Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کیے جانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کردیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی ہدایات کے باوجود الیکشن کمیشن ایسا رویہ اپناتا ہے جو اس کے آئینی فرائض سے مطابقت نہیں رکھتا، الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ اسے دوسرے آئینی اداروں اور ووٹ کے بنیادی حق کو نظرانداز کرنے کا اختیار حاصل ہے، انتخابات جمہوریت کی زندگی ہیں اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کی دیانتداری کا ضامن ہے، الیکشن کمیشن کے آزاد انتخابی عمل کے بغیر جمہوریت کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے، الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ یا سیاسی مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن کو جمہوریت کا غیرجانبدار محافظ رہنا چاہیے۔

    سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں کہاہے کہ الیکشن کمیشن کا حکومت کے حق میں جھکاؤ ظاہر ہو تو یہ سیاسی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا، انتخابی عمل کی حفاظت کا مرکز عوام کے ووٹ کا حق ہے، حق ووٹ کے استعمال سے جمہوری نظام میں طاقت اور قانونی حیثیت عوام کی مرضی سے حاصل ہوتی ہے۔

    جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر

  • پی ٹی آئی مطالبے پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کا جواب تیار

    پی ٹی آئی مطالبے پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کا جواب تیار

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطالبے پر حکومت نے سانحہ 9 مئی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، حکومتی مذاکراتی ٹیم نے پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات پر جواب تیار کیا ہے جس میں 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز مسترد کر دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی مذاکراتی ٹیم کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن ایسے معاملات کے لیے تشکیل دیا جاتا ہے جو عدالتوں میں زیر بحث نہ ہوں، لیکن 9 مئی کے واقعات پر مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور بعض ملزمان کو ملٹری کورٹس سے سزائیں بھی ہو چکی ہیں۔ اس وجہ سے حکومت کا موقف ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔مزید برآں، حکومتی جواب میں پی ٹی آئی سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ 26 نومبر کے حوالے سے لاپتہ افراد کی فہرست اور گرفتار افراد کی تفصیلات فراہم کی جائیں، تاکہ ان افراد کی رہائی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے نام اور تفصیلات کے بغیر ان کی رہائی کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا جا سکتا۔

    حکومتی جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ہلاکتیں ہوئی ہیں، تو ان ہلاکتوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ اس کے علاوہ، حکومت کی کمیٹی آئندہ چند دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کو اپنے تحریری جواب پیش کرے گی، جس کے بعد اسپیکر مذاکرات کے لیے چوتھے اجلاس کا فیصلہ کریں گے۔

    واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے تیسرے اجلاس میں پی ٹی آئی نے حکومت کے سامنے تحریری مطالبات پیش کیے تھے، جن میں 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، عمران خان سمیت دیگر پارٹی قائدین اور کارکنوں کی رہائی کے مطالبات شامل تھے۔

    بھارت،خاتون ڈاکٹرزیادتی و قتل کیس،ملزم کو عمر قید کی سزا

    عمران ایماندار تھے تو پشاور بی آرٹی کے آڈٹ پر حکم امتناع کیوں لیا، شرجیل میمن

  • جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    غزہ میں 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے بعد دونوں طرف کی میڈیا رپورٹس نے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بٹالینز کس حد تک تباہ ہوئیں۔ دوسری جانب فلسطینی اور حماس کے میڈیا نے جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کیا ہے اور غزہ میں حماس کے کنٹرول کے قیام کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ” کے ترجمان ابو عبیدہ نے جنگ بندی معاہدے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کے عمل پر ہے۔ ابو عبیدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی معاہدے کا احترام کرے، کیونکہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور حماس اس قبضے کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کا قبضہ ہی فلسطینی عوام کی مشکلات کی وجہ ہے، اور حماس اس قبضے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔

    قیدیوں کا تبادلہ: حماس اور اسرائیل کے اقدامات
    جنگ بندی کے تحت دونوں فریقوں نے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس نے 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جنہیں اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ تک پہنچایا گیا اور پھر اسرائیلی فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے جیلوں سے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل تھے۔یہ قیدی اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصے سے قید تھے، اور ان کی رہائی کے بعد مغربی کنارے میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کا قافلہ دو بسوں میں مغربی کنارے کے شہر بیتونیہ پہنچا، جہاں ان کا فلسطینی عوام کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ ایک فلسطینی طالبہ نے جو ان قیدیوں میں شامل تھی، بتایا کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا، اور حالات انتہائی خوفناک تھے۔حماس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ قیدیوں کا اگلا تبادلہ 25 جنوری کو ہوگا، جس میں غزہ سے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جائے گی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس تبادلے میں حماس سے رہائی پانے والے 4 اسرائیلی یرغمالی ہوں گے۔

    جنگ بندی کے بعد اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی صورتحال پر اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ حماس کے کارکن سڑکوں پر دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی پولیس دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور غزہ کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ غزہ میں امن و امان کی بحالی میں حماس کی پولیس آگے نظر آ رہی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ حماس نے غزہ میں سرنگوں سے نکل کر اپنی موجودگی کو دوبارہ ظاہر کیا ہے، اور اس کی مزاحمتی فورسز ٹرکوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اسرائیلی اخبار نے کہا کہ فلسطینی میڈیا جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس نے غزہ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اسرائیل نے اپنی جنگی حکمت عملی میں دعویٰ کیا کہ اس نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا نے واضح کیا کہ یہ بٹالینز تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کے آپریشنل اثرات کو کم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، حماس نے غزہ میں اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے اور جنگ بندی کے دوران بھی غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حماس کی مزاحمتی فورسز اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں اور اس کا عزم ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

    غزہ پر اسرائیل کی جارحیت گزشتہ 15 ماہ سے جاری تھی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیل کی کارروائیوں میں 47,899 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور شہری انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا۔ جنگ بندی معاہدہ اس طویل اور تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار دونوں طرف کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں پر ہے۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک اہم موڑ ہے، لیکن اس کے بعد کی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔ حماس نے اپنی مزاحمت اور غزہ پر کنٹرول کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کیا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے موقف اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی معاہدہ پائیدار امن کا باعث بنے گا یا نہیں۔

  • نواز شریف کو بچانے کیلیے بل کلنٹن کی واش روم جاتے ہوئے پاکستانی اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی

    نواز شریف کو بچانے کیلیے بل کلنٹن کی واش روم جاتے ہوئے پاکستانی اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی

    جنرل پرویز مشرف دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے سابق سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو پھانسی سے بچانے کیلئے اس وقت کے چیف جسٹس سے خفیہ ملاقات کی تھی۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے امریکی صدر بل کلنٹن کو دورہ پاکستان سے منع کر دیا تھا لیکن صدر بل کلنٹن نے محض اس لیے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا کہ برطرف وزیراعظم میاں نواز شریف کو پھانسی سے بچایا سکیں۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یقین دہانی کے بعد وہ چند گھنٹوں کے لیے پاکستان آئے۔ امریکی صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی ایک خفیہ ملاقات کی تاکہ یہ یقین دہانی حاصل کی جا سکے کہ نواز شریف کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔

    نجی ٹی وی جیو کے مطابق ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی کتاب رنگ سائیڈ میں کیا جس کی پشاور میں کل تقریب رونمائی ہو گی جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی کتاب کی رونمائی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ بل کلنٹن کے دورہ پاکستان کے بارے میں انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر پرویز مشرف کی یقین دہانی کے باوجود انہوں نے صدارتی ظہرانے کے دوران واش روم جانے کا فیصلہ کیا، اگلے ہی لمحہ پاکستان کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان بھی واش روم چلے گئے جہاں دونوں کے درمیان ملاقات پانچ منٹ تک گفتگو جاری رہی۔صدر کلنٹن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے استفسار کیا کہ نواز شریف کو پھانسی کی سزا تو نہیں ہو گی جس پر جسٹس ارشاد حسن خان نے انہیں یقین دلایاکہ ایسا نہیں ہو گا،یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایک تاریخی اور چشم کشا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

    ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی کتاب میں لکھا کہ شہباز شریف کابینہ میں شامل ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک و قوم کی خاطر امریکا میں لاکھوں روپے ماہانہ کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان آنے اور یہاں انسانی ترقی کے شعبہ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا وہ ایک انتہائی محب وطن پاکستانی ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق کام ہوا تھا اور مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد نے بھی اسرائیل مکالمے کی حمایت کی تھی۔انہوں نے 2019 میں عمران خان کے دورہ امریکا کوکامیاب قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دورہ کے نتیجے میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات مستحکم ہوئے تھے۔

    ڈاکٹر نسیم اشرف کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے دورہ ہندوستان کے موقع پر انہوں نے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور ان سے ایک واقعہ کے بارے میں استفسار کیا جس کے جواب میں منموہن سنگھ نے تصدیق کی کہ انہوں نے بھارتی بوئنگ طیارے میں دو ٹن سونا بنک آف برطانیہ کے لیے بھیجا تاکہ قرضہ حاصل کیا جا سکے، وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حق میں نہیں تھے، بینک آف انگلینڈ سے لیے جانے والے قرض سے انہوں نے ہندوستان میں نئی اقتصادی پالیسی کا آغاز کیا۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے اپنا سب کچھ پاکستان پر قربان کر دیا تھا، وہ ایک قابل فخر انسانی ہمدرد ہیں۔

    قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کو ڈاکٹر نسیم اشرف اپنا ایک عظیم کارنامہ قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس ادارے نے تعلیم کے فروغ اور لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکانے میں قابل ذکر کردار ادا کیا تاہم انہیں چیئرمین کی حیثیت سے کئی محازوں پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایک بار تو انہوں نے استعفے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔ پروگرام کی کامیابی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیئر کے صاحبزادے نکولس بلیئرخاص طور پر انٹرن شپ کے لیے پاکستان آئے۔

    پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے ڈاکٹر نسیم اشرف نے کئی امور پر قلم کشائی کی، ان کے خیال میں نائن الیون کے واقعہ نے امریکا کو ہلا کر رکھ دیا، یہی وجہ تھی کہ امریکا نے افغانستان کو نشانہ بنایا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ صدر پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج بش کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا، البتہ 7 میں سے 5 مطالبات تسلیم کیے۔اگر پاکستان امریکی مطالبات نہ مانتا تو پاکستان کو معاشی طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑتا جو ملکی سلامتی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا۔ڈاکٹر نسیم نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا میں مقیم پاکستانی جمہوریت کے داعی اور محب وطن پاکستانی ہیں جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا اور یہی وجہ تھی کہ جب نواز شریف کو ہٹایا گیا تو پاکستانیوں نے ان کی بحالی کے لیے مظاہرے کیے اور اخبارات میں اشتہارات بھی دیے جبکہ کانگرس اراکین سمیت امریکی صدر کو خط بھی لکھا جس کے نتیجہ میں صدر کلنٹن نے پاکستان کا دوہ بھی کیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی حیثیت سے مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، خوشی ہے کہ ملک بھر میں 19 اسٹیڈیم بنائے۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ سے متعلق لکھا کہ اوول ٹیسٹ پہلے انضمام الحق نے کھیلنے سے انکار کیا، بعد میں وہ جنرل مشرف کی مداخلت پر راضی ہوئے تو امپائرز نے انکار کر دیا

  • ضیا الحق کا دور سب سے خوفناک تھا،جسٹس اطہرمن اللہ

    ضیا الحق کا دور سب سے خوفناک تھا،جسٹس اطہرمن اللہ

    لاہور: سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ ضیا الحق کا دور سب سے خوفناک تھا-

    باغی ٹی وی : لاہور میں پہلی بین الاقوامی جانوروں کے حقوق اور ماحولیات کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اہم فیصلوں پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ عدالت نے جبری گمشدگیوں، قیدیوں کے حقوق اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے کئی اہم ججمنٹس دی ہیں۔

    انہوں نے خاص طور پر جبری گمشدگی کے کیسز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کیسز میں عدالت نے متاثرین کے درد کو سمجھتے ہوئے فیصلے کیے، بطور جج میں اس درد کو محسوس کر سکتا ہوں جو کسی کا عزیز جبری گمشدہ ہونے پر اہل خانہ پر گزرتا ہے۔

    خیبرپختونخوا میں31 جنوری تک سی این جی اسٹیشنز بند کرنے کا فیصلہ

    جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کے حوالے سے دی گئی ججمنٹ پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ جانوروں کے حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا انسانی حقوق کاہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر زندگی قیمتی ہے، چاہے وہ انسان کی ہو، جانور کی یا پودوں کی۔

    انہوں نے پاکستان میں طاقت کے زور پر اقتدار کے حصول اور جنرل ضیاء الحق کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کیاجاتا رہا، یہ دور سب سے خوفناک تھا، جس میں ٹارچر سیلز بنائے گئے اور لوگوں کو مہینوں عقوبت خانوں میں رکھا گیا-

    امریکی معروف ٹک ٹاکر سر پر گولی لگنے سے جاں بحق

    انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی برطرفی اور قتل کا بھی ذکر کیا،کہا کہ منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عہدے سے ہٹا کر قتل کیا گیا۔

    کانفرنس کے دوران انہوں نے جانوروں کے حقوق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے،انہوں نے اس موقع پر پاکستان کی پہلی بین الاقوامی جانوروں اور ماحولیات کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی۔

    حماس یرغمالیوں کےنام جاری نہیں کر دیتی،غزہ میں جنگ بندی نہ کریں،اسرائیلی وزیراعظم کا فوج کو حکم

    جسٹس اطہر من اللہ نے بنی گالہ کی خوبصورتی کو داغدار کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ٹاؤن پلانر نے اسے جانوروں کے قیام کی بہترین جگہ قرار دیا تھا، مگر اشرافیہ نے وہاں رہائش گاہیں قائم کرکے قدرتی خوبصورتی کو نقصان پہنچایا۔

  • غزہ میں جنگ بندی   معاہدہ :قابض فوج رفح سٹی سے نکلنا شروع

    غزہ میں جنگ بندی معاہدہ :قابض فوج رفح سٹی سے نکلنا شروع

    غزہ:پاکستانی وقت کے مطابق آج صبح 11 بجے غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں رفح سٹی سے نکلنا شروع کردیا ہے، فوجیں مصر سرحد کے ساتھ فلاڈیلفی راہداری کے ساتھ موجود رہیں گی فلسطینی بچے کچھے سامان کے ساتھ تباہ حال گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں، جنگ بندی شرو ع ہونے سے پہلے اسرائیلی حملوں میں 33 بچوں سمیت مزید 122 فلسطینی شہید ہوگئےاسرائیل نے وحشیانہ بمباری سے غزہ کی بستیاں ملیا میٹ کردیں، گھر، اسکول،کالج اور اسپتال کھنڈر بن چکے ہیں۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    غزہ جنگ بندی پراقوام متحدہ کی ایجنسی برائےفلسطینی گزین انروانے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ آئندہ چندگھنٹوں میں جنگ بندی پرعمل درآمدکی توقع ہے، وقت قریب آنےکے ساتھ امید بڑھ رہی ہے، امید ہے بالآخربندوقیں خاموش ہوں گی اور یرغمالی اپنے پیار وں سے ملیں گے، امید ہے ضرورت مندوں تک امداد اور تجارتی اشیا پہنچ پائیں گی، سب کچھ فریقین اور ان پر اثرانداز ہونے والی قو توں کی نیک نیتی پر منحصر ہوگا۔

    قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی،ڈاکٹر خلیل الحیہ

    مصری میڈیا کے مطابق امدادی سامان سے بھرے سیکڑوں ٹرک رفع بارڈر پرپہلے ہی موجود ہیں، معاہدے کے تحت جنگ بندی کے دوران روزانہ 600 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو سکیں گے۔

  • غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    دوحہ: قطری وزیر اعظم نے غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کااطلاق آج 19 جنوری سے ہوگا-

    باغی ٹی وی : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،مرحلہ وار سویلین قیدیوں کا تبادلہ اور جنگ کے خاتمے پر مذاکرات ہوں گے دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فورس کے قیدی حماس رہا کرے گی اور غزہ کے عوامی مقامات سے اسرائیلی فوج کا انخلا ہوگاتیسرے مرحلے میں اسرائیلی فورسز کا غزہ سے مکمل انخلا اور غزہ کی تعمیر نو پر کام کیا جائے گا۔

    قطری وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ کروانے کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں، جنگ بندی کااطلاق19 جنوری سے ہوگا، حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مراحل پر عمل درآمد کے حوالے سے کام جاری ہے۔

    شدید دھند ، موٹرویز کئی مقامات سے ٹریفک کیلئے بند

    قطری وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے جنگ بندی جنگ کے آغاز تک غزہ میں قیام امن پر زور دیا ہے کہا کہ معاہدہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے گا، یہ معاہدہ غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافے کا بھی باعث بنے گاہم غزہ میں اپنے بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔توقع ہے کہ معاہدہ اتوار سے نافذ العمل ہو جائے گا،وقت کا اعلان بعد میں ہوگا۔

    انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہوگی۔ معاہدے کے پہلے مرحلے میں بے گھر افراد کی گھروں کو واپسی شامل ہےپہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی سے زخمیوں کو علاج کے لیے نکالنا بھی شامل ہے۔ ہم تمام فریقین پر اپنے وعدوں کو پورا کرنے پر زور دیتے ہیں۔

    پاک بحریہ سے کمبائنڈ ٹاسک فورس کی کمان رائل نیوزی لینڈ نیوی کو منتقل

    دوسری جانب حماس رہنما سامی ابو زہری نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کو اہم کامیابی قرار دیا ہےانہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ اسرائیلی فوج اپنے کسی ہدف کو حاصل نہیں کرسکی۔

    حماس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ فلسطینی عوام کی عظمت اور غزہ میں مزاحمت کے بے مثال جذبے کا غماز ہے جو پچھلے 15 ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔

    یو اے ای نے آن لائن ویزا سروس متعارف کروادی

    حماس نے قرار دیا کہ یہ معاہدہ فلسطینی عوام، ان کی مزاحمت، امت مسلمہ اور عالمی سطح پر آزادی پسندوں کی ایک مشترکہ کامیابی ہے اور یہ ہماری جدوجہد کے سفر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے غزہ کے صابر اور شجاعت سے بھرپور عوام کی حمایت اور دفاع ہمارا فرض ہے، اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کو ختم کرنا اولین ترجیح ہے۔

    حماس نے غزہ کے مظلوموں کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرنے پر دنیا بھر کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اب سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے غزہ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، ہمارے حق میں آواز بلند کی اور عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

    مہنگےپیکج لینے والے عازمین کا حج سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کابینہ امن معاہدے کی منظوری آج دے گی۔

    غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی ممکنہ تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق غزہ جنگ بندی معاہدہ 3 مراحلے پر مشتمل ہوگا، معاہدے کا پہلا مرحلہ 6 ہفتوں پر مشتمل ہوگاپہلے مرحلے کے دوران اسرائیلی فوج غزہ کی سرحد کے اندر 700 میٹر تک خود کو محدود کرلے گی جنگ بندی کے اس مرحلے میں اسرائیل تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں عمر قید کے 250 قیدی بھی شامل ہوں گےاس مرحلے میں غزہ میں موجود 33 اسرائیلی مغویوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔

    سیالکوٹ: تھانہ اگوکی پولیس کی کارروائی، منشیات فروش گرفتار

    پہلے مرحلے میں اسرائیل زخمیوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر سفر کی اجازت دے گااس مرحلے کے آغاز کے 7 روز بعد اسرائیل مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کھول دے گااس دوران اسرائیلی فوج مصر کے ساتھ سرحد جسے فلاڈیلفی راہداری کہا جاتا ہے، سے پیچھے ہٹ جائے گی اور آئندہ مراحل میں اس علاقے سے واپس چلی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں 15 ماہ سے جارحیت جاری ہے اور حملوں میں 46 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شامل ہے،اس دوران غزہ کی مکمل آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوئی اور ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے۔

    پی ٹی آئی کا کور کمیٹی کا اجلاس آج رات 10 بجے طلب

  • سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خبریں بڑی آ رہی ہیں، کچھ یہاں ہیں کچھ امریکہ کی ہے،کیلیفورنیا آگ بارے بھی عجیب چیز پتہ چلی ہے،کسی اگلے وی لاگ میں بتاؤں گا کہ آگ کے حوالے سے کیا کیا ہو رہا

    مبشر لقمان آفییشل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سیف علی خان کیس میں چیزیں سامنے نہیں آ رہیں، کرینہ کپور کے خاوند سیف پر کسی نے گھر آ کر چھری کے وار کر کے زخمی کر دیا اور وہ ممبئی کے ہسپتال میں ہیں، ڈاکٹر نے کہا کہ سیف علی خان کی کمر میں اگر دو ملی میٹر اور آگے چاقو لگ جاتا تو وہ مفلوج ہو جاتے، اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے،لیکن یہ اوپن شٹ کیس نہیں ہے، انجری کا بھی اور ڈکیتی کا بھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے جب پہلے ویڈیو کی تو مجھے انڈیا سے جاننے والوں کے بڑے میسج آئے کہ یہ کیا کہا، ملزم تو پکڑا گیا، میں نے کہا اگر اقبال جرم کر لے تو دوبارہ کنفرم کر دینا، اب تین دن بعد پتہ چل رہا کہ جو پکڑا تھا وہ ملزم نہیں تھا، انڈین میڈیا ایک بندے کی تصویر دکھا رہا اس نے مفلر لپیٹا ہوا منہ پر،ننگے پیر سیڑھیاں چڑھ رہا تا کہ آواز نہ آئے اور وہ جب واپس اتر رہا ہے تو اس کا مفلر اتر رہا ہے، جوتے پہنے ہوئے بیگ بھی پہنا ہوا، سمجھ میں یہ آتا ہے کہ وہ جلدی میں منہ پر مفلر لگانا بھول گیا، جوتے اسکے بیگ میں ہوں گے وہ اس نے بھاگتے وقت پہن لئے، ممبئی پولیس کی تعریف کرتے رہتے ہیں ، کہ کیس حل کر لے گی، ایک آدمی جس کی تصویر بھی نظر آ گئی اس کا ڈیٹا بیس میں نام پتہ سامنے آنا چاہئے،اور وہ اسکو ڈھونڈ لیں گے لیکن ابھی تک پولیس کا یہ حال ہے وہ ملزم کا نام نہیں معلوم کر سکی،جو تصویر سامنے آ رہی وہ بھی کنفرم نہیں کہ آیا وہی ہے یا کوئی اور، اب یہ پتہ چلا ہے کہ بلڈنگ کی سیکورٹی بہت کمزور،ناکارہ ہے، گارڈ روم تک انٹرکام تک نہیں ہے، کہ اوپر سے پوچھ لیں کہ کوئی ملنے آیا ہے،وہ بھی نہیں ہے،باقی سیکورٹی کا اندازہ لگا لیں کیا ہو گا، وہ آدمی بلڈنگ کی پچھلی طرف سے آیا تو وہ تاریں کاٹ کر اوپر آیا،اندر گیا، باتھ روم میں چھپا ہوا تھا بچے کے باتھ روم میں ، اسکے بعد نرس نے اس کو دیکھا اور سو گئی، نرس پھر اٹھی تو اسکو سایہ نظر آیا وہ پوچھتی کہ کون ہو، تو وہ کہتا کہ چپ رہو، نرس شور مچاتی ہے تو وہ اس پر حملہ کرتا ہے یہ لمبی کہانی ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک چینل پر ایف آئی آر دکھا رہے تھے، مجھے ہندی نہیں پڑنی آتی لیکن میں نے سنا کہ جس وقت یہ ہوا اس وقت کرینہ اور سیف اس وقت گھر کے اندر موجود تھے، تیمور بھی گھر کے اندر موجود تھا اور دیگر نوکر بھی،باقی میڈیا کہتا ہے کہ کرینہ بہنوں، دوستوں کے ساتھ تھی اور پارٹی کر رہی تھی،تھوڑی دیر کے بعد انکی فوٹیج آتی ہے کرینہ کی، وہ لگتا نہیں ہے کہ وہ پارٹی سے آ رہی ہیں، ایسے لگتا ہے کہ سونے کے کپڑے جو انسان نے پہنے ہوتے وہ پہنے ہوئے، گھر میں‌5 گاڑیاں کھڑی تھیں لیکن سیف کو رکشے پر منتقل کیا گیا، الیکٹرک کار ڈرائیو کرنے کا بیٹے کو پتہ نہیں تھا،22 سال کا لڑکا ہو کر گھر کی گاڑی نہیں چلا سکتا، ایسا کیوں ہوا، سیف علی کے لئے رکشے کو روکا گیا اس کا بھی انٹرویو بھی آ گیا،سیف علی کا چھ سالہ بیٹا تیمور اپنے باپ کو ہسپتال لےکر گیا، کمال نہیں ہے،کہ ملزم گیا تو سب سو رہے تھے، ہاتھا پائی ہوئی،گالم گلوچ ہوا، چھریوں سے نرس کو زخمی کیا سب سو رہے تھے، دوسری میڈ پر حملہ ہوا، پھر سیف علی سے کروڑ روپیہ ڈیمانڈ کیا، سارے سو رہے تھے، پھر اس نے سیف پر حملہ کیا اور سات گھاؤ لگا دیئے،چھری مڑ کر ٹوٹ بھی گئی اور یہ سارے سو رہے تھے، سیف کو خون میں لت پت، چھ سالہ بچے نیچے لے کر آتا ہے، گھر میں 5 گاڑیاں، ڈرائیور کوئی نہیں، گھر میں چوکیدار ہیں، نوکرانیاں ہیں لیکن کسی نے سیف کو سہارا دے کر آٹو میں نہیں بٹھایا، رکشے والے نے کہا کہ یہ تھا اور اس کے ساتھ بچہ تھا، جب ہسپتال پہنچا تو اس وقت اس نے کہا کہ میں سیف علی خان ہوں،ڈاکٹر نے بھی یہی رپورٹ کیا کہ چھوٹا بیٹا تیمور باپ کو لے کر آیا،یہ کون لوگ ہیں کہ کوئی گھر والا نہیں آ رہا، بڑا بیٹا، نوکر،ملازمائیں نہیں آ رہیں،گارڈز نہیں آ رہے،کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں آیا،اگلے دن کی فوٹیج آتی ہے کہ کرینہ ہسپتال گئیں اور وہ پوری طرح تیار ہو کر گئیں جیسے کوئی شو ہو،پھر کچھ اور لوگ آتے اور وہ چند چند منٹ رکتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، بیوی کو وہیں کھڑے ہونا چاہئے تھا بہن کو بھی لیکن کوئی نہ رکا.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میڈ کے نام سے ایف آئی آر ہے،اور اب اسی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، پولیس نے دس اور سی بی آئی نے بھی دس ٹیمیں تشکیل دی ہیں،یعنی 20 تحقیقاتی ٹیمیں ملزم کو ڈھونڈ رہی لیکن وہ ان کو نہیں مل رہا، وہ کہ رہے کہ اس نے کپڑے اور رکھے ہوئے تھے اور بدلی کر لئے،…رکیں…سمجھ آ رہی آپ کو کچھ…سو کروڑ کا سیف نے یہ اپارٹمنٹ لیا، سو کروڑ کا مطلب پاکستانی تین سو کروڑ ہو گیا……نئی بلڈنگ ہے، سیکورٹی نہیں ہے، گارڈز کو ہوش نہیں ہے،نئی بلڈنگ میں کوئی آمدورفت کا چیک نہیں ہے، نئی بلڈنگ میں یہ ہی انکو پتہ نہیں چل رہا کہ اندر کیسے گیا اور باہر کیسے آیا،ملزم نے اگر کچھ لینا ہوتا تو بچے تک پہنچ گیا ہوتا تو اسکو یرغمال بنا لیتا لیکن اس نے نہیں کیا،وہ نکلتا ہے تو دروازے سے، دروازہ بھی کھل گیا، کیا اندر کا لاک ہے صرف؟ سیف کا گھر ہے دو تالے نہیں ہیں جس پر اس کے فنگر پرنٹ آئے ہوں، کوئی فرانزک ثبوت، کوئی تو چیز اس نے وہاں چھوڑی ہو گی، اتنا تو پکا نہیں ہو سکتا کہ کچھ نہ چھوڑے،

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادریونیورسٹی نہیں بلکہ کالج ہے،پی ٹی آئی عوام کو بیوقوف بناتی رہی اور حکومتی اراکین نے بھی گوارہ نہیں کیا کہ وہ چیک کریں یونیورسٹی ہے بھی سہی یا نہیں، یہ ڈگری کالج ہے، اس جگہ پرزمین کی خریدوفروخت 3 ہزار روپے کنال میں ہوئی، سوہاوہ میں ریکارڈ موجود ہے،کئی افراد کی زمین تھی ،کھنڈرات، یا غیر زرعی زمین کی وجہ سے تین ہزار کنال فروخت ہوئی،بعد ازاں دس لاکھ کنال کے حساب سے حکومت نے کرپشن کی، پنجاب میں وزیر اطلاعات ہیں، وفاق میں وزیر اطلاعات ہیں، وہ ویسے تو شور کرتے رہتے ہیں لیکن کسی نے اس چیز کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا کہ پی ٹی آئی القادر یونیورسٹی کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتی رہی،القادر نامی کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ، جہلم میں قائم جی سی یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالج کو کرپشن کے دو سو ملین پاؤنڈ ہضم کرنے کے لیے القادر یونیورسٹی کا نام دیا گیا ۔

    عدالت نے گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا جس کے بعد سوہاوا شہر کے قریب القادر یونیورسٹی کے باہر جمعہ کے روز پولیس کی نفری تعینات کی گئی۔ خبر رساں ادارے ڈان سے بات کرتے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی تعیناتی صرف ادارے کی حفاظت کے لیے کی گئی تھی، جمعہ کی دوپہر کو یونیورسٹی کے کیمپس کا دورہ کرنے والے کئی میڈیا نمائندے موجود تھے، اور اس دوران تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نظر آئیں۔ کیمپس میں کچھ طلباء کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے کیونکہ یہاں کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے، اور یہ کیمپس 458 کنال زمین پر پھیلا ہوا ہے جو زیادہ تر پتھریلے ٹیلوں اور پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔

    یونیورسٹی کے دو اہم بلاک ہیں جن میں ایک تعلیمی اور دوسرا رہائشی حصہ شامل ہے، اور ان کے سامنے ایک نامکمل آڈیٹوریم واقع ہے۔ کلاس رومز، لائبریری، آئی ٹی لیب اور دفاتر جدید معیار کے ہیں اور ان میں بہترین ساز و سامان اور فرنیچر موجود ہے۔ یونیورسٹی میں تقریباً 200 طلباء زیر تعلیم ہیں، جن میں 130 لڑکے اور 70 لڑکیاں بی ایس اسلامی اسٹڈیز اور بی ایس مینجمنٹ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک فیکلٹی ممبر نے ڈان کو بتایا کہ ہوسٹل میں رہنے والے طلباء بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فیکلٹی ممبر کے مطابق، بیشتر طلباء کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ 60 کے قریب طلباء کے میس کے اخراجات فلاحی افراد کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ
    تاہم میڈیا کی کچھ رپورٹس کے برخلاف، یہ کیمپس ایک خودمختار یونیورسٹی نہیں ہے۔جہلم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، ڈاکٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے۔جب ان سے ادارے کے کنٹرول پر قبضہ کرنے کے حوالے سے فیصلے میں کسی منصوبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ڈاکٹر حبیب الرحمان نے کہا کہ "ہمیں ابھی تک اعلیٰ حکام سے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔ حکومت جو بھی ہدایت دے گی، ہم اس کی پیروی کریں گے”۔

    القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔خواجہ آصف
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ہے، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔ یہ بنیادی طور پر یونیورسٹی نہیں ہے، نہ کبھی عمران خان نے اس کی رجسٹریشن کے لیے اپلائی کیا۔ یہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے رجسٹرڈ صرف ایک کالج ہے، جس میں بنیادی طور پر صرف 2 سیبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں،اس یونیورسٹی میں 200 طلبا زیرتعلیم ہیں۔ القادر ٹرسٹ کے پاس 400 ایکڑ زمین ہے، یہ یونیورسٹی نہیں ہے، اس کو یونیورسٹی کا نام ویسے دیا گیا ہے، روحانیات کی تعلیم کے لیے یہ یونیورسٹی بنائی گئی لیکن وہاں پر روحانیات کی کوئی تعلیم نہیں دی جاتی، یہ ایک قسم کا کمپیوٹر کالج ہے، جو عام شہروں میں بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس میں جو پیسہ استعمال ہوا وہ بھی اس کیس میں سامنے آگیا۔

    پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد
    القادر یونیورسٹی میں چار سال کے دوران صرف 200؍ اسٹوڈنٹس نے داخلہ لیا، القادر یونیورسٹی کو تاحال پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیا۔ یہ ادارہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سالانہ الحاق کے سرٹیفکیٹ پر انحصار کرتا ہے، جس سے یونیورسٹی کی سرکاری ایکریڈیٹیشن کے حصول کیلئے جدوجہد واضح ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد نے اعتراف کیا ہے کہ پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، چونکہ پنجاب ایچ ای سی کی جانب سے ڈگری عطا کرنے کا اسٹیٹس نہیں دیا گیا، لہٰذا یہ یونیورسٹی اب تک ایک کالج کی حیثیت میں کام کر رہی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں‌فخر درانی کی شائع ہونے والے رپورٹ کے مطابق داخلوں کے حوالے سے ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے پہلے سال میں 41؍ جبکہ دوسرے سال میں 60؍ اسٹوڈنٹس کو داخلہ دیا گیا، 2021ء سے اسٹوڈنٹس کی اب تک کی تعداد 200؍ ہے۔ یونیورسٹی کو ایکریڈیٹیشن کے حصول میں ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا ہے۔ کالج میں ریگولر اساتذہ کی تعداد 12؍ ہے جن میں سے سات پی ایچ ڈی ہولڈرز جبکہ پانچ ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں۔ وزٹنگ فیکلٹی کے ساتھ ملا کر تدریسی عملے کی تعداد 80؍ ہے۔ ایکریڈیٹیشن اور محدود داخلوں کے چیلنجز کے باوجود تعلیمی معیار کو بہتر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کل طلبہ کے 95؍ فیصد حصے کو اسکالرشپ دیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ معیاری تعلیم تک مستحق طلباء کی رسائی ہو۔ اسٹوڈنٹس کو مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے جس سے 50؍ اسٹوڈنٹس مستفید ہو رہے ہیں، مقامی عطیہ دہندگان کی طرف سے ملنے والے فنڈز سے ماہانہ 5؍ لاکھ روپے اس مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ 95؍ فیصد اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں رہتے ہیں جن کا تعلق تمام صوبوں سے ہے۔ 2021 میں دیے گئے داخلوں کے پہلے بیچ میں میں 23 طلباء تھے جن میں 16 خواتین اور 7 مرد ہیں۔ یہ اسٹوڈنٹس 2025ء میں گریجویٹ ہو جائیں گے۔ 2024 میں 100؍ طلباء کو داخلہ دیا گیا جن میں سے 70 نے مینجمنٹ سائنسز کا انتخاب کیا اور 30 ​​نے بی ایس اسلامک اسٹڈیز کا انتخاب کیا۔ زیادہ تر طلباء اسلامی علوم پر مینجمنٹ کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ کالج کے سالانہ اخراجات تقریباً 60؍ سے 70؍ لاکھ روپے ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

  • عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    امریکہ میں قید پاکستانی نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اسکائی نیوز کو بتایا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ "نئے شواہد” کی بنیاد پر آزاد ہو جائیں گی جو ان کی بے گناہی کا اشارہ دے سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، 52 سالہ، جو کبھی دنیا کی سب سے زیادہ مطلوب خواتین میں شامل تھیں، پر الزام تھا کہ ان کا القاعدہ کی قیادت سے تعلق تھا اور 2010 میں انہیں افغانستان میں ایف بی آئی کے ایجنٹ کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کے ناقدین "لیڈی القاعدہ” کے لقب سے یاد کرتے ہیں، تاہم انہوں نے ہمیشہ اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اب حالات بدلنے کی امید ہے۔ "مجھے امید ہے کہ مجھے بھلا نہیں دیا جائے گا اور میں انشاء اللہ جلد ہی رہائی پاوں گی۔” انہوں نے مزید کہا، "میں… ظلم کا شکار ہوں، صاف اور سادہ بات ہے۔ ہر دن اذیت ہے… یہ آسان نہیں ہے۔”

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل، کلف اسٹافورڈ اسمتھ، نے امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے کیس پر صدارتی معافی جاری کریں اور انہوں نے بائیڈن کو 76,500 الفاظ پر مشتمل ایک رپورٹ بھیجی ہے۔اس رپورٹ کو اسکائی نیوز نے دیکھا ہے، لیکن اس میں دی گئی تمام معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔بائیڈن کے پاس ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اس درخواست پر غور کرنے کا وقت ہے۔ اب تک بائیڈن نے 39 افراد کو معافی دی ہے اور 3,989 سزاؤں میں کمی کی ہے۔
    aafia

    کلف اسٹافورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کی غلطیوں کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ابتدائی طور پر مشتبہ سمجھا گیا تھا، اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے مقدمے کے دوران وہ گواہیاں دستیاب نہیں تھیں جو ان کی بے گناہی کو ثابت کر سکتی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2003 میں پاکستان آئی تھیں، تو انہیں اغوا کر کے سی آئی اے کے حوالے کیا گیا، جس نے انہیں افغانستان کے بگرام ایئربیس پر منتقل کر دیا۔

    سی آئی اے نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر افغانستان میں القاعدہ کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا اور وہ واحد خاتون تھیں جنہیں 2000 کی دہائی کے اوائل میں "ایکسٹراورڈنری رینڈیشن” کے پروگرام کے تحت تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ایکسٹراورڈنری رینڈیشن ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس میں کسی گرفتار شخص کو خفیہ حراست میں منتقل کیا جاتا ہے یا کسی تیسرے ملک بھیجا جاتا ہے تاکہ تحقیقات کی جا سکے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کے دوران، 2010 میں جج نے کہا تھا: "ریکارڈ میں کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں ہے کہ امریکی حکام یا ایجنسیاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کی 2008 میں گرفتاری سے پہلے حراست میں لے کر آئی تھیں،” اور یہ کہا تھا کہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ کلف اسٹافورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے شروع میں "غلط مفہوم” نکالا تھا کیونکہ ایجنسیاں یہ سمجھتی تھیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک نیوکلیئر فزکس کی ماہر ہیں جو تابکاری بم پر کام کر رہی ہیں، حالانکہ ان کی پی ایچ ڈی تعلیم میں تھی۔

    سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار جان کریاکو کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی میں "دہشت گردی کے رجحانات” تھے۔ جان کریاکو نے سی آئی اے میں 2004 تک انسداد دہشت گردی کے محکمے میں کام کیا اور کہا کہ سی آئی اے ڈاکٹر صدیقی کو "قابل اور خطرناک” سمجھتی تھی۔کریاکو نے دعویٰ کیا کہ جب وہ سی آئی اے کے ساتھ کام کر رہے تھے، تب انہوں نے ڈاکٹر صدیقی پر تشدد کرنے کی تردید کی۔ "اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2003 میں گرفتار کر کے کسی خفیہ مقام پر بھیجا گیا ہوتا، تو مجھے اس کا علم ہوتا۔”

    ڈاکٹر صدیقی کی بہن فوزیہ نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں جانتی ہوں کہ وہ بے گناہ ہیں۔ اگر میں جانتی کہ ان میں کوئی گناہ ہے تو میں اپنی ساری زندگی اس کے لیے وقف نہ کرتی۔ وہ جہاں ہیں وہ وہاں نہیں ہونی چاہیے۔”

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    ٴْڈاکٹرعافیہ کی رہائی، 10 لاکھ سے زائد افراد نےدستخط کر دیئے

    عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ