تحریک انصاف کی سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تو حکومت نے دو روز کا مقررہ عدالتی وقت مکمل ہونے سے قبل انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے نکالا اور ہسپتال میں تفیصلی طبی معائنہ کروایا
عمران خان کو سخت سیکورٹی میں جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا،جہاں متعلقہ ماہرین اور میڈیکل بورڈ کی دستیابی سے عدالتی فیصلے کا بنیادی مقصد مکمل طور پر حاصل ہوگیا،سپریم کورٹ نے عمران خان کو الشفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم الشفا ہسپتال کے باہر پی ٹی آئی کارکنان، صحافی اور دیگر مختلف گروہ جمع ہو گئے،جس کی وجہ سے سنگین سیکورٹی اور انتظامی خدشات پیدا ہو گئے تھے،اگرچہ سیکورٹی کے شفا ہسپتال کے باہر بھی غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے ،تاہم سیکورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کو شفا سے پمز منتقل کرنا حکومت کا فیصلہ قابل ستائش تھا، بانی پی ٹی آئی نے شفا ہسپتال کی بجائے پمز منتقل ہونے یا طبی معائنے سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ انہیں زیادہ محفوظ ماحول میں وہی طبی سہولت فراہم کرنے کا پمز میں انتظام کیاگیا تھا، سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا یہ فیصلہ عدالتی حکم سے انحراف قرار نہیں دیا جاسکتا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پمز پاکستان کا ایک بہت بڑا سرکاری و تدریسی ہسپتال ہے جہاں متعلقہ شعبوں کے مستند ماہرین اور مکمل طبی سہولیات دستیاب ہیں، لہٰذا یہ تاثر تو شروع سے ہی درست نہیں کہ صرف کسی مخصوص نجی ہسپتال میں ہی قابلِ اعتماد طبی معائنہ ممکن تھا،قانون کے مطابق قیدی کا سرکاری ہسپتال میںہی علاج معالجہ کیا جاتا ہے،ماضی میں بھی عمران خان کو علاج معالجے کے لئے سرکاری ہسپتال منتقل کیا جاتا رہا ہے،کسی مخصوص نجی ہسپتال کی نامزدگی مستقبل کے لیے امتیازی اور نامناسب نظیر قائم کرسکتی تھی،جیلوں کے دیگر قیدی بھی عمران خان کو شفا منتقلی کی وجہ سے اپنی مرضی کے ہسپتال میں معائنے کا مطالبہ کر سکتے تھے جو قانون کی خلاف ورزی ہے
پمز ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے لئے ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مکمل میڈیکل بورڈ موجود تھا جنہوں نے عمران خان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی لحاظ سے مکمل طور پر تندرست قرار دیا،اس دوران عمران خان کی بہن عظمیٰ خان عمران خان کے ہمراہ موجود رہیں اورعلاج معالجے کے دوران پورے عمل کی براہ راست گواہ ہیں، اس سے طبی معائنے کی شفافیت اور خاندان کی نمائندگی، دونوں یقینی بنائے گئے۔
بانی پی ٹی آئی کے پمز میں طبی معائنے کے نتائج نے عمران خان کی صحت مسلسل بگڑنے سے متعلق پی ٹی آئی کے بے بنیاد بین الاقوامی بیانیے کو رد کردیا ہے، اگر ان تمام انتظامات کے باوجود بعض ٹرولز اور یوٹیوبرز مطمئن نہیں، تو ظاہر ہے کہ ان کی دلچسپی عمران خان کی صحت سے زیادہ سیاسی سنسنی اور مالی منفعت میں ہے،
عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کیا تو پورے عمل میں وہ طبی لحاظ سے فٹ، اور خوشگوار موڈ میں تھے،عمران خان نے ہسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ساتھ پورا تعاون کیا، لیکن کچھ لوگ بوجوہ ڈالر کہیں گے کہ خان صاحب نے علاج اور قیام سے مکمل انکار کیا، بس آپ نے سن لینا ہے تاکہ یوتھیوں کا بھرم قائم رہے۔
