Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ہنگور آبدوزپر چینی ہائپر سونک میزائل نصب کرنے کی تیاری،بھارت کیلئے نیا چیلنج

    ہنگور آبدوزپر چینی ہائپر سونک میزائل نصب کرنے کی تیاری،بھارت کیلئے نیا چیلنج

    پاکستان نیوی نے اپنے دفاعی منصوبوں میں ایک بڑی اور انقلابی پیش رفت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان ہینگور کلاس آبدوزوں کو چین کے جدید ترین YJ-17 ہائپر سونک میزائل سے لیس کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اقدام خطے میں بحری طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً بھارت کی کیرئیر اسٹرائیک گروپس کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا کرے گا۔

    یہ پیشرفت اسلام آباد اور بیجنگ کے بڑھتے ہوئے تزویراتی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ہینگور کلاس آبدوزوں پر YJ-17 میزائل کی تنصیب سے پاکستان کی بحریہ کو ہائپر سونک وارفیئر میں داخل ہونے کا موقع ملے گا، جو دنیا کی چند ہی طاقتیں حاصل کر سکی ہیں۔یہ آبدوزیں جب مکمل طور پر فعال ہوں گی تو پاکستان بحر ہند میں ایک نئی قسم کی زیرِ آب صلاحیت حاصل کر لے گا، جس سے دشمن کے بحری بیڑے، طیارہ بردار جہاز اور ساحلی تنصیبات کو نشانہ بنانا ممکن ہو جائے گا۔

    چین کا تیار کردہ YJ-17 ہائپر سونک میزائل چین کے "ایگل اسٹرائیک” میزائل پروگرام کا حصہ ہے۔ یہ میزائل Mach 5 سے Mach 8 یعنی 6,000 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر پرواز کر سکتا ہے۔یہ میزائل بوُسٹ گلائیڈ وہیکل (HGV) ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، جو پہلے فضا میں بلند ہوتا ہے اور پھر ہدف کی جانب انتہائی تیز رفتاری سے نیچے آتا ہے۔اس کی رینج 400 سے 746 کلومیٹر تک ہے، جبکہ یہ اپنے ہدف پر انتہائی تباہ کن ہائی ایکسپلوسو یا آرمَر پینیٹریٹنگ وارہیڈ لے جا سکتا ہے۔یہ خصوصیات اسے "کیرئیر کلر” یعنی طیارہ بردار جہاز تباہ کرنے والا میزائل بناتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق YJ-17 اپنی غیر متوقع پرواز، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت اور انتہائی تیز رفتاری کے باعث کسی بھی موجودہ دفاعی نظام، بشمول بھارتی باراک-8 یا امریکی SM-6 میزائلوں، کے لیے تقریباً ناقابلِ گرفت ہتھیار ہے۔

    ہینگور کلاس آبدوز پروگرام پاکستان کی بحری تاریخ کا سب سے بڑا جدیدیت کا منصوبہ ہے۔یہ معاہدہ 2015 میں چین کے ساتھ 4 سے 5 ارب ڈالر کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت چین نے 8 آبدوزیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ان میں سے چار چین میں Wuchang Shipyard پر تیار ہو رہی ہیں، جبکہ باقی چار کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (KSEW) میں مقامی طور پر بنائی جا رہی ہیں۔پہلی چار آبدوزیں 2026 سے ڈیلیور ہونا شروع ہوں گی، جبکہ مقامی آبدوزوں کی تکمیل 2028 تک متوقع ہے۔پہلی تین آبدوزوں — PNS Hangor (2024)، PNS Shushuk (2025) اور PNS Mangro (2025) — کے لانچ کے بعد، PNS Tasnim کی تعمیر جاری ہے۔یہ آبدوزیں چین کی Yuan-Class Type 039A/B ڈیزائن پر مبنی ہیں، جو اپنی خاموش کارکردگی (Silent Operation) اور محدود پانیوں میں بہترین کارکردگی کے لیے مشہور ہیں۔

    ہینگور کلاس آبدوزوں میں Stirling Engine Air Independent Propulsion (AIP) سسٹم نصب ہے، جو انہیں بغیر سطح پر آئے 20 دن تک پانی کے اندر رہنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ان کی رفتار زیرِ آب 17 ناٹ اور سطح پر 20 ناٹ تک پہنچتی ہے۔یہ آبدوزیں 38 افراد کے عملے اور 8 اسپیشل فورسز آپریٹرز پر مشتمل مشن کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، جس سے یہ کمانڈو آپریشنز میں بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔ان کے 6 ٹارپیڈو ٹیوبز مختلف قسم کے ہتھیار، جیسے بھاری ٹارپیڈوز، اینٹی شپ میزائلز، اور لینڈ اٹیک کروز میزائل (LACMs) فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پاکستان پہلے ہی YJ-82 اور بابر سیریز کے کروز میزائلز سے لیس ہے۔اطلاعات کے مطابق مستقبل میں پاکستان بابر-III نیوکلیئر کیپیبل میزائل کو بھی ہینگور کلاس آبدوزوں میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے پاکستان کو سی بیسڈ سیکنڈ اسٹرائیک کیپبیلٹی حاصل ہو گی۔یہ اقدام بھارت کے نیوکلیئر آبدوز پروگرام کے مقابل توازن قائم کرنے میں مدد دے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ YJ-17 میزائلوں سے لیس ہینگور آبدوزیں بھارت کو اپنی بحری حکمتِ عملی ازسرنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیں گی۔اب بھارتی نیوی کو اپنے P-8I پیٹرول طیارے، MH-60R ہیلی کاپٹرز اور ASW جہاز زیادہ تعداد میں تعینات کرنا پڑیں گے تاکہ ان آبدوزوں کا سراغ لگایا جا سکے۔یہ میزائل بھارت کے اہم بحری اڈوں ، ممبئی، اوکھا، اور کوچین، تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ پیش رفت پاکستان کی بحری موجودگی کو عرب سمندر، خلیجِ عمان، اور بحرِ ہند میں مضبوط کرے گی۔یہی علاقے دنیا کے سب سے اہم سمندری تجارتی راستے ہیں جہاں سے 60 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائپر سونک میزائلوں سے لیس آبدوزیں پاکستان کو نہ صرف ان راستوں کی حفاظت بلکہ ضرورت پڑنے پر ان میں رکاوٹ ڈالنے کی بھی طاقت دیں گی۔

  • جنرل ساحر مرزا کا سعودی عرب کا دورہ، کنگ عبدالعزیز میڈل آف آنر سے نوازا گیا

    جنرل ساحر مرزا کا سعودی عرب کا دورہ، کنگ عبدالعزیز میڈل آف آنر سے نوازا گیا

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حمید الرویلی سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات اور پائیدار دفاعی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ملاقات میں عالمی اور علاقائی صورتحال سمیت دوطرفہ دفاعی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو ان کی خدمات کے اعتراف میں "کنگ عبدالعزیز میڈل آف آنر آف دی ایکسیلنٹ کلاس” سے نوازا گیا۔

    سعودی عسکری قیادت نے پاک فوج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا

    سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط

    نئی کھدائی، کراچی میں ٹریفک جام کا نیا مرحلہ شروع ہونے کو تیار

    تھائی لینڈ کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے سات افراد ہلاک

  • بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے انٹیلی جنس بنیادوں پر دہشت گردوں کے خلاف اہم کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد شدت پسندوں کو ہلاک اور گرفتار کر لیا، جبکہ مختلف علاقوں میں فائرنگ اور دھماکوں کے الگ الگ واقعات میں عام شہری بھی جاں بحق ہوئے۔

    سیکیورٹی فورسز نے خضدار کے علاقے ذہری میں ایک بڑی انسدادِ دہشت گردی کارروائی کرتے ہوئے "فتنۃ الہندستان” نامی نیٹ ورک کے 30 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔فوجی ترجمان کے مطابق کارروائی میں 19 دہشت گرد فضائی حملوں میں جبکہ 11 براہِ راست زمینی جھڑپوں میں مارے گئے۔یہ گروہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر حملے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔فورسز نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے باقی ماندہ عناصر کو بھی ختم کیا جائے گا اور ملک میں کسی بھی قسم کی تخریب کاری برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ضلع واشک کے علاقے دالی میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کر کے کچھ دیر کے لیے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے سرکاری اسلحہ اور موٹرسائیکلیں قبضے میں لے لیں اور یوفون کے قریبی ٹاورز کو تباہ کر دیا۔تاہم حکام نے اس واقعے کی تصدیق یا تردید نہیں کی، جبکہ سیکیورٹی ادارے حقائق جانچنے میں مصروف ہیں۔

    تحصیل مَنگوچار کے علاقے سربند میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔لیویز ذرائع کے مطابق مقتولین میں دو بھائی شاکر سعداللہ اور شاکر خیراللہ لانگو شامل ہیں۔دیگر مقتولین کی شناخت محمد کریم (کوئٹہ) اور محمد ظاہر ولد خالد داد کے ناموں سے ہوئی ہے۔لیویز فورس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تفتیش شروع کر دی ہے۔

    شوال وادی، وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کا ٹھکانہ تباہ کر کے اسلحہ اور بارود کا بڑا ذخیرہ برآمد کر لیا۔ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے کے بعد فرار ہو گئے، تاہم ان کا اسلحہ، راکٹ لانچر، بارودی مواد اور مواصلاتی آلات قبضے میں لے لیے گئے۔علاقہ مکینوں نے فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہا اور امن کے قیام پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور پولیس نے بنگش چپری میں مشترکہ کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔دہشت گرد کے قبضے سے کلاشنکوف، ہینڈ گرینیڈ اور بارودی مواد برآمد ہوا۔حکام کے مطابق فرار ہونے والے دیگر دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے۔

    درابن (ڈی آئی خان) میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم کارروائی کے دوران تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے نائب کمانڈر ہیبت خان کو ہلاک کر دیا۔ذرائع کے مطابق آپریشن میں کئی دیگر دہشت گرد زخمی بھی ہوئے۔ہلاک دہشت گرد کی لاش تحویل میں لے کر تفتیش کے لیے منتقل کر دی گئی ہے۔

    باجوڑ کے علاقے تانگی چارمنگ بازار میں پولیس نے سیکیورٹی پوسٹ پر دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا۔جوابی فائرنگ کے دوران ہیڈ کانسٹیبل آزاد زخمی ہو گئے، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔تیراہ ویلی میں دواتوئی چیک پوسٹ پر کارروائی کے دوران فورسز نے ایک اہم سہولت کار فاروق کو گرفتار کیا جو 11 لاکھ روپے دہشت گردوں تک پہنچانے جا رہا تھا۔رقم قبضے میں لے لی گئی جبکہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔اسی وادی کے علاقے شیردرہ میں ایک الگ آپریشن کے دوران چار دہشت گرد مارے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔علاقہ گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن جاری ہے۔بنوں میں پولیس اور مقامی افراد نے دہشت گرد حملہ پسپا کر دیا۔عینی شاہدین کے مطابق شہریوں نے پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دہشت گردوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔حکام نے عوام کے حوصلے اور تعاون کو سراہا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع خیبر میں کچھ مقامی مساجد کو دہشت گردوں کے عارضی ٹھکانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں زخمی دہشت گردوں کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔انٹیلی جنس ادارے ان سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔

    نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ایک ضعیف خاتون جان بی بی اور ان کی چھ سالہ نواسی مناہل کو قتل کر دیا۔دونوں لکڑیاں جمع کر رہی تھیں جب حملہ ہوا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    مامند خیل، بنوں میں پولیس سے جھڑپ میں مارے گئے پانچ دہشت گردوں میں سے دو کی شناخت عبید عرف فتح (افغان شہری) اور عظمت اللہ عرف طوفان (گورباز گروپ) کے ناموں سے ہوئی ہے۔باقی دہشت گردوں کے سراغ کے لیے کارروائی جاری ہے۔ملک دین خیل کے علاقے نلہ میں ایک ہینڈ گرینیڈ اچانک پھٹنے سے تین افراد جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہو گیا۔جاں بحق افراد میں 60 سالہ دولت، 39 سالہ رحمت اللہ اور 37 سالہ ہارون شامل ہیں، جبکہ 15 سالہ حبیب اللہ کو تشویشناک حالت میں پشاور منتقل کیا گیا۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل عزم کے ساتھ سرگرم ہے۔فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کر رہی ہیں بلکہ ان کے مالی معاونین اور سہولت کاروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

  • 27 ویں ترمیم،اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کا اعلان

    27 ویں ترمیم،اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کا اعلان

    اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27 ویں ترمیم کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین تحریک تحفظ آئین محموداچکزئی نے تحریک چلانے اور پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کا اعلان کیا اور کہا آج سے تحریک شروع ہے،محمود اچکزئی نے کہا کہ رات ساڑھے 8 بجے سے نعرے شروع کردیں گے اور آج کا نعرہ ہوگا "ایسے دستور کو ہم نہیں مانتے”۔مشترکہ پریس کانفرنس میں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ستائیسویں ترمیم شخصیات کے فائدے اور نقصانات کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے ، آئین کا شخصیات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اشرافیہ اپنے مفادات کےلیے آئین میں ترمیم کررہی ہے ۔سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا پارلیمنٹ اور عدلیہ کو تباہ کردیا گیا ہے، یہ ملک کو تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں، اس ترمیم کا راستہ روکنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔

  • وزیراعظم  اور ترک صدر کی باکو میں ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

    وزیراعظم اور ترک صدر کی باکو میں ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

    وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران چیف آف دی آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات یومِ فتح کی پریڈ کے موقع پر ہوئی۔ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔وزیراعظم نے ترکیہ کے یومِ جمہوریہ پر صدر اردوان اور ترک عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک-ترکیہ دوستی دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور پائیدار تعلقات کی مضبوط علامت ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ترکیہ کا ایک وزارتی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔مزید برآں، دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے اور خطے و مسلم دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا

    اپوزیشن اتحاد کا ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان

    سندھ ہائیکورٹ کا چڑیا گھروں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا حکم

    امریکا کا ایران پر میکسیکو میں اسرائیلی سفیر کے قتل کی سازش کا الزام

    محسن نقوی نے اے سی سی کےنئے ٹورنامنٹس کا پلان طلب کرلیا

  • 27 ویں آئینی ترمیم، مسودہ باغی ٹی وی کو موصول

    27 ویں آئینی ترمیم، مسودہ باغی ٹی وی کو موصول

    ممکنہ 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ باغی ٹی وی کو موصول ہو گیا ہے جس کے مطابق آرمی چیف کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ دینے کی تجویز ہے جبکہ سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لیکر وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کیے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی کو موصول مسودے کے مطابق 27 آئینی ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 42 اور 59 میں ترمیم کی جا رہی ہے،اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی کلاز 5 میں لفظ سپریم کو فیڈرل کانسٹیٹیوشنل میں تبدیل کیا جا رہا ہے،27 ویں ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز ہے، وفاقی آئینی عدالت، آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی،سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر وفاقی آئینی عدالت کو دیے جائیں گے، آئین کا آرٹیکل 184 ختم کر دیا جائے گا، ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہوگا۔ آئینی مقدمات اب سپریم کورٹ نہیں، وفاقی آئینی عدالت سنے گی، سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی عدالت رہے گی، وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی ہو گی، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مدت 3 سال مقرر ہو گی، چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی حیثیت محدود ہو جائے گی۔

    مسودہ میں سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی تجویز کی گئی ہے، آئینی عدالت کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے،27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی تجویز کی گئی ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ دینے کی تجویز ہے،آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدوں کو تاحیات درجہ حاصل ہوگا۔

    27 ویں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار بھی بدلا جائے گا، جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دونوں شامل ہوں گے، تقرری میں وزیرِاعظم اور صدر کو کلیدی کردار حاصل ہوگا، پارلیمنٹ کو آئینی عدالت کے ججوں کی تعداد طے کرنے کا اختیار ملے گا،آئین کے آرٹیکل 42، 63 اے، 175 تا 191 میں ترمیم کی تجویز ہے جس کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات میں نمایاں کمی ہو گی، ماہرین نے ترمیم کو عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں بڑا تغیر قرار دیا، اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ 27 ویں ترمیم پر شدید تحفظات ظاہر کیے، سیاسی حلقوں میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر بحث تیز ہو گی،

    Final Constitutional Amendment dt 08.11.2025

  • وزیرقانون نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا

    وزیرقانون نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا آج معمول کی کارروائی معطل کرکے بل پیش کرلیتے ہیں جس پر چیئرمین سینیٹ نے معمول کی کارروائی معطل کر دی، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ بل پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو پیش کر دیتے ہیں، کمیٹی اپنا کام کرے گی، ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے، مشترکہ کمیٹی میں قومی اسمبلی اورسینیٹ کے ارکان بیٹھتے ہیں، بل کمیٹی کو جائے گا، کمیٹی میں دیگر ارکان کو بھی مدعو کریں گے جو کمیٹی کے رکن نہیں ہیں، بل پر ووٹ ابھی نہیں ہوگا، اپوزیشن سے بحث کا آغاز کریں گے.چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن سے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں ، بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کر دیتا ہوں۔

  • وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے

    27 ویں ترمیم کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا،وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، مصدق ملک، رانا ثنا اللہ، ریاض حسین پیرزادہ، عون چوہدری، شزرہ منصب اور قیصر احمد شیخ شریک تھے۔ اس کے علاوہ وزیر قانون اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شریک تھے،وزیراعظم شہباز شریف نےآذربائیجان کے شہر باکو سے بذریعہ ویڈیو لنک وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی،ذرائع کے مطابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے27 ویں آئینی ترمیم پر کابینہ کو بریفنگ دی، اجلاس میں پیپلز پارٹی کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا،بعد ازاں وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی.

    دوسری جانب سینیٹ کا اجلاس بھی آج ہی ہوگا، ذرائع کا بتانا ہے کہ سینیٹ اجلاس میں بطور ضمنی ایجنڈا 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کیے جانے کا امکان ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کا بل سینیٹ کی قانون و انصاف کمیٹی کے سپرد کیے جانے کا امکان ہے،ذرائع کا بتانا ہے کہ سینیٹ کا اجلاس اتوار کو بھی جاری رہنے کا امکان ہے، سینیٹ میں آئینی ترمیم پر بحث کی جائے گی، سینیٹ کی جانب سے آئینی ترمیم پیر کو منظور کیے جانے کا امکان ہے

  • بلوچستان میں 30،خیبر پختونخوا میں 7 دہشتگرد جہنم واصل،اغوا کیے گئے ملازمین بازیاب

    بلوچستان میں 30،خیبر پختونخوا میں 7 دہشتگرد جہنم واصل،اغوا کیے گئے ملازمین بازیاب

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں، متعدد ہلاک، گرفتاریاں، اور اہم کامیابیاں

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ متعدد دہشت گرد مارے گئے، کچھ گرفتار ہوئے جبکہ حساس مقامات پر بم حملوں کی کوششیں ناکام بنادی گئیں۔ فورسز کے مطابق کارروائیاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں جن کا مقصد امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران ایک مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ پانچ دیسی ساختہ بم (IEDs) برآمد ہوئے۔ذرائع کے مطابق یہ دھماکا خیز مواد پہاڑی سرنگوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے ملا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے تمام بموں کو کامیابی سے ناکارہ بنادیا۔ گرفتار شخص سے تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے قلات کے زری علاقے میں ایک بڑے آپریشن کے دوران 30 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق ایک کالعدم گروہ "فتنہ الہندستان” سے تھا۔ کارروائی کے دوران پہاڑی علاقے میں گھمسان کا مقابلہ ہوا، جس کے بعد اسلحہ، گولہ بارود، اور جدید مواصلاتی آلات برآمد ہوئے۔فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کردیا ہے تاکہ باقی ماندہ عناصر کو بھی پکڑا جا سکے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق آواران کے جھاؤ علاقے میں مبینہ طور پر ڈرون حملے کیے گئے۔رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تین زور دار دھماکے سنے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ہلاکتوں یا نقصان کے حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

    پنجگور کے شاپاتان علاقے میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق ہوگئے۔جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ظفر ولد استاد علی اور نعیم ولد حاجی اعظم کے نام سے ہوئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق خاران-جنگل روڈ پر بادو پل کے قریب مسلح افراد نے ایک عارضی ناکہ لگا کر گزرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔انتظامیہ نے واقعے کی تاحال تصدیق نہیں کی تاہم سیکیورٹی فورسز علاقے کی نگرانی کر رہی ہیں۔

    مامند خیل میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلے میں5دہشت گرد مارے گئے۔ہلاک دہشت گردوں میں افغان شہری عابد عرف فتح اور کالعدم گربز گروپ سے تعلق رکھنے والا عظمت اللہ عرف طوفان شامل ہیں۔واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ باقی دہشت گردوں کو بھی گرفتار کیا جاسکے۔

    اسی ضلع میں ایک اور کارروائی کے دوران 55 روز قبل اغوا ہونے والے واپڈا کے پانچ ملازمین کو بحفاظت بازیاب کرالیا گیا۔بازیاب افراد میں عدنان، نقیب الرحمان، فرہاد، عبدالوہاب اور جاوید اللہ شامل ہیں۔ اہل خانہ نے سیکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

    بنوں ہی میں اغوا کیے گئے ایک شخص کی لاش آزاد منڈی کے قریب سے ملی۔ مقتول کی شناخت محب اللہ کے نام سے ہوئی جو مبینہ طور پر پولیس اور سی ٹی ڈی کا مخبر تھا۔ ذرائع کے مطابق قتل سے قبل اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی گئی۔ علاوہ ازیں خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے کالعدم تنظیم کے سب سے مطلوب دہشت گرد "عبیدہ” کو ہلاک کردیا۔ذرائع کے مطابق تنظیم نے خود اس کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مزید تیز کردیا گیا ہے۔

    گزشتہ شب شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی چوکی پر حملہ کیا۔فائرنگ کے تبادلے میں ٹی ٹی پی کمانڈر عمران عرف چمتو کی قیادت میں آنے والے دہشت گردوں کو فورسز نے منہ توڑ جواب دیا۔ ایک دہشت گرد نور سعید عرف عبیدہ مارا گیا جبکہ دیگر فرار ہوگئے۔فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔

    ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ اقدام میں ایک باپ نے اپنے زخمی بیٹے کو، جو دہشت گردی میں ملوث تھا، خود پولیس کے حوالے کردیا۔انتظامیہ نے اس اقدام کو ’’قومی ذمہ داری اور اخلاقی ہمت‘‘ کی اعلیٰ مثال قرار دیا ہے۔ مقامی عمائدین نے اس باپ کو ’’امن کا سفیر‘‘ قرار دیتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔

    طورخم بارڈر ساتویں روز بھی انسانی بنیادوں پر افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے کھلا رہا۔حکام کے مطابق 6 نومبر کو 3,863 افغان شہری جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے افغانستان واپس گئے۔گزشتہ چھ روز میں مجموعی طور پر 32,989 افغان شہری رضاکارانہ طور پر وطن واپس جاچکے ہیں۔تجارت اور معمول کی آمدورفت فی الحال معطل ہے، تاہم انسانی ہمدردی کے تحت واپسی کا عمل روزانہ صبح سے رات گئے تک جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پائیدار امن قائم رکھا جا سکے۔

  • مذاکرات ناکام، افغان طالبان کی ہٹ دھرمی، اندرونی تقسیم اور بیرونی اثرات

    مذاکرات ناکام، افغان طالبان کی ہٹ دھرمی، اندرونی تقسیم اور بیرونی اثرات

    پاکستان اور افغانستان کے مابین استنبول میں ہونے والے مذاکرات طالبان کی ضد، اندرونی اختلافات اور پس پردہ قوتوں کے اثرات کے باعث ناکام ثابت ہوئے۔ مذاکرات تیسرے دن 18 گھنٹے تک جاری رہنے کے باوجود بھی کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔

    ذرائع کے مطابق افغان وفد متحد نہیں تھا — قندھار، کابل اور خوست کے مختلف دھڑے الگ ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔ قندھار کے دھڑے نے اچانک مطالبہ کردیا کہ کوئی معاہدہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک امریکا باضابطہ ضامن نہ بنے، جو بات چیت کو سکیورٹی سے ہٹا کر مالیاتی اور بین الاقوامی دباؤ کی صورت میں تبدیل کرنے کی کوشش معلوم ہوئی۔مذاکرات کے دوران افغان نمائندوں کی کنفیوژن واضح رہی — بعض مندوبین باہر بیٹھے ہینڈلرز سے ہدایات لے رہے تھے اور فون کالز کے بعد جو نکات پہلے کلیئر تھے دوبارہ کھول دیے گئے۔ یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ افغان عبوری حکومت کے اندر مختلف دھڑوں کے اپنے اجنڈے ہیں اور کچھ گروہ مالی فوائد کے لیے سکیورٹی فائل کو واشنگٹن کی طرف کھینچنے کے خواہاں ہیں۔

    پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مؤثر اقدامات درکار ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے افغان علاقوں میں دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کے ثبوت افغان فریق اور ثالثوں کو پیش کیے۔سرحدی کشیدگی تب بڑھی جب افغان عبوری حکومت کے بعض عناصر کی کارروائیوں کے نتیجے میں پاک فوج کے جوان شہید ہوئے؛ جس کے جواب میں پاک فوج نے سخت جوابی کارروائیاں کر کے متعدد دہشت گرد ہلاک اور کچھ افغان پوسٹس پر کنٹرول حاصل کیا۔ پاکستان نے بار بار عالمی فورمز پر کابل کو خبردار کیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی کارروائیاں قبول نہیں ہوں گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک افغان فریق اپنی اندرونی تقسیم ختم نہ کرے اور دہشت گردی کو سیاسی کرنسی بنانے کی کوششیں بند نہ کرے، مذاکرات میں پیشرفت ممکن نہیں۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اگر مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا

    سری لنکا کا پاکستان دورے کے لیے اسکواڈز کا اعلان

    کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب ، وزیراعظم ویڈیو لنک پر صدارت کریں گے

    کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب ، وزیراعظم ویڈیو لنک پر صدارت کریں گے

    وہاب ریاض کو کوئی نیا عہدہ نہیں دیا گیا،پی سی بی کی وضاحت