Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغانستان کے ڈرون حملے،کوہاٹ،اسلام آباد،پشاور،اٹک میں ڈرون گرے،اسلام آباد ایئر پورٹ بند

    افغانستان کے ڈرون حملے،کوہاٹ،اسلام آباد،پشاور،اٹک میں ڈرون گرے،اسلام آباد ایئر پورٹ بند

    افغانستان کی عبوری حکومت باز نہ آئی، پاکستان کی طرف ڈرون بھیج دیئے،راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی شام ڈرون سرگرمیوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ احتیاطی اقدامات کے طور پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو ڈرون پشاور اور دیگر شمالی علاقوں سے پرواز کرتے ہوئے اٹک کے راستے راولپنڈی کی سمت بڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔ اطلاعات کے مطابق شام تقریباً 7 بج کر 15 منٹ پر یہ ڈرون اٹک شہر کے اوپر سے گزرے اور ان کی ممکنہ سمت واہ کینٹ اور اسلام آباد بتائی جا رہی تھی۔دوسری جانب کوہاٹ کینٹ کے علاقے میں مبینہ کامی کازی ڈرون حملے کی تین مختلف جگہوں پر اطلاعات موصول ہوئیں۔پہلا دھماکہ صبح 7 بج کر 55 منٹ پر جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔دوسرا واقعہ صبح 8 بج کر 55 منٹ پر پاک فضائیہ کے آفیسرز میس کے قریب پیش آیا جبکہ تیسرا واقعہ صبح 9 بج کر 7 منٹ پر پاک فضائیہ کے افسران کی رہائشی کالونی کے قریب لاگ ہاؤس کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث ابھی ان مقامات کا مکمل تکنیکی تجزیہ نہیں کیا جا سکا۔

    ادھر 13 مارچ 2026 کو شام تقریباً 7 بجے راولپنڈی کے حمزہ کیمپ میں ایک ڈرون گرنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق ڈرون بلاک 28 کی افسران کی رہائش گاہ کی بالائی منزل سے ٹکرایا تاہم خوش قسمتی سے اس میں دھماکہ نہیں ہوا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مزید اطلاعات کے مطابق ایک اور ڈرون اسلام آباد کے سیکٹر I-8 کے قریب گرنے یا ٹکرانے کی خبر بھی زیر گردش ہے،

    صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے 100 فیصد اسٹینڈ ٹو نافذ کر دیا ہے، کینٹ کے تمام چیک پوسٹس بند کر دی گئی ہیں اور صرف محدود آمد و رفت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ فوری ردعمل کی فورسز کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے جبکہ سی ایم ایچ کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔حکام کے مطابق شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور غیر ضروری طور پر حساس مقامات کے قریب جانے سے احتیاط کریں۔

  • قندھار میں البدر ہیڈ کوارٹر پر حملہ،متعدد کمانڈرز کے ہلاک و زخمی ہونے کی خبریں

    قندھار میں البدر ہیڈ کوارٹر پر حملہ،متعدد کمانڈرز کے ہلاک و زخمی ہونے کی خبریں

    قندھار میں البدر کور ہیڈکوارٹر پر حملہ، متعدد کمانڈرز کے ہلاک و زخمی ہونے کی خبریں

    پاک فضائیہ نے گزشتہ شب پھر کابل میں ٹی ٹی اے رجیم کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر، قندھار میں کور ہیڈکوارٹر ،ائیرپورٹ اور اسلحہ کے ذخیروں کو تباہ کرنے کے علاؤہ پکتیکا میں دہشتگردوں کے کیمپ تباہ کر دیے ۔ فضائی حملوں میں ٹی ٹی اے اہلکار ،داعش خراسان ، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے متعدد دہشتگرد مارے گئے ۔ افغانستان کی یہ فوجی چھاؤنیاں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور اسلحہ ڈپو کے طور پر استعمال ہو رہی تھیں۔

    سوشل میڈیا پر یہ خبریں زیرگردش ہے کہ قندھار میں البدر کور ہیڈ کوارٹر کے کور کمانڈر مہراللہ حماد، چیف آف سٹاف حزب اللہ افغان اور ڈپٹی کمانڈر ولی جان حمزہ سمیت متعدد کمانڈر ان حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جن میں بیشتر کے ہلاک ہونے جبکہ ان تینوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جنہیں قندھار میں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہےتاہم دوسری جانب افغان طالبان نے پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے میں تاحال ہلاکتوں اور کمانڈر کے زخمیوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی

    پاک فضائیہ نے کابل میں طالبان عسکری تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا، القاعدہ اور کالعدم ٹی ٹی پی کے متعدد دہشتگرد ہلاک ہو گئے،ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے کابل کے علاقہ قصبہ میں طالبان عسکری تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا،جس کے نتیجے میں متعدد القاعدہ اور کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ شاہینوں نے پکتیا میں طالبان کے فوجی ٹھکانوں کو زمین بوس کردیا،پاک فضائیہ نے پکتیا کے مختلف علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی ہتھیار اور سازوسامان تباہ ہو گئے۔

    دوسری جانب کتیکا سے کابل جانے والا قافلہ آئی ای ڈی دھماکے کی زد میں آگیا، دو دہشتگرد کمانڈر ہلاک، متعدد زخمی؛ذرائع کے مطابق برمل کے علاقے میں کالعدم ٹی ٹی پی کی اہم شخصیات کے قافلے کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو کمانڈر ہلاک جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
    مزید بتایا جا رہا ہے کہ یہ قافلہ کابل میں کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا۔

  • ایران کے  اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے

    ایران کے اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے

    ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے۔

    پاسداران انقلاب کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس آپریشن کی 37 ویں لہر کے دوران تقریباً تین گھنٹے تک مسلسل میزائل حملے کیے گئے حملوں میں عراق کے شہر اربیل، بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈ کوارٹر اور اسرائیل کے شہر تل ابیب میں فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی اور اسرائیلی اہداف پر مسلسل تین گھنٹے تک میزائل اور ڈرونز برسائے، جن میں جدید ’خرمشاہ‘ میزائلوں کا بھی استعمال کیا گیا اس حملے کو ایران کا اب تک کا سب سے طاقتور حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق جنوبی تل ابیب میں واقع سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز کو دوسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا جبکہ مقبوضہ بندرگاہ حیفہ پر بھی میزائل داغے گئے،ان حملوں میں خیبر شکن، قدر اور خرم شہر نامی میزائل استعمال کیے گئے جن میں متعدد وارہیڈز نصب تھے، جبکہ قدر میزائل کے وارہیڈ کا وزن تقریباً ایک ٹن بتایا گیا ہے آپریشن وعدہ صادق 4 گزشتہ ماہ اس وقت شروع کیا گیا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں۔

    امریکا کراچی کی سڑکیں دکھا کر کہہ رہا ہے کہ ہم نے ایران کو تباہ کر دیا ،فیصل کراچی

    ایران جنگ :ٹرمپ نےحملے کی ذمہ داری اپنے داماد سمیت مشیروں پر ڈال دی

    ایران کا اسرائیل کے بن گورین ائیرپورٹ پر حملہ

  • پینٹاگون کی ایرانی حملوں میں 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

    پینٹاگون کی ایرانی حملوں میں 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایران جنگ میں اب تک تقریباً 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق زخمی ہونے والے بیشتر اہلکاروں کی چوٹیں معمولی نوعیت کی تھیں اور ان میں سے 108 فوجی صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، اس وقت 8 امریکی فوجیوں کی حالت نازک ہے جنہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اس سے قبل پینٹاگون نے 7 امریکی فوجیوں ی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے جنگ کے دس روز کے دوران تقریباً 150 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد پینٹاگون کے ترجمان نے 140 فوجیوں کے زخمی ہونے کا بیان جاری کیا وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بھی میڈیا کے سوال پر ان اعداد و شمار کو درست قرار دیتے ہوئے مزید تفصیلات کے لیے پینٹاگون سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔

    گوشت کی قیمتوں میں اضافہ،عام شہریوں کی قیمت خرید سے بڑھ کر،نوٹس کی اپیل

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے، جو آج 12 ویں روز بھی جاری ہیں۔ دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے جواب میں خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

    پینٹاگون کے مطابق جنگ کے آغاز سے ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے کیونکہ امریکی فوج ایران کے ہتھیاروں کے ذخائر اور محدود تعداد میں موجود میزائل لانچرز کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    پاکستان کی لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت

  • آپریشن غضب للحق:پاکستانی فوج کو دیکھ کر افغان طالبان پوسٹوں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے

    آپریشن غضب للحق:پاکستانی فوج کو دیکھ کر افغان طالبان پوسٹوں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے

    آپریشن غضب للحق کے دوران پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں موثر انداز میں جاری رکھی ہو ئی ہیں، پاک فوج کے بہادر جوان اندر گئے اور ہتھیاروں کو قبضے میں لے کر واپس لے آئے ہندوستانی طالبان نے انہیں آتے دیکھ کر دوڑ لگا دی-

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں متعدد افغان طالبان ہلاک جبکہ باقی پسپائی اختیار کرتے ہوئے فرار ہو گئے، پاک فوج کے بھرپور جواب میں دشمن فورسز کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 10 مارچ 2026 کو، سیکورٹی فورسز نے دو سوویت نژاد 73mm HGL-9 ہیوی گرنیڈ لانچرز کو افغان طالبان کے زیر قبضہ پوزیشنوں سے برآمد کیا یہ ہتھیار پوسٹ 2 اور پوسٹ 3 سے طالبان جنگجوؤں کے پوسٹوں کو چھوڑ کر ژوب سیکٹر کے سامنے والے فرنٹ لائن علاقے سے فرار ہونے کے بعد ملے تھے ان بھاری ہتھیاروں کی برآمدگی سرحد کے ساتھ جاری پیش رفت کو نمایاں کرتی ہے کیونکہ سیکیورٹی فورسز خطے میں اپنی کارروائیاں اور نگرا نی جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔

    کینیڈا میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ

    دبئی میں معاشی و سیکیورٹی بحران: مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا

    سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،علی پرویز ملک

  • وزیراعظم کا ایرانی  سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

    وزیراعظم کا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط لکھ کر انہیں سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارکباد دی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے امت مسلمہ کے لیے دعاؤں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات پر پاکستانی عوام شدید دکھ میں ہیں اور مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں امید ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا، پاک ایران تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ، ثقافت اور زبان کی بنیاد پر مضبوط ہیں۔

    وزیراعظم کے کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ، وزارت خارجہ کو ہدایات جاری

    وزیراعظم نے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور تمام شعبوں میں باہمی مفاد کے لیے ایران کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت، کامیابی اور ایرانی عوام کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعائیں بھی کیں۔

    فوجی دستے کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر موجود ہیں،بحرین

  • آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،گریز کیا جائے،وزیر قانون

    آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،گریز کیا جائے،وزیر قانون

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خطے میں کشیدہ صورتحال ہمارے لئے بھی چیلنج ہے،پاکستان نے کوشش کی ہے تنازع کا سفارتی حل نکلے،ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں۔

    اعظم نذیر تارڑ نے دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، دوست ممالک پر حملوں کے معاملے کو بھی دیکھا گیا، ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،دوست ممالک کی جانب سے بے چینی کااظہار کیا گیا ہے، آرٹیکل 19کے تحت ہر شہری کو اظہاررائے کی آزادی ہے،ہر شخص کو دل کی بات کرنے کا حق ہے لیکن آئین کو بھی دیکھنا ہے،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آرٹیکل 19پڑھ کر سنایا،انہوں نے کہاکہ قانون کے تحت اظہاررائے میں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑیں گے،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،میڈیا کا ذمہ درانہ کردار ادا کرنا ضروری ہے،سوشل میڈیا پر تبصروں کی وجہ سے دوست ملک کی جانب سے بے چینی کا اظہار ہوا ہے اور پوچھا گیا کہ کیا یہ پاکستان کا مؤقف ہے؟ اس لیے میڈیا یا سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے آئین پاکستان کو ذہن میں رکھیں اور بین الاقومی سطح پر جو خارجہ پالیسی ہے اس کو بھی سامنے رکھنا ہے۔ ہمارے صحافیوں اور پاکستان اور بیرون ملک کے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے آئین کو مدنظر رکھیں۔ اگر اس طرح کے بیانات گروپوں کی طرف سے دیے جاتے ہیں اور دوست ممالک تک پہنچتے ہیں اور انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں تو ان سے گریز کیا جانا چاہیے،

    اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آج کل وی لاگز میں، لوگ اکثر ایسی باتیں کہتے ہیں کہ زیادہ آراء یا زیادہ رقم کمائی جائے، یہاں تک کہ دوست ممالک کے بارے میں بھی۔ لیکن میرا آئین اور حلف مجھے پابند کرتا ہے کہ میں اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کروں۔ ہماری پالیسی واضح ہے، پاکستان کے مفادات پہلے آتے ہیں،ویلاگ میں ویوز لینے اور ٹی وی شوز میں تبصرہ میں بہت احتیاط کریں.

  • آپریشن غضب للحق،ارندو، کرم سیکٹر میں   اہم پوسٹوں اور مراکز کو تباہ کر دیا گیا

    آپریشن غضب للحق،ارندو، کرم سیکٹر میں اہم پوسٹوں اور مراکز کو تباہ کر دیا گیا

    آپریشن غضب للحق جاری ،افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نےارندو، کرم سیکٹر میں بروقت کارروائی کے دوران اہم پوسٹوں اور مراکز کو تباہ کر دیا، ان موثر حملوں اور جوابی کارروائیوں میں بزدل افغان طالبان پوسٹیں چھوڑ کر بھی فرار ہو گئے،پاک افواج افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں اور صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں،پاک فوج کی جانب سے دشمن کو بھر پور جواب دیا جا رہا ہے،

  • امریکہ،ایران جنگ محض “مختصر مہم” ہے، ٹرمپ

    امریکہ،ایران جنگ محض “مختصر مہم” ہے، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملے سے پہلے ہم نے وینزویلا میں کامیاب آپریشن کیا ،ہم نے ایران کے ڈرونز اور 46 بحریہ کے جہاز تباہ کیے ہیں ،اسرائیل کے ساتھ مل کر ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے جنگ لڑ رہے ہیں ،ایران کے پاس اب بچاؤ کے لیے کچھ نہیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک چھوٹی مہم کی کیونکہ ہمیں کچھ برائی ختم کرنا ضروری محسوس ہوا۔اور میری سوچ ہے کہ آپ دیکھیں گے یہ ایک علاقائی، مختصر مہم ہی رہے گی،فلوریڈا کے شہر ڈورال میں ریپبلکن ارکان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت غیر معمولی کارکردگی دکھا رہا ہے۔ انہوں نے ایران میں جاری کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ہمارا ملک بہت اچھا کر رہا ہے، اس سطح پر جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ہم نے ایک چھوٹی سی مہم شروع کی کیونکہ ہمیں لگا کہ کچھ برائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ یہ ایک مختصر مدت کی مہم ثابت ہوگی۔”اپنی تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا “ہماری فوج کتنی شاندار ہے، ہے نا؟”

    ان کے اس جملے پر حاضرین نے زور دار تالیاں بجائیں جبکہ صدر ٹرمپ نے “شارٹ ٹرم” یعنی مختصر مدت کی اصطلاح کو مزید دو مرتبہ دہرایا، جس سے انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جنگ زیادہ طویل نہیں ہوگی۔

    ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے قبل امریکی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں لکھا تھا:
    “ہم نے ابھی لڑائی شروع ہی کی ہے۔”اس پیغام کو ایران کے ساتھ ممکنہ طور پر طویل اور شدید فوجی تصادم کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ تہران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران خلیج فارس کے ممالک پر حملوں کو جاری رکھنے پر بھی غور کر سکتا ہے تاکہ امریکہ پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور واشنگٹن کو جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔

    اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک دشمن کو مکمل اور فیصلہ کن شکست نہ دے دیں۔ٹرمپ
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد اس بات کا کسی کو اندازہ نہیں کہ ملک کی قیادت کون سنبھالے گا،فلوریڈا میں ریپبلکن ارکانِ کانگریس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ” رہنما یا تو ختم ہو چکے ہیں یا ان کے ختم ہونے میں چند ہی لمحے باقی ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کی آئندہ قیادت کے بارے میں شدید غیر یقینی پائی جاتی ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے حکومتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور اس وقت واضح نہیں کہ ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اب کسی کو اندازہ نہیں کہ وہ لوگ کون ہوں گے جو اس ملک کی قیادت کریں گے۔”ایران کے پاس ایٹم بم آ جاتا تو یہ بہت مشکل صورتحال ہوتی ،ایران کے پاس اب کچھ بھی نہیں ہیں ،ایران ایک ہفتے میں حملہ کرنے والا تھا۔ایران کی فوجی اور میزائل صلاحیت کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نہ مانا تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔دُنیا اس وقت ہماری جتنی عزت کر رہی ہے، اتنی عزت پہلے کبھی نہیں تھی،ایران کو ایک بڑا اور طاقتور ملک سمجھا جاتا تھا۔اگر ہم بی ٹو بمبار سے حملہ نہ کرتے تو اسرائیل تباہ ہوچکا ہوتا، ہم نے ایران کو بری طرح کچل دیا اور آپ جانتے ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کب ہار مانیں گے، لیکن انہیں تو دو دن پہلے ہی ہار مان لینی چاہیے تھی، ہے نا؟لیکن اب ان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا۔دشمن (ایران) کے بڑے نام مٹ چکے ہیں اور اب کوئی نہیں جانتا کہ ان کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔ ہم اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک دشمن کو مکمل اور فیصلہ کن شکست نہ دے دیں۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر کے درمیان پیر کے روز ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں ایران سمیت متعدد بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی صدارتی معاون کے مطابق یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور رواں سال دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی براہِ راست بات چیت تھی۔یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ گفتگو کاروباری انداز، کھلے پن اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جیسا کہ روسی اور امریکی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں عموماً دیکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق صدر پیوٹن نے اس موقع پر ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے جلد سیاسی اور سفارتی حل کے لیے مختلف تجاویز اور خیالات پیش کیے۔اوشاکوف کے مطابق روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران سے متعلق بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوجی اقدامات کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بارے میں اپنا تجزیہ اور مؤقف پیش کیا، تاہم روسی حکام نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ٹرمپ نے اس بحران کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس حوالے سے مزید وضاحت کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے، تاہم تاحال امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس گفتگو پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر قبضے پر غور، ایران کی فوجی طاقت ختم ہونے کا دعویٰ

    ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر قبضے پر غور، ایران کی فوجی طاقت ختم ہونے کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے پیر کے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی حکومت دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز پر ممکنہ طور پر کنٹرول حاصل کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہوئی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اس پر قبضہ یا اس کے انتظامی کنٹرول کے امکانات پر “سوچ رہا ہے”۔

    آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت حساس سمجھی جاتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس وجہ سے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا فوجی کارروائی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب منڈلا رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ خلیج کے اہم راستوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایران کے خلاف جنگ تقریباً مکمل ہونے کا دعویٰ
    انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ جنگ تقریباً اپنے اختتام کے قریب ہے۔ ان کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا“میرا خیال ہے کہ جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ ایران کے پاس اب نہ بحریہ رہی ہے، نہ موثر مواصلاتی نظام، اور نہ ہی فضائیہ۔ ان کے میزائل منتشر ہو چکے ہیں اور ان کے ڈرون ہر جگہ تباہ کیے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ ان کی ڈرون بنانے والی فیکٹریاں بھی نشانہ بنائی جا رہی ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو فوجی لحاظ سے ان کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔”

    انٹرویو کے دوران صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ایکے لیے کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں امریکی صدر نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا “میرا ان کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے، بالکل بھی نہیں۔”