکہ پاکستان کی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر ایک نئی پہچان دیتا ہے۔

  • عمران بشریٰ کی سزا کیخلاف اپیل،جج چھٹی پر،کاز لسٹ منسوخ

    عمران بشریٰ کی سزا کیخلاف اپیل،جج چھٹی پر،کاز لسٹ منسوخ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستوں پہ آج سماعت کرنے والے دو رکنی بنچ کے رکن جسٹس محمد آصف "اچانک ” چھٹی پر چلے گئے، آج درخواستوں کی سماعت نہیں ہو سکے گی۔ڈویژن بینچ میں شامل ایک جج کے چھٹی پر ہونے کے باعث کیسز کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی

    دوسری جانب عمران خان کیخلاف توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت یکم جولائی تک بغیر کاروائی کے ملتوی کر دی گئی، جج شاہ رخ ارجمند نے آج اڈیالہ میں سماعت کرنا تھی۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ہے۔خالد یوسف ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نیب (قومی احتساب بیورو) نے بدنیتی سے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور نامکمل تفتیش کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے معاہدے کا مکمل متن حاصل نہ کرنا نیب کی ہچکچاہٹ اور بدنیتی کا واضح ثبوت ہے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این سی اے کے حکام کو تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا اور استغاثہ مکمل شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔مزید برآں، اپیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ 17 جنوری 2025 کو احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کیا جائے۔

  • عوام پر ٹیکسز،وزیراعظم ہاؤس کے لئے بجٹ میں 14 کروڑ کا اضافہ

    عوام پر ٹیکسز،وزیراعظم ہاؤس کے لئے بجٹ میں 14 کروڑ کا اضافہ

    وفاقی بجٹ 2025-26 کے تحت وزیراعظم شہباز شریف کی سرکاری رہائش اور متعلقہ اخراجات میں ایک بار پھر زبردست اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک ایسے وقت جب ملک کی تقریباً آدھی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، اور عام شہریوں سے مزید قربانیاں طلب کی جا رہی ہیں، حکومت نے وزیراعظم ہاؤس کے بجٹ کو 72 کروڑ روپے سے بڑھا کر تقریباً 86 کروڑ روپے کر دیا ہے۔

    قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کے لیے 9 کروڑ روپے، ہاؤس کی ڈسپنسری کے لیے 1 کروڑ 44 لاکھ روپے اور باغیچے کی دیکھ بھال کے لیے 4 کروڑ 48 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں، وزیراعظم کے دوروں کے لیے 60 لاکھ روپے جبکہ پی ایم چیرٹی کے لیے 42 لاکھ روپے کے اضافی فنڈز دیے گئے ہیں۔

    وفاقی وزراء اور مملکت کے وزراء کے بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، جو 27 کروڑ روپے سے بڑھ کر 50 کروڑ 54 لاکھ روپے ہو گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیران کے لیے بجٹ 3 کروڑ 61 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 کروڑ 31 لاکھ روپے کیا گیا ہے۔کابینہ ڈویژن کے لیے بھی 68 کروڑ 87 لاکھ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جبکہ معاونین خصوصی کے لیے بجٹ 3 کروڑ 70 لاکھ روپے سے بڑھا کر 11 کروڑ 34 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔وفاقی بجٹ میں سینٹرل کار پول کے لیے 62 کروڑ روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے بجٹ میں 28 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو 12 ارب 73 کروڑ سے بڑھ کر 16 ارب 29 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ سینیٹ کا بجٹ بھی 9 ارب ساڑھے 5 کروڑ روپے رکھا گیا ہے جو پچھلے مالی سال کے 7 ارب 24 کروڑ روپے سے کافی زیادہ ہے۔

    یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت عام آدمی سے تقریباً 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو حکمران یورپ کی مثال دیتے ہیں، وہ کب اپنے اخراجات میں ویسی ہی سادگی اختیار کریں گے جیسی وہاں کے حکمران کرتے ہیں،عام شہری مشکلات کا شکار ہیں اور روزمرہ کے ضروریات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ایسے میں اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کے اخراجات میں اضافہ عوامی جذبات کے خلاف جا رہا ہے۔