Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • یوم قائد،سفیر کشمیر، کشمیریوں کو نہ بھولے، بڑا اعلان کر دیا

    یوم قائد،سفیر کشمیر، کشمیریوں کو نہ بھولے، بڑا اعلان کر دیا

    یوم قائد،سفیر کشمیر کشمیریوں کو نہ بھولے، بڑا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے رہنما اصولوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اتحاد، ایمان اور تنظیم کو اپنا کر نئے پاکستانکی منزل کو حاصل کر سکتے ہیں،آج کےدن ہمیں مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت کےہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے شکار مظلوم  عوام کو نہیں بھولنا چاہئے ،قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اورہم کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں.

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

    یوم قائد کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پوری قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کا یوم پیدائش جوش و جذبہ کے ساتھ منا رہی ہے، قائداعظم محمد علی جناحؒ عہد سازشخصیت، مثالی کردار، بے غرض اور مسلمانوں کے آزاد وطن کے مقصد کیلئے پرعزم تھے، مشکل وقت اور حالات کے دوران انہوں نے جنوبی ایشیاء کےمسلمانوں کو اپنے کرشمہ سے متاثر کیا، قائداعظم محمد علی جناحؒ 20ویں صدی کے ان عظیم اور دانشمند رہنماؤں میں شامل ہیں جن سے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے، قائداعظم کی جانب سے فیصلہ کن جدوجہد آزادی کی سربراہیان کی سیاسی بصارت اور غیر معمولی ذہانت کی مظہر ہے اسی طرح وہ اپنی آخری سانس تک مثالی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کیلئے پرعزم رہے۔

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ آج پوری دنیا کے سامنے بھارتی آئین کے نام نہاد سیکولر چہرے کانقاب اتر چکا ہے، شہریت ترمیمی بل 2019ءکی منظوری اور اس کے بعد اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی اور ظالمانہ اقدامات کئے جا رہے ہیں،اس سے بھی قائداعظم محمد علی جناحؒ کا یہ فرمان سچ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کے انتہاءپسند ہندو کبھی بھی مسلمان اقلیت کو عزت و احترام سے رہنے کیاجازت نہیں دیں گے۔ آج کے دن ہمیں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں فاشسٹ آر ایس ایس کے نظریات کی پیروکار بی جے پی کی حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے شکار مظلوم عوام کو نہیں بھولنا چاہئے، قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اورآج کے دن ہم پوری پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ متحد اور چٹان کیطرح کھڑے ہونے کا اعادہ کرتے ہیں۔

    قائداعظم کے پاکستان کی تکمیل کون کرے گا؟ وزیراعظم آزاد کشمیربول پڑے

    بانی پاکستان کے یوم پیدائش پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے دیا کشمیریوں کو اہم پیغام

    پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب کب پورا ہو گا؟ وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا بڑا دعویٰ

    بانی پاکستان کے یوم پیدائش پر وزیراعلیٰ سندھ نے دیا اہم پیغام

    ہم ملک کو مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں؟ گورنر سندھ نے بتا دیا

    قائداعظم کی کشمیر بارے کیا خواہش تھی؟ صدر آزاد کشمیر نے ایکبار پھر اظہار کر دیا

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں اپنی آزادانہ ، سماجی، ثقافتی اور مذہبی شناخت کو برقرار رکھنے کے قابل بنایا، ہمیں اپنےبابائے قوم کے نظریات کو مکمل طور پر حقیقی شکل دینے اور ان کے مقاصد کے حصول کیلئے مزید کام کرنا ہے جس کیلئے ہمارے آباؤ اجداد نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہم بابائے قوم کی طرف سے دیئے گئےرہنما اصولوں پر عمل کرکے ان اہداف کو حاصل کر سکتے ہیں، قائداعظم کو انکے یوم پیدائش کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے اصولوں اتحاد، ایمان اور تنظیم کو اپنائیں جو کہ ہمارے لئے نیا پاکستان بنانے کیلئے مینارہ نور ہیں جو کہ حقیقت میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کا پاکستان ہے۔

  • آج قوم اپنے قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کا 143 واں یومِ ولادت آج منارہی ہے

    آج قوم اپنے قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کا 143 واں یومِ ولادت آج منارہی ہے

    کراچی: آج قوم 25 دسمبر 2019 کو ملک بھر میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کا 143 واں یومِ پیدائش مِلّی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، پاکستان میں عام تعطیل ہے اور جناح صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

    بابائے قوم قائدِ اعظم محمدعلی جناحؒ 25 دسمبر 1876 کو سندھ کے موجودہ دار الحکومت کراچی میں پیدا ہوئے، انھوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں کیا۔ 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلینڈ روانہ ہوئے جہاں سے انھوں نے 1896 میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس آ گئے۔

    بابائے قوم نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے کیا تاہم 1913 میں محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس دوران انھوں نے خود مختار ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کی خاطر مشہور چودہ نکات پیش کیے۔

    کراچی میں جناح پونجا کے گھر جنم لینے والے اس بچے نے برصغیر کی نئی تاریخ رقم کی اور مسلمانوں کی ایسی قیادت کی جس کے بل پر پاکستان نے جنم لیا۔ قائدِ اعظم کی قیادت میں برِصغیر کے مسلمانوں نے نہ صرف برطانیہ سے آزادی حاصل کی، بلکہ تقسیمِ ہند کے ذریعے پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور آپ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔

    قائدِ اعظم محمدعلی جناح کی زندگی جرات، ان تھک محنت، دیانت داری، عزمِ مصمّم ، حق گوئی کا حسین امتزاج تھی، برصغیر کی آزادی کے لیے بابائے قوم کا مؤقف دو ٹوک رہا، نہ کانگریس انھیں اپنی جگہ سے ہلا کسی نہ انگریز سرکار ان کی بولی لگا سکی۔مسلمانوں کے اس عظیم رہنما نے 11 ستمبر، 1948 کو زیارت بلوچستان میں وفات پائی اور کراچی میں دفن ہوئے۔

    مسلمانوں کے حقوق اورعلیحدہ وطن کے حصول کے لیے ان تھک جدوجہد نے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ 1930 میں انھیں تپِ دق جیسا موزی مرض لاحق ہوا جسے انھوں نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور چند قریبی رفقا کے علاوہ سب سے چھپائے رکھا۔ قیامِ پاکستان کے ایک سال بعد 11 ستمبر 1948 کو محمد علی جناح خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

    قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ صورتِ حال میں گزارے، ان کا مرض شدت پر تھا اور آپ کو دی جانے والی دوائیں مرض کی شدت کم کرنے میں نا کام ثابت ہو رہی تھیں۔

    ان کے ذاتی معالج ڈاکٹرکرنل الہٰی بخش اوردیگر معالجین کے مشورے پر وہ 6 جولائی 1948 کو آب و ہوا کی تبدیلی اور آرام کی غرض سے کوئٹہ تشریف لے آئے، جہاں کا موسم نسبتاً ٹھنڈا تھا لیکن یہاں بھی ان کی سرکاری مصروفیات انھیں آرام نہیں کرنے دے رہی تھیں لہٰذا جلد ہی انھیں قدرے بلند مقام زیارت میں واقع ریزیڈنسی میں منتقل کر دیا گیا، جسے اب قائد اعظم ریزیڈنسی کہا جاتا ہے۔

    اپنی زندگی کے آخری ایام قائدِ اعظم نے اسی مقام پر گزارے لیکن ان کی حالت سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑتی چلی گئی اور 9 ستمبر کو انھیں نمونیا ہوگیا ان کی حالت کے پیشِ نظر ڈاکٹر بخش اور مقامی معالجین نے انھیں بہترعلاج کے لیے کراچی منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔

    گیارہ ستمبر کو انھیں سی وَن تھرٹی طیارے کے ذریعے کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا جہاں ان کی ذاتی گاڑی اور ایمبولینس انھیں لے کر گورنر ہاؤس کراچی کی جانب روانہ ہوئی۔ بد قسمتی کہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی اور آدھے گھنٹے تک دوسری ایمبولینس کا انتظار کیا گیا۔ شدید گرمی کے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی اور قوم کے محبوب قائد کو دستی پنکھے سے ہوا جھلتی رہیں۔

    کراچی وارد ہونے کے دوگھنٹے بعد جب یہ مختصر قافلہ گورنر ہاؤس کراچی پہنچا تو قائدِ اعظم کی حالت تشویش ناک ہو چکی تھی اور رات دس بج کر بیس منٹ پر وہ اس دارِ فانی سے رخصت فرما گئے۔

    ان کی رحلت کے موقع پر انڈیا کے آخری وائسرے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا کہنا تھا کہ ’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ جناح اتنی جلدی اس دنیا سے کوچ کر جائیں گے تو میں ہندوستان کی تقسیم کا معاملہ کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر دیتا، وہ نہیں ہوتے تو پاکستان کا قیام ممکن نہیں ہوتا‘‘۔

    قائد اعظم کے بد ترین مخالف اور ہندوستان کے پہلے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو نے اس موقع پر انتہائی افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ایک طویل عرصے سے انھیں نا پسند کرتا چلا آیا ہوں لیکن اب جب کہ وہ ہم میں نہیں رہے تو ان کے لیے میرے دل میں کوئی تلخی نہیں، صرف افسردگی ہے کہ انھوں نے جو چاہا وہ حاصل کر لیا لیکن اس کی کتنی بڑی قیمت تھی جو انھوں نے ادا کی‘‘۔

  • 2019 معاشی استحکام اور 2020 ترقی کا سال، وزیراعظم پر عزم، ذمہ داری بھی بتا دی

    2019 معاشی استحکام اور 2020 ترقی کا سال، وزیراعظم پر عزم، ذمہ داری بھی بتا دی

    2019 معاشی استحکام اور 2020 ترقی کا سال، وزیراعظم پر عزم، ذمہ داری بھی بتا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قانونی طریقہ، بینکنگ چینل یا پاکستان پوسٹ کے ذریعے رقوم پاکستان بھیجنے والے تارکین وطن کو مراعات دیں گے، میرٹ پر مبنی نظام ہی کامیاب ہوتا ہے، پی آئی اے سمیت دیگر اداروں میں بہتری لانے کیلئے پرعزم ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پاکستان پوسٹ کے ذریعے ترسیلات زر بھجوانے کی سکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی محنت کی کمائی پاکستان بھیجتے ہیں، ان کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر کا ہماری ملکی معیشت میں اہم کردار ہے، یہ تارکین وطن سال میں ایک، دو بار اپنے خاندانوں کو ملنے ملک واپس آتے ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہئے کیونکہ یہ ہمارا قیمتی ورثہ ہیں۔ تمام سفارتخانوں کو ہدایت کی ہے کہ بیرو ن ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل فوری حل کریں اور ان کا خیال رکھیں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے آسانی پیدا کرنا ہماری ذمہ داری ہے، سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہوں اور ان کی سہولت کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نیا پاکستان یہ ہے کہ ہم نے لوگوں کی زندگی میں آسانی لانا ہے اور یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے، جمہوریت اور بادشاہت میں فرق ہے، جمہوریت میں حکومت عوام کی خدمت کرتی ہے اور بادشاہت میں عوام بادشاہ کی خدمت کرتے ہیں، انگریز دور میں بھی یہی سوچ تھی، ماضی میں ہمارے دفاتر میں انگریز دور کی اس ذہنیت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، ہمیں اس سوچ کو تبدیل کرنا ہے، عوام کی خدمت ہمارا فرض ہے، ہسپتالوں، سکولوں میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، عوامی خدمات کے مقام پر سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہر ہفتہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراءسے کہتا ہوں کہ وہ اپنی وزارت میں عوامی فلاح و بہبود سے متعلق کوئی ایک اقدام کریں، آئی جی پنجاب سے بھی کہا ہے کہ تھانوں میں عام شہریوں کی سہولت اور اعتماد سازی کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں، جب عوام میں یہ یقین پیدا ہو جائے گا کہ حکومت خدمت پر یقین رکھتی ہے تو وہ ہمارے شراکت دار بنیں گے۔ ریاست مدینہ ایک دن میں نہیں بنی، اس کیلئے پہلے سوچ بدلی اور پھر مسلمان چند سالوں میں عظیم قوم بن گئے۔

    میں ملنے گئی تو زرداری وہیل چیئر سے اٹھے، پولیس نے کہا دفعہ ہو جاؤ، آصفہ بھٹو

    آصف زرداری کا طبی معائنہ، کونسی بیماری اور ڈاکٹر نے کیا تجویز کیاِ؟

    آپ نے بحث مکمل کرنی ہے یا باہر جانا ہے؟ عدالت کے استفسار پر خواجہ سعد رفیق نے کیا کہا؟

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میرٹ پر مبنی نظام ہی کامیاب ہوتا ہے، جمہوریت میں میرٹ ہوتا ہے اور بادشاہت میں وراثت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ جمہوریت نے بادشاہت کو شکست دی، مسلمان جمہوریت سے بادشاہت اور مغرب بادشاہت سے جمہوریت کی طرف بڑھا۔ چین میرٹ کی بنیاد پر ترقی کر رہا ہے، ہم بھی اسی طرز کا میرٹ کا نظام لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے، میرٹ پر اداروں کو ٹھیک کریں گے، قابل لوگوں کو اوپر لائیں گے۔ پی آئی اے سمیت دیگر اداروں میں بہتری لانے کیلئے پرعزم ہیں، گذشتہ سال مشکل سال تھا، معیشت کے حوالہ سے کئی چیلنجز درپیش تھے جن میں درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی شامل تھی، 2019ءمیں معاشی استحکام کیلئے کوششیں کیں، 2020ء میں پاکستان ترقی کرے گا، معیشت ترقی کرے گی، عوام کیلئے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، احساس پروگرام کے ذریعے غربت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

     

  • پاکستانی پارلیمانی وفد کی سعودی فرماں روا سے ملاقات، کیا ہوئی بات؟ اہم خبر

    پاکستانی پارلیمانی وفد کی سعودی فرماں روا سے ملاقات، کیا ہوئی بات؟ اہم خبر

    پاکستانی پارلیمانی وفد کی سعودی فرماں روا سے ملاقات، کیا ہوئی بات؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسپیکراسد قیصرکی سربراہی میں پاکستانی پارلیمانی وفدکی سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات ہوئی ہے،پارلیمانی وفدمیں حکومتی اوراپوزیشن ارکان شامل ہیں، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اورمسلم امہ سےمتعلق امورپرتبادلہ خیال کیا گیا.

    پاک سعودی تعلقات ایک نئی سطح پر پہنچ گئے،کشمیر پر دنیا نے ہمارا بیانیہ مان لیا،وزیراعظم

    سعودی عرب اور ایران کے درمیان تصفیہ کون کروا سکتا ہے؟ صدر مملکت بول پڑے

    وزیراعظم عمران خان کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، تیل تنصیبات پر حملوں کی مذمت

    ملاقات کے دوران ، انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی امورمیں دوطرفہ تعاون بڑھانے کا جائزہ لیا۔اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبد اللہ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں شوریٰ کونسل کے اسپیکر ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن محمد الشیخ؛ وزیر مملکت ، کابینہ کے ممبر اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان، پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی؛ اور سعودی عرب میں پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز بھی موجود تھے۔

    ترک صدرکے سعودی دھمکیوں کے بیان کی حقیقت کیا؟ سعودی عرب بھی میدان میں آ‌ گیا

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    فواد چودھری نے سعودی عرب سے بڑی مدد مانگ لی، جان کر وزیراعظم بھی حیران

    قبل ازیں گزشتہ روز سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سعودی عرب میں سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین سے ملاقات کی جس میں سعودی شوریٰ کونسل اور قومی اسمبلی کے درمیان پارلیمانی روابط کے فروغ اور مسئلہ کشمیر کے حل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں قومی اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل وفد کے ارکان بھی موجود تھے۔ ملاقات میں عالم اسلام کو درپیش چیلنجز تبادلہ خیال کیاگیا اور سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ اور سپیکر کے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عالم اسلام میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہمیں مغرب میں اسلامو فوبیا جیسے بڑھتے ہوئے رحجان کا مل کر مقابلہ کرنا چاہئے۔

    سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ خطہ میں تمام تنازعات کا پرامن حل نکلنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر جنوب ایشیاءکے امن کےلئے کشمیر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب کو بھارتی افواج کی مقبوضہ کشمیر میں چیرہ دستیوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور کہا کہ بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات نے تمام بھارتی اقلیتوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ او آئی سی کو مسئلہ کشمیر کے حل اور مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا جیسے رحجان کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

    عمرہ کرنے والوں کو سعودی حکومت نے سنائی خوشخبری، پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ ہوا پورا

    تیل تنصیبات حملوں میں ایران ملوث ،سعودی عرب نے دکھائے ثبوت

    سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے سعودی ہم منصب کو آئندہ سال کے اوائل میں عالمی کشمیر کانفرنس کے اسلام آباد میں انعقاد کے حوالہ سے تفصیلات سے بھی آگاہ کیا اور کانفرنس کے انعقاد کے حوالہ سے سعودی عرب کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے ذریعے عالمی برادری کو بھارت کی جانب سے کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم سے بھی آگاہ کرنے کا موقع ملے گا۔

    سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ محمد ابراہیم الشیخ نے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت اور شوریٰ کونسل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ بھارت کو کشمیر میں اپنی چیرہ دستیاں بند کر دینی چاہئے اور کشمیریوں کو ان کا آئینی حق دینا چاہئے۔

    واضح رہے کہ سعودی شوریٰ کونسل کے سربراہ نے چند روز قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے دوران اسد قیصر نے کشمیر پر بین الپارلیمانی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز دی تھی جسکی سعودی عرب نے تائید کی تھی، کشمیر پر بین الپارلیمانی کانفرنس اگلے برس 2020 کے ابتدائی ماہ میں ہو گی جس میں مختلف ممالک کے اراکین پارلیمنٹ شرکت کریں گے، پاکستان اور سعودی عرب ملکر کشمیر کے حوالہ سے کانفرنس کی تیاریاں کر رہے ہیں، اسی ضمن میں اسد قیصر نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے

  • قیادت کا فرق،پاکستان ابھررہا ہے اوربھارت معاشی دلدل میں پھنس رہا ہے ،آئی ایم ایف

    قیادت کا فرق،پاکستان ابھررہا ہے اوربھارت معاشی دلدل میں پھنس رہا ہے ،آئی ایم ایف

    نئی دہلی :قیادت کا فرق،پاکستان ابھررہا ہے اوربھارت معاشی دلدل میں پھنس رہا ہے،مذہبی جنونیت نے بھارتی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا، آئی ایم ایف کی مایوس کن پیشگوئی نے بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجادیں‌،اطلاعات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بھارتی معیشت میں سست روی کی پیشگوئی کردی۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بھارت میں قوت خرید، سرمایہ کاری اور ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی آرہی ہے۔

     

    مسلم مخالف شہریتی قانون:بی جے پی کو جھاڑ کھنڈ میں شکست

    آئی ایم ایف کے مطابق قرضوں اور سود کی ادائیگی کے باعث اخراجات میں اضافہ ممکن نہیں۔ اس سے قبل اکتوبر میں بھی آئی ایم ایف نے بھارت کی معاشی شرح نمو میں 1 فیصد کمی کی پیشگوئی کی تھی۔ بھارت میں بے روزگاری کی شرح بھی 40 سال کی بلند ترین سطح پر آگئی۔ آٹو سیکٹر میں بھی بے انتہا سست روی اور صارفین کی قوت خرید میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

    دنیا کےمہنگےترین دنبےکی نیلامی،کتنے میں فروخت ہواجان کرہوں گےآپ حیران

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی معیشت کی شرح نمو 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی، جولائی تا ستمبر بھارتی معاشی شرح نمو ساڑھے 4 فیصد رہی۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال جولائی تا ستمبر بھارتی معیشت کی شرح نمو 7 فیصد تھی، رواں سال اپریل سے جون 2019 میں بھارت شرح نمو 5 فیصد تھی۔

    بھارت کے حالات بہت خراب ہیں،کسی بھی وقت کچھ ہوسکتا ہے، چین

    معاشی ابتری کی وجہ سے لدھیانہ میں سائیکلوں اورآگرہ میں جوتے جیسی صنعتوں سے وابستہ غیرمنظم شعبے بڑی تعداد میں بند ہوچکےہیں،بھارتی ماہر معاشیات کے مطابق 3 برسوں میں بھارت میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، ملک میں ملازمین کی تعداد 45 کروڑ تھی جو کم ہو کر 41 کروڑ رہ گئی ہے۔

    یونیورسٹی کےنصاب سےآزادی اظہار کےاسباق نکال دیے،بےلگام آزادی بربادی ہے،چینی حکام

    یاد رہے کہ دوسری طرف آئی ایم ایف نے یہ تسلیم کیا ہےکہ پاکستان کی موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی بدولت پاکستان ایک معاشی مرکز کے طورپرابھررہا ہے، آئی ایم ایف کی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہےکہ پاکستان کی اپوزیشن مانے یہ نہ مانے لیکن عالمی ادارے یہ مان چکے کہ عمران خان پاکستان کی معیشت کوایک درست سمت میں لے جارہے ہیں

  • دسمبرضمانتوں کا مہینہ، رانا ثناء اللہ کو لاہور ہائیکورٹ نے سنائی بڑی خوشخبری

    دسمبرضمانتوں کا مہینہ، رانا ثناء اللہ کو لاہور ہائیکورٹ نے سنائی بڑی خوشخبری

    دسمبرضمانتوں کا مہینہ، رانا ثناء اللہ کو لاہور ہائیکورٹ نے سنائی بڑی خوشخبری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منشیات اسمگلنگ کیس میں رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت منظورکر لی گئی، لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت منظور کی،عدالت نے راناثنااللہ کو10لاکھ روپےکے2مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا.

    لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ روز سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، دوران سماعت اینٹی نارکوٹکس فورس کے پرا سیکیو ٹر کی طرف سے استدعا کی گئی ،عدالت ہمیں ڈائریکشن جاری کر دے ہم ایک ماہ میں مقدمہ کا ٹرائل مکمل کر لیں گے، اگر رانا ثناءاللہ بے قصور ہوئے تو ٹرائل میں بری ہو جائیں گے، رانا ثناءاللہ کے وکلا ءنے موقف اختیار کیا رانا ثنااللہ کوحکومت پر تنقیدکرنے پرانتقام کا نشانہ بنایا گیا، رانا ثنااللہ کوحکومت کی جانب سے دی گئی سکیورٹی وقوعہ سے تیرہ رو ز قبل واپس لے لی گئی،رانا ثنااللہ سے منشیات برآمدگی کے وقت کی کوئی ویڈیو یا تصویر موجود نہیں،رانا ثناء اللہ کی اے این ایف کے تھانے میں سلاخوں کے پیچھے گرفتاری کی تصویر جاری کی گئی،دعوے کے برعکس رانا ثناء اللہ کی مال مسروقہ کیساتھ تصویر جاری نہیں کی گئی،ساڑھے اکیس کلو وزنی سوٹ کیس راناثناء اللہ سے برآمد کرنے کاالزام لگایا گیا ،قانون کے برعکس موقع پرتعین نہیں کیا گیا کہ سوٹ کیس میں کیا تھا،گرفتاری کے وقت قبضے میں لی گئی چیزوں کو موقع پر میمو میں درج نہیں کیاگیا،جائے وقوعہ پرنقشہ بنانے کی بجائے اگلے دن نقشہ بنایا گیا جو الزامات کومشکوک ثابت کرتا ہے،رانا ثناء اللہ کے وکلاءنے کہا ایف آئی آر میں 21 کلو گرام ہیروئن سمگلنگ کا لکھا گیا جبکہ بعد میں اسکا وزن 15 کلو گرام ظاہر کیا گیا، رانا ثناءاللہ اس سے قبل ہی فتاری کے خدشے کا اظہار کیا تھا پھر بے بنیاد مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا،

    اگر ہم ذاتیات پر اتر آتے تو رانا ثناء اللہ…………..شہریار آفریدی نے کیا کہہ دیا

    میرے سامنے کبھی کسی نے یہ "کام” نہیں کیا، رانا ثناء اللہ نے کیا کہہ دیا

    رانا ثناء اللہ کو گھر کا کھانا ملے گا یا نہیں؟ عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

    عدالت نے پوچھا کہ ہائیکورٹ میں پہلے دائر کی گئی درخواست ضمانت کا آرڈر بتائیں، وکلاءنے کہا وہ درخواست اسلئے وا پس لی تھی کہ سیف سٹی اتھارٹی کی فوٹیجز مل گئی تھیں،فوٹیجز کی صورت میں نئی گراﺅنڈ بن گئی تھی اسلئے درخواست واپس لی،جسٹس چودھری مشتاق احمد نے کہا 2 دفعہ ٹرائل کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر ہو چکی ہے؟ ملزم کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا جی 2 بار درخواستیں دائر کیں،رانا ثناءاللہ کیخلاف کیس میں فرد جرم عائد نہیں ہوئی، ملزم کے دوسرے وکیل سید زاہد بخاری نے عدالت کو ایف آئی آرکے مندرجات سے آگاہ کیا اور بتایا کہایف آئی آر کے مطابق اے این ایف تھانہ سے 22 کلو میٹر دور روای ٹول پلازہ پر رانا ثناءاللہ کو روکا گیا، ان کی گاڑی میں ڈرائیور عامر رستم اور فرنٹ سیٹ پر عامر فاروق موجود تھے، ملزم عثمان احمد، محمداکرم، سبطین ڈبل کیبن ڈالے میں موجود تھے، اے این ایف حکام ایف آئی آر کے مطابق سوا 4 بجے تھانے پہنچے، ایف آئی آرکے مطابق ہیروئن مو قع پر برآمد نہیں ہوئی بلکہ تھانے میں جا کر ملزمان کے سامنے سوٹ کیس سے ہیروئن نکالنے کا عمل تحریر کیا گیا، وکیل نے مزید کہا وقوعہ سے قبل رانا ثناءاللہ نے کچھ بیان دیئے جس میں انہوں نے اپنی گرفتاری کے خدشے کا اظہار کیا تھا، عدالت نے کہا کیا اخباروں کے تراشے اس موقع پر زیر غور آ سکتے ہیں؟ جو کالم پیش کیا جارہا ہے وہ یہ تو 4 جولائی جبکہ مقدمہ یکم جولائی کا ہے؟ اخباری کالم تو کیس میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا، سید زاہد بخاری ایڈووکیٹ نے کہا آپ دیکھ لیں تسلیم کرنا نہ کرنا عدالت کے اختیار میں ہے، حامد میر، اعزاز سید اور حسن نثار نے اپنے کالموں میں ساری کہانی بتائی ہے، عدالت نے کہا نہیں تو کیا آ پ ان صحافیوں کو بطور گواہ عدالت میں پیش کریں گے؟ وکیل نے کہا حسن نثار، اعزاز سید اور حامد میر رانا ثناءاللہ کی طرف سے بطور گوا پیش ہونگے، ان تمام صحافیوں نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے اگر ضرورت ہوئی تو وہ پیش ہونگے، آج تک کوئی بھی ویڈیو سامنے نہیں آئی،رانا ثناءاللہ نے 8 سال قانون کی وزا ر ت سنبھالی ہے، کالعدم جماعتوں کیخلاف کارروائی کی،

    رانا ثناء اللہ ایک بار پھرمشکل میں پھنس گئے، حکومت نے اب کیا کیا؟ جان کر ہوں حیران

    رانا ثناء اللہ کیس کی سماعت کرنیوالے جج کا تبادلہ، ضمانت کیس کی سماعت ملتوی

    رانا ثناء اللہ نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کوجیل سے لکھا خط، کیا کہا؟

    اے این ایف کے پرسیکیوٹر نے کہا رانا ثناءاللہ کی دوسری درخواست ضمانت قابل سماعت نہیں ، ہائیکو ر ٹ میں پہلے دائر درخواست میں موجود ہ درخواست والی ہی گراﺅنڈز موجودہیں، اے این ایف ریاستی ایجنسی ہے حکومتی نہیں ، یہ ریاست کا مقدمہ ہے کسی حکو مت کا مقدمہ نہیں ، عدالت نے کہا وہ کہتے ہیں کہ آپ نے افغانوں کا ریمانڈ نہیں لیا گیا اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا، پراسیکیوٹر نے کہا منشیات برآمدگی ازخود ایک جرم ہے اور رانا ثناءاللہ سے یہ منشیات برآمد ہوئی ہیں، اسی وجہ سے دوسرے ملزموں کو گرفتار نہیں کیا گیا، عدالت کے استفسار پر بتایا گیا رانا ثناءاللہ کیخلاف کل 6 افراد گواہ ہیں جن میں مدعی، ریکوری میمو بنانے والا اور دیگر لوگ شامل ہیں،رانا ثناء اللہ کا جرم ناقابل ضمانت ہے، اینٹی نارکوٹکس قانون کی دفعہ 9 سی کے مقدمہ میں موت کی سزا ہے، رانا ثناء اللہ کے وکیل احسن بھون نے کہا پراسکیوشن نے ابھی تک یہ ثابت نہیں کیا رانا ثناء اللہ سے منشیات برآمد ہوئی۔ پراسیکیوٹر نے کہا منشیات کی کیمیکل کی تجزیاتی رپورٹ آ چکی ، وکیل صفائی منشیات برآمدگی کے سوا تمام وقوعہ کی کارروائی کو تسلیم کرتے ہیں، اے این ایف کی ساکھ پر کبھی بھی شک نہیں کیا جاسکتا، پولیس کیسز میں ایسا ہوتا ہے جہاں اپنی طرف سےمنشیات ڈال دی جاتی ہیں، ٹرائل کورٹ نے غیرقانونی طور پر ویڈیو ریکارڈ طلب کیا۔عدالت نے فریقین کی بحث مکمل ہونے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا

  • مریم نواز ان ای سی ایل، وفاقی کابینہ نے بڑا فیصلہ کر لیا

    مریم نواز ان ای سی ایل، وفاقی کابینہ نے بڑا فیصلہ کر لیا

    مریم نواز ان ای سی ایل، وفاقی کابینہ نے بڑا فیصلہ کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے،وفاقی کابینہ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے،ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق ذیلی کمیٹی کی سفارشات کی توثیق کر دی،کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا

    میں ملنے گئی تو زرداری وہیل چیئر سے اٹھے، پولیس نے کہا دفعہ ہو جاؤ، آصفہ بھٹو

    آصف زرداری کا طبی معائنہ، کونسی بیماری اور ڈاکٹر نے کیا تجویز کیاِ؟

    آپ نے بحث مکمل کرنی ہے یا باہر جانا ہے؟ عدالت کے استفسار پر خواجہ سعد رفیق نے کیا کہا؟

    وفاقی کابینہ نے ایل اوسی کے قریب آبادی کیلئےخصوصی پیکج کی منظوری بھی دے دی گئی،وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کر دی.

    واضح رہے کہ مریم نواز نے ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے 21 دسمبر کو ایک مرتبہ پھر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس سے قبل مریم نواز نے 7 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ایل سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست جمع کروائی تھی۔ جس کے بعد 9 دسمبر کو جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے حکومت کی نظرثانی کمیٹی کو 7 روز میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی نظرثانی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی تھی۔

    مریم نواز نے اپنے وکلا امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ کے ذریعے لایور ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ مریم نواز کا نام بغیر نوٹس دئیے ای سی ایل میں شامل کیا گیا جو ای سی ایل میں نام شامل کرنے کے میمورنڈم کے منافی ہے۔

    لیگی رہنما مریم نواز نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اُن کے والد نواز شریف لندن میں زیر علاج ہیں اور انہیں اپنے والد کی صحت کے بارے میں تشویش ہے۔ درخواست میں نشاندہی کی گئی کہ عدالت نے حکومت کو سات دن میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا جو ختم ہوچکا ہے۔

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    مریم نواز نے درخواست میں کہا عدالتی مہلت ختم ہونے کے باوجود حکومت نے اُن کا نام ام ای سی ایل سے نکالنے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ مریم نواز نے استدعا کی کہ اُن کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے اور انہیں والد نواز شریف سے ملاقات کیلئے 6 ہفتوں کیلئے ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

    مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ حکومت کے پاس جائیں اور کابینہ اس پر فیصلہ کرے تو پھر عدالت آنا چاہیے تھا،جس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف کے معاملے میں یہ ساری چیزیں سامنے آئیں، حکومت نےنام نہیں نکالا،ایک مخالف جماعت حکومت میں ہے وہ کبھی بھی جانے کی اجازت نہیں دے گی جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کس طرح پیش گوئی کر سکتے ہیں کہ حکومت اجازت نہیں دےگی ؟

    مریم نواز کو والد نواز شریف کی تیمار داری کے لئے ضمانت منظور کی گئی تھی تا ہم نواز شریف  لندن جا چکے ہیں،  لاہور ہائیکورٹ نے  فیصلہ سناتے ہوئے مریم نواز کی چودھری شوگر ملز میں درخواست ضمانت منظور کی تا ہم عدالت نے فیصلے میں یہ حکم بھی دیا کہ مریم نواز اپنا پاسپورٹ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو جمع کروائیں گے .عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر مریم نواز پاسپورٹ جمع نہیں کروانا چاہتی تو 7 کروڑ روپے زرضمانت جمع کرنا ہو گا ، مریم نواز کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے مریم پاکستان میں ہیں اور اب وہ لندن جانا چاہتی ہیں

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس ہوا، اجلاس میں مریم نواز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے متعلق تذکرہ ہوا،کابینہ ارکان کی اکثریت کی مریم نوازکوملک سے باہرجانے کی اجازت دینے کی مخالفت کی ،وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے مریم نوازکو باہربھیجنے کی مخالفت کی ،ارکان کی اکثریت نے ان سے اتفاق کیا.

  • نواز شریف نے بزدار سرکار سے رابطہ کر لیا

    نواز شریف نے بزدار سرکار سے رابطہ کر لیا

    نواز شریف نے بزدار سرکار سے رابطہ کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نوازشریف کی سزامعطلی اوربیرون ملک قیام میں اضافےکامعاملہ ، نوازشریف اوراہلخانہ کی جانب سے محکمہ داخلہ پنجاب میں درخواست دے دی گئی، عدالت نےمزیدریلیف کیلئے حکومت پنجاب سے رجوع کی ہدایت کی تھی، نواز شریف نے ضمانت کی مدت میں توسیع کیلئےدرخواست دائر کر دی.

    نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب درخواست کے ساتھ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس بھی درخواست کے ساتھ لگائی گئی ہیں،درخواست نوازشریف کے اہلخانہ اور وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی، درخواست میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کا بیرون ملک علاج جاری ہے، نوازشریف بیماری کے باعث وطن واپس نہیں آسکتے،

    العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی ضمانت کا آج آخری روز ہے،نواز شریف کی 8 ہفتوں کے لیے دی گئی ضمانت آج ختم ہوگی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8ہفتوں کیلئے نوازشریف کی ضمانت منظور کی تھی،عدالت نے ضمانت میں توسیع کیلئے پنجاب حکومت سےرجوع کرنےکاحکم دیاتھا

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت منظورکی تھی اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا 8 ہفتے کیلئے معطل کردی تھی،،عدالت نے 20لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کاحکم دیا تھا،عدالت نے کہا تھا کہ آٹھ ہفتے پورے ہونے پر مزید ضمانت چاہئے ہو تو پنجاب حکومت سے رجوع کریں،

    خیال رہے کہ طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کے بعد نواز شریف کو علاج کے لیے لندن منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے، تاہم ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا تھا کہ انھیں زیادہ بہتر علاج کے لیے امریکا منتقل کیا جائے گا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے معاملے پر حکومت نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وفاقی کابینہ اجلاس میں نواز شریف کی صحت سے متعلق تذکرہ ہوا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وزیر قانون فروغ نسیم اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو سپریم کورٹ جانے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ضمانت کی مدت ختم ہونے پر نواز شریف کو وطن واپسی یقینی بنانے کی درخواست دائر کی جائے۔

    العزیزیہ ریفرنس کیس،نواز شریف کے وکیل اور نیب کو ملیں بیان حلفی کی مصدقہ نقول

    العزیزیہ ریفرنس،نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لئے مقرر

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلے سنائے تھے اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں عدم شواہد کی بناء پر بری کر دیا تھا۔

    نوازشریف و زرداری کو چھوڑنے کا اعلان، پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی

    تم کون ہوتے ہو میری ویڈیو بنانے والے؟ مریم نواز برہم

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    نوازشریف کا طبی وجوہات پر بیرون ملک قیام بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،نوازشریف 4 ہفتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد واپس نہیں آسکیں گے،نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق برطانوی ڈاکٹرزنے نوازشریف کا تفصیلی طبی معائنہ تجویز کیا ہے،نوازشریف کے ٹیسٹ اورطبی معائنہ مکمل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں،

    دنیا میں ہماری عزت نہیں، نواز شریف کا لندن کی فٹ پاتھ پر اعتراف

    شہبازشریف نے وکلا کومیڈیکل رپورٹس کی بنیاد پرکیس تیار کرنے کی ہدایت کر دی،میڈیکل رپورٹس پاکستانی حکام کو فراہم کی جائیں گی،میڈیکل رپورٹس کی کاپیزہائی کورٹ میں بھی جمع کرائی جائیں گی،نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کوبھی فراہم کی جائیں گی،نوازشریف کے مزید علاج کیلیےامریکہ لے جانے کی تجویز بھی زیرغور ہے،

    سابق وزیراعظم نواز شریف بیماری کے باعث لندن منتقل ہو چکے ہیں جہان گزشتہ روز ان کے ٹیسٹ ہوئے ہیں ، نواز شریف چوھدری شوگر ملز کیس میں نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر تھے جب ان کی طبیعت خراب ہوئی انہیں علاج کے لئے سروسز ہسپتال، پھر گھر اور پھرلندن منتقل کر دیا گیا، نواز شریف کی لاہور ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کی سزا آٹھ ہفتوں کے لئے معطل کر دی، نواز شریف کا نام ای سی ایل سے حکومت نے نہیں نکالا بلکہ ون ٹائم علاج کے لئے عدالتی حکم کے بعد اجازت دی.

    نواز شریف کی حالت نازک مگر بیماری کی رپورٹ سامنے کیوں نہیں آئی؟ اہم خبر

    نواز شریف کی صحت، ڈاکٹرز نے وارننگ دے دی، خطرے کی گھنٹی

    سابق وزیراعظم نواز شریف کا لندن میں معروف ڈاکٹرز معائنہ کر چکے ہیں جبکہ معالجین کی تجویز پرنواز شریف کی گھر میں فزیو تھراپی کے سیشن بھی کئے جا رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ہے کہ ‏نوازشریف کا علاج سینٹ تھامس اسپتال لندن کےمعالجین کررہے ہ یں،‏معالجین میں ماہرین امراض قلب اور خون شامل ہیں،‏ابتدائی طورپر پلیٹ لیٹس کم ہونے کی وجوہات تشخیص کرنی ہیں،

  • احسن اقبال کا جسمانی ریمانڈ، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

    احسن اقبال کا جسمانی ریمانڈ، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

    احسن اقبال کا کتنے روزہ جسمانی ریمانڈ منظور ہوا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد نےاحسن اقبال کا 13روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرلیا،عدالت نے لیگی رہنما احسن اقبال کو6جنوری کو عدالت میں پیش کرنے کاحکم دے دیا،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو عدالت میں پیش کیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، ن لیگی کارکنان بھی عدالت کے باہر موجود تھے، احسن اقبال نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بھی گفتگو کی.

    احسن اقبال کی عدالت پیشی،وکیل صفائی نے ایسا دعویٰ کر دیا کہ نیب پراسیکیوٹر پریشان

    وکیل صفائی نے عدالت میں کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے، نیب کو جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے؟تمام اجلاس کے منٹس موجود ہیں، سارا ریکارڈ وہیں ہے، اگر نیب کواحسن اقبال سے تفتیش کرنی ہے تو بلا کر تفتیش کرے،

    پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ احسن اقبال نے نے پی سی ون اپنی نگرانی میں اپروو کیا،احسن اقبال نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا، پنجاب حکومت سے ریکارڈ مانگا ہے جسے احسن اقبال سے کنفرنٹ کرانا ہے،احسن اقبال نے کہا کہ مجھ پر کمیشن یا کک بیکس کا کوئی الزام ہے؟ پراسیکیوٹر نیب ہاں یا نہ میں بتائیں،جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے خزانے کو نقصان پہنچانا بھی کرپشن ہے،

    احسن اقبال کو نیب نے کیوں گرفتار کیا؟ ایسی وجہ سامنے آئی کہ ن لیگ حیران رہ گئی

    احسن اقبال کی گرفتاری، مریم اورنگزیب چیئرمین نیب پر برس پڑیں کہا جو "کرنا” ہے کر لو

    نیب نے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو گرفتار کر لیا، اس حوالہ سے نیب نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے،

    نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    احسن اقبال اسپورٹس سٹی کیس میں نیب راولپنڈی میں پیش ہوئے تھے.احسن اقبال کو نارووال اسپورٹس سٹی کرپشن کیس میں  نیب نے طلب کیا تھا،نیب راولپنڈی کی جانب سے احسن اقبال کو 23 دسمبر بروز پیر کو طلبی کا سمن جاری کیا گیا تھا۔

  • نواز شریف کی ضمانت کا آج آخری روز، حکومت کا بڑا فیصلہ

    نواز شریف کی ضمانت کا آج آخری روز، حکومت کا بڑا فیصلہ

    نواز شریف کی ضمانت کا آج آخری روز، حکومت کا بڑا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی ضمانت کا آج آخری روز ہے،نواز شریف کی 8 ہفتوں کے لیے دی گئی ضمانت آج ختم ہوگی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8ہفتوں کیلئے نوازشریف کی ضمانت منظور کی تھی،عدالت نے ضمانت میں توسیع کیلئے پنجاب حکومت سےرجوع کرنےکاحکم دیاتھا

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت منظورکی تھی اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا 8 ہفتے کیلئے معطل کردی تھی،،عدالت نے 20لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کاحکم دیا تھا،عدالت نے کہا تھا کہ آٹھ ہفتے پورے ہونے پر مزید ضمانت چاہئے ہو تو پنجاب حکومت سے رجوع کریں،

    خیال رہے کہ طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کے بعد نواز شریف کو علاج کے لیے لندن منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے، تاہم ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا تھا کہ انھیں زیادہ بہتر علاج کے لیے امریکا منتقل کیا جائے گا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے معاملے پر حکومت نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وفاقی کابینہ اجلاس میں نواز شریف کی صحت سے متعلق تذکرہ ہوا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وزیر قانون فروغ نسیم اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو سپریم کورٹ جانے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ضمانت کی مدت ختم ہونے پر نواز شریف کو وطن واپسی یقینی بنانے کی درخواست دائر کی جائے۔

    العزیزیہ ریفرنس کیس،نواز شریف کے وکیل اور نیب کو ملیں بیان حلفی کی مصدقہ نقول

    العزیزیہ ریفرنس،نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لئے مقرر

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلے سنائے تھے اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں عدم شواہد کی بناء پر بری کر دیا تھا۔

    نوازشریف و زرداری کو چھوڑنے کا اعلان، پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی

    تم کون ہوتے ہو میری ویڈیو بنانے والے؟ مریم نواز برہم

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    نوازشریف کا طبی وجوہات پر بیرون ملک قیام بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،نوازشریف 4 ہفتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد واپس نہیں آسکیں گے،نوازشریف کوعلاج کیلیےابتدائی 4 ہفتوں کی مدت 17 دسمبر کوختم ہورہی ہے

    نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق برطانوی ڈاکٹرزنے نوازشریف کا تفصیلی طبی معائنہ تجویز کیا ہے،نوازشریف کے ٹیسٹ اورطبی معائنہ مکمل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں،

    دنیا میں ہماری عزت نہیں، نواز شریف کا لندن کی فٹ پاتھ پر اعتراف

    شہبازشریف نے وکلا کومیڈیکل رپورٹس کی بنیاد پرکیس تیار کرنے کی ہدایت کر دی،میڈیکل رپورٹس پاکستانی حکام کو فراہم کی جائیں گی،میڈیکل رپورٹس کی کاپیزہائی کورٹ میں بھی جمع کرائی جائیں گی،نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کوبھی فراہم کی جائیں گی،نوازشریف کے مزید علاج کیلیےامریکہ لے جانے کی تجویز بھی زیرغور ہے،

    سابق وزیراعظم نواز شریف بیماری کے باعث لندن منتقل ہو چکے ہیں جہان گزشتہ روز ان کے ٹیسٹ ہوئے ہیں ، نواز شریف چوھدری شوگر ملز کیس میں نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر تھے جب ان کی طبیعت خراب ہوئی انہیں علاج کے لئے سروسز ہسپتال، پھر گھر اور پھرلندن منتقل کر دیا گیا، نواز شریف کی لاہور ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کی سزا آٹھ ہفتوں کے لئے معطل کر دی، نواز شریف کا نام ای سی ایل سے حکومت نے نہیں نکالا بلکہ ون ٹائم علاج کے لئے عدالتی حکم کے بعد اجازت دی.

    نواز شریف کی حالت نازک مگر بیماری کی رپورٹ سامنے کیوں نہیں آئی؟ اہم خبر

    نواز شریف کی صحت، ڈاکٹرز نے وارننگ دے دی، خطرے کی گھنٹی

    سابق وزیراعظم نواز شریف کا لندن میں معروف ڈاکٹرز معائنہ کر چکے ہیں جبکہ معالجین کی تجویز پرنواز شریف کی گھر میں فزیو تھراپی کے سیشن بھی کئے جا رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ہے کہ ‏نوازشریف کا علاج سینٹ تھامس اسپتال لندن کےمعالجین کررہے ہ یں،‏معالجین میں ماہرین امراض قلب اور خون شامل ہیں،‏ابتدائی طورپر پلیٹ لیٹس کم ہونے کی وجوہات تشخیص کرنی ہیں،