Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سزایافتہ مجرم عمران کا ٹویٹر اکاؤنٹ کیسے چل رہا؟ مبشر لقمان نے اٹھایا سوال

    سزایافتہ مجرم عمران کا ٹویٹر اکاؤنٹ کیسے چل رہا؟ مبشر لقمان نے اٹھایا سوال

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بانی پی ٹی آئی،سابق وزیراعظم عمران خان کے جیل میں قید ہونے کے باوجود بین الاقوامی میڈیا میں مضامین شائع ہونے اور ٹویٹر اکاؤنٹ کے حوالہ سے سوالات اٹھا دیئے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان نے عمران خان کے ایکس ہینڈل پر ٹائم میں شائع ہونے والے مضمون کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” وہ جو ان کی طرف سے لکھتے ہیں، وہ خود ایک صفحہ بھی نہیں لکھ سکتے۔ ہمیں اب ایک مہم شروع کرنی چاہئے”۔مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عوام کو بتایا جائے کہ ایک سزا یافتہ شخص جس نے مختلف معاملات میں سزا پائی، وہ کیسے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ چلا رہا ہے؟ یہ ٹویٹر اکاؤنٹ دراصل گولڈسمتھ خاندان اور ان کے دیگر ساتھیوں کے زیرِ انتظام ہے، اور وہ اس اکاؤنٹ کو چلانے کے لیے اس شخص کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ شخص عمران خان جو جیل میں موجود ہے، وہاں سے مضامین اور خطوط لکھ رہا ہے، حالانکہ جیل کے عملے کو اس بات کا علم نہیں کہ ان خطوط اور مضامین کو کہاں سے اور کیسے لکھا جا رہا ہے۔ یہ دراصل وہی نیٹ ورک ہے جو ان کی طرف سے مضامین لکھ رہا ہے اور ان کے ذریعے پیسہ کما رہا ہے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1896279854582059024

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو مختلف مقدمات میں سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان کے مختلف اخبارات میں مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں،ان مضامین کا جیل سے باہر جانا اور اخبارات میں شائع ہونا جیل حکام کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے.عمران خان کے جیل میں ہونے کے باوجود ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی مسلسل چل رہا ہے جس سے پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف توہین آمیز پوسٹ کی جاتی ہیں.

  • دہشتگردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی سپیکٹرم ہے،آرمی چیف

    دہشتگردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی سپیکٹرم ہے،آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ جوانوں کو جدید جنگ کے چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے اپنی تیاریاں جاری رکھنا چاہئیں۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ برائے تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل عا صم منیر نے بہاولپور کنٹونمنٹ بورڈ کا دورہ کیا، آرمی چیف کو بہاولپور کور کی آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی-

    آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے افسران و جوانوں سے خطاب کے دوران انہوں نے ان کی غیر متزلزل لگن، بلند حوصلے اور جنگی تیاریوں کو سراہا اور کہا کہ سخت تربیت ایک سپاہی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جوانوں کو جدید جنگ کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے اپنی تیاریاں جاری رکھنا چاہئیں۔

    ٹرمینیٹر، ٹائٹینک اور اوتار فلموں کے خالق نے امریکا چھوڑ دیا

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے سی ایم ایچ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، انوویسٹا چولستان اور انٹیگریٹڈ کامبیٹ سیمئولیٹر ایرینا کا بھی افتتاح کیا، ان اقدامات کا مقصد طبی تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جنگی تیاری کے عمل کو آگے بڑھانا ہے ، سی آئی ایم ایس کے دورے کے موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بہاولپور کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیاجس کے دو ران انہوں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں میں بہتری کیلئے پاک فوج کے اقدامات کو اجاگر کیا۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے طلبا کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ لگن کے ساتھ تعلیمی عمل مکمل کریں اور قومی ترقی میں بامعنی کردار ادا کے لئے تعلیمی مہارتیں حاصل کریں، انہوں نے پاکستان کے مستقبل کی تشکیل میں نوجوانوں کے اہم کردار کی تعر یف کی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں میں بہتری کے لئے فوج کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

    رمضان المبارک میں بینکوں کے نئے اوقات کار کا اعلان

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اللہ پاک کا عطا کردہ ایک انمول تحفہ ہے، جس کو اللہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہےہمیں کبھی بھی اپنے عقیدے، اسلاف اور معاشرتی اقدار کو نہیں بھولنا چاہئیے، ملکی ترقی کے لئے ہم میں سے ہر کسی نے اپنے حصے کی شمع جلانی ہے اور بلاوجہ تنقید کی بجائے اپنی توجہ خود کی کارکردگی اور فرائض پر مبذول رکھنی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک عظیم مائیں اپنے بچے پاکستان پر نچھاور کرتی رہیں گی، اور یہ قوم بالخصوص نوجوان اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے تو کوئی بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا، دہشت گردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی سپیکٹرم ہے، جس کی پشت پناہی کچھ مخصوص عناصر کرتے ہیں، جب بھی ریاست ان پر ہاتھ ڈالتی ہے تو آپ کو ان کے جھوٹے بیانیوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔

    بھارتی نژاد امریکی سیاستدان کو ننگے پاؤں انٹرویو دینا مہنگا پڑ گیا

    قبل ازیں آرمی چیف کی آمد پر کور کمانڈر بہاولپور نے استقبال کیا۔

  • دارالعلوم حقانیہ میں خودکش حملہ، حملہ آور کی تصویر جاری،انعام کا اعلان

    دارالعلوم حقانیہ میں خودکش حملہ، حملہ آور کی تصویر جاری،انعام کا اعلان

    خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے مشہور مذہبی ادارے جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں گزشتہ روز ہوئے مبینہ خودکش حملے میں جمعیت علما اسلام (س) کے سربراہ اور مدرسہ کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق حقانی شہید ہوگئے۔ حملے کے بعد ان کی نماز جنازہ دارالعلوم حقانیہ میں ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں مولانا حامد الحق کے اہل خانہ، سیاسی کارکنان، طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نماز جنازہ کی امامت مولانا حامد الحق کے بڑے صاحبزادے نے کی، اور اس موقع پر جامعہ حقانیہ کے دروازے پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ دروازے پر واک تھرو گیٹ نصب تھا اور جنازے میں شرکت کرنے والوں کی جامع تلاشی کے بعد داخلے کی اجازت دی گئی۔

    مبینہ خودکش حملے کی ایف آئی آر درج
    نوشہرہ کے اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ کے مدرسے کی مسجد میں دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی مردان میں مولانا حامد الحق کے بیٹے عبد الحق ثانی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی، قتل اور اقدام قتل سمیت ۵ مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق، مولانا حامد الحق نمازِ جمعہ کے بعد اپنے گھر جارہے تھے، کہ ان پر خودکش حملہ کیا گیا۔

    خود کش حملہ آور کی تصویر جاری
    خیبر پختونخوا پولیس نے جامعہ حقانیہ میں حملہ آور کے حوالے سے ایک تصویر جاری کی ہے۔ پولیس کے مطابق، یہ تصویر مبینہ خودکش حملہ آور کی ہے۔ پولیس نے عوام سے درخواست کی ہے کہ اس تصویر کی مدد سے حملہ آور کی شناخت میں تعاون کریں۔ اس سلسلے میں پولیس نے کہا ہے کہ جو بھی شخص قابل اعتماد معلومات فراہم کرے گا، اسے پانچ لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔پولیس نے یہ بھی بتایا کہ خودکش حملہ آور کے جسم کے بعض حصے نادرا کو شناخت کے لیے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات سے سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی گئی ہیں، جن کی مدد سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

     جہنم رسید خودکش بمبار کا چہرہ
    جہنم رسید خودکش بمبار کا چہرہ

    گورنر خیبر پختونخوا کی تعزیت
    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جامعہ حقانیہ میں خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے مولانا حامد الحق حقانی اور دیگر شہداء کی تعزیت کے لیے جامعہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے شیخ الحدیث مولانا انوار الحق، مولانا عبد الحق ثانی اور دیگر علماء سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ اظہارِ افسوس کیا۔ گورنر نے کہا کہ مولانا حامد الحق کی دینی خدمات اور پاکستان کے پیغام کو پھیلانے میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق، حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ خودکش بمبار نے افغانستان میں موجود جہادی کیمپوں سے تربیت حاصل کی تھی اور اس کا ممکنہ تعلق پاکستان کے خلاف سرگرم مسلح تنظیموں سے تھا۔ سکیورٹی ادارے اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں تاکہ اس حملے کے پیچھے ملوث افراد کو جلد سے جلد پکڑا جا سکے۔

    مولانا حامد الحق حقانی کے نماز جنازہ میں مرکزی مسلم لیگ کے وفد کی شرکت
    مرکزی مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صدر عارف اللہ خٹک نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، عبادتگاہوں میں دھماکے اور بے گناہوں کو شہید کرنے والے انسان کہلوانے کے بھی لائق نہیں. حکومت کو دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کرنی ہو گی.ان خیالات کا اظہار عارف اللہ خٹک نے جے یو آئی سربراہ مولانا حامد الحق حقانی کے نمازجنازہ میں شرکت کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کیا. عارف اللہ خٹک نے مرکزی مسلم لیگ کے وفد کے ہمراہ مولانا حامدالحق حقانی کے نماز جنازہ میں شرکت کی اور لواحقین سے ملاقات کر کے اظہار تعزیت کیا.عارف اللہ خٹک کا کہنا تھا کہ مدارس،مساجد سمیت تمام عبادت گاہوں پر حملے یہ اسلام نہیں بلکہ بہت بڑا فتنہ ہے.مولانا حامد الحق حقانی کی شہادت پر ملک بھر کی مذہبی قیادت افسردہ ہے. کرم اور خیبر پختونخوا میں قیام امن کے لئے مولانا حامد الحق حقانی کی کوششیں قابل تحسین تھیں. دہشت گرد کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں.حکومت کو ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرنی چاہیے تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہو سکے۔عارف اللہ خٹک کا مزید کہنا تھا کہ وطن عزیز پاکستان میں امن کے قیام ، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی قوتوں کو ایک صفحے پر آنا ہوگا تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے

  • 20 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اجرا،وزیراعظم  کی تقریب میں شرکت

    20 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اجرا،وزیراعظم کی تقریب میں شرکت

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے 2025 کے رمضان ریلیف پیکج کا باقاعدہ افتتاح کردیا، جس کے تحت 20 ارب روپے کی امداد مستحق خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی۔

    اس تقریب میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، عطاء اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک نے بھی شرکت کی، جبکہ وفاقی وزراء احسن اقبال، شزافاطمہ خواجہ اور گورنر اسٹیٹ بینک بھی موجود تھے۔تقریب میں رمضان پیکج 2025 کے حوالے سے ایک خصوصی دستاویزی فلم پیش کی گئی جس میں پیکج کی تفصیلات اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے علاوہ، وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے رمضان پیکج کے حوالے سے ایک تعارفی ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں اس پیکج کے فوائد اور اس کے تحت دی جانے والی امداد کی تفصیل بیان کی گئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بار رمضان پیکج میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور 40 لاکھ مستحق خاندانوں کو ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے پانچ ہزار روپے دیے جائیں گے، جس سے تقریباً 2 کروڑ افراد مستفید ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال کے 7 ارب روپے کے رمضان پیکج کے مقابلے میں اس بار اس پیکج کو تین گنا بڑھایا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خاندان اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس بار رمضان پیکج کو انتہائی آسان بنایا گیا ہے، تاکہ لوگوں کو لمبی قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔ اس کے علاوہ، پیکج سے پورے پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستحق خاندان مستفید ہوں گے۔

    ہمیں دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہوگا ،وزیراعظم
    وزیراعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ملک میں محصولات میں اضافے اور معاشی بہتری کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں اور گزشتہ رمضان کے مقابلے میں اس بار مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے نوشہرہ میں ہونے والی دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی مذمت کی اور خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کو فوراً قانون کے کٹہرے میں لائے۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے ماضی میں بھی قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں 80 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہوگا اور اس کے خاتمے کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کرپشن کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کیا اور کہا کہ ماضی میں کرپشن کے ذریعے غریب عوام کا پیسہ لوٹا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے سٹے آرڈرز لے کر ٹیکس مقدمات کو التواء میں ڈالا گیا، لیکن اب سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے سے 23 ارب روپے کی وصولی ممکن ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز کی نجکاری کر رہی ہے تاکہ عوام کے پیسے کی شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم ہمت اور عزم کے ساتھ اس مقصد کو حاصل کریں گے۔

    وزیراعظم نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ حقداروں کو ان کا حق پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم عوام کے پیسے کی شفاف تقسیم کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا روشن مستقبل کرپشن کے خاتمے اور معاشی ترقی کے حصول میں ہی ہے۔

  • دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے کا مقدمہ درج

    دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے کا مقدمہ درج

    نوشہرہ: دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے خود کش دھماکے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ دھماکا مسجد کے خارجی راستے پر ہوا جس میں معروف عالم دین مولانا حامد الحق حقانی سمیت 8 افراد شہید اور 17 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

    دارالعلوم حقانیہ میں خود کش حملے کا مقدمہ مولانا حامد الحق حقانی کے بیٹے عبدالحق ثانی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ) مردان میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی، قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔سی ٹی ڈی نے خود کش بمبار کی شناخت کے لیے عوام سے مدد کی اپیل کی ہے اور اطلاع دینے والے کے لیے 5 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔

    واضح رہے کہ جمعہ کے روز دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ہونے والے خود کش دھماکے میں جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی سمیت 8 افراد شہید ہوئے۔ اس دھماکے میں 17 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ دھماکا نماز جمعہ کے بعد اس وقت ہوا جب نمازی مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ حکام کے مطابق، دھماکا ایک خود کش بمبار نے کیا جو دھماکے سے قبل خود کو دھماکے سے اڑا لے گیا۔ ابھی تک دھماکے کی نوعیت اور اس میں ملوث افراد کے بارے میں مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

    جے یو آئی (س) سمیت مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اس واقعے کو دہشت گردوں کی سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ اس دھماکے کے بعد عوام میں دہشت گردی کے خلاف بھرپور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔سی ٹی ڈی کی تحقیقاتی ٹیمیں دھماکے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دھماکے کے مقام سے اہم شواہد اکٹھا کیے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • سیکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان میں کارروائی، 6 خوارج ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان میں کارروائی، 6 خوارج ہلاک

    خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 6 خوارج ہلاک ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان کلے میں کارروائی کی.آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے خوارج کے ٹھکانے پر مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 6 خوارج کو ہلاک کردیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ ہلاک خوارج کے زیر قبضہ اسلحہ اور بارود بھی برآمد کرلیا گیا ہے اور ہلاک ہونے والے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف اہم سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ شہریوں کے قتل میں بھی ملوث تھے۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں مزید کسی خوارج کی موجودگی کا شائبہ ختم کرنے کے لیے کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔پاک فوج کے تعلقات عامہ نے بتایا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    صدر اور وزیر اعظم کی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے کی مذمت

    کراچی پولیس چیف نے ارمغان کیس میں نااہلی تسلیم کرلی

    گوادر پورٹ کے حوالے سے حکومت کا اہم فیصلہ

    سعودی عرب میں رمضان المبارک کاچاند نظر آگیا

    آسٹریلیا افغانستان میچ بارش کے باعث منسوخ

  • سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں پانچ مزید ججز کا اضافہ، کل تعداد 13ہو گئی

    سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں پانچ مزید ججز کا اضافہ، کل تعداد 13ہو گئی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں مزید پانچ ججز کی شمولیت کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے بعد آئینی بنچ کے ججز کی تعداد 13 تک پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد مختلف اہم آئینی معاملات پر مؤثر اور جامع فیصلے دینا ہے۔

    سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس عامر فاروق کو آئینی بنچ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ پہلے بھی اہم کیسز میں اپنی بصیرت اور عدالتی فہم کے لئے جانے جاتے ہیں۔ دوسری جانب، جسٹس عامر فاروق کا تعلق اسلام آباد سے ہے اور ان کی عدلیہ میں شراکت کا تجربہ بھی وسیع ہے۔اسی طرح، خیبرپختونخوا سے جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس شکیل احمد بھی آئینی بنچ میں شامل کیے گئے ہیں، جب کہ سندھ سے جسٹس صلاح الدین پنہور کو بھی آئینی بنچ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ تمام ججز آئین اور قانون کے پیچیدہ مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ان کی شمولیت سے سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔

    اس اضافے کے بعد سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کی مجموعی تعداد 13 ججز ہو گئی ہے، جو آئینی اور قانونی مسائل پر اہم فیصلے کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس فیصلے کا مقصد عدلیہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا اور اہم آئینی معاملات پر تیز اور مؤثر فیصلے کرنا ہے۔یہ تبدیلی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے اور قانون کی حکمرانی کو مزید مستحکم کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کر رہی ہے۔

  • مولانا حامد الحق حقانی خود کش حملہ آور کا نشانہ کیوں تھے

    مولانا حامد الحق حقانی خود کش حملہ آور کا نشانہ کیوں تھے

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دارالعلوم حقانیہ میں ہونے والا خودکُش حملہ فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کی ایک مذموم کارروائی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خودکُش حملہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے کیا، جس میں دارالعلوم کے معروف عالم دین مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنایا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ مولانا حامد الحق حقانی گزشتہ ماہ رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے منعقد کی جانے والی کانفرنس میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اپنے واضح اور دو ٹوک موقف کی وجہ سے نشانہ بنے۔ اس کانفرنس میں مولانا حامد الحق نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کو نہ صرف خلافِ اسلام قرار دیا بلکہ اس حوالے سے اپنا سخت موقف بھی پیش کیا۔ مولانا کے اس بیانیے کے بعد انہیں دھمکیاں دی گئیں،

    دھماکا نماز جمعہ کے دوران دارالعلوم حقانیہ میں ہوا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فتنہ الخوارج، ان کے پیروکاروں اور سہولتکاروں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس حملے کے پیچھے اُن عناصر کا ہاتھ ہے جو اسلامی تعلیمات کے مخالف ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے کے درپے ہیں۔یہ حملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے علماء اور مذہبی اداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ان کے اثر و رسوخ کو ختم کیا جا سکے۔ سیکیورٹی حکام نے اس حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں

    اس حملے کے نتیجے میں ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوامی سطح پر اس مذموم کارروائی کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے بھی مولانا حامد الحق حقانی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

  • نوشہرہ، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک  میں خود کش دھماکا،مولانا حامد الحق شہید

    نوشہرہ، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خود کش دھماکا،مولانا حامد الحق شہید

    نوشہرہ، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جامع مسجد میں دھماکا ہوا ہے

    دھماکا جمعہ کی نماز کے بعد ہوا، پولیس اور سیکورٹی اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے، دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی گئی،دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں ، زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکہ نماز جمعہ کے بعد مدرسے میں ہوا.واقعہ کے بعد نوشہرہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے.. ریسکیو 1122 حکام کے مطابق چھ ایمبولینس گاڑیاں موقع پر پہنچ گئی ہیں. زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے. پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا نماز جمعہ کے بعد ہوا.

    پولیس حکام کے مطابق مولانا حامدا لحق حقانی بھی دھماکے میں زخمی ہوئے تھے تاہم اب ان کی موت ہو گئی ہے..مولانا حامد الحق کے بیٹے ثانی حقانی نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے کے وقت سیکڑوں افراد مسجد میں موجود تھے اور دھماکے میں 4 سے 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں

    آئی جی خیبر پختونخو اکے مطابق دھماکہ خود کش تھا اور دھماکے کا نشانہ مولانا حامد الحق حقانی تھے، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے،

    دھماکہ جامعہ کے اندر ہوا جس کے نتیجے میں مولانا حامد الحق سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے تھے، تاہم بعد میں مولانا حامد الحق اپنے زخموں کی تاب نہ لا سکے اور شہید ہو گئے۔

    مولانا حامد الحق کا شمار پاکستان کے معروف دینی اسکالرز اور طالبان کے حامی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے کئی سالوں تک جامعہ حقانیہ میں تدریس اور رہنمائی فراہم کی اور ان کے شاگرد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں سراسیمگی اور غم کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اس سانحہ کی تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ ابھی تک اس دھماکے کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا، لیکن حکام اس پر تفتیش کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دارلعلوم حقانیہ ،اکوڑہ خٹک میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے،وزیراعظم نےزخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس طرح کی بزدلانہ اور مذموم دہشت گردی کی کاروائیاں دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو پست نہیں کر سکتیں،ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں ،وزیراعظم نے دھماکے کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی

    نوشہرہ جامعہ حقانیہ میں دھماکا، مرکزی مسلم لیگ نے اظہار مذمت کی ہے، مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ جامعہ حقانیہ میں دھماکہ قابل مذمت،زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں.مدارس و مساجد کو نشانہ بنانے والے ملک و ملت کے دشمن ہیں، سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ مولانا حامد الحق حقانی سمیت دھماکے میں دیگر اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں.دھماکے کی فوری تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے،حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائے،خیبر پختونخوا میں علما کرام کو مسلسل ہدف بنایا جا رہا، تحفظ فراہم کیا جائے،

  • وزیراعظم  سے نئے وفاقی وزراء، وزراء مملکت اور مشیروں  کی ملاقات

    وزیراعظم سے نئے وفاقی وزراء، وزراء مملکت اور مشیروں کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے نئے ارکان کی شمولیت پر ان کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا۔ اس ملاقات میں وفاقی وزراء، وزراء مملکت اور مشیران نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ہر رکن کی تقرری ان کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

    وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سب اللہ تعالیٰ اور عوام کی عدالت میں جواب دہ ہیں، اور ہمیں اپنی خدمات میں ایمانداری اور محنت سے کام کرنا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال کے دوران ملک میں مہنگائی میں کمی آئی ہے، زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مثبت اقدامات آئندہ سالوں میں مزید بہتر ہوں گے اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ہم سب کو انتھک محنت کرنا ہوگی۔وزیراعظم نے وفاقی وزراء اور کابینہ کے دیگر ارکان سے کہا کہ "میں کابینہ کی کارکردگی کا باقاعدہ اور متواتر جائزہ خود لوں گا تاکہ حکومت کی کارکردگی میں بہتری آئے اور عوامی توقعات کے مطابق کام ہو سکے۔” انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کے طور پر ان کی خدمات لائق تحسین ہیں اور ان پر فخر کیا جا سکتا ہے۔

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے وزیراعظم کی قیادت میں ملکی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے مفاد میں بہترین فیصلے کرنے اور ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی تمام توانائیاں صرف کریں گے۔

    اس ملاقات میں ملکی معاشی صورتحال اور سیاسی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم نے موجودہ معاشی ترقی کو سراہا اور کابینہ کے ارکان کو اس بات کی ہدایت کی کہ وہ اپنی وزارتوں میں کام کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ملک کی ترقی کے لیے ایک مشترکہ مقصد کے تحت کام کرنا ہے اور عوام کی فلاح کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی کامیابی یقینی بنانی ہے۔
    ملاقات کے اختتام پر کابینہ کے ارکان نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو ملک کی معاشی ترقی میں ان کی قیادت اور حکومتی اقدامات کی بدولت حاصل ہونے والی کامیابیوں پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ وزیر اعظم کی رہنمائی میں ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔