Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • استنبول مذاکرات میں ڈیڈلاک، پاکستان نے افغان دہشت گردی کے شواہد پیش کیے

    استنبول مذاکرات میں ڈیڈلاک، پاکستان نے افغان دہشت گردی کے شواہد پیش کیے

    استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے۔ قطر اور ترکیے کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے شواہد ثالثوں کو فراہم کیے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی روکنے کا پابند ہے اور دوحا معاہدے کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کے مطابق مذاکرات میں ثالثوں نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی اور پاکستان نے واضح کیا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دہشت گردوں کے کنٹرول کے لیے مؤثر میکانزم پر بات چیت ہوئی، جبکہ پاکستان افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں کی روک تھام کے یک نکاتی مطالبے پر قائم ہے

    اوکاڑہ: ای بزنس پروگرام کے حوالے سے ای لائبریری میں آگاہی سیمینار، کاروباری طبقے کی بھرپور شرکت

  • پیپلز پارٹی کی آرٹیکل 243 میں ترمیم کی حمایت، آئینی عدالتوں پر مشروط رضامندی

    پیپلز پارٹی کی آرٹیکل 243 میں ترمیم کی حمایت، آئینی عدالتوں پر مشروط رضامندی

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی آرٹیکل 243 میں ترمیم کی حمایت کرے گی، جبکہ آئینی عدالتوں کے قیام اور ججز ٹرانسفر کے حوالے سے مشروط حمایت دے گی۔

    کراچی میں بلاول ہاؤس میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی عدالتوں کا قیام پیپلز پارٹی کے منشور اور چارٹر آف ڈیموکریسی کا حصہ ہے، اس معاملے پر حکومت سے بات چیت جاری ہے تاکہ باقی نکات پر بھی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ججز کے تبادلے کے لیے جس عدالت سے تبادلہ ہو رہا ہے اور جس میں ہو رہا ہے، ان دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس کو ٹرانسفر کمیشن کا ووٹنگ ممبر ہونا چاہیے۔ تاہم باقی نکات پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم سے صدر کے اختیارات یا سول سپریمیسی متاثر نہیں ہوگی، اگر جمہوریت یا سویلین بالادستی کو نقصان ہوتا تو پیپلز پارٹی خود مخالفت کرتی۔ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کو آئین میں مکمل تحفظ حاصل ہے، صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی ادارے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے صوبوں کے حقوق پر حملہ نہیں کر سکتے۔ پیپلز پارٹی پارلیمان میں رہتے ہوئے این ایف سی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی

    نوجوان ہلاکت کیس، عدالت کا ڈمپر ڈرائیور کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

  • آرٹیکل 243 سے متعلق جمہوریت پر اثر پڑے گا تو قابل قبول نہیں ہوگا۔مولانا فضل الرحمان

    آرٹیکل 243 سے متعلق جمہوریت پر اثر پڑے گا تو قابل قبول نہیں ہوگا۔مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام( جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ تاحال منظرعام پر نہیں آیا، اگر صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو ہم مخالفت کریں گے۔

    مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، قومی اسمبلی، سینیٹ اراکین نے شرکت کی، ترمیم کا کوئی مسودہ تاحال منظر عام پر نہیں آیا، 27 ویں ترمیم پر تو فی الحال بات نہیں کرسکتے،26ویں آئینی ترمیم میں حکومت 35 شقوں سے دستبردار ہوئی، اگر دستبردار شقوں میں سے کوئی شق 27ویں ترمیم میں پاس ہوئی تو آئین کی توہین سمجھی جائے گی، 26 ویں ترمیم کے دستبردار ہونے والے نکات 27ویں ترمیم میں قابل قبول نہیں، 18 ویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات دیے گئے تھے، اگر صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو ہم مخالفت کریں گے،18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات میں کمی کی کوشش قابل قبول نہیں، جمیعت علمائے اسلام صوبوں کو مزید با اختیار بنانے کی بات کرتی ہے، صوبوں کے حق میں اضافہ کیا جاسکتا، کمی نہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 243 سے متعلق جمہوریت پر اثر پڑے گا تو قابل قبول نہیں ہوگا۔26 ویں ترمیم کے دوران تمام پارلیمنٹ باہمی طور پر رابطے میں تھی، کئی نکات اپنی مرضی سے 26 ویں آئینی ترمیم میں ڈلوائے تھے، سود کے حوالے سے حکومت کی طرف سے کوئی پیشرفت نظر نہیں آرہی، دینی مدارس کی رجسٹریشن بھی نہیں کی جا رہی، دینی مدارس کے ہاتھ مروڑ کر وزارتِ تعلیم کے تحت رجسٹر کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، اپنے ملک کے بچوں کو اپنی سگی اولاد کی طرح سمجھتا ہوں، ٹھیک تو کچھ بھی نہیں ہو رہا،ٹھیک کرنے کیلئے اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے۔

  • واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو،پاکستان

    واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو،پاکستان

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے ہونے والی سرحدی کشیدگی کے معاملے پر پاکستان نے شواہد پر مبنی مطالبات ترکیے میں ثالثوں کے حوالے کر دیے ہیں۔

    صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرانی کا کہنا تھا ہمارا مذاکراتی وفد استنبول میں موجود ہے، استنبول میں پاکستانی مذاکراتی وفد نے ثالثوں کو اپنی لوجیکل معلومات شیئر کی ہیں، ثالث افغان طالبان کیساتھ ہمارے مطالبات پر نکتہ بہ نکتہ بات چیت کر رہے ہیں،ا تھا دفتر خارجہ کی نمائندگی کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری علی اسد گیلانی استنبول مذاکراتی وفد میں شامل ہیں جبکہ ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک بھی مذاکراتی وفد میں شریک ہیں،پاکستان کی جانب سے ثالثوں کو فراہم کردہ معلومات مصنفانہ اور فتنہ الخوارج سے متعلق ہیں، ہمارے مطالبات نہایت سادہ، واضح، مصنفانہ اور شواہد پر مبنی ہیں، مذاکرات کی تکمیل اور نتائج تک ہم کوئی بیان یا تبصرہ نہیں کریں گے، مذاکرات میں ثالثوں نے پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کی ہے، سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے کسی قسم کے بیان پر دھیان نہ دیا جائے، پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو، پاکستان نے ثالثوں کو شواہد پر مبنی مطالبات حوالے کردیے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں، بھارتی میڈیا کی انٹلیجنس افسران کی ملاقاتوں اور پیسےکی افواہیں پریوں کی کہانیاں ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا چمن واقعے پر ہم افغانستان کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں، فائرنگ کا آغاز افغانستان کی جانب سے کیا گیا، گزشتہ روز یا آج کے چمن کے واقعات سرحد کھولنے کے حوالے سے مثبت جائزہ نہیں ہیں، مثبت جائزے کے بعد ہی سرحدیں کھولنے پر بات کی جاسکتی ہے، مذاکرات میں افغانستان کی جانب سے چمن سرحد پر خلاف ورزی کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہماری بہادر فضائیہ نے جتنے بھی طیارے گرائے وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں، ہم اپنی فضائیہ کی طرف سے گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد پر کھڑے ہیں، پاک فضائیہ نے اپنے سےکئی گنا بڑےدشمن کو شکست دی، بھارت نے امریکی صدر سے جنگ بندی کے لیے درخواست کی، امریکی صدر کا مؤقف انتہائی اہم ہے، بھارت کے گرائے جانے والے طیاروں میں رافیل اور دیگر طیاروں کے ماڈل پر کنفیوژن ہوتی ہے، گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد وہی ہے جو بتائی گئی ہے، ہم اپنے عوام کی جانوں کو ہر صورت محفوظ بنائیں گے۔

  • پاکستان اور ایران  مسلم امہ کے اتحاد کے لیے پرعزم ہیں. وزیراعظم

    پاکستان اور ایران مسلم امہ کے اتحاد کے لیے پرعزم ہیں. وزیراعظم

    اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمنٹ کے سفیر عزت ماب ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے وفد کے ہمراہ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے ساتھ برادرانہ باہمی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے، سپیکر ایرانی پارلیمنٹ اور وفد کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نے مسائل کے لیے بات چیت اور سفارتکاری جیسے پرامن طریقوں پر دونوں ممالک کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خمینی اور صدر مسعود پزیکشیاں کے لیے عزت و تکریم اور خیر سگالی کے پیغامات دیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک ریاستی دہشت گردی اور خود مختار ممالک کے خلاف بلا اشتعال حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان اور ایران بد قسمتی سے دہشت گردی کا شکار رہے ہیں. دونوں ممالک پوری دنیا کے لیے امن و خوشحالی اور علاقائی تعاون کے علمبردار ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران مسلم امہ کے اتحاد و یگانگت کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ باہمی مفاد کے مختلف شعبوں بالخصوص معاشی تعاون اور دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کا خواہش مند ہے۔

    سپیکر ایرانی پارلیمنٹ ڈاکٹر باقر نے وزیراعظم ،حکومت اور پاکستان کی عوام کا حالیہ ایران ایران۔اسرائیل جنگ میں بھرپور تعاون اور حمایت پر دلی اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران۔ اسرائیل جنگ میں پاکستان کی حمایت کو ایرانی عوام کی تحسین اور خصوصی پزیرائی حاصل ہے۔ پاکستان اور ایران دنیا کے امن اور مسلم امہ کے اتحاد پہ یقین رکھتے ہیں۔ ایرانی سپیکر نے پاکستانی پارلیمنٹ کے ساتھ مثبت تعاون کو سراہتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے،پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں بشمول معیشت اور تجارت میں تعاون کو مزید بڑھانے کے ایرانی عزم کا اظہار کیا۔ ایرانی سپیکر نے ایران کے صدر مسعود پزیکشیاں کی طرف سے وزیراعظم اور پاکستانی عوام کے لیے جذبہ خیر سگالی کا بھی اظہار کی۔ انہوں نے پاکستان میں دورے کے دوران مہمان نوازی پر بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وزیراعظم کے خصوصی برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔

  • عمارت کے تبدیل ہونے سے اختیارات کم نہیں ہوں گے،جسٹس جمال مندوخیل

    عمارت کے تبدیل ہونے سے اختیارات کم نہیں ہوں گے،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترمیم پر ججز اور وکلاء کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔

    آئینی بینچ میں سول سروس رولز سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچ نے کی،دورانِ سماعت جسٹس امین الدین خان نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا یہ کیس آج ختم ہو جائے گا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میرے خیال سے آج شائد کیس ختم نہ ہو پائے،وکیل فیصل صدیقی نے نام لیے بغیر 27 ویں آئینی ترمیم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میری درخواست ہے کہ کیس کا آج فیصلہ کیا جائے، میں وفاقی شرعی عدالت کی بلڈنگ میں کیس پر دلائل دینا نہیں چاہتا، بلڈنگ ہی لے لینی تھی تو وفاقی شرعی عدالت کی کیوں؟ بلڈنگ لینی تھی تو ساتھ والی عمارت لے لیتے،وکیل فیصل صدیقی کی بات پر آئینی بینچ کے ججز مسکرا دیے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے مسکراتے ہوئے وکیل سے کہا کہ رات آپ کے حق میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے کوئی شبہ نہیں سپریم کورٹ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر یہی ایمان ہے تو پھر فکر کی کیا بات ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم تو آئین کے پابند ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے ججز سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کیوں بنائی گئی تھی، آپ ججز اس کمرہ عدالت میں کتنے گرینڈ لگتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عمارت کے تبدیل ہونے سے اختیارات کم نہیں ہوں گے۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کامیابی سے جاری

    خیبر پختونخوا،بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کامیابی سے جاری

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے ماموخیل میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ ڈی ایس پی سمیت 14 افراد زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق زخمیوں میں 10 اہلکار اور 4 شہری شامل ہیں۔ شہید اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔علاقے میں مساجد سے اعلانات کر کے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی گئی جس کے بعد فائرنگ رک گئی۔

    ضلع نوشہرہ کے علاقے نظام پور میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان شدید مقابلہ ہوا جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا مقامی کمانڈر انتخاب ہلاک ہو گیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد کانسٹیبل مقصود کے قتل میں ملوث تھا جو گزشتہ ماہ پولیو ڈیوٹی کے دوران شہید ہوا تھا۔انتخاب دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں میں فعال نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

    میر علی کے گاؤں ذاکر خیل میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن سے قبل خواتین اور بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔کارروائی کے دوران دو دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیے جبکہ تین مشکوک سہولت کار گرفتار کیے گئے۔ ایک دہشت گرد نے فائرنگ کی جس پر جوابی کارروائی میں مارا گیا۔حکام کے مطابق آپریشن بغیر کسی شہری نقصان کے کامیابی سے مکمل کیا گیا اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    ضلع بنو ں کے علاقے سرائے بکا خیل میں دہشت گردوں نے بنیادی صحت مرکز (BHU) پر آئی ای ڈی دھماکہ کیا، جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اس کے بعد خدری مامند خیل میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ دہشت گرد مبینہ طور پر عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ڈرونز اور کوآڈ کاپٹرز کے ذریعے نگرانی جاری ہے۔ حکام نے کہا کہ کارروائیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔

    شمالی وزیرستان سے بنو جانے والی ریسکیو ایمبولینس کو کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے زبر دستی روک کر قبضے میں لے لیا۔ایمبولینس میں موجود خاتون مریضہ کو سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد ایمبولینس کو کسی حملے یا تخریبی کارروائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ مقامی رہنماؤں نے اس اقدام کو پشتون روایات اور انسانیت کی توہین قرار دیا ہے۔

    بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پاک افغان فورسز کے درمیان مختصر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، تاہم دونوں جانب کے حکام نے بروقت کارروائی کر کے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستانی فورسز نے پیشہ ورانہ تحمل کا مظاہرہ کیا اور کسی قسم کی شدت یا کشیدگی سے گریز کیا۔دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سرحدی رابطے اور تجارت کو معمول پر لانے کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔

    ضلع کیچ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے چند ویڈیو پیغامات جاری کیے گئے جن میں ایک شخص خود کو حافظ چاکر بلوچ، یعنی “مکران صوبے” کا نام نہاد گورنر ظاہر کر رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ ویڈیوز پروپیگنڈا مہم کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ حکام نے ویڈیوز کی تصدیق اور شناخت کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔اداروں نے آن لائن شدت پسند سرگرمیوں کی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

    ضلع کیچ کے علاقے مینڈ میں سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی کے لیے روڈ کلیرنس کے دوران دھماکہ ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانی نقصان کا خدشہ ہے۔بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم سرکاری سطح پر ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

  • وفاقی کابینہ کا  آج ہونے والااجلاس ملتوی

    وفاقی کابینہ کا آج ہونے والااجلاس ملتوی

    وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اہم اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کی مصروفیات کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی جانی تھی، تاہم نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ترمیم سے متعلق اپنی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم نے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے ملاقات کے دوران بلدیاتی نظام سے متعلق تجاویز کو 27ویں آئینی ترمیم میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے ترمیم کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے بیشتر نکات کو مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی صرف آرٹیکل 243 میں مجوزہ تبدیلی پر غور کے لیے تیار ہے، تاہم صوبائی شیئر سے متعلق شقوں سمیت دیگر نکات کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، 27ویں آئینی ترمیم پر حکومت اور اتحادیوں کے درمیان اختلافات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ترمیم کی منظوری سے قبل مزید مشاورت اور ترامیم متوقع ہیں۔

  • پاکستان نے ہندو یاتریوں کے داخلے سے متعلق بھارتی الزامات کو مسترد کردیا

    پاکستان نے ہندو یاتریوں کے داخلے سے متعلق بھارتی الزامات کو مسترد کردیا

    پاکستان نے ہندو برادری کے افراد کو داخلے سے روکنے کے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ یہ معاملہ مکمل طور پر انتظامی نوعیت کا تھا، اور اسے سیاسی رنگ دینا حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ان کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے 2 ہزار 400 سے زائد ویزے سکھ یاتریوں کو بابا گورو نانک دیو جی کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے جاری کیے۔ترجمان نے بتایا کہ 4 نومبر کو 1,932 یاتری کامیابی سے پاکستان داخل ہوئے، جب کہ تقریباً 300 ویزا ہولڈرز کو بھارتی حکام نے سرحد پار کرنے سے روکا۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ چند افراد کے دستاویزات نامکمل تھے، جس پر انہیں معیاری طریقہ کار کے مطابق واپس بھیجا گیا، مذہبی بنیادوں پر روکنے کا دعویٰ سراسر غلط ہے

    یوٹیوب نے اسرائیلی جنگی جرائم سے متعلق ویڈیوز حذف کردیں

    اسلام آباد پولیس پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے خیبر ہاؤس پہنچ گئی

    پیپلز پارٹی نے این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجویز مسترد کر دی

  • 66 ویں سارک لٹریچر فیسٹیول کا 9 نومبر سے دہلی میں آغاز،پاکستان کو دعوت نہ ملی

    66 ویں سارک لٹریچر فیسٹیول کا 9 نومبر سے دہلی میں آغاز،پاکستان کو دعوت نہ ملی

    لاہور(خالدمحمودخالد) سارک کے رکن ممالک کے ادیبوں، شعرا اور مفکرین کی تنظیم فاؤنڈیشن آف سارک رائٹرز اینڈ لٹریچر کے زیرِ اہتمام 66 واں سارک لٹریچر فیسٹیول 9 نومبر سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس سال فیسٹیول کا مرکزی موضوع “Culture Heals Where Politics Divides” رکھا گیا ہے، یعنی “ثقافت وہ زخم بھرتی ہے جنہیں سیاست گہرا کرتی ہے۔”۔ تاہم اپنے موضوع کے برعکس اس سال کے فیسٹیول میں پاکستان کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی جبکہ باقی تمام سارک ممالک بھارت، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان سے ادبی نمائندے اس فیسٹیول میں شریک ہوں گے۔ یہ پہلا موقع ہے جب فیسٹیول میں پاکستانی شعرا اور ادیبوں کی غیر حاضری واضح طور پر محسوس کی جائے گی۔ ادبی حلقوں نے اسے افسوسناک اور خطے میں ثقافتی مکالمے کے لیے نقصان دہ فیصلہ قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی غیر موجودگی سے فیسٹیول کی ادبی روح متاثر ہوگی کیونکہ ماضی میں پاکستانی شعرا، افسانہ نگاروں اور نقادوں نے اس پلیٹ فارم کو ادبی سفارتکاری کا ذریعہ بنادیا تھا۔ اس فیسٹیول کے افتتاحی اجلاس میں صدر ساہتیہ اکادمی مدھو کاؤشک مہمانِ خصوصی ہوں گے جبکہ ممتاز مفکر پروفیسر آشیِش نندی خطاب کریں گے۔ پہلے روز سارک لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور سارک لٹریچر ایوارڈ بھی تقسیم کیے جائیں گے۔ چار روزہ فیسٹیول کے دوران شعری نشستیں، افسانہ خوانی، کتابوں کی رونمائیاں، تحقیقی مقالات اور علاقائی ادب پر مکالمے شامل ہوں گے۔ آخری روز صرف ہندی شاعری کے خصوصی سیشنز رکھے گئے ہیں۔ فاؤنڈیشن کی صدر آشرہ محمود نے نئی دہلی سے فون پر باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ادب اور ثقافت ہی وہ قوتیں ہیں جو دلوں کو قریب لاتی ہیں۔ تاہم انہوں نے پاکستان کی عدم شرکت پر کئے گئے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔