Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے ہیں

    دونوں فریقین بجائے اس کے کہ امن کمیٹیوں کی بات مانتے اور لڑائی روکتے، وہ سیکورٹی فورسز کو الزام دینے میں مصروف ہیں تاکہ اصل مسئلے کے حل سے توجہ ہٹ جائے-مگر یہ بات طے ہے کہ اگر امن کمیٹیوں کام نہ کریں اور اگر مقامی لوگ امن معائدے پے عمل درآمد نہ کروائیں تو پھر ریاست سے گلہ نہیں بنتا-

    آخر شر پسند عناصر گیم کیا کھیل رہے ہیں ؟؟
    16 جنوری 2025 کو لوئر کرم کے علاقے بگن کے قریب سامان رسد لے کر جانے والے قافلے پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا- اس سے پہلے 4 جنوری 2025 کو اسی علاقے میں ڈی سی کُرم کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا-ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں اب تک آٹھ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جو کہ جلنے والی گاڑیوں کے ساتھ تھے اور جن کو شر پسندوں نے اغوا کر کے جان بحق کر دیا -اس کے علاوہ دو سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

    لوئر کرم میں پچھلے دو ہفتے میں امن معائدے کی دو بار خلاف فرضی کی جا چکی ہے –
    اگر دیکھا جائے تو شر پسند عناصر شائد اسلحہ نہ جمع کروانے کا کوئی بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں-شر پسند عناصر شائد قومی بنکر بھی نہیں تباہ ہونے دینا چاہتے-شر پسند عناصر درحقیقت اس افرتفری اور ان خراب حالات سے حقیقی طور پے فائدہ اٹھاتے ہیں-تو پھر سوچنے کی بات ہے کہ اگر ریاست نے آہنی ہاتھ کے ساتھ کاروائی شروع کر دی تو معصوم لوگوں کی زندگی بھی مشکلات کا شکار ہو گی -اگر اس علاقے کی امن کمیٹیاں اپنے وعدے کا پاس نہ رکھتے ہوئے مقامی شر پسندوں کو فائرنگ سے باز نہیں رکھ سکی تو پھر امن معائدے کی شرائط پوری کرتے ہوئے ریاست اس علاقے کے لوگوں کے compensation کے پیسے روکنے اور باقی کارروائیوں کا اختیار رکھتی ہے-

    سوال یہ ہے کیا امن معاہدے کی خلاف ورزیوں پر اس مخصوص علاقے کے شر پسندوں کے خلاف ریاست کوئی ایکشن لے گی؟
    یاد رہے، یکم جنوری کو ہونے والے امن معاہدے میں امن کمیٹیوں نے علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کی گارنٹی دے رکھی ہے۔واضح رہے کہ امن معاہدے کے مطابق، معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق پر بھاری جرمانے عائد کیے جانے کے ساتھ ساتھ اس کے علاقے میں کارروائی کی تجاویز دی گئی تھیں۔
    اب چونکہ کچھ لوگ اس معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے ہیں ، لہٰذا ریاست سے اپیل کی جاتی ہے کہ امن کے دشمنوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ایسے واقعات کا سدِ باب کیا جا سکے۔اس سے قبل امن دشمن عناصر کی ان حرکات کی وجہ سے پاڑا چنار کی اہم شاہراہ کئی ہفتوں سے بند ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ریاست سے گزارش ہے کہ ان امن دشمنوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ سڑکیں کھولی جا سکیں اور عوام کی زندگی کو سہل بنایا جائے.

    میرپور ماتھیلو:صحافت کی آڑ میں منشیات کا کاروبار کرنے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    "میں سیف علی خان ہوں”، جب آٹو ڈرائیور کو پتا چلا کہ اس کا زخمی مسافرسیف تھا

  • اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی  غزہ سیز فائر معاہدے کی توثیق

    اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی غزہ سیز فائر معاہدے کی توثیق

    اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے حماس کے ساتھ طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی توثیق کر دی۔

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کابینہ نے سیاسی، سیکیورٹی اور انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اس معاہدے کی توثیق کی۔بیان کے مطابق سیکیورٹی کابینہ نے حکومت کو اسے منظور کرنے کی سفارش کی ہے، اس معاہدے کو اب مکمل کابینہ کے سامنے ووٹ کے لیے پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ 15 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

    قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ مشترکہ میڈیا کوششوں کی کامیابی اور اس حقیقت کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہے کہ غزہ میں فریق قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور فریقین نے مستقل جنگ بندی کی امید پر معاہدے کیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی معاہدہ غزہ تک امداد کی فراہمی کی راہیں کھولے گا۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا تھا کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ 19 جنوری (اتوار) سے نافذ العمل ہوگا۔ پہلا مرحلہ 42 دن تک جاری رہے گا، اس میں جنگ بندی اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کی سرحد پر تعینات رہیں گی، جبکہ قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ بے گھر افراد کو ان کی رہائش گاہوں پر واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی کے تمام حصوں میں امدادی سامان کی فراہمی میں اضافہ کے علاوہ ہسپتالوں، صحت کے مراکز اور بیکریوں کی بحالی بھی شامل ہے۔
    بے گھر افراد کے لیے ایندھن، شہری دفاع کے آلات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا تھا کہ حماس غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جن میں شہری خواتین، بچے، بوڑھے، بیمار اور زخمیوں شامل ہیں جبکہ اس کے بدلے اسرائیلی حراست میں قیدیوں کی غیر متعین تعداد کو چھوڑا جائے گا۔

    کراچی سے فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب ملزم گرفتار

    سعود شکیل نے محمد یوسف کا 18 سالہ ریکارڈ برابر کردیا

    سکیورٹی فورسزکا تیراہ میں آپریشن، 5 خوارج ہلاک

    14سالہ لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانیوالا ملزم گرفتار

  • پاک بحریہ کے سربراہ ، سیکرٹری دفاع سے بنگلہ دیشی جنرل کی ملاقاتیں

    پاک بحریہ کے سربراہ ، سیکرٹری دفاع سے بنگلہ دیشی جنرل کی ملاقاتیں

    سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف سے بنگلہ دیش کی مسلح افواج ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف افسر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن نے ملاقات کی ہے .

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،بحری افواج کے درمیان تربیت، دو طرفہ دوروں اور بحری مشقوں کے انعقاد پر زور دیا گیا ،لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن نے میری ٹائم سیکیورٹی کے فروغ کے لیے پاک بحریہ کی کوششوں کو سراہا ،ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین بحری تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

    دوسری طرف بنگلہ دیش 🇧🇩 کی مسلح افواج کے ڈویژن کے پرنسپل سٹاف آفیسر (PSO) لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن نے وفد کے ہمراہ سیکرٹری دفاع، لیفٹیننٹ جنرل محمد علی (ریٹائرڈ) سے وزارت دفاع، راولپنڈی میں ملاقات کی۔سیکرٹری دفاع نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا اور کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ معزز مہمان نے بنگلہ دیش کے لوگوں کی طرف سے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے متحرک دنوں کے لئے بنگلہ دیش کی خواہش کا اظہار کیا۔

    بات چیت دوطرفہ دفاعی تعاون کو وسعت دینے پر مرکوز تھی۔ فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور باہمی فائدہ مند شعبوں میں تعاون کو مضبوط کرنے کا عزم کیا۔

    چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے بھارتی اسکواڈ کا اعلان

    بہاولپور:سرائیکی چوک فرنیچر مارکیٹ میں آگ بھڑک اُٹھی

    کراچی میں سرد ہوائیں چلنے سے سردی کی شدت میں اضافہ

    انسانی اسمگلروں نے شہری کو 1600 ڈالر میں فروخت کر دیا

    70سالہ خاتون سے گینگ ریپ کرنےوالادرندہ صفت ملزم گرفتار

  • تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے القادر ٹرسٹ کے فیصلے کے حوالے سے نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے غلط خبروں پر ردعمل ظاہر کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اور اینکر پرسن منصور علی خان ایئرپورٹ پر موجود تھے جب انہیں پہلی بار "القادر ٹرسٹ کیس” کے حوالے سے خبر ملی ،بریکنگ نیوز دی گئی کہ عمران خان کو اس کیس میں رہا کر دیا گیا ہے۔ ہم دونوں پرواز میں سوار ہوئے اور جب اترے تو ہم نے یہ سنا کہ تین چینلز نے سب سے پہلے "عمران خان کی رہائی” کی خبر بریک کی تھی۔ تاہم، بعد میں یہ چینلز اپنی خبریں تبدیل کر گئے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212338932084749

    مبشر لقمان نے اس واقعے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت تعجب کی بات ہے کہ تین چینلز اتنی بڑی خبر کیسے بغیر کسی مستند ذریعہ کے نشر کر سکتے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے کوئی گہری سازش یا وجہ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ تین چینلز یکساں طور پر ایسی خبر نشر کریں، جب تک کہ انہیں یہ کہانی ایک ہی ذریعے سے نہ دی گئی ہو۔ ان چینلز کی اس غیر ذمہ دارانہ صحافتی عمل کے پیچھے ایک اور بڑا سوال ہے کہ آیا ان کے پاس اس خبر کی تصدیق کرنے کا کوئی مناسب ذریعہ تھا یا نہیں؟ جب محسن نقوی کے چینل پر ایسی خبر نشر کی جاتی ہے، تو یہ بات زیادہ اہمیت اختیار کرتی ہے کیونکہ محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں اور ان کے چینل کو دیگر چینلز کی نسبت زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212983726362969

    مبشر لقمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ان تمام چینلز پر یہ الزام عائد کیا جائے گا کہ وہ اس خبر کے حوالے سے عدالت کے رپورٹر کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، لیکن اس نوعیت کے جھوٹے یا مسخ شدہ خبریں دینے سے صحافتی معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عدالت نے آج فیصلہ سنا یا ہے اور عمران خان کو 14 برس، بشریٰ بی بی کو سات برس قید کی سزا سنائی ہے، بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا گیا ہے،فیصلہ آنے کے بعد اے آر وائی نے سب سے پہلے عمران خان کی رہائی کی خبر چلا دی، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شمع جونیجوکہتی ہیں کہ پاکستانی الیکٹرونک میڈیا تاریخ کی سب سے بڑی فیک نیوز! آج ARY نے عمران خان کے بری ہونے کی جعلی خبر کیوں چلائی ،تاکہ PTI اسے پروپیگنڈہ کے لئے استعمال کرے اور وہی ہورہا ہے!

    https://x.com/ShamaJunejo/status/1880174060291903779

    دنیا کے سب سے بڑے راکٹ کی آزمائشی پروازایک بار پھر ناکام

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

  • پاکستان کا پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ لانچ کردیا گیا

    پاکستان کا پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ لانچ کردیا گیا

    پاکستان نے خلا میں اپنے پہلے الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ کو کامیابی سے لانچ کر لیا ہے، جو ملک کی سائنسی اور تکنیکی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ سیٹلائٹ چین کے جی چھوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں روانہ کیا گیا۔

    لانچ کے موقع پر پاکستان اور چین کے ماہرین اور سائنسدانوں کی موجودگی نے اس تاریخی لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔ دونوں ممالک کے ماہرین نے اس اہم منصوبے پر تبادلہ خیال کیا اور سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ کو سراہا۔یہ سیٹلائٹ پاکستان کی سائنسی تحقیق اور زمینی نگرانی کے لیے اہمیت رکھتا ہے، اور اس کی مدد سے پاکستان کے دفاعی، زرعی، اور ماحولیاتی شعبوں میں بہتری متوقع ہے۔ اس سیٹلائٹ کی مدد سے پاکستان کو زمین کی تصاویر حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جو قدرتی آفات کی پیشگوئی، وسائل کی نگرانی، اور دیگر اہم سائنسی تحقیق میں معاون ثابت ہوں گی۔

    یہ سیٹلائٹ پاکستان کے خلا کے میدان میں ایک نئی پیشرفت کی علامت ہے اور پاکستان کی عالمی سطح پر سائنسی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرے گا۔پاکستان کا یہ اقدام نہ صرف ملک کی سائنسی کمیونٹی کے لیے ایک کامیابی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی تکنیکی اور سائنسی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

    سپارکو کے ترجمان نے اس سیٹلائیٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ای او 1 سیٹلائیٹ پاکستان کی خلائی تحقیق میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیٹلائیٹ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا اور مختلف شعبوں میں اس کے فوائد حاصل ہوں گے۔ای او 1 سیٹلائیٹ کو خصوصی طور پر ڈیزاسٹر ریسپانس اور زراعت میں مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد قدرتی آفات کے دوران فوری طور پر مدد فراہم کرنا اور زراعت کے شعبے میں بہترین مشورے دینا ہے تاکہ فصلوں کی پیداوار اور وسائل کا بہتر استعمال کیا جا سکے۔اس سیٹلائیٹ کو شہری منصوبہ بندی میں بھی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس سے شہر اور دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی ترقی میں اضافہ ہوگا۔ سپارکو کے مطابق، ای او 1 سیٹلائیٹ خوراک کی حفاظت اور پانی کے انتظام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا اور ملک بھر میں قدرتی وسائل کی نگرانی کے عمل کو مزید بہتر کرے گا۔

    الیکٹرو آپٹیکل سٹیلائیٹ کی لانچ پر وزیراعظم کی مبارکباد
    پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سپارکو کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ پہلے الیکٹرو آپٹیکل (EO-1) سٹیلائیٹ کے کامیاب لانچ پر اظہار خیال کیا ہے۔ یہ سٹیلائیٹ چین کے Jiuquan سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ یہ لمحہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے اور یہ ہماری سائنسی اور ٹیکنالوجی کی کامیابیوں کا ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ "یہ سٹیلائیٹ فصلوں کی پیداوار کی پیشن گوئی سے لے کر شہری ترقی کے منصوبوں تک مختلف شعبوں میں بہت زیادہ معاون ثابت ہوگا۔ اس کی مدد سے ہم نہ صرف اپنے قدرتی وسائل کا بہتر انداز میں تجزیہ کر سکیں گے بلکہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے اہم فیصلے بھی کر پائیں گے۔”انہوں نے سپارکو کی کامیابی کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی میں صلاحیتوں کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ "سپارکو کی سربراہی میں اس خلائی مشن نے ہماری ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے ساتھ قدم ملا کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ "وزیراعظم نے پاکستان کے سائنسدانوں اور انجینئرز کی محنت کو سراہتے ہوئے ان کی لگن اور بہترین ٹیم ورک پر مبارکباد دی اور کہا کہ "ہمیں اپنے سائنسدانوں اور انجینئرز پر فخر ہے جنہوں نے اس مشن کی کامیابی کے لیے اپنی محنت اور عزم کو سامنے رکھا۔”یہ کامیاب لانچ نہ صرف پاکستان کی خلائی تحقیق میں اہم قدم ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کو اجاگر کرتا ہے۔

    الیکٹروآپٹیکل سیٹلائٹ لانچ ملکی خلائی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے،ترجمان پاک فوج
    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مقامی الیکٹروآپٹیکل سیٹلائٹ لانچ ملکی خلائی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے، ای او ون سیٹلائٹ پاکستان کے مختلف شعبوں میں فائدہ مند ہے،سیٹلائٹ سے زراعت میں فصلوں کی نگرانی کی جاسکے گی،سیٹلائٹ سے آبپاشی کی ضروریات کا اندازہ لگا کر پیداوار کی پیشگوئی کی جاسکے گی، سیٹلائٹ غذائی تحفظ کے اقدامات، شہری ترقی کی منصوبہ بندی اور شہری پھیلاؤ کو منظم کرنے میں مدد کرے گا،سیٹلائٹ ماحولیاتی نگرانی اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، زلزلوں، جنگلات کی کٹائی اور زمین کے کٹاؤ سے متعلق بروقت اپ ڈیٹ فراہم کرے گا،سیٹلائٹ معدنیات، تیل و گیس کے شعبوں اور آبی وسائل کی نگرانی میں معاونت کرے گا، سیٹلائٹ قومی خلائی پالیسی کے اہداف کیساتھ خلائی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں میں اضافے کیلیے تیار کیا گیا۔

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

  • پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسثس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہیں،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آج اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ اور رولز میں فیئر ٹرائل کا مکمل پروسیجر فراہم کیا گیا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا کہ جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس آفریدی کے الگ الگ فیصلے ہیں، آپ ملٹری ٹرائل کے کس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں، جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں کسی فیصلے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتامجسٹس عائشہ ملک نے سیکشن 2 ون ڈی ون کو فئیر ٹرائل کے منافی قرار دیا، جسٹس یحیٰی آفریدی نے قانونی سیکشنز پر رائے نہیں دی، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ قانونی سیکشنز پر لارجر بینچز کے فیصلوں کا پابند ہو۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ 21 ویں ترمیم میں فیصلہ کی اکثرت کیا تھی، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اکثریت 9 ججز سے بنی تھی،21 ویں ترمیم کا اکثریتی فیصلہ 8 ججز کا ہے، 21 ویں ترمیم کو اکثریت ججز نے اپنے اپنے انداز سے ترمیم کو برقرار رکھا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں ترمیم کو 8 سے زیادہ ججز نے درست قرار دیا، خواجہ حارث نے کہا کہ خصوصی ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کا لیاقت حسین کیس کا فیصلہ 9 ججز کا ہے، لیاقت حسین کیس میں ایف بی علی کیس کی توثیق ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں اکثریت ججز نے ایف بی علی کیس کو تسلیم کیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں کسی جج نے ایف بی علی کیس پرجوڈیشل نظرثانی کی رائے دی،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی جج نے نہیں کہا کہ ایف بی علی فیصلہ کا جوڈیشل ریویو ہونا چاہیئے، احتجاج اور حملہ میں فرق ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیصلے میں اٹارنی جنرل کے حوالے سے لکھا ہے کہ کیس کو 9 مئی کے تناظر میں دیکھا جائے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ 21 جولائی 2023 کے آرڈر میں صرف 9 مئی کی بات کی گئی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 9 مئی واقعات کے ملزمان کو ملٹری ٹرائل میں سزا پر اپیل کا حق دینے سے حکومت نے انکار کیا۔

    9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی، سوال ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل کہاں پر ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جرائم قانون کی کتاب میں لکھے ہیں، اگر جرم آرمی ایکٹ میں فٹ ہوگا تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہیں چلیں گے،خواجہ حارث نے کہا کہ سیاسی سرگرمی کی ایک حد ہوتی ہے، ریاستی املاک پر حملہ کرکے ریاست کی سیکیورٹی توڑنا سیاسی سرگرمی نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے بغیر دہشت گردوں کے خلاف ملٹری ٹرائل نہیں ہوسکتا تھا، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم میں قانون سازی دیگر مختلف جرائم اور افراد پر مبنی تھی۔

    جسٹس اظہر حسن رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پولیس اہلکار کی وردی پھاڑنا جرم ہے، یہاں کور کمانڈر لاہور کا گھر جلایا گیا، ایک دن ایک ہی وقت مختلف جگہوں پر حملے ہوئے، عسکری کیمپ آفسز پر حملے ہوئے، پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا گیا، ماضی میں لوگ شراب خانوں یا گورنر ہاؤس پر احتجاج کرتے تھے، پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مختلف شہروں میں ایک ہی وقت حملے ہوئے، جرم سے انکار نہیں ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ملٹری ٹرائل کیوں نہ ہوا، پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ ہوا وہ بھی سنگین تھا، سپریم کورٹ کو بھی شامل کرے، جس پر خواجہ حارث نے کہا ’یہاں بات 2 ون ڈی ون کی ہے‘۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 9 مئی خصوصی ٹرائل پر رائے دی آرمی ایکٹ کی شقوں پر فیڈریشن کو مکمل سنا ہی نہیں گیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر اٹارنی جنرل 27 اے کا نوٹس دیا گیا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب کے نوٹ سے تو لگتا ہے اٹارنی جنرل کو سنا ہی نہیں گیا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ بینچ نے اٹارنی جنرل کو کہا تھا دلائل آرمی ایکٹ کی شقوں کے بجائے 9 اور 10 مئی واقعات پر مرکوز رکھیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ تو عجیب بات ہے، پہلے کہا گیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر بات نہ کریں، پھر شقوں کو کالعدم بھی قرار دے دیا گیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے تو عدالت میں کھڑے ہو کر کہا تھا ہم نے آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج ہی نہیں کیا،جسٹس محمد علی مظہر نے ویڈیو لنک پر موجود ایڈووکیٹ فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات سن لی ہے، جس پر ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ جی میں نے کہا تھا کیس کو آرمی ایکٹ کے بجائے آئین کے تحت دیکھا جائے، 9 مئی واقعات کے خلاف دیگر درخواستیں دائر کی گئیں جن میں آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی ون اور ٹو ون ڈی ٹو کو کالعدم قرار دینے سے قبل فیڈریشن کو مکمل شنوائی کا حق ملنا چاہیئے تھا، عدالت کا فوکس 9 اور 10 مئی واقعات پر تھا نہ کہ آرمی ایکٹ کی شقوں پر۔عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی

    ورک ویزا کے نام پر فراڈ میں ملوث ایجنٹ گرفتار

    بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹر کو 5 سال کی سزا

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس ، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی گئی

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا،بانی پی ٹی آئی کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی گئی،بشری بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے عمران وبشریٰ پر جرمانے کی سزا بھی سنائی، عدالت نے عمران خان پر دس لاکھ جبکہ بشریٰ پر 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی،احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا،

    ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں سنایا۔،عدالت نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کی عدالت موجودگی میں فیصلہ سنایا، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی عدالت میں موجود تھے،نیب ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی، علیمہ خان سمیت عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،سلمان صفدر، شعیب شاہین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے.

    کیس کا فیصلہ آنے کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

    عمران خان بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب،بشریٰ معاون،تحریری فیصلہ جاری
    احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب پائے گئے، بانی پی ٹی آئی کو نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مجرم قرار دیا جاتا ہے،عمران خان کو 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے ،بشریٰ بی بی کو کرپشن میں سہولت کاری اور معاونت پر مجرم قرار دیا جاتا ہے، بشریٰ بی بی کو 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے،القادر ٹرسٹ کی پراپرٹی وفاقی حکومت کے سپرد کی جاتی ہے، دونوں مجرموں کو 4 مارچ 2021 میں ڈونیشن قبولیت کی دستاویز پر دستخط کرنے پر نتائج بھگتنا ہوں گے، عمران خان اور بشری بی بی القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے جوائنٹ اکاونٹ کے دستخط کنندہ ہیں،اس مقدمے کا زیادہ تر دار و مدار دستاویزی ثبوتوں پر ہے، شہادتوں کے جواب میں ملزمان کے وکلاء دفاع فراہم نہیں کر سکے جبکہ القادر ٹرسٹ کیس میں پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب ہوئی۔

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم فیصلہ نہیں سنایا گیا، آج 17 جنوری جمعہ کو فیصلہ سنایا گیا

    بشریٰ بی بی فیصلہ سننے کے لئے اڈیالہ جیل پہنچیں تو بشریٰ بی بی کی گاڑیاں اڈیالہ جیل کے اندر انہیں اُتارکر واپس باہر آگئیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی اور داماد بھی فیصلہ سننے کے لئے کمرہ عدالت میں موجود تھے،اڈیالہ جیل کے گیٹ پر قیدی وین بھی پہنچائی گئی، میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی،رہنما مسلم لیگ ن طاہرہ اورنگزیب بھی فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئی تھیں،انکا کہنا تھا کہ فیصلے تو سارے انصاف پر مبنی ہوتے ہیں، ہر ادارہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، میں فیصلے کا انتظار کر رہی ہوں،رضوان رضی، حسن ایوب، گوہر بٹ، شفقت عمران بھی فیصلہ سننے اڈیالہ جیل کے عدالت پہنچے،تاہم بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری، بشریٰ بی بی کی بیٹی کو داخلے کی اجازت نہ ملی،سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مجھے آج نہیں جانے دیا گیا، پہلے میں سب سماعتوں پر آتا رہا ہوں مجھے نہیں علم کہ کیوں نہیں جانے دیا گیا،

    ن لیگی رہنما طاہرہ اورنگزیب اور دانیال چوہدری بھی فیصلہ سُننے اڈیالہ جیل پہنچ گئے، کمرہ عدالت میں 22 صحافی آج موجود تھے،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    قبل ازیں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔190ملین پاؤنڈ ریفرنس کے تفتیشی آفیسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم سمیت نیب پراسیکیوشن ٹیم کے تین ممبران عرفان احمد،سہیل عارف،اویس ارشد اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہیں، عمران خان کے وکیل بھی عدالت پہنچ گئے ہیں

    فیصلے سے قبل پولیس نے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی پلان کے تحت اڈیالہ جیل کے اطراف کی نگرانی ایس پی صدر نیبل کھوکھر نے کی، جبکہ ایس ڈی پی او صدر دانیال رانا کو سکیورٹی انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایس ایچ او صدر اعزاز عظیم کو سکیورٹی انتظامات کے سب انچارج کے طور پر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ایس ایچ او تھانہ چونترہ ثاقب عباسی اور انسپیکٹر محمد سلیم کو اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی کے فرائض انجام دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ اڈیالہ جیل کے علاقے میں 6 تھانوں کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے تاکہ سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ، سکیورٹی کے امور کی نگرانی کے لیے ایلیٹ اور ڈولفن فورس کی بھی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ تمام اہم مقامات پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ انسپیکٹر نسرین بتول کی نگرانی میں خواتین پولیس اہلکار بھی سکیورٹی امور کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ سکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے کے لیے سادہ کپڑوں میں بھی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری کارروائی کی جا سکے۔پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے کے دوران کسی بھی غیر ضروری پریشانی سے بچنے کے لیے محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • صدر، وزیر اعظم ، بلاول بھٹو سمیت قیادت کا کشتی حادثہ پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار

    صدر، وزیر اعظم ، بلاول بھٹو سمیت قیادت کا کشتی حادثہ پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار

    صدر مملکت آصف علی زرداری ،وزیر اعظم شہباز شریف، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اسپین میں پیش آنے والے المناک کشتی حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کرتے ہوئے ان کے غم میں شریک ہونے کا اظہار کیا۔انہوں نے جاں بحق افراد کی مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ صدر مملکت نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر اور سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    ، وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔وزیر اعظم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت پالیسی مرتب کی جائے گی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسپین جانے کی کوشش میں تارکین وطن سے بھری کشتی حادثہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوس سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے کشتی حادثہ میں پاکستانیوں سمیت اپنے پیاروں کو کھونے والے تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ایک اور کشتی حادثہ میں قیمتی جانوں کا ضیاع میرے لیے باعثِ صدمہ ہے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ اسپین میں پاکستانی سفارتخانہ اور وفاقی حکومت حادثہ میں اپنے جانیں گنوانے والے شہریوں کی لاشوں کو فوری طور وطن لانے اور متاثرہ خاندانوں کی درست معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ ایک اور یادہانی ہے کہ مکروہ انسانی سمگلنگ کی روکتھام کے لیے موثر اقدامات اٹھانا ناگذیر بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چند ہفتوں میں تارکینِ وطن کی کشتی کا ایک اور حادثہ پیش آنا پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے عوام کو اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے پیاروں کو انسانی سمگلنگ کے جرائم میں ملوث بھیڑیوں کے حوالے نہ کریں۔

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی حادثے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتی میں پاکستانی شہری بھی سوار تھے، جن میں سے 40 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کشتی میں پاکستانیوں سمیت 80افراد سوار تھے ،کشتی مراکش کی بندرگاہ دخلہ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی ،رباط میں سفارت خانہ مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔پاکستانیوں کو مدد فراہم کرنے کیلئے سفارت خانے کی ٹیم دخلہ روانہ ہوگئی ،وزارت خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ یونٹ کو فعال کر دیا گیا ہے۔معلومات کیلئے 9207887-051 پررابطہ کیاجا سکتاہے ،معلومات کیلئے ای میل cmu1@mofa.gov.pk پر بھی رابطہ کیاجاسکتاہے۔

    مراکش میں قائم مقام پاکستانی سفیررابعہ قصوری کا کہنا ہے کہ کشتی حادثے میں 44پاکستانیوں کی اموات کی تصدیق نہیں کرسکتے،مراکش حکومت کی جانب سے10پاکستانیوں کے نام دیئے گئے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشتی حادثے میں کچھ لوگوں کو بچایاگیاہے،پاکستانی سفارتخانہ جلد بچ جانےوالے افراد سے ملاقات کرکے تفصیلات حاصل کرےگا۔

    موسم شدید سرد ،بالائی علاقوں میں برفباری کی پیشگوئی

    یواےای کی 2 ڈپازٹس کوایک سال کیلئے رول اوور کرنے کی تصدیق

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا

    ملتان سلطانز نے احسان اللہ کو بڑی آفر کر دی

  • کرم،امدادی سامان لے جانے والے تیسرے قافلے پر راکٹ حملہ

    کرم،امدادی سامان لے جانے والے تیسرے قافلے پر راکٹ حملہ

    پاڑا چنار سامان لیجانے والے قافلے پر بگن کے قریب راکٹ لانچرز سے حملہ کیا ہے

    سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی شروع کی۔کرم میں کانوائے پر حملہ ہیلی کاپٹر سے نگرانی شروع کر دی گئی ہے، حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید ہوگیا جبکہ جوابی کارروائی میں 6 حملہ آور بھی مارے گئے ہیں،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کرم کے مطابق آج کرم سے بگن جانے والے تیسرے امدادی قافلے پر دہشتگردوں نے راکٹوں سے حملہ کیا اور فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید ہوگیا،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے مطابق حملے سے قافلے میں شامل 3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے جب کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد مارے گئے اور 10زخمی بھی ہوئے۔

    امدادی سامان لیجانے والے قافلے میں 35 گاڑیاں شامل ہیں،بگن میں کرم جانے والے تیسرے قافلے پر راکٹ فائر کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں قافلے کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا ہے، تاہم اس افسوسناک واقعے میں ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس کے مطابق، راکٹ حملے کے بعد قافلے کی گاڑیوں نے فوری طور پر واپس ٹل روانہ ہونا شروع کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ چھپری چیک پوسٹ سے بھی مال بردار گاڑیاں واپس آنا شروع ہو گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ کرم جانے والا تیسرا قافلہ تھا، اور اس میں شامل گاڑیاں مختلف نوعیت کے سامان کے ساتھ کرم روانہ ہو رہی تھیں۔ انتظامیہ نے قافلے کی سیکیورٹی کے لیے پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر رکھی تھی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر حالیہ دنوں میں مسلح افراد کی فائرنگ کے واقعات میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے، ضلع کرم کی انتظامیہ کے مطابق، تیسرے قافلے کے پہلے مرحلے میں 35 مال بردار گاڑیاں روانہ کی گئیں، جن میں دوائیں، سبزیاں، پھل اور کھانے پینے کی اشیاء شامل تھیں۔ اس کے علاوہ، دوسرے مرحلے میں مزید گاڑیاں کرم روانہ ہونے کا امکان تھا، تاہم راکٹ حملے کے بعد ان گاڑیوں کی روانگی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

    بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

  • مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات  کمیٹی میں پیش

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہو گیا ہے

    پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا تیسرا دور ہو رہا ہے جس میں حکومتی اور پی ٹی آئی اراکین شریک ہیں،اسپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی تحریری مطالبات دیدے گی، مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں اُمید پر دنیا قائم ہے،میں نے یہ بھی پوچھنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، خلوص نیت سے کروں یا نہیں،

    پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو پیش کردیئے، اسپیکر چیمبر میں مطالبات پر پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم سے دستخط کروائے گئے،حکومتی کمیٹی میں عرفان صدیقی، رانا ثنا اللہ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور، علامہ راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا کمیٹی کا حصہ ہیں۔تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی نے اپنے تحریری مطالبات حکومت کو پیش کر دیے ہیں جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور دیگر اسیران کی رہائی کے علاوہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔

    مذاکرات، پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کے نکات سامنے آ گئے
    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے تحریری مطالبات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو پیش کیے، پی ٹی آئی کے مطالبات کے مسودے پر 6 اراکین کمیٹی کےدستخط ہیں، مسودے پر عمرایوب ، علی امین گنڈاپور ، سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حامد رضا کے دستخط موجود ہیں۔پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل دو کمیشن آف انکوائری تشکیل دے، کمیشن وفاقی حکومت کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے، کمیشن کے ججز کی تعیناتی تحریک انصاف اور حکومت کی باہمی رضا مندی کے ساتھ 7 روز میں کی جائے،کمیشن بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری کی جائے، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تحقیقات کی جائے، کیا 9 مئی سے متعلق میڈیا پر سنسر شپ لگائی گئی اور صحافیوں کو ہراساں کیا گیا؟ کمیشن ملک بھر انٹرنیٹ شٹ ڈاون کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرے، دوسرا کمیشن 24 سے 27 نومبر، 2024 کے واقعات کی تحقیقات کرے، کمیشن اسلام آباد میں مظاہرین پر فائرنگ اور طاقت کے استعمال کا حکم دینے والوں کی شناخت کرے، کمیشن شہداء اور زخمیوں کی تعداد پر اسپتالوں اور میڈیکل سہولیات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی جانچ کرے، کمیشن مظاہرین کے خلاف طاقت کے زیادہ استعمال کے ذمہ داران کی شناخت کرے، کمیشن ایف آئی آرز کے اندراج میں درپیش مشکلات کی تحقیقات کرے، کمیشن میڈیا سنسر شپ کے واقعات کی تحقیقات کرے،وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تمام سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزاوں کی معطلی کے احکامات جاری کریں، دونوں کمیشن کی کارروائی عوام اور میڈیا کے لیے کھلی ہونی چاہیے۔

    تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، عرفان صدیقی
    حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت بھی تحریک انصاف کی کمیٹی کے تحریری مطالبات کا جواب تحریری صورت میں دیگی،پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا تحریک انصاف آج اپنے تحریری مطالبات پیش کرے گی،تحریری مطالبات تمام اتحادی اپنے پارٹی سربراہان کے سامنے پیش کریں گے، حکومت کی جانب سے بھی تحریک انصاف کو تحریری جواب دیا جائے گا،تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، 31 جنوری کی ڈیڈ لائن سے آگے بھی جایا جا سکتا ہے، 31 جنوری سے قبل تحریک انصاف کو حکومتی کمیٹی جواب دے گی۔

    پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے ہمارے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا،ہمارے تحریری مطالبات تیار ہیں، پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، اسیران کی رہائی، 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن ہمارے مطالبے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی رہائی بھی ہمارا مطالبہ ہے، ہمارے تمام اراکین کی رہائی آئین اور قانون کے مطابق کی جائے، ایگزیکٹو آرڈر سے یہ معاملات حل ہو نہیں سکتے، امپائر صحیح ہونا چاہیے، حکومت کمیشن بنائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، ہمارے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا۔

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ جنہوں نے مذاکرات کیخلاف گفتگو کی انہیں اسی لہجے میں جواب بھی مل گیا، بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے وزیر اعلی کیساتھ سیکیورٹی میٹنگ میں ملاقات ہوئی، ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی،جو مطالبات ہیں تحریری آج دے دیں گے،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ جب کسی لیول پر بیٹھتے ہیں تو سوچ کر بیٹھتے ہیں، کسی راستے کیلئے ہی بیٹھتے ہیں،جب مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں تو مقصد بات چیت ہی ہے، اگر ہمیں مذاکرات پر شک و شبہ ہوتا تو یہاں نا آتے، بیک ڈور کی ضرورت نہیں کیونکہ سب اوپن ہو رہا ہے،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کر لیا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے لیٹر پیڈ پر ڈرافٹ تیار کیا گیا،پی ٹی آئی کے مطالباتی ڈرافٹ تین صفحات پر مشتمل ہے،اپوزیشن لیڈر چیمبر میں پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین سے دستخط کرائے گئے،تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی مطالباتی ڈرافٹ پر دستخط کیے،پاکستان تحریک انصاف نے 3 صفحات پر مشتمل دو مطالبات پیش کیے ،9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کا قیام، بانی تحریک انصاف اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم