Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بی ایل اے کی دہشتگردی ،پاکستان سمیت خطے بھر کے لئے سنگین خطرہ

    بی ایل اے کی دہشتگردی ،پاکستان سمیت خطے بھر کے لئے سنگین خطرہ

    کوئٹہ: بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے بلوچ عوام کے حقوق کے نام پر ایسی کارروائیوں میں ملوث ہے جن کے باعث مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

    مبصرین کے مطابق سپلائی گاڑیوں، ریلوے نظام اور مواصلاتی ڈھانچے پر حملوں سے نہ صرف تجارتی راہداریوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی محدود ہوتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق مختلف ممالک نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے اگست 2025 میں جبکہ آسٹریلیا اور برطانیہ نے 2026 میں بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا۔

    عالمی نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ سمیت متعدد بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی بلوچستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے پس منظر پر رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ ان تجزیوں میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خطے میں سرگرم بعض شدت پسند گروہوں کے بیرونی روابط اور معاونت کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔سکیورٹی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے سے سب سے زیادہ نقصان مقامی آبادی اور کاروباری طبقے کو پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کی پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے امن و استحکام ناگزیر ہے۔

    دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، مواصلاتی رابطوں اور اقتصادی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ صوبے کے عوام کو معاشی ثمرات پہنچ سکیں اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست ،بھارت کی عالمی سطح پر ہزیمت کا سفر تاحال جاری

    معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست ،بھارت کی عالمی سطح پر ہزیمت کا سفر تاحال جاری

    اسلام آباد: معرکۂ حق میں بھارت کو درپیش ناکامی کے اثرات عالمی سطح پر نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ دفاعی اور سفارتی حلقوں میں جاری بحث کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے انڈو پیسیفک کمانڈ کے نام میں تبدیلی کرتے ہوئے دوبارہ "یو ایس پیسیفک کمانڈ” کی اصطلاح کو اہمیت دینا شروع کر دی ہے، جسے خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی اور تزویراتی ترجیحات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں چین اور پاکستان کا بڑھتا ہوا جغرافیائی، معاشی اور عسکری کردار عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے باعث پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ چین کے ساتھ اس کی شراکت داری بھی مزید مضبوط ہو رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اور امریکا کے تعلقات میں بھی بعض معاملات پر سرد مہری کے آثار دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے جانے کے فیصلے کو بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں پیدا ہونے والی نئی پیچیدگیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی صورتحال نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ بھارت اب خطے میں اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرنے یا پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ ان کے مطابق پاکستان نے دفاعی، سفارتی اور معاشی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مؤثر اظہار کیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر اس کے مؤقف کو زیادہ توجہ مل رہی ہے۔دفاعی مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں جنوبی ایشیا میں نئی صف بندیاں اور تزویراتی شراکت داریاں جنم لے سکتی ہیں، جن میں پاکستان اور چین کا کردار مزید اہم ہونے کا امکان ہے۔

  • امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    امریکا اور ایران کے صدور نے جنگ ختم کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، جس کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔

    اس بارے میں وائٹ ہاؤس اور ایران نے تصدیق کر دی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں،امریکی ویب سائٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں، معاہدے پر دستخط پہلے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے تاہم ایک ثالث ملک کے سفارتکار اور ایک دوسرے ذریعے نے گزشتہ روز بتایا کہ فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور جلد عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔

    سفارتی ذریعے کے مطابق اس پیشرفت کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا تھا کیونکہ دونوں فریق اس معاملے پر پہلے ہی متفق تھے، اس عمل میں ایک وجہ وائٹ ہاؤس پر معاہدے کے متن کو جاری کرنے کیلئے بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں اور معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے میزائل صرف فائر کرنے کے لیے ہیں، مذاکرات کے لیے نہیں۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، تاہم افزودہ یورینیم کو کم افزودہ کرنے کا آپشن موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارسی اور انگریزی زبان میں موجود دستاویزات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہیں اور دوسرے فریق نے بھی اس یادداشت پر دستخط کیے ہیں معاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران دوسرا فریق خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا۔ بقائی نے زور دیا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر تیل کی فروخت شروع کرنے کے قابل ہونا چاہیے، جبکہ یہ صورتِ حال کم از کم 60 دن تک برقرار رہنی چاہیے۔

    اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا ایران کے منجمد فنڈز تک رسائی میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کرنے کا پابند ہوگا، آبنائے ہرمز کا معاملہ ایران اور عمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کسی بھی حملے کو معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا 60 روزہ مدت کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک نے جاری تنازع کے سفارتی حل پر اتفاق کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے اس معاہدے کی ثالث کے طور پر توثیق کی ہےدونوں فریق تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے پُرعزم ہیں جبکہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا ابتدائی اقدامات کے تحت ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا،یہ پیش رفت خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سفارتی عزم اور مذاکراتی عمل پر اعتماد نے ایک ایسے تنازع کے خاتمے میں مدد دی جو خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا،انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی مسلسل کاوشوں نے معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی دوراندیشی اور امن کے لیے عزم کو بھی خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے صبر، ثابت قدمی اور تعمیری مذاکراتی انداز نے اس معاہدے کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا بیان میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی سراہا گیا، ان ممالک کی سفارتی معاونت اور تعمیری تعاون مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوا۔

    شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک کوششیں، غیر معمولی لگن اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خدمات اس پیش رفت میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پورے خطے میں امن، باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھے گی انہوں نے دعا کی کہ یہ معاہدہ مستقبل میں مستقل استحکام اور علاقائی ترقی کا ذریعہ ثابت ہو۔

    ایرانی صدر نےدستخط شدہ معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی دستخط موجود ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دو ملکوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ الیکٹرانک دستخط کے ذریعے ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تقریب جعمہ کو سوئزرلینڈ میں طے ہے جس میں امریکی، ایرانی وفود سمیت ثالثی کا اہم کردار ادا کرنے والے پاکستان سمیت سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کے قائدین بھی شریک ہوں گے، معاہدے پر ایرانی اور امریکی دونوں صدور کی دستخط کے بعد سوئزرلینڈ میں ہونے والی طے شدہ ملاقات کے حوالے سے فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

  • مبشر لقمان کا ہسپتال سے اہم پیغام

    مبشر لقمان کا ہسپتال سے اہم پیغام

    لندن: سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے لندن کے اسپتال سے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ گزشتہ کئی روز سے علیل ہیں اور لندن آمد کے روز ہی ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں‌مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کافی دن سے میں کام نہیں کر سکا کیونکہ میں بیمار تھا،10 جون کو لندن پہنچا اور اسی شام طبیعت بگڑنے پر ایمرجنسی میں داخل ہونا پڑا،تب سے ابھی تک یہیں ہوں، بے انتہا میسج کالز آ رہی ہیں،دوستوں کی،کولیگز کی،فین کی،سب کا بہت بہت شکریہ،دوسرا ان لوگوں کے میسج بھی آ رہے ہیں جو یقین کرنے کے لئے میسج کر رہے کہ واقعی بیمار ہے یا نہیں، چلیں انکا بھی شکریہ، میرے لئے ممکن نہیں تھا کہ ہر ایک کا فون سنوں، ہر ایک کا جواب دوں،جب میں وارڈ ہوتا ہوں تو کچھ نہیں کر سکتا،ہسپتال میں ویسے بھی فون سے دور ہی ہونا چاہئے، اللہ کرم کرے گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بیمار میں ہوا ہوں دکان پتہ نہیں کس کس کی کھل گئی ہے،مختلف چیزیں لوگ پھیلا رہے ہیں، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں آؤٹ آف بارڈر ہوں اور دھڑا دھڑ انٹرویو کا سلسلہ شروع کر دیا، فکر نہ کریں میں بہتر ہو رہا ہوں،جو پروگرامز کر رہے ہیں انکا بھی مجھے پتہ ہے، جن لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور غلط خبریں ان میں سے چند ایک ہیں جن کو جواب دینا بنتا ہے،الحمدللہ میں‌ٹھیک ہو گیا ہوں، فکر کی کوئی بات نہیں، میں اب بھی زیر علاج ہوں،صحت میں بہتری آ رہی ہے، دوست یاد کرتے ہیں، فکر کرتے ہیں، اچھی بات ہے،دعاؤں پر مداحوں، دوستوں اور ساتھیوں کا شکریہ ادا ہوں،سوشل میڈیا پر بیماری سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، لیکن جلد صحت یاب ہو کر معمول کی سرگرمیوں میں واپس آؤں گا کوشش کروں گا کہ کل سے اگلا پروگرام ریکارڈ کروا دوں،

  • کشمیری احتجاج کو ختم کرکے بامقصد مذاکرات کا راستہ اختیار کریں،نواز شریف

    کشمیری احتجاج کو ختم کرکے بامقصد مذاکرات کا راستہ اختیار کریں،نواز شریف

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اور پارٹی کی سینئر قیادت نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران نواز شریف نے آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مسئلہ کشمیر کے حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت ملنا چاہیے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ آزاد کشمیر کے عوام کے آئینی و بنیادی حقوق اور خطے کی تعمیر و ترقی کو ترجیح دی ہے۔نواز شریف نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہم سب کا ہے اور عوامی حقوق کے حصول کے لیے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) تمام جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

    مسلم لیگ (ن) کے صدر نے آزاد کشمیر کے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے نظریاتی اور فکری رشتے کو برقرار رکھتے ہوئے پرامن رہیں، دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں کو ختم کرکے بامقصد مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آزاد کشمیر کے عوام، حکومت پاکستان، آزاد کشمیر حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کردار ادا کریں گی۔اجلاس میں نواز شریف نے کہا کہ ہمیں بھائی چارے، برداشت اور رواداری کی سیاست کو فروغ دینا چاہیے۔ کشمیری عوام نے پاکستان کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں جبکہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھتے ہوئے ان کا ساتھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت پاکستان اور ملکی دفاعی اداروں نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس لیے کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس سے دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو تقویت ملے۔

    اجلاس کے شرکاء نے آزاد کشمیر میں حالیہ واقعات کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مرحومین کی مغفرت کے لیے دعا کی۔اس موقع پر نواز شریف نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں انتخابی مہم مؤثر انداز میں چلانے پر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی خدمات کو بھی سراہا۔

  • میرپور میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ کے گھر مشکوک سرگرمیوں کا انکشاف، اسلحہ برآمد

    میرپور میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ کے گھر مشکوک سرگرمیوں کا انکشاف، اسلحہ برآمد

    میرپور میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ کے گھر مشکوک سرگرمیوں کا انکشاف، اسلحہ برآمدکر لیا گیا

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ڈیڈیال میرپور میں کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی کے ممبر مہران کے گھر پر چھاپہ مارا،دوران تلاشی گھر سے ایک عدد ڈرون، بارہ بور گن، گولیاں، ایک پسٹل برآمد کر لیا گیا،دوران تلاشی اسلام آباد پولیس سے چھینا گیا ہیلمیٹ اور مشکوک سامان بھی برآمد کر لیا گیا،ملازم شاہد اسلام نے بتایا کہ مہران نے دھرنے میں جاتے ہوئے سامان منتقل کرنے کیلئے دو ایمبولینسز گھر منگوائی تھیں،ایمبولینسز کے ذریعے اسلحہ، گولیاں اور دیگر سامان خفیہ طور پر مظفر آباد منتقل کیا گیا، مہران پانچ کلاشنکوفیں، دو بارہ بور بندوقیں اور بڑی تعداد میں گولیاں بھی ساتھ لے کر گیا ، پتھر، کانچ کی بوتلیں اور غلیلیں بھی دھرنے کے لیے استعمال کی جاتی رہیں،بھاری مقدار میں نقد رقم اور سرغنہ لطیف ڈار کی طرف سے دی گئی رقم بھی ساتھ لے کر گیا ، 29 ستمبر کے لانگ مارچ میں چھینی پولیس شیلنگ گنز بذریعہ ایمبولینس مظفر آباد منتقل کی گئیں، دھرنے میں مہران 2 کلو چرس بھی ساتھ لے کر گیا ، مہران کے ساتھ 6 سے 7 اشتہاری ڈاکو اور منشیات مافیا سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے،

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مہران کے گھر سے برآمد اسلحہ اور دیگر مشکوک سامان ثبوت ہے سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا،کالعدم تنظیم کی جانب سے عوامی حقوق کی آڑ میں اسلحہ کے زور پر منظم بغاوت کی تیاریاں کی گئیں، اسلام آباد پولیس کا ہیلیمٹ برآمد ہونا ثابت کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،

  • کیپٹن علی عامر شہید کے والد کا بیٹے کی شہادت پر قوم کے نام دل کو چھو جانے والا جذباتی پیغام

    کیپٹن علی عامر شہید کے والد کا بیٹے کی شہادت پر قوم کے نام دل کو چھو جانے والا جذباتی پیغام

    شمالی وزیرستان میں وطن عزیز کے دفاع کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے کیپٹن علی عامر شہید کے والد نے اپنے بیٹے کی نمازِ جنازہ کے موقع پر قوم کے نام ایک نہایت جذباتی اور حب الوطنی سے بھرپور پیغام دیا، جس نے حاضرین کے دلوں کو چھو لیا۔

    کیپٹن علی عامر شہید کے والد نے کہا کہ پاک آرمی کا ہر سپاہی اللہ کا سپاہی ہے اور ان کا بیٹا پاکستان اور عالمِ اسلام کی خدمت اور دفاع کے لیے پاک فوج کا حصہ بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کا گھر ہے اور اگر کوئی باعزت اور باغیرت شخص اپنے گھر کی حفاظت نہ کرے تو پھر کوئی دوسرا اس کی حفاظت نہیں کر سکتا۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اللہ کا کرم ہے کہ ان کے بیٹے کو شہادت کا عظیم رتبہ حاصل ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے ایک عامر تو کیا، اگر ضرورت پڑی تو وہ ہزار عامر بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔شہید کے والد نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ان کے دیگر بیٹے اور پوتے بھی پاک فوج میں شامل ہو کر ملک و قوم کی حفاظت کا فریضہ انجام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کی سلامتی اور بقا کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ کیپٹن علی عامر نے شمالی وزیرستان میں فرض کی ادائیگی کے دوران دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ وطنِ عزیز آج کیپٹن علی عامر جیسے بہادر شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کی عظیم قربانیوں کی بدولت قائم و دائم ہے۔

    کیپٹن علی عامر شہید کے والد کا جذبہ اور عزم اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ جب تک ایسے بہادر اور محبِ وطن والدین موجود ہیں، پاکستان کے دشمن اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

  • ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔سکیورٹی ذرائع

    ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔سکیورٹی ذرائع

    سکیورٹی ذرائع نےکہا ہےکہ پاکستان امریکا ایران کے معاملے پر ایک ایسے ایشو کو ڈیل کر رہا ہے جو بہت پیچیدہ ہے۔

    اعلیٰ سکیورٹی حکام نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اس میں کردار ثالث کا ہے، فیلڈ مارشل کا اس معاملے میں ایک ہی انٹرسٹ ہے، وہ ہے امن اور استحکام،سکیورٹی ذرائع نے بتایا اگر یہ جنگ نہ رکتی تو اس کے سنگین نتائج ہوتے، ہم ہیڈلائن ڈپلومیسی میں دلچسپی نہیں رکھتے، پاکستان نے ثالثی کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں ، دنیا کو آہستہ آہستہ اس کا ادراک ہو رہا ہےکہ پاکستان نےکیا کیا ہے۔عظیم لڑائی وہ ہوتی ہے جہاں آپ بغیر لڑے جنگ جیتیں، ابھی بھی اس معاملے میں بگاڑ پیدا کرنے والے موجود ہیں، اسرائیل کا انٹرنیشنل میڈیا پر اثر و رسوخ ہے، قطر، سعودی عرب، ترکیے، مصر اور یو اے ای کو بھی اس کا کریڈٹ جاتا ہے، ان سب ممالک نے پاکستان کی امن کی خواہش پر لبیک کہا۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب امریکا سب ممالک کے ساتھ الگ الگ تعلقات ہیں، افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے بھارت کے دورے سے ہمیں فرق نہیں پڑتا، کون کس سے مل رہا ہے اس سے ہمیں فرق نہیں پڑتا، ہم اتنے تنگ نظریےکے ساتھ چیزوں کو نہیں دیکھتے، ہمارے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق 15 جون 2026 تک 32092 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیےگئے، دہشتگردی کی 2170 کارروائیاں ہوئیں، 64 فیصد خیبرپختونخواہ اور 34 فیصد بلوچستان میں ہوئیں، 1861 دہشتگردوں کو ہلاک کیاگیا، 640 پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور شہری شہید ہوئے، 862 دہشتگرد غضب للحق آپریشن افغانستان میں مارےگئے باقی 999 پاکستان میں ہلاک ہوئے۔

    سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا پہلا نشان حیدر کشمیر سے ہے، ہمارا ایشو دہشتگرد رجیم سے ہے وہاں کی عوام سے نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی نے بھی پیسا لگایا، مقبوضہ کشمیر میں نقل و حرکت اور اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے، سوال کیا کہ کیا وہ وہاں کے مسلمانوں کو خرید سکتے ہیں؟ کیا وہاں سے پاکستان کیلئے لوگوں کے جذبات سامنے نہیں آئے، بھارت مقبوضہ کشمیرکا ملٹری کے ذریعے بھی کچھ نہ کرسکا اس لیے آزاد کشمیر میں آگ لگائی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک سے آغاز کیا گیا، ہماری ڈیفالٹ آپشن ہمیشہ بات چیت ہوتی ہے، اصل کہانی کیا ہے یہ سامنے آنے میں وقت لگا، ہمیں پتا تھا جے اے اے سی کا ایجنڈا کیا ہے، یہ کدھر سے آرہے ہیں، بی وائے سی کو جب دہشتگرد تنظیم کہا گیا تب بھی بہت شور مچا تھا، پھر بی وائے سی بھی کھل کر سامنے آگئی۔آزاد کشمیر حکومت نے لوگوں کو کہا ہے اپنی دکانیں کھولیں لیکن جے اے اے سی نے عوام کو کہا ہے جو دکانیں کھولے گا ہم آگ لگا دیں گے۔ آزاد کشمیر حکومت پولیٹیکل پراسیس فالو کررہی تھی، آزاد کشمیر میں بیٹھ کر ریاست مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں، ریاست پیار محبت سے ڈیل کررہی ہے، ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔ ہر لمحے جے اے اے سی مزید کھل کر سامنے آرہی ہے، ان کو آئینی، قانونی طریقے سے ڈیل کیا جائے گا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہمارے اندرونی چیلنجز میں دہشتگردی بھی ہے، اب جنگ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوچکی ہے، اس تناظر میں بجٹ کم ہے، ملٹری اور سیاسی لیڈر شپ کو بھی اس کا احساس ہے۔ فوج میں 40 فیصد کےقریب جوان کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔

    سیکورٹی ذرائع نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی تردید کردی، بتایا گیا کہ 9 مئی کرنے اور کروانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، جو روپوش ہیں تو قانون اپنا راستہ لےگا

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی ، فتنہ الہندوستان کا ایک اہم کمانڈرجہنم واصل

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی ، فتنہ الہندوستان کا ایک اہم کمانڈرجہنم واصل

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع مستونگ کے علاقے کانغر سے تعلق رکھنے والا فتنہ الہندوستان کا اہم کمانڈر سفر خان لکپاس کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہوگیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا تخریب کار فتنہ الہند کے آپریشن "ہیروف 2” میں مرکزی کردار کا حامل تھا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔سفر خان پر بلوچ عوام اور کاروباری شخصیات کی گاڑیوں اور سامان کی لوٹ مار، املاک کو نذرِ آتش کرنے، بھتہ خوری، شاہراہوں کی بندش اور دیگر تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سفر خان نوشکی اور مستونگ کے علاقوں میں فتنہ الہندوستان کا مقامی کمانڈر تھا اور مختلف دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا تھا۔

    ذرائع نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور بلوچستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • ایران امریکا امن معاہدے کی جنیوا میں میزبانی پاکستان کرے گا،شہباز شریف کا اعلان

    ایران امریکا امن معاہدے کی جنیوا میں میزبانی پاکستان کرے گا،شہباز شریف کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوگیا، امریکا اور ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا، معاہدے پر دستخط 19 جون کو جنیوا میں ہوں گے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج دُنیا نے امن کا ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے، تین ماہ سولہ دن کی بے پناہ کوششوں کے بعد امریکا نے ایران اور لبنان میں کاروائیوں کے مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے ،جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوگیا، امریکا اور ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ان کا کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط کی تقریب 19 جون کو جنیوا میں ہوگی، میزبان پاکستان ہوگا، پاکستانی عوام اور پوری عالمی برادری کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف، صدر زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا بھی شکر گزار ہوں، بھرپور معاونت پر عبدالعلیم خان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔پورے پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں

    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے براہِ راست بھارت کے ملوث ہونے کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیرونی سازشوں کے خاتمے کے لیے سرحدی باڑ اور سخت ریاستی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور سیکیورٹی پر اٹھنے والا ہر روپیہ پرامن مستقبل کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہے۔