Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی  عمرے کی ادائیگی، خانہ کعبہ میں نوافل ادا کیے

    وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی عمرے کی ادائیگی، خانہ کعبہ میں نوافل ادا کیے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وفد کے ہمراہ خانہ کعبہ میں نوافل ادا کیے اور بنیان مرصوص کی عظیم فتح پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وفد کے ہمراہ ولیِ عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کیا وزیراعظم اور پاکستانی وفد سعودی ولیِ عہد اور وزیرِ اعظم محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر سعودی عرب کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب عمرہ کی ادائیگی کی۔

    بیان کے مطابق پاکستانی وفد کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ خصوصی طور پر کھولا گیا، وزیراعظم اور آرمی چیف نے وفد کے ہمراہ خانہ کعبہ میں نوافل ادا کیے اور بنیان مرصوص کی عظیم فتح پر اللہ تعالیٰ کا شکرانہ ادا کیاوزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے وفد کے ہمراہ پاکستان کی معاشی میدان اور عوامی فلاح کیلئے اقدامات کے حوالے سے حالیہ کامیابیوں پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہوئے ملکی ترقی و خوشحالی کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ بالخصوص ظلم و جبر کے شکار کشمیری و فلسطینی مسلما ن بہن بھائیوں کیلئے خصوصی دعائیں کیں۔

    16 لاکھ سے زائد عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی، سعودی حکومت

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی اور وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی وزیرِاعظم کے ہمراہ تھے۔

    روسی صدر کی ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع کو حل کرنے میں مدد کی پیشکش

  • ٹرمپ کے دور میں پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی روش خوش آئند ہے،بلاول

    ٹرمپ کے دور میں پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی روش خوش آئند ہے،بلاول

    امریکہ کے دورے پر آئے اعلیٰ سطحی پاکستانی پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نےعالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو دیا ہے، اے ایف پی کے مطابق حالیہ پاک بھارت بحران کے بعد دونوں ملکوں کی جانب سے اعلی قانون سازوں کو امریکہ روانہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے حق میں رائے ہموار کر سکیں، امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ بحران میں سفارت کاری کے حوالے سے متحرک کردارادا کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے، واشنگٹن نے جوہری ہتھیاروں سے لیس فریقین کے درمیان چار دن کی لڑائی کے بعد جنگ بندی میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا۔دونوں ملکوں کے وفود کی قیادت ان بااثر سیاستدانوں کو سونپی گئی ہے جو مغربی سامعین سے آسانی کے ساتھ بات چیت کرنے کی صلاحیت سے جانے جاتے ہیں ،پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے فعال کردار کو قبول کیا ہے،بھارت ایک طویل عرصے سے کشمیر کے فلیش پوائنٹ ہمالیائی علاقے پر بیرونی ثالثی سے انکار ی ہے۔

    بلاول زرداری کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ جس طرح امریکہ اور صدر ٹرمپ نے اس جنگ بندی کے حوالے سے حوصلہ افزا کردار ادا کیا اسی طرح انہیں دونوں فریقین کو جامع مذاکرات کی میز پر لانے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،مذاکرات کے حوالے سے ہندوستانی حکومت کی ہچکچاہٹ معنی خیز ہے،جنگ بندی جیسے مشکل مرحلے کے حصول پر امریکی قیادت تعریف کی مستحق ہے،صدر ٹرمپ نے بار بار جوہری جنگ کو روکنے کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ نے ایک غیر جانبدار مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری کا کہا ہے،صدر ٹرمپ کے دور میں پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی روش خوش آئند ہے۔پاکستان بھارت کے ساتھ دہشت گردی پر بات کرنے کے لیے تیار ہے لیکن کشمیر کو بنیادی تنازعے کے طور پر میز پر لانے کی ضرورت ہے،*بھارت جنوبی ایشیا میں ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے جس کے تحت کوئی بھی ملک دہشت گردانہ حملہ ہونے کی صورت میں جنگ چھیڑ دے،1.7 ارب لوگوں اور ہماری دو عظیم قوموں کی تقدیر کو بے نام، بے چہرہ، غیر ریاستی اداکاروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور نہ ہی اسے اس نیو نارمل کی صورتحال سے دوچار کیا جاسکتا ہے جو بھارت مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے

  • بھارتی آبی جارحیت،اسحاق ڈار کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم

    بھارتی آبی جارحیت،اسحاق ڈار کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے خلاف بھارت کی جانب سے بڑھتی ہوئی آبی جارحیت کے پیش نظر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کریں گے جو ملکی آبی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اہم سفارشات مرتب کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق، نئی قائم شدہ کمیٹی کو بھارت کی آبی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو 72 گھنٹوں کے اندر اندر مکمل سفارشات پیش کرنی ہوں گی، جن میں بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف موثر اقدامات شامل ہوں گے۔کمیٹی کا ایک اہم کام نئے ڈیم اور آبی منصوبوں کی تعمیر کے لیے فنڈنگ اور حکمت عملی کا جامع جائزہ لینا بھی ہے۔ اس سلسلے میں کمیٹی پاکستان میں پانی کے ذخائر بڑھانے اور ملکی آبی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی مالی معاونت کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کرے گی۔

    کمیٹی میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو رکن بنایا گیا ہے تاکہ صوبائی سطح پر آبی مسائل کے حل اور منصوبہ بندی میں یکسوئی پیدا کی جا سکے۔ علاوہ ازیں، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو بھی کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے آبی وسائل کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبی سلامتی اولین ترجیح ہے اور بھارت کی جارحیت کے خلاف ملک کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی سفارشات مرتب کریں تاکہ پاکستان اپنی آبی خودمختاری کو مضبوط کر سکے۔

    وزارت پانی و بجلی کے حکام کا کہنا ہے کہ نئی کمیٹی کے قیام سے پاکستان کو اپنی پانی کی سلامتی کے دفاع میں مدد ملے گی اور ملک میں پانی کے بحران کو کم کرنے کے لیے مؤثر منصوبے جلد شروع کیے جا سکیں گے۔

  • معید پیرزادہ بھارتی زبان بولنے لگے، بلاول بھٹو اور ششی تھرور کا موازنہ—اصل ایجنڈا کیا ہے؟

    معید پیرزادہ بھارتی زبان بولنے لگے، بلاول بھٹو اور ششی تھرور کا موازنہ—اصل ایجنڈا کیا ہے؟

    معروف تجزیہ کار اور اینکر پرسن معید پیرزادہ نے اپنے تازہ تبصرے میں ایسی زبان اور اصطلاحات استعمال کیں جو بھارتی میڈیا کی بازگشت لگتی ہیں، یہاں تک کہ ان کا لب و لہجہ اور اندازِ بیان بھارتی مؤقف سے ہم آہنگ محسوس ہوا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک وڈیو میں انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور بھارتی رہنما ڈاکٹر ششی تھرور کے کردار کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ "بلاول کو ششی تھرور کو کاؤنٹر کرنے کے لیے لانچ کیا گیا ہے۔”معید پیرزادہ کے مطابق ششی تھرور، جو بھارت کی کانگریس پارٹی کے رکن ہیں اور پارلیمانی امورِ خارجہ کمیٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، کو نریندر مودی حکومت نے عالمی سطح پر پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے لیے متحرک کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تھرور ایک تجربہ کار سفارت کار، اقوامِ متحدہ کے سابق اعلیٰ عہدیدار اور بھارت کا نظریاتی "فارم پالیسی ہاک” ہیں جو پاکستان کے خلاف FATF جیسے پلیٹ فارمز پر سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔معید نے ششی تھرور اور بلاول بھٹو زرداری کا موازنہ کرتے ہوئے بلاول کو ایک "سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا” سیاستدان قرار دیا اور کہا کہ ان کی زندگی میں کوئی جدوجہد نہیں رہی۔ اس کے برعکس ششی تھرور کو انہوں نے ایک "سیلف میڈ” شخصیت کہا جنہوں نے عالمی سطح پر اپنی ساکھ بنائی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ معید پیرزادہ کا زور پاکستان کو FATF کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی بھارتی کوششوں پر بھی رہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ششی تھرور کی زیرِ قیادت بھارت یہ بیانیہ دنیا میں پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو براہِ راست FATF کی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے تاکہ IMF پروگرام معطل ہو جائے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معید پیرزادہ کا لب و لہجہ اور مؤقف اس قدر بھارتی بیانیے سے میل کھاتا ہے کہ سننے والا گمان کرتا ہے جیسے بھارتی میڈیا کا کوئی اینکر گفتگو کر رہا ہو۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے اس بیان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

    عالمی میڈیا تنظیموں کا غزہ میں صحافیوں کو داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ

    روس ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات میں کردار ادا کرنے کو تیار

    ملیر جیل بریک: 115 ملزمان عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل، 111 قیدی تاحال مفرور

  • شملہ معاہدہ ختم،وزیر دفاع،تاحال منسوخ نہیں ہوا،ذرائع وزارت خارجہ

    شملہ معاہدہ ختم،وزیر دفاع،تاحال منسوخ نہیں ہوا،ذرائع وزارت خارجہ

    ذرائع وزارت خارجہ کے مطابق شملہ معاہدہ تاحال منسوخ نہیں کیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک تحریری صورت میں ایسی کوئی بات موجود نہیں ہے،نجی ٹی وی کے مطابق وزارت داخلہ کے سینیئر عہدیدار کے مطابق بھارت کے ساتھ کوئی بھی دوطرفہ معاہدہ ختم کرنے کا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا۔

    دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ شملہ معاہدے کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی،کنٹرول لائن اب سیز فائر لائن ہوچکی، ہم 1948 کی پوزیشن پر واپس آگئے ہیں، بھارت کے اقدامات کی وجہ سے شملہ معاہدے کی شقیں ختم ہوگئیں، شملہ معاہدہ دو ممالک کے درمیان ہے، اس میں ورلڈ بینک یا کوئی تیسرا فریق نہیں ہے، شملہ معاہدہ نہ ہونے سے کنٹرول لائن سیز فائر لائن ہو جائےگی، سیز فائرلائن اس کا اصل اسٹیٹس تھا جو بحال ہوجائےگا، 1948 کے بعد رائے شماری سے متعلق جو ہوا اس کے بعد یہ سیز فائر لائن ہے، بھارت کے اقدامات کی وجہ سے شملہ معاہدے کی حیثیت اب ختم ہوگئی، ، جنگ کے بعد جو ہوا تو شملہ معاہدے کی وقعت کچھ نہیں رہی، ہم 1948 کی پوزیشن پر واپس جا رہے ہیں جب یہ سیز فائر لائن کا معاملہ تھا، کشیدگی پر ہم نے واضح کیا تھا کہ اگر یہی رہا تو معاہدوں کی قدر و قیمت نہیں رہےگی، سندھ طاس معاہدے میں کوئی فریق یکطرفہ طور پر اس سے نہیں نکل سکتا، سندھ طاس معاہدے سے متعلق تمام اقدامات مشترکہ ہو سکتے ہیں، بھارت کبھی 6 ہزار تو کبھی 25 ہزار کیوسک پانی چھوڑتا ہے، بھارت اپنی مرضی سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

    خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدہ 1972 میں ہوا تھا جس میں کشمیر سمیت تمام مسائل دو طرفہ طریقے سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

  • اللہ صبر کرنے والوں کو پورا ثواب عطا کرتا ہے، خطبہ حج

    اللہ صبر کرنے والوں کو پورا ثواب عطا کرتا ہے، خطبہ حج

    مسجد الحرام کے امام شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایمان والوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے اور تقویٰ اختیار کرنا چاہئے،مسلمانوں کو آپس میں اتحاد و اتفاق رکھنا چاہئے-

    شیخ صالح بن عبداللہ نے کہا کہ شیطان مسلمانوں کا دشمن ہے اور مسلمانوں کو اس سے دور رہنا چاہئے، مسلمانوں کو آپس میں اتحاد و اتفاق رکھنا چاہئے، اگر کوئی اپنے دشمن کو معاف کرے گا تو اللہ اسے اپنا دوست بنالے گا اللہ تعالیٰ نے اسلام کو بطور دین انسانیت کیلئے پسند کیا ہے، اور دین مکمل ہوچکا ہے۔

    امام شیخ ڈاکٹرصالح بن عبد اللہ نے حج کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دن اللہ نے امتِ محمد ﷺ پر اپنی نعمتیں مکمل کر دی ہیں اور اسلام کو بطور دین پسند فرمایا ہے۔ انہوں نے عبادات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج اسلام کے بنیادی ارکان ہیں جو ان پر عمل کرتا ہے وہی کامیاب ہے۔

    امام مسجد الحرام نے کہا کہ نیکی برائیوں کو مٹا دیتی ہیں اسی لئے نیکی کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے ، نماز قائم کرو، یہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک بہترین رابطہ اور سب سے زیادہ درمیان کی نماز کی حفاظت کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ایمان والو اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ جیسے تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، یا پھر اللہ کی عبادت اس طرح سے کرو کہ جیسے اللہ تمھیں دیکھ رہا ہے،دین اسلام کے تین درجات ہیں اور سب سے بڑا درجہ احسان ہے، والدین سے صلہ رحمی، نرمی اور وعدوں کی تکمیل بھی دین کا حصہ ہے اور حیا ایمان کی شاخ ہے۔

    شیخ صالح بن عبداللہ نے کہا کہ حج کے دوران اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرنا چاہئے، دعائیں کرنی چاہئے اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگنی چاہئیں، اللہ نے فرمایا کہ نیکی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور بری باتوں سے رک جائیں، اے ایمان والو عہد اور وعدے کو پورا کرو، جب بھی بات کرو اچھی بات کرو، اللہ صبر کرنے والوں کو پورا ثواب عطا کرتا ہے، اللہ کا شکر گزار بندوں سے وعدہ ہے کہ جتنا شکر کریں گے انہیں زیادہ تعمتوں سے نواز دے گا،اور ایمان والوں کو سچی باتیں کہنی چاہئیں، جھوٹ سے بچنا چاہئے۔

    شیخ صالح بن عبداللہ نے کہا کہ انسان کو باطنی امراض سے بچنا چاہیے کیونکہ باطنی امراض کی وجہ سے انسان اللہ کا تقرب حاصل نہیں کر پاتا، رمضان کے روزے تم پر فرض کیے گئے جیسے تم سے پچھلی امتوں پر فرض کیے گئے، روزے انسان کو باطنی امراض سے پاک کر دیتے ہیں، پرودگار کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو ، اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بہترین ایمان دے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اے لوگو ،غریبوں یتیموں مساکین اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھی طرح برتاؤ کرو اللہ کے بتائے ہوئے دین پر عمل کریں ، اللہ تعالی صبر کرنے والوں کیساتھ ہے، والدین کو ناراض کرنے والا اللہ کو ناراض کرتا ہے، نیک کام کرنے والا اللہ کا محبوب ہے ،اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لا کر اسکی اطاعت کی جائے،منع کر دہ چیزوں سے پرہیز کیا جائے ، دعا مومن کا ہتھیار ہے ، امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے دعائیں کریں، دعا کرنے سے اللہ غموں کو خوشیوں میں بدل دیتا ہے ، اللہ تعالی کی رضا جنت سے بھی بڑی ہے۔

    امام کعبہ نے ایمان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایمان زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کا نام ہے نماز، حیا، صدقِ کلام، اور فرائض کی ادائیگی ایمان کا حصہ ہیں اللہ کے گھر کا حج کرنا تم پرفرض کردیا گیا ہے،اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر اور باطن کو جانتا اللہ کی رحمت تم پر پوری ہوگئی ہے،اللہ تعالیٰ تمہاری عبادات کو قبول فرمائے۔

    اس موقع پر امام حج نے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کیلئے خصوصی دعائیں بھی کرائیں، امام کعبہ نے فرمایا کہ آپ ایسے مقام پر ہیں جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں، اے اللہ ہم تجھ سےمعافی اورفضل مانگتے ہیں اللہ ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطافرمائے-

    امام شیخ ڈاکٹرصالح بن عبد اللہ نے نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ ایک ہے، محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز، زکوۃ، رمضان کے روزے رکھنا، حج کرنا اسلام ہے، اللہ جس کو چاہے بخش دے،جس کو چاہے عذاب دے، اللہ نے محمدﷺ کو انسانی کی رہنمائی کے لیے بھیجا، اللہ کے نبی ﷺ کے احکامات پر عمل کرتے رہو، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تابیداری کرنے والے کامیاب ہیں، توحید پر ثابت قدم رہنا ہی اسلام ہے، یاد رکھو، اسلام میں توحید کے بعد سب سے اہم چیز نماز ہے، جس کی نمازیں پوری ہوگئیں وہ کامیاب ہوگیا، نماز حق وباطن میں فرق کرتی ہے۔

    مسجد الحرام کے امام شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ نے مظلوم فلسطینیوں کے لیے خصوصی دعائیں کراتے ہوئے کہا کہ اے اللہ فلسطین کو دشمنوں سے نجات دے، اے اللہ فلسطین کے بھائیوں کی مدد فرما، اے اللہ فلسطین کے شہدا کو معاف فرما اور زخمیوں کو شفا دے، اے اللہ اہل فلسطین کے دشمنوں کو تباہ و برباد کردے، اے اللہ اہل فلسطین کے دشمن، عورتوں اور بچوں کے قاتلوں کو برباد کردے۔

    امام کعبہ نے مزید کہا کہ اے اللہ اہل فلسطین کو دشمنوں کے شر سے بچا، اے اللہ اہل فلسطین کے معاملات کو اپنے سپرد کرلے، اے اللہ اہل فلسطین کی حفاظت فرما، ان کا خیال رکھ، اللہ کی رضا جنت سے بھی بڑی ہے، اےاللہ اہل فلسطین کو دشمنوں پر غالب فرما۔

    خطبہ حج کے بعد ظہر اور عصر کی قصر نمازیں ایک ساتھ ادا کی گئیں، عرفات میں وقوف کے دوران عازمین تلبیہ پڑھنے، استغفار کرنے اور تسبیح کے ساتھ ساتھ دعاؤں میں مصروف رہے-

  • امریکی سفارتخانے میں یوم آزادی کی تقریب،مولانا فضل الرحمان خصوصی توجہ کا مرکز،مبشر لقمان کی بھی شرکت

    امریکی سفارتخانے میں یوم آزادی کی تقریب،مولانا فضل الرحمان خصوصی توجہ کا مرکز،مبشر لقمان کی بھی شرکت

    امریکہ کی 249 ویں یوم آزادی کے موقع پر امریکن سفارتخانے اسلام آبادمیں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزراء، مختلف ممالک کے سفرا، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، معروف صحافی،سینئر اینکر اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان سمیت دیگر نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

    تقریب میں جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خصوصی توجہ حاصل کی اور انہوں نے تقریب کے دوران نماز کی امامت بھی کی، جس کی وجہ سے وہ پروگرام کا مرکز توجہ بنے رہے۔ تقریب کو ایک خاص تھیم کے تحت منظم کیا گیا تھا جس میں دونوں ممالک کے تعلقات اور باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔تقریب کے دوران مولانا فضل الرحمان اور مبشر لقمان کی ملاقات بھی ہوئی،تقریب کےا ختتام پر مولانا فضل الرحمان کاامریکی سفیر نے خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور تقریب کے بعد انہیں روانہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم رابطے میں رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ جے یو آئی کے دیگر رہنما، جن میں کامران مرتضیٰ بھی شامل تھے، موجود تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے اہم کردار کو بھرپور انداز میں سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر امن کے پیامبر کے طور پر اپنا موقف واضح کیا ہے۔ "کوئی شک نہیں کہ پہلگام واقعہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا، جسے پاکستان نے تحمل اور صبر سے برداشت کیا۔”وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کر چکا ہے، جس میں 90 ہزار سے زائد شہید اور 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان شامل ہے۔ "پاکستان نے 2018 تک دہشت گردی کو تقریباً ختم کر دیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی قربانیاں کسی سے کم نہیں۔”انہوں نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان پر حملہ کرکے خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے جواب میں پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارت کے 6 جنگی جہاز مار گرائے۔ "پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہشمند رہا ہے۔”وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی توجہ معیشت کو مضبوط بنانے پر ہے اور امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف کے مسائل کے حل سمیت دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    یہ تقریب نہ صرف امریکہ کی یوم آزادی کا جشن تھی بلکہ پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کے نئے مواقع کی بھی علامت بن گئی۔ عالمی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے تعاون کے عزم کا اظہار کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اعادہ کیا گیا۔

  • پاک امریکہ تعلقات نئے دور میں داخل، معاشی استحکام اور علاقائی امن اولین ترجیح ہے،وزیرِاعظم

    پاک امریکہ تعلقات نئے دور میں داخل، معاشی استحکام اور علاقائی امن اولین ترجیح ہے،وزیرِاعظم

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، اور دونوں ممالک جمہوری اقدار و آئینی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے میں ریاستہائے متحدہ امریکا کی آزادی کی 249ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیرِ اعظم نے امریکی حکومت، عوام اور سفارت خانے کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کی ایک طویل اور گہری تاریخ ہے، اور امریکا ان ابتدائی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے امریکی تعاون پر مبنی متعدد منصوبے دونوں ملکوں کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ 9/11 کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے نمایاں کردار ادا کیا اور 2018 تک اس ناسور کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا۔

    پشاور میں ایک جرگے کے موقع پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالرز سے زائد کا مالی نقصان برداشت کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا فوکس اب معیشت کو مستحکم کرنے پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلگام واقعے پر پاکستان نے بھارت کو غیر جانبدار عالمی تحقیقات کی پیشکش کی، مگر اس کے جواب میں بھارت نے حملے کیے اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے 6 جنگی طیارے مار گرائے۔

    نیٹ میٹرنگ ختم نہیں ہو رہی، شفاف اور پائیدار نظام کی طرف جا رہے ہیں، اویس لغاری

    بھارت، آر سی بی کی فتح کا جشن سانحہ ، خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد ہلاک

    ایران میں قتل ہونے والے 8 مزدوروں کے لواحقین کو 10 لاکھ فی خاندان امداد

  • بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طیارے گرنے کے اعتراف پر ہندؤؤں کا ہنگامہ

    بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طیارے گرنے کے اعتراف پر ہندؤؤں کا ہنگامہ

    بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی حالیہ اعترافی تقریر نے نہ صرف بھارتی میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ ملک میں سیاسی اور عسکری حلقوں کے درمیان شدید اختلافات کو بھی جنم دیا ہے۔ بھارتی فوج کے اعلیٰ عہدیدار نے تسلیم کیا ہے کہ حالیہ چار روزہ جنگ کے دوران متعدد بھارتی جہاز تباہ ہو گئے اور اس کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ دو دن تک مکمل طور پر معطل رہی۔ یہ اعتراف بھارت کے روایتی بیانیے کی سخت نفی کرتا ہے، جس میں بھارت ہمیشہ سے پاکستان پر اپنے عسکری برتری کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔

    بھارت نے جنگ کے بعد اپنے عوام اور عالمی برادری کو مسلسل گمراہ کیا، دعویٰ کیا گیا کہ نہ تو کوئی طیارہ گرا ہے اور نہ ہی فوج کو کوئی سنگین نقصان ہوا۔ بلکہ پاکستان کو بھاری شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن اب جب ملک کے اعلیٰ فوجی عہدیدار نے یہ حقیقت کھل کر بتائی ہے، تو بھارت کی عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے ایک گہری بےچینی اور سردمہری دیکھنے میں آ رہی ہے۔چیزوں کو قبول کرنے کی بجائے کئی ہندو قوم پرست حلقوں نے بھارتی جنرل کو ہی غدار قرار دے دیا ہے، اور ان پر ملک کے خلاف بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ حلقے حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنے من گھڑت بیانیے پر قائم رہنا چاہتے ہیں کہ بھارت ایک ناقابل شکست فوجی طاقت ہے جس نے پاکستان کو شکست دی ہے۔ یہ منفی ردعمل بھارت میں عسکری حقائق کو چھپانے اور قومی بہادری کے غلط فہم بیانیے کو بچانے کی کوشش کے مترادف ہے۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ CDS نے یہ اہم معلومات بھارتی میڈیا کے بجائے عالمی میڈیا آؤٹ لیٹ "بلومبرگ” کو دی، جو بھارت میں میڈیا کی آزادی اور شفافیت کے حوالے سے تشویش کی علامت ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی قیادت اور سیاسی حکام کے درمیان ایک قسم کی نااتفاقی اور مایوسی موجود ہے، جہاں فوجی حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے جنگ بندی کے چند دن بعد ہی اپنا انتخابی مہم شروع کر دی، جس میں پاکستان کے خلاف فرضی فتح کے نعروں کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود حکومت نے نہ تو شہداء کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور نہ ہی بھارتی فضائیہ کی تباہ کاریوں کو تسلیم کیا۔ یہ رویہ قومی اخلاقیات اور فوجی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بظاہر سیاسی مفادات کے لیے فوجی شکست کو چھپایا جا رہا ہے اور اس شکست کا بوجھ فوجی جوانوں پر ڈال دیا گیا ہے۔

    بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے اعتراف نے بھارت میں عسکری حقائق کو منظر عام پر لا کر ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے۔ اس نے نہ صرف قومی سطح پر سیاسی و عسکری اختلافات کو ابھارا ہے بلکہ بھارت کی وہ سیاسی قیادت بھی بے نقاب کی ہے جو جنگ کے جذباتی اور غلط بیانی پر مبنی پروپیگنڈے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بھارت کب اپنے عوام کو سچائی سے آگاہ کرے گا اور کب عسکری حقائق کو سیاسی مقاصد کی نذر کرنے کا سلسلہ ختم ہوگا۔

  • پاکستانی وفد کی اقوام متحدہ میں بھرپور سفارتی مہم، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

    پاکستانی وفد کی اقوام متحدہ میں بھرپور سفارتی مہم، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے چین، روس سمیت کئی ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور بھارتی پروپیگنڈے کے خلاف پاکستان کا واضح مؤقف پیش کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پارلیمانی وفد کی قیادت چیئرمین پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کی، جنہوں نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان سے ملاقات کر کے بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا۔وفد نے ڈنمارک، یونان، پاناما، صومالیہ، الجزائر، گیانا، جاپان، جنوبی کوریا، سیرالیون اور سلووینیا کے مندوبین سے بھی رابطہ کیا اور پاکستان کا نقطہ نظر مؤثر انداز میں پیش کیا۔

    بلاول بھٹو نے اقوام متحدہ میں واضح مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ بغیر تحقیق یا ثبوت کے پاکستان پر الزامات لگانا ناقابلِ قبول ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ صرف بحران کے بعد نہیں بلکہ تنازع سے پہلے امن کی راہیں تلاش کرے۔سینیٹر شیری رحمان، حنا ربانی کھر، مصدق ملک اور دیگر رہنماؤں نے وفد کے ہمراہ بھارتی اشتعال انگیزی، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے جیسے سنگین معاملات پر بریفنگ دی۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان میں پانی کی قلت، غذائی بحران اور ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    چین کے مندوب سے ملاقات
    بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی وفد نے اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ سے بھی ملاقات کی، جس میں خطے میں بھارتی جارحیت اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے بھارتی اشتعال انگیزی پر چین کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور پہلگام حملے کے بعد پاکستان کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کو بھارت کی جانب سے رد کیے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

    روسی مندوب سے اہم تبادلہ خیال
    اس کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری نے روسی فیڈریشن کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا سے بھی ملاقات کی۔ملاقات میں بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارتی ضد کے باوجود پاکستان نے خطے میں امن کے لیے سنجیدہ اور متوازن پالیسی اپنائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے اور بھارت کی سرپرستی میں تخریبی کارروائیاں جاری ہیں۔

    بلاول بھٹو نے مسئلہ کشمیر پر بھی روسی مندوب کو آگاہ کیا اور کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہونے دینا چاہتا۔پاکستانی وفد کی ان ملاقاتوں کو اقوام متحدہ کے کئی رکن ممالک نے سراہا، اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔

    میرے سینے میں بہت کچھ ، کبھی کبھار جنرل باجوہ کے خلاف بول دیتا ہوں، خواجہ آصف

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ 5 ہزار 900 روپے مہنگا

    ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان، میدانی علاقوں میں شدید گرمی

    جنرل اوپندر دیویدی کا مذہبی آشرم کا دورہ ،بھارتی فوج کی سیکولر روایت پر سوالیہ نشان