اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کا شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کے لیے قیام سیکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات کا باعث بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات واضح تھے کہ شفا اسپتال کے باہر ہجوم جمع نہیں ہوگا، تاہم اس کے باوجود پی ٹی آئی کے درجنوں کارکن اسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق کارکنوں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور سیاسی نعرے بھی لگائے گئے، جبکہ سیکیورٹی گاڑیوں اور بانی پی ٹی آئی کے روٹ کی ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ صورتحال پہلی بار پیش نہیں آئی، گزشتہ روز بھی پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے اسی نوعیت کی سرگرمیاں کی گئی تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام اپنی جگہ، تاہم سیکیورٹی کے زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال میں موجودگی کے باعث نہ صرف اسپتال میں زیر علاج دیگر مریض متاثر ہوسکتے ہیں بلکہ اضافی سیکیورٹی انتظامات کے باعث اسلام آباد کے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپتال کے باہر بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے آسان ہدف بھی فراہم کرسکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کارکنوں اور یوٹیوبرز کے بھیس میں شرپسند عناصر یا دہشت گرد گروہوں سے وابستہ افراد بھی ہجوم میں شامل ہوسکتے ہیں۔ذرائع کےمطابق پی ٹی آئی قیادت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عدالت میں کرائی گئی یقین دہانی پر عمل درآمد یقینی بنائے اور بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھا جائے۔ پی ٹی آئی قیادت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور حقائق کے منافی بیانیے سے گریز کیا جائے تاکہ سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ نہ ہو۔
