Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم کی زیر صدارت تجارتی شعبہ میں اصلاحات پر قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کا اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت تجارتی شعبہ میں اصلاحات پر قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کا اجلاس

    اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت ملکی درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی اورتجارتی شعبہ میں دیگر اصلاحات پر قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

    ملک کے نمائندہ کاروباری حضرات پر مبنی ذیلی ورکنگ گروپ کی طرف سے محمد علی ٹبہ اور دیگر نے وزیراعظم کو کسٹم اور ٹیکس وصولی سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا اور اپنی سفارشات پیش کی۔ وزیراعظم نے سفارشات کا خیر مقدم کیا اور ملکی صنعتی پیداوار کو بڑھانے اور کاروباری اور سرمایہ کار حضرات کو ہر ممکن سہولت دینے کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو خصوصی ہدایات دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ قومی ٹیرف پالیسی ملکی صنعتی پیداوار کو مثبت انداز میں سہولت پہنچانے کے لیے نافذ کی گئی ہے تاکہ برآمدات اور درآمدات کو ملکی مجموعی معاشی ترقی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملکی صنعتی پیداوار اور تجارت میں اضافے کے لیے شعبہ جاتی مخصوص تجاویز اور مسائل کی نشاندہی نا گزیر ہے۔دہائیوں سے معاشی و صنعتی پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیۓ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کو ریسرچ، ٹریننگ پر استعمال نہیں کیا گیا۔ملکی برآمدات اور درآمدات کے شعبہ میں ماہرین کی طرف سے سفارشات اور اصلاحاتی تجاویز حقیقت پر مبنی اعداد و شمار کے مطابق ہونی چاہیے۔مقامی صنعت و تجارت اور مقامی آبادی کے لیے صنعتی مصنوعات کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیۓ موثر اقدامات اٹھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔حکومت کی طرف سے منظور کردہ قومی ٹیرف پالیسی ایک انقلابی قدم ہے جو ملکی صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے ساتھ مقامی اور عالمی منڈیوں میں کاروبار کو مسابقتی بناتی ہے۔دوسرے ممالک کے ساتھ دو طرفہ اور راہداری (ٹرانزٹ) تجارتی مصنوعات کی بارڈر پر کسٹم ڈیوٹی کی وصولی کی کڑی نگرانی ہونی چاہیے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر برائے اکنامک افئیرز ڈیژن احد خان چیمہ، فاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین ایس ائی ایف سی، ملکی صنعت وکاروبار کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان سیکورٹی فورسز کی بڑی کاروائیاں،نوکنڈی میں تمام دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان سیکورٹی فورسز کی بڑی کاروائیاں،نوکنڈی میں تمام دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں.

    نوکنڈی، بلوچستان، سیکیورٹی فورسز نے نوکنڈی کے علاقے میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک شدت پسند نے تقریباً 500 کلو گرام دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی کو علاقے میں داخل کرکے دھماکے سے اڑا دیا، جس سے تقریباً 50 فٹ گہرا گڑھا بن گیا۔
    ذرائع کے مطابق ابتدائی دھماکے کے بعد چھ مزید دہشت گردوں نے فالو اپ حملے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے فوری جوابی کارروائی شروع کرتے ہوئے 48 گھنٹے طویل آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں تمام سات حملہ آور مارے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    خودکش حملہ آور زرینہ رفیق بلوچ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے زرینہ کے والد، چچا اور منگیتر کو اغوا کرلیا ہے، تاکہ اس کیس کے حقائق منظرِ عام پر نہ آسکیں،اہل خانہ کے مطابق زرینہ، جو BYC کی رکن بتائی جاتی ہے، ایک ’’ورکشاپ‘‘ کے بہانے لے جائے جانے کے بعد لاپتہ ہوئی۔ خاندان نے الزام لگایا کہ اسے زبردستی دباؤ میں رکھا گیا اور اس کی نامناسب ویڈیوز بنا کر اہلِ خانہ کو دھمکایا گیا۔ذرائع کے مطابق زرینہ کے والد ماسٹر رفیق، چچا خدا داد اور منگیتر زبیر کو اس وقت اغوا کیا گیا جب انہوں نے واقعے کی تفصیلات بتانے کی کوشش کی۔ خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ BLF کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر کسی نے بات کی تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔

    سیکیورٹی و انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مخالف قوتوں کی سرپرستی میں سرگرم نیٹ ورکس نے دو مزید شدت پسند تنظیموں کو بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) میں ضم کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائیوں کے بعد مبینہ طور پر بھارت اور اسرائیل نے جیش العدل اور انصار الفرقان کو BLA کے ساتھ یکجا کرنے میں کردار ادا کیا۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تنظیموں نے مل کر نیا مشترکہ پرچم بھی تیار کر لیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔جیش العدل پاکستان میں کارروائیوں میں BLA کی معاونت کرے گی،جبکہ BLA ایران میں کارروائیوں کے لیے جیش العدل کو اسلحہ، گولہ بارود اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گی

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایران کی مسلح افواج اپنے جنوب مشرقی علاقوں میں ایک ریپڈ ری ایکشن بریگیڈ تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، جو چار ہزار تک بھاری اسلحے سے لیس جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق منگل کی صبح نامعلوم شدت پسندوں نے حاجی ظفر خان کے گھر پر راکٹ فائر کیا، جس کے نتیجے میں گھر میں موجود دو بچے زخمی ہوگئے۔انتظامیہ اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچے جبکہ بچوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    کوئٹہ ، سیکیورٹی اداروں نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے نصرآباد، تربت ٹمپ کے رہائشی ہلال داد کو مبینہ طور پر شدت پسند عناصر سے روابط کے شبہے میں حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق ملزم کو قانونی تحقیقات کے لیے ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

    سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران کالعدم گلبہار گروپ کے اہم ترین چار کمانڈروں کو ہلاک کردیا۔ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں مولوی حمید افغانی گروپ کا اہم اور انتہائی بااثر رہنما،کمانڈر ابو دُجانہ،کمانڈر مُنیب،کمانڈر محب اللہ عرف میبل شامل ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ گلبہار گروپ کے مقامی عناصر نے بھی اپنے سینئر کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

    صوابی ، رزاڑ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایف سی نائب خطیب عبدالمجید پر اُس وقت فائرنگ کردی جب وہ اپنے بھائی کی دکان پر موجود تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور اسپتال منتقل کر دیے گئے۔پولیس کے مطابق عبدالمجید معمول کی چھٹی پر گاؤں آئے ہوئے تھے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    شمالی وزیرستان ، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع کے دو مختلف علاقوں میں کی گئی کارروائیوں میں سات دہشت گرد مارے گئے۔میر علی میں فورسز نے خفیہ اطلاع پر ایک مقام کا محاصرہ کیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔دوسرا آپریشن سپین وام میں کیا گیاجس میں‌ ایک شدت پسند کو ہلاک کیا گیا۔فورسز نے جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گروپ کے روابط ’’بھارتی سرپرستی‘‘ میں سرگرم نیٹ ورکس سے تھے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

  • نومبر 2025 میں  دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

    نومبر 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

    اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) نے نومبر 2025 کی ماہانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق نومبر کے دوران دہشت گردی کے 97 واقعات رپورٹ ہوئے، جو اکتوبر میں ہونے والے 89 واقعات کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہرین اس اضافے کو شدت پسند گروہوں کی حکمت عملی میں تبدیلی اور نرم اہداف کو نشانہ بنانے کے بڑھتے رجحان کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے گروہوں کی جانب سے شہری علاقوں اور غیر محفوظ برادریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔ نومبر میں 54 شہری دہشت گردی کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوئے، جو اکتوبر کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہیں۔ شہری ہلاکتوں میں یہ اضافہ سیکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ گروہ تیزی سے اپنی کارروائیاں شہری مراکز کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔

    رپورٹ بتاتی ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور امن کمیٹیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ نومبر میں 25 سیکیورٹی اہلکار اور 7 امن کمیٹی ارکان مختلف حملوں میں شہید ہوئے، جبکہ 83 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری اور 4 امن کمیٹی ارکان زخمی ہوئے۔ ان حملوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کی کارروائیوں کو سست کرنا تھا۔

    دہشت گردی میں اضافے کے باوجود سیکیورٹی فورسز نے بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق نومبر کے دوران مجموعی طور پر 206 دہشت گرد مختلف کارروائیوں میں ہلاک کیے گئے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ صلاحیت اور مسلسل کارروائیوں کا ثبوت ہیں۔نومبر میں خودکش حملوں کی تعداد بڑھ کر 4 ہوگئی، جبکہ اکتوبر میں صرف ایک حملہ رپورٹ ہوا تھا۔ نئے حملے اسلام آباد، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سابق فاٹا میں ہوئے، جو شدت پسندوں کے وسیع جغرافیائی نیٹ ورک اور متحرک صلاحیتوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے نومبر 2025 تک مجموعی طور پر 1,940 شدت پسند مارے جا چکے ہیں، جو 2015 کے بعد کسی بھی سال میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اعداد و شمار ریاست کی جانب سے بڑھتے دباؤ اور موثر انسدادِ دہشت گردی پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

    پی آئی سی ایس ایس نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسند گروہ اپنی حکمت عملی تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں اور شہری آبادیوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر مجموعی صورتحال اب بھی نازک اور غیر مستحکم ہے۔

  • افغانستان میں طالبان دھڑوں کی خانہ جنگی،خطے میں نیا بحران

    افغانستان میں طالبان دھڑوں کی خانہ جنگی،خطے میں نیا بحران

    افغانستان میں طالبان حکومت کے دو بڑے دھڑوں ملا یعقوب کی قیادت میں قندھاری گروپ اور سراج حقانی کے زیر اثر حقانی نیٹ ورک کے درمیان طاقت کی کشمکش اب مسلح تصادم میں بدل چکی ہے۔

    دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یہ خانہ جنگی نہ صرف طالبان کی حکومت کو کمزور کر رہی ہے بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہے۔ جھڑپیں جنوبی اور مشرقی افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں ہو رہی ہیں، جہاں دونوں گروپوں کے جنگجو آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ملا یعقوب جو طالبان کے قائم مقام وزیر اعظم ہیں، قندھاری دھڑے کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ سراج حقانی، جو وزیر داخلہ ہیں، اپنے نیٹ ورک کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ دونوں دھڑوں کے درمیان اختلافات کئی ماہ سے جاری تھے، مگر اب یہ کھلے عام لڑائی میں تبدیل ہو گئے ہیں۔پاکستان نے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے ایران اور چین بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ تصادم سرحدی سلامتی اور تجارتی راہداریوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

    طالبان کی اندرونی تقسیم افغانستان کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اگر یہ تصادم جاری رہا تو نہ صرف افغانستان بلکہ پورا جنوبی ایشیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔افغانستان میں ایک نئی خانہ جنگی کا آغاز ہو سکتا ہے، جس سے داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ طالبان حکومت کی تقسیم سے افغانستان میں دو الگ الگ اقتدار کے مراکز بن سکتے ہیں۔ انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، اور پناہ گزینوں کی نئی لہر خطے میں پھیل سکتی ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ترک وزیرِ توانائی کی  ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ترک وزیرِ توانائی کی ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ترک وزیرِ توانائی نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ترک وزیرِ توانائی الپ ارسلاں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی،ملاقات میں پاک ترکیے تعاون کو توانائی کے شعبے میں مزید وسعت دینے پر گفتگو کی گئی۔ملاقات میں پاک ترکیے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی بات چیت ہوئی، ملاقات میں فیلڈ مارشل نے عالمی فورمز پر پاکستان کے لیے ترکیے کی مستقل حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ترکیے کے وزیر الپ ارسلاں نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، ترکیے کے وزیر نے علاقائی امن ، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا

  • اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار شہدا کی نماز جنازہ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا شریک نہ ہوئے

    اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار شہدا کی نماز جنازہ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا شریک نہ ہوئے

    بنوں میں خوارج کے حملے میں شہادت پانے والے اسٹنٹ کمشنر شاہ شاہ ولی سمیت چار افراد کی نماز جنازہ بنوں میں ادا کردی گئی

    نماز جنازہ GOC میرانشاہ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسران، اور علاقے کے عوام نے ادا کی۔ مگر صد افسوس، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی شہدا کے نمازجنازہ میں آج بھی غیر حاضر رہے،وانا کی دفعہ تو بہانہ تھا کہ وہاں حالات خراب ہیں، میرانشاہ میں کیا ہوا؟ کیا وزیر اعلیٰ کے پاس حفاظتی دستے نہیں؟ یا اس کے پاس ہیلی کاپٹر نہیں؟ اگر تصویر میں نظر آنے والے تمام لوگوں کوئی خطرہ یا ڈر نہیں تو آفریدی صاحب کا کیا مسئلہ ہے؟ بات اتنی سی ہے کہ آفریدی صاحب کو اس تمام گورکھ دھندے سے غرض نہیں.اس کی ایک ہی خواہش ہے، نیازی کے نام پر چادر لپیٹ کے اڈیالہ کے باہر بیٹھے رہو اور پیچھے اپنے بھائیوں کو کہو کہ جتنا لوٹ سکتے ہیں لوٹ لیں،نہ جانے کب دکان بند ہو جائے ،اگر اڈیالہ جیل سے فرصت ملے تو اپنے صوبے کے عوام کے غم میں بھی شریک ھو جائیں ،نماز جنازہ میں وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کی غیر حاضری ایک واقعہ نہیں بلکے گھٹیا سوچ اور ناپاک ارادے کی غمازی کرتا ہے
    ۔

  • رافیل طیاروں کی صلاحیت پاک فضائیہ کے سامنے صفر ثابت ہوئی، سربراہ پاک فضائیہ

    رافیل طیاروں کی صلاحیت پاک فضائیہ کے سامنے صفر ثابت ہوئی، سربراہ پاک فضائیہ

    ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہےکہ آپریشن بنیان مرصوص میں ہم نے دشمن کو شکست دی، 10 مئی کو دشمن کے ڈیفنس سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

    پی اے ایف اکیڈمی رسالپور میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا تھا معرکہ حق میں کامیابی پاکستان ائیر فورس کی بہترین کاکردگی کا مظہر ہے،جب 6 اور 7 مئی کی رات پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو پاکستان ائیر فورس نے دشمن کو بھرپور جواب دیتے ہوئے رافیل سمیت اس کے جدید ترین لڑاکا طیارے گرائے، 10 مئی کو ہم نے دشمن کے ڈیفنس سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بنایا، آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان نے سائبر وار فیئر میں اپنی برتری ثابت کی،پاکستان کی سالمیت پر کبھی بھی آنچ نہیں آنے دیں گے، رافیل طیاروں کی صلاحیت پاک فضائیہ کے سامنے صفر ثابت ہوئی، دشمن کی ہر حرکت کو پاک فضائیہ نے لمحوں میں مانیٹر کیا، ہمارے ایکشن اور آپریشن لمحوں میں کارگر ثابت ہوتے ہیں، آج کی جدیددنیا میں پاک فضائیہ پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے لیس ہے۔

    ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا تھا ہم دشمن کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچا سکتے تھے لیکن ہم ایک پروفیشنل فورس ہیں اور ہمارا ایکشن کیلکولیٹڈ اور مؤثر ہوتا ہے جس کا واحد مقصد عزت کے ساتھ امن کا حصول ہے،معرکہ حق میں پاکستان ائیر فورس کی کامیابی، برتری اور جدید وار فیئر تقاضوں کو بین الاقوامی سطح پر ناصرف تسلیم کیا گیا بلکہ اس پر اسٹڈی بھی کی جا رہی ہے، پاک فضائیہ کا ہر جوان اور ہر افسرملک و قوم کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق میں قائدانہ کردار ادا کیا، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے، اگر کسی نے ہماری امن کی خواہش کو چیلنج کیا تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی، ہم ایک ذمے دار ایٹمی قوت ہیں، افواج پاکستان پر قوم کا بھر پور اعتماد ہمارے لیے باعث تقویت ہے۔

  • پاک فوج اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی مشترکہ فوجی مشق شروع

    پاک فوج اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی مشترکہ فوجی مشق شروع

    پاکستان آرمی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی مشترکہ فوجی مشق واریئر IX کا آغاز کر دیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انسداد دہشت گردی کے شعبے میں مشق کا آغاز یکم دسمبر 2025 کو ہوا، مشق کی افتتاحی تقریب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں منعقد ہوئی،منگلا کور کے کمانڈر، پی ایل اے ویسٹرن تھیٹرکمانڈ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور پاکستان و چین کے دیگر سینئر عسکری حکام نے شرکت کی۔ مشق کا مقصد باہمی تعاون میں اضافہ، پیشہ ورانہ مہارتوں میں بہتری حاصل کرنا ہے،مشق کا مقصد جدید جنگی تقاضوں سے متعلق بہترین تجربات کا تبادلہ ہے، مشق دونوں برادر ممالک کے درمیان سالانہ بنیادوں پر ہونے والی انسدادِ دہشت گردی مشقوں کا نواں سلسلہ ہے، دونوں ممالک کے درمیان واریئر IX مضبوط عسکری روابط کا عملی مظہر ہے، مشقیں خطے میں امن واستحکام اور سلامتی کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی تجدید کرتی ہے۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں نے صحافی کا گھر تباہ کر دیا،13 سے زائد جہنم دہشتگرد واصل

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں نے صحافی کا گھر تباہ کر دیا،13 سے زائد جہنم دہشتگرد واصل

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں

    لورالائی سے ایک نوجوان قیوم کی لاش اوریا گی ندی سے برآمد ہوئی۔ قیوم کو گزشتہ روز سے لاپتا قرار دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس کی گاڑی قریبی علاقے کلی کچلک سے ملی ہے۔ حکام نے مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ موت کے اس واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

    پنجگور کے سریکوران علاقے میں واقع واشبود پولیس اسٹیشن پر نامعلوم مسلح افراد نے راکٹ حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس نے ریکارڈ اور دیگر اہم سامان کو جلا کر خاکستر کر دیا۔ پولیس کے مطابق تحقیقات جاری ہیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    ہوشاب میں مارٹر گولہ ایک گھر پر گرنے سے کم سن لڑکی یاسمین دختر ناصر جاں بحق ہوگئی۔ واقعے کے خلاف عوامی غم و غصے نے شدت اختیار کر لی، جس کے بعد مقامی افراد نے ایم-8 شاہراہ کے دونوں اطراف احتجاجی دھرنا دے دیا۔
    احتجاج کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے غفور ولد گنگزار زخمی ہوگئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک دھرنا ختم نہیں کریں گے جب تک ذمہ داروں کی گرفتاری عمل میں نہیں آتی۔

    جنوبی وزیرستان، خیبر پختونخوا ، صحافی کا گھر تباہ
    اعظم ورسک میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی ایک نئی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ ایک مقامی صحافی کے گھر کو بارودی مواد سے دھماکے سے اڑا رہے ہیں۔حکام نے ابھی تک جانی نقصان یا محرکات کی تصدیق نہیں کی۔ سیکیورٹی ایجنسیاں ویڈیو کی جانچ کے ساتھ واقعے کی تفتیش کر رہی ہیں۔

    لڑّا کے علاقے ٹانگی میں ایک خفیہ ٹھکانے کے اندر دہشت گردوں کا بارودی مواد اچانک پھٹ جانے سے کئی عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب دہشت گرد بارودی ڈیوائس تیار کر رہے تھے۔ ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے ان ہلاکتوں کی تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔

    سپین وام میں سیکیورٹی فورسز نے ایک ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔ عسکریت پسند کی شناخت ابتدائی طور پر عمر عرف یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مشتبہ نقل و حرکت پر کارروائی کی گئی تھی، اور مزید تفتیش جاری ہے کہ ہلاک دہشت گرد کن کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

    ڈنڈی خیل میں دہشت گردوں نے پولیس افسر فرید خان کے گھر پر فائرنگ کی۔ افسر نے فوری طور پر سوشل میڈیا اور پولیس حکام کو الرٹ کیا، جس کے بعد بھاری نفری نے پہنچ کر ان کی جان بچائی۔علاقہ گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    دتا خیل کے منڈی خیل چیک پوسٹ کے قریب سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ذرائع کے مطابق مشتبہ نقل و حرکت دیکھ کر کارروائی کی گئی، جس دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کی لیکن فورسز نے بھرپور جواب دیا۔جائے وقوعہ سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے اور علاقے میں مزید آپریشن جاری ہے۔

    تیراہ وادی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے چھ مزید دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
    فورسز نے علاقے میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ دہشت گرد عناصر کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

    ہنگو میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر ڈی سی آفس میں ایک گرینڈ پیس جرگہ منعقد ہوا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر گوہر زمان وزیر نے کی۔جرگہ میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام یونین کونسلز میں مستقل امن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر امن کو یقینی بنائیں گی۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف سخت اور غیر جانبدارانہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

    سرنگی کے علاقے میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس افسر طارق شہید ہوگئے۔ وہ ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ اچانک مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔علاقہ سیل کر کے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

  • ڈیجیٹل سیکیورٹی، پاکستان میں غیر رجسٹرڈ وی پی اینز پر پابندی کا مطالبہ

    ڈیجیٹل سیکیورٹی، پاکستان میں غیر رجسٹرڈ وی پی اینز پر پابندی کا مطالبہ

    قومی سائبر سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر ماہرین اور متعلقہ اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان اور پی ٹی اے فوری طور پر تمام مفت اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز پر مکمل پابندی عائد کرے۔

    ماہرین کے مطابق یہ غیر محفوظ وی پی این ایپس نہ صرف شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کو خطرات سے دوچار کرتی ہیں بلکہ ملکی سطح پر سائبر حملوں، ہیکنگ اور بیرونی نگرانی کا سبب بھی بن رہی ہیں۔سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے مفت وی پی اینز خفیہ طور پر صارفین کا ڈیٹا جمع کر کے بیرونی کمپنیوں یا مشکوک نیٹ ورکس کو فروخت کرتے ہیں، جس سے صارفین کی معلومات، مالی ڈیٹا اور آن لائن سرگرمیاں سنگین سائبر جرائم کا شکار بن جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کو ہیکرز، فراڈ گروپس اور دشمن عناصر بھی اپنے نیٹ ورکس چھپانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صرف لائسنس یافتہ اور سیکیورٹی ویٹڈ وی پی اینز ہی پاکستان میں قابلِ استعمال ہونے چاہئیں، جبکہ غیر رجسٹرڈ وی پی این آئی پیز کو مرحلہ وار بلاک کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی، انٹرنیٹ سروس معطلی یا قانونی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کاروباری شعبے کے لیے بھی انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کے استعمال سے نہ صرف آپریشنل رسک بڑھتا ہے بلکہ قانونی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں، جو کمپنی کی ساکھ اور ڈیٹا سیکیورٹی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    عالمی تناظر میں بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بنگلہ دیش پہلے ہی غیر منظور شدہ وی پی اینز پر سخت پابندیاں نافذ کر چکے ہیں، اور اس ماڈل کو قومی سلامتی کے لیے مؤثر قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان بھی اسی سمت بڑھتے ہوئے ایک مضبوط ڈیجیٹل سیکیورٹی فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے۔حکومتی ادارے شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ صرف منظور شدہ اور محفوظ وی پی این خدمات استعمال کریں تاکہ ان کی پرائیویسی، مالیاتی معلومات اور آن لائن شناخت محفوظ رہ سکے

    سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نجکاری پروگرام سے خارج