Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان نے بھارت کے 4 رافیل طیارے گرائے وزیراعظم کا بڑا انکشاف

    پاکستان نے بھارت کے 4 رافیل طیارے گرائے وزیراعظم کا بڑا انکشاف

    وزیراعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے 3 نہیں بلکہ 4 رافیل طیارے مار گرائے، اور 10 مئی کو 1971ء کی جنگ کا بدلہ لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کی تحقیقات کی پیشکش قبول کرنے کے بجائے پاکستان پر حملہ کیا۔پاکستان نے بھارت کے 6 طیارے مار گرائے جن میں 4 رافیل شامل تھے۔ہم نے 10 مئی کو بھارت سے 1971 کا حساب چکا دیا۔ اب بھارت دوبارہ حملہ نہیں کرے گا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو پہلگام واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی، مگر بھارت نے تحقیقات کے بجائے جارحیت کا راستہ اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی رویے نے کئی ممالک کو پاکستان کے مؤقف پر نیوٹرل کر دیا۔ پاکستان قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کے لیے تیار ہے۔پانی، دہشتگردی اور تجارت جیسے معاملات پر بھارت سے بات چیت کرنا چاہتا ہےلیکن کشمیر کے بغیر بھارت سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مودی کے شکست خوردہ بیانات کا جواب دینا ہم مناسب نہیں سمجھتے۔بجٹ سے متعلق آئی ایم ایف سے بات چیت کامیاب ہوچکی ہے۔حکومت نے معاشی استحکام حاصل کرلیا ہے، اب اگلا ہدف معاشی ترقی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کے اس بیان سے واضح ہے کہ حکومت دفاع، سفارت کاری اور معیشت تینوں محاذوں پر فعال اور پراعتماد پالیسی اپنا رہی ہے۔

    عید کے کپڑے نہ ملے، 3 جانیں چلی گئیں؛ بھوک سے بزرگ خاتون جاں بحق

    عمر ایوب کے خلاف اثاثے چھپانے کا ریفرنس 4 جون کو سماعت کے لیے مقرر

    کراچی ڈیفنس تشدد کیس: متاثرہ نوجوان اور خاندان گھر چھوڑ کر چلے گئے

  • بلوچستان پاکستان سے الگ نہیں ہو سکتا، دہشتگردی بھارت اسپانسر کر رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بلوچستان پاکستان سے الگ نہیں ہو سکتا، دہشتگردی بھارت اسپانسر کر رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، یہ کبھی الگ نہیں ہو سکتا، صوبے میں دہشتگردی کے پیچھے کوئی نظریہ یا عوامی حمایت نہیں، بلکہ یہ بھارتی سرپرستی میں پھیلایا جانے والا فتنہ ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ہلال ٹالکس 2025 کے دوران اساتذہ سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچ، پنجابی، سندھی، پختون، کشمیری سب ایک ہیں، اور ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔ بھارت پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے، اور بلوچستان میں دہشتگردی کو بھی وہی اسپانسر کر رہا ہے۔بھارت بلوچستان میں دہشتگرد تنظیموں کو مالی معاونت، ٹریننگ اور بیرون ملک سہولیات فراہم کرتا ہے، اسی بنیاد پر اس دہشتگردی کو "فتنتہ الہندوستان” قرار دیا گیا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ اگر بلوچستان میں ترقی ہوئی تو بھارت کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا، کیونکہ تعلیم، روزگار اور شعور آنے سے نوجوان دہشتگردی کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ دہشتگردوں کا آلہ کار نہ بنیں بلکہ علم، ٹیکنالوجی اور شعور کی روشنی پھیلائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے امیر صوبہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    بھارت کی پراکسیز اور جھوٹے مفروضے بے نقاب

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بی ایل اے اور دیگر تنظیمیں بھارتی پراکسی ہیں، ان کے لیڈر بھارت میں ہیں اور بیرونِ ملک جلسوں کے اخراجات بھی وہی اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے ایک معروف بلوچ خاتون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اسکالرشپ پر پڑھی ہیں تو مہنگے یورپی ٹورز کے اخراجات کون کر رہا ہے؟

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملے کے لیے پانچ مفروضے بنائے تھے، جن میں عوام اور فوج میں خلیج کا دعویٰ، بیرونی حمایت کا نہ ہونا، اور دہشتگردوں کی جانب سے اندرونی محاذ کھڑا ہونے جیسے نظریات شامل تھے، لیکن یہ سب مفروضے مٹی میں مل گئے۔

    عوام اور افواج کے درمیان فاصلہ نہیں

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کی فوج اور عوام کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں، یہ عوام کی فوج ہے جو عوامی خدمت، آفات سے نمٹنے اور دہشتگردی کے خلاف ہر میدان میں فرنٹ پر موجود ہے۔

    کشمیر بنے گا پاکستان، یہ ہمارا ایمان ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیری عوام نے خود فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں، کیونکہ دونوں کا تعلق خون، تہذیب اور مذہب سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ "کشمیر بنے گا پاکستان” صرف نعرہ نہیں، یقین ہے۔

    ہلال ٹالکس 2025 میں ملک بھر سے آئے ہوئے 1950 اساتذہ شریک ہوئے، جس کا مقصد ملک دشمن پروپیگنڈے سے آگاہی اور سوشل میڈیا پر عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔ پروگرام میں معروف صحافی، دانشور اور تعلیمی ماہرین بھی شریک تھے۔

  • یوکرین کا روس پرسب سے بڑا ڈرون حملہ: عالمی سطح پر نیوکلیئر جنگ کا خطرہ؟

    یوکرین کا روس پرسب سے بڑا ڈرون حملہ: عالمی سطح پر نیوکلیئر جنگ کا خطرہ؟

    یوکرین نے روس کے دو حساس اور دور دراز ملٹری ایئر بیسز پر "آپریشن اسپائیڈر ویب” کے نام سے ایک غیر معمولی اور خفیہ ڈرون حملہ کر کے دنیا بھر کو حیران کر دیا۔ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب عالمی برادری ترکی میں روس-یوکرین مذاکرات سے امن کی امید باندھ رہی تھی۔ تاہم اس حملے نے حالات کو مزید خطرناک رخ دے دیا ہے۔

    سینئر صحافی اور اینکر مبشر لقمان کے انکشافات کے مطابق یوکرین نے ہزاروں کلومیٹر دور سائبریا اور آرکٹک ریجن میں روسی ایئر بیسز پر FPV ڈرونز سے حملہ کیا۔ یہ ڈرونز یوکرین سے روانہ نہیں ہوئے بلکہ unmarked وینز کے ذریعے روسی کھیتوں میں چھپا کر لانچ کیے گئے، جس نے روس کی دفاعی لائنز کو بری طرح ناکام کر دیا۔ ان حملوں میں روس کے اربوں ڈالر کے ملٹری اثاثے تباہ ہوئے اور 34 فیصد اسٹریٹجک کروز کیریئرز کو نقصان پہنچا۔

    یوکرین کی SBU انٹیلیجنس ایجنسی نے اس آپریشن کی تصدیق کی ہے، جس میں چار اہم ملٹری ایئر فیلڈز پر چالیس سے زائد جنگی اور جاسوسی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں روسی میڈیا اور دفاعی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے، اور صدر ولادیمیر پیوٹن نے فوری طور پر نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    روسی دفاعی تجزیہ کاروں اور پرو-کریملن میڈیا میں اس حملے کے بعد نیوکلیئر ردعمل کی باتیں زور پکڑ چکی ہیں۔ مبشر لقمان کے مطابق روس کی نیوکلیئر ڈاکٹرین میں واضح ہے کہ اگر ملکی عسکری انفراسٹرکچر کو سنگین نقصان پہنچے تو نیوکلیئر ہتھیاروں کا استعمال جائز ہو جاتا ہے۔

    لقمان نے اس حملے کو "روس کا پرل ہاربر” قرار دیا ہے، جبکہ ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپنز کے استعمال کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا جا رہا۔ یہ ہتھیار محدود فاصلے پر تباہی مچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن تابکاری کے اثرات عالمی ماحول پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

    یوکرین کا یہ قدم، بقول تجزیہ کاروں کے، نہ صرف ایک عسکری فتح ہے بلکہ یہ مغربی دنیا کی روس مخالف حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ برطانیہ سمیت بعض یورپی ممالک کا نام بھی سامنے آ رہا ہے جو یوکرین کی پس پردہ مدد کر رہے ہیں۔

    اگر روس کی طرف سے نیوکلیئر ردعمل سامنے آتا ہے تو یہ نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ حالات نہایت نازک ہو چکے ہیں اور دنیا ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے۔

    پاکستان میں مئی کے دوران دہشتگردی میں معمولی اضافہ، بڑی کارروائیاں ناکام

    یوکرین کے ڈرون حملے: روس کے سائبیریا میں 40 سے زائد جنگی و جاسوس طیارے تباہ

    مائیکروسافٹ کی حمایت یافتہ برطانوی اے آئی اسٹارٹ اپ دیوالیہ ہو گیا

    پاکستان کی شاندار فتح، محمد حارث کی سنچری سے بنگلہ دیش کو کلین سوئپ

  • پاکستان میں مئی کے دوران دہشتگردی میں معمولی اضافہ، بڑی کارروائیاں ناکام

    پاکستان میں مئی کے دوران دہشتگردی میں معمولی اضافہ، بڑی کارروائیاں ناکام

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مئی 2025 کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے 85 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں 113 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 182 افراد زخمی ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باوجود عسکریت پسند گروہ ملک میں بڑی کارروائیاں کرنے میں ناکام رہے۔پی آئی سی ایس ایس کے مطابق جاں بحق افراد میں 52 سیکیورٹی اہلکار، 46 عام شہری، 11 عسکریت پسند اور 4 امن کمیٹی کے اراکین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 130 عام شہری، 47 سیکیورٹی اہلکار، 4 عسکریت پسند اور ایک امن کمیٹی کا رکن شامل ہے۔

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں
    مئی میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے آپریشنز میں 59 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ 52 کو گرفتار کیا گیا۔ ان کارروائیوں میں 5 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 7 زخمی ہوئے، جبکہ 5 عسکریت پسند بھی زخمی ہوئے۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبے رہے۔ ملک بھر میں ہونے والے 85 حملوں میں سے 82 انہی دو صوبوں میں پیش آئے۔بلوچستان میں 35 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 51 افراد جاں بحق اور 100 زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 30 عام شہری، 18 سیکیورٹی اہلکار اور 3 عسکریت پسند شامل ہیں۔ خضدار میں آرمی پبلک اسکول کی بس پر خودکش حملے میں 8 طالبات سمیت 10 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے۔

    خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں 22 حملوں میں 45 افراد جان سے گئے، جن میں 23 سیکیورٹی اہلکار، 12 عام شہری، 6 عسکریت پسند اور 4 امن کمیٹی کے اراکین شامل تھے، جبکہ 58 افراد زخمی ہوئے۔مرکزی خیبر پختونخوا میں 25 حملے ریکارڈ ہوئے، جن میں 14 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوئے۔

    سندھ میں 3 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 2 عام شہری اور 1 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کوئی دہشت گرد حملہ رپورٹ نہیں ہوا، تاہم پنجاب میں 39 مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔ آزاد کشمیر کے علاقے راولا کوٹ میں ایک کارروائی کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے 4 دہشت گرد مارے گئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل کے مقابلے میں مئی میں دہشت گرد حملوں میں 5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں میں 78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں 68 فیصد کمی آئی، جو اپریل میں 203 سے کم ہوکر مئی میں 65 رہ گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق اگرچہ حملوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے، تاہم سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں نے عسکریت پسندوں کو بڑے نقصانات سے دوچار کیا اور ان کی بڑی کارروائیاں ناکام بنائیں۔

    مائیکروسافٹ کی حمایت یافتہ برطانوی اے آئی اسٹارٹ اپ دیوالیہ ہو گیا

    پاکستان کی شاندار فتح، محمد حارث کی سنچری سے بنگلہ دیش کو کلین سوئپ

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکے، شہری خوفزدہ ہوکر گھروں سے باہر نکل آئے

    روس نے ماسکو میں افغان سفیر کی نامزدگی باضابطہ طور پر قبول کر لی

    تونسہ: پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلہ، 4 دہشت گرد ہلاک

  • وزیراعظم کا بلوچستان کے لیے 250 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان

    وزیراعظم کا بلوچستان کے لیے 250 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام میں سے بلوچستان کا حصہ 250 ارب روپے ہوگا، اور ضروری ہے کہ یہ فنڈز مکمل شفافیت کے ساتھ استعمال کیے جائیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کوئٹہ میں بلوچستان گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس میٹنگ میں شرکت کے موقع پر مشکور ہیں اور تمام شرکاء کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ 6 اور 7 مئی کو بھارت کی جانب سے کیے گئے حملے کے دوران پاک فوج کی بہادری اور پیشہ ورانہ کارکردگی کے باعث دشمن کو ایسی شکست دی گئی جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ اس موقع پر انہوں نے بلوچستان سمیت تمام صوبوں کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے افواج پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ وہ ان واقعات کے خود عینی شاہد ہیں، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرأت مندانہ قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف جنگ جیتی بلکہ 1971 کے دکھ کا ازالہ بھی کیا۔ پاکستان نے جب ایٹمی طاقت بننے کا فیصلہ کیا تو پانچ بھارتی دھماکوں کے جواب میں چھ دھماکے کیے، اور یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے نواز شریف کے ہاتھوں کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد کوئٹہ میں مقامی رہنماؤں نے قائداعظم کی قیادت کو تسلیم کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنایا۔ اگر کسی کو شکوہ ہے تو اُسے بھائی چارے کے ماحول میں بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔دہشت گرد عناصر پاکستان کے دشمنوں کے آلہ کار ہیں اور ملک کی ترقی کے مخالف ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اگر کوئی خامی ہے تو وہ بلوچستان کے مشورے سے دُور کی جائے گی۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ماضی میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب نے اپنے حصے سے بلوچستان کو حصہ دیا، جس کی بنیاد پر 2010 میں این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق ہوا۔ نواز شریف کے دور میں بلوچستان میں نمایاں ترقی ہوئی اور اب نئے بجٹ میں 250 ارب روپے بلوچستان کے لیے رکھے گئے ہیں۔چند ماہ قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ اٹھا کر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے کمی کی گئی، جو تقریباً ڈیڑھ ارب روپے بنی، اور یہ رقم این-25 ہائی وے کی اپ گریڈیشن کے لیے مختص کی گئی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بدامنی اور ترقی ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ بلوچستان کی جغرافیائی وسعت ایسی ہے کہ یہاں ترقی کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی حکومت بلوچستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاشی یا سماجی ناانصافی کا تصور بھی نہیں رکھتی۔جو لوگ راہ بھٹک چکے ہیں، انہیں سب کو مل کر واپس لانا ہوگا تاکہ ملک میں مکمل امن اور خوشحالی کا قیام ممکن ہو سکے۔

    کوئٹہ ، کوئلہ کان پر حملہ، قبائلی رہنما بھائی سمیت جاں بحق، 11 افراد زخمی

  • بلوچستان میں دہشت گرد حملے، بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہد

    بلوچستان میں دہشت گرد حملے، بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہد

    فتنہ الہندوستان کے بلوچستان میں دہشت گرد حملے، بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہدسامنے آ گئے

    معرکہ حق میں ناکامی کی ہزیمت چھپانے کے لیے بھارت نے اپنی پراکسیز کا بے دریغ دوبارہ استعمال شروع کر دیا، بلوچستان میں بھارتی سرکردہ فتنہ الہندوستان معصوم بلوچوں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانے لگی،بھارت منظم منصوبے کے ساتھ سپانسرڈ دہشت گردوں سے بلوچستان میں حملے کروا رہا ہے، مزدوروں کا ناحق قتل، جعفر ایکسپریس ٹرین، اے پی ایس بس خصدار اور سوراب حملہ اسی سلسلے کی کڑی ہے ،فتنہ الہندوستان کے حملے کے بعد بھارتی میڈیا پر وار فیئر چلنا شروع ہو جاتی ہے، فتنہ الہندوستان کے بلوچستان میں ہر حملے کے بعد بھارتی میڈیا اسے خوب اچھالتا ہے، ہر حملے سے پہلے اور بعد میں بھارتی سوشل میڈیا ان خبروں کو پھیلاتا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پوری طرح متحرک نظر آتے ہیں ،جعفر ایکسپریس حملے کے بعد بھارتی میڈیا نے جعلی اور اے آئی ویڈیوز تک چلائیں، یہ تمام شواہد فتنہ الہندوستان کے ہر حملے کی منظم بھارتی منصوبہ بندی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں، فتنہ الہندوستان کے ہر حملے پر بھارتی میڈیا کا پروپگنڈادہشت گردوں کے بیانیے کو سپورٹ کرتا ہے ،

    دوسری جانب سوراب کی عوام فتنہ ال ہند کی سفاک دہشت گردی کے خلاف سراپا احتجاج ہے،سوراب میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی جانب سے نہتے شہریوں، خواتین اور بچوں پر حملے کے خلاف بلوچ عوام رات گئے سڑکوں پر نکل ائی۔عوام کا کہنا ہے ہماری سرزمین پر بیرونی آلہ کاروں کی بزدلانہ کاروائیاں ناقابلِ برداشت ہیں۔ شہید ہدایت اللہ بلوچ ہمارا فخر ہے، ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔عوام نے حکومت بلوچستان اور سیکورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ بھارتی ایجنسیوں کے پے رول پر چلنے والی بی ایل اے جیسے فتنہ ال ہند کو مکمل طور پر کچلا جائے اور ان دہشتگردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے جو معصوم بلوچ عوام کا آے روز خون بہا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع سوراب میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے ایک بزدلانہ حملہ کیا۔ 50 سے زائد دہشت گردوں نے شہری علاقوں، سرکاری عمارتوں اور معصوم بلوچ عوام کو نشانہ بنایا، جس میں اے ڈی سی ریونیو ہدایت بلیدی نے دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، قوم ان کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔یہ حملہ نہ صرف ریاستی رٹ پر حملہ ہے، بلکہ بلوچستان کے پرامن عوام کی عزت و حرمت، چادر اور چاردیواری کی پامالی بھی ہے۔ جلتے گھروں میں خواتین اور بچے محصور ہیں، جس کی ہر ذی شعور شخص مذمت کرتا ہے۔ریاست پاکستان ایسے بزدل عناصر اور ان کے بیرونی سرپرستوں کو خبردار کرتی ہے کہ دہشت گردی کی ہر کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری رسپانس دیتے ہوئے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے، اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ متعدد دہشت گرد موقع سے فرار ہو گئے ہیں، جن کی تلاش اور گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔یہ بات اب عالمی برادری کے لیے بھی ناقابلِ انکار ہے کہ بھارت بلوچستان میں ریاست مخالف دہشت گردی کو منظم انداز میں ہوا دے رہا ہے۔ ایسے عناصر اور ان کے ہینڈلرز کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔ریاست پاکستان، بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز متحد ہیں۔ دشمن کے ہر وار کا جواب اتحاد، قربانی اور عزم سے دیا جائے گا۔

  • پاکستان نے بھارتی طیارے گرائے،بھارتی جنرل انیل چوہان کا اعتراف

    پاکستان نے بھارتی طیارے گرائے،بھارتی جنرل انیل چوہان کا اعتراف

    بھارتی مسلح افواج کے سربراہ جنرل انیل چوہان نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ بھارت نے مئی میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں نامعلوم تعداد میں لڑاکا طیارے کھوئے۔ تاہم، انہوں نے اس تاثر کو رد کر دیا کہ یہ چار روزہ جنگ جوہری تصادم کے قریب پہنچی تھی۔

    سنگاپور میں جاری "شنگریلا ڈائیلاگ” میں بلوم برگ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل چوہان نے کہا، "اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں گرائے گئے۔” انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ بھارت نے کتنے طیارے کھوئے۔جنرل چوہان کا کہنا تھا، "اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم نے کون سی ٹیکنیکل غلطیاں کیں، ان کی نشاندہی کی، اصلاح کی اور پھر دو دن بعد دوبارہ کامیابی سے کارروائی کی۔ ہم نے تمام لڑاکا طیارے دوبارہ فضاء میں بھیجے اور طویل فاصلے کے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔”

    یہ بیان بھارتی فوج یا حکومت کی جانب سے سب سے براہ راست اعتراف ہے جو اس مہینے کے آغاز میں پاکستان سے ہونے والی شدید جھڑپوں کے دوران لڑاکا طیاروں کے نقصان سے متعلق سامنے آیا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے چھ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں، بھارت کی حکومت نے اس سے قبل طیارے گنوانے یا نہ گنوانے سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔

    یہ جھڑپ دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان گزشتہ پچاس برسوں کی بدترین جھڑپ قرار دی جا رہی ہے، جس میں دونوں طرف سے فضائی، ڈرون، میزائل، توپ خانے اور چھوٹے ہتھیاروں کا تبادلہ ہوا۔ جھڑپ کی ابتدا 22 اپریل کو پہلگام میں ایک حملے سے ہوئی جس میں 26 شہری مارے گئے۔

    جنرل چوہان سے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر تبصرہ مانگا گیا کہ امریکہ نے جوہری جنگ کو روکا، تو انہوں نے کہا کہ "یہ دعویٰ بعید از قیاس ہے کہ کوئی فریق جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے قریب تھا۔”میرے ذاتی خیال میں روایتی جنگی کارروائیوں اور جوہری دہلیز کے درمیان کافی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان کے ساتھ رابطے کے تمام ذرائع کھلے تھے تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔” ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے پاس کئی ایسے آپشنز موجود تھے جو مکمل جنگ سے پہلے آزما سکتے تھے۔

    جنرل چوہان نے کہا کہ جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اس کا دار و مدار پاکستان کے رویے پر ہے۔ "ہم نے واضح سرخ لکیریں کھینچ دی ہیں، اور اب یہ پاکستان پر ہے کہ وہ انہیں عبور کرتا ہے یا نہیں۔”انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر اپنا موقف پیش کر رہا ہے اور دنیا کو یہ باور کروا رہا ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے

  • پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں، ٹرمپ

    پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں، ٹرمپ

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں، جنوبی ایشیائی ملک ٹیرف سے متعلق معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    جوائنٹ بیس اینڈریوز پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نےکہا کہ وہ بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ کام کررہے ہیں، امریکا اس وقت بھارت سے ڈیل کرنے کے بہت قریب ہے جبکہ پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں، انہیں دونوں ملکوں میں سے کسی ایک سے بھی ڈیل میں دلچسپی نہ ہوتی اگر وہ ایک دوسرے سے جنگ کرتے اور انہوں نے یہ بات دونوں ملکوں پر واضح کردی تھی، انہیں فخر ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ ڈیل کررہے ہیں اور اس بات پر بھی کہ امریکا نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ گولیوں کے بجائے تجارت کے ذریعے روک لی ہے، عام طور پر یہ ملک گولیاں کا تبادلہ کرتے ہیں تاہم ہم تجارت کرتے ہیں اور اس لیے انہیں یہ جنگ تجارت کے ذریعے روکنے پر بہت فخر ہے۔

    امریکی صدر نے شکوہ کیا کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ امریکا کی جانب سے روکنے پر کوئی بات نہیں کرتا، اور کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بہت بری جنگ ہو رہی تھی اور اگر اب آپ دیکھیں تو معاملات ٹھیک ہوچکے ہیں۔

    خبرایجنسی کے مطابق پاکستان کو برآمدات پر امریکا کی جانب سے 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہےکیونکہ پاکستان کا تجارتی سرپلس 3ارب ڈالر ہے، جبکہ بھارت کو امریکا شپمنٹ پر 26فیصد ٹیرف کا سامنا ہے،وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے صدرٹرمپ کے بیان سے ایک روز پہلے کہا تھا کہ انکا امریکا کے تجارتی نمائندے سفیر جیمیسن گریئر سے رابطہ ہواہے، اسطرح پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی ٹیرف پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے،محمد اورنگزیب کے مطابق اس رابطے میں دونوں فریقین نے تعمیری ماحول میں اپنے نقطہ نظر کا تبادلہ کیا اورآئندہ چند ہفتوں میں تکنیکی سطح پر تفصیلی مذاکرات پر اتفاق کیاہے، فریقین نے مذاکرات کو جلد از جلد کامیابی سے مکمل کیے جانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

    بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے حال ہی میں واشنگٹن کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی امور پربات کی تھی، امکان ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدہ پر جولائی کے اوائل میں دستخط ہوجائیں گے،خبرایجنسی کے مطابق ٹریڈ ڈیل کیلئے بھارت کی جانب سے امریکی کمپنیوں کو 50 ارب ڈالر مالیت کے کنٹریکٹ دیے جانے کا امکان ہے۔

    اینڈریوز ائربیس پر میڈیا سے بات کرنے سے پہلے صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں ایلون مسک کی موجودگی میں بھی پاکستان اوربھارت ہی کی صورتحال پربات کی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور بھارت کو جنگ سے روکا، دونوں ملکوں کے درمیان یہ کشیدگی جوہری تباہی کا باعث بن سکتی تھی،صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی پر وہ پاکستان اوربھارت کے رہنماؤں کے شکر گزار ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح کیا ہےکہ ان لوگوں کے ساتھ تجارت نہیں کرسکتے جو ایک دوسرے پر گولیاں برسا رہے ہوں، اگر بھارت اور پاکستان لڑ رہے ہوں تو انہیں ان دونوں ممالک سے ٹریڈ معاہدہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    صدرٹرمپ اب تک دس بار یہ کہہ چکےہیں کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ رکوائی ہے اوراس کے لیے انہوں نے تجارت کو ہتھیار بنایا ہے۔

    دنیا اس بات سے بھی واقف ہے کہ پاکستان مسلسل امن کی وکالت کر رہا ہے جبکہ مودی سرکار نے پاکستان پر بلااشتعال جنگ مسلط کی تھی اور 5 طیاروں اور ایک ڈرون تباہ ہونے، ایس فورہنڈریڈ کو نقصان پہنچنے اور پاکستان پر حملے کے لیے استعمال تمام ہوائی اڈوں پر بمباری کے بعد جنگ بندی پر مجبور ہوا تھا،اس کے باوجود مودی سرکار اشتعال انگیزی سے باز نہیں آرہی اور حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستانیوں کیلئے انکے پاس گولیاں تو ہیں ہی۔

    اس تناظر میں دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان پر یہ واضح کردیا ہے کہ انہیں دونوں میں سے کسی ایک سے بھی ڈیل میں دلچسپی نہ ہوتی اگر وہ ایک دوسرے سے جنگ کرتے، یہ اشارہ پاکستان کی نہیں واضح طور پر بھارت کی جانب ہے، یعنی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے سبب بھارت کو امریکا میں بھی ہزیمت اٹھانا پڑ رہی ہے۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ، طلبا و فیکلٹی سے خطاب

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ، طلبا و فیکلٹی سے خطاب

    چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے آج کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اسٹوڈنٹ افسران اور فیکلٹی سے خطاب کیا۔اس موقع پر کوئٹہ پہنچنے پر آرمی چیف کا استقبال کور کمانڈر کوئٹہ اور کمانڈنٹ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج نے کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف نے آپریشن "بنیان مرصوص” کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی قیادت کے تحت پاکستانی عوام مادرِ وطن کے دفاع کے لیے فولادی دیوار بن گئے۔ انہوں نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "معرکۂ حق” میں کامیابی ہماری قومی عزم، اتحاد، اور قومی طاقت کے تمام عناصر کی ہم آہنگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن کی ہر چال کو ناکام بنایا جائے گا۔

    انہوں نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹیجک استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا اور بھارت کی جانب سے آبی دہشت گردی کو غیرقانونی اور ناقابل قبول قرار دیا۔آرمی چیف نے پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیوں میں بھارتی ریاستی کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر اعتماد ظاہر کیا کہ قوم دہشتگردی کی تمام اقسام کے خلاف کامیابی حاصل کرے گی۔

    قیادت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے طلباء افسران کو اپنے فرائض جذبے، عزم اور دیانتداری سے ادا کرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے تخلیقی سوچ اور تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کو مستقبل کے عسکری رہنما تیار کرنے پر سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تربیت موجودہ حالات کی عکاسی کے ساتھ ساتھ مستقبل کے میدانِ جنگ کے لیے بھی ہمیں تیار کرے — جو چُستی، جدت اور ناقابل شکست عزم کا تقاضا کرتا ہے۔”

    بلوچستان کے شہر سوراب پر بی ایل اے کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کا کامیاب جوابی آپریشن

    دفاع اور وفا کرنے والوں کی کردار کشی بدترین جرم ہے۔ ملی ادبی پنچائیت

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    غزہ کی پوری آبادی قحط کے خطرے میں مبتلا ہے، اقوام متحدہ

    لیہ: مریم نواز کا لیپ ٹاپ و اسکالرشپ اسکیم کا آغاز، طلبہ کا پرتپاک استقبال

  • بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے سڑکیں بند کرنے، تعلیمی ادارے جلانے، اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کو پاکستان نے دہشت گردی قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق بی ایل اے آزادی کے نام پر بلوچستان میں دہشت و خوف کی فضا قائم کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیم عوام کے نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سرگرم ہے۔ترجمان کے مطابق سوراب پر کنٹرول کا دعویٰ دراصل یرغمالی بنانے، سرکاری املاک کو آگ لگانے، اور مقامی آبادی کو ہراساں کرنے کا کھلا اعتراف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کی یہ بوکھلاہٹ دراصل ان کی ناکامی کا اظہار ہے۔

    جب پاکستان حکومت بلوچستان میں اسکولز، سڑکیں اور انفرا اسٹرکچر تعمیر کر رہی ہے، تو بی ایل اے انہیں تباہ کر کے عوام دشمنی کا ثبوت دے رہی ہے۔ یہ بغاوت نہیں بلکہ کھلی تخریب کاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کسی آزادی تحریک کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی پراکسی ملیشیا ہے، جو فتنہ و فساد پھیلانے میں مصروف ہے۔ "فتنۃ الہند” کو نہ صرف زمین پر بلکہ دلوں اور تاریخ میں بھی شکست دی جائے گی۔

    ترجمان نے کہا کہ بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز دہشتگردی کے کھلے اعترافات پر مشتمل ہیں، جن میں پولیس اسٹیشنز پر قبضے، عوامی راستوں کی بندش اور شہریوں کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ادارے علاقے کا کنٹرول بحال کر رہے ہیں، اور بی ایل اے کے مسلح عناصر راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان دہشتگردوں کو فرار نہ ہونے دیں۔

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سرزمین پر صرف امن، ترقی اور قومی پرچم کا راج ہو گا۔ جہاں پاکستان کا پرچم لہرائے گا، وہاں بی ایل اے کا جھوٹ دفن ہو گا۔