Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فتنہ الہندستان عورتوں کے شکاری،ضلع کیچ سے مقامی خاتون کو اغوا کر لیا

    فتنہ الہندستان عورتوں کے شکاری،ضلع کیچ سے مقامی خاتون کو اغوا کر لیا

    ضلع کیچ کے علاقے بلاچا کے پاس کرولا گاڑی میں سوار چند لوگ آئے اور ایک مقامی عورت نرگس کو زبردستی گاڑی میں بیٹھا کر بھاگے۔

    عورت کے شوہر نے جب دیکھا تو اپنے بھتیجے کے ساتھ گاڑی کا پیچھا کیا اور ناصرآباد سٹی میں گاڑی روکنے پر کامیاب ہوا۔گاڑی سے ایک شخص کلاشنکوف سے مسلح نیچے اترا اور پیچھے سے دو موٹر سائیکل سوار فتنہ الہندستان کا پرچم اوڑے بھی نمودار ہوئے۔ انہوں نے عورت کے شوہر اور بھتیجے کو خوب مارا اور عورت کو لے کر جنگل کی طرف بھاگ گئے۔ماہرین کے مطابق فتنہ الہندستان کے یہ درندے اسی طرح معصوم خواتین کو اغوا کر کے ان کے ساتھ بدفعلی کرتے ہیں اور وڈیو بنا کر ان کو شاری بلوچ کی طرح بناتے ہیں۔فتنہ الہندستان معاشرے کا وہ ناسور بن چکے ہیں جن سے عام عوام کی زندگی اور عزت دونوں خطرے میں ہے

    واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اغوا کاروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ مقامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات علاقے میں خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش کی جا رہی ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،خطرناک دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،خطرناک دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں دہشت گردی کے خدشات کے پیشِ نظر انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک اور اہم کامیابی حاصل کرلی۔ سی ٹی ڈی پنجاب نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر عارف والا روڈ پر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد کو گرفتار کرلیا۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق گرفتار دہشت گرد کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے، جو انتہائی مطلوب اور حساس نوعیت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد، ڈیٹونیٹرز اور اسلحہ برآمد کیا گیا، جسے ممکنہ طور پر کسی بڑی تخریبی کارروائی میں استعمال کیا جانا تھا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ایک بڑے دہشت گردی کے واقعے کو ناکام بنا دیا گیا۔ گرفتار دہشت گرد کو فوری طور پر نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے دوران اس کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور دیگر ممکنہ دہشت گرد عناصر سے متعلق اہم انکشافات کی توقع ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ملزم کے خلاف دہشت گردی، اسلحہ رکھنے اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں تاکہ امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سی ٹی ڈی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

  • تربت: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد ہلاک

    تربت: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع تربت میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جسک کراس کے قریب کی گئی جہاں سکیورٹی فورسز نے مشکوک سرگرمیوں پر گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتبہ گاڑی نے چیک پوسٹ سے بچنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ اس دوران دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت سلیم کے نام سے ہوئی ہے، جو طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا اور مختلف تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ دوسرے ہلاک دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جس کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

    کارروائی کے بعد دہشت گردوں کی گاڑی کی تلاشی لی گئی، جس سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مشتبہ مواد برآمد ہوا۔ برآمد ہونے والے اسلحے کو قبضے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا مزید دہشت گرد عناصر کی موجودگی کو یقینی طور پر ختم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • آئی ایس پی آر کی جانب سے افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین،نیا نغمہ ریلیز

    آئی ایس پی آر کی جانب سے افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین،نیا نغمہ ریلیز

    آئی ایس پی آر کی جانب سے افواجِ پاکستان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے شاندار نغمہ ریلیز کر دیا گیا

    یہ نغمہ شدید موسمی حالات، برفانی طوفانوں اور ناقابلِ برداشت سردی میں وطن کی سرحدوں کے دفاع اور مشکل میں گِھری قوم کی خدمت میں مصروف افواجِ پاکستان کے عزم، حوصلے اور بے مثال فرض شناسی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے،نغمے میں اس حقیقت کو اُجاگر کیا گیا ہے کہ پاک فوج وطنِ عزیز اور قوم کے تحفظ کے لیے شب و روز ہر قسم کے خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے، جو اس کے بلند حوصلے اور غیر متزلزل جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہے،قدرتی آفات اور آزمائش کی ہر گھڑی میں پوری قوم افواجِ پاکستان کو اپنا مضبوط سہارا سمجھتی ہے، اور پاک فوج نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر محاذ پر قوم کی امیدوں پر پوری اترتی ہے۔نغمے کے سحر انگیز بول اور دل کو چھو لینے والی آواز نے سماں باندھ دیا، جو بلاشبہ پوری قوم کی افواجِ پاکستان سے والہانہ محبت، اعتماد اور فخر کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

  • وزیراعظم  سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی ملاقات

    وزیراعظم سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی ملاقات

    اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے اہم ملاقات کی، جس میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں، بالخصوص لیپ ٹاپ اسکیم سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے وزیراعظم کو بتایا کہ یوتھ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کی تعلیمی ترقی، ہنر مندی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں لیپ ٹاپ اسکیم کی پیش رفت، شفافیت کے طریقۂ کار، مستفید ہونے والے طلبہ کی تعداد اور آئندہ مرحلوں کے لائحۂ عمل سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی معیار بہتر بنانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت کو بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت نوجوانوں کی ہنر مندی اور استعدادِ کار میں مزید اضافے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔”انہوں نے ہدایت کی کہ لیپ ٹاپ اسکیم سمیت تمام یوتھ پروگرامز میں شفافیت، میرٹ اور رفتار کو یقینی بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق اور باصلاحیت نوجوان مستفید ہو سکیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جائے۔

    ملاقات کے اختتام پر چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ نوجوانوں کی ترقی، تعلیم اور روزگار کے لیے تمام منصوبے تیزی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھائے جائیں گے، تاکہ قومی ترقی میں نوجوانوں کا کردار مزید مضبوط ہو سکے۔

  • تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی،سرکاری دستاویزات نے اصل کہانی واضح کر دی

    تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی،سرکاری دستاویزات نے اصل کہانی واضح کر دی

    تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والے متضاد بیانیوں کے درمیان سرکاری و دستاویزی شواہد نے کئی اہم حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دستیاب نوٹیفکیشنز، مراسلات اور تحریری ریکارڈ کے مطابق تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی کسی فوجی آپریشن کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ فیصلہ خیبر پختونخوا حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے خالصتاً سول انتظامی بنیادوں پر کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں اس فیصلے کو مسخ کر کے ایک ایسا سیاسی و عوامی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی جس میں ذمہ داری فوج پر ڈال دی گئی۔

    دستاویزات کے مطابق آبادی کی منتقلی کا فیصلہ مقامی حالات، سیکیورٹی خدشات اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ اس عمل میں مقامی جرگوں، عمائدین اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کی گئی، جس کے بعد باقاعدہ طور پر نقل مکانی کا فیصلہ سامنے آیا۔ یہ شواہد اس دعوے کی واضح نفی کرتے ہیں کہ تیراہ ویلی سے لوگوں کو کسی زبردستی، دباؤ یا عسکری کارروائی کے تحت بے دخل کیا گیا۔سرکاری لیٹرز اور ریکارڈ میں یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان آرمی کا کردار محض انسانی اور امدادی نوعیت کا تھا۔ فوج نے لاجسٹک سپورٹ، ٹرانسپورٹ، عارضی رہائش، طبی امداد اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں معاونت کی، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ اور منظم انداز میں منتقل کیا جا سکے۔ تاہم اس انسانی کردار کو بعض حلقوں کی جانب سے دانستہ طور پر عسکری مداخلت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

    تحریری شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس معاملے پر ایک منظم غلط معلوماتی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور اصل انتظامی ناکامیوں کو پسِ پردہ رکھنا ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 4 ارب روپے کے ریلیف فنڈ کے استعمال پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان فنڈز کا ایک بڑا حصہ شفاف اور درست انداز میں استعمال نہیں ہوا، جس پر اب تک مکمل اور تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔دستاویزات یہ تضاد بھی واضح کرتی ہیں کہ ایک جانب سرکاری ریکارڈ اس فیصلے کو سول انتظامیہ کا اقدام قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب بعض سیاسی بیانات اور بیانیاتی مہمات اسے فوجی آپریشن کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تضاد ریاستی سطح پر بیانیاتی ابہام اور ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اصل مسئلہ کسی عسکری آپریشن کا نہیں بلکہ انتظامی بدانتظامی، کمزور منصوبہ بندی اور ریلیف فنڈز کے شفاف استعمال میں ناکامی تھا، جسے چھپانے کے لیے بیانیہ تبدیل کیا گیا۔

    سرکاری دستاویزات نے اس تاثر کو بھی بے نقاب کر دیا ہے کہ تیراہ ویلی سے نقل مکانی فوجی جبر یا آپریشن کا نتیجہ تھی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ یہ فیصلہ سول حکومت کی جانب سے کیا گیا اور فوج نے صرف انسانی امداد اور سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انسانی امدادی اقدامات کو عسکری جبر کے طور پر پیش کیا جائے تو اس سے نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی شدید طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ماہرین اور مبصرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ تیراہ ویلی سے متعلق حقائق کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھا جائے، ریلیف فنڈز کے استعمال کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے، تاکہ نہ صرف متاثرہ آبادی کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی بھی بحال ہو۔

  • اورکزئی،کرم،برفباری سے بند راستے پاک فوج نے کھول دیئے

    اورکزئی،کرم،برفباری سے بند راستے پاک فوج نے کھول دیئے

    ضلع اورکزئی میں شدید برفباری کے دوران راستے بند ہونے پر پاک فوج نے ہنگامی بنیادوں پر راستے کھول دیئے

    پاک فوج نے ضلع اورکزئی کے دور افتادہ علاقوں میں شدید برفباری اور ناسازگار حالات میں آپریشن مکمل کیا،حالیہ برف باری کے باعث اورکزئی کےگاؤں کالایہ دربار کو جانے والے تمام راستے مکمل طور پر بند ہو چکے تھے ،راستوں کی بندش سے نقل و حمل کے ساتھ ساتھ وفات پانے والے افراد کی تدفین بھی ناممکن مرحلہ تھا،پاک فوج نے ہنگامی بنیادوں پر بھاری مشینری اور افرادی قوت سے راستوں کو بحال کیا، پاک فوج کی بروقت امدادی کاروائی کے بعد مقامی شہری کی نمازِ جنازہ اور تدفین بروقت اور باوقار طریقے سے انجام پزیر ہو سکی

    دوسری جانب شدید برفباری سے متاثررہ ضلع کرم میں بھی پاک فوج نے بروقت ریسکیو آپریشن شروع کردیا ہے،پاک فوج نے بھاری مشینری سے 8 کلومیٹر تاؤڈو اوبو روڈ کو بھی بحال کردیا،شدید برف باری کے باعث مناتو سدا روڈ مکمل طور پر بند ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں پھنس گئیں،پاک فوج نے بروقت آپریشن کرتے ہوئے مسافروں اور گاڑیوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا،مقامی عمائدین اور عوام نے پاک فوج کے اس ہمدردانہ اور بروقت اقدام کو سراہتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کیا،پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں عوام کیلئے ہمہ وقت موجود ہے

  • بھارتی یوم جمہوریہ پریوم سیاہ کشمیری عوام کی مزاحمت کا استعارہ بن گیا

    بھارتی یوم جمہوریہ پریوم سیاہ کشمیری عوام کی مزاحمت کا استعارہ بن گیا

    26جنوری بھارت میں بطور یوم جمہوریہ لیکن مقبوضہ کشمیر میں یہی دن یوم سیاہ کے طور پرمنایا جاتا ہے

    کشمیریوں کے نزدیک یہ تاریخ اس غیرقانونی آئینی نفاذ کی یاد دہانی ہے جو 26 جنوری 1950 کو ان پر مسلط کیا گیا،یواین کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا تھا لیکن بھارتی آئین کا جبری اطلاق اسکی نفی تھا،اسی تناظر میں ہر سال 26 جنوری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پُرامن احتجاج دیکھنے میں آتا ہے،یہ خاموشی کسی خوف یا کمزوری کا اظہار نہیں بلکہ طاقت کے زور پر نافذ حکمرانی کو جمہوریت ماننے سے انکار ہے،مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ پرگرفتاریاں اور سخت سکیورٹی سے واضح ہے کہ ریاست عوامی تائید سے محروم ہے،یہ صورتحال 5 اگست 2019 کو اس وقت مزید واضح ہو گئی جب بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سلب کر لی،اس فیصلے کے بعد لاک ڈاؤن، مواصلاتی بلیک آؤٹ، نظر بندیاں اور گرفتاریاں ثبوت بنیں کہ یہ اقدامات عوامی رضامندی کے بغیر نافذ کئے جا رہے ہیں،اسکےبرعکس پاکستان نے مسلسل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر پر حقِ خودارادیت کی حمایت کی

    پاکستانی آئین بھی توثیق کرتا ہے کہ کشمیریوں کو یواین چارٹرکے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے،یہ دن دنیا کیلئے ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ کشمیریوں کیلئے حق خود ارادیت کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہو سکتا

  • عالمی جریدہ پاکستان کی دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کا متعرف

    عالمی جریدہ پاکستان کی دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کا متعرف

    عالمی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کے مطابق پاکستان نے اپنی دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کے ذریعے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دی ہے-

    دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان نے نہ صرف خطے میں اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ کو بڑھایا بلکہ بھارت کو بھی سفارتی تنہائی اور بھاری ٹیرف کے دباؤ میں مبتلا کر دیابھارت کو امریکا کا روایتی اتحادی سمجھا جاتا تھا، مگر اس نے امریکی ثالثی کے دعوے کو اپنی خودمختاری کی توہین قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارت نہ تو QUAD Summit میں شمولیت حاصل کر سکا، نہ صدر ٹرمپ کا دورہ اور نہ ہی تجارتی ریلیف حاصل ہو سکا،اسی بحر ان کو پاکستان نے بروقت اور دانشمندانہ حکمت عملی میں تبدیل کیا، جسے صدر ٹرمپ نے بھی بھرپور انداز میں سراہا۔

    جریدے کے مطابق ستمبر 2025 میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا، جہاں سیکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی کا اہم تجارتی معاہدہ بھی طے پایا، جس کے تحت امریکی کمپنیا ں پاکستان کے وسائل میں طویل المدتی سرمایہ کاری کریں گی۔

    جریدے کے مطابق اسی دوران امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے منظوری دی، جس کی مجموعی مالیت 680 ملین ڈالر بتائی گئی صدر ٹرمپ نے امریکا اور پاکستان کے اشتراک سے بڑے تیل ذخائر کی ترقی کا بھی اعلان کیا، جب کہ انسداد دہشت گردی تعاون دوبارہ بحال ہوا اور تعلقا ت کے پرانے ستون کو نئی زندگی ملی۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان نے اپنے تعلقات کی مضبوطی، علاقائی چیلنجز کو فائدے میں بدلنا اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانا ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے، واشنگٹن میں پاکستان کی مہارت اور حکمت عملی نے خطے میں اس کی سیاسی اور اقتصادی قوت کو بلند کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کو قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔

    دی ڈپلومیٹ اور دیگر ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے ثالثی کو جھٹلانے اور امریکی ناراضی کے سبب اسے نہ صرف تجارتی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی، جبکہ پاکستان نے اس بحران کو اپنے فائدے میں بدل کر سفارتی میدان میں اہم کامیابی حاصل کی۔

  • کل ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لے جا سکتے ہیں،بھارت کو خدشہ

    کل ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لے جا سکتے ہیں،بھارت کو خدشہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن کے اعلان اور اب اس پر عملدرآمد کے آغاز کے بعد بھارت کو خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ کل ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لے جا سکتے ہیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بھارت کو امن بورڈ میں مدعو کیا تھا بورڈ کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی قائم کرنا اور عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دعوت دی گئی تھی، لیکن بھارت اس تقریب میں شریک نہیں ہوا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بورڈ کی رکنیت قبول کرلی، 59 ممالک نے بورڈ پر دستخط کیے جبکہ تقریب میں 19 ممالک کی نمائندگی موجود تھی،بھارت کے لیے یہ فیصلہ کہ بورڈ میں شامل ہونا ہے یا نہیں، مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکا کے تعلقات پر اثر ڈال سکتا ہےخیال کیا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کل کشمیر کے تنازعے کو بھی بورڈ میں زیر بحث لا سکتے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سابق بھارتی سفارت کار اکبر الدین کا کہنا ہے کہ بھارت کو امن بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ بورڈ کی کارروائی اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہو سکتی ہے،یہ قرارداد بورڈ کی مدت کو 31 دسمبر 2027 تک محدود کرتی ہے اور ہر 6 ماہ بعد رپورٹ پیش کرنے کی پابندی عائد کرتی ہے،بورڈ میں شامل ہو کر بھارت بورڈ کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔