Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نیدرلینڈ میں پاکستانی ایٹمی پروگرام کیخلاف ریلی،بلوچ علیحدگی پسندوں کی حقیقت عیاں

    نیدرلینڈ میں پاکستانی ایٹمی پروگرام کیخلاف ریلی،بلوچ علیحدگی پسندوں کی حقیقت عیاں

    بلوچ علیحدگی پسندوں نے نیدرلینڈز میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ریلی نکالی: قوم کو دشمنوں کے عزائم سے آگاہ ہونے کی ضرورت

    بلوچ علیحدگی پسندوں کے ایک گروپ نے میں نیدرلینڈز میں ایک ریلی نکالی، جس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کھلے طور پر نشانہ بنایا گیا۔ یہ ریلی ایک نیا پیغام دے رہی ہے، جو پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہے۔ بلوچ علیحدگی پسندوں کا مقصد واضح طور پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے، جو کہ عالمی سطح پر بھارت اور اسرائیل کے ایجنڈے سے ہم آہنگ ہے۔

    بلوچ علیحدگی پسندوں نے ماضی میں اپنے سیاسی مقاصد کو چھپانے کی کوشش کی تھی، مگر اب وہ کھل کر اپنے عزائم کا اظہار کر رہے ہیں۔ نیدرلینڈز میں ان کی جانب سے نکالی گئی ریلی ایک اہم پیش رفت ہے جو بتاتی ہے کہ ان کی اصل حقیقت کیا ہے اور ان کا مقصد کیا ہے۔ یہ عناصر اپنے حقوق کی بات کرنے کی بجائے پاکستان کی قومی سلامتی اور استحکام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔بلوچ علیحدگی پسندوں کی اس تحریک کے پیچھے ایک بڑا عالمی ایجنڈا موجود ہے۔ بھارت اور اسرائیل ہمیشہ سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ دونوں ممالک پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کمزور کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ بھارت خاص طور پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے خوفزدہ ہے کیونکہ یہ پروگرام اسے خطے میں اپنے فوجی اور سیاسی مفادات کے لیے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اسرائیل بھی اپنی ہم آہنگی بھارت کے ساتھ رکھتا ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو ایٹمی طاقت کے طور پر کمزور کرنا ہے۔

    بلوچ علیحدگی پسندوں کی یہ سرگرمیاں ان عالمی طاقتوں کے عزائم کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ یہ عناصر نیدرلینڈز جیسے ممالک میں پاکستان کے خلاف ایسے مظاہرے کر کے عالمی سطح پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی ریلی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ان کا اصل مقصد بلوچ قوم کے حقوق کی بات نہیں ہے بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کمزور کرنا اور اس کے دفاعی صلاحیتوں کو چیلنج کرنا ہے۔پاکستان کے دشمنوں کا مشترکہ مقصد ملک کی سالمیت اور استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ دشمن نہ صرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کر کے ملک کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ بلوچ علیحدگی پسندوں کی اس نوعیت کی سرگرمیاں اسی عالمی منصوبے کا حصہ ہیں، جس کے تحت پاکستان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانا مقصد ہے۔

    پاکستان کو اپنے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے اپنے داخلی اتحاد اور دفاعی صلاحیتوں پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی قوم کو دشمنوں کے منصوبوں سے آگاہ کرنا اور ان کے عزائم کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت ہمیں اپنی قوت کو مضبوط کرنے اور دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی حفاظت ایک قومی مسئلہ ہے، جس کے لیے تمام پاکستانیوں کو اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ قوم کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ پاکستان کی سالمیت کا ہر پہلو اہم ہے اور ہم سب کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھاوا دینے کے لیے ایک ساتھ کام کرنا ہوگا۔

  • پاک بحریہ اور روسی بحریہ کے مابین دو طرفہ مشق کا بحیرہ عرب میں انعقاد

    پاک بحریہ اور روسی بحریہ کے مابین دو طرفہ مشق کا بحیرہ عرب میں انعقاد

    پاک بحریہ اور روسی بحریہ کے مابین دو طرفہ مشق "عریبین مون سون VI” بحیرہ عرب میں کامیابی کے ساتھ منعقد کی گئی۔ اس مشق میں روسی بحری جہازوں کے علاوہ پاکستان کی بحریہ کے مختلف اثاثے اور پاکستان فضائیہ کے لڑاکا طیارے بھی شریک تھے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلقات کی مزید مضبوطی کا مظاہرہ ہوا۔

    مشق کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کے درمیان بحری سلامتی کے مسائل پر مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ اس مشق میں بحری سلامتی کو درپیش مختلف خطرات کے خلاف مشترکہ عزم کا مظاہرہ کیا گیا۔کراچی میں روسی بحری جہازوں کے قیام کے دوران مختلف سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں جن میں دو طرفہ جہازوں کے دورے، ہاربر ڈرلز اور ٹیبل ٹاپ ڈسکشنز شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں دونوں بحریہ کے درمیان تجربات کے تبادلے اور مشترکہ حکمت عملیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

    روسی بحریہ کے مندوبین نے پاک بحریہ کے سینئر حکام سے ملاقاتیں بھی کیں، جن میں دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات اور خطے میں بحری سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ مشق بحریہ کے ساتھ ساتھ فضائیہ کی موجودگی کا بھی گواہ تھی، جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ پاکستان اور روس اپنے دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    "عریبین مون سون VI” کا انعقاد پاکستان کی بحریہ کے عزم کا مظہر ہے جو کہ خطے میں بحری سلامتی کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس مشترکہ مشق سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کی نوعیت کو مستحکم کیا گیا بلکہ بحری ڈومین میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا نیا باب بھی رقم کیا گیا ہے۔

  • نواز شریف کے بیٹے حسن نواز برطانیہ میں ٹیکس ڈیفالٹر قرار ،جرمانہ عائد

    نواز شریف کے بیٹے حسن نواز برطانیہ میں ٹیکس ڈیفالٹر قرار ،جرمانہ عائد

    سابق وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسن نواز برطانیہ میں ٹیکس ڈیفالٹر قرار، 5.2 ملین پائونڈ جرمانہ عائد کر دیا گیا

    برطانوی ٹیکس اتھارٹی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز پر 5.2 ملین پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ جرمانہ 5 اپریل 2015 سے 6 اپریل 2016 کے دوران 9.4 ملین پاؤنڈ ٹیکس کی عدم ادائیگی کے باعث عائد کیا گیا ہے۔برطانوی حکومت کی جانب سے حسن نواز کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات حال ہی میں سرکاری ویب سائٹ پر شیئر کی گئی ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ چند ماہ میں دیوالیہ قرار پانے کے باوجود حسن نواز سے اس جرمانے کی وصولی کا امکان موجود ہے، کیونکہ برطانوی قوانین کے مطابق دیوالیہ ہونے کے باوجود ٹیکس چوری کے جرمانے معاف نہیں ہوتے۔برطانوی قوانین کے تحت اگر کوئی شخص قرضے میں ڈوبا ہو تو اسے معاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ٹیکس چوری پر عائد جرمانے کا معاملہ مختلف ہے۔ ان حالات میں حسن نواز کے اثاثے ضبط کیے جا سکتے ہیں تاکہ جرمانے کی رقم کی وصولی کی جا سکے۔

    حسن نواز کی جانب سے اس جرمانے کے خلاف ابھی تک کوئی قانونی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  • چیف جسٹس کا عوام کے نام پیغام، واٹس ایپ نمبر بھی دے دیا

    چیف جسٹس کا عوام کے نام پیغام، واٹس ایپ نمبر بھی دے دیا

    چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ رشوت اور سفارش سے متعلق عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں،

    سپریم کورٹ کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک خصوصی اینٹی کرپشن ہاٹ لائن قائم کی ہے۔ یہ اقدام اعلیٰ عدلیہ کے احتساب اور عوام کو فوری انصاف فراہم کرنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے عزم کی توثیق کرتا ہے۔ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان بدعنوانی سے پاک ماحول کو فروغ دینے اور احتساب اور انصاف کے اصولوں کی پاسداری کے لیے پرعزم ہیں۔
    چیف جسٹس نے عوام کے لیے درج ذیل پیغام دیا ہے

    میرے قابلِ احترام بہنو اور بھائیو،السلام علیکم !
    میں جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس آف پاکستان آپ سے مخاطب ہوں۔ نظامِ عدل اور بلخصوص سپریم کورٹ میں تیز ترین انصاف کی فراہمی میری اولین ترجیح ہے۔ پچھلے تقریباً پانچ مہینوں میں دائر ہونے والے 7633 نئے مقدمات کے مقابلے میں آپ کی سپریم کورٹ نے 11779 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ نئے ججوں کے آنے کے بعد مقدمات کے فیصلوں میں مزید تیزی آئے گی۔ اس لئے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کو یقین دلاوں کہ اگر آپ کا کوئی مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر ہے تو اس کا فیصلہ بہت جلد میرٹ کی بنیاد پر ہو جائے گا۔
    لہذا میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اگر کوئی سرکاری یا غیر سرکاری شخص مقدمے کی Fixation، نقل کے حصول کی بابت یا سپریم کورٹ سے متعلقہ کسی بھی کام کے لئے آپ سے رشوت طلب کرے آپ فوراً مجھے اطلاع دیں۔ رشوت اور سفارش کے متعلق میں عدم برداشت کی پایسی پر عمل پیرا ہوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نہ صرف آپ کا نام خفیہ رکھا جائیگا بلکہ آپ کی شکایت کی فوراً شنوائی ہوگی۔ لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل واٹس ایپ نمبر 03264442444 پر اپنی شکایت درج کرائیں۔ سپریم کورٹ کی اینٹی کرپشن کا اہلکار آپ کے ساتھ رابطہ میں رہیگا اور آپ کو گاہے بہ گاہے دئیے گئے شکایت کے متعلق معلومات فراہم کریگا۔ ”

    یہ اینٹی کرپشن ہاٹ لائن ایسے بنیادی پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے جو اس کی مؤثر کارکردگی یقینی بناتے ہیں۔ یہ شکایت گزاروں کو رشوت، جانب داری یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی کی اطلاع دینے کے لیے ایک محفوظ اور خفیہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جس میں انتقامی کارروائی کا کوئی ڈر نہیں۔ مخبر کی شناخت کو محفوظ رکھا جاتا ہے اور بے نام رہنے کا اختیار مکمل طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ ہاٹ لائن متعدد ذرائع کے ذریعے دستیاب ہے جن میں فون، آن لائن پورٹل، ای میل، اور ٹیکسٹ میسجز شامل ہیں، اور اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ یہ چوبیس گھنٹے فعال رہے گا تاکہ شہری کسی بھی وقت واقعات رپورٹ کر سکیں، اور اس میں ہمہ پہلو رسائی اور سہولت کو یقینی بنایا گیا ہے۔
    تمام موصولہ شکایات کا جائزہ ایک غیرجانب دار افسر کی جانب سے لیا جاتا ہے جو براہ راست چیف جسٹس کو رپورٹ کرتا ہے، یوں پورے عمل میں شفافیت برقرار رہیگی ۔ ہر شکایت کا بغور سراغ لگا کر تفتیش کی جاتی ہے اور سادہ نوعیت کے کیس کے لیے 30 دنوں کے اندر جبکہ پیچیدہ نوعیت کے کیس کے لیے 60 دنوں کے اندر فیصلہ فراہم کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، شکایت کنندگان کو ان کی شکایت کی صورتحال سے باخبر رکھا جائیگا ۔
    یہ اقدام چیف جسٹس کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنے کی کاوشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کو استعمال کریں تاکہ غلط رویوں کا خاتمہ ممکن ہو اور شفافیت و میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔

  • 2025 کی شجرکاری مہم، 4 کروڑ 17 لاکھ پودے لگائے جائیں گے،وزیراعظم

    2025 کی شجرکاری مہم، 4 کروڑ 17 لاکھ پودے لگائے جائیں گے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمدشہبازشریف نے 2025 کی شجرکاری مہم کا آغازکردیاہے،شجرکاری مہم کے دوران چاروں صوبوں ،آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں 4 کروڑ 17 لاکھ پودے لگائے جائیں گے جبکہ وزیراعظم نےکہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہے، درخت ہمارے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں ، پوری قوم اور بالخصوص نوجوان اور کسان بڑھ چڑھ کر شجر کاری مہم میں حصہ لیں۔ بدھ کو یہاں ایک تقریب کے دوران وزیراعظم نے پودا لگا کر شجر کاری مہم کا آغازکیا ۔

    اس موقع پر خطاب کرتےہوئے وزیراعظم نے کہا کہ رحمتوں اور برکتوں والے ماہ مقدس رمضان المبارک میں 2025 کی شجرکاری مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے دوران چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریباً 4 کروڑ 17لاکھ پودے لگانے کا منصوبہ ہے جس میں پوری قوم اور بالخصوص نوجوان اور کسان بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ درخت ہمارے ماحول کو بہتر بنانے میں بہت مدد دیتے ہیں۔شجرکاری سے بیماریوں اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی۔ پچھلے چند سالوں کے دوران ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شجر کاری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ دنیامیں موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ 2022 کاشدید ترین سیلاب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہی آیا اور اس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ بدقسمتی سے پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہے۔ حالانکہ گرین ہائوس گیسزکے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جائیں ۔ہمیں رمضان المبارک کی برکات سمیٹنی چاہیے اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے دن رات محنت کرنی چاہیے ۔انشا اللہ پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا۔

  • 190 ملین پاؤنڈکیس، عمران، بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست دائر

    190 ملین پاؤنڈکیس، عمران، بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست دائر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں اپنی سزا معطل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    یہ درخواستیں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے معروف وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دائر کیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب نے بدنیتی سے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور نامکمل تفتیش کی بنیاد پر دونوں افراد کے خلاف جلد بازی میں فیصلہ سنایا گیا۔

    درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) سے معاہدے کا متن حاصل نہ کرنا، تفتیشی ایجنسی کی ہچکچاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق، این سی اے کے حکام کو تفتیش میں شامل بھی نہیں کیا گیا، اور استغاثہ مکمل شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔دائر کردہ درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ 17 جنوری کو سنائی جانے والی سزا معطل کی جائے اور عمران خان و بشریٰ بی بی کو ضمانت پر رہائی دی جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی اپیل کے حتمی فیصلے تک فیصلہ اور سزا معطل کی جائے۔ دونوں کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ سزا معطلی کے بعد وہ اپیل کی ہر سماعت میں عدالت میں موجود ہوں گے۔

    یہ درخواست اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ دونوں کی سزا کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی ضرورت ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اب اس درخواست پر فیصلہ دینے کے لیے کارروائی کرے گی۔

  • عالمی بینک کی پاکستان کے لیے 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز قرض کی منظوری

    عالمی بینک کی پاکستان کے لیے 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز قرض کی منظوری

    عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کے قرض کی منظوری دے دی ہے، جو خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ غریب کاشتکاروں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس قرضے کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں متاثرہ افراد کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔

    عالمی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ افراد کی آمدن بڑھانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ یہ قرض عالمی بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنر شپ پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے دیہی علاقوں میں مالیاتی شمولیت کو بڑھانا اور چھوٹے کاروباروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے اس منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مائیکرو فنانس غریب طبقے کی مالی مدد کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان میں تقریباً 18 لاکھ 90 ہزار افراد مستفید ہوں گے، جن میں 10 لاکھ خواتین بھی شامل ہوں گی۔عالمی بینک نے مزید کہا کہ اس کی سرمایہ کاری پاکستان میں بڑھتی جا رہی ہے اور اس وقت 54 مختلف منصوبے جاری ہیں جن میں عالمی بینک کی کل سرمایہ کاری 15.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    پاکستان کے لیے اس مالی امداد کی فراہمی عالمی بینک کی جانب سے ملک میں دیہی علاقوں اور غریب طبقے کی معاشی حالت بہتر بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ افراد کو مدد ملے گی بلکہ اس سے ملک کے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی طرف بھی قدم بڑھایا جائے گا۔

  • غزہ پراسرائیلی فضائی حملے،پاکستان کی مذمت،جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار

    غزہ پراسرائیلی فضائی حملے،پاکستان کی مذمت،جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار

    پاکستان نے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تشدد کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسرائیلی جارحیت کی شدت، جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف غزہ بلکہ پورے خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور اس سے عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تشدد کے فوری خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کرے تاکہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی اداروں اور ممالک کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری تنازعے کے حل کے لیے موثر سفارتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ اور مشرق وسطیٰ میں فوری اور دیرپا امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کو اپنی کوششیں دوبارہ شروع کرنی ہوںگی۔ پاکستان نے زور دیا کہ تمام فریقین کو تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کی ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ ان کی آزادی اور خودمختاری کی ضمانت دی جائے تاکہ وہ بھی امن و سکون سے زندگی گزار سکیں۔پاکستان کا یہ موقف عالمی سطح پر اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں دنیا کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

  • دشمنوں کا پیچھا ہر صورت کرنا ہے، وہ افغانستان میں بیٹھے ہوں یا کہیں اور،وزیر دفاع

    دشمنوں کا پیچھا ہر صورت کرنا ہے، وہ افغانستان میں بیٹھے ہوں یا کہیں اور،وزیر دفاع

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے اور اگر افغانستان کے اندر کارروائی کرنا پڑے تو پاکستان کو ایسا کرنا چاہیے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ "ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے حوالے سے ہم نے افغانستان سے کئی بار بات کی ہے، لیکن گڈی گڈی برتاؤ ہمارے قومی مفادات اور سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ ہمیں اپنے دشمنوں کا پیچھا ہر صورت میں کرنا ہے، چاہے وہ افغانستان میں بیٹھے ہوں یا کہیں اور۔”انہوں نے مزید کہا کہ "جو شخص یہ کہے کہ افغانستان جا کر ٹی ٹی پی کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے، وہ پاکستان کے مفادات کے خلاف بات کر رہا ہے۔ ہم اپنے وطن کے دفاع میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کریں گے۔”

    وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ "ٹی ٹی پی کو تقریباً تین سال پہلے ایک پرائیویٹ ملیشیا کے طور پر افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی، اور اب وہ ہمارے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔” "ہمارا حکومتی ڈھانچہ یا تو غیرفعال ہے یا انتہائی کرپٹ ہے۔ ہمیں گورننس کے خلا کو پر کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے، تاکہ ہم اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔”پاکستان کی فوج اپنے اندرونی اور بیرونی سرحدوں کا بھرپور تحفظ کر رہی ہے اور کسی بھی دشمن کے حملے کو سختی سے ناکام بنانے کے لیے تیار ہے۔”

    خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے حوالے سے بھی ایک اہم بات کی اور کہا کہ "پی ٹی آئی کے ایک بڑے گروپ نے حالیہ اجلاس میں شرکت کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے کوئی پرانا ادھار چکایا جا رہا ہے۔”

  • اسرائیلی حملے میں القدس بریگیڈ کے ترجمان ‘ابو حمزہ’ اہلیہ ،خاندان کے افراد سمیت شہید

    اسرائیلی حملے میں القدس بریگیڈ کے ترجمان ‘ابو حمزہ’ اہلیہ ،خاندان کے افراد سمیت شہید

    اسرائیلی حملوں میں فلسطینی اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کے ترجمان ‘ابو حمزہ’ شہید ہوگئے۔

    عرب میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کے علاقے النصیرات میں ابو حمزہ، ان کی اہلیہ اور ان کے خاندان کے متعدد افراد شہید ہوگئے۔اسرائیلی میڈیا نے بھی اس حملے میں ابو حمزہ اور ان کے خاندان کے افراد کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اسلامی جہاد نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔
    ابو حمزہ کی شناخت عرصے تک خفیہ رکھی گئی تھی۔ وہ اکثر فوجی یونیفارم میں ملبوس اور سیاہ کوفیہ سے چہرہ ڈھانپ کر منظرعام پر آتے تھے۔ تاہم، فلسطینی میڈیا نے ان کی اصل شناخت ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ القدس بریگیڈ کے اس ترجمان کا اصل نام ناجی ابو سیف تھا اور ‘ابو حمزہ’ ان کی کنیت تھی۔

    عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج کی غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس پر بمباری میں اسلامی جہاد کے رہنما حسن الناعم بھی شہید ہوگئے۔ حسن الناعم کو اسرائیل کے خلاف راکٹ حملوں کا منصوبہ ساز تصور کیا جاتا تھا۔

    خیال رہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کو توڑتے ہوئے غزہ میں فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 400 سے زائد فلسطینی شہید اور 560 سے زائد زخمی ہوگئے۔فلسطین کی سول ایمرجنسی سروس کے مطابق، اسرائیلی حملے سحری کے وقت شروع ہوئے اور دن بھر جاری رہے۔ ان حملوں میں رہائشی عمارتوں، مساجد اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔

    اس تازہ جارحیت پر دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی تنظیموں نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ کئی اسلامی ممالک نے بھی اسرائیلی جارحیت پر سخت احتجاج کیا ہے اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔غزہ میں اسرائیلی حملوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے اور فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے بھی جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ غزہ کے شہری اسرائیلی حملوں کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ طبی امداد کے فقدان کی وجہ سے زخمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔