افغانستان کی عبوری حکومت باز نہ آئی، پاکستان کی طرف ڈرون بھیج دیئے،راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی شام ڈرون سرگرمیوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ احتیاطی اقدامات کے طور پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو ڈرون پشاور اور دیگر شمالی علاقوں سے پرواز کرتے ہوئے اٹک کے راستے راولپنڈی کی سمت بڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔ اطلاعات کے مطابق شام تقریباً 7 بج کر 15 منٹ پر یہ ڈرون اٹک شہر کے اوپر سے گزرے اور ان کی ممکنہ سمت واہ کینٹ اور اسلام آباد بتائی جا رہی تھی۔دوسری جانب کوہاٹ کینٹ کے علاقے میں مبینہ کامی کازی ڈرون حملے کی تین مختلف جگہوں پر اطلاعات موصول ہوئیں۔پہلا دھماکہ صبح 7 بج کر 55 منٹ پر جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔دوسرا واقعہ صبح 8 بج کر 55 منٹ پر پاک فضائیہ کے آفیسرز میس کے قریب پیش آیا جبکہ تیسرا واقعہ صبح 9 بج کر 7 منٹ پر پاک فضائیہ کے افسران کی رہائشی کالونی کے قریب لاگ ہاؤس کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث ابھی ان مقامات کا مکمل تکنیکی تجزیہ نہیں کیا جا سکا۔
ادھر 13 مارچ 2026 کو شام تقریباً 7 بجے راولپنڈی کے حمزہ کیمپ میں ایک ڈرون گرنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق ڈرون بلاک 28 کی افسران کی رہائش گاہ کی بالائی منزل سے ٹکرایا تاہم خوش قسمتی سے اس میں دھماکہ نہیں ہوا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مزید اطلاعات کے مطابق ایک اور ڈرون اسلام آباد کے سیکٹر I-8 کے قریب گرنے یا ٹکرانے کی خبر بھی زیر گردش ہے،
صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے 100 فیصد اسٹینڈ ٹو نافذ کر دیا ہے، کینٹ کے تمام چیک پوسٹس بند کر دی گئی ہیں اور صرف محدود آمد و رفت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ فوری ردعمل کی فورسز کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے جبکہ سی ایم ایچ کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔حکام کے مطابق شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور غیر ضروری طور پر حساس مقامات کے قریب جانے سے احتیاط کریں۔
