Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کراچی سے  فتنہ الہندوستان کا ہائی ویلیو کارندہ گرفتار

    کراچی سے فتنہ الہندوستان کا ہائی ویلیو کارندہ گرفتار

    صبح تقریباً 4:15 بجے مشترکہ کاؤنٹر ٹیررزم ٹاسک فورس اور حساس اداروں نے کراچی کے مضافاتی علاقے ہزارہ گوٹھ میں برق رفتار آپریشن کیا۔

    ایک کمرشل گودام سے ملحقہ خفیہ ٹھکانے پر کی جانے والی اس کارروائی میں زکریا اسماعیل کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم کا اصل نام ذوالفقار ہے، اور وہ فتنہ الہندوستان بی ایل اے کے کراچی سیل کا ہائی ویلیو آپریٹو ہے۔ گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے Thuraya سیٹلائٹ فون 9 ملی میٹر Glock، جعلی افغان شناختی کارڈ اور 11,800 ڈالر کی نقدی برآمد ہوئی۔ ملزم کے سیٹلائٹ فون سے خضدار اسکول بس بم دھماکے (21) مئی سے چند گھنٹے قبل 9-11-XXXXXX دہلی نمبر پر ہونے والی تین منٹ 41 سیکنڈ کی کال ثابت کرتی ہے کہ وہ براه راست بھارتی ہینڈلرز سے رابطے میں تھا۔

    تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ زکریا نے 2023 میں محمد رزاق ولد عبداللہ کے نام سے بھارتی ویزا حاصل کیا اور دبئی کے راستے دہلی پہنچا، جہاں اسے RAW کے بلوچستان ڈیسک نے پیشہ ورانہ سبوتاژ اور IED فیوزنگ کا کورس کرایا۔ اسی پیریڈ میں دہلی نارتھ بلاک میں ہونے والی بریفنگز میں Ajit Doval کا بدنام زمانہ Defensive Offence Doctrine پڑھایا گیا وہی حکمت عملی جس میں پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم کرنے کے لیے بلوچستان میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ زکریا کو کراچی یونیورسٹی کے لاء ڈیپارٹمنٹ میں ایڈجسٹ کرایا گیا تھا تاکہ وہ سلیپر نیٹ ورک کو وسعت دے سکے۔ یہ وہی کیمپس ہے جہاں 2022 میں بی ایل اے کی خودکش بمبار شاری بلوچ نے چینی اساتذہ کو نشانہ بنایا تھا۔

    یونیورسٹی میں دو بار نوٹ شده مشکوک سرگرمیوں کے باعث زکریا کا منصوبہ وقت پر پکڑا گیا اور وہ بڑی واردات سے پہلے ہی روپوش ہو گیا۔خضدار میں APS اسکول بس پر حملے کے بعد کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) سے پتا چلا کہ دھماکے سے 29 منٹ پہلے زكریا نے خضدار میں موجود بی ایل اے کے فیلڈ کمانڈر حامد داود سے رابطہ کیا۔

    کرائم سین سے ملنے والے ریموٹ ڈٹونیٹر کی فارنزک جانچ نے اسی Thuraya فون کی آؤٹ گوئنگ سگنل فریکوئنسی کے ساتھ میچ کر لیا ہے۔زكریا اسماعیل کی گرفتاری محض ایک فرد کی پکڑ نہیں بلکہ بی ایل اے – RAW گٹھ جوڑ کی شہ رگ پر کاری ضرب ہے ایک دہائی قبل اجیت دوول نے جو گریٹ گیم تھیوری پیش کی تھی اس کا منطقی انجام اب کراچی سے خضدار تک بکھرے ثبوتوں کی شکل میں دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔

  • وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترک صدر اردوان کی  اہم ملاقات

    وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترک صدر اردوان کی اہم ملاقات

    وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے دولما باہچے محل میں ملاقات کی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات پریس کوریج کے بغیر ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے تحت تعاون کے دائرہ کار پر بھی بات چیت کی گئی۔ واضح رہے کہ کونسل کا آخری اجلاس فروری میں اسلام آباد میں ہوا تھا، جب صدر اردوان نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

    اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، علاقائی و عالمی امور اور باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات پر بھی غور کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف استنبول پہنچنے پر ترک صدر اردوان نے خود استقبال کیا۔ بعد ازاں، دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات بھی ہوئی، جس میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شریک تھے۔

    ترک صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو مزید فروغ دینا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا بتایا جا رہا ہے۔

    ارشد ندیم کو ایشیا کا بہترین ایتھلیٹ قرار، پاکستان کے لیے تاریخی اعزاز

    کوئٹہ سے تونسہ شریف جانے والی مسافر بس مسلح افراد لے گئے، مسافر محفوظ

    اسرائیلی فوج کا غزہ کے 77 فیصد رقبے پر قبضہ، اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ

  • طوفان سے بھارت میں تباہی،  دہلی ڈوب گیا

    طوفان سے بھارت میں تباہی، دہلی ڈوب گیا

    بحیرہ عرب میں پیدا ہونے والے طوفان نے بھارت میں تباہی مچادی ہے-

    بحیرۂ عرب میں بننے والے ایک ممکنہ طوفان نے بھارت کےمغربی ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں اور نقصان کا سبب بنا ہے، اتوار کی علی الصبح آنے والی طوفانی بارشوں نے دہلی اور مضافات میں جس پیمانے پر تباہی مچائی موسلا دھار بارش، تیز ہوائیں، گرج چمک اور بجلی کے جھماکوں نے پوری دہلی کو ہلا کر رکھ دیا بارش اور طوفانی ہواؤں نے زندگی کا نظام درہم برہم کر دیا متعدد علاقوں میں پانی بھر جانے سے ٹریفک جام رہا، گاڑیاں بند ہو گئیں اور زیرِآب راستے ناقابلِ استعمال ہو گئے۔

    منٹو روڈ، موتی باغ اور ایئرپورٹ ٹرمینل ون کے قریب شدید پانی جمع ہو گیا جہاں درجنوں گاڑیاں اور ایک بس پانی میں ڈوب گئیں اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 100 سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں جن میں سے تقریباً 49 کو دیگر شہروں کی طرف موڑنا پڑا، ہزاروں مسافر گھنٹوں ہوائی اڈوں پر پھنسے رہے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، بجلی کے کھمبے گِر گئے اور متعدد گھروں و دکانوں کو نقصان پہنچا،سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی رہیں۔

    پاکستانی کوہ پیما نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ایوریسٹ کو سر کر لیا

    اتنے بڑے پیمانے پر نظام زندگی کے مفلوج ہونے کے باوجود دہلی حکومت اور مرکز کی طرف سے نہ کوئی ایمرجنسی پلان سامنے آیا، نہ کوئی ہنگامی ریلیف ٹیم حرکت میں آئی بارش میں پھنسے شہری بے بسی کی تصویر بنے سڑکوں، انڈرپاسز، اور گھروں میں محصور رہےبیشتر مقامات پر مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت پانی میں پھنسی گاڑیوں کو نکالا، مسافروں کو سہارا دیا، اور سوشل میڈیا پر مدد کی اپیلیں کیں۔ مگر کہیں سے نہ کوئی ہیلپ لائن متحرک ہوئی، نہ کوئی وزراء یا حکام متاثرہ علاقوں میں نظر آئے۔

    مہاراشٹرا اور گووا کے ساحلی اضلاع میں شدید سے انتہائی شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے پیش نظر ان علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے ممبئی میں بھی اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے، اور ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    بھارت کی پاکستان کو ایک بار پھر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کرانے کی کوشش

    گجرات کے ساحلی علاقوں میں بھی شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جہاں حالیہ بارشوں سے 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں ریاستی حکومت نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کنٹرول رومز قائم کیے ہیں یہ سب صورتحال اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ بحیرۂ عرب میں طوفانوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو بھارت کے ساحلی علاقوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

    شہری حلقے شدید غصے میں ہیں عوام کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال کسی مغربی ملک میں پیش آتی تو فوراً ایمرجنسی نافذ کی جاتی، شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا، اور ہر جگہ امدادی ٹیمیں تعینات ہوتیں مگر یہاں، نہ وزیرِ اعلیٰ کی طرف سے بیان آیا، نہ وزیرِ اعظم کی طرف سے کوئی نوٹس، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دہلی جیسے بڑے اور حساس شہر کو قدرتی آفات کے حوالے سے مکمل طور پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔

    لندن میں آتشزدگی، برٹش پاکستانی خاندان کے 4 افراد جاں بحق، قتل کا شبہ

    بھار تی محکمہ موسمیات آئی ڈی ایم کے مطابق، بحیرۂ عرب کے مشرقی وسطی حصے میں ایک کم دباؤ کا نظام تشکیل پایا ہے، جو شدید ڈپریشن میں تبدیل ہوچکا ہے اگرچہ ابھی تک اس طوفان کو باضابطہ نام نہیں دیا گیا، لیکن امکان ہے کہ یہ ’شکتی‘ نامی طوفان بنے۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے سیاسی و عسکری قیادت کو عشائیہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے سیاسی و عسکری قیادت کو عشائیہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے سیاسی و عسکری قیادت کو عشائیہ دیا گیا ہے جس میں صدرٍ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف سمیت سیاسی قیادت نے شرکت کی ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان و دیگر عسکری حکام بھی عشائیے میں شریک ہوئے،عشائیے میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزراء، تمام صوبائی گورنرز، وزرائے اعلیٰ نے بھی شرکت کی،اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکۂ حق کے دوران سیاسی قیادت کی دور اندیشی کو سراہا۔

    عشائیہ معرکۂ حق آپریشن بنیان مرصوص میں عوام کے جذبے کے اعزاز میں دیا گیا،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارتی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے پر پاکستانی میڈیا کے کردار کی بھی تعریف کی،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستانی نوجوانوں کے جذبے کو بھی سراہا، انہوں نے معرکۂ حق کے دوران سیاسی قیادت کی اسٹریٹیجک بصیرت پر اظہارِ تشکر کیا۔آرمی چیف نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کی کامیابی میں تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی کو بھی سراہا اور بھارتی پروپیگنڈہ مہم کے خلاف پاکستانی نوجوانوں اور میڈیا کے ناقابلِ تسخیر کردار کو ’آہنی دیوار‘ قرار دیا.آرمی چیف نے بھارتی پروپیگنڈے کے خلاف نوجوانوں کی بھرپور کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، انہوں نے پاکستانی سائنسدانوں، انجینئرز اور سفارت کاروں کے پیشہ ورانہ عزم اور کردار کو بھی سراہا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شرکاء نے اس فیصلہ کن دور میں قوم کی رہنمائی کرنے والی مدبرانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور افواجِ پاکستان کی جرأت و قربانی اور پاکستانی عوام کے پختہ جذبۂ حب الوطنی کو سراہا۔

  • بھارتی میڈیا کا پاکستان کو چین کی ذیلی ریاست ظاہر کرنے کا پروپیگنڈا بے نقاب

    بھارتی میڈیا کا پاکستان کو چین کی ذیلی ریاست ظاہر کرنے کا پروپیگنڈا بے نقاب

    بھارتی میڈیا کا پاکستان کو چین کی ذیلی ریاست ظاہر کرنے کا پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا،

    معرکہ حق میں شکست کی ہزیمت چھپانے کے لیے بھارت نے نیا پروپگینڈا شروع کر دیا،بھارت ابلاغی محاذ پر پاکستان کو چین کی زیر تابع ریاست کے طور پر پیش کرنے لگا ،بھارتی صحافی برکھا دت کے مطابق بھارتی فوج کو دو محاذ پر جنگ کا سامنا ہے ، پاکستان کو چینی مفادات کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،کیشور مہبوبانی نے برکھا دت کے استفسار کے جواب میں کہا کہ؛ "ہم پاکستان اور چین کے تعلقات کو صرف بھارتی نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں”ہم صرف کشمیر اور سی پیک کو دیکھ رہے ہیں، پاکستان اگر واقعی چین کی زیلی ریاست ہوتا تو اسے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑتا،پاکستان کو چین کی زیلی ریاست کا لیبل دینا غلطی ہوگا، ہندوستان ہمیشہ ماضی کے مسائل پر اختلافات پر توجہ مرکوز کرتا ہے، بھارت دوسرے ممالک سے سبق سیکھنے اور بہتر راستہ تلاش کرنے کے لیے نہیں سوچتا۔ اس وقت پاکستان اور چین کے جغرافیائی سیاسی مفادات کا اتحاد ہے۔ جس طرح امریکہ نے کمیونسٹ چین کو اندرونی سیاسی نظام نظر آنداز کرتے ہوئے پاٹنر کے طور پر چنا ہے، آج ویتنام اور چین کے درمیان تجارت کو دیکھا جا سکتا ہے ، آپ اپنے مخالف کو اپنے آپ کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی شکست سے افسردہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے دو محاذ جنگ کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے ،بھارت پاکستان کو چین کی زیلی ریاست ثابت کرنے پر تلا ہے،دو ممالک کے درمیان تعلقات پسندیدگی یا نظریاتی ہم آہنگی پر نہیں، بلکہ جغرافیائی اور معاشی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں، یہ سب ایک بڑی گیم ہے، جس میں ہر ملک اپنا فائدہ دیکھ کر فیصلے کرتاہے،

  • بھارت تو”وڑ” گیا،چین اور پاکستان کی گلگت میں مشترکہ J-35A لڑاکا طیارے کی پہلی کامیاب پرواز

    بھارت تو”وڑ” گیا،چین اور پاکستان کی گلگت میں مشترکہ J-35A لڑاکا طیارے کی پہلی کامیاب پرواز

    چین اور پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات میں مضبوطی پر بھارت میں تشویش پھیل گئی، بیجنگ اسلام آباد کو J-35A اسٹیلتھ جیٹ 50 فیصد سبسڈی پر فراہم کرنے جارہا ہے ،30 فائٹر جیٹ اگست 2025 میں پاکستان پہنچنے کی توقع ہے ، ان J-35A اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں میں PL-17 جدید ترین میزائل استعمال ہونگے جنکی رینج 400 کلو میٹر ہے ، جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ چھ رافیل طیارے کھونے کے بعد، بھارت کو ٹیکنالوجی کے بڑھتے فرق پر تشویش ہے، جو اس کے قیمتی S-400 دفاعی نظام کی مؤثریت پر سوال اٹھا رہا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چین اور پاکستان نے قراقرام کے علاقے میں پہلی بار پاکستان کے نشان والی J-35A ‘گر فالکن’ سٹیلتھ لڑاکا طیارے کی مشترکہ تجرباتی پرواز مکمل کی ہے، جس میں چینی اور پاکستانی پائلٹس نے ایک ساتھ بھرپور طور پر شرکت کی۔ اس پرواز میں جدید بیڈو سیٹلائٹ نیویگیشن، اے ڈبلیو اے سی ایس (ایئر بورن الرٹ اینڈ کنٹرول سسٹم) کے اپ لنک اور جدید زمینی سٹیلتھ ٹریکنگ کو نظر انداز کرنے والے دفاعی نظاموں کا استعمال کیا گیا۔

    یہ تجربہ صرف فضائی ٹیکنالوجی کی آزمائش نہیں بلکہ دو طرفہ اعتماد اور عسکری اتحاد کا مظہر ہے۔ پاکستان کی روایتی حیثیت بطور ایک اہم عسکری شراکت دار سے بڑھ کر اب ایک خصوصی اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر ابھری ہے جو چین کی جدید ترین لڑاکا فضائی حکمت عملی کا حصہ بن چکا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں تعینات ایک سینئر یورپی دفاعی اتاشی نے بتایا،“ہم جانتے تھے کہ J-35A کا برآمد ہونا ممکن ہے، لیکن پاکستانی پائلٹس کا اس سے قبل مکمل چینی فوجی تعیناتی کے پہلے جہاز کے کیبن میں ہونا بے مثال ہے۔ یہ محض تعاون نہیں بلکہ مکمل فنی اور عسکری انضمام ہے، جو جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔”

    یہ مشترکہ پرواز جنوبی ایشیا میں پہلی مرتبہ اعلیٰ درجے کی مربوط فضائی جنگی مشقوں میں سے ایک تھی، جس میں درج ذیل مشقیں شامل تھیں
    ریئل ٹائم ریڈار دباؤ (Radar Suppression)
    سیٹلائٹ کی رہنمائی سے دشمن کے فضائی اہداف کی شناخت اور حملہ
    لائیو انٹرسپشن مشقیں، جن میں اے ڈبلیو اے سی ایس اور کم دکھائی دینے والے ڈرونز کو پکڑنا شامل تھا

    یہ پروازیں محض ‘تعلیمی فلائٹس’ نہیں بلکہ ایک مکمل عسکری اور حکمت عملی کی مشق تھیں جو اگلے درجے کی فضائی جنگ کی تیاری کا ثبوت ہیں۔

    J-35A: چین کا F-35 اور پاکستان کے لیے ایک انقلاب
    J-35A، جو چین کا اپنا تیار کردہ پانچویں نسل کا سٹیلتھ فائٹر ہے، امریکی F-35 کا سخت حریف سمجھا جاتا ہے۔ اس کا جنوبی ایشیا میں مشترکہ تجربہ پاکستان کو چین کے فوجی مستقبل میں ایک کلیدی شریک بناتا ہے۔ایک سابق بھارتی ایئر مارشل نے کہا“چینی اور پاکستانی پائلٹس کا J-35A کو جنگی حالت میں چلانا جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بدل دیتا ہے۔ بھارت کی رافیل ایئرکرافٹ کی برتری کو اب سخت چیلنج کا سامنا ہے۔”

    روس نے اگرچہ Su-35 جیسی جدید جنگی طیارے برآمد کیے ہیں اور Su-75 پر کام کر رہا ہے، مگر اس نے کسی اتحادی ملک کو اپنی جدید فضائی حکمت عملی میں مکمل رسائی نہیں دی۔ امریکہ نے بھی NATO کے علاوہ کسی ملک کو F-35 کے مکمل فلائٹ پروٹوکول تک رسائی نہیں دی۔ چین نے اس روایتی حدود کو توڑتے ہوئے پاکستان کو اپنی پانچویں نسل کی فضائی حکمت عملی میں مکمل شریک بنایا ہے۔چینی دفاعی تجزیہ کار نے گلوبل ٹائمز کو بتایا “پاکستان صرف ایک خریدار نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک نظریاتی شریک ہے۔ J-35A کی تعیناتی مشترکہ دفاعی فریم ورک کی پختگی کا اظہار ہے، جو خطے میں طاقت کے نئے توازن کا ضامن ہے۔”

    چین نے جنوبی ایشیا میں AWACS، سیٹلائٹس اور سٹیلتھ جیٹس کے مربوط جنگی کلاؤڈ کی کامیاب آزمائش کر لی ہے۔گلگت بلتستان اب فضائی دفاع کا ایک اہم محاذ بن چکا ہے، جہاں سے چین جنوبی سرحدوں کو سختی سے کنٹرول کر سکتا ہے۔سی پیک صرف تجارتی راستہ نہیں رہا بلکہ اب ایک مضبوط دفاعی شیلڈ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

  • بھارت شکست کی بوکھلاہٹ بچوں پہ نکال رہا،ترجمان پاک فوج کی سیکرٹری داخلہ کے ہمراہ پریس کانفرنس

    بھارت شکست کی بوکھلاہٹ بچوں پہ نکال رہا،ترجمان پاک فوج کی سیکرٹری داخلہ کے ہمراہ پریس کانفرنس

    بھارتی جارحیت، دہشتگردی کو بے نقاب کرنے کے لئے ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور سیکرٹری داخلہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے.

    پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے شہید اور زخمی ہونیوالے معصوم بچوں کی ویڈیو جاری کی۔ یہ ویڈیو ان سفاک حملوں کی حقیقت بیان کرتی ہے، جن میں بچے شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ خضدار سکول بس حملہ بھارت کی پراکسی کا شاخسانہ ہے ، بھارت جنگ میں شکست کی بوکھلاہٹ بچوں پہ نکال رہا ہے،خضدار بس حملہ میں فتنہ الہندوستان ملوث ہے، بلوچستان میں حملےکا واقعہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کی سرپرستی میں ہوا، بھارت آپریشن سندور میں بری طرح ناکام ہوا ہے، بھارت نے اب دہشت گرد پراکسیزکو بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا حکم دیا ہے،سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ حکومت پاکستان ان نیٹ ورکس کو ختم کرےگی، ذمہ داروں کو انصاف کےکٹہرےمیں لایا جائےگا، دہشت گردی کی ان کارروائیوں پرسخت ایکشن ہوگا، فتنہ الہندوستان نے اب سافٹ ٹارگٹس پر حملے شروع کیے ہیں۔

    فتنہ الہندوستان میں کیا انسانیت ہے؟ بلوچیت ہے؟ یا پاکستانیت ہے؟ ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دو ہزار پندرہ میں بھی بھارتی دہشتگردی کے ثبوت اقوام متحدہ کو دیے ،انڈیا کی 20 سالہ ریاستی دہشت گردی پر بریفنگ دے رہے ہیں 2009 پاکستان نے شواہد بھارت کے وزیر اعظم کو دیئے،2015 میں پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ثبوت اقوام متحدہ کو دیئے 2019 میں بھی شواہد اقوام متحدہ کو دیئے گئے، کلبھوش کو یہاں سے گرفتار کیا گیا۔یہ بھارت کا دہشتگرد چہرہ ہے ،خضدار میں دہشتگردی، یہ ہے بھارت کا چہرہ، فتنہ الہندوستان میں کیا انسانیت ہے؟ بلوچیت ہے؟ یا پاکستانیت ہے؟ یہ کون سا اسلام اور بلوچیت ہے جس کے اندر انسان کے زندہ رہنے کا حق اِس لئے ہے کہ تمہارا ڈی این اے کیا ہے، یہ کون سی آڈیالوجی ہے، یہ کوئی آڈیالوجی نہیں، یہ حیوانیت ہے،

    ’’بڑا دُشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے‘‘، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں اے پی ایس پشاور پر حملے کے وقت کا نغمہ چلا دیا گیا۔

    قیام پاکستان کے بعد سے ہی بھارت سرگرم ، مکتی باہنی کا قیام، سقوط ڈھاکا اس کی واضح مثالیں، بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کر رہا ہے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کر رہا ہے، بھارت دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے، قیام پاکستان کے بعد سے ہی بھارت سرگرم ہے، مکتی باہنی کا قیام، سقوط ڈھاکا اس کی واضح مثالیں ہیں، بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کر رہا ہے، فتنہ الہندوستان کا باپ بھارت 6/7 مئی کو خود آتا ہے اور دہشتگردی کرتا ہے مساجد کو اور معصوم شہریوں کو نشانہ بناتا ہے۔بھارت نے ہمارے 40 معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر شہید کیا۔یہ ہے بھارت کا اصل دہشتگرد چہرہ، وہ سفاک اور ظالم روپ جو 21 مئی کو ہندوستان کے حکم پر فتنہ ال ہندوستان نے بلوچستان میں بربریت کی ۔ دنیا یاد رکھے، جمہوریت کے لبادے کے پیچھے چھپا ہوا ہندوستان دراصل ظلم، جبر اور نفرت کی ایک تاریک تصویر ہے۔بلوچ عوام پوچھ رہے ہے بلوچستان سے دہشت گردی کا کیا تعلق ہے۔ کون ہے دہشتگرد، کون ہے جو کُھلم کُھلا انسانی حقوق کی پامالی کر رہا ہے،حال ہی میں ہتھیار ڈالنے والے بعض دہشتگردوں نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ انہیں بیرونی سرپرستی حاصل تھی، اور ان بیانات سے بھارت کا کردار واضح طور پر سامنے آیا ہے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ 12 اپریل 2024 کو 12 مزدوروں کو نوشکی میں شہید کیاگیا، 28 اپریل 2024 کو تمپ کیچ میں 2 مزدوروں کو شہید کیاگیا، بھارت کی ہدایت پر یہ عورتوں اور بچوں پرحملےکر رہے ہیں،14 فروری کو ہرنائی میں 10 افراد کو آئی ای ڈی دھماکے میں شہیدکیا گیا، جعفر ایکسپریس حملے میں معصوم شہری، چھٹی پر جانے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو شہیدکیاگیا جبکہ 9 مئی کو لسبیلہ میں 3 معصوم حجاموں کو شہید کیاگیا، 21 مئی کو 6 معصوم پھولوں کو شہید کیاگیا، 51 معصوم بچے اپنی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ ہےبھارت کا مکروہ چہرہ ہے،ہ بچوں، مزدوروں کو شہید کر رہے ہیں لیکن بلوچستان کےلوگوں کاعزم نہیں توڑ سکے، بھارت کی 20 سال کی اسٹیٹ اسپانسرڈ دہشت گردی کا ریکارڈ عوام کےسامنے رکھ رہےہیں، پکڑےگئےدہشت گردوں نے بتایا ہےکہ فتنہ الہندوستان کیسےپاکستان میں دہشت گردی کرتا ہے۔

    دہشتگردوں کو ان کے جرائم کی سزا ضرور دی جائے گی،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ خضدار حملے میں زخمی ہونے والے کئی بچے تاحال اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن کی مکمل دیکھ بھال ریاستی سطح پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردوں کو ان کے جرائم کی سزا ضرور دی جائے گی، اور پاکستان دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ہر سطح پر ناکام بنایا جائے گا،ہم پاکستان کی عزت ، وقار ، سالمیت کا دفاع کریں گے ،بھارت میں آزاد میڈیا کا وجود ہی نہیں ہے، وہاں کا میڈیا اسٹیٹ کنٹرول کرتی ہے، کس نے بیٹھنا ہے، کس نے سُننا ہے، کس نے کیا بولنا ہے، آپ لوگ پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر سوال اُٹھاتے تھے، ابھی آپ کو پتہ چلا کہ آپ کا میڈیا کتنا آزاد ہے، جس رات بھارت نے ڈرون بھیجے اسی رات بلوچستان میں 5دہشت گرد مارے گئے ،رواں سا ل ملک بھر میں 747دہشت گرد ہلاک کیےگئے،رواں سال ہلاک 203دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا،9اور 10مئی کو بلوچستان میں 33دہشت گردی کے واقعات ہوئے ،دہشتگرد ڈاکٹر اللہ نذر کو بھارت میں ویزا اور انٹری کی سہولت میسر ہے ،ماہ رنگ بلوچ دہشتگردوں کی پراکسی ہے ، یہ جو مسنگ پرسنز کی تصویریں اٹھائے پھرتے ہیں ان میں سے تو آدھے دہشتگرد نکلتے ہیں جب مارے جاتے ہیں،اُنہیں سمجھ نہیں آرہی کہ یہ ریاست تو اکٹھی ہو رہی ہے، یہ عوام اکٹھے ہو گئے ہیں اور اکٹھے ہو کر دہشتگردی کی تباہی نکال دیں گے، آپ کے سامنے آپ کی فوج کے افسران آتے ہیں، آپ کُھل کر سوال کرتے ہیں، کیا آپ نے کبھی سُنا کہ ہم نے جھوٹی بات کی، کیا کبھی سُنا کہ آپ کی فوج آ کر کُھلا اور ننگا جھوٹ بولے، ہم آپ کو اور پاکستانی عوام کو جوابدہ ہیں، ڈ

  • خضدار بس حملہ،زخمی طالبہ ملائکہ بھی شہید

    خضدار بس حملہ،زخمی طالبہ ملائکہ بھی شہید

    خضدار میں سکول بس پر بھارتی سپانسرڈ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا حملہ، ایک اور زخمی طالبہ شہید ہو گئی ہے

    ایک اور معصوم جان فتنہ الہندوستان کی پاکستان میں دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئی، خضدار دہشتگردانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والی طالبہ ملائکہ شہید ہو گئی،خضدار حملے میں شہید ہونے والے طلباء و طالبات کی تعداد 6 ہو گئی،

    قبل ازیں خضدار بس دہشتگردانہ حملے میں حیدر شہید شدید زخمی ہوا جو جانبر نہ ہوسکا، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ذلت آمیز شکست اور ہزیمت کے بعد بھارت بزدلانہ کارروائیوں پر اتر آیا ہے ،بھارت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی پھیلانے کے لیے ہندوستان اپنی پراکسیوں کا استعمال کر رہا ہے ،ان معصوم بچوں کے خون کا حساب فتنہ الہندوستان اور انکے ہندوستانی آقاؤں سے لیا جائے گا،

    علاوہ ازیں خضداربم دھماکے میں شہید 2بہنوں کو نمازجنازہ کے بعد سپردخاک کردیا گیا ،سابق وزیر اعظم راجہ پرویزاشرف نے خضداربم دھماکے میں شہید 2بہنوں کی نمازجنازہ میں شرکت کی،دوسری جانب بس پر دہشتگرد حملے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں سی ٹی ڈی تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔

  • بھارت کا میڈیا ،ریاست خود معلومات کی جنگ میں جھوٹ بول رہے تھے،ترجمان پاک فوج

    بھارت کا میڈیا ،ریاست خود معلومات کی جنگ میں جھوٹ بول رہے تھے،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری ہے مگر فتح اللّٰہ تعالیٰ کی ہے۔

    عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی گلیوں، شہروں میں جائیں تو عوام کے چہروں پر جواب موجود ہے، پاکستان نے جھوٹ، فریب، جبر اور بھارتی جارحیت کا پردہ چاک کیا، پہلگام کے بعد بھارت ایک من گھڑت کہانی لے کر آیا، پاکستان نے صرف ایک بات کہی کہ ثبوت عالمی برادری یا کسی تیسرے قابل اعتماد فریق کے سامنے لائیں،بھارت کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور آج تک نہیں ہے، چند دن پہلے بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ تفتیش ابھی جاری ہے، 6 اور 7 مئی کو جو انہوں نے کیا، اس پر بھی ان کے پاس اخلاقی جواز نہیں، دنیا نے دیکھا کہ بھارت کا میڈیا اور ریاست معلومات کی جنگ میں جھوٹ بول رہے تھے، بھارت کے پاس بہت ترقی یافتہ تھیٹر، فلم انڈسٹری ہے، پاکستان سے کہیں آگے، اسی لیے وہ نت نئے بیانیے گھڑتے رہتے ہیں، یہ ہمارے کلچر، اقدار اور مذہب کے منافی ہے کہ مذہبی یا سویلین مقام پر حملہ کریں،ہمیں اپنی فضائیہ اور پائلٹس پر فخر ہے۔ ناصرف آرمی، ایئر فورس، نیوی میں ہم آہنگی ہے، بلکہ سیاسی قیادت اور عوام میں بھی ہم آہنگی دیکھی، آہنی دیوار ’بنیان مرصوص‘ بھارتی جارحیت کے خلاف متحدہ مزاحمت تھی۔

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ جے ایف-17 تھنڈر، جے-10 سی پاکستان کی تکنیکی ترقی کی مثالیں ہیں، فتح-1، فتح-2 میزائل، یہ سب پاکستان کی تکنیکی ترقی کی مثالیں ہیں۔

    علاوہ ازیں الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری ہے، مگر فتح اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اگر آپ پاکستان کی گلیوں، شہروں میں جائیں تو عوام کے چہروں پر جواب موجود ہے،خوشی، جشن جو وہ منا رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہ صرف عسکری میدان کی بات نہیں، نہ ہی صرف فضائی یا زمینی لڑائی کی۔ یہ ایک سچائی کی جنگ (معرکۂ حق) ہے۔ پاکستان نے جھوٹ، فریب، جبر، اور بھارتی جارحیت کا پردہ چاک کیا۔ پہلگام کے بعد بھارت ایک من گھڑت کہانی لے کر آیا۔ پاکستان نے صرف ایک بات کہی، اگر آپ کے پاس ہمارے کسی شہری یا ریاست سے تعلق کا ثبوت ہے، تو سامنے لائیں۔ اور وہ بھی بین الاقوامی برادری یا کسی تیسرے، قابلِ اعتماد فریق کے سامنے تاکہ شفاف تحقیقات ہو سکیں۔ بھارت کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، اور آج تک نہیں ہے۔ حتیٰ کہ چند دن پہلے ان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ تفتیش ابھی جاری ہے۔ تو 6 اور 7 تاریخ کو جو انہوں نے کیا، اس پر بھی ان کے پاس اخلاقی جواز نہیں۔ ہم شفاف رہے، سچ بولا، جھوٹ نہیں بولا، باتوں کو توڑا مروڑا نہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ بھارت کا میڈیا اور ریاست خود معلومات کی جنگ میں جھوٹ بول رہے تھے۔ ان کے پاس بہت ترقی یافتہ تھیٹر اور فلم انڈسٹری ہے، پاکستان سے کہیں آگے، اسی لیے وہ نت نئے بیانیے گھڑتے رہتے ہیں۔ مثلاً، کل ہی میں نے سنا کہ بھارت کہہ رہا تھا کہ پاکستان نے گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا،اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں ہو سکتا۔ ہم سکھوں کے مقدس مقامات جیسا کہ ننکانہ صاحب، پنجہ صاحب اور دیگر مزہبی مقامات کی حفاظت کرتے ہیں، کرتارپور صاحب کا احترام کرتے ہیں۔ ہم اپنے سکھ بھائیوں سے محبت کرتے ہیں،ہمارے پنجاب (پاکستان اور بھارت) میں مشترکہ ثقافت، زبان اور قربت ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔ ہم گولڈن ٹیمپل جیسے مقدس مقام پر کیوں حملہ کریں گے؟ یہ ہمارے کلچر، اقدار اور مذہب کے خلاف ہے کہ ہم کسی مذہبی یا سولین مقام پر حملہ کریں، وہ اپنے اعلیٰ افسران اور جرنیلوں کو میڈیا پر جھوٹ بولنے کے لیے لاتے ہیں۔ آپ بھارتیوں کی باتوں پر کیسے یقین کریں؟ انہیں پہلے خود اپنا اعتبار بحال کرناہو گا۔ اعتبار سچ بولنے سے آتا ہے—نہ کہ ہزاروں ویب سائٹس بند کرنے، میڈیا پر پابندی لگانے یا حکومت پر تنقید کرنے والوں کو جیل میں ڈالنے سے۔ کیا پاکستان نے اس تنازع میں کسی صحافی کو جیل میں ڈالا؟ بالکل بھی نہیں۔

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اپنی فضائیہ اور پائلٹس پر فخر ہے۔ اس فوجی تنازع میں آپ نے تینوں افواج کی ہم آہنگی دیکھی صرف آرمی، ایئرفورس، اور نیوی کے درمیان نہیں، بلکہ سیاسی قیادت اور پاکستانی عوام کے ساتھ بھی ایک مظبوط ہم آہنگی دیکھنے کو ملی۔ آہنی دیوار ’’بنیان المرصوص‘‘ بھارتی جارحیت کے خلاف متحدہ مزاحمت تھی،پاکستان ایئر فورس ہمارا فخر ہے ۔ 6 اور 7 تاریخ کی شب کی فضائی جنگ پوری دنیا نے دیکھی۔ یہ دہائیوں تک فضائی جنگی کالجوں اور فوجی اداروں میں پڑھائی اور زیر بحث لائی جائے گی۔ ہم اپنے پائلٹس کی پیشہ ورانہ مہارت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ جے ایف-17 تھنڈر، جے-10 سی، اور زمین پر فتح-1 اور فتح-2 میزائل—یہ سب پاکستان کی تکنیکی ترقی کی مثالیں ہیں۔ ہم نے اپنی روایتی افواج کی مکمل طاقت ابھی تک استعمال ہی نہیں کی۔ اس کا بڑا حصہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھارت کی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف مصروف ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت اس خطے میں سب سے بڑا دہشتگردی کا سرپرست ہے۔ ہم نے ان آپریشنز سے ایک بھی فوجی نہیں ہٹایا۔ ہم نے اپنی تمام ٹیکنالوجی بھی ظاہر نہیں کی.

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ، چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر عالمی طاقتیں جانتی ہیں کہ دو حریف ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کا تصور ہی خطرناک اور مضحکہ خیز ہے۔ بھارت کئی برسوں سے جنگی جنون میں مبتلا ہے جوکہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ وہ ایک ایسا ماحول بنا رہے ہیں جو باہمی تباہی کا سبب بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے دانشمندی سے کام لیا اور اس پورے تنازع میں کشیدگی کو بڑھنے نہیں دیا، جنگ بندی کا مطلب ہے کہ دونوں فریقوں نے فائرنگ بند کر دی، مگر امن تب آئے گا جب بھارت اپنی جنگی جنون میں مبتلا سیاسی سوچ سے چھٹکارا پائے گا۔ ان کے اشرافیہ مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف ظلم پر یقین رکھتے ہیں—یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ صرف مسلمانوں پر ہی نہیں، بلکہ عیسائیوں، سکھوں اور نچلی ذاتوں پر بھی ظلم ہوتا ہے۔ اس ظلم سے قدرتی طور پر ردعمل پیدا ہوتا ہے، جسے بھارت حل کرنے سے انکار کرتا ہے۔ انتہا پسندی اور ہندوتوا نظریہ کے فطری نتائج ہوتے ہیں، لیکن بھارت اس کا الزام پاکستان پر ڈال کر بیرونی مسئلہ بناتا ہے۔ جب تک بھارت ان اندرونی مسائل کو خود حل نہیں کرتا، امن ممکن نہیں۔ کشمیر ایک حل طلب بین الاقوامی مسئلہ ہے، جس میں پاکستان، چین، اور بھارت شامل ہیں۔ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ بھارت اس مسئلے کو ظلم کے ذریعے اندرونی معاملہ بنانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن امن اس راستے ممکن نہیں۔

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ صرف کوئی پاگل ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا پانی بند کر سکتا ہے؛ یہ ممکن نہیں۔ ہمیں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ کشمیر سے چھ دریا نکلتے ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اگر کل کو کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق کشمیر پاکستان میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ تمام دریا پاکستان کے ہوں گے اور بھارت ایک lower riparian state بن جائے گا اور پھر یہ ہمارے اوپر ہو گا کہ اس کو کیسے دیکھنا ہے۔ چین بھی اس تنازع میں ایک فریق ہے جس کا کشمیر کے کچھ حصوں پر دعویٰ ہے۔ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ وہ کس آگ سے کھیل رہا ہے۔▪ پاکستان اور چین کئی دہائیوں سے مختلف شعبوں میں شراکت دار ہیں۔ پاکستان، چین، اور دیگر ذمہ دار اقوام امن کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ جس طرح پاکستان نے اپنی جنگ خود لڑی۔ اگر بھارت میں خودداری ہے، تو وہ بھی اپنی جنگ خود لڑے۔ بھارتیوں کو بھی خود داری سیکھنی چاہیے، اور جھوٹ اور جارحیت پر انحصار بند کرنا چاہیے۔ جب بھارت نے کھلم کھلا جارحیت کی، ہم ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور آج بھی کھڑے ہیں۔ اگر بھارت نے دوبارہ ایسی حرکت کی، تو ہمارا ردعمل اس سے بھی زیادہ تیز اور شدید ہوگا۔

  • خضدار بس حملے میں زخمی ایک اور طالب علم شہید

    خضدار بس حملے میں زخمی ایک اور طالب علم شہید

    خضدار میں سکول بس پر بھارتی سپانسرڈ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا حملہ،خضدار حملے میں شہید ہونے والے طلباء و طالبات کی تعداد 5 ہو گئی،

    خضدار بس دہشتگردانہ حملے میں حیدر شہید شدید زخمی ہوا جو جانبر نہ ہوسکا،حملے میں شہید ہونے والوں میں 4 طالبات اور 1 طالب علم شامل ہیں،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ذلت آمیز شکست اور ہزیمت کے بعد بھارت بزدلانہ کارروائیوں پر اتر آیا ہے ،بھارت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی پھیلانے کے لیے ہندوستان اپنی پراکسیوں کا استعمال کر رہا ہے ،ان معصوم بچوں کے خون کا حساب فتنہ الہندوستان اور انکے ہندوستانی آقاؤں سے لیا جائے گا،

    علاوہ ازیں خضداربم دھماکے میں شہید 2بہنوں کو نمازجنازہ کے بعد سپردخاک کردیا گیا ،سابق وزیر اعظم راجہ پرویزاشرف نے خضداربم دھماکے میں شہید 2بہنوں کی نمازجنازہ میں شرکت کی،دوسری جانب بس پر دہشتگرد حملے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں سی ٹی ڈی تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔