Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاک بحریہ کی پہلی جدید ترین ہنگور کلاس آبدوز   کی کمیشننگ

    پاک بحریہ کی پہلی جدید ترین ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ

    بحری دفاع میں ایک اہم سنگ میل، پاک بحریہ کی پہلی جدید ترین ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ کی تقریب چین میں منعقد ہوئی جس کے بعد اسے بحریہ میں شامل کرلیا گیا ۔صدر آصف علی زرداری نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف بھی موجود تھے۔

    صدر زرداری نے ہنگور کی کمیشننگ کو پاک بحریہ کی جدت کے سفر میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے ایک مضبوط، متوازن اور قابلِ اعتماد دفاعی پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع، بحری مفادات کے تحفظ اور تجارتی گزرگاہوں کی سلامتی یقینی بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس موقع پر سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے اس بات پر زور دیا کہ اہم بحری گزرگاہوں کا تعطل عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بڑا خطرہ ہے ۔ اس تناظر میں ایک مستحکم اور عالمی قوانین پر مبنی بحری نظام کو برقرار رکھنے کے لیے جدید ترین بحری افواج ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنگور کلاس آبدوزیں جو جدید ترین ہتھیاروں، سینسرز اور ایئر انڈیپینڈنٹ پروپلشن سے لیس ہیں، خطے میں بحری استحکام کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی ۔ یہ آبدوزیں جارحیت کو روکنے اور بحیرہ عرب میں اہم سمندری تجارتی گزرگاہوں کی سلامتی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

    نیول چیف نے کہا کہ ہنگور کا نام ہماری قومی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں، سابقہ ‘ہنگور’ دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی بحری جہاز کو تباہ کرنے والی پہلی آبدوز تھی ۔ آبدوز ‘ہنگور’ اس شاندار ورثہ کو آگے بڑھائے گی کیونکہ یہ پاک بحریہ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے جو ہمارے بحری دفاع کو مضبوط اور ہمارے بیڑے کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرے گی۔پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور گہری دوستی کا ایک نیا باب ہے۔ تقریب میں پاک بحریہ اور پی ایل اے (نیوی) کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

  • وزیراعظم نےکیا اپنا گھر اسکیم کا افتتاح،گھر بنانے کیلئے ملے گا قرض

    وزیراعظم نےکیا اپنا گھر اسکیم کا افتتاح،گھر بنانے کیلئے ملے گا قرض

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بجٹ میں ہم بڑی چیزیں لے کر آئیں گے، وزیرِ اعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے قرض کا حصول آسان بنایا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں وزیرِ اعظم اپنا گھر اسکیم کے اجراء کی تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی شرکت کی، اس اسکیم کے تحت ایک کروڑ تک قرض آسان شرائط پر دستیاب ہوگا،اس اسکیم کا اطلاق چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں ہوگا،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسکیم کا باقاعدہ اجرا کیا اور اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے گھر سے محروم ہے، لوگوں کو چھت کی فراہمی مقدس فریضہ ہے، گھر کے لیے قرض حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دیتا ہوں، عام آدمی کو چھت کی فراہمی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے، یہ اسکیم چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے بھی ہے،
    اپنا گھر سکیم ریاست کا مقدس فریضہ ہے۔،پاکستان میں آج بھی لاکھوں لوگ اپنی چھت سے محروم ہیں، کئی کے لیے نیلا آسمان ہی چھت اور زمین ہی فرش ہے۔ یہ منصوبہ بے پناہ محنت، مشاورت اور عزم سے ممکن ہوا، جس میں اسحاق ڈار، وزیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک و دیگر کا اہم کردار رہا،اسکیم کے تحت پہلا ہدف 50 ہزار گھروں کے لیے قرض ہے، اس اسکیم کے لیے 321 ارب روپے کی فنانسنگ مختص کی گئی ہے، آئندہ 4 برس میں ہمارا ہدف 5 لاکھ گھروں کا ہے، اس اسکیم کا حجم 3.2 کھرب روپے کا ہے، 10 مرلے کی زمین تک گھر بنایا جا سکے گا،اس قرضے کی مدت 20 سال ہے، مارک اپ 5 فیصد ہوگا اور ایک کروڑ روپے تک قرضہ دیا جائے گا، میں اس اسکیم کا ہر مہینے خود جائزہ لوں گا، جو بینکس اس اسکیم میں لیڈ لیں گے وہ ہمارے سروں کے تاج ہوں گے، ان بینکوں کو ہم 14 اگست کو ایوارڈ دیں گے، اس سے انڈسٹری اور کامرس چلے گی اور ملک میں خوشحالی کے دروازے کھلیں گے

  • پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور علی ریاض کے ریڈ وارنٹ جاری

    پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور علی ریاض کے ریڈ وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن کراچی سے منسلک مبینہ منی لانڈرنگ اور اربوں روپے کی کرپشن کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین نے اعلان کیا ہے کہ معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

    چیئرمین نیب نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا، جبکہ انہیں دبئی سے حراست میں لے کر پاکستان واپس لانے کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرپول نے نیب کی درخواست پر ریڈ نوٹس جاری کیے، جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مبینہ بڑے پیمانے کی کرپشن کے کیسز کے تناظر میں ہیں۔

    نیب حکام کے مطابق ملک ریاض کے خلاف 900 ارب روپے سے زائد مالیت کے کیسز کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، جن میں منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثوں کے الزامات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ملک میں احتساب کے عمل کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

  • وزیراعظم  سے یورپی یونین کے سینئر حکام،کاروباری نمائندوں کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے یورپی یونین کے سینئر حکام،کاروباری نمائندوں کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے یورپی یونین کے سینئر حکام اور ممتاز یورپی کمپنیوں کے کاروباری نمائندوں کے وفد نے آج صبح وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ وفد کی قیادت یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے ڈائریکٹر (ایشیا پیسفک) مسٹر پیٹرس اسٹبس کررہے تھے.

    وفد میں ڈائریکٹر انٹرنیشنل پارٹنرز ، یورپین انویسٹمنٹ بینک تھوریا تریکی (Thourya Triki) ، ایڈیڈاز (Adidas)کے نائب صدر مینیول پاؤزر (Manuel Pauser) ، ایندراتز (Andritz)کے نائب صدر کارل شلوگل باؤر ( Karl Shloegelbauer) آئیکیا (IKEA) کے ریجنل ڈائریکٹر ڈائیٹر میٹکے (Dieter Metkke) شامل تھے۔ وفد میں پاکستان میں تعینات یورپی یونین کے سفیر عزت مآب ریمنڈس کیروبلس بھی موجود تھے.

    وزیراعظم نے یورپی یونین کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور یورپی یونین پاکستان بزنس فورم میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور پاکستان سے برآمدات کے سب سے زیادہ حجم کی منزل ہے۔ یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ انہوں نے یورپی یونین کے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے یورپی یونین کے وفد کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سمیت علاقائی چیلنجوں کے باوجود معیشت کے استحکام کے لیے کام جاری رکھنے کے لیے حکومت پاکستان کے پختہ عزم کا یقین دلایا۔ اس سلسلے میں، وزیر اعظم نے خاص طور پر یورپی یونین کونسل کے صدر عزت مآب انتونیو کوسٹا، کے ساتھ اپنی دو حالیہ ٹیلی فونک روابط کا ذکر کیا جن میں علاقائی سلامتی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہء خیال کیا گیا تھا۔

    خطے میں امن کی کوششوں میں وزیراعظم کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے یورپی یونین کے وفد نے یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کی میزبانی میں بھرپور تعاون کرنے پر حکومت کی تعریف کی۔ وفد کے اراکین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اپنے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان توانائی، مواصلات، آئی ٹی وغیرہ سمیت مختلف شعبوں میں B2B تعلقات کو مزید فروغ دینے کے قوی امکانات ہیں۔پاکستان کی جانب سے ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونین خصوصی سید طارق فاطمی اور ہارون اختر خان کے علاوہ سینئر حکومتی حکام بھی موجود تھے۔

  • طالبان کی بلا اشتعال جارحیت،پاکستانی سیکورٹی فورسز کابھرپورجواب،چوکیاں تباہ

    طالبان کی بلا اشتعال جارحیت،پاکستانی سیکورٹی فورسز کابھرپورجواب،چوکیاں تباہ

    پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بلا اشتعال جارحیت کے بعد پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت پر بھرپور کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو تباہ کردیا ہے جبکہ افغان طالبان کی سرشان، المرجان، ایدھی پوسٹ، گاڑی اور دیگر تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کا دفاعِ وطن کے لیے عزم غیرمتزلزل ہے، دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے عزائم خاک میں ملا دیے جائیں گے، آپریشن غضب للحق تمام مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

  • پہلگام فالس فلیگ،بھارتی میڈیا کا حقائق کے برعکس پاکستان کیخلاف زہریلا بیانیہ بے نقاب

    پہلگام فالس فلیگ،بھارتی میڈیا کا حقائق کے برعکس پاکستان کیخلاف زہریلا بیانیہ بے نقاب

    پہلگام فالس فلیگ پر بھارتی میڈیا کا حقائق کے برعکس پاکستان کیخلاف زہریلا بیانیہ بے نقاب ہوچکا ہے۔

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد مودی کے کٹھ پتلی گودی میڈیا نے مضحکہ خیزاور گمراہ کن پروپیگنڈا کیا۔جنگی جنون میں مبتلا بھارتی میڈیا نے پاکستان کیخلاف بدلہ لینے اور حملہ کرنے کیلئے اشتعال انگیزی پھیلائی۔بھارتی میڈیا مودی کے مذموم سیاسی عزائم کیلئے مسلمان دشمنی کے زہر کو بھی معاشرے میں بھرتا رہا ۔بھارتی صحافیوں اور حکام کی میٹنگ کی اندرونی کہانیوں نے بھارتی سکیورٹی ناکامی کی قلعی کھول دی ۔بھارتی میڈیا نے صحافتی اقدار کو پس پشت ڈال کر منصوبہ بندی کے تحت پاکستان مخالف منفی بیانیہ پھیلایا ۔مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے عوام نے بھی پہلگام ڈرامہ کو مودی کی سازش قرار دے کر یکسر مسترد کیا۔

    عالمی ماہرین کےمطابق بھارتی گودی میڈیا نے جنگ کے سنجیدہ ماحول میں سنسنی خیزی اور ریٹنگ کیلئے لاہور پورٹ پر حملے جیسے مضحکہ خیز دعوے بھی کیے۔ آپریشن سندور کے تناظر میں بھارتی میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ اور جھوٹ پر مبنی طرزِ عمل کو دنیا نے صحافتی اصولوں کے منافی قرار دیا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، وزیراعظم شہباز شریف ذاتی حیثیت میں طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ، وزیراعظم شہباز شریف ذاتی حیثیت میں طلب

    اسلام آبادہائیکورٹ نے پی ٹی اے ٹربیونل کے ممبر فنانس کی عدم تعیناتی کے کیس میں وزیراعظم شہباز شریف کو 18 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے وزیراعظم شہباز شریف کو طلب کیا اور ریمارکس دیے کہ وزیراعظم 18 مئی کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں، وزیراعظم آکر بتائیں کہ ٹربیونل کے ممبر فنانس کی تعیناتی کیوں نہیں ہوئی؟اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک ریٹائرڈ جج ٹربیونل کے ممبر تعینات ہوئے ہیں، جس پر محسن اختر کیانی کے ریمارکس دیے کہ ریٹائرڈ ججز نے زیادہ بیڑا غرق کیا ہوا ہے، ریٹائرڈ ججز کو ٹربیونلز میں جانے کا زیادہ شوق ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا رات کو ان کو سیلوٹ یاد آتے ہیں تو وہ سونے نہیں دیتے، کسی کا دل چاہتا ہے تو این آئی آر سی میں لگ جاتا ہے تو کوئی کسی اور ٹربیونل میں تعینات ہو جاتا ہے،18 مئی تک ممبر فنانس کو تعینات نہ کیا گیا تو وزیراعظم عدالت میں پیش ہوں، عدم تعیناتی پر وزیراعظم آکر بتائیں کہ ممبر فنانس کی تعیناتی کیوں نہیں ہوئی۔

  • پاکستان اور چین کے درمیان کراچی کیلئے اہم منصوبوں پر تعاون، 3 ایم او یوز پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان کراچی کیلئے اہم منصوبوں پر تعاون، 3 ایم او یوز پر دستخط

    چین کے صوبے ہونان کے شہر چانگشا میں پاکستان اور چین کے درمیان کراچی کے لیے اہم ترقیاتی منصوبوں سمیت تین مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

    ان معاہدوں کے تحت کراچی میں پانی کی قلت کے حل، زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور چائے کی صنعت میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔پہلی مفاہمتی یادداشت سندھ کے محکمہ بلدیات اور چینی کمپنی لوشیئن انوائرمنٹل ٹیکنالوجی گروپ کے درمیان طے پائی۔ اس معاہدے کے تحت کراچی کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے سمندری پانی کو میٹھا بنانے (ڈی سیلینیشن) کے منصوبے پر مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔اس معاہدے پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور چینی کمپنی کے پارٹی برانچ سیکرٹری و چیئرمین یوہوئی نے دستخط کیے۔

    دوسرا سمجھوتہ سندھ کے محکمہ بلدیات اور چینی کمپنی لانگ پن ہائی ٹیک انفارمیشن کمپنی کے درمیان ہوا، جس کا مقصد زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔اس ایم او یو پر شرجیل انعام میمن اور کمپنی کے چیئرمین چن ژی شین نے دستخط کیے۔تیسری مفاہمتی یادداشت چائے کے شعبے سے متعلق ہے، جو مسکے اینڈ فیمٹی ٹریڈنگ کمپنی، ہونان ٹی گروپ اور جیالونگ انٹرنیشنل ٹیکنالوجی (ہینان) کے درمیان طے پائی۔پاکستان کی جانب سے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ چینی اداروں کی نمائندگی چیئرمین ژو چونگ وانگ اور چیئرمین ہاؤ جیاولونگ نے کی۔

    اس معاہدے کا مقصد چائے کی صنعت کی ترقی، صنعتی تعاون کے فروغ اور پاکستان و چین کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں، جن سے نہ صرف کراچی کی پانی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ زرعی اور صنعتی شعبے بھی ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوں گے۔

  • پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کامکروہ کرداربے نقاب

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کامکروہ کرداربے نقاب

    خفیہ دستاویز منظرِعام پر آنے سے پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کامکروہ کرداربے نقاب ہوگیا۔بھارت میں سیاسی عزائم کی تکمیل اورانتہاء پسندی سے توجہ ہٹانے کیلئےریاستی سرپرستی میں فالس فلیگ آپریشنزتاریخ کا سیاہ باب ہیں۔

    پہلگام واقعہ کےفوری بعد بھارتی خفیہ ایجنسی را کی لیک شدہ دستاویزنےفالس فلیگ سازش کو بے نقاب کردیا تھا۔را کی لیک دستاویز میں واضح ہدایات موجود تھیں کہ ضلع اننت ناگ میں منصوبہ بندی کے تحت ایک فالس فلیگ آپریشن کیاجائے گا۔دستاویزمیں واضح تھا کہ فالس فلیگ کے بعد منظم طورپرمیڈیا کےذریعے یہ بیانیہ ترتیب دیا جائے گاکہ غیرمسلموں پرحملہ کردیاگیا ہے۔

    را دستاویز کےمطابق سوشل میڈیا پر200 سےزیادہ اکاؤنٹس کومتحرک کرکے پاکستان مخالف بیانیے میں شدت لائی جائے گی۔ فالس فلیگ کے3 گھنٹوں کے اندربھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کوموردِ الزام ٹھہرانے کی گمراہ کن مہم بھی اس دستاویزکا حصہ تھی۔دستاویزمیں یہ بھی نمایاں تھا کہ اس فالس فلیگ کو بنیاد بناکرعالمی برادری سے انسدادِ دہشتگردی میں تعاون کی اپیل کی جائے گی۔لیک دستاویز نے پاکستان کےمؤقف کومزید تقویت دی کہ پہلگام ایک فالس فلیگ آپریشن تھا،جو بھارتی ریاستی سرپرستی میں جاری پرانی پلے بک کا تسلسل ہے ۔ماہرین کے مطابق ان دستاویزات سے واضح ہواہے کہ پہلگام محض حادثہ نہیں تھا بلکہ سیاسی عزائم کیلئے ترتیب دیا گیا ایک مذموم منصوبہ تھا۔ان دستاویزات نے ہندوتوا نظریات کے زیرتسلط بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دہشتگردانہ عزائم کو بے نقاب کردیا ہے۔

  • پہلگام فالس فلیگ ،بھارت سکیورٹی ناکامی پر سوالات کا جواب دینے سے قاصر

    پہلگام فالس فلیگ ،بھارت سکیورٹی ناکامی پر سوالات کا جواب دینے سے قاصر

    پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت سکیورٹی اور انٹیلی جنس ناکامی پر اٹھنے والے کڑے سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں مجرمانہ سکیورٹی غفلت اور نااہلی پر سخت سوالات کا بھارت آج تک جواب نہ دے سکا۔

    بی جے پی کی پہلگام فالس فلیگ کی منظم سازش کیخلاف بھارتی عوام نے بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے۔بھارتی عوام نے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے بی جے پی کے پرانے ہتھکنڈے کو یکسر مسترد کیا۔بی بی سی نے بھی پہلگام فالس فلیگ کے ڈرامے پر کئی سوالات اٹھائے جن کے جوابات مودی سرکار آج تک نہیں دے سکی۔7 لاکھ سے زائد بھارتی فوج کے باوجود ہونے والے واقع پر بھارتی عوام نے مودی حکومت اور سکیورٹی ناکامی کو مورد الزام ٹھہرایا۔کشمیر کے عوام اور بھارتی سیاسی جماعتوں نے پہلگام فالس فلیگ ڈرامے کو منصوبہ بندی ، سکیورٹی فیلئیر اور سازش قرار دیا۔

    ماہرین کے مطابق بھارت اڑی 2016ء، پلوامہ 2019ء اور پہلگام2025ء جیسے فالس فلیگ کرنے میں تاریخ رکھتا ہے۔پہلگام فالس فلیگ کے بعد دنیا نے بھارت کے مظلومیت پر مبنی جھوٹے بیانیہ کو یکسر مسترد کیا۔