Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھارت کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم کرنے میں ناکام رہا،مشعال ملک

    بھارت کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم کرنے میں ناکام رہا،مشعال ملک

    مقبوضہ کشمیر پر ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کو 78 سال،ہر سال کشمیری 27 اکتوبر کو بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ مناتے ہیں

    27 اکتوبر 1947 کو ہندوستانی افواج نے بغیر کسی آئینی اور اخلاقی جواز کے ہندوستان پر قبضہ کرلیا تھا، تقسیمِ ہند کے وقت کشمیر کی مقامی قیادت نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا،مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان سے الحاق کے بدلے میں فوجی مدد مانگی تھی،ہندوستان نے غیر قانونی طور پر مسلم اکثریتی کشمیر میں تقریباً 10 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں ،مقبوضہ کشمیر کے عوام پچھلے 78 سال سے جاری ظلم و ستم کی انتہا پر ہیں ،5 اگست 2019 کو ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی منسوخ کر دی،ہندوستانی افواج اب تک مقبوضہ کشمیر میں دو لاکھ کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے،1 لاکھ سے زائد بچے یتیم جبکہ ہزاروں سے زائد خواتین زیادتی کا شکار ہوئی،مقبوضہ کشمیر میں اب تک ایک لاکھ 70ہزار سے زائد کشمیری گرفتار جبکہ ایک لاکھ سے زائد املاک نذرِ آتش کی جا چکی ہیں ،2019 سے مقبوضہ کشمیر میں اب تک انٹرنیٹ کی طویل ترین بندش جاری ہے،اقوام متحدہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اب تک 5 قراردادیں منظور کی جا چکی ہیں مگر ایک پر بھی عملدر آمد نہ ہو سکا،کشمیر کو ہندوستان کی بربریت کے باعث بے شمار نقصان اٹھانا پڑا،پاکستان میں یومِ سیاہ منانے کا مقصد دنیا کو ہندوستان کے ظالمانہ فعل سے آگاہ کرنا ہے

    مقبوضہ کشمیر میں کئی دہائیوں سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں،کشمیریوں کے مصائب کی داستان سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے،بھارت نے اکتوبر 1947 کو کشمیری عوام کی مرضی کے برعکس اور آزادی ایکٹ کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ کر لیا،کشمیری عوام کے حقوق پر غاصبانہ قبضے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا گیا،اقوام متحدہ اب تک مسئلہ کشمیر پر 5 قراردادیں منظور کر چکی ہے ،2019 سے مقبوضہ کشمیر میں اب تک انٹرنیٹ کی طویل ترین بندش جاری ہے،اقوام متحدہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر اب تک 5 قراردادیں منظور کی جا چکی ہیں مگر ایک پر بھی عملدرآمد نہ ہو سکا،5 اگست 2019 کو مودی سرکار نے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کرتے ہوئے کشمیری عوام کی خصوصی حیثیت ختم کر دی،کشمیری عوام کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے پیچھے حکمران جماعت بی جے پی کا ہندوؤں کی آبادکاری کا مقصد کارفرما تھا،آرٹیکل 370 کی منسوخی سے معیشت اور روزگار منفی اثرات مرتب ہوئے،مقبوضہ کشمیر میں بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے

    الطاف حسین وانی کا کہنا ہے کہ 5 سال تک بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے کیس کو نہیں لیا، جموں کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں ہے، اس کے مستقل حل کے لئے عوام کو حق خودارادیت دیا جانا چاہیے، میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نہ کوئی جمہوریت ہے نہ ہی قانون کی حکمرانی،جموں کشمیر میں بھارتی فوج عام عوام سے لڑنے کے لئے تعینات ہے،حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے،ہمیں اقوام متحدہ سے فوری قرارداد پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آبادی کی تبدیلی کو روک کر نئی مردم شماری کروائی جائے، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے عزم اور استقلال نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ علاقے پر بھارتی تسلط کو مسترد کرتے ہیں

  • افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی میں فتنہ الخوارج کی پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری

    افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی میں فتنہ الخوارج کی پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری

    افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی میں فتنہ الخوارج کی پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری ہیں

    افغانستان کے صوبہ پکتیکا کی سرحدی علاقوں برمل، شکین، راکھا، مورغہ، شاگا اور کلی شیر علی میں درجنوں دہشت گرد گروہ سرگرم ہوگئے ہیں۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق تقریباً 400 تا 500 دہشت گرد، جن میں فتنہ الخوارج کے عناصر اور افغان دہشت گرد شامل ہیں، جنوبی وزیرستان اور ژوب کے راستے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کر رہے ہیں۔رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان گروہوں کو افغان طالبان رجیم کی مالی اور لاجسٹک حمایت حاصل ہے۔پاکستانی سلامتی اداروں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر نگرانی اور مکمل عسکری تیاری موجود ہے۔افواجِ پاکستان مکمل طور پر افغان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے کے لیے تیار ہے اور ان خارجیوں کا آخری باب لکھا جائے گا۔

  • دراندازی کے واقعات، عبوری افغان حکومت کے ارادوں پر سنجیدہ سوالات ہیں: آئی ایس پی آر

    دراندازی کے واقعات، عبوری افغان حکومت کے ارادوں پر سنجیدہ سوالات ہیں: آئی ایس پی آر

    مسلح افواج کے ترجمان ادارے (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ افغانستان سے دراندازی کے حالیہ واقعات عبوری افغان حکومت کے دہشت گردی سے متعلق ارادوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق فتنہ الخوارج کی دراندازی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے وفود ترکیہ میں مذاکرات میں مصروف ہیں، جس سے افغان حکومت کے رویّے پر مزید تشویش پیدا ہوتی ہے۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان متعدد بار عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرحدی نگرانی مؤثر بنائے، دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خوارج کے استعمال سے روکے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے پُرعزم اور ثابت قدم ہیں، جبکہ ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں اور سیکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے ادارے "عزمِ استحکام” کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مہم کو جاری رکھیں گے۔بیان میں کہا گیا کہ 24 اور 25 اکتوبر کو دو بڑے دہشت گرد گروہوں نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 4 خودکش بمباروں سمیت 25 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے، جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا، جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 5 پاکستانی جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا

    دہشت گردوں کی سرپرستی ناقابلِ قبول، استنبول مذاکرات میں پاکستان کا دوٹوک پیغام

  • افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام ، 25 دہشت گرد ہلاک، 5 جوان شہید

    افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام ، 25 دہشت گرد ہلاک، 5 جوان شہید

    سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان میں فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی ایک اور کوشش ناکام بنادی۔ مؤثر کارروائی کے دوران 4 خودکش بمبار سمیت 25 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 اور 25 اکتوبر 2025 کو پاک-افغان سرحد کے قریب فتنۃ الخوارج کے دو بڑے گروہوں نے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی، جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا گیا۔ترجمان کے مطابق دہشت گرد خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے گھکی اور شمالی وزیرستان کے علاقے اسپین وام میں مختلف ٹولیوں کی صورت میں دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران بھارتی پراکسی گروہ “فتنۃ الخوارج” سے تعلق رکھنے والے 15 دہشت گرد مارے گئے، جن میں 4 خودکش حملہ آور بھی شامل تھے، جبکہ کرم کے علاقے گھکی میں 10 مزید دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
    کارروائی کے دوران دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

    شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 5 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں 35 سالہ حوالدار منظور حسین، 23 سالہ سپاہی نعمان الیاس کیانی، 24 سالہ سپاہی محمد عادل، 25 سالہ سپاہی شاہ جہان اور 25 سالہ سپاہی علی اصغر شامل ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے پرعزم اور ثابت قدم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں

    27 اکتوبر یومِ سیاہ، بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج اور ریلیاں کل ہوں گی

    اسموگ ، پنجاب بھر میں اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی

    ٹک ٹاک معاہدے کی تفصیلات طے،چین سویا بین دوبارہ خریدے گا: امریکی وزیر خزانہ

    آزاد کشمیر میں بڑی سیاسی ہلچل، پی ٹی آئی کے 5 وزرا پیپلز پارٹی میں شامل

  • بھارت کو پاکستان کیخلاف افغان طالبان رجیم کی حمایت مہنگی پڑ گئی

    بھارت کو پاکستان کیخلاف افغان طالبان رجیم کی حمایت مہنگی پڑ گئی

    بھارت کو پاکستان کیخلاف افغان طالبان رجیم کی حمایت مہنگی پڑ گئی

    خطے میں عدم استحکام کیلئے افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی حمایت پر بھارت کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا،بھارت کو سرحد پار دہشت گردی اور طالبان نواز پالیسیوں پر ہزیمت کا سامنا ہے،افغانستان کی مسلح تنظیم نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نےبھارت کو طالبان کی حمایت پر سخت انتباہ جاری کر دیا، افغانستان کی نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے کہا کہ ؛ ہندوستان کو دوسری بار متنبہ کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی حمایت بند کرے،افغانستان میں معصوم لوگوں کے قاتل طالبان کی حمایت ہندوستان کے دوغلے رویہ کو ظاہر کرتی ہے،دنیا میں جمہوریت کا دعویدار بھارت دہشت گردوں کو سہارا دے رہا ہے،کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنا طالبان کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے،کیا ہندوستان طالبان کے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہی ملک میں انتشار پھیلانے کا سبب بننا چاہتا ہے؟ اگر بھارت حمایت جاری رکھے گا تو طالبان افغانستان کے ساتھ ہندوستان کو بھی اپنے ہدف میں شامل کریں گے، افغان آزادی پسند تحریکیں ہندوستان میں خالصتان کی تحریک سے بھی مکمل تعاون بحال کریں گی، ہندوستان کی طالبان سے حمایت ان تحریکوں کے اتحاد کا باعث بنے گی،بھارت فوری طور پر طالبان، داعش اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں سے اپنے تعلقات منقطع کرے،اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو آنے والے تمام منفی نتائج کی ذمہ داری ہندوستان پر عائد ہوگی، انتہا پسند بھارتی حکومت پورے خطے میں عدم استحکام اور دہشتگردی پھیلانے میں مصروف ہے

  • گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز اہم تقاضا تھا،وزیراعظم

    گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز اہم تقاضا تھا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز کھولنے کا اعلان کر دیا۔

    اسلام آباد میں آر ایل این جی گیس کنکشنز کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز اہم تقاضا تھا، حکومت نے ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، 2022 میں پی ڈی ایم حکومت کے دوران گیس کی فراہمی ایک بڑا چیلنج تھا، عوام کا یہ اہم مطالبہ تھا کہ گیس کنیکشنز کا اجرا کیا جائے لیکن اس وقت گیس دستیاب نہیں تھی اس لیے عوام سے معذرت کرنا پڑی،نئے گیس کنیکشنز کے لیے لاکھوں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، آج گیس کنیکشنز کی بحالی سے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا 2013 میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے سے زائد تھا، مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک سے اندھیروں کے خاتمے کیلئے خصوصی اقدامات کیے، ہم نے شبانہ روز محنت کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

  • عمران خان نے کہا تھا ہر بات کی ذمہ داری امریکا پر ڈالوں گا،سی آئی اے کے سابق چیف کے انکشافات

    عمران خان نے کہا تھا ہر بات کی ذمہ داری امریکا پر ڈالوں گا،سی آئی اے کے سابق چیف کے انکشافات

    اسلام آباد میں تعینات سی آئی اے کے سابق کاؤنٹر ٹیرر اسٹیشن چیف جان کریاکو نے ایک انٹرویو میں سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

    ان کے مطابق عمران خان نے بطورِ وزیراعظم انہیں کہا تھا کہ ملک کی سیاسی صورت حال کے باعث وہ ہر بات کی ذمہ داری امریکا پر ڈالنے والے ہیں۔ جان کریاکو کے مطابق اس پر امریکی سفیر ہنس پڑا اور کہا کہ ہمیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ ویسے بھی ہر الزام ہم پر ہی آتا ہے۔سابق سی آئی اے افسر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گرفتاری کے بعد عمران خان نے امریکی حکومت کو پیغام بھیجا کہ وہ کس طرح ان کی مدد کر سکتے ہیں تاکہ وہ موجودہ صورت حال سے نکل سکیں۔جان کریاکو کا کہنا تھا کہ اس پیغام کے بعد انہوں نے عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ سے رابطہ کیا تاکہ وہ پاکستان جا کر حکام سے ان کی رہائی کی درخواست کریں، تاہم جمائما نے انکار کردیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر مکمل کنٹرول فوجی قیادت کے پاس ہے، جب کہ موجودہ سیاسی تقسیم تشویشناک ہے جس سے سڑکوں پر تصادم، مظاہروں میں ہلاکتیں اور سیاسی رہنماؤں پر حملوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔واضح رہے کہ عمران خان نے تحریکِ عدم اعتماد کے دوران ایک سائفر لہرا کر الزام لگایا تھا کہ امریکا ان کی حکومت کے خلاف سازش کر رہا ہے، اور اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بھی وہ اسی مؤقف پر قائم ہیں

    شمالی وزیرستان میں 3 بھارتی اسپانسرڈ خوارج ہلاک، خودکش گاڑی تباہ

    سربراہ پاک بحریہ کااگلے مورچوں کا دورہ، 3 جدید ہوورکرافٹ پاک میرینز میں شامل

    پیپلز پارٹی کا وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق

    غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، 100 فلسطینی شہید

  • سربراہ پاک بحریہ کااگلے مورچوں کا دورہ، 3 جدید ہوورکرافٹ پاک میرینز میں شامل

    سربراہ پاک بحریہ کااگلے مورچوں کا دورہ، 3 جدید ہوورکرافٹ پاک میرینز میں شامل

    سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے کریکس کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور پاک بحریہ کی آپریشنل اور جنگی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ "ہم اپنی سمندری سرحدوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔”

    پاک بحریہ کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق اس موقع پر پاک میرینز میں 3 جدید ترین 2400 ٹی ڈی ہوورکرافٹ کو باضابطہ طور پر شامل کیا گیا، جو پاک بحریہ کی آپریشنل صلاحیت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔یہ نئے ہوورکرافٹ کم گہرے پانی، ریتیلے اور دلدلی ساحلی علاقوں میں بیک وقت مؤثر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جہاں روایتی کشتیوں کی کارکردگی محدود ہوتی ہے۔ ان پلیٹ فارمز کی زمین اور سمندر پر بیک وقت کارروائی کی صلاحیت پاک میرینز کو نمایاں برتری فراہم کرتی ہے اور بحریہ کی دفاعی قوت کو مزید مستحکم بناتی ہے۔

    ایڈمرل نوید اشرف نے افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید پلیٹ فارمز کی شمولیت پاک بحریہ کے جدید خطوط پر استوار ہونے اور سمندری سرحدوں خصوصاً کریکس کے دفاع کے غیرمتزلزل عزم کی عکاس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "سمندری مواصلاتی راستوں اور میری ٹائم سیکیورٹی کا تحفظ صرف عسکری ضرورت نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور معاشی استحکام کی بنیاد ہے۔”

    نیول چیف نے زور دیا کہ پاک بحریہ بحرِ ہند کے خطے میں امن و استحکام کی ضامن اور قابلِ اعتماد قوت ہے، اور قوم کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ "ہماری دفاعی صلاحیتیں ساحلوں سے سمندر تک ہمارے غیرمتزلزل حوصلے کی طرح مضبوط ہیں.

    پیپلز پارٹی کا وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق

    غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، 100 فلسطینی شہید

    پی ایس ایل ،نئے فرنچائز معاہدوں کی تیاری ،دو نئی ٹیمیں شامل کرنے کا فیصلہ

    ٹرمپ کا ایشیا دورے کے دوران کم جونگ اُن سے ملاقات کا عندیہ

  • قاہرہ میں فیلڈمارشل عاصم منیر کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات

    قاہرہ میں فیلڈمارشل عاصم منیر کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات

    قاہرہ:فیلڈ مارشل چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جُرأت، نے عرب جمہوریہ مصر کے صدر عزت مآب عبدالفتاح السیسی سے صدارتی محل، قاہرہ میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا اور دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں مصری قیادت کے کلیدی کردار کو سراہا، جبکہ صدر السیسی نے عالمی اور مسلم امہ کے اہم معاملات میں پاکستان کے مثبت اور فعال کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔دونوں رہنماؤں نے باہمی اسٹریٹجک مفادات کے امور پر قریبی رابطے اور ہم آہنگی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے عوامی سطح پر روابط بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی مشترکہ تاریخ اور تعاون کے نئے امکانات کا بھی اعتراف کیا گیا، خاص طور پر سماجی و اقتصادی شعبوں، ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کے میدان میں تعلقات کے فروغ پر اتفاق ہوا۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں دونوں جانب سے اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان مضبوط اقتصادی و سلامتی مکالمہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • بھارت افغان آبی گٹھ جوڑ کے پیش نظر پاکستان کا آبی دفاع اور خودمختاری کا عزم

    بھارت افغان آبی گٹھ جوڑ کے پیش نظر پاکستان کا آبی دفاع اور خودمختاری کا عزم

    معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے افغان طالبان کے ذریعے آبی جارحیت کو ہتھیار بنانا شروع کردیا

    افغان طالبان رجیم اور بھارت کے درمیان بڑھتے تعلقات پاکستان مخالف عزائم کو واضح کرتے ہیں،بھارت کی جانب سے طالبان رجیم کو 1 ارب امریکی ڈالر مالی امداد کی پیشکش کی گئی ہے،افغان وزیر خارجہ کے دورہ بھارت کے بعد ’’پانی کو بطور سیاسی ہتھیار‘‘ استعمال کرنے کی پالیسی واضح ہو گئی ہے،انڈیا ٹو ڈے کی 24 اکتوبر 2025ء کو شائع رپورٹ کے مطابق؛طالبان رجیم دریائے کنڑ پر بھارتی حکومت کے تعاون سے ڈیم تعمیر کرکے پاکستان کو پانی کی فراہمی روکنا چاہتی ہے،ایک اندازہ کے مطابق بھارت افغان رجیم کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کرکے مختلف ڈیمز تعمیر کروا رہا ہے،یہ تعمیر ہونے والے ڈیم، جیسے نغلو، درونتہ، شاہتوت، شاہ واروس، گمبیری اور باغدرہ، پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہوسکتے ہیں،اس بھارت افغان منصوبے کا ہدف پاکستان کے آبی نظام کو مشرق و مغرب دونوں اطراف سے روکنا ہے،بھارت نے پہلے ہی سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل کر کے پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی آبی معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے،بھارت اب افغانستان میں ڈیموں کی تعمیر کے ذریعے دریائے کابل کے بیسن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے

    دریائے کابل سے پاکستان کو سالانہ اوسطاً 16.5 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی حاصل ہوتا ہے،پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ جیسے اضلاع میں گندم، مکئی اور گنے کی پیداوار براہِ راست اسی پانی پر منحصر ہے،پاکستان کسی بھی قسم کی آبی جارحیت کے بارے میں واضح اور دو ٹوک موقف رکھتا ہے ،پانی پاکستان کی سلامتی، زراعت اور معیشت کی شہ رگ ہے،کسی بھی ملک کو اس پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

    آبی و قانونی ماہرین کے مطابق؛ بھارت-افغان آبی گٹھ جوڑ کے مقابلے میں پاکستان ایک جامع دفاعی حکمتِ عملی پر غور کر رہا ہے، اس حکمت عملی میں سب سے اہم قدم چترال ریور ڈائیورشن پروجیکٹ ہے ،چترال ریور ڈائیورشن پروجیکٹ بھارت افغان آبی جارحیت کے مذموم منصوبے کو خاک میں ملا دے گا،اس حکمت عملی کے ذریعے دریائے چترال کو افغانستان میں داخل ہونے سے پہلے ہی سوات بیسن کی طرف موڑنے کا منصوبہ ہے،اس منصوبے سے 2,453 میگاواٹ صاف اور قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی،نئی زمین زیرِ کاشت لائی جا سکے گی جبکہ سیلابی خطرات میں کمی اور ورسک و مہمند ڈیمز کے ذخائر میں اضافہ ہوگا،
    یہ اقدام پاکستان کی آبی خودمختاری کے مکمل دائرہ کار میں آتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہے،پاکستانی قوم اس امر پر متحد ہیں کہ بھارت کی افغان سرزمین کے ذریعے پاکستان کے خلاف آبی مہم ناقابلِ قبول ہے،