Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مریم ، ٹیریان ناجائز کہنے پرنعیم حیدر پنجوتھا اور اختیار ولی کی لائیو شو میں ہاتھا پائی

    مریم ، ٹیریان ناجائز کہنے پرنعیم حیدر پنجوتھا اور اختیار ولی کی لائیو شو میں ہاتھا پائی

    مریم نواز اور ٹیریان کو ناجائز کہنے پرنعیم حیدر پنجوتھا اور اختیار ولی کی لائیو شو میں ہاتھا پائی ہائی ہے.

    نجی ٹی وی چینل پر اینکر ڈاکٹرفضا اکبر کے شو میں پی ٹی آئی کے رہنما نعیم حیدر پنجوتھا کے مریم نواز کو ناجائز کہنے پر ن لیگی رہنما اختیار ولی نے سیخ پا ہوکر نعیم حیدر پنجوتھا کا گریبان پکڑ لیا ، لائیو شو کے دوران ہونے والی ہاتھا پائی کے مناظر کیمرے نے ریکارڈ کر لیے ، اینکر ڈاکٹر فضا اکبر بار بار دونوں صاحبان سے ایسا نہ کریں ایسا نہ کریں کی درخواست کرتی رہی لیکن دونوں نے انکی بات نہ مانی، سٹوڈیو میں موجود دیگر لوگوں نے دونوں میں بیچ پچاو کروایا.

    اسلام آباد سے صحافی عمران وسیم نے واقعہ پر ایکس پر ردعمل میں کہا کہ اگرعمران خان اس سوال کا جواب دے دیتے کہ ٹریان کون ہے؟ آج یہ جھگڑا نہیں ہوتا عمران خان ہاں یا ناں میں کوئی بھی جواب دے سکتے ہیں، مخالفین اسی وجہ سے بار بار ٹیریان کا سوال عمران خان کی دکھتی رگ سمجھ کر اٹھاتے ہیں کیا وجہ ہے؟ اسلامی دنیا کا لیڈر عمران خان اس سوال کا جواب کیوں نہیں دیتے.

    واضح رہے کہ اس سے قبل نجی ٹی وی چینلے پرائم ٹائم ٹاک شو ’کل تک جاوید چودھری کے ساتھ‘ کا ایک کلپ وائرل ہوا تھا جس میں پروگرام کے مہمان آپس میں تلخ کلامی اور سخت جملوں کے تبادلے کے بعد ایک دوسرے پر تھپڑ اور مکے برساتے دکھائی دے رہے تھے۔پروگرام میں ہاتھا پائی کرنے والے یہ مہمان مسلم لیگ ن کے سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان اور پی ٹی آئی کور کمیٹی کے رکن اور وکیل شیر افضل خان مروت ہیں۔ یہ پروگرام براہ راست نشر نہیں کیا گیا تھا اور دونوں سیاسی رہنماؤں کے درمیان یہ جھگڑا بدھ کے روز ہونے والے پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران ہوا تاہم سوشل میڈیا پر اس کا کلپ وائرل ہوا۔

    پروگرام کا مختصر کلپ وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے جہاں اس جھگڑے کی مذمت کی تو وہیں کچھ لوگوں نے اس واقعے کی ویڈیو ٹی وی سٹوڈیو سے لیک ہونے اور ایسی صورتحال میں پروگرام اینکر کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

  • ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا ہے کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں، عوام بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، حکومت قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے پاس بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔نیب نے دعویٰ کیا کہ ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر پشاور اور جام شورو میں زمینوں پر قبضے کیے، انہوں نے بغیر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کی ہیں۔نیب کے مطابق ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے.

    ملک ریاض نے سرکاری اور نجی اراضی پر ناجائز قبضہ کر کے بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کرتے ہوئے لوگوں سے اربوں روپے کا فراڈ کیا ہے۔ ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں لوگوں سے دھوکا دہی کے ذریعے بھاری رقوم وصول کر رہے ہیں، وہ اس وقت این سی اے کے مقدمے میں ایک عدالتی مفرور ہے۔نیب کا دعویٰ ہے کہ ملک ریاض نیب اور عدالت دونوں کو مطلوب ہیں، نیب نے بحریہ ٹاؤن کے پاکستان کے اندر بے شمار اثاثے ضبط کر چکا ہے، بحریہ ٹاؤن کے مزید اثاثہ جات کو ضبط کرنے کے لیے بلا توقف قانونی کارروائی کرنے جا رہا ہے۔

    ترجمان کے مطابق ملک ریاض اس وقت عدالتی مفرور کی حیثیت سے دبئی میں مقیم ہے، بحریہ ٹاؤن کے مالک نے دبئی میں لگژری اپارٹمنٹ کی تعمیرات کے حوالے سے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا ہے، عوام الناس اس حوالے سے مذکورہ پروجیکٹ کے اندر کسی قسم کی سرمایہ کاری سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ سرمایہ کاری کرنے والے منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئیں گے، سرمایہ کاری کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔نیب کے مطابق حکومت پاکستان قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے، نیب قومی احتساب ادارے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ دھوکا دہی اور جعلسازی کے ذریعے لوگوں سے ناجائز ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پر نیب آگاہی دیتا ہے۔واضح رہے کہ 6 جنوری 2024 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں ملک ریاض سمیت ریفرنس کے 6 شریک ملزمان کو اشتہاری اور مفرور مجرم قرار دے دیا تھا۔چند روز قبل (17 جنوری 2025) راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ مجرمہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنا دی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    سندھ اسمبلی میں طلبا یونین بحالی کی قرارداد مسترد

    حماس کی قید سے رہا اسرائیلی قیدیوں کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے

  • کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

    کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا
    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پاکستان میں کام کرنے والے بیرون ملک کے موجودہ 86 پائلٹس کے لائسنز کی توثیق میں 2 سال اور 2025 میں نئے پائلٹس کی شمولیت کی فارن ویلیڈیشن میں 3 سال کی توسیع کی منظوری دے دی- وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گزشتہ سالوں میں کووڈ کی وبا اور پاکستانی پائلٹس پر پابندی کی وجہ سے پاکستانی ائیرلائنز کو بیرون ملک سے پائلٹس کی خدمات حاصل کرنی پڑیں۔ کابینہ ڈویژن کی مذکورہ بالا سفارش پر مکمل قانونی کارروائی کے بعد عمل درآمد کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے توشہ خانہ کے نظام میں مزید شفافیت لانے کے لیے توشہ خانہ ایکٹ 2024 پر نظر ثانی کے لیے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر نیشنل سییڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے قوائد وضوابط کی منظوری دے دی-وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی ذمہ داری وزارت آئی ٹی سے وزارت داخلہ کو منتقل کئے جانے کے حوالے سے رولز آف بزنس 1973 میں ترمیم کی منظوری دے دی- وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر نشینل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اپیلیٹ ٹریبیونل کے ممبر فنانس کے طور پر ڈاکٹر عمار حبیب خان کی تعیناتی کی منظوری دے دی-

    وزیراعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی تعمیر نو کے عمل کو تیز کرنے، اس عمل کی مؤثر نگرانی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔وزیراعظم نے کہا کہ پرائم منسٹر ریلیف پیکج مستحقین تک پہنچانے کے لیے نئی مؤثر حکمت عملی بنائی جائے۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 6 جنوری 2025 اور 17 جنوری 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی-

  • اپنے بچوں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیمی  سےبچانے سے بڑی کوئی قربانی نہیں ،وزیراعظم

    اپنے بچوں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیمی سےبچانے سے بڑی کوئی قربانی نہیں ،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حج کی آمد ہے، امید ہے اس سال پاکستانی عازمین کے لیے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سمیت تمام مقامات پر بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم سب دست بہ دعا ہیں کہ حماس اسرائیل جنگ بندی مستقل جنگ بندی میں بدل جائے اس میں 50 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا، جن میں خواتین، بچے، ڈاکٹرز، انجینئرز، نوجوان سب شامل ہیں ہزاروں کو جیلوں میں بند کردیا گیا اور غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے پاکستان نے ہمیشہ اپنے فلسطینی بھائیوں کی آزادی اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے بھرپور آواز اٹھائی ہے اور آئندہ بھی ہم سے جو بن سکا ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، غزہ میں اب تعمیر نو کا مرحلہ بھی شروع ہونے والا ہے، جس میں پاکستان اپنا حصہ ڈالتے ہوئے فرض ادا کرے گا۔

    لاہور جمخانہ کلب اراضی کیس، تحقیقاتی رپورٹ ایوان میں پیش ،حیران کن انکشافات

    وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روز گوادر ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن شروع ہوا، یہ بہت خوش آئند بات ہے چین کی 230 ملین ڈالر کی لاگت سے یہ منصوبہ مکمل ہوا ہے، جس سے گوادر ائیرپورٹ پاکستان کے بڑے ہوائی اڈوں میں شامل ہوگیا ہے یہ ائیرپورٹ بلوچستان اور ملک کی معیشت کے لیے بہت سودمند ثابت ہوگاچین جیسا دوست ملک، جس نے اپنے وسائل سے پاکستان کو تحفتاً یہ پورٹ دیا ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔

    21 اور 25 جنوری کو آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ کر سکیں گے

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جو عناصر پاکستان کے ساتھ دشمنی پر اترے ہوئے ہیں اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں، انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قتل و غارت کرکے وہ نہ صرف بلوچستان کے عوام کے خلاف جا رہے ہیں بلکہ یہ پاکستان کے ساتھ صریحاً دشمنی ہے جو بھی محاذ آرائی کررہے ہیں یہ پاکستان دشمنی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ورلڈبینک نے طویل مدتی شراکت داری کا فریم ورک بنایا ہے، جس کے تحت آئندہ 10 برس میں 20 ارب ڈالر کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی جائے گی، گو کہ یہ قرض ہے تاہم اگر ہمارے شعبوں کو عالمی اداروں کے ذریعے تقویت ملتی ہے تو ہمیں اس کو یقیناً خوش آمدید کہنا ہوگا اور اس کی راہ میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

    امریکہ اور طالبان کے مابین قیدیوں کا تبادلہ،ایک افغان،دوامریکی شہری رہا

    وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی کی ایکسپورٹس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے دسمبر میں اس شعبے میں 348 ملین ڈالرز کی آئی ٹی ایکسپورٹس ہوئی ہیں اس کے لیے میں اس پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس شعبے کی حوصلہ افزائی کریں گے، جس سے پاکستان کو فائدہ ہوگا اسی طرح حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے جامع پروگرام کا علان کیا تھا، اسے بھی مزید آگے بڑھائیں گے حکومت ملکی معیشت کو مزید بہتر کرنے کے لیے اپنی تمام کاوشیں جاری رکھے گی-

    محسن نقوی کی واشنگٹن میں خصوصی عشائیہ میں شرکت

    انہوں نے کہا کہ فتنۃ الخوارج کے خاتمے کے لیے جو کاوشیں جاری ہیں، جو قربانیاں دی جا رہی ہیں، حکومت اور عوام چاہ کر بھی شہدا کا قرض نہیں اتار سکتے،جس کے بدلے میں ملک میں امن قائم ہوگا اور ترقی و خوشحالی کا دور دورہ ہوگاہمیں من حیث القوم پوری طرح ادراک ہونا چاہیے کہ اپنے بچوں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچانا، اس سے بڑی کوئی قربانی نہیں ہے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ حلف برداری،پاکستان سے کون کون شریک ہوا

    ڈونلڈ ٹرمپ حلف برداری،پاکستان سے کون کون شریک ہوا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں صرف وی وی آئی پیز ہی شرکت کر پائے، جبکہ کڑاکے کی سردی اور سخت سیکیورٹی نے کئی اہم شخصیات کی شرکت کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ اس تقریب میں شرکت کرنے والے افراد کو خصوصی دعوت نامے جاری کیے گئے تھے، مگر ان کی شرکت بھی سیکیورٹی اور موسمی حالات کی وجہ سے محدود ہو گئی۔

    پاکستان کی نمائندگی سفیرِ پاکستان، رضوان سعید شیخ نے کی، جو ڈپلومیٹک انکلیو میں موجود تھے۔ تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی واشنگٹن میں موجود تھے اور تقریب میں شریک ہوئے یا نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی نمائندگی وزیرِ خارجہ جے شنکر نے کی، جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خصوصی مندوب کے طور پر وہاں موجود تھے۔ ٹرمپ کی حلف برداری میں کئی عالمی رہنما اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں ارجنٹینا کے صدر ہاویر، چین کے نائب صدر ہان زینگ، امریکا کے سابق صدور بل کلنٹن، بش اور براک اوباما شامل تھے۔ ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہیلری کلنٹن، لارا بش اور مشعل اوباما بھی موجود نہیں تھیں۔

    اس تقریب میں سابق نائب صدور مائیک پنس اور ڈین کوائل بھی موجود تھے۔ صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند ری پبلکن ووک رامسوامی اور نیویارک کے میئر ایریک ایڈمز بھی اس تقریب کا حصہ بنے۔ مزید یہ کہ کئی کاروباری شخصیات جیسے ایلون مسک، جیف بیزوس، مارک زکربرگ، اور گوگل کے سی ای او سندر پچائی بھی موجود تھے۔

    پاکستانی رہنماؤں میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی شرکت متوقع تھی، مگر انہیں حلف برداری کمیٹی کی جانب سے باضابطہ دعوت نامہ نہیں دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، بلاول کو دعوت ملنے کی خبریں میڈیا کے ذریعے غیر مصدقہ ذرائع سے آئیں، جس کے باعث پارٹی نے اس بارے میں کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔

    پاکستانی امریکن کمیونٹی کے افراد میں جاوید انور، جو صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہیں اور جنہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں تین ملین ڈالرز عطیہ کیے تھے، کو انڈور تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی پاس جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، شدید سیکیورٹی اور سردی کی وجہ سے انہوں نے شرکت سے گریز کیا، اور ان کی نمائندگی ان کے بیٹے اور بہو نے کی۔ دیگر پاکستانی امریکن رہنما جیسے ساجد تارڑ اور کاروباری شخصیت تنویر احمد بھی اس تقریب کا حصہ نہیں بن سکے۔

    جب تقریب کو آؤٹ ڈور منصوبہ بنایا گیا تھا تو پی ٹی آئی کے رہنما قاسم سوری، طاہر صادق، سجاد برکی، عاطف خان اور دیگر کو دعوت نامے جاری کیے گئے تھے، تاہم انڈور تقریب ہونے کی وجہ سے ان افراد نے شرکت نہیں کی۔ تقریب کی سیکیورٹی کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی گئی تھیں، جن میں سردی کے پیش نظر گرم کپڑے پہننے اور اسکریننگ کے عمل میں شرکت کی ہدایات شامل تھیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں سیکیورٹی کی سختیوں اور سرد موسم کے باوجود دنیا بھر سے اہم شخصیات کی شرکت نے اس ایونٹ کو یادگار بنا دیا۔ مگر اس میں پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک سے محدود نمائندگی نے اس کی عالمی سیاسی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔

  • کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ،بینچزکے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    طلبی پررجسٹرار سپریم کورٹ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے رجسٹرار سے سوال کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود کیس مقرر کیوں نہ ہوا؟ رجسٹرار نے جواب دیا کہ کیس آئینی بینچ کا تھا، غلطی سے ریگولر میں لگ گیا تھا، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اگر یہ غلطی تھی تو عرصے سے جاری تھی اب ادراک کیسے ہوا؟معذرت کیساتھ غلطی صرف اس بینچ میں مجھے شامل کرنا تھی، جسٹس عقیل عباسی نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کیس کو ہائی کورٹ میں سن چکا تھا، پتہ نہیں مجھے بینچ میں شامل کرنا غلطی تھی کیا تھا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اس معاملے پر اجلاس کیسے ہوا؟ کیا کمیٹی نے خود اجلاس بلایا یا آپ نے درخواست کی؟ رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نے کمیٹی کو نوٹ لکھا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب جوڈیشل آرڈر موجود تھا تو نوٹ کیوں لکھاگیا؟ہمارا آرڈر بہت واضح تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے، عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ نوٹ دکھائیں جو آپ نے کمیٹی کو بھیجا،رجسٹرار سپریم کور ٹ نے کمیٹی کو بھیجا گیا نوٹ عدالت میں پیش کردیا

    جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ میں غلطی کا ادراک تو نہیں کیا گیا، نوٹ میں آپ لکھ رہے ہیں کہ 16 جنوری کو آرڈر جاری ہوا ،نوٹ میں آپ آرڈر کی بنیاد پر نیا بینچ بنانے کا کہہ رہے ہیں، آرڈر میں تو ہم نے بتایا تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے؟ رجسٹرار نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کیس آئینی بنچ کی کمیٹی کو بھجوایا،آئینی بینچز کی کمیٹی نےترمیم سے متعلقہ مقدمات 27 جنوری کو مقرر کیے،ترمیم کے بعد جائزہ لیا تھا کہ کونسے مقدمات بینچ میں مقرر ہو سکتے ہیں کونسے نہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس شاید آپ سے غلطی سے رہ گیا لیکن بینچ میں آ گیا تو کمیٹی کا کام ختم، کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ہو گئی،جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس آپ سے رہ گیا اور ہمارے سامنے آ گیا، آخر اللہ تعالیٰ نے بھی کوئی منصوبہ ڈیزائن کیا ہی ہوتا ہے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ہمارے کیس سننے سے کم از کم آئینی ترمیم کا مقدمہ تو مقرر ہوا،پہلے تو شور ڈلا ہوا تھا لیکن ترمیم کا مقدمہ مقرر نہیں ہو رہا تھا، ٹیکس کیس میں کونسا آئینی ترمیم کا جائزہ لیا جانا تھا جو یہ مقدمہ واپس لے لیا گیا، عدالت نے معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر طلب کر لیا ،عدالت نے کہا کہ جو دستاویزات آپ پیش کر رہے ہیں یہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کا دفاع ہے، دفاع میں پیش کیے جانے والے موقف پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ درست ہے یا نہیں،

    یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو مقدمہ واپس لینے کا اختیار کہاں سے آیا؟رجسٹرار نے کہا کہ کمیٹی کیسز مقرر کر سکتی ہے تو واپس بھی لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی رہے، آپکو چیزوں کا علم تو ہوگا،ججز کمیٹی کا عدالتی بنچ سے کیس واپس لینے سے تو عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ ہو جائے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت ججز کمیٹی عدالتی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا رہا تو کل کوئی کیس اس وجہ سے واپس لے لیا جائے گا کہ حکومت کیخلاف فیصلہ ہونے لگا ہے، میں ایک وضاحت کرنا چاہتا ہوں، 17 جنوری کو ججز کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے، مجھے ریگولر ججز کمیٹی اجلاس میں مدعو کیا گیا،میں نے جواب دیا جوڈیشل آرڈر دے چکا ہوں، کمیٹی میں بیٹھنا مناسب نہیں،پھر 17 جنوری کو ہی آرٹیکل 191 اے فور کے تحت آئینی بنچز ججز کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس وقت عدالتی بنچ میں کیس تھا اس وقت دو اجلاس ایک ہی دن ہوئے،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ججزآئینی کمیٹی نے منٹس میں کہا 26ویں آئینی ترمیم کیس آٹھ ججز کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کیا جاتا ہے، اس لیے یہ کیس آئینی بنچ میں بھیجا جاتا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف تو ہم کیس سن ہی نہیں رہے تھے، چلیں اچھا ہے، اس کیس کے بہانے کیسز تو لگنا شروع ہو گئے،

    ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،اٹارنی جنرل طلب،منیر اے ملک اور حامد خان عدالتی معاون مقرر
    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کے بنچ نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر لیا،سینئر وکیل منیر اے ملک اور حامد خان کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا ،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل سمیت دیگر وکلا کو کل سنیں گے،یہ اہم معاملہ ہے کہ ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ صلاح الدین نے بینچ کے سامنے استدعا کی کہ کچھ ججز کے اختیارات باقی ججز سے کیوں زیادہ ہیں اس معاملے پر فل کورٹ بنایا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہم نے تو کمیٹی میں پہلے اس بات کی ریکوئسٹ کردی تھی۔ جسٹس عقیل عباسی نے سوال اٹھایاکہ کیا ہم توہین عدالت کی سماعت میں ایسا حکم جاری کر سکتے ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اس سے متعلق وکلاء ہمیں آگاہ کریں۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شاہد جمیل کھڑے ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کے لئے فل کورٹ بنا سکتی ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    پاکستان ،بھارت اور دنیا کےرہنماؤں کی ٹرمپ کو مبارکباد

  • صدر ٹرمپ کا  جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی  لگانےکا اعلان

    صدر ٹرمپ کا جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی لگانےکا اعلان

    دوسری بار صدر منتخب ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں کہا امریکہ کا سنہری دور شروع ہوگیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکہ 47 ویں صدر کی حیثیث سے حلف اٹھانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف برداری کی تقریب میں شریک شرکا سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اب سنہری دور شروع ہوگیا، میرے دور میں امریکہ پہلی ترجیح ہوگا، اب امریکہ ترقی کرے گا، میری اولین ترجیج ایک ایسا ملک قائم کرنا جو مضبوط ہو، امریکی خود مختاری کو دوبارہ حاصل کریں گے، امریکا بہت جلد مضبوط، عظیم اور پہلے سے کہیں زیادہ کامیاب ملک بنے گا,سابق حکومتیں داخلی مسائل حل نہیں کرسکیں لیکن دنیا بھر میں مہنگی مہمات کرتی رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پچھلی انتظامیہ نے ہمارے ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے ’خطرناک مجرموں ‘ کو پناہ اور تحفظ فراہم کیا ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ’ غیر ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے لامحدود فنڈنگ ‘ دی ہے لیکن امریکی سرحدوں کے دفاع کے چیلنج کو نظر انداز کر دیا لیکن میں اور میری انتظامیہ سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نےسی بی پی ون نامی سرحدی ایپ کا استعمال ختم کر دیا،سی بی پی ون نے 10 لاکھ افراد کو قانونی طور پر کام کرنے کی اہلیت کے ساتھ امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ 8 سال مجھے جن مشکلات کا سامنا رہا امریکی تاریخ میں کسی اور کیساتھ ایسا نہیں ہوا، میں امریکا کو پھر سے عظیم بناؤں گا، آج کا دن امریکی شہریوں کی آزادی کا دن ہے، میں اور میری انتظامیہ ملک کی سرحدوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے، سابقہ انتظامیہ کے اقدامات کے باعث اب ہمارے پاس ایک ایسی حکومت ہے جو اندرون ملک ایک معمولی بحران سے بھی نمٹ نہیں سکتی،سیاہ فارم اور لاطینی امریکیوں کا شکریہ، میں نے اُن کے مسائل سنے ہیں۔ آج یعنی 20 جنوری مارٹن لوتھر کنگ ڈے ہے اور اس مناسبت سے میں اُن کے لئے کام کروں گا، میں امریکا کی جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی کا اعلان کروں گا، آج تاریخی حکم ناموں پر دستخط کروں گا، ہم لاکھوں غیرقانونی تارکین وطن اور جرائم پیشہ افراد کو واپس بھجیں گے، منظم جرائم کے گروہوں کو غیرملکی دہشتگرد قرار دیں گے، اُن کے خلاف فوج کو استعمال کریں گے۔

    اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ اپنی کابینہ کو ہدایت کروں گا کہ ہر صورت میں مہنگائی پر قابو پائے، امریکہ ایک بار پھر دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ ملک بنے گا، میں امریکا کے تجارتی نظام کو فوری ٹھیک کرنے میں لگ جاؤں گا، میں تمام حکومتی سنسرشپ ختم کرنے کا فوری حکم دوں گا، امریکی عوام پر ٹیکسوں میں کمی کرونگا، ہم اپنے شہروں میں قانون کی بالادستی لائیں گے، امریکا کہ دشمنوں کو شکست دینگے۔ ہم ایک میرٹ والی سوسائٹی بنائیں گے ، اپنے ملک کو خطرات اور درندازیوں سے بچانا اولین ذمہ داری ہے، خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خیلج امریکا رکھ رہے ہیں، ہم پاناما کینال واپس لیں گے، امریکا میں آزاد اظہار رائے کی مکمل آزادی بحال کروں گا، مریخ پر خلائی مشن اور خلانوردوں کو بھیجیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سورج کی روشنی پوری دنیا پر پڑ رہی ہے اور امریکا کے پاس اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہے جو پہلے کبھی نہیں تھا‘،لاس اینجلس آگ سے متعلق کہا کہ آگ نے کچھ امیر ترین اور طاقتور افراد کو متاثر کیا، جن میں سے کچھ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، ان کے پاس اب کوئی گھر نہیں ہے۔ امریکا میں صحت کا ایسا نظام موجود ہے جو آفت کے وقت کام نہیں کرتا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس پر ‘دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ’ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایک ایسا تعلیمی نظام ہے جو ’ہمارے بچوں کو خود پر شرمندہ ہونا سکھاتا ہے‘۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ‘یہ سب کچھ آج سے بدل جائے گا اور یہ بہت تیزی سے بدلے گا۔

    انہیں یہ مینڈیٹ دیا گیا ہے کہ وہ امریکی عوام کے خلاف برسراقتدار لوگوں کی جانب سے ’خوفناک خیانت ‘ کو مکمل طور پر ختم کر دیں گے اور عوام کو ان کا ایمان، ان کی دولت، جمہوریت اور ان کی مکمل شخصی آزادی دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج سے امریکا کے زوال کا دور ختم ہو چکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں تمام سابق صدور اور تقریب میں شریک دیگر اہم شخصیات بشمول اپنی حریف سابق نائب صدر کملا ہیرس اور سابق صدر جو بائیڈن کا نام لے کر شکریہ ادا کیا۔

    ایک اور آئی پی پی کے ساتھ پاور معاہدہ ختم

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے سب سے معمر صدر بن گئے

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

  • سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    ،ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی عہدے کا حلف اٹھایا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق دوسری دفعہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا میں سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے، آج سے ہمارا ملک ترقی کی نئی منازل طے کرے گا، اور دنیا بھر میں دوبارہ اس کی عزت کی جائے گی۔ ہم کسی بھی ملک کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارا فائدہ اٹھائیں، ٹرمپ انتظامیہ میں ہر ایک دن میں ’امریکا سب سے پہلے‘ کے نظریے پر کار بند رہیں گے۔قانون کی بالادستی اور ملک کا تحفظ یقینی بنائیں گے، مزید کہا کہ ہماری ’اولین ترجیح‘ ایک آزاد، قابل فخر اور خوشحال قوم بنانا ہے، امریکا جلد ہی پہلے سے زیادہ طاقتور، مضبوط اور غیر معمولی ہو جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پر امید ایوان صدر میں واپس آئے ہیں کہ ہم قومی کامیابی کے ایک سنسنی خیز نئے دور کے آغاز پر ہیں، مزید کہنا تھا کہ ملک میں تبدیلی کی لہر پھیل رہی ہے، امریکا کے پاس پوری دنیا میں فائدہ اٹھانے کا موقع ہے، جو پہلے کبھی نہیں تھا۔اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی بابت بات کرتے ہوئے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے، کئی برسوں سے ایک بنیاد پرست اور بدعنوان اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے شہریوں سے طاقت اور دولت چھین لی ہے جبکہ ہمارے معاشرے کے ستون ٹوٹ چکے ہیں اور بظاہر مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں ’اے ایف پی، رائٹرز‘ کی رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن کے ہمراہ کیپیٹل ہل داخل ہوتے ہوئے کہا کہ ’گڈ مارننگ‘، جبکہ جوبائیڈن نے اس سوال پر کہ کیسا محسوس کرتے ہیں، کہا کہ اچھا ہوں۔حلف برداری کی تقریب میں سابق صدور بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن، جارج بش اور ان کی اہلیہ اور بارک اوباما بھی شریک رہے۔اس کے علاہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن، دنیا کے امیر ترین آدمی ایلون مسک، میٹا کے مالک مارک زکر برگ، گوگل کے چیف ایگزیکٹیو اور دیگر بھی تقریب میں موجود ہیں۔قبل ازیں، نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اہلیہ کے ساتھ وائٹ ہاؤس پہنچے تھے، جہاں جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا کا استقبال کیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ ایگزیکٹو پاور کی حدود کو آگے بڑھانے، لاکھوں تارکین وطن کو ملک بدر کرنے، اپنے سیاسی دشمنوں کے خلاف انتقام اور عالمی سطح پر امریکا کے کردار کو تبدیل کرنے کے وعدے کے ساتھ 4 سالہ ایک اور ہنگامہ خیز میعاد کا آغاز کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے قبل معاونین نے ایگزیکٹو کارروائیوں کی تفصیلات بتائیں ہیں جن پر وہ فوری طور پر دستخط کریں گے، جس میں بارڈر سیکیورٹی اور امیگریشن ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • صدرمملکت سے  ایرانی آرمی چیف کی ملاقات

    صدرمملکت سے ایرانی آرمی چیف کی ملاقات

    اسلام آباد: صدرمملکت آصف علی زرداری سے ایرانی آرمی چیف نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ملاقات کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا گیا،باہمی مفاد میں تجارتی اور اقتصادی تعلقات فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے،نمٹنے کیلئے مؤثر اور مربوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف نے غزہ اور لبنان پر پاکستان کے مؤقف کو سراہا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب اور یو اے ای صدر کیخلاف سوشل میڈیا مہم کیس، مزید 4 افراد گرفتار

    چین میں گھناؤنے جرائم کے الزام میں 2 افراد کو پھانسی

    علی امین پختونوں کی غیرت پر سیاہ دھبہ ہے،عظمی بخاری

  • علیمہ خان کی غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ذریعے سازش کے شواہد منظر عام پر

    علیمہ خان کی غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ذریعے سازش کے شواہد منظر عام پر

    علیمہ خان کے غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ساتھ واٹس ایپ پیغامات منظر عام پر آگئے،

    پیغامات، ریاست کو کمزور کرنے کیلئے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ سازش کو بے نقاب کرتے ہیں، پیغامات میں بانی پی ٹی آئی کو مظلوم ظاہر کرتے ہوئے ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے، پیغامات کے پہلے حصے میں برطانوی صحافی چارلس گلاس اور علیمہ خان کی گفتگو سامنے آئی ہے،

    برطانوی صحافی چارلس گلاس علیمہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ;”کیا میں جیل میں بانی پی ٹی آئی کو اپنی کچھ کتابیں دستخط کے ساتھ بھیج سکتا ہوں“”برطانیہ کی سخت حفاظتی جیلوں میں دستخط شدہ کتابیں بھیجنے کی اجازت نہیں ہے“، علیمہ خان نے جواب میں چارلس گلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ;”میں نے بانی پی ٹی آئی کو آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے، وہ آپ کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں“”میں نے انہیں مطلع کیا ہے کہ آپ (چارلس گلاس) انہیں اپنی دستخط شدہ کتابیں بھیجیں گے“،”انہیں لازماً کتابیں مل جائیں گی“،

    چارلس گلاس کے حوالے سے علیمہ خان اور اعلی ٰ برطانوی اہلکار کی گفتگو بھی سامنے آئی ہے،برطانوی اہلکار نے علیمہ خان کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ;”میری چارلس سے چند گھنٹے قبل بات ہوئی ہے، میں نے بہت کوشش کی مگر کامیابی نہ مل سکی“علیمہ خان نے برطانوی اہلکار کو جواباً کہا کہ ;”جب چارلس کسی سے ملاقات کر رہا تھا تو پولیس نے چارلس کو واپس ہمارے کمپاؤنڈ میں جانے کا کہا“”وہ (چارلس گلاس) میری بہن کے گھر میں رہائش پذیر ہے“، ”انہوں (پولیس)نے اسے (چارلس گلاس) کو پہلی دستیاب فلائٹ سے جانے کا کہا ہے“،

    علیمہ خان نے برطانوی اہلکار سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ;”کیا آپ کے پاس کو لیگل کونسل نہیں جو اس مسئلے سے نمٹ سکے؟“

    علیمہ خان نے ”ٹائم میگزین“ کے جنوبی ایشیا کے ایڈیٹر چارلی کیمبل کو بھی واٹس ایپ کے ذریعے پیغامات ارسال کئے،چارلی کیمبل کو بھیجے گئے پیغام میں نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ;”پی ٹی آئی کارکنوں کوہراساں کیا جا رہا ہے، کب تک کارکنان ہراسگی کا سامنا کرتے رہیں گے“جواباً چارلی کیمبل نے علیمہ خان کو کہا کہ;”یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے“

    علیمہ خان کا ایک واٹس ایپ رابطہ وال سٹریٹ جنرل جریدے کے صحافی سعید شاہ کے ساتھ بھی سامنے آیا ہے،صحافی سعید شاہ نے علیمہ خان سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ آئندہ ملاقات میں کچھ سوالات کے جوابات مانگے،پوچھے گئے سوالات میں بانی پی ٹی آئی سے دنیا بالخصوص امریکا کیلئے پیغام مانگا گیا،سعید شاہ نے سوال کیا کہ ”آپ (بانی پی ٹی آئی) کی اقتدار میں واپسی کیسے ممکن ہے؟“”کیا آپ (بانی پی ٹی آئی) اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جنگ چل رہی ہے؟“، علیمہ خان نے اشاراتاً جواب دیتے ہوئے کہا کہ;”کس نے دو بار بانی پی ٹی آئی کو قتل کرنے کی سازش کی“سعید شاہ نے اس کے جواب میں کہا کہ ;”ہاں۔۔ اسی لئے میں ان سے پوچھنا چاہا رہا ہوں مجھے امید ہے کہ اس کی کوئی وجہ سامنے آئے گی“

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علیمہ خان مسلسل غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ساتھ رابطوں کے ذریعے ریاست مخالف چھوٹا پروپیگینڈا پھیلا رہی ہے،2024 ء میں پاکستان کیلئے ویزہ درخواست میں چارلس گلاس نے خود کو سیاح ظاہر کرتے ہوئے کسی صحافتی مہم کا حصہ نہ بننے کا بیان حلفی دیا تھا،برطانوی صحافی چارلس گلاس کو اگست2024ء میں ویزہ کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان سے ڈی پورٹ کیا گیا،

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چارلس گلاس کا پیغام کے ساتھ کتاب کا بھیجنا بانی پی ٹی آئی کی منفی ذہن سازی اور خفیہ پیغام رسانی ہوسکتا ہے،اس حوالے سے علیمہ خان کا استعمال اور کتابوں کو پیغام کا ذریعہ بنانا قابل غور اور تشویشناک ہے،چارلس گلاس کا برطانوی جیلوں کے سخت قوانین کی حمایت اور پاکستان میں غیر قانونی ذرائع استعمال کرنا بھی تشویشناک ہے، علیمہ خان کا پاکستانی ویزہ قوانین کی خلاف ورزی پر چارلس گلاس کی حمایت ذاتی مفادات کیلئے غیر قانونی عمل ہے، علیمہ خان کی جانب سے چارلی کیمبل کیساتھ نام نہاد انسانی حقوق کا واویلا پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی سازش ہے، صحافی سعید شاہ کا عسکری قیادت کو بغیر شواہد کے سوالات کے ذریعے سیاست سے جوڑنا صحافتی اقدار کے منافی ہے، علیمہ خان کا صحافی سعید شاہ کو اشارتاًبانی پی ٹی آئی پر حملے کو اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنا ملک دشمنی اور گمراہ کن ہے،بانی پی ٹی آئی کا غیر ملکی مداخلت کا بیانیہ اور علیمہ خان کا مسلسل غیر ملکی لابیز سے مداخلت کی درخواستیں کرنا دوغلے پن کی نشانی ہے،

    ڈیرہ غازیخان:ہم 9 مئی والے نہیں، 28 مئی والے ہیں،مریم نواز

    الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    نیرج چوپڑا کی دلہن کون؟تفصیلات سامنے آ گئیں