Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • یومِ تکبیر پر مسلح افواج اور سروسز چیفس کی قوم کو مبارکباد

    یومِ تکبیر پر مسلح افواج اور سروسز چیفس کی قوم کو مبارکباد

    یومِ تکبیر کے موقع پر مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیفس نے پاکستانی عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع کے لیے مکمل تیار اور پُرعزم ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق یومِ تکبیر 1998ء کے اُس تاریخی لمحے کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کامیابی سے جوہری تجربات کے بعد دنیا کی ساتویں اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت کے طور پر ابھرا۔ اس اقدام نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن بحال کیا اور پاکستان نے اپنے دفاع کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا پیغام دیا۔

    آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیت ایک "قومی امانت” ہے جو قوم کی اجتماعی امنگوں کی عکاس ہے۔ اس کارنامے کے پیچھے دور اندیش قیادت، قابل سائنسدانوں اور محنتی انجینئرز کا کردار قابلِ فخر ہے جنہوں نے ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔

    ادارے کے مطابق یومِ تکبیر نہ صرف پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کی تجدید ہے بلکہ یہ دن مؤثر اور قابلِ اعتبار "کم از کم ڈیٹرنس” کے نظریے کی توثیق بھی کرتا ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہے اور خطے میں امن اور تزویراتی استحکام کی ضامن ہے۔

    بیان کے آخر میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس دن ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم مادرِ وطن کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد، چوکس اور پُرعزم رہیں گے۔ مسلح افواج ان تمام قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں جن کی بدولت پاکستان نے یہ سنگِ میل عبور کیا۔ ہم استحکام اور خود انحصاری کے اس سفر کو مزید تقویت دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    نواز شریف کی زیر نگرانی بنیان المرصوص ہوا، پی ٹی آئی ڈرامہ کہتی رہی،عظمیٰ بخاری

    ٹرمپ انتظامیہ کا ہارورڈ یونیورسٹی سے تمام معاہدے منسوخ کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد اور کراچی میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ، دو شہید، ایک زخمی

    ادب کا روشن چراغ، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)

    کراچی کے نالوں میں کچرا پھینکنے پر مکمل پابندی، دفعہ 144 نافذ

    بھارت میں بس پر حملہ،فوجی اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک

  • وزیراعظم  کی آذربائیجان کے صدر سے اہم ملاقات،  تعلقات میں نیا باب

    وزیراعظم کی آذربائیجان کے صدر سے اہم ملاقات، تعلقات میں نیا باب

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علییوف سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی استحکام، اقتصادی و دفاعی تعاون اور بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کی حکومت اور عوام کا پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف حالیہ تنازعے میں آذربائیجان کی حمایت نے پاکستانی عوام کے دل جیت لیے۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مختلف شعبوں خصوصاً معاشی، دفاعی اور ثقافتی میدان میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

    مستقبل میں مزید پیشرفت کے لیے دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقاتیں جلد منعقد کی جائیں گی تاکہ سرمایہ کاری، تجارتی روابط اور مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد کو فروغ دیا جا سکے۔دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور عالمی فورمز پر اصولی مؤقف کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشوں پر زور دیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے لاچین کا دورہ کیا، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اجلاس میں صدر رجب طیب اردوان اور صدر الہام علییوف بھی شریک ہوں گے۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وفد میں شامل ہیں.

    یاد رہے کہ یہ ملاقات وزیراعظم کے چار ملکی دورے کا حصہ ہے جس میں وہ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کر چکے ہیں۔ترکیہ میں صدر رجب طیب اردوان سے بھی اہم ملاقاتیں کر چکے ہیں۔آئندہ مرحلے میں تاجکستان میں گلیشیئرز کانفرنس اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سفارتی سرگرمیاں پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہیں۔

    نریندر مودی بالآخر اپنی اوقات پر آگئے: وزیر دفاع خواجہ آصف کا سخت ردعمل

    راہول گاندھی کی مودی حکومت پر تنقید،بھارت عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے

    مودی حکومت کی ہٹ دھرمی،کرتارپور راہداری بدستور بند

    راہول گاندھی کی مودی حکومت پر تنقید،بھارت عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے

  • بلوچستان سے بڑا بھارتی نیٹ ورک پکڑا گیا

    بلوچستان سے بڑا بھارتی نیٹ ورک پکڑا گیا

    بلوچستان میں بھارت کا بڑا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے ۔ کڑی نگرانی اور جدید تفتیشی طریقوں نے ایک اور بھارتی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حالیہ چھاپوں میں اُن 9افراد کو گرفتار کیا جو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی پشت پناہی سے چلنے والی دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان بی ایل اے کیلئے مخبری اور لوجسٹکس کا کام کر رہے تھے۔ ان کے قبضے سے سیٹلائٹ فونز، ہندوستانی سِم کارڈز اور غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی ہے اور بھارت کی ایما پر یہ دہشت گردی کا بڑا حملہ کرنے کی پلاننگ کررہے تھے ۔

    گرفتار شدگان کی تفصیلی پروفائل ظاہر کرتی ہے کہ یہ کوئی عام افراد نہیں تھے بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ تھے جو فتنۂ الہندوستان بی ایل اے کے لیے سرگرمِ عمل تھے۔ کلی داتو مستونگ سے تعلق رکھنے والے عابد حسین دہشت گرد تنظیم کا لاجسٹک فنانسر تھا، جس کے قبضے سے ایک سیٹلائٹ فون (SIM: +881…) اور CPEC روٹ میپ والی ڈرائیو برآمد ہوئی۔

    عبدالرزاق، کلی منگلاباد کوئٹہ سے سگنل رنر کے طور پر کام کر رہا تھا، اس کے پاس سے 27 خفیہ آڈیو کلپس والی فلیش ڈرائیو برآمد ہوئی۔ اسی علاقے سے تعلق رکھنے والا محمد اسحاق موٹر سائیکل پر مشکوک سرگرمیوں کی ریکی کرتا تھا، جس کے پاس سے VR گوگل میپ کی آفلائن فائلیں ملیں۔ادھر عبدالمجید ، جو خضدار کے علاقے گازگی کا رہائشی ہے، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کا مرکزی چہرہ تھا اس کے ڈیجیٹل آلات سے بی ایل اے کے فیک اکاؤنٹس کی فہرست ملی۔ جئند ولد لیاقت کیچ کے علاقے بغ میری سے، چیٹ موڈیولیٹر کے طور پر متحرک تھا اور اس کے لیپ ٹاپ سے پراجیکٹ نترَاج کا مکمل سورس کوڈ حاصل ہوا جو بھارتی انٹیلی جنس سے تعلق ظاہر کرتا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ صفی اللہ ولد غلام نبی، مستونگ کے علاقے کڈکوچہ سے، ہاؤس فنانس چینل چلا رہا تھا جس کے ذریعے دہشت گردی کی فنڈنگ کی جاتی تھی؛ اس کے اکاؤنٹ سے دبئی کے FZE والیٹ کے ذریعے 38,000 امریکی ڈالر کی ٹرانزیکشن کا سراغ ملا۔ آخر میں گوہر بخش، سردشت کلانچ پسنی سے، ساحلی نگرانی کے لیے ڈرون آپریٹر کے طور پر کام کر رہا تھا، جس کے قبضے سے بندرگاہ کی حساس ویڈیو فیڈز پر مشتمل ڈرون کلپس برآمد کیے گئے۔ ان تمام افراد کی گرفتاری سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک مربوط نیٹ ورک تھا جو پاکستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی عالمی سازش میں سرگرم تھا۔

    ان چھوٹے مگر طاقت ور تھریا سیٹس پر سرگرم +881 سیریز کے نمبروں کی کل 312 کالیں ریکارڈ ہوئیں جن میں سے 47 براہِ راست ہندوستان کے راجستھان علاقے کی بی ایل اے سپلائی لائن میں سرگرم فیلڈ کمانڈر کودنیم دُرگا شنکر کو گئی تھیں۔ انٹر سروسز سائبر ڈویژن کی ڈیپ پیکٹ انالیٹکس کے مطابق ایک مخصوص کال میں 14 اگست 2025 (یومِ آزادی) کو گوادر-کراچی CPEC کارواں پر بیک وقت تین وی بی آئی ایِڈی دھماکوں کی ہدایات دی گئیں۔

    خفیہ دستاویز RAW-BH/OP Code-984 اشارہ کرتی ہے کہ نترَاج اصل میں بی ایل اے کی وہ تازہ ترین حکمتِ عملی ہے جس میں بلوچستان کے ساحلی شہروں سے لے کر افغان سرحدی پٹی تک سیٹلائٹ فون رِلے بنائے گئے۔ ہر رِلے میں ایک نوجوان اسٹوڈنٹ کو فرنٹ فیس بنا کر رکھا جاتا، تاکہ گرفتاری کی صورت میں انسانی حقوق کارڈ کھیلا جا سکے۔ جئند اور عبدالرزاق اسی سیل کے مبینہ فِکس پوائنٹس تھے۔

    فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے مطابق Saffron Rise Pvt. Ltd. (دبئی) سے USDT میں آنے والی رقوم کڈکوچہ اور مستونگ کے چھوٹے بزنس اکاؤنٹس میں پارک کی گئیں، جہاں سے کیش نکال کر اسمگل چینل کے ذریعے افغانستان بھیجا جاتا رہا۔ صفی اللہ اس سہولت کا منی پشر تھا اسی کے گھر سے GCC FIU Joint Circular 04/24 میں درج والیٹ کی پرنٹڈ ریکوری فریز ملی۔

    اس نیٹ ورک کی گرفتاری کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ماہرانہ انٹیلی جنس ورک اور مسلسل نگرانی کا نتیجہ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پہلی بڑی کامیابی اُس وقت ملی جب وائر ٹیپ 17-B/25 کے تحت ایک حساس کال ریکارڈ کی گئی، جس میں موٹر سائیکل کے ریف نمبر کو بطور یک طرفہ کوڈ ورڈ استعمال کیا جا رہا تھا یہ ایک ایسا طریقہ تھا جس کے ذریعے پیغامات خفیہ انداز میں منتقل کیے جاتے تھے۔ دوسری جانب، ڈرون فیڈ اینالیٹکس کے ذریعے گوہر بخش کے زیر استعمال DJI Mavic ڈرون سے حاصل کردہ بندرگاہی نگرانی کی ویڈیوز نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ حساس تنصیبات کی ریکی میں ملوث تھا۔

    اس کے علاوہ، CTD کی جانب سے ہنومن پراکسی کے ڈی کرپٹ ہونے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ مجید بلوچ نے بی ایل اے کے لیے 400 سے زائد فیک ٹوئٹس کو ہینڈل کیا، جن میں دہشت گرد حملوں کو انسانی حقوق کی جدوجہد کا رنگ دے کر عالمی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی گئی۔ یہ تمام شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ کوئی مقامی یا غیر منظم گروہ نہیں بلکہ ایک مکمل طور پر منصوبہ بند، ٹیکنالوجی سے لیس اور بھارتی سرپرستی یافتہ نیٹ ورک تھا جسے پاکستانی اداروں نے بروقت کارروائی کرکے بے نقاب کر دیا۔

    کراچی سے زکریا اسماعیل کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو کہ خضدار میں اسکول بس حملے میں ملوث تھا ۔ بلوچستان میں پُرامن ترقی کے سفر کو سبوتاژ کرنے کے لیے دشمن قوتیں ایک مرتبہ پھر سیٹلائٹ فونوں، کرپٹو کرنسی اور جذباتی پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی تھیں۔ لیکن پاکستانی ادارے نہ صرف زمینی بلکہ سائبر میدان میں بھی پوری طرح مستعد ہیں۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات

    آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد باقری سے ملاقات کی، جس میں دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے دورے پر تہران میں موجود ہیں، انہوں نے ایرانی جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹا ف میجر جنرل محمد باقری سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں پاک ایران عسکری قیادت کی خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، ملاقات میں سرحدی سلامتی، دفاعی تعاون اور اقتصادی روابط پر بھی بات چیت ہوئی پاک ایران دفاعی تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اور اس دوران دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا جب کہ پاک ایران بارڈر کو معاشی خوشحالی کے زون میں تبدیل کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں جانب سے اتفاق رائے پایا گیا کہ ان اقدامات سے علاقائی استحکام اور خوشحالی میں مدد ملے گی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جنرل اسٹاف ہیڈ کوارٹرز تہران آمد پر ان کا پر تپاک استقبال کیا گیا، ایرانی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

    اس سے قبل آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے ہمراہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنائی اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان سے بھی ملاقاتیں کیں، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیراعظم کے وفد کے ہمراہ تینوں دوست ممالک ترکی، ایران اور آذربائیجان کے سرکاری دورے پر ہیں۔

  • بھارتی جارحیت، آئی ایس پی آر کا ذمہ دارانہ کردار،ناقابل تردید شواہد

    بھارتی جارحیت، آئی ایس پی آر کا ذمہ دارانہ کردار،ناقابل تردید شواہد

    آپریشنِ سندور: بھارتی جارحیت بے نقاب، آئی ایس پی آر نے بروقت اور ذمے داری سے ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے

    بھارتی میڈیا نے نام نہادآپریشن سندور کے دوران مودی کے جھوٹ پر مبنی خبریں اور گمراہ کن مواد پھیلایا، گودی میڈیا نے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا کر عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو مزید کمزور کر دیا، این ڈی ٹی وی، نیوز 18 اور دیگر کئی گودی میڈیا چینلز نے جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی، بھارتی چینلز نے جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے پاکستان کے ایف 16 اور دو F-17 طیارے مار گرائے اور پاکستانی پائلٹ کو بھی گرفتار کیا،یہ سرخیاں پرائم ٹائم میں چلیں اور سٹوڈیوز میں موضوع بحث بنی رہیں، بین الاقوامی میڈیا بشمول رائٹرز سمیت، فیکٹ چیک اداروں نے بھارتی میڈیا کے دعووں کو جھوٹا ثابت کر دیا، بھارتی میڈیا کی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈا کر کے ڈیپ فیک ویڈیوز بھی بنائی گئیں، ڈیپ فیک ویڈیوز میں یہ تاثر دیا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر طیاروں اور پاکستان کے نقصانات سے متعلق آگاہی دے رہے ہیں، یہ وڈیوز سراسر جھوٹ پر مبنی تھیں جس کو بین الاقوامی میڈیا نےفیکٹ چیک کر کے مودی کے جھوٹ کا پردہ فاش کیا، گودی میڈیا کی جانب سے حقیقت، افسانہ، اور ڈرامے کی لکیر مکمل طور پر مٹ چکی ہے، ایک سنسنی خیز افواہ یہ بھی اڑائی گئی کہ پاکستان کے جوہری ذخائر پر میزائل حملہ کیا گیا، مگر یہ افواہ بھی تھوڑی دیر بعد دم توڑ گئی، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے مودی کے جھوٹے بیانیے کو زمین بوس کرتے ہوئے گودی میڈیا کی خبروں کو جھوٹا قرار دےدیا،

    بھارتی بحریہ نے کراچی بندرگاہ کو تباہ کرنے کا بھی ڈرامہ کیا مگر نہ اسکی سیٹلائٹ تصویر فراہم کی نہ کوئی بین الاقوامی تصدیق کی یا ثبوت پیش کیا، بھارتی میڈیا کی جانب سے شور مچایا گیا جو قوم پرستی کو ہوا دینے کے لیے پیدا کیا گیا، بھارتی میڈیا نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے خلاف اندرونی بغاوت کی من گھڑت کہانی بھی بنا ڈالی،

    سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نے اپنی حکومت کو انٹیلیجنس کی سنگین ناکامی اور حفاظتی خامیوں پر جواب دہ ٹھہرانے کی بجائے جھوٹ کا ساتھ دیا، بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کو ریاستی پروپیگنڈا بنا کر پیش کیا گیا اور گودی میڈیا نے عوام کو بدلےکے مطالبے پر اکسایا، بھارتی جنگی جنون کے جواب میں پاکستان نے پیشہ ورانہ سنجیدگی اور حکمت کے ساتھ جواب دیا، پاکستان کے صاف شفاف تحقیقات کے مطالبے کو بھی مودی کی جانب سے مسترد کیا گیا، پاکستان نے محض حقائق پر زور دیا جس کی قیادت آئی ایس پی آر نے کی،

    دفاعی ماہرین نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سینیئر احکام کے ساتھ بروقت تفصیلی پریس بریفنگ دیتے رہے، پریس بریفنگ میں ریڈار لاگز، سیٹلائٹ تصاویر، پروازوں کا ڈیٹا اور جسمانی شواہد بھی پیش کیے گئے، پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا جبکہ اپنی تیاری سے منہ توڑ جواب دیا، بھارتی جھوٹے دعووں کو آئی ایس پی آر نے ٹھوس شواہد سے مسترد کیا، آئی ایس پی آر نے بین الاقوامی میڈیا کو مبینہ حملے کی جگہوں تک رسائی بھی دی،

    پہلگام واقعے کے بعد آئی ایس پی آر کی بریفنگ، واضح پیغام تھا کہ جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور دفاع کریں گے, اگر کوئی خلاف ورزی ہوئی یا پاکستان پہ جارحیت کی گئی تو ہمارا رد عمل یقینی فوری اور تباہ کن ہوگا،

    سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے صرف اپنی عوام نہیں بلکہ عالمی برادری کو بھی ٹھوس ثبوت پیش کئے، پاکستان کا بین الاقوامی مبصرین کو خوش آمدید کہنا اور تیسرے فریق سے تحقیقات کی دعوت دینا ایک سنجیدہ اور ذمہ دار قدم ہے،آج کے ہائبرڈ وار فیئر کے دور میں فیک نیوز ایک ہتھیار بن چکی ہیں ،جھوٹے نظریاتی بیانیے اصل حقائق کو مسخ کر سکتی ہے اور فیصلے دھندلے کر سکتی ہیں جو بھارت نے کیا، بھارت نے جعلی جھوٹی خبروں اور اشتعال انگیزی سے تنازع کو بھڑکانے کی ناکام کوشش جاری رکھی، پاکستان نے بہترین حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ انداز میں سچائی کو اجاگر کیا، بین الاقوامی مبصرین نے پاکستان کے معلوماتی نظم و ضبط اور ذمہ دارانہ موقف کی تعریف کی،

  • بھارت کا بڑھتا ہوا جنگی بیانیہ علاقائی امن و استحکام کےلیے سنگین خطرہ ہے،پاکستان

    بھارت کا بڑھتا ہوا جنگی بیانیہ علاقائی امن و استحکام کےلیے سنگین خطرہ ہے،پاکستان

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ اشتعال انگیز بیان پر پاکستان نے سخت رد عمل دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے بھارتی وزیراعظم مودی کے گجرات میں دیے گئے بیان کو انتخابی مہم کا تھیٹر قرار دے دیا

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ جوہری ریاست کے سربراہ کے نفرت انگیز بیانات قابل افسوس اور خطرناک رجحان ہیں، بھارتی وزیراعظم کا بیان یو این چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے، یو این چارٹر تمام ریاستوں کو باہمی تنازعات پُرامن طریقے سے حل کرنے کا پابند بناتا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں چھپانے کےلیے بیانات دے رہا ہے، پاکستان یو این امن مشن میں اہم کردار اور عالمی انسداد دہشت گردی کا فعال شراکت دار ہے،بھارت کو انتہا پسندی کی فکر ہے تو اسے اندرون ملک ہندوتوا اور اقلیت دشمنی پر توجہ دینی چاہیے، پاکستان خود مختاری اور مساوی سلامتی کی بنیاد پر امن کا حامی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی خطرے کا منہ توڑ جواب دے گا، یو این چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کا حق محفوظ ہے، بھارت کا بڑھتا ہوا جنگی بیانیہ علاقائی امن و استحکام کےلیے سنگین خطرہ ہے۔

  • وزیراعظم  کی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات

    وزیراعظم کی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے دو روزہ دورۂ ایران کے دوران آج تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء محسن رضا نقوی اور عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے سپریم لیڈر کے لیے گہرے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم دنیا کی ممتاز شخصیت ہیں اور امت مسلمہ ان کی رہنمائی کی طرف دیکھتی ہے۔ وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور بھارتی جارحانہ عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے ایران کی قیادت کی بروقت حمایت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔وزیراعظم نے ایرانی قیادت کی امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں دور اندیشی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری معاہدہ طے پائے گا، جس سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔

    سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کو سراہا اور پاکستان کی خوشحالی و ترقی کے لیے نیک خواہشات اور دعائیں پیش کیں۔وزیراعظم نے سپریم لیڈر کی علامہ اقبال سے عقیدت اور ان کے افکار سے وابستگی کو سراہتے ہوئے انہیں جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

    واضح رہے کہ یہ ملاقات پاک-ایران تعلقات کو ایک نئی جہت دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

  • شہباز شریف کا بھارت سے مذاکرات اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعلان

    شہباز شریف کا بھارت سے مذاکرات اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعلان

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی پالیسی واضح کر دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق انہوں نے بھارتی کشیدگی کے دوران ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور ایران کے پُرامن نیوکلیئر پروگرام کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ پانی، دہشت گردی اور تجارت جیسے اہم مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو پاکستان بھرپور دفاع کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہا، "ہم امن کے لیے بات چیت چاہتے ہیں، اور اگر بھارت امن کی تجویز کو قبول کرتا ہے تو ہم بھی عملی طور پر ثابت کریں گے کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے ثقافتی، تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں، اور ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایرانی صدر کے ساتھ تعمیری گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے علاقائی امن، تجارت اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    غزہ پر مؤقف
    وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم پر شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور عالمی برادری اگر خاموش رہی تو تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک کے طور پر ایران اور پاکستان کے مشترکہ موقف کی بھی توثیق کی۔

    ایرانی صدر کا خیر مقدم
    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔ انہوں نے پاک بھارت سیز فائر کا خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ایرانی صدر نے بھی غزہ میں مظالم کی مذمت کرتے ہوئے مغربی ممالک کے "خاموش تماشائی” بنے رہنے کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    علاقائی دورہ
    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد تہران پہنچے، جہاں سعدآباد محل میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم اس وقت 25 سے 30 مئی 2025 تک ترکی، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے اہم دورے پر ہیں۔ اس دوران وہ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ عالمی اہمیت کے حامل موضوعات پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم 29 اور 30 مئی کو تاجکستان کے شہر دوشنبے میں ہونے والی بین الاقوامی گلیشیئرز کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی بھی کریں گے۔

  • فتنہ الہندوستان  بلوچستان میں  کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں کی سرپرست اعلیٰ

    فتنہ الہندوستان بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں کی سرپرست اعلیٰ

    فتنہ الہندوستان بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں کی سرپرست اعلیٰ

    معرکہ حق ” آپریشن بنیان مرصوص” میں تاریخی شکست کے بعد مودی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی،بلوچستان میں بھارتی پراکسیز کی سہولت کاری بے نقاب ہو گئی ہے،بلوچستان میں بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز کی معاونت سے دہشتگرد کارروائیاں ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہیں، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسیاں پراکسیز کو مالی معاونت فراہم کر تی ہیں، بھارتی سپانسرڈ پراکسیز نہ صرف حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں بلکہ کالعدم تنظیموں کو تربیت اور اسلحہ بھی فراہم کرتی ہیں، بھارتی سپانسرڈ پراکسیز کے کالعدم تنظیموں کے علاج معالجے کے ساتھ ساتھ سرکاری روابط بھی قائم ہیں، بھارتی حکومت کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا بھی دہشتگردوں کی پشت پناہی میں پیش پیش ہے،پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کی خبر سب سے پہلے بھارتی میڈیا دیتا ہے، دہشتگردانہ حملے کی خبر بھارتی ذرائع ابلاغ کے اکاؤنٹس سے جاری ہوتی ہے جسے بھارتی میڈیا پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے،

    بھارتی چینلز کے اینکرز نے مودی سرکار کو مشورہ دیا کہ کالعدم تنظیموں کا دفتر دہلی میں ہونا چاہیے ،بھارتی حکومت ان کالعدم تنظیموں کو سرکاری سطح پر معاونت فراہم کرے تاکہ پاکستان کی علاقائی سالمیت اور داخلی خودمختاری کو نقصان پہنچایا جا سکے ،

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار اور بھارتی فوج نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان کا یہ رویہ نہ صرف علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے،بین الاقوامی برادری ، فتنہ الہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کا سختی سے نوٹس لے ،

  • کراچی سے  فتنہ الہندوستان کا ہائی ویلیو کارندہ گرفتار

    کراچی سے فتنہ الہندوستان کا ہائی ویلیو کارندہ گرفتار

    صبح تقریباً 4:15 بجے مشترکہ کاؤنٹر ٹیررزم ٹاسک فورس اور حساس اداروں نے کراچی کے مضافاتی علاقے ہزارہ گوٹھ میں برق رفتار آپریشن کیا۔

    ایک کمرشل گودام سے ملحقہ خفیہ ٹھکانے پر کی جانے والی اس کارروائی میں زکریا اسماعیل کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم کا اصل نام ذوالفقار ہے، اور وہ فتنہ الہندوستان بی ایل اے کے کراچی سیل کا ہائی ویلیو آپریٹو ہے۔ گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے Thuraya سیٹلائٹ فون 9 ملی میٹر Glock، جعلی افغان شناختی کارڈ اور 11,800 ڈالر کی نقدی برآمد ہوئی۔ ملزم کے سیٹلائٹ فون سے خضدار اسکول بس بم دھماکے (21) مئی سے چند گھنٹے قبل 9-11-XXXXXX دہلی نمبر پر ہونے والی تین منٹ 41 سیکنڈ کی کال ثابت کرتی ہے کہ وہ براه راست بھارتی ہینڈلرز سے رابطے میں تھا۔

    تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ زکریا نے 2023 میں محمد رزاق ولد عبداللہ کے نام سے بھارتی ویزا حاصل کیا اور دبئی کے راستے دہلی پہنچا، جہاں اسے RAW کے بلوچستان ڈیسک نے پیشہ ورانہ سبوتاژ اور IED فیوزنگ کا کورس کرایا۔ اسی پیریڈ میں دہلی نارتھ بلاک میں ہونے والی بریفنگز میں Ajit Doval کا بدنام زمانہ Defensive Offence Doctrine پڑھایا گیا وہی حکمت عملی جس میں پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم کرنے کے لیے بلوچستان میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ زکریا کو کراچی یونیورسٹی کے لاء ڈیپارٹمنٹ میں ایڈجسٹ کرایا گیا تھا تاکہ وہ سلیپر نیٹ ورک کو وسعت دے سکے۔ یہ وہی کیمپس ہے جہاں 2022 میں بی ایل اے کی خودکش بمبار شاری بلوچ نے چینی اساتذہ کو نشانہ بنایا تھا۔

    یونیورسٹی میں دو بار نوٹ شده مشکوک سرگرمیوں کے باعث زکریا کا منصوبہ وقت پر پکڑا گیا اور وہ بڑی واردات سے پہلے ہی روپوش ہو گیا۔خضدار میں APS اسکول بس پر حملے کے بعد کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) سے پتا چلا کہ دھماکے سے 29 منٹ پہلے زكریا نے خضدار میں موجود بی ایل اے کے فیلڈ کمانڈر حامد داود سے رابطہ کیا۔

    کرائم سین سے ملنے والے ریموٹ ڈٹونیٹر کی فارنزک جانچ نے اسی Thuraya فون کی آؤٹ گوئنگ سگنل فریکوئنسی کے ساتھ میچ کر لیا ہے۔زكریا اسماعیل کی گرفتاری محض ایک فرد کی پکڑ نہیں بلکہ بی ایل اے – RAW گٹھ جوڑ کی شہ رگ پر کاری ضرب ہے ایک دہائی قبل اجیت دوول نے جو گریٹ گیم تھیوری پیش کی تھی اس کا منطقی انجام اب کراچی سے خضدار تک بکھرے ثبوتوں کی شکل میں دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔