Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا ، کوئی تحریک ، کوئی شخصیت نہیں،آرمی چیف

    ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا ، کوئی تحریک ، کوئی شخصیت نہیں،آرمی چیف

    اسلام آباد: چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں، لہٰذا ملک کی سلامتی سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں۔

    باغی ٹی وی : جنرل سید عاصم منیر نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا نہیں، کوئی تحریک نہیں، کوئی شخصیت نہیں، پائیدار استحکام کے لئے قومی طاقت کے تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ یہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے، ہم کو بہتر گورننس اور مملکت پاکستان کو ”ہارڈ اسٹیٹ“ بنانے کی ضرورت ہے، ہم کب تک ایک سافٹ اسٹیٹ کے طرز پر بے پناہ جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم گورننس کے گیپس کو کب تک افوج پاکستان اور شہداء کے خون سے بھرتے رہیں گے علماء سے درخواست ہے وہ خوارج کی طرف سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا پردہ چاک کریں،اگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں، لہٰذا ملک کی سلامتی سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کے تحفظ کیلئے یک زبان ہو کر اپنی سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک بیانیہ اپنانا ہوگا،جو سمجھتے ہیں وہ پاکستان کو ان دہشتگردوں کے ذریعے کمزور کر سکتے ہیں آج کا دن ان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم متحد ہو کر نہ صرف ان کو بلکہ ان کے تمام سہولت کاروں کو بھی ناکام کریں گے، ہمیں اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے، جو کچھ بھی ہو جائے انشاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔

  • پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور

    پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا

    پارلیمانی کمیٹی نے دہشتگردی کی حالیہ کاروائیوں کی واضح الفاظ میں مذمت کی ہے اور متاثرہ خاندانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے،کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کیساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے متفقہ سیاسی عزم پر زور دیا،کمیٹی نےانسداد دہشتگردی کیلئے قومی اتفاق رائے پر زور دیا،

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملکی سلامتی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ آج کے اس اجلاس میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کی واضح الفاظ میں مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ گہری یکجہتی کا اظہار کیا۔کمیٹی نے انسداد دہشت گردی آپریشنز کے انعقاد میں سیکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کو اس کی تمام شکلوں میں ختم کرنے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹریٹجک اور ایک متفقہ سیاسی عزم پر زور دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے ، لاجسٹک سپورٹ کے انسداد اور دہشت گردی و جرائم کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمت عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا۔

    کمیٹی نے پروپیگنڈا پھیلانے ، اپنے پیروکاروں کو بھرتی کرنے اور حملوں کو مربوط کرنے کے لیے دہشت گردگروپوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور اسکی روک تھام کیلئے اقدامات مرزور دیا ۔ کمیٹی نے دہشت گردوں کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس ،کے سد باب کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا .افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کمیٹی نے ان کی قربانیوں اور ملکی دفاع کے عزم کا اعتراف کیا اور کہا قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلحافواج، پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دشمن قوتوں کے ساتھ ملی بھگت سے کام کرنے والے کسی بھی ادارے، فرد یا گروہ کو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمیٹی نے حزب اختلاف کے بعض اراکین کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ اس بارے میں مشاورت کا عمل جاری رہے گا .

    قومی اسمبلی کے سپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر ، اہم وفاقی وزراء اور فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین

    قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین

    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوگیا ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت اہم سیاسی و عسکری قیادت شریک ہے۔

    قومی اسمبلی میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک سمیت اہم سیاسی و عسکری قیادت شریک ہیں،تحریک انصاف کے اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے مگر وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے اجلاس میں اپنے صوبے کی نمائندگی کی ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ چاروں صوبوں کے گورنرز، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور وزیراعظم آزاد کشمیر بھی سمیت چاروں صوبوں کے آئی جی پولیس بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس شریک ہیں۔

    پیپلزپارٹی کے 16 اراکین پارلیمنٹ بلاول بھٹو کی سربراہی میں اجلاس میں شریک ہیں اور ایم کیو ایم کے 4 اراکین پارلیمنٹ نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں اجلاس میں شرکت کی ،ے یو آئی (ف) کے وفد نے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اجلاس میں شرکت کی، سربراہ بی این پی مینگل سردار اختر مینگل کو بھی بلایا گیا تھا لیکن وہ نہیں آئے۔

    قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پرغیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور پارلیمنٹ ہاوس کی چھت پر اسنائپرز بھی تعینات ہیں۔

    اچھا ہوتا کہ ہمارے اپوزیشن کے ساتھی بھی آج کے اجلاس میں آتے،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ تمام شرکا کو خوش آمدید کہتا ہوں،آج ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں,بلوچستان اور کے پی میں سیکیورٹی کی صورتحال آپ کے سامنے ہے،یہ اجلاس بلانے کا مقصد قوم کو پیغام دینا ہے کہ ہم دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں,اچھا ہوتا کہ ہمارے اپوزیشن کے ساتھی بھی آج کے اجلاس میں آتےہماری بہادر سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں,ہم افواج پاکستان کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں,حالات متقاضی ہیں کہ پارلیمنٹ، حکومت، ریاست سمیت سب اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں،وزیراعظم نے افواج پاکستان کی قیادت بالخصوص آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین کیا، اور کہا کہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا رہے ہیں۔

    ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو مکمل وسائل فراہم نہیں کیے گئے،وزیراعلی خیبرپختونخوا
    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نےقومی سلامتی کمیٹی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ افواج پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں فوج نے خیبرپختونخوا میں امن کیلئے بہت کام کیا ہے،ہمارے صوبے میں سیکیورٹی مسائل موجود ہیں،پولیس فورس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کا مورال بڑھا رہے ہیں، پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ بھی کیا جارہا ہےضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو مکمل وسائل فراہم نہیں کیے گئےہم بارہا وفاق سے یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں،

    کسی مخمصے کا شکار ہوئے بغیر ہر صورت دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان، سربراہ جے یو آئی نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ہمیں ملک کیلئے متحد ہونا ہوگا، سیاسی باتیں اور اختلافات چلتے رہتے ہیں، فوج کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہمیں اس وقت آپس کے اختلاف کو ختم کرتے ہوئے ملکی استحکام کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہوگا، دہشت گردی کا کوئی مذہب اور فرقہ نہیں،سیاسی قیادت اور قوم کو کسی مخمصے کا شکار ہوئے بغیر ہر صورت دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا،

    خواجہ آصف کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب
    قومی سلامتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر خواجہ آصف نے پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کی،بولے کہ آج کے دن بھی اپوزیشن نے ریاست کی بجائے ایک شخص کو ترجیح دی،عوام کو ان کا اصل چہرہ دیکھنا چاہیے، ہم نے سابق دور حکومت میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا،پی ٹی آئی کے دور میں پھر افغانستان سے دہشت گردوں کو لاکر یہاں بسایا گیا،ان دہشت گردوں کے سبب آج ایک بار پھر پورے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہے

  • آرمی چیف سے بحرین کے کمانڈر نیشنل گارڈ  کی ملاقات

    آرمی چیف سے بحرین کے کمانڈر نیشنل گارڈ کی ملاقات

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے بحرین کے کمانڈر نیشنل گارڈ، جنرل شیخ محمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ نے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں افسران نے باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ عسکری تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دو طرفہ تعاون کی اہمیت کو بڑھانا ضروری ہے۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعاون میں اضافے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی اور علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال میں پاکستان اور بحرین کے درمیان تعاون مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔

    بحرین کے نیشنل گارڈ کے کمانڈر، جنرل شیخ محمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف کامیاب کوششوں کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو اقدامات کیے ہیں، وہ قابلِ تحسین ہیں اور بحرین ان کے تجربات سے استفادہ کرنے کا خواہش مند ہے۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے مابین عسکری تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

  • ایاز صادق کی عمران سے ملاقات کی یقین دہانی،اجلاس میں شرکت کریں گے،پی ٹی آئی

    ایاز صادق کی عمران سے ملاقات کی یقین دہانی،اجلاس میں شرکت کریں گے،پی ٹی آئی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیف وہپ، عامر ڈوگر نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری سے بھی ملاقات کی گئی۔

    عامر ڈوگر نے اس ملاقات میں پارلیمنٹ کے قومی سلامتی سیشن سے قبل پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایک 3 رکنی پارلیمانی وفد کو بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لینے کے لیے ملاقات کی اجازت دی جائے۔عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ اسپیکر ایاز صادق اور وزرا نے اس درخواست پر متعلقہ افراد سے رابطہ کرنے اور ملاقات کا یقین دلایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی حمایت کے بغیر کوئی بھی کامیاب پالیسی تشکیل نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی، ملٹری آپریشنز اور خارجہ پالیسی پر بانی پی ٹی آئی کا ہمیشہ ایک واضح مؤقف رہا ہے، اور یہی مؤقف ملکی پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

    عامر ڈوگر نے یہ بھی کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سیاسی قیادت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کو روکا جا رہا ہے، اور اگر ان ملاقاتوں کا انتظام نہیں کیا جاتا تو پی ٹی آئی حکومت کے خلاف میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اسپیکر ایاز صادق کو ایک خط لکھا، جس میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ کیا گیا۔ عمر ایوب نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے لیے ملاقات کرائی جائے اور اس ملاقات کے انتظامات کیے جائیں۔

    یاد رہے کہ اسپیکر ایاز صادق نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس آج طلب کیا ہے، جس میں عسکری قیادت ملکی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دے گی۔ پی ٹی آئی نے اس اجلاس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس،  سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات

    قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس، سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے احاطے میں سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اجلاس میں اعلیٰ حکومتی اور عسکری قیادت شریک ہوگی۔اجلاس میں ملک کی مجموعی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور ان کے نامزد نمائندے شرکت کریں گے۔ اس اہم اجلاس میں عسکری قیادت ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کرے گی۔اجلاس کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور اطراف میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق، اجلاس ان کیمرہ ہوگا، اور میڈیا کو پارلیمنٹ کی عمارت تک رسائی نہیں ہوگی اور میڈیا کے لیے جاری کیے گئے کارڈ کل کیلئے غیر موثر ہونگے۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران قومی اسمبلی ہال کے اندر موبائل فون لے جانے کی بھی اجازت نہیں ہو گی

  • ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 3 خوارج ہلاک

    ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 3 خوارج ہلاک

    ضلع خیبر کے علاقے طوردرہ میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب آپریشن انجام دیا جس کے نتیجے میں 3 خوارج جہنم واصل ہو گئے۔

    پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں طوردرہ کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ایک آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 3 دہشت گرد مارے گئے۔ مارے گئے خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس خطرناک ہتھیار موجود تھے۔سیکورٹی فورسز ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ایسے آپریشنز جاری رکھیں گے تاکہ عوام کو امن و سکون فراہم کیا جا سکے۔

    یہ آپریشن ملک میں دہشت گردوں کی سرکوبی کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتا ہے۔

  • ملک ریاض کے خلاف  کارروائی،بحریہ ٹاؤن کی جائیداد سیل

    ملک ریاض کے خلاف کارروائی،بحریہ ٹاؤن کی جائیداد سیل

    قومی ادارۂ احتساب (نیب) نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض احمد اور دیگر افراد کے خلاف دھوکہ دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ نیب حکام نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں بحریہ ٹاؤن کے مختلف مقامات جیسے کراچی، لاہور، تخت پڑی، نیو مری، گولف سٹی اور اسلام آباد میں موجود کثیر منزلہ ریائشی و کمرشل جائیدادوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔

    نیب کے مطابق، بحریہ ٹاؤن کے سینکڑوں اکاؤنٹس اور گاڑیوں کو بھی منجمد کر دیا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بحریہ ٹاؤن پاکستان کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔نیب حکام نے مزید کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے دبئی پروجیکٹ میں مجرمانہ اعانت کے لیے مخصوص عناصر پاکستان سے اپنی رقوم دبئی منتقل کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں نیب کے پاس منی لانڈرنگ کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔ نیب کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بیرون ملک بھیجی جانے والی کوئی بھی رقم منی لانڈرنگ تصور کی جائے گی اور اس میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلاتفریق قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    نیب نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف اسلام آباد اور کراچی کی احتساب عدالتوں میں متعدد ریفرنسز دائر کر دیے ہیں، اور عدالتوں نے ملک ریاض سمیت تمام ملزمان کو طلب کر لیا ہے۔ نیب حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اور مفرور ملزمان کو وطن واپس لانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔
    نیب نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے پیش کی جانے والی کسی بھی قسم کی ترغیب سے بچیں اور اپنی جمع پونجی کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ ہے۔اس وقت تک ملک ریاض اور اس کے قریبی ساتھیوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، اور نیب کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی بھی مصلحت یا رعایت نہیں برتیں گے۔

  • وزیراعظم  سے معروف امریکی ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی  کے سی ای او  کی ملاقات

    وزیراعظم سے معروف امریکی ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی کے سی ای او کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے معروف امریکی ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی Afiniti کے سی ای او جیرومی کیپیلس (Jerome Kapelus) کی سربراہی میں 4 رکنی وفد نے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا گیا اور اس شعبے کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات پر بات چیت کی گئی۔

    وزیراعظم نے Afiniti کی جانب سے پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں باصلاحیت افرادی قوت موجود ہے، جو عالمی مارکیٹ میں مسابقتی بنیادوں پر کام کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی نوجوانوں میں آئی ٹی، اے آئی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں کام کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، اور ملک میں اس شعبے کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں۔

    وزیراعظم نے Afiniti کو پاکستان میں عالمی معیار کا کال سینٹر قائم کرنے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے منصوبے نہ صرف پاکستان میں موجود نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی شہرت کو بھی مزید بڑھائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ خود اس بات کی نگرانی کر رہے ہیں کہ پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی اور دیگر جدید تکنیکی صلاحیتوں سے لیس کرنے کے لیے ایک جامع پروگرام تیار کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ حکومت آئی ٹی شعبے میں 25 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے تمام سہولتیں فراہم کر رہی ہے تاکہ اس شعبے کی ترقی کی رفتار تیز ہو سکے۔

    Afiniti کے سی ای او جیرومی کیپیلس نے پاکستان میں اپنی کمپنی کی موجودگی اور ترقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت Afiniti پاکستان میں 1000 سے زائد انتہائی باصلاحیت اور قابل پاکستانی ماہرین کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پیشہ ور اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی بدولت ہی Afiniti خطے میں ایک کامیاب کمپنی کے طور پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی نوجوانوں میں آئی ٹی شعبے کی ترقی کے لیے کام کرنے کی لا تعداد استعداد موجود ہے، جو کہ مستقبل میں مزید ترقی کی راہیں کھولے گا۔

    اس ملاقات میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ سرکاری افسران بھی شریک تھے، جنہوں نے آئی ٹی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور ترقی کے حوالے سے مفید مشورے دیے۔

    وزیراعظم کی جانب سے Afiniti کے وفد کو پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں سرمایہ کاری کی اہمیت اور اس کے بڑھتے ہوئے امکانات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے، جس سے نہ صرف ملک کی معیشت مضبوط ہو گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی موجودگی بھی مستحکم ہوگی۔

  • ڈاکٹر ذاکر نائیک کی نواز شریف سے ملاقات

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کی نواز شریف سے ملاقات

    معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے حال ہی میں مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے جاتی امراء میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات مختصر وقت کے لیے ہوئی اور ملاقات کے بعد ڈاکٹر ذاکر نائیک واپس روانہ ہو گئے۔

    ملاقات کے دوران مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی گئی، جس میں اسلامی تعلیمات، دین اسلام کی تبلیغ اور موجودہ سیاسی و سماجی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی یہ ملاقات ان کے پاکستان کے ساتھ روابط کو مزید مستحکم کرنے کی ایک کوشش سمجھی جا رہی ہے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے گزشتہ سال اکتوبر میں بھی نواز شریف سے ملاقات کی تھی، جب وہ پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ اُس وقت ڈاکٹر ذاکر نائیک حکومتِ پاکستان کی دعوت پر پاکستان میں موجود تھے اور اس ملاقات میں بھی مختلف مذہبی و معاشی موضوعات پر گفتگو کی گئی تھی۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کا شمار دنیا کے مشہور مذہبی سکالرز میں ہوتا ہے، اور وہ اسلام کی تشریح اور دفاع کے حوالے سے اپنی تقریروں اور پروگرامز کے لیے معروف ہیں۔