امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملے سے پہلے ہم نے وینزویلا میں کامیاب آپریشن کیا ،ہم نے ایران کے ڈرونز اور 46 بحریہ کے جہاز تباہ کیے ہیں ،اسرائیل کے ساتھ مل کر ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے جنگ لڑ رہے ہیں ،ایران کے پاس اب بچاؤ کے لیے کچھ نہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک چھوٹی مہم کی کیونکہ ہمیں کچھ برائی ختم کرنا ضروری محسوس ہوا۔اور میری سوچ ہے کہ آپ دیکھیں گے یہ ایک علاقائی، مختصر مہم ہی رہے گی،فلوریڈا کے شہر ڈورال میں ریپبلکن ارکان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت غیر معمولی کارکردگی دکھا رہا ہے۔ انہوں نے ایران میں جاری کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ہمارا ملک بہت اچھا کر رہا ہے، اس سطح پر جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ہم نے ایک چھوٹی سی مہم شروع کی کیونکہ ہمیں لگا کہ کچھ برائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ یہ ایک مختصر مدت کی مہم ثابت ہوگی۔”اپنی تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا “ہماری فوج کتنی شاندار ہے، ہے نا؟”
ان کے اس جملے پر حاضرین نے زور دار تالیاں بجائیں جبکہ صدر ٹرمپ نے “شارٹ ٹرم” یعنی مختصر مدت کی اصطلاح کو مزید دو مرتبہ دہرایا، جس سے انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جنگ زیادہ طویل نہیں ہوگی۔
ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے قبل امریکی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں لکھا تھا:
“ہم نے ابھی لڑائی شروع ہی کی ہے۔”اس پیغام کو ایران کے ساتھ ممکنہ طور پر طویل اور شدید فوجی تصادم کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ تہران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران خلیج فارس کے ممالک پر حملوں کو جاری رکھنے پر بھی غور کر سکتا ہے تاکہ امریکہ پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور واشنگٹن کو جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔
اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک دشمن کو مکمل اور فیصلہ کن شکست نہ دے دیں۔ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد اس بات کا کسی کو اندازہ نہیں کہ ملک کی قیادت کون سنبھالے گا،فلوریڈا میں ریپبلکن ارکانِ کانگریس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ” رہنما یا تو ختم ہو چکے ہیں یا ان کے ختم ہونے میں چند ہی لمحے باقی ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کی آئندہ قیادت کے بارے میں شدید غیر یقینی پائی جاتی ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے حکومتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور اس وقت واضح نہیں کہ ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اب کسی کو اندازہ نہیں کہ وہ لوگ کون ہوں گے جو اس ملک کی قیادت کریں گے۔”ایران کے پاس ایٹم بم آ جاتا تو یہ بہت مشکل صورتحال ہوتی ،ایران کے پاس اب کچھ بھی نہیں ہیں ،ایران ایک ہفتے میں حملہ کرنے والا تھا۔ایران کی فوجی اور میزائل صلاحیت کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نہ مانا تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔دُنیا اس وقت ہماری جتنی عزت کر رہی ہے، اتنی عزت پہلے کبھی نہیں تھی،ایران کو ایک بڑا اور طاقتور ملک سمجھا جاتا تھا۔اگر ہم بی ٹو بمبار سے حملہ نہ کرتے تو اسرائیل تباہ ہوچکا ہوتا، ہم نے ایران کو بری طرح کچل دیا اور آپ جانتے ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کب ہار مانیں گے، لیکن انہیں تو دو دن پہلے ہی ہار مان لینی چاہیے تھی، ہے نا؟لیکن اب ان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا۔دشمن (ایران) کے بڑے نام مٹ چکے ہیں اور اب کوئی نہیں جانتا کہ ان کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔ ہم اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک دشمن کو مکمل اور فیصلہ کن شکست نہ دے دیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر کے درمیان پیر کے روز ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں ایران سمیت متعدد بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی صدارتی معاون کے مطابق یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور رواں سال دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی براہِ راست بات چیت تھی۔یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ گفتگو کاروباری انداز، کھلے پن اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جیسا کہ روسی اور امریکی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں عموماً دیکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق صدر پیوٹن نے اس موقع پر ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے جلد سیاسی اور سفارتی حل کے لیے مختلف تجاویز اور خیالات پیش کیے۔اوشاکوف کے مطابق روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران سے متعلق بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوجی اقدامات کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بارے میں اپنا تجزیہ اور مؤقف پیش کیا، تاہم روسی حکام نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ٹرمپ نے اس بحران کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس حوالے سے مزید وضاحت کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے، تاہم تاحال امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس گفتگو پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔