تحریک انصاف کی بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کی حکم کے مطابق اسپتال منتقل نہیں کیاجا سکا
سپریم کورٹ نے دو دن میں عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا،تاہم دو روز گزر گئے، حکومت نےعمران خان کو ہسپتال منتقل نہ کیا.
پارٹی کا کوئی بھی کارکن ہسپتال کے سامنے جمع ہونے سے گریز کرے،اسد قیصر
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت، عمران خان صاحب کی فیملی اور کور کمیٹی کی باہمی مشاورت سے یہ واضح اور متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد پارٹی کا کوئی بھی کارکن ہسپتال کے سامنے جمع ہونے سے گریز کرے گا۔ اگر کوئی شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہسپتال کے سامنے جمع ہونے کی کوشش کرے گا تو اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔عمران خان کی اصل طاقت پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان اور سپورٹرز ہیں، جن کی بدولت وہ چٹان کی طرح اپنے حقیقی آزادی کے نظریے پر قائم ہیں۔ ہم اپنے کارکنان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، ہسپتال کے باہر کسی قسم کی بھیڑ سے گریز کریں اور عمران خان کی صحت و علاج کے لیے دعا کریں۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ لازمی نہیں کہ عمران خان کو ہسپتال داخل بھی کرلیا جائے انھیں چیک اپ کے بعد واپس بھی لے جایا جاسکتا ہے میری اطلاع کے مطابق عمران خان صحت مند ہیں اور صحت مند شخص کو ہسپتال داخل کروانا خطرناک ہوسکتا ہے،عمران خان کو کتنی دیر ہسپتال میں رکھنا ہے اس کا فیصلہ عدالت یا حکومت نے نہیں بلکہ ڈاکٹرز نے کرنا ہے،
دوسری جانب راولپنڈی اڈیالہ جیل کے اطراف سیکورٹی ہائی الرٹ ہے،عمران خان کی اڈیالہ سے شفاء منتقلی پر کام جاری ہے،راولپنڈی پولیس نے تمام دکانین بند کرادی،راولپنڈی پولیس اہلکاروں نے لائیٹیں بھی بند کرادیں،شفا ہسپتال کے باہر بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے،اڈیالہ جیل سے گاڑیوںکا ایک قافلہ نکلا ہے، قافلے میں 18 گاڑیاں اور 4 ایمبولینسز شامل ہیں
علاوہ ازیں اطلاعات ہیں کہ عمران خان کا پہلے پمز ہسپتال لے جایا جائے گا جہاں انکے ٹیسٹ ہوںگے، سرکاری ہسپتال کےڈاکٹروں کے مشورے کے بعد ضرورت پڑنے پر عمران خان کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا جائے گا.
عمران خان کی آمد،شفا انٹرنیشنل اسپتال کی سیکیورٹی ہائی الرٹ پر، ایگزیکٹو فلور ای فور سب جیل قرار
سیکیورٹی زون میں تعینات اسٹاف کے موبائل فونز کے استعمال پر بھی پابندی عائد ، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال آمد کی صورت میں گیٹ نمبر ایک کو ان کے داخلے کے لیے مخصوص کیا گیا ،شفا انٹرنیشنل اسپتال کی جانب آنے والے متعدد راستے بند ، اسپتال کے پارکنگ ایریاز بھی خالی ،اسپتال کے اندر اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور سینئر پولیس افسران سیکیورٹی انتظامات کی براہِ راست نگرانی، شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی کی ممکنہ آمد کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسپتال کو ہائی سیکیورٹی الرٹ پر رکھا گیا ہے جبکہ ایگزیکٹو فلور ای فور کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ایک مخصوص وارڈ/اپارٹمنٹ خالی کرا کے پولیس نے اپنی سیکیورٹی میں لے لیا ہے، جبکہ اس کے اطراف کا علاقہ بھی کلیئر کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی زون میں تعینات اسٹاف کے موبائل فونز کے استعمال پر بھی پابندی عائد کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اسپتال آمد کی صورت میں گیٹ نمبر ایک کو ان کے داخلے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، جبکہ اسپتال کے دیگر تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت سیکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔ مختلف مقامات پر پولیس کے ناکے بھی قائم کیے گئے ہیں۔شفا انٹرنیشنل اسپتال کی جانب آنے والے متعدد راستے بند کیے جا رہے ہیں جبکہ اسپتال کے پارکنگ ایریاز بھی خالی کرائے جا رہے ہیں۔ اسپتال کے اندر اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور سینئر پولیس افسران سیکیورٹی انتظامات کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسپتال میں سیکیورٹی کے لیے جیمرز بھی فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ مختلف شعبہ جات کے سربراہان اور سینئر ڈاکٹرز کو بھی اسپتال میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سیکیورٹی انتظامات کے باعث اسپتال کے معمول کے داخل و خروج کے نظام کو بھی محدود کیا گیا ہے۔دوسری جانب ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر فیصل سلطان سمیت میڈیکل بورڈ کے ارکان نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، جس کے بعد میڈیکل بورڈ کے ارکان جیل سے روانہ ہوگئے۔ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں بانی پی ٹی آئی کو مزید طبی معائنے یا علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ طبی ماہرین کی سفارشات اور متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔شفا انٹرنیشنل اسپتال میں سیکیورٹی انتظامات تاحال برقرار ہیں اور اسپتال کے اندر اور اطراف کی صورتِ حال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں
دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ضمانت کے لیے گراؤنڈ بہت پہلے سے موجود ہے، 496 کے تحت اگر کسی قیدی کوسزائے موت نہ ہو اور دو سال قید میں گزارے ہوں تو ضمانت اس کا حق بن جاتی ہے، یہ اصول قانون ہے ہمارے ملک میں اور عمران خان کی بیماری سے زیادہ یہ اصول قانون اہم ہے،
بورڈ فیصلہ کرے گا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل جانا چاہیے یا بنی گالہ،سلمان اکرم راجہ
علاوہ ازیں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سلمان اکرام راجہ نے کہا ہے کہ یہ بات قبل ازوقت ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال سے بنی گالہ منتقل کیا جائے، یہ ہوسکتا ہے کسی بھی عمارت کو سب جیل قرار دیا جائے، اگرصحت کے حوالے سے یہ رائے آتی ہے کہ جیل واپس جانا صحت کے لیے بہت مضر ہوگا تو بنی گالہ شفٹ کیا جاسکتا ہے، یہ ممکن ہے،عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق جیل میں جو حالات ہیں اس کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کو اینزائٹی ہو رہی ہے، یہ بورڈ فیصلہ کرے گا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل جانا چاہیے یا بنی گالہ اور حکومت اس کو سب جیل قرار دیدے یہ تمام چیزیں ممکن ہیں۔
عمران خان کے کزن قاسم زمان اڈیالہ جیل گیٹ 5 کے باہر پہنچ گئے.بانی کی بہن علیمہ خانم بھی اڈیالہ جیل گیٹ 5 پہنچ گئی .علیمہ خانم سیکورٹی گارڈز کے ہمراہ گیٹ 5 پہنچیں،
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت سے متعلق وکلا اور اہلخانہ کے تحفظات پر انہیں اسپتال منتقل کرنے اور طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی نظرِ ثانی درخواست سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر واپس کر دی ہے، جسے بعد میں دوبارہ دائر کیے جانے کا امکان ہے،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق عمران خان کو جیل مینول اور آئینی ضوابط کے تحت تمام مقررہ سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں جبکہ تحریک انصاف کی قیادت نے بھی کارکناں کو اسپتال کے اطراف رش نہ لگانے کی ہدایت کی ہے۔
