Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی قاتلانہ حملے میں جاں بحق

    پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی قاتلانہ حملے میں جاں بحق

    پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی قاتلانہ حملے میں جاں بحق
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئی

    واقعہ نوشہرو فیروز میں پیش آیا، جہاں ملزمان نے رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری پر فائرنگ کی، واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس کے مطابق رکن اسمبلی کو تین گولیاں لگیں ، ایم پی اے شہناز انصاری کو تشویشناک حالت میں نوابشاہ اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن ہسپتال جا کر وہ جان کی بازی ہار گئیں.

    پولیس کا کہنا ہے کہ ایم پی اے کے بہنوئی کا اپنے بھائیوں کے ساتھ جائیداد کا تنازع تھا اور انہیں گاؤں سے آنے سے منع کیا گیا تھا لیکن وہ چالیسویں کی تقریب میں گاؤں آئیں اور واپسی پر ان پر حملہ کیا گیا.

    شہناز انصاری پیپلز پارٹی کی دیرینہ رکن تھیں اور وومین ونگ کی رہنما بھی رہیں، پولیس کے مطابق دشمنی کی وجہ سے ایم پی اے کو قتل کیا گیا،ابتدائی معلومات کے مطابق انہیں 3 گولیاں لگیں، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فرار ہو گئے جن کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا، پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد بھگدڑ مچ گئی،

  • آٹا و چینی بحران ہماری کوتاہی، وزیراعظم نے کیا اعتراف، اور کیا بڑا اعلان

    آٹا و چینی بحران ہماری کوتاہی، وزیراعظم نے کیا اعتراف، اور کیا بڑا اعلان

    آٹا و چینی بحران ہماری کوتاہی، وزیراعظم نے کیا اعتراف، اور کیا بڑا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب گورنر ہاؤس میں ہوئی، تقریب سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے خطاب کیا، تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے شہریوں میں صحت کارڈ تقسیم کئے، اس موقع پر گورنر پنجاب چودھری سرور بھی موجود تھے.

    وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مینار پاکستان کے جلسے کے بعد لاہور کے کارکنان سے پہلی بار ملاقات ہو رہی ہے، اب تک 50 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے ،خراج تحسین پیش کرتا ہوں،میں نے وعدہ کیا تھا اور وعدہ پورا کر کے دکھاؤں گا، میں نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنائیں گے میں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان کو چلائیں گے، مدینہ کی ریاست کا سب سے بڑا اصول انسانیت ہے، کہ ریاست کمزور طبقے کی ذمہ داری لے، مشکل وقت کمزور گھرانے پر بیماری کے وقت آتا ہے جب کوئی مریض ہو اور علاج کے پیسے نہ ہوں

    شوکت خانم کی وجہ یہی تھی کہ میو میں ایک آدمی دوائیاں خریدنے کی کوشش کر رہا تھا ،اس نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ساری دوائیاں آ گئیں تو ڈاکٹر نے کہا کہ ابھی یہ بھی لینی ہیں، اس کے چہرے پر مایوسی مجھے آج بھی نہیں بھولتی، اس دن میری زندگی بدلی، پھر کینسر کا ہسپتال بنایا اور سیاست میں بھی آیا، مخلوق کی خدمت کرتے ہیں تو زندگی بدل جاتی ہے، میو ہسپتال سے شروع ہونے والا سفر چل رہا ہے، سوچا تھا کہ ان لوگوں کے لئے زندگی گزاروں گا جن کو حکومت نے پیچھے چھوڑ دیا، کے پی کے میں پہلی بار ہیلتھ انشورنش شروع کیا ،کے پی کے والے حکومت کو ایک ایک باری دیتے ہیں لیکن ہمیں دوسری بار دو تہائی اکثریت ملی، اسکی بہت بڑی وجہ ہیلتھ کارڈ سسٹم تھا، اس کارڈ کے‌ذریعے کسی بھی ہاسپٹل میں علاج ہو سکتا تھا ،لوگوں کو سمجھ آئی کہ فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے.

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ برطانیہ میں دیکھا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کا مفت علاج ہوتا تھا، بچے سرکاری ہسپتالوں میں مفت پڑھتے تھے، بے روزگاروں کو وظیفہ ملتا تھا، ہم بھی اسی طرز پر پاکستان میں کام کرنا چاہتے ہیں، چینل پروپیگنڈہ کر رہے ہیں غریب آدمی سے پوچھتے ہیں کہ کیا مہنگائی ہے اور کدھر گیا نیا پاکستان، یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے، پہلے دن ہی مدینہ کی ریاست نہیں بن گئی تھی، یہ ایک سفر تھا ،جنگ احد، خندق ہوئی، مشکل وقت تھا لیکن اس کے بعد اسی ریاست نے دنیا کی تاریخ بدل دی، ہم اسی راستے پر چل رہے ہیں، ساٹھ لاکھ ،بہتر لاکھ خاندانوں کو پنجاب میں کارڈ ملیں گے، ہر سال ہم غریب کے اور قریب جائیں گے،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے کمزور طبقے کو اٹھانا ہے، پاکستان میں پہلی بار میڈیکل پر باہر سے آنے والے سامان پر ڈیوٹیز اٹھا دی ہیں، ہم چاہتے ہیں لوگ ہسپتال بنائیں، سرکار نہین بنا سکتی، کارڈ کا حامل کسی بھی ہسپتال میں جا سکتا ہے، آبادی میں بہت زیادہ ہسپتال چاہئے، ہم اپنا سسٹم ہسپتالوں کا منیجمنٹ کا بدل رہے ہیں، ایم ٹی آئی ریفارمز کو جلدی کریں تب ہسپتال ٹھیک کام کریں گے ، ہسپتالوں میں سزا و جزا ہو تو سسٹم کھڑا ہوتا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں سزا وجزا نہیں ، اچھا علاج کریں یا نہیں پیسے ان کو ملتے ہیں، غریب آدمی سرکاری ہسپتال اور پیسے والا لندن جاتا ہے، ہم ہیلتھ ریفارمز لائے، لوگ اس کو پرائیوٹائزیشن کہتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ،ہم انفرسٹرکچر ٹھیک کرنا چاہتے ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم مہنگائی کے حوالہ سے کام کر رہے ہیں، جب بھی روپیہ گرے گا باہر کی چیزیں مہنگی ہو جائیں گی، جب حکومت ملی تھی تو ساٹھ ارب کی چیزیں خرید رہے تھے اور بیس ارب کی بیچ رہے تھے اسلئے روپے پر اثر پڑا، جو بھی باہر سے چیزیں منگواتے ہیں وہ مہنگی ہو گئیَ بد قسمتی سے حکومت ملی تو پرانی حکومت خسارے چھوڑ کر گئی تھی، گھی اسلئے مہنگا ہوا کہ ہم باہر سے منگواتے ہیں لیکن کئی چیزیں آٹا اور چینی جو مہنگا ہوا اس میں ہماری کوتاہی ہے، میں اس کو مانتا ہوں، تحقیقات ہو رہی ہے، جو بھی اس میں ملوث ہو گا سب کا پتہ چلتا جا رہا ہے، ان کو کسی کو نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے مہنگائی کر کے پیسہ بنایا، ہم ایسا سسٹم لائیں گے کہ کوئی چیز کم ہو گی تو ہمیں پہلے ہی پتہ چل جائے گا

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پرانے ورکرز یہاں بیٹھے ہیں میں کہتا ہوں کہ آپ لوگ مشکل وقت میں میرے ساتھ تھے، جب کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ ہماری پارٹی جیتے گی، ہمارا مذاق اڑایا جاتا تھا، مشکل وقت تھا ، اس کو سامنے رکھ کر کہتا تھا کہ تحریک انصاف حکومت بنائے گی، میں آج کہتا ہوں کہ یہ وہ پاکستان ہے جو 27 رمضان کو بنا تھا یہ وہ پاکستان ہے جس کا عظیم لیڈر قائداعظم اور علامہ اقبال تھے، ڈیڑھ سال حکومت مین رہ کر کہتا ہوں کہ اندازہ نہین کہ یہ ملک کتنا عظیم ملک بننے جا رہا ہے، اللہ نے ملک کو جتنی نعمتیں دیں مجھے بھی نہیں اندازہ تھا، مہینوں، سالوں میں تبدیل ہو گا، سب سے بڑی رکاوٹ مافیا کو شکست دیں گے، یہ وہ ملک بنے گا ہرا پاسپورٹ لے کر جائیں گے تو دنیا میں عزت ہو گی، آج بھی عزت ہے، اس ملک کی عزت بڑھتی جائے گی، یہ عظیم ملک بنے گا، یہ وہ ملک بنے گا جب باہر سے لوگ نوکریاں ڈھونڈنے پاکستان آئیں گے.

  • شیخ رشید نے مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری بارے اہم خبر دے دی

    شیخ رشید نے مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری بارے اہم خبر دے دی

    شیخ رشید نے مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری بارے اہم خبر دے دی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ امید ہے کہ مولانا اسلام آبا دنہیں آئیں گے اگر آئے تو سرکاری مہمان ہوں گے، اس بار مارچ والوں سے پہلے جیسا برتاؤ نہیں ہو گا،وہ شوق سے آئیں ، انکو سرکاری مہمان بنایا جائے گا،مولانا فضل الرحمان نے جو گفتگو کی اس پر آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے،

    شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ تجاوزات ختم کرنا حکومت کا کام ہے، مین حکومت کا حصہ ہوں، میرے شہر میں ایک انچ زمین پر بھی قبضہ نہیں ہے، اگر کہیں ہوئی تو سب سے پہلے وہ ختم کرواؤں گا،سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا سب کا کام ہے

    شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام کسی رپورٹ میں نہیں، کھانوں کے حوالے سے میری میٹنگز ہوتی رہتی ہیں، سیکورٹی ادارے عمران خان کے ساتھ ہیں،ایم ایل ون ہمارے کھاتے میں پانچ سے آٹھ سال ہیں، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ دو سال میں مکمل کرو،چاہتے ہین کہ دو لاکھ مزدور رکھ لیں

    70 آدمیوں کے جلنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے، چیف جسٹس کا شیخ رشید سے مکالمہ کہا آپ کو تو استعفیٰ دینا چاہئے تھا

    شیخ رشید نے عدالت سے مانگی مہلت،چیف جسٹس نے کہا لوگ آپکی باتیں سنتے ہیں لیکن ادارہ نااہل

    اسد عمر حاضر ہو، شیخ رشید کے بعد سپریم کورٹ نے اسد عمر کو بھی طلب کر لیا

    سانحہ تیزگام بارے کیا کرنے جا رہے ہیں؟ آڈٹ رپورٹ کس کی عدالت پیش کی گئی؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ فیض آباد دھرنے میں پیسے نہیں بانٹے، میں نے اس حوالہ سے اپیل کی ہوئی ہے، شہباز شریف کا مارچ کے آخری ہفتے میں واپس آنے کا ارادہ ہے لیکن پیغام بھیجا ہے کہ وہاں مزے کرو،اور نئے ہیٹ لو ،وہاں سیل لگی ہوئی ہے، شہباز شریف میری پارٹی کے ہیں وہ آ ئیں گے تو گڈی گڈی کھیلیں گے،بلاول بھٹو کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں، بلاول سے دل لگی ہے اسلئے نہیں چاہتا کہ وہ جیل جائے،

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    کشمیری اکیلے نہیں،ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی،آرمی چیف

    مسلح افواج کشمیریوں کے ساتھ ہیں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا پیغام

    خون کے آخری قطرے تک کشمیریوں کے ساتھ، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ ترکی کیساتھ 13 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے،سپریم کورت نے کراچی کی جائیدادیں فروخت کرنے کی اجازت دی،عوام سے 5 سال میں ریلوے کا خسارہ کم کرنے کا وعدہ کیا ہے. کراچی سرکلرریلوےمیں بہت سی رکاوٹیں ہیں، کراچی سرکلرریلوے کا وزیراعلیٰ سندھ سےمل کرحل نکالیں گے

    مریم نواز آسمان سے نہیں اتری،وزیر زیادہ ہوں تو برکت ہوتی ہے، شیخ رشید

  • پاکستان گرے لسٹ سے نکلے گا یا نہیں؟ ایف اے ٹی ایف اجلاس ہو گا کل

    پاکستان گرے لسٹ سے نکلے گا یا نہیں؟ ایف اے ٹی ایف اجلاس ہو گا کل

    پاکستان گرے لسٹ سے نکلے گا یا نہیں؟ ایف اے ٹی ایف اجلاس ہو گا کل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے بارے ایف اے ٹی ایف کا حتمی اجلاس کل پیرس میں شروع ہو گا، اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستانی حکام کا وفد پیرس روانہ ہو گیا.اجلاس 21 فروری تک جاری رہے گا جس کے آخر میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اعلان کیا جائے گا.

    پاکستان کو اجلاس میں شریک 39 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل فیٹف تنظیم میں کسی بھی خطرناک فیصلے سے بچنے کیلئے 3 ووٹ درکار ہیں تاہم پاکستان کو ان کے مقابلے میں سعودی عرب، ترکی، ملائشیا، چائنا، گلف کو آپریشن کونسل، امریکہ، یورپی یونین کی سفارتی حمایت حاصل ہوگئی ہے، توقع ہے کہ سعودی عرب، ترکی، ملائشیا، چائنا، کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، روس، سنگاپور، اٹلی، جاپان، فرانس، جرمنی، یونان، ارجنٹینا، آسٹریلیا کی حمایت ملنے کی صورت میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا متفقہ فیصلہ ہو جائے گا

    وفاقی وزیراقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد پیرس روانہ ہو گیا جس میں ڈائریکٹر جنرل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ بھی شامل ہیں، وفد پیرس جائزہ مکمل ہونے تک قیام کرے گا،

    ایف اے ٹی ایف اجلاس میں اگر پاکستان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا تو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے اور کمپلا ئنٹ ممالک کی صف میں شامل کر لیا جائے گا اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو پاکستان کے ذ مہ بقیہ 22 شرائط میں سے 12 شرائط پر عمل درآمد کیلئے ستمبر 2020 تک کی ڈیڈ لائن د ی جائیں گی،بقیہ 12 شرائط پر عمل درآمد کیلئے پاکستان کو مزید 2 جائزہ سیشن کا سامنا کرنے کا پابند کر دیا جائے گا جن میں پہلا فیٹف جائزہ جون 2020 میں اور دوسرا فیٹف جائزہ ستمبر 2020 میں مکمل کر کے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جا سکتا ہے.

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اورٹیرر فنانسنگ کے خلاف کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات کے دوران پاکستان نےایف اے ٹی ایف حکام کو گزشتہ ساڑھے چار ماہ کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

    وفاقی وزیر حماد اظہر نے بریفنگ میں بتایا کہ کالعدم تنظیموں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، منی لانڈرنگ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے، ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے کیس رجسٹریشن 451 فی صد اضافے کے ساتھ 827 ہو گئی، اس حوالے سے گرفتاریوں کی تعداد 1104 رہی، جو چھ سو ستتر فی صد زیادہ ہے۔

    پاکستان نے بتایا کہ ٹیرر فنانسنگ کیسز میں سزائیں دینے کے عمل میں 403 فی صد کا اضافہ ہوا جب کہ 196 سزائیں ہوئیں، ٹیرر فنانسنگ کے کیسز میں اکتیس کروڑ بیالیس لاکھ کی برآمدگی ہوئی اور خیبر پختون خوا میں 387 کیسز رجسٹرڈ ہوئے، ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف حکام نے پاکستان کی رپورٹ پر اظہار اطمینان کیا۔

    پاکستان 650 صفحات پر مشتمل رپورٹ پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کو بھجوا چکا ہے، یہ رپورٹ 16 فروری سے شروع ہونے والے پیرس اجلاس میں زیر غور لائی جائے گی۔ پیرس اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے حوالے سے ووٹنگ ہو سکتی ہے۔

    پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو بھجوائے جانے والے جوابی رپورٹ میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات، دہشت گردوں تک رقوم روکنے کے طریقہ کار، دہشت گردوں تک اثاثوں اور زیورات کی منتقلی روکنے کے اقدامات کے حوالہ سے بتایا گیا ہے.

    پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو جواب میں کہا ہے کہ دہشت گردوں تک رقوم پہنچانے کے 700 کیسز کی تحقیقات کیں، کالعدم تنظیموں تک رقوم پہنچانے والے 190 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی، دہشت گردوں تک رقوم پہنچانے پر 170افراد زیر حراست ہیں، کالعدم تنظیموں کی ایک ہزار سے زائد جائیدادیں ضبط کیں

    پاکستان کوایف اے ٹی ایف نے 150سوالات پرمشتمل سوال نامہ بھیجا تھا،سوال نامے میں مدارس سے متعلق کیے گئے قانونی اقدامات کی تفصیلات پوچھی گئیں، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف درج مقدمات کی نقول مانگی گئی ہیں،ایف اےٹی ایف نے پاکستان سے کالعدم تنظیموں سے منسلک افراد کوسزادلوانے کا مطالبہ بھی کیا ہے،

    8 کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی ،کتنے مقدمات، کتنی گرفتاریاں اور کیا سزائیں دی گئیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی

    ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے 40 اہداف کے حصول پر پیشرفت کاجائزہ لینے کے بعد سوالنامہ بھیجا، پاکستان نے 40 اہداف میں سے 36 پرپیشرفت دکھائی، 4 اہداف کےحصول پرطریقہ کاروضع کردیا گیا،

    پاکستان نے مالیاتی اداروں کا ڈیٹا خفیہ رکھنے کا ہدف پورا کیا، پاکستان نے 9 اہداف پر بڑی پیش رفت کی، بے نامی داروں کے خلاف کارروائی میں بھی بہتری کی گئی، رپورٹ میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات شامل کیے گئے۔

    وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان 2020 میں گرے سے وائٹ لسٹ میں آجائے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بالخصوص  آخری 4 ماہ میں ہونے والی پیشرفت کا اعتراف کیا گیا، تاہم اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کو دیا گیا ایکشن پلان کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے،

    ایف اے ٹی ایف کا ایک بار پھر ڈومور، کالعدم تنظیموں کیخلاف کیا کیا؟ رپورٹ طلب

    ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کی کوششوں کا اعتراف، ڈومور بھی کہہ دیا

    حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ تمام ریگولیٹری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کوشش کر رہے ہیں، وفاقی اور صوبائی محکمے بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط مانتا جا رہا ہے،وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، پاکستان سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لئے فنڈنگ کی روک تھام، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالنے اور ذمہ دار ممالک کی صف میں لانے کے لئے بنائی جانے والی کو آرڈی نیشن کمیٹی کا چیئرمین حماد اظہر کو بنایا گیا ہے.

    واضح رہے ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معانت کی روک تھام کے لیے بنائی گئی عالمی تنظیم ہے۔اس تنظیم نے 18 اکتوبر کو 4 ماہ کی مہلت دہتے ہوئے پاکستان پر زور دیا تھا کہ فروری 2020 تک ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کرے کیونکہ اس وقت تک پاکستان ’گرے لسٹ‘ میں ہی موجود رہے گا

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی،کن ممالک نے کی پاکستان کی حمایت؟

  • پی آئی اے کیس، حکومت ارشد ملک کو بچانے میدان میں آ گئی، سپریم کورٹ میں جمع کروایا جواب

    پی آئی اے کیس، حکومت ارشد ملک کو بچانے میدان میں آ گئی، سپریم کورٹ میں جمع کروایا جواب

    پی آئی اے کیس، حکومت ارشد ملک کو بچانے میدان میں آ گئی، سپریم کورٹ میں جمع کروایا جواب
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے سی ای او پی آئی اے تقرری کیس میں سندھ ہائیکورٹ میں درخواست کو بدنیتی قراردیتے ہوئے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا

    وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ارشد محمود کی تعیناتی کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی تھی ،ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سی ای او پی آئی اے نے غیرقانونی کاموں کیخلاف سخت ایکشن لیا، ارشدمحمود ملک نے جعلی ڈگری اورغیرقانونی تقرریوں والوں کیخلاف بھی ایکشن لیا،سی ای او کی تعیناتی کے بعد پی آئی اے کے ریونیو میں 44 فیصداضافہ ہوا اور75 فیصد آپریشنل لاسز میں کمی آئی ۔

    وفاقی حکومت کے جواب میں مزید کہا گیا کہ ارشد محمود ملک نے بطورڈپٹی چیئرمین کامرہ میں ریکارڈ16 تھنڈر طیارے بنائے،بطور چیئرمین جے ایف تھنڈربلاک 3 بھی بنایا۔

    قبل ازیں آڈیٹر جنرل نے قومی ایئر لائن کے سی ای او کو ہٹانے کی سفارش کردی،آڈیٹر جنرل نے اپنی سفارشات میں کہا کہ ایئرمارشل ارشد ملک کو سی ای او کے عہدے سے برطرف کیا جائے،ایئرمارشل ارشد ملک کی پی آئی اے میں تقرری غیر قانونی ہے،ارشد ملک کی غیر قانونی تقرری کی تحقیقات غیرجانبدار ادارے سے کرائی جائے،ارشد ملک نے تقرری کے 8 ماہ کے دوران 30 لاکھ روپے الاؤنس وصول کیا،سی ای او پی آئی اے سے تمام الاوَنس واپس لئے جائیں،بورڈ آف ڈائریکٹر نےغیرملکی سی ای او کی طرح اس تقرری میں بھی غلطی کی،

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اگر قواعد و ضوابط کے مطابق ائیر مارشل ارشد ملک انٹرویو بورڈ میں پیش ہوتے تو انہیں پاک فضائیہ سے مستعفی ہونا پڑتا۔ پی آئی اے نے آڈیٹر جنرل کے عملے سے تعاون نہیں کیا اس لیے نہیں بتایا جاسکتا کہ ارشد ملک نے کتنا مالی فائدہ ناجائز طور پر اٹھایا تاہم ایک تخمینے کے مطابق 8 ماہ کے دوران یہ فائدہ تقریباً 30 لاکھ روپے ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ قواعد کے مطابق پی آئی اے میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی مدت ملازمت ختم ہونے سے تین ماہ قبل اخبارات میں اس عہدے کے لیے درخواستیں طلب کی جانی چاہییں لیکن ائیر مارشل ارشد ملک کے کیس میں بالکل الٹ کیا گیا۔

    انہیں 26 اپریل 2019 کو پہلے ایک حکم نامے کے ذریعے تین سال کی مدت کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا اور اس کے بعد اخبار میں جو اشتہار دیا گیا اس میں وار کورس، شپنگ، نیول ایوی ایشن اور ملٹری آپریشنز یا ایسے ہی کسی متعلقہ تجربے کو شامل کیا گیا تاکہ دیگر امیدواروں کے مقابلے میں ائیر مارشل ارشد ملک کو ناجائز فائدہ پہنچایا جاسکے۔

    واضح رہےکہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت بھی ارشد ملک کو بحال کرنے کی استدعا مسترد کر چکی،سپریم کورٹ میں سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کی کام پر بحالی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ۔

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی آئی اے کو قانون کے مطابق آنا چاہئے،معلوم نہیں کوئی ایئر مارشل پی آئی اے کو کیسے چلائے گا؟ بہتر ہے ایئرمارشل پیک اپ کرلیں ۔چیف جسٹس نے حکومت کو طریقہ کار کے مطابق نیا پی آئی اے سربراہ تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔

    چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں یہ موصوف خود ڈیپوٹیشن پر آئے اور10 بندوںکو ساتھ لائے ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے پاکستان ایئر فورس کو ہی دے دیں حکومت کیوں چلا رہی ہے ؟،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ جب سے یہ آئے ہیں 100 فیصد کرایہ بڑھا دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سی ای او کی تقرری کا اشتہاردیاگیا تھا ،

    جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ دیکھنا ہوگا اشتہارکو کوئی خاص ڈیزائن دے کر تو جاری نہیں کیا گیا،پرانے اشتہارات کا بھی جائزہ لیں گے ۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اخبار میں خبر لگی ہے سی ای او نے کسی کموڈورکو 70 کروڑ کا بزنس دیا،جس کمپنی کو بزنس دیاگیا وہ 2 ماہ پہلے رجسٹرڈ ہوئی ۔

    چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ عوام کے اثاثوں کے ساتھ کھلواڑنہیں ہوسکتا ،پی آئی اے قوم کا اثاثہ ہے اس کیساتھ کھلواڑ نہیں ہونے دیں گے ،سی ای او کو عارضی انتظامات کے تحت لایاگیا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ارشد محمود کو طریقہ کار کے مطابق پی آئی اے میں سی ای او کنفرم کردیاگیاتھا،چیف جسٹس نے کہا کہ چیئرمین پی آئی اے کو قانون کے مطابق آناچاہئے،پی آئی اے کسی کی جاگیر نہیں قوم کا اثاثہ ہے

    عدالت نے سی ای او پی آئی اے ارشد محمود کو کام پر بحال کرنے کی استدعا مستردکردی،عدالت نے پی آئی اے کے بورڈآف ڈائریکٹرز کو کام کرنے کی اجازت دے دی،عدالت نے سندھ ہائیکورٹ سے مقدمے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

    پی آئی اے کے ماہانہ خسارے میں کتنی کمی آئی، چیئرمین پی آئی اے کی وزیراعظم کو بریفنگ

    پی آئی اے نے 10 کروڑ 65 لاکھ روپے مالیت کا کھانا ضائع کردیا، یہ انکشاف آڈیٹرجنرل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے،

    پی آئی اے کا ایک اور کارنامہ، وزیراعظم سٹیزن پورٹل میں شکایت درج

    واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسرائیرمارشل ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا تھا، اس درخواست میں پی آئی اے کےاثاثوں کے حوالے سے بھی اہم اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جس پرعدالت نے کہاکہ پی آئی اے میں خریدو فروخت پالیسی سازی اور ایک کروڑ سے زائد کے اثاثے بھی فروخت نہیں کرسکتے،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ عدالت نے پی آئی اے میں نئی بھرتیوں،ملازمین کو نکالنے اورتبادلوں سے بھی روک دیا

    یاد رہے کہ ارشد ملک کے خلاف ساسا کے جنرل سیکٹری صفدر انجم نے عدالت سے رجوع کیا تھا،جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ائیر مارشل ارشد ملک تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے، درخواست گزارنے یہ بھی اعتراض کیا کہ ائیر مارشل ارشد ملک کا ائیر لائن سے متعلق کوئی تجربہ نہیں ہے

  • ترک صدر کے کامیاب دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم کی بڑی غلطی

    ترک صدر کے کامیاب دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم کی بڑی غلطی

    ترک صدر کے کامیاب دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم کی بڑی غلطی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے دو روزہ دورہ پاکستان کیا اور واپس روانہ ہو گئے،

    دو روزہ دورے کے دوران ترک صدر کا پر تپاک استقبال کیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے خود گاڑی ڈرائیو کی، گارڈ آف آنر دیا گیا، ایوان صدر میں عشائیہ دیا گیا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ہوا، ترک وزراء کی اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے ملاقاتیں ہوئیں لیکن اس دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان ایک بڑی غلطی کر گئے.

    ترک صدر رجب طیب اردوان دو روز تک پاکستان میں رہے، ترک صدر اور ان کے ساتھ آنے والے وفود کی حکومتی سطح پر تو ملاقاتیں ہوئیں لیکن کسی اپوزیشن رہنما سے ترک صدر کی ملاقات نہیں کروائی گئی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے جب ترک صدر نے خطاب کیا تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین بشمول بلاول زرداری، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی، مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود، مولانا عبدالغفور حیدری سب موجود تھے لیکن ایوان میں ترک صدر آئے، خطاب کیا بعد ازاں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے ایوان صدر چلے گئے.

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاک ترک بزنس کونسل کی تقریب سے بھی خطاب کیا، بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی، 12 اہم معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سیاحت کے شعبہ میں ترک صدر کو سرمایہ کرنے کی دعوت دی،ترک صدر کی اہلیہ نے بھی تقریب سے خطاب کیا .

    ترک صدر نے کیا کشمیر ، ایف اے ٹی ایف بارے اہم اعلان، کہا وفا کے پیکر پاکستانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    وزیراعظم اور ترک صدر کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

    ترک صدر کے پہنچنے سے قبل پارلیمنٹ میں ایسا کیا کام کیا گیا کہ وزیراعظم بھی حیران رہ گئے

    ترک خاتون اول کا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب ،کیا اہم اعلان

    ترک صدر کا اپنی قومی زبان میں خطاب، نماز جمعہ ایوان صدر میں کی ادا

    ترک صدر کا خطاب سننا اعزاز کی بات، اسد عمر نے مزید کیا کہا؟

    دو روزہ دورہ پاکستان کی یادیں واپس لیے ترک صدر وطن روانہ،کس نے کیا الوداع؟

    ترک صدرسے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی ملاقات اور مصافحہ نہ ہونے پر جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت نے قومی قیادت اور پارٹی قائدین کو طیب اردگان سے ملنے کا موقع نہ دیکر تعصب اور تنگ نظری کا مظاہرہ کیاحالانکہ یہ قومی روایت ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد معزز مہمان سے قومی قائدین اور پارٹی قیادت کا باقاعدہ تعارف اور مصافحہ جاتا ہے۔حکومت کو خطرہ تھا کہ کوئی اس کی نااہلی اور کرپشن کو بے نقاب نہ کردے .

  • پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہےکہ ایک ایماندارلیڈرملا،مل کرعالم اسلام کے لیے کام کریں‌گے ، طیب اردوان،ترکی ہماری جان ،ہمارا ایمان، عمران خان

    پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہےکہ ایک ایماندارلیڈرملا،مل کرعالم اسلام کے لیے کام کریں‌گے ، طیب اردوان،ترکی ہماری جان ،ہمارا ایمان، عمران خان

    اسلام آباد:پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہےکہ ایک ایماندارلیڈرملا،مل کرعالم اسلام کے لیے کام کریں‌گے ، ان خیالات کااظہارترک صدر طیب اردوان نے عمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس کرنے سے پہلے ایک اہم اجلاس میں کیا ادھر وزیراعظم پاکستان نے طیب اردوان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ترکی ہماری جان ،ہمارا ایمان،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا کے خلاف ترکی کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ترک صدر رجب طیب اردوان کوخوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ترک صدرکی پارلیمنٹ سے تقریرکو پسند کیا ہے، ترک صدر اگر آج یہاں الیکشن لڑے تو کلین سویپ کرلیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کے لیے آواز بلندکرنے پر ترک صدر کا شکرگزار ہوں، کشمیری 6 ماہ سے ایک جیل میں بند ہیں، سیاسی رہنما قیدوبندمیں ہیں، کشمیر متنازع علاقہ ہے، کشمیری نوجوانوں کو جیلوں میں رکھاگیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج جو ایم او یوز دستخط ہوئے اس کے ذریعے پاک ترک تعلقات کا نیا دور آرہا ہے، آج جو معاہدے ہوئے اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا، پاکستان جن علاقوں کوترقی دینا چاہتا ہے ان کو زیادہ فائدہ ہوگا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف، پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے پرترک صدر کے مشکور ہیں، کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے تو ترکی ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اس پر شکرگزار ہیں۔

    وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ہم ترکی کی عالمی ہر سطح پر مکمل حمایت کرتے ہیں اور ایف اے ٹی ایف میں انقرہ نے ہماری حمایت کی جس پر ان سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیاست کے علاوہ میڈیا کے ذریعے ثقافتی مسائل کا بھی مقابلہ کریں گے اور ترک فلم انڈسٹری سے فائدہ اٹھائیں گے، ترک فلم انڈسٹری کی فلمیں اور ڈرامے مقامی میڈیا پر نشر کیے جائیں گے جو اسلامو فوبیا کی حوصلہ شکنی پر مبنی ہوں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترکی سیاحت سے سالانہ 35 ارب ڈالر کماتا ہے اور سستے گھر بنانے میں تجربہ رکھتا ہے اس لیے دونوں شعبوں میں اس سے استفادہ کریں گے۔

    اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ بہترین استقبال پر پاکستانی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں، پاکستان ہمارا بھائی ہے، ہر مشکل میں ساتھ کھڑے ہوں گے، پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں بھرپور ساتھ دیں گے۔

    طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے خوشی کا مقام ہےکہ انہیں ایک ایمانداروزیراعظم ملا ہے، ترکی پاکستان کے ساتھ مل کرکشمیر،عالم اسلام کی بہتری اوراسلام فوبیا کے خلاف کام کرے گا، طیب اردوان نے مزید کہا کہ میں پاکستانیوں کی محبت کو کبھی بھی بھول نہیں‌سکتا

    ادھر ترک صدر کے خراج تحسین کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ مسلمانان پاکستان کے ترکوں سے تعلقات صدیوں پرانے ہیں تحریک خلافت سے لے کرآج تک پاکستانیوں‌کے دل ترکی لیے دھڑکتے ہیں، طیب اردوان کی قیادت میں ترکی بہت تیزی سے کامیابی کا سفر طئے کررہا ہے

    انہوں نے کہا تین سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے پر دلی مسرت ہے اور تعلیم، مواصلات، صحت، ثقافت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ سے متعلق معاہدے پاک ترک قریبی تعلقات کا مظہر ہیں۔

    رجب طیب اردوان نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات پر وزیراعظم عمران خان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاع، عسکری تربیت کے شعبوں میں تعاون گہری دوستی کا عکاس ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے، خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کا کردار بہترین ہے۔

    بعد ازاں ترک صدر رجب طیب اردوان اپنا دورہ پاکستان مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہوگئے۔

    خیال رہے کہ ترک صدر طیب اردوان 2 روزہ دورے پر 13 فروری کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تھے جہاں انہوں نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی جبکہ انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔

  • پاکستان اور ترکی کے درمیان عسکری تربیت سمیت 12 مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور ترکی کے درمیان عسکری تربیت سمیت 12 مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط

    اسلام آباد : پاکستان اور ترکی کے درمیان عسکری تربیت سمیت 12 مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط،اطلاعات کےمطابق ترک صدر طیب اردوان کے دورے کے موقع پر پاکستان اور ترکی کے درمیان عسکری تربیت سمیت 12 مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوئے۔

    پاکستان اور ترکی کی اسٹریٹجک تعاون کونسل کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور ترک صدر طیب اردوان نے ترکی کی نمائندگی کی۔اجلاس کے بعد باہمی تجارت کا حجم بڑھانے، ریلوے، ٹرانسپورٹ، پوسٹل سروسز، انفرااسٹرکچر، سیاحت، ثقافت اور خوراک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے 12 ایم او یوز پر دستخط کیے گئے۔

    پاکستان ٹیلی وژن اور ترک ٹی وی ٹی آر ٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کی طرف سے پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر منظور جبکہ ریڈیو کے شعبہ میں ڈی جی پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ثمینہ وقار نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔

    سیاحت اور ثقافت کے شعبے میں بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ ترکی حلال ایکریڈیٹیشن ایجنسی اور پاکستان نیشنل ایکریڈیٹیشن کے درمیان حلال اشیاءکی منظوری اور اس تناظر میں باہمی تعاون بڑھانے کیلئے یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ترکی ایرو اسپیس انڈسٹریز اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مابین دستخط ہوئے۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے یادداشت پر دستخط کیے۔

    پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت میں سہولت کاری کی مفاہمتی یادداشت اور دونوں ملکوں کے درمیان پوسٹل سروسز کے شعبہ میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت پر وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے دستخط کیے۔ریلوے کے شعبہ میں مفاہمت کی یادداشت پر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے دستخط کیے۔ عسکری تربیت کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے دستخط کیے۔

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاک ترک اکنامک فریم ورک سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کئے۔ بعد ازاں دونوں رہنماﺅں نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔

  • وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان کی ون آن ون ملاقات ، دنیا کاعمران اوراردوان کی ملاقات پردھیان

    وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان کی ون آن ون ملاقات ، دنیا کاعمران اوراردوان کی ملاقات پردھیان

    اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان کی ون آن ون ملاقات ، دنیا کاعمران اوراردوان کی ملاقات پردھیان،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ترک صدر طیب اردوان کی ون آن ون ملاقات ہوئی ، جس میں دو طرفہ امور،مسلم امہ کے مسائل ،خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر کا استقبال کیا ، جس کے بعد وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان کی ون آن ون ملاقات ہوئی، ملاقات میں دو طرفہ امور،مسلم امہ کے مسائل ،خطے کی صورتحال زیر غور آئی۔

    اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان سے تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا پاکستان کی ہر ممکن مدد کےلئے تیار ہیں ، میں اور عمران خان اکنامک اسٹریٹجی فریم ورک کا تاریخی معاہدہ کرنےجارہےہیں۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کیساتھ مختلف سطح پر تعلقات کو فروغ دے رہےہیں اور تجارت سمیت دیگر امور پر تعلقات کو آگے بڑھا رہےہیں ، مضبوط سیاسی اور تجارتی روابط کا دونوں ممالک کو فائدہ ہونا چاہیے، پاکستان اور ترکی کا تجارتی حجم تعاون اپنی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔

    انھوں نے کہا تھا ہم جانتے ہیں پاکستان میں آگے بڑھنےکی صلاحیت موجود ہے، اعلیٰ سطح پر دوروں سے تعاون کے نئے امکانات سامنے آتے ہیں، ترک تاجروں کو سی پیک پر بریفنگ دینےکی ضرورت ہے ، ترک سرمایہ کاروں کی سی پیک سےآگاہی کیلئے ہم مدد کو تیار ہیں۔

    رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی صحت کےشعبے میں مغرب کے کئی ممالک سے بہت آگےہے، پاکستان کیساتھ دفاعی شعبے میں تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے اور ٹرانسپورٹیشن ،صحت ، توانائی، تعلیم پرتعاون کررہےہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ترک سرمایہ کار پاکستان کےبنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری پر دلچسپی رکھتے ہیں، ہیلتھ کیئر کیلئے دنیا ترکی کا رخ کرتی ہے، ترکی نے جدید اسپتال تعمیر کئے ہیں ، ہیلتھ کیئر کیلئے پاکستانی عوام ترکی آسکتے ہیں۔

  • پاکستان برادر ملک  ترکی کے ساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    پاکستان برادر ملک ترکی کے ساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    پاکستان برادر ملک ترکی کے ساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    باغی ٹی وی :پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان ترکی کے ساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان خیالات کا اظہار ترک وزیر دفاع ہولوسی اقر سے ملاقات میں کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں دفاعی تعاون کو فروغ دینے پر بھی بات چیت کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ترک وزیر دفاع کے درمیان ملاقات میں باہمی دلچسپی اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے بھی غور کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان ترکی کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان ترکی کے ساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ترک وزیر دفاع ہولوسی اقر نے علاقائی امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ترک وزیر دفاع نے پاکستان کے ترکی کے ساتھ کھڑا ہونے کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکی بھی پاکستان کے ساتھ اسی طرح کھڑا رہے گا۔