Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاک فوج نے ایل او سی پر دیا بھارت کو منہ توڑ جواب،بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈہ پر ترجمان پاک فوج کا ردعمل

    پاک فوج نے ایل او سی پر دیا بھارت کو منہ توڑ جواب،بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈہ پر ترجمان پاک فوج کا ردعمل

    پاک فوج نے ایل او سی پر دیا بھارت کو منہ توڑ جواب،بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈہ پر ترجمان پاک فوج کا ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ایل او سی پر اشتعال انگیزی کاسلسلہ جاری جاری ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے،پاک فوج کے ترجمان کے مطابق دیوا سیکٹر میں بھارتی چوکیوں کو تباہ کر دیا گیا،بھارتی فوجیوں کے بھاری جانی نقصان کی اطلاعات ہیں،پاک فوج کے بر وقت جواب کے باعث متعدد بھارتی فوجی جہنم واصل ہو گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ نیلم ویلی میں کیرن سیکٹر پر کوئی بڑی کارروائی نہیں ہوئی،بھارتی میڈیا نیلم ویلی میں کارروائی سے متعلق پروپیگنڈاکر رہا ہے،

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارتی آرمی چیف کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب،بھارت نے کی راہ فرار اختیار

    بھارت کی ایک اور جھوٹی کہانی بے نقاب، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق

    بھارت ایک اور ڈرامہ رچانے میں مصروف، 26/11 طرز کے حملے کا الرٹ جاری

    بھارتی فوج نے 2018میں 3 ہزار 38 بارسیز فائر کی خلاف ورزی کی،2018میں بھارتی اشتعال انگیزی سے58 شہری شہیداور319زخمی ہوئے،بھارتی فوج نے رواں سال اب تک 2 ہزار 608 بارسیزفائرکی خلاف ورزی کی،2019میں بھارتی بلااشتعال فائرنگ سے 44 شہری شہید اور230زخمی ہوئے

  • بھارت نے کاروائی کی تو بھر پور جواب دیں گے، وزیراعظم کا ایک بار پھر عزم، دیا دنیا کو اہم پیغام

    بھارت نے کاروائی کی تو بھر پور جواب دیں گے، وزیراعظم کا ایک بار پھر عزم، دیا دنیا کو اہم پیغام

    بھارت نے کاروائی کی تو بھر پور جواب دیں گے، وزیراعظم کا ایک بار پھر عزم، دیا دنیا کو اہم پیغام
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت میں بھارت ہندووتوا بالادستی کے ساتھ ہندوراشٹراکی طرف بڑھ رہاہے،بھارت میں ہندووتوا،فاشسٹ نظریات کا غلبہ ہوتا جارہا ہے، متنازع قانون کے خلاف بھارت کے حق پسند احتجاج کررہے ہیں،بھارت میں احتجاج اب ایک تحریک کی شکل اختیار کررہا ہے.

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوجوں کا محاصرہ جاری ہے،کشمیر میں کرفیو اٹھانے کے بعد خونی فسادات کا خدشہ ہے،بھارت میں بڑھتے مظاہروں کے ساتھ پاکستان کیلیےخطرات بڑھ رہے ہیں،ہم عالمی برادری کو بھارتی رویے سے متعلق متنبہ کررہے ہیں،بھارتی آرمی چیف کےبیانات خدشات میں اضافہ کررہےہیں،بھارت نےداخلی انتشارسے توجہ ہٹانے کیلیے پاکستان کے خلاف کارروائی کی توبھرپورجواب دیں گے، جارحیت کی صورت میں منہ توڑجواب کےعلاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہوگا،

  • ایف اے ٹی ایف کا ڈومور،کالعدم تنظیموں کیخلاف کیا کاروائی کی جائے؟ بڑا مطالبہ کردیا

    ایف اے ٹی ایف کا ڈومور،کالعدم تنظیموں کیخلاف کیا کاروائی کی جائے؟ بڑا مطالبہ کردیا

    ایف اے ٹی ایف کا ڈومور،کالعدم تنظیموں کیخلاف کیا کاروائی کی جائے؟ بڑا مطالبہ کردیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کوایف اے ٹی ایف کا150سوالات پرمشتمل سوال نامہ موصول ہو گیا،سوال نامے میں مدارس سے متعلق کیے گئے قانونی اقدامات کی تفصیلات پوچھی گئیں، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف درج مقدمات کی نقول مانگی گئی ہیں،ایف اےٹی ایف نے پاکستان سے کالعدم تنظیموں سے منسلک افراد کوسزادلوانے کا مطالبہ بھی کیا ہے،

    ایف اے ٹی ایف کی جانب سے سوال نامہ پاکستان کی3دسمبرکوجمع کرائی گئی رپورٹ کے جواب میں بھیجا گیا ہے،ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کوسوال نامہ20دسمبرکوارسال کیا تھا جو موصول ہو گیا،پاکستان ایف اے ٹی ایف کے سوالات پر جواب 8 جنوری  تک جمع کراسکے گا.

    8 کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی ،کتنے مقدمات، کتنی گرفتاریاں اور کیا سزائیں دی گئیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی

    ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے 40 اہداف کے حصول پر پیشرفت کاجائزہ لینے کے بعد سوالنامہ بھیجا، پاکستان نے 40 اہداف میں سے 36 پرپیشرفت دکھائی، 4 اہداف کےحصول پرطریقہ کاروضع کردیا گیا،

    پاکستان نے مالیاتی اداروں کا ڈیٹا خفیہ رکھنے کا ہدف پورا کیا، پاکستان نے 9 اہداف پر بڑی پیش رفت کی، بے نامی داروں کے خلاف کارروائی میں بھی بہتری کی گئی، رپورٹ میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات شامل کیے گئے۔

    وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان 2020 میں گرے سے وائٹ لسٹ میں آجائے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بالخصوص  آخری 4 ماہ میں ہونے والی پیشرفت کا اعتراف کیا گیا، تاہم اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کو دیا گیا ایکشن پلان کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے،

    ایف اے ٹی ایف کا ایک بار پھر ڈومور، کالعدم تنظیموں کیخلاف کیا کیا؟ رپورٹ طلب

    ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کی کوششوں کا اعتراف، ڈومور بھی کہہ دیا

    حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ تمام ریگولیٹری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کوشش کر رہے ہیں، وفاقی اور صوبائی محکمے بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط مانتا جا رہا ہے،وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، پاکستان سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لئے فنڈنگ کی روک تھام، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالنے اور ذمہ دار ممالک کی صف میں لانے کے لئے بنائی جانے والی کو آرڈی نیشن کمیٹی کا چیئرمین حماد اظہر کو بنایا گیا ہے.

    واضح رہے ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معانت کی روک تھام کے لیے بنائی گئی عالمی تنظیم ہے۔اس تنظیم نے 18 اکتوبر کو 4 ماہ کی مہلت دہتے ہوئے پاکستان پر زور دیا تھا کہ فروری 2020 تک ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کرے کیونکہ اس وقت تک پاکستان ’گرے لسٹ‘ میں ہی موجود رہے گا۔ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ کن اجلاس جنوری میں ہوگا۔21 جنوری سے شروع ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کی گرے لسٹ کے نکلنے کے بارے میں فیصلہ ہو گا۔

  • وزیراعظم، آرمی چیف کی انتہائی اہم ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

    وزیراعظم، آرمی چیف کی انتہائی اہم ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

    وزیراعظم، آرمی چیف کی انتہائی اہم ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان اورآرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کی ملاقات ہوئی ہے، دونوں رہنماؤں کے مابین ملاقات ایوان صدر میں ہوئی.

    وزیراعظم عمران خان اور آرمی یچف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات کے دوران ملکی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں کشمیر کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی،وزیراعظم عمران خان نے ملکی دفاع کے لئے پاک فوج کے کردار کو سراہا.

    کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈہ، آخری حد تک جائیں گے، آرمی چیف کا دبنگ اعلان

    مادر وطن کی سمندری سرحدوں اور ساحلوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سربراہ پاک بحریہ

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    کشمیر کے لیے ‏‎آخری گولی،آخری سپاہی،آخری حد تک جائیں گے،ترجمان پاک فوج

    بھارت سن لے، جنگیں اسلحہ سے نہیں جذبہ حب الوطنی سے لڑی جاتی ہیں، ترجمان پاک فوج

    واضح رہے کہ ایوانِ صدر میں چیف جسٹس آف پاکستان کی حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف سمیت وفاقی وزراء، وکلاء سمیت اہم شخصیات نے بھی شرکت کی تھی۔ یہ ملاقات اس تقریب کے بعد ہوئی،

  • ملائشیا کانفرنس میں شرکت سے متعلق اردگان کا بیان اور انکا درد امت، باغی سپیشل رپورٹ

    ملائشیا کانفرنس میں شرکت سے متعلق اردگان کا بیان اور انکا درد امت، باغی سپیشل رپورٹ

    اسرائیل سے تعلقات رکھنے والے ترک صدر رجب طیب اردگان امت کے اتحاد کے داعی کیسے ہو سکتے ہیں؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ملائشیا میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہیں کی، وزیراعظم عمران خان نے کانفرنس میں شرکت کرنی تھی تا ہم وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے. اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان نے ملائیشا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کو ٹیلی فون کر کے آگاہ بھی کیا اور بعد ازاں ملائشین وزیراعظم آفس نے وزیراعظم عمران خان کے اس اقدام کو سراہا.

    ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مسلم ممالک کے رہنماؤں کا اجلاس تو ہوا جس میں جہاں دنیا بھر میں مسلمانوں کے مسائل اور دیگر امور پر غور کیا گیا۔ پاکستان ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی، کانفرنس کے بعد ترکی کے صدررجب طیب ایردوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کانفرنس میں پاکستان اور انڈویشیا کے سربراہان نے بھی شرکت کرنی تھی لیکن سعودی عرب کے دباو کی وجہ سے شرکت نہ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نےایسا پہلی بار نہیں کیا ہے بلکہ وہ ہمیشہ ہی ایسا کرتے چلےآرہے ہیں

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہو ا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے اسٹیٹ بینک کو کچھ رقم ضمانت کے طور پر جمع کروا رکھی ہے اور اسی کے نتیجے میں حکومتِ پاکستان نے سعودی عرب کو چند ایک یقین دہانیاں بھی کروائیں تھیں ۔ اس سے بڑھ کر سعودی عرب میں چار ملین کے لگ بھگ پاکستان کے مزدور کام کرتے ہیں جنہیں واپس پاکستان بھیجنے اور ان کی جگہ بنگلہ دیش کے مزدوروں کو نوکریاں دینے کی دہمکی دی گئی جس کے نتیجے میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پہلے سے پلان شدہ سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے کا اپنا ارادہ بدل لیا۔ سعودی عرب نے پاکستان میں اسٹیٹ بینک میں ضمانت کے طور پر جمع شدہ رقم کو بھی واپس لینے کی دھمکی دی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا پڑی ۔

    ترکی صدر کے بیان کے بعد سعودی عرب نے کوالالمپور سمٹ میں پاکستان کو شرکت سے روکنے کے حوالے سے خبروں کی تردید کر دی۔ سعودی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایسے نہیں جہاں دھمکیوں کی زبان استعمال ہوتی ہے۔پاکستان میں سعودی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر مجبور کرنے کی خبریں بے بنیاد ہے، پاکستان کو سمٹ میں شرکت سے روکنے کیلئے کسی قسم کی دھمکی دینے کی بھی تردید کرتے ہیں۔

    سعودی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایسے نہیں جہاں دھمکیوں کی زبان استعمال ہوتی ہے، دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور افہام و تفہیم پر مبنی گہرے تذویراتی تعلقات ہیں، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین بیشترعلاقائی، عالمی بالخصوص امت مسلمہ کے معاملات سے متعلق اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا سعودی عرب ہمیشہ دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا اور ساتھ دیا تا کہ پاکستان ایک کامیاب اور مستحکم ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کرسکے

    پاکستان میں امیرالمومنین سمجھے جانیوالے رجب طیب اردوان کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر انہوں نے ہمیشہ اپنے ملک کا مفاد پہلے رکھا، اسرائیل کے ساتھ ان کی تجارت ہے، حالانکہ فلسطین پر مسلسل تقاریر کرتے ہیں۔ اسلئے جذباتی نہیں ہونا چاہئے، وزیراعظم عمران خان ملائیشن ہم منصب کو کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے بارے آگاہ کر چکے تھے جس کے بعد طیب اردوان کو ایسی کوئی بھی بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن لگتا یوں ہے کہ ایک طرف وہ امت کے اجتماعی مسائل کے حل کے لئے کانفرنس کروا رہے ہیں دوسری جانب امت کی تقسیم کے درپے بھی ہیں، ترک صدر پاک سعودی تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہیں، اگر بات واقعی ایسی ہے جیسے ترک صدر نے کی تو یہ پاکستانی قوم کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ ان کے کپتان نے اپنے لاکھوں پاکستانیوں کو ایک فیصلے کے ذریعے بے روزگار ہونے سے بچا لیا، پاکستان نے اپنے مفاد میں فیصلے کرنے ہیں ترکی سے پوچھ کر یا انکی خواہش کے مطابق پاکستان کے فیصلے نہیں ہوں گے، اب امریکی ڈکٹیشن اور ڈومور ختم ہوچکی ،پاکستان میں حقیقی تبدیلی آ چکی.

    ترک صدر نے کہا کہ سعودی عرب نے دھمکی دی کہ پاکستان کے مزدوروں کو واپس بھجوایا جائے گا اگر ترک صدر پاکستان کے اتنے ہمدرد ہیں تو وہ اپنے ملک میں 10 لاکھ ملازمتوں کا اعلان کرتے اور پاکستان کو کہتے کہ پاکستانیوں کو ترکی بھیجیں لیکن انہوں نے پاک سعودی تعلقات خراب کرنے اور امت کے دو بڑے ممالک میں تفریق پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی، طیب اردگان نے پاکستان کے حوالہ سے بیان دے کر بیوقوفی کی ہے ،پاکستانی قوم اب انکا چہرہ پہچان چکی ہے کہ وہ پاکستان کے کتنے ہمدرد ہیں. ترک صدررجب طیب اردگان بھی اپنے مفادات کو لے کر فیصلے کر رہے ہیں تو پاکستان کو بھی اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق ہے،

    ترکی پاکستان سے زیادہ امت مسلمہ کا خیر خواہ نہیں صرف سوشل میڈیا کے ذریعے جذباتیت گھولی جاتی ہے، حقائق اس کے برعکس ہیں۔اسرائیل جس کے ساتھ پاکستان سمیت دیگر ممالک نے اسے تسلیم ہی نہیں کیا پاکستان سے زیادہ ترکی کی تجارت اسرائیل کے ساتھ ہے۔ ترکی کی پاکستان کے ساتھ حالیہ برسوں میں 45 فیصد تجارت میں کمی ہوئی ہے. ترکی کی اسرائیل کے ساتھ نہ صرف تجارت بلکہ دفاعی معاہدے بھی ہیں،

    اگرچہ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات پہلے جزوی تھے لیکن ترکی نے مارچ 1949ء میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کو بطور ریاست قبول کیا تھا تب سے اسرائیل ترکی کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے ،دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری شعبوں میں گہرے تعلقات پائے جاتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے علاقے میں دونوں ممالک کئی اہم ایشوز پر مفادات ایک ہونے کی وجہ سے یک جا دکھائی دیتے ہیں ،بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پائی گئی مگر یہ کشیدگی آخر کار ختم ہوجاتی تھی جیسا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہیں اور دونوں ایک دوسرے میں اپنے اپنے سفراء متعین کرتے رہتے ہیں۔ مسلمان اور عرب ممالک اکثر ترکی پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے لیکن ترکی نے ایسا نہ کیا،

    اردگان کی پارٹی کے حکومت میں آنے کے سال ہی ترکی اور اسرائیل کے مابین (مشروع أنابیب السلام) کے نام سے پانی کا معاہدہ ہواہے جس کے تحت ترکی اسرائیل کو شام کے راستے سالانہ پچاس ملین ٹن پانی سپلائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 1991میں ترکی صدر تورگوت اوزال نے کہا تھا: (جس طرح عرب پٹرول بیچتے ہیں ترکی بھی اپنا پٹرول بیچے گا یعنی پانی کو)۔ لیکن کسے بیچا جائے گا اس بات کو پوشیدہ رکھا گیا یہاں تک کہ2002میں مذکورہ معاہدے پر ترکی اور اسرائیل کے مابین دستخط کر دیئے گئے۔

    ترکی کے وزیر خارجہ حکمت سیٹن نے نومبر 1993 کے دورۂ یروشلم کے دوران واضح الفاظ میں اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کی حمایت کی۔ اس حقیقت سے کون آنکھیں بند کر سکتا ہے کہ بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ غاصبانہ و ظالمانہ ہے اور عالم اسلام اور دنیا کے بیشتر انصاف پسند ممالک نے بارہا اس قبضے کی مذمت کی ہے۔ تاہم او آئی سی اور موتمر عالم اسلامی کا رکن ہونے کے باوجود ترکی کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بڑھایا،جنوری 1994 میں اسرائیل کے صدر وائز مین نے ترکی کا چار روزہ دورہ کیا تھا۔ اسرائیل میں متعین ترکی سفیر نے اسے یہودیوں کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ قرار دیا تھا۔

    ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے 11 جنوری 2017 نے کہا تھا کہ ثقافت، سیاحت اور کھیل کے شعبوں میں ترکی اور اسرائیل دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بلا تعطل جاری ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم بھی 2.5 بلین ڈالر سے بڑھ کر 5 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ہم دونوں ملکوں کے درمیان آزاد تجارتی سمجھوتے کی تجدید اور اس کے احاطے میں توسیع کے بھی خواہش مند ہیں،اسرائیلی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان آخری چند برسوں میں تجارتی تبادلہ 5.5 ارب ڈالر تک گیا۔ سال 2014 میں ترکی اور اسرائل کے مابین تجارتی تبادلہ 5.5 ارب ڈالر رہا۔ ان میں ترکی کی اسرائیل کو برآمدات 2.7 ارب ڈالر تھیں جب کہ اسرائیل سے درآمدات کی قیمت 2.8 ارب ڈالر رہی۔ سال 2015 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تبادلہ 4.1 ارب ڈالر رہا۔ ان میں اسرائیل کے لیے ترکی کی برآمدات 2.4 ارب ڈالر جب کہ اسرائیل سے درآمدات کا حجم 1.7 ارب ڈالر تھا۔ اسرائیل سے درآمدات کا حجم کم ہونے کا سبب یہ تھا کہ ترک حکام نے 2015 میں اسرائیلی کمپنیوں کو حکومتی ٹینڈروں میں شریک ہونے سے روک دیا تھا۔سال 2016 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تبادلہ کم ہو کر 3.9 ارب ڈالر رہا۔ اس میں ترکی کی اسرائیل کو برآمدات 2.6 ارب ڈالر جب کہ اسرائیل سے درآمدات 1.3 ارب ڈالر تھیں۔ سال 2017 میں دونوں ملکوں کے بیچ تجارتی تبادلہ بڑھ کر 4.3 ارب ڈالر ہو گیا۔ ان میں اسرائیل کے لیے ترکی کی برآمدات کا حجم 2.9 ارب ڈالر جب کہ اسرائیل سے درآمدات کا حجم 1.4 ارب ڈالر تھا۔

    1999 میں جب ترکی میں زبردست زلزلہ آیا تھا اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی اس موقع پر دوسرے دوست ممالک کی طرح اسرائیل نے بھی بھرپور تعاون پیش کیا تھا بلکہ اسرائیل نے باقاعدہ اپنی فوج بھیجی تھی۔ اور ساتھ ہی اسرائیل نے منہدم شدہ گھروں کی جگہ پر بہت سارے گھر اپنے خرچے پر بنوائے جنہیں بعد میں اسرائیلی گاوں سے جانا جانے لگا۔ اسی طرح جب سال 2016 میں اسرائیل کے اندر بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پانا ناممکن ہوگیا تو ترکی نے بھی اپنی دوستی کا صلہ دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا اور پوری ایک فوجی ٹکڑی بھیج دی ساتھ ہی آگ بجھانے والا جیٹ طیارہ بھی روانہ کیاجس پر اسرائیلی وزیر اعظم نے رجب طیب اردگان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    اگست 2019 کی ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قریبی اور اسلامی دوست ملک ترکی نے ایک بار پھر پاکستان اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔ ترکی کا موقف ہے کہ عرب دنیا اسرائیل سے اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار کر چکی ہے اس لئے پاکستان کو بھی اپنے مفادات کے لئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے چاہیئے جس سے پاکستان کے معاشی حالات بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ترکی اس سے قبل بھی پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تجویز پاکستان کو دے چکا ہے۔ لیکن پاکستان اسرائیل کے حوالہ سے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے.

    جنوری 2015 میں ریڈیو فرانس کی ویب سائٹ نے رپورٹ دی تھی کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگا ن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو ترکی جیسے ملک کی ضرورت ہے جبکہ انقرہ کو بھی اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ ترکی کو بھی اسرائیل کی ضرورت ہے۔

    ترکی کو آج کی اسلامی ریاست اور جناب رجب طیب ایردوان اور عبداللہ گل کو صلاح دین ایوبی تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن طیب اردگان نے ہی جون 2005 میں اسرائیلی صدر شمعون پیریزکو ترکی کی دعوت دی اور دو سال بعد اسرایئلی صدر شمعون پیریز نے اس دعوت قبول کرتے ہوئے نومبر 2007 میں ترکی کا دورہ بھی کیا، تو ترکی کی حکومت نے نہ صرف ان کا بے مثال استقبال کیا بلکہ ان سے ترک پارلیمنٹ کا خطاب بھی کرایا۔ یوں شمعون پیریز اسرائیل کے پہلے ایسے صدر بنے جنہیں کسی اسلامی ملک کی پارلیمنٹ میں قدم رکھنے اوراس سے خطاب کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اور ترکی دنیا کا پہلا اسلامی ملک بن گیا جس نے کسی اسرایئلی صدر کو اتنی زیادہ اہمیت دی، ترکی کی اسرائیل کی جانب توجہ کی وجہ سے آج ترکی کے اسرائیل کے ساتھہ تجارتی ،صنعتی ، اور سیاحتی تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔

    ملائیشیا میں ہونے والی کانفرنس کے حوالہ سے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم امہ کے اتحاد اور یکجہتی کے لئے کام جاری رکھے گا‘ پاکستان کوالالمپور سربراہ اجلاس میں شریک نہیں ہوا‘ امہ میں ممکنہ تقسیم کے ضمن میں بڑے مسلم ممالک کے تحفظات کو دورکرنے کے لئے کوششوں کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ خطے میں او آئی سی، جس میں 57 مسلمان ممالک ممبر ہیں، کا اہم کردار ہے۔ امت مسلمہ کا اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، پاکستان کو ملت اسلامیہ کو یکجا کرنے کا کردار ادا کرنا چاہیے، یہی وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے، پاکستان کسی بھی ملک کے ساتھ ذاتی مفادات کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتا، امت مسلمہ کی اجتماعی بہتری اور ہم آہنگی کے لئے پاکستان کلیدی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مہاتیر محمد حکومت میں نہیں تھے تو اس کانفرنس کے چار اجلاس پہلے بھی ہو چکے ہیں پاکستان مسلمان بھائیوں کو اکٹھا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، مشترکہ مفاد، باہمی اتحاد، یکہجتی کو تقویت دینے میں ہر اول دستے کا کردار ادا کریں گے۔

    ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ملائیشیا کے حوالے سے حکومت کا فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا ہے جس کے مثبت اثرات آئیں گے، مہاتیر محمد نے بھی وزیراعظم عمران خان کے بیانیے سے اتفاق کیا ہے، پاکستان کو امت مسلمہ کو جوڑنے کے لئے جو کردار ادا چاہیے وہ کردار ادا کر رہا ہے، ملائیشیاء اور سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ رشتہ ہر مفاد سے مقدم ہے، دونوں ممالک پاکستان کو یکساں قبول کرتے ہیں، پاکستان امت مسلمہ کو جوڑنے کے لئے غیر جانبدار کردار ادا کر کے غلط فہمیوں اور فاصلوں کو ختم کرنا چاہتا ہے، سعودی عرب نے ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

  • نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایوان صدر میں نامزد چیف جسٹس گلزار احمد کی تقریب حلف برداری ہوئی، چیف جسٹس گلزار احمد نے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا، وزیراعظم عمران خان ،سپریم کورٹ،لاہورہائیکورٹ کے ججز اور وکلا تقریب میں شریک تھے ،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف جسٹس سے حلف لیا،

     

    ایوان صدر میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں صدر مملکت کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزرا، صوبائی گورنرز سمیت سپریم کورٹ کے موجودہ اور سابق ججز، سینئر وکلا اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

    جسٹس گلزار احمد پاکستان کے 27 ویں چیف جسٹس ہیں۔ وہ چوٹی کے وکیل رہے بلکہ بحیثیت جج بھی اعلیٰ روایات کے امین ہیں۔ ملکی تاریخ کے اہم ترین مقدمات کی سماعت کرنے والے بنچز کا بھی حصہ رہے۔جسٹس گلزار احمد نے گریجویشن گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی اور ایل ایل بی ، ایس ایم لا کالج کراچی سے کیا۔

    وہ 18 جنوری 1986 میں ایڈووکیٹ کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہوئے اور پھر 4 اپریل 1988 کو ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ کی حیثیت سے ان کا اندراج ہوا، جس کے بعد 15 ستمبر 2001 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ بنے۔اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد سن 1999 سے 2000 کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری کے عہدے کے لیے بھی منتخب ہوئے۔ جسٹس گلزار احمد 27 اگست 2002ء کو سندھ ہائیکورٹ جبکہ 16 نومبر 2011ء کو سپریم کورٹ کے جج بنے۔

     

    جسٹس گلزار احمد پاناما بنچ کا حصہ رہے جبکہ کراچی میں چائنا کٹنگ اور قبضہ مافیا کے خلاف فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کی روشنی میں 500 سے زائد غیر قانونی عمارتوں کو مسمار کیا گیا۔ن لیگی رہنما طلال چودھری کی نااہلی سمیت بہت سے اہم کیسز کا فیصلہ کرنے والے بنچ کا بھی حصہ رہے۔ جسٹس گلزار احمد بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان یکم فروری 2022ء کو ریٹائرڈ ہونگے۔

    قبل ازیں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ آئین پاکستان میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات واضح ہیں،آئین میں درج بنیادی حقوق عوام کے تحفظ کےلیےہیں ،ریاست کو سول انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دینا ہوگی ریاست کے ہر ادارے سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہوگا ،کرپشن میں ملوث افراد کےساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا ،کرپشن ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

    خصوصی عدالت کا فیصلہ، پرویز مشرف نے چپ کا روزہ توڑ دیا، بڑا اعلان کرتے ہوئے کیا کہا؟

    پرویزمشرف بارے عدالتی فیصلہ جلد بازی کا مظاہرہ، ایسا کس نے کہا؟

    وقت کا تقاضا ہے ملک پر رحم کریں، فواد چودھری نے ایسا کیوں کہا؟

    پرویزمشرف فیصلہ، پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے ردعمل دے دیا

    پرویزمشرف فیصلہ، سراج الحق بھی میدان میں آ گئے، بڑا مطالبہ کر دیا

    نامزد چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہرادارے کو اپنا اپنا کام کرنا ہوگا، ماضی میں بھی سپریم کورٹ آزاد عدلیہ کے تحفظ کے لیے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے،آئین پاکستان میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات واضح ہیں

  • ترک صدرکے سعودی دھمکیوں کے بیان کی حقیقت کیا؟ سعودی عرب بھی میدان میں آ‌ گیا

    ترک صدرکے سعودی دھمکیوں کے بیان کی حقیقت کیا؟ سعودی عرب بھی میدان میں آ‌ گیا

    ترک صدرکے سعودی دھمکیوں کے بیان کی حقیقت کیا؟ سعودی عرب بھی میدان میں آ‌ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوالالمپورسمٹ میں پاکستان کی عدم شرکت، ترک صدر کے بیان کے بعد سعودی سفارتخانے نے اعلامیہ جاری کر دیا، سعودی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کوسمٹ میں شرکت نہ کرنے پر مجبورکرنے کی خبربے بنیادہے، پاکستان کودھمکی دینے کی خبربھی مسترد کرتےہیں، پاک سعودی تعلقات میں دھمکیوں کی زبان استعمال نہیں ہوتی ،پاکستان پردباوَ اوردھمکی سے متعلق خبر یں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں،پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات دھمکی آمیز زبان سے بالاترہیں،دونوں ممالک میں برادرانہ،اعتماداورباہمی احترام پرمبنی تعلقات ہیں ،سعودی عرب ہرمشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا اور رہے گا،

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ’دباؤ‘ کے باعث ملائیشیا سمٹ میں شرکت نہیں کی۔ پاکستان کو معاشی دشواریوں کے باعث سعودی عرب کی خواہشات پر عمل کرنا پڑا۔ترک میڈیا کے مطابق صدر رجب طیب اردوان نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی وجہ سے کوالالمپور سمٹ سے پیچھے ہٹا، سعودی عرب نے پاکستانی کو معاشی دھمکی دی تھی

    واضح رہے کہ کانفرنس کے آغاز سے قبل سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے منگل کو ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں کے مابین ٹیلی فونک گفتگو میں ملائیشیا اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کا جائزہ لینے کے ساتھ مختلف شعبو ں میں انہیں مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

    سعودی خبررساں ادارے واس کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مہاتیر محمد سے گفتگو کے دوران زور دیا کہ مشترکہ اسلامی جدوجہد کا پلیٹ فارم اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی )ہے۔ یہ پلیٹ فارم بے حد اہم ہے۔ یہ امت مسلمہ کی دلچسپی کے تمام اسلامی مسائل پر غورو خوض کے لیے اتحاد بین المسلمین کا ضامن ہے۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ملائشین ہم منصب مہاتیر محمد کو ٹیلی فون کیا ،وزیراعظم نے مہاتیر محمد کو کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا،دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کی میزبانی میں متعدد مسلمان ممالک کے سربراہان کا ایک اجلاس ہونے جا رہا تھا جس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی شرکت کی تصدیق بھی کی گئی تھی تاہم بعد میں وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی فون پر ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمد کو شرکت نہ کرنے کے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے.

    وزیراعظم پاکستان کے بعد وزیر خارجہ نے بھی دورہ ملائیشیا منسوخ کر دیا ۔ اس صورتحال کے حوالہ سے ملائیشین وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عمران خان نے ڈاکٹر مہاتیر محمد کو فون کیا اور کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ملائشین وزیراعظم نے پاکستانی ہم منصب کی جانب سے بروقت اطلاع دینے کو سراہا۔

    ملائشین وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کوالالمپور سمٹ او آئی سی کا متبادل نہیں بلکہ یہ غیر سرکاری تنظیم کا 5واں سالانہ اجلاس ہے جسے حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ صرف اس مخصوص سمٹ میں کچھ عالمی رہنماؤں کو دعوت دی گئی، تاہم ملائیشیا چاہتا تھا کہ تمام 56 اسلامی ممالک کو اس میں دعوت دی جاتی۔

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    ملائیشیا کی جانب سے وزیراعظم کے لئے گاڑی کا تحفہ، گاڑی پاکستان کے حوالے

  • جسٹس گلزار احمد آج اٹھائیں گے چیف جسٹس کا حلف

    جسٹس گلزار احمد آج اٹھائیں گے چیف جسٹس کا حلف

    جسٹس گلزار احمد آج اٹھائیں گے چیف جسٹس کا حلف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ سبکدوش، جسٹس گلزار آج چیف جسٹس کا حلف اٹھائیں گے،

    جسٹس گلزار احمد پاکستان کے 27 ویں چیف جسٹس ہیں۔ وہ چوٹی کے وکیل رہے بلکہ بحیثیت جج بھی اعلیٰ روایات کے امین ہیں۔ ملکی تاریخ کے اہم ترین مقدمات کی سماعت کرنے والے بنچز کا بھی حصہ رہے۔جسٹس گلزار احمد نے گریجویشن گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی اور ایل ایل بی ، ایس ایم لا کالج کراچی سے کیا۔ جسٹس گلزار احمد 27 اگست 2002ء کو سندھ ہائیکورٹ جبکہ 16 نومبر 2011ء کو سپریم کورٹ کے جج بنے۔

    جسٹس گلزار احمد پاناما بنچ کا حصہ رہے جبکہ کراچی میں چائنا کٹنگ اور قبضہ مافیا کے خلاف فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کی روشنی میں 500 سے زائد غیر قانونی عمارتوں کو مسمار کیا گیا۔ن لیگی رہنما طلال چودھری کی نااہلی سمیت بہت سے اہم کیسز کا فیصلہ کرنے والے بنچ کا بھی حصہ رہے۔ جسٹس گلزار احمد بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان یکم فروری 2022ء کو ریٹائرڈ ہونگے۔

    قبل ازیں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ آئین پاکستان میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات واضح ہیں،آئین میں درج بنیادی حقوق عوام کے تحفظ کےلیےہیں ،ریاست کو سول انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دینا ہوگی ریاست کے ہر ادارے سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہوگا ،کرپشن میں ملوث افراد کےساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا ،کرپشن ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

    خصوصی عدالت کا فیصلہ، پرویز مشرف نے چپ کا روزہ توڑ دیا، بڑا اعلان کرتے ہوئے کیا کہا؟

    پرویزمشرف بارے عدالتی فیصلہ جلد بازی کا مظاہرہ، ایسا کس نے کہا؟

    وقت کا تقاضا ہے ملک پر رحم کریں، فواد چودھری نے ایسا کیوں کہا؟

    پرویزمشرف فیصلہ، پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے ردعمل دے دیا

    پرویزمشرف فیصلہ، سراج الحق بھی میدان میں آ گئے، بڑا مطالبہ کر دیا

    نامزد چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہرادارے کو اپنا اپنا کام کرنا ہوگا، ماضی میں بھی سپریم کورٹ آزاد عدلیہ کے تحفظ کے لیے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے،آئین پاکستان میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات واضح ہیں

  • بلاول حاضر ہو، زرداری کی رہائی اور بلاول کی ہو گئی طلبی

    بلاول حاضر ہو، زرداری کی رہائی اور بلاول کی ہو گئی طلبی

    بلاول حاضر ہو، زرداری کی رہائی اور بلاول کی ہو گئی طلبی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کو بھی نیب نے بلا لیا، بلاول زرداری کو 24 دسمبر کو طلب کیا گیا ہے۔ نیب نے بلاول بھٹو کو جعلی اکاوئنٹس کیس میں نیب راولپنڈی میں 24 دسمبر کو بلایا ہے، بلاول کی کی طلبی کا سمن جاری کر دیا گیا ہے۔

    بلاول بھٹو کو اوپل جوائنٹ ونچر کی تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا ہے، انہیں شیئر ہولڈر زرداری گروپ آف کمپنی طلب کیا گیا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو نیب کا نوٹس موصول ہو گیا ہے۔

    مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس بھری عدالت میں کہہ چکے کہ بلاول بے قصور ہیں، نوٹس ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت مخالفین کو نیب کے ذریعے سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ نیب بتائے کہ اس نے حکومتی ارکان اور وزرا کو کتنے نوٹسز دئیے؟ نیب بتائے کہ حکومتی اراکین اور وزرا کے خلاف کرپشن کیسز کیوں زیر التوا ہیں؟ نیب صرف اپوزیشن کے اراکین کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    سہولتیں کون سی ہیں جو لے لیں گے، آصف زرداری کا شکوہ

    سابق صدر آصف زرداری کے آٹھ بے نامی جائیدادیں ضبط

    بچوں کا مستقبل سنوارنا چاہتے ہیں تو یہ کام لازمی کریں، وزیراعظم کا قوم کو پیغام

    واضح رہے کہ اس سے قبل بلاول زرداری 29 مئی کو نیب میں پیش پہوئے تھے، آصفہ زرداری ، مرتضیٰ وہاب اورنیّر بخاری بھی بلاول بھٹو کے ہمراہ تھے ،نیب ہیڈکوارٹرزکے باہر پیپلز پارٹی کے کارکنان موجود ہیں جنہوں نے شدید نعرے بازی کی ،پولیس نے پی پی کے کارکنان کو ڈی چوک پر روکا جہاں کارکنان نے پولیس والوں کے ساتھ ہاتھا پائی کی ،پولیس نے متعدد کارکنان کو گرفتار کیا تھا. پولیس نے جیالوں کو منتشر کرنے کے لئے واٹر کینن کا بھی استعمال کیا .

  • وزیراعظم  کا ریاستی اداروں کے دفاع کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم کا ریاستی اداروں کے دفاع کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم عمران خان کا ریاستی اداروں کے دفاع کے عزم کا اعادہ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ریاستی اداروں کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے قانونی اصلاحات اور فوری قانون سازی پر مشاورت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ حکومت کا کام ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو استحکام کی پٹری سے ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان کے درمیان سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کیس کے فیصلے، ملکی سیاسی صورتحال، قانونی امور پر تبادلہ خیال اور عوام کے حق میں لاء ریفارمز اور فوری قانون سازی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ریاستی اداروں کے بھرپور دفاع کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کواستحکام کی پٹری سے ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، ریاست ادارے بناتے ہیں، حکومت کا کام ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔ملک میں معاشی استحکام کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

    اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بحرانوں میں قوم کی درست رہنمائی کی، حکومت قانون سازی کے ذریعے عوام کو سہولتیں دے گی۔